Skip to main content

Posts

Showing posts from January, 2016

تیسری جنگِ عظیم اوردجال

تیسری جنگِ عظیم اوردجال ''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''''' (1) عقیدہ ظہورِ مہدی: حضرت مہدی کے خروج کے بارے میں اہلِ سنت و الجماعت ک ا چودہ سو سالہ یہ نظریہ ہے کہ وہ آخری دور میں تشریف لائینگے اور امت مسلمہ کی قیادت کرینگے۔ اللہ کی زمین پر قتال فی سبیل اللہ کے ذریعے اللہ کا قانون نافذ کریں گے۔ جسکے نتیجے میں دنیا میں امن و انصاف کا بول بالا ہو جائے گا۔ (2) حضرت مہدی کا نسب: حضرت ابو سعید خدریؓ فرماتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا "مہدی میری اولاد میں سے ہوں گے، روشن و کشادہ پیشانی اور اونچی ناک والے۔ وہ روئے زمین کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے جس طرح وہ ظلم وستم سے بھری ہوئی تھی۔ وہ سات برس تک زمین پر برسرِاقتدار رہیں گے"۔ (ابو دائود) فائدہ:حضرت مہدی والد کی طرف سے حضرت حسنؓ کی اولاد میں سے ہ

توہین رسالت کی جرات کیوں؟

نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کا ارشاد ِگرامی ہے ”لا یوٴ من احدکم حتیٰ اکون احب الیہ من والدہ وولدہ والنا س اجمعین۔“ (مشکوة،ص:۱۲) ترجمہ : ”تم میں سے اس وقت تک کوئی شخص مو من نہیں ہو سکتا جب تک کہ میں اس کو اس کے والد، اس کی اولاد اورتما م لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاوٴں ۔“حضورِ علیہ الصلوٰة والسلام کے اس ارشاد مبارک سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ مسلما ن کے ایمان کی تکمیل کے لئے ضرور ی ہے کہ اس کے دل میں حضور علیہ الصلوٰة والسلام کی محبت اتنی زیادہ ہو کہ اس کی موجودگی میں اس کواپنے تمام حقیقی رشتے بھی ہیچ نظر آئیں ۔مسلمان کی اسی کیفیت کو ایک حدیث شریف میں ایمان کی معراج بتا یا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک بار حضرت عمر فاروق رضی الله عنہ حضور اقدس ا کی مجلس میں حاضر ہوئے اور عرض کیا :یا رسول الله! مجھے اپنی اولاد اور والدین کے بعد سب سے زیادہ آپ سے محبت ہے ۔حضورا نے ارشاد فرمایا کہ: ابھی نہیں …یعنی ابھی آپ کاایمان مکمل نہیں ہوا … کچھ دیر کے بعد حضرت عمر فاروق رضی الله عنہ نے عرض کیا :یا رسول الله! اب مجھے اپنی اولاداوراپنے والدین سے بھی زیادہ آپ سے محبت ہو گئی ہے، آپ نے فرمایا ”ہاں اب

مکتوبات نبوی

آپ نے جس طرح صحابہٴ کرام کو اپنے ارشادات سے نوازا‘ اسی طرح ان لوگوں تک بھی اپنے پیغامات پہنچائے جو حاضری کی سعادت سے محروم رہے۔ ان پیغامات میں جس طرح اسلام کی دعوت کے لعل وجواہر جڑے ہوئے ہیں‘ اسی طرح ان کی روشن جبیں پر گرانقدر نصائح‘سیاسی نکات اور اصولِ جہاں بانی وحکمرانی کے بیش بہا موتی بھی گندھے ہوئے ہیں۔ عرب کی مخالفت کی وجہ سے صلح حدیبیہ ۶ھ تک دعوت اسلام کا دروازہ بند تھا‘ اس صلح نے دعوت کا دروازہ کھول دیا اور اب وہ وقت آگیا کہ اللہ تعالیٰ کا پیغام ساری انسانیت کو پہنچادیا جائے اور اسلام کے عظیم الشان پروگرام ومنشور کی طرف دنیا کو دعوت دی جائے‘ اب تک جو لوگ دائرہٴ اسلام میں داخل ہوئے تھے‘ انہیں آغوشِ اسلام میں آتے ہی احساس ہوا کہ انسانیت کے لئے جتنے بھی فضائل‘ محاسن اور آداب ہوسکتے ہیں وہ تمام کے تمام اسلام کی ابدی تعلیمات کا جزو لازم ہیں‘ اسلام کی انہی ابدی صدا قتوں سے دیگر اقوام عالم کو روشناس کرانے کے لئے آپ ا نے ضروری سمجھا کہ سلاطینِ عالم تک خطوط کے ذریعے اس پیغام کو پہنچایا جائے‘ تاکہ آپ ا اپنے فریضہ ٴ تبلیغ سے کما حقہ عہدہ برآہوسکیں‘ چنانچہ آپ ا نے صلح حدیبیہ سے واپس

سید احمد شہید اور تحریکِ جہاد

قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ”من المؤمنین رجال صدقوا ