Skip to main content

Posts

Showing posts from January, 2017

Story of Prophet Ismail/Ishmael (pbuh)

Ibm Kathir One day, Abraham woke up and asked his wife Hajar to get her son and prepare for a long journey. In a few days Abraham started out with his wife Hajar and their son Ishmael. The child was still nursing and not yet weaned. Abraham walked through cultivated land, desert, and mountains until he reached the desert of the Arabian Peninsula and came to an uncultivated valley having no fruit, no trees, no food, no water. The valley had no sign of life. After Abraham had helped his wife and child to dismount, he left them with a small amount of food and water which was hardly enough for 2 days. He turned around and walked away. He wife hurried after him asking: "Where are you going Abraham, leaving us in this barren valley?" Abraham did not answer her, but continued walking. She repeated what she had said, but he remained silent. Finally she understood that he was not acting on his own initiative. she realized that Allah had commanded him to do this. She asked

مجدد الف ثانی

شیخ احمد سرہندی المعروف مجدد الف ثانی (مکمل نام:شیخ احمد سر ہندی ابن شیخ عبدالا حد فاروقی) دسویں صدی ہجری کے نہایت ہی مشہور عالم و صوفی تھے ۔ زندگی آپ 15 جون 1564ء بمطابق 14 شوال 971ھ میں سرہند، ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد شیخ عبد الاحد ایک ممتاز عالم دین تھے اور صوفی تھے۔ صغر سنی میں ہی قرآن حفظ کر کے اپنے والد سے علوم متداولہ حاصل کیے پھر سیالکوٹ جا کر مولانا کمال الدیّن کشمیری سے معقولات کی تکمیل کی اور اکابر محدثّین سے فن حدیث حاصل کیا ۔ آپ سترہ سال کی عمر میں تمام مراحل تعلیم سے فارغ ہو کر درس و تدریس میں مشغول ہوگئے ۔ تصوف میں سلسلہ چشتیہ کی تعلیم اپنے والد سے پائی، قادریہ سلسلہ کی شیخ سکندر کیتھلی اور سلسلہ نقشبندیہ کی تعلیم دہلی جاکر خواجہ باقی باللہ سے حاصل کی۔ 1599ء میں آپ نے خواجہ باقی باللہ کے ہاتھ پر بیعت کی۔ آپ کے علم و بزرگی کی شہرت اس قدر پھیلی کہ روم، شام، ماوراء النہر اورافغانستان وغیرہ تمام عالم اسلام کے مشائخ علماء اور ارادتمند آکر آپ سے مستفیذ ہوتے۔ یہاں تک کہ وہ ’’مجدد الف ثانی ‘‘ کے خطاب سے یاد کیے جانے لگے ۔ یہ خطاب سب سے پہلے آپ کے لیے ’’عب

THE SIGNS OF THE LAST DAY IN THE QUR'AN

The Hour is Near Most people know at least something about the Last Day. Almost everyone has heard one thing or another about the horror of the Hour. Nevertheless, most tend to have the same reaction to it as they do to other matters of vital importance, that is, they do not want to speak or even think about it. They try very hard not trying to think about the terror they will experience on the Last Day. They cannot bear the reminders of the Last Day found in a news report of a terrible accident or a film report about some disaster. They avoid thinking about the fact that that day will certainly come. They do not want to listen to others who talk about that great day, or to read author’s works about it. These are some of the ways that people have developed in order to escape the dread of thinking about the Last Day. Many do not seriously believe that the Hour is coming. We are presented with an example of this in a verse of Surat al-Kahf, about the wealthy owner of a rich vin

