Skip to main content

Posts

Showing posts from October, 2016

قصص القرآن (تحقیقی جائزہ)

انسانی فطرت وسرشت ہے کہ وہ کہانیوں اور داستانوں کو پڑھ ‘ سن کر اپنے اندر ایک باطنی تأثر محسوس کرتا ہے‘ ایک سلیم الفطرت شخص اپنے اردا گرد پیش آمدہ حادثات وسانحات میں غور کرتا ہے اور اس کے مبادیات ومقدمات اور ان پر مرتب ہونے والے نتائج کا تتبع کرتا ہے‘ تاکہ مثبت ومنفی پہلوؤں کو واشگاف کرے اور پھر اپنے ہدف ومقصد کے حصول میں وہ ان منفی پہلوؤں سے اجتناب کرتا ہے اور مثبت پہلوؤں کو اختیار کرتا ہے‘ یوں اپنے مقصد میں اکثر کامیاب ہی رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم جو قیامت تک آنے والے انسانوں کی راہبری وراہنمائی کرنے والی خدائے پاک کی آخری کتاب ہے‘ جس کو خداوند تعالیٰ نے اپنے آخری پیغمبر عربی محمد رسول اللہ ﷺ پر نازل فرمایا‘ نے بھی فطرتِ انسانی کے اس تارکو چھیڑا ہے اور چونکہ قرآن کریم نے انسانی ارتقاء وکامیابی اور فوز وسعادت کا مدار‘ آخرت میں حاصل کامیابی اور فلاح کو ٹھہرایا ہے‘ اسی خاطر وہ اس سعادت کے حصول پر برانگیختہ کرنے کے واسطے‘ انسانیت کو انہی قسم کے سعداء واشقیاء کے احوال گذشتہ زمانوں میں وقوع پذیر حقیقی واقعات کے آئینہ میں دکھلاتا ہے۔اور پھر ان الف لیلوی داستانوں کو قرآنی قصص وحکای

انتہاء پسند کون ؟ مغر ب یا اسلام !

انتہاء پسند کون ؟ مغر ب یا اسلام ! 9/11 کو امریکہ کے شہر نیو یارک میں ہونے والی تباہی صرف نیو یارک تک ہی محدود نہیں رہی،بلکہ اس کے اثرات ایشیاء، افریقہ اور تھرڈ ورلڈ ممالک سے لے کر یورپ کے ترقی یافتہ ممالک تک محسوس کیے گئے اور ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت اس واقعے کو بنیاد بنا کر دنیا بھر میں مسلمانوں کے لیے عرصہٴ حیا ت تنگ کر دیا گیا،اب ان ممالک میں کسی بھی شخص کا مسلمان ہونا یا اسلامی اقدار کا حامل ہونا ایک جرم بن کر رہ گیاہے ۔ اس واقعہ کے بعداہل مغرب نے مغربی ذرائع ابلاغ اور عالمی میڈیا کے ذریعے مسلمانوں کے خلاف جھوٹ اور افتراء سے مزین بے بنیاد پروپیگنڈہ اورمسلمانوں کاتعارف ایک ایسی قوم کے طور پر کراناشروع کر دیاہے کہ جیسے ان کا کام ہی انتہاء پسندی اور دہشت گردی کرنا ہے۔ اس منفی پروپیگنڈے کے زیر اثرکچھ ناعاقبت اندیش مسلمان بھی ان کی ہاں میں ہاں ملانے لگے،حالانکہ ان کے اپنے دانشوریہ ثابت کرچکے ہیں کہ اس پورے واقعے میں خود امریکہ ملوث رہا ہے لیکن، اس کے باوجود مسلمانوں کے خلاف ظلم و تشددبرابرجاری ہے۔ دین اسلام نے اپنے پیروکاروں کو اعتدال پسندی کی تعلیم دی ،اس کے برعکس یہود

مکالمہ بین المذاہب کا مقصد اور معاشرہ پر اس کے اثرات ! (ایک تجزیہ)

