Skip to main content

Posts

Showing posts from September, 2015

قراء ات متواترہ کا ثبوت اور اس کے منکر کا حکم

قرآن حکیم اللہ تبارک وتعالیٰ کا انمٹ اورلاریب کلام ہے جس کی مثل لانے سے دنیا کا ہر فرد عاجز اور درماندہ ہے۔ بڑے بڑے فصحائے عرب اور فارسانِ بلاغت اس کی نظیر اورمثل پیش نہیں کرسکے اور نہ ہی قیامِ قیامت تک پیش کر سکتے ہیں۔ علمائے اسلام اور زعمائے ملت نے اس کی تفسیر وتوضیح اور مفاہیم ومعانی کی عقدہ کشائی کے لئے انتھک محنت اور قابل رشک جدوجہد کی ہے اور اس کا حقِ خدمت ادا کرنے کے لئے صعوبتوں اورمسافتوں سے بھرپور دور دراز بلاد و ممالک کے سفر طے کیے۔ اورہر کسی نے اپنی اپنی ہمت اوربساط کے مطابق اس کی خدمت کر کے اعلیٰ وارفع مقام حاصل کیا ۔جن میں ابن جریر طبری، ابن حاتم رازی، عبد الرزاق ، نسائی اور ابن کثیررحمہم اللہ جیسے گلستان ِ حدیث کے خوشبودار پھول، ابوحیان اندلسی اور زمخشری رحمہم اللہ جیسے فارسانِ بلاغت وادب اورنکتہ سنج۔ ابو عبد اللہ قرطبی اورابوبکر ابن العربی رحمہم اللہ جیسے فقاہت کے درخشندہ ستارے۔ رازی اوربیضاوی رحمہم اللہ جیسے فلاسفہ اورمتکلمین جہاں معانی ومفا،عثمان بن سعید ابو سعید ورش القبطی، احمد بن قالون المدنی، خلف بن ہشام البغدادی، ابو معبد عبد اللہ بن ہیم رحمہم اللہ کے گلستان

کیا قراآن سمجھ کر پڑھنا ضروری ہے؟

ہم میں سے یقینااکثر لوگ اس بات سے ناواقف ہیں کہ تلاوتِ قرآن کا صحیح معنی کیا۔کیا صرف قرآن پڑھنے کا نام ہی تلاوت ہے ؟جی نہیں۔پڑھنے کے لیے عربی زبان میں ''قرا'' وغیرہ کے الفاظ آتے ہیں ،توپھر تلاوت کے کیا معنی ہوئے ؟اس سے پہلے اس بات کو ذہن نشین کر لیں کہ تلاوت کرنے میں جو شرط قرآن نے لگائی ہے وہ یہ ہے! (اَلَّذِینَ آَتَیْنَاہُمُ الْکِتَابَ یَتْلُونَہُ حَقَّ تِلَاوَتِہِ أُولَئِکَ یُؤْمِنُونَ بِہِ)[البقرہ:١٢١]''وہ لوگ جنہیں ہم نے کتاب دی ہے وہ اس کتاب(قرآن) کی اس طرح تلاوت کرتے ہیں جس طرح اس کی تلاوت کا حق ہے ،ایسے لوگ ہی اس پر (صحیح معنوں میں) ایمان لاتے ہیں'' اس آیت میں ومنوں کی صفت'' تلاوت قرآن''میں حَقَّ تِلَاوَتِہِ کی شرط لگائی گئی ہے۔(یعنی تلاوت اس طرح جس طرح تلاوت کا حق ہے)اگر ہم لغت کی کتابوں کی طرف مراجعت کرتے ہیں اور اس کا معنی تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو ہمیں معلوم پڑتا ہے کہ تلاوت کا معنی: تلاوت کے معنی میں پڑھنے کے ساتھ ''عمل کرنے کی نیت سے پڑھنا'' بھی شامل ہے۔گویاتلاوت کا معنی ہوا'' پڑھنا ،عمل

ایک غلط فہمی کا ازالہ

کل ایک صاحب نے ہمیں ایک میل بھیجا ۔ یہ میل لندن کے ایک خانساماں کے بارے میں تھا۔ وہ کھانا بنانے کے دوران قرآن شریف کی تلاوت کیا کرتا تھا۔ اسے قرآن پڑھتا ہوا دیکھ کر اس کے پوتے نے بھی قرآن پڑھنا شروع کر دیا۔ ایک دن بچے نے اپنے دادا سے پوچھا کہ دادا آپ کے ساتھ میں بھی قرآن پڑھتا ہوں لیکن میں قرآن نہیں سمجھتا! بچے کے اس سوال کے جواب میں اس کے دادا نے اس کے ہاتھ میں وہ باسکٹ تھما دیا جس میں وہ کوئیلا لا یا کرتا تھا اور کہا کہ جاﺅ اس میں پانی بھر کر لاﺅ۔ بچہ گیا اور باسکٹ میں پانی بھر کے چلا آیا ۔اس نے دیکھا کہ باسکٹ کا پانی وہیں گرگیا تھا ۔بچہ اپنے دادا کو باسکٹ تھما تے ہوئے بولا ۔ دادا باسکٹ کا پانی وہیں گر گیا!۔ باسکٹ میں پانی نہیں بھرا جا سکتا۔ دا دا نے کہا ایک بار اور جاﺅ اور دیکھو اس بار جلدی کرنا ، بھاگ کر آنا۔بچہ نہ چاہتے ہوئے بھی دوبارہ گیا اور اس نے باسکٹ میں حسب معمول پانی بھرنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہا۔ اس بار بھی اس نے اپنے دادا کے ہاتھ میں خالی باسکٹ تھما دیا۔ دا دا کو مخاطب کرتے ہوئے اس نے کہا دادا آپ نے دیکھا کہ میں نے جلدی کی لیکن با سکٹ میں پانی نہیں لا سکا۔ باسکٹ

قرآن کریم پڑھنے کے فوائد

قرآن کریم پڑھنے کے بے شمار فوائد ہیں،یہ فوائد صحیح احادیث ،صحابہ وتابعین سے منقولہ آثار سے ثابت ہیں، شیخ مصطفی عمارہ نے ان فوائد کو ملخص کرکے بیان کیا ہے جو مندرجہ ذیل ہیں:(١)قرآن کا پڑھنے والابزرگوں کے صف میں ہوتا ہے ،لوگوں میں افضل اور ان میں اعلی مقام والا ہوتا ہے ۔(٢)قرآن پڑھنے والے کو ہر حرف کے بدلے ایک نیکی ملتی ہے، اور ہرنیکی دس گنا بڑھا کر لکھی جاتی ہے ۔(٣)قرآن پڑھنے والے پر رحمت کاسایہ ہوتا ہے ، فرشتے اس کا احاطہ کیے ہوتے ہیں اس پر سکینت کا نزول ہوتا ہے۔(٤)اللہ تعالی قرآن پڑ ھنے والے کے دل کو منور کرتا ہے ،مصیبتوں کو ان سے دور کرتا ہے ،قیامت کی تاریکیوں سے اسے بچائے گا۔(٥)قرآن پڑھنے والے کی مہک پاکیزہ ہے اس کا مزہ ترنج پھل جیسا میٹھا ہے ،پس وہ نیک ہم نشیں ہے ،نیک کام کرنے والے اس کے قریب ہوتے ہیں اس کی خوشبو کو سونگتے ہیںاس سے لطف اندو ز ہوتے ہیں۔(٦)قرآن پڑھنے والے کو فزع اکبر (قیامت کی بڑی گھبراہٹ) غمزدہ نہیں کرے گی کیونکہ وہ اللہ کے حفظ وامان میں رہے گا اور قرآن اس کے لئے سفارشی بنے گا۔(٧)قرآن کا پڑھنے والا اپنے والدین کے حق میں باعث رحمت ہے ان دونوں کو رحمتوں سے ہم کنار