قُرآنِ کَریم حضرت مہدی کے نِظام کا ہتھیار ہے اور توّھم پرستی مُنافِق کا

دینی جماعتو ںکو مُنافِقوں سےہوشیار رہنا چاہیے کیون کہ منافق لوگ بہت خطرناک ہیں۔یہ اس لیے کہ جن منافقوں نے مسجدِ ضرار کی بنیاد رکھی تھی وہ حضور صلّی اللہ علیہ و سلّم کے مقصد سے چھٹکارا حاصِل کرنا چاہتے تھے۔ وہ، اللہ معاف کرے، حضور صلّی اللہ علیہ و سلّم کی وفات کا اِنتظار کر رہے تھے اور ان سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہتے تھے۔ یہ منافق کوشش کر رہے ہیں کہ وہ کچھ دینی امور میں دخل اندازی کریں یا اپنی کچھ ہدایات پیش کریں یا کوئی منصوبہ تیار کریں یا کوئی کھیل کھیلیں یا انہیں زہر دیں یا انہیں پھنسانے کی کوشش کریں یا کسی طریقے سے ان کی موت کا سوچیں، یہ لوگ بھوکے حقیر کُتّوں کی طرح انتظار کر رہے ہیں کہ وہ اُن کے مقاصدسےچھٹکارا حاصل کریں۔ دینی امور کو اس بارے میں بُہت مُحتاط رہنا چاہیے۔ ایسے منافق ہمیشہ اپنے شیخوں کے لیے آفات کی توقُّع رکھتے ہیں تاکہ وہ کسی دن بےاثر ہو جائیں، کسی طریقے سے۔ اللہ ایک آیة میں فرماتا ہے"اور وہ آپ پر مُصیبت کا انتظار کرتے ہیں، اُن پر ہی بُری مُصیبت آے گی"۔ اس کا کیا مطلب بنتا ہے؟، جو منافق ہیں وہ درد میں ہی مریں گے، انشاءاللہ۔ منافق وہ مخلوق ہے جو اللہ کو سب س

ہمدردی ایک خاص احساس ہے، اس کا ایک خاص اثر ہے روح پر سب سے پہلے یہ کہ مومنوں میں رحم دلی کا احساس ہوتا ہے۔

میرا مطلب وہ شخص ہے جو اللہ پر ایمان رکھتا ہے، اس میں رحم دلی کا احساس موجود ہے۔ پہلی بات یہ کہ رحم دلی کا احساس پہیکا نہیں پڑتا، نا ہی کم ہوتا ہے۔ جب کوئی عورت بیمار ہوتی ہے، رحم دلی کا جذبھ جو کسی کو محسوس ہوا، اونچائی پر پہنچ جاتا ہے۔ اللہ اُسے اس بات سے بچائے کہ اس کے لیے رحم دلی کا احساس ختم کر دیا جاۓ، جب وہ بوڑھی ہو جاے تب بھی وہ جذبھ رحم کا اونچائ چڑھ جاتا ہے، یہ معاملہ اور بھی بڑھ جاتا ہے، جب اُس کو ضرورت پیش آے، مثلاً کہ وہ کسی وجہ سے نیچے گِر جاے، اللہ اُسے بچاۓ، رحم دلی کا احساس بڑھ جاتا ہے، اگر اُسے طاقت نہ رہے کہ کسی چیز کے ساتھ نمٹ سکے، تب بھی رحم دلی کا احساس بڑھ جاتا ہے۔ رحم دلی ایک بہت خوشگوار احساس ہے۔ میرا مطلب یہ ہے کہ یہ ایک خاص احساس ہے چاہت کی طرح، اس کا ایک بہترین اثر ہے روح پر۔ یہ کتنا خوب صورت احساس ہے۔اور ایک خوب صورت ناقابلِ اِخراج احساس رحم دلی کا، روح میں مُسلسل غالِب رہتا ہے۔ مثلاً جب اُسے کسی چیز کے بارے میں عِلم نہیں ہوتا، اگر کوئی غیر ایمانی سوچ آجاتی ہے، ایک مُمکِن ہے کہ کوئی اُس کے خِلاف ہو جائے، وہ اس پر غُصّہ برت سکتا ہے اور اس سے ناراض بھی ہو