مکالمہ بین المذاہب کا مقصد اور معاشرہ پر اس کے اثرات ! (ایک تجزیہ) موڈریڈ‘ اسپین میں منعقد ہونے والے عالمی مکالمہ بین المذاہب کی بابت ایک عربی اخبار کی طرف سے سوالنامہ بھیجا گیا جو بعض مقامی علماء کرام کی وساطت سے ہم تک پہنچا‘یہ تحریر اس سوالنامہ کا جواب ہے۔ گوکہ اس کی اشاعت کانفرنس منعقد ہو چکنے کے کئی روز بعد عمل میں آرہی ہے‘ تاہم اس کانفرنس کے ہر دو پہلوؤں کے اثرات دیرپا اور دوررس ہوسکتے ہیں‘ اس لئے قارئین کے مطالعہ کے لئے اس سوال وجواب کو ”بینات“ میں شائع کیا جارہا ہے۔ (مفتی رفیق احمد بالاکوٹی) ”خادم حرمین شریفین شاہ عبد اللہ بن عبد العزیز حفظہ اللہ کی جانب سے موڈریڈ‘ اسپین میں مؤرخہ ۱۶/ تا ۱۸ جولائی ”عالمی بین المذاہب کانفرنس“ منعقد کی جارہی ہے‘ جس میں وہ بذات خوداور اس کانفرنس میں مدعو مختلف الٰہی وسماوی ادیان اور عالمی سطح کی معتبر تہذیبوں وثقافتوں کے نمائندے بھی شرکت کریں گے۔اس سلسلہ میں آنے والے سوالات کے جوابات غور طلب ہیں:۱- بین المذاہب ہم آہنگی کی معاشرتی فکر پر اس کانفرنس کے کیا اثرات مرتب ہوں گے؟۲- اس حوالہ سے جو کوششیں اس سے قبل ہوئیں یا اب ہورہی

اسلامی سزائیں !

اسلامی سزائیں ! شرعی سزاؤں کی تعریف اور ان کی اقسام دنیا کے عام قوانین میں جرائم کی تمام سزاؤں کو تعزیرات کا نام دیا جاتاہے‘ خواہ وہ کسی بھی جرم سے متعلق ہوں‘اس لئے تعزیرات ہند‘ تعزیرات پاکستان کے نام سے جو کتابیں ملک میں پائی جاتی ہیں‘ اس میں ہرقسم کے جرائم اور ہرطرح کی سزاؤں کا ذکر ہے جب کہ شریعت اسلامیہ میں جرائم کی سزاؤں کی تین قسمیں ہیں:۱:․․․حدود ۲:․․․قصاص ۳:․․․تعزیرات۔جرائم کی وہ سزا جو قرآن وسنت اور اجماع نے متعین کردی ہو‘ اس کی دو قسمیں ہیں: ۱:․․․حدود،۲:․․․․قصاص حدود شرعی اصطلاح میں ایسے جرم کی سزا کو کہا جاتاہے جس میں حق اللہ غالب ہو۔ قصاص ایسی سزا جس میں حق العبد غالب ہو۔ تعزیرات کسی بھی جرم کی وہ سزا جو قرآن وسنت نے متعین نہیں فرمائی‘ بلکہ اسے حاکم ِ وقت یا قاضی کی صوابدید پر چھوڑدیا۔شریعت اسلام میں حدود کی تعداد چھ ہے: ۱:․․․ ڈاکہ‘ ۲:․․․چوری‘ ۳:․․․زنا‘ ۴:․․․تہمتِ زنا‘ ۵:․․․ شراب خوری‘ ۶:․․․مرتد کی سزا۔ حدود وقصاص میں فرق جرائم کی وہ سزا جو قرآن وسنت نے متعین فرمادی ہے‘ اس کی دو قسمیں ہیں:۱:․․ ایک حد ۲:․․․ قصاص۔ بنیادی طور پر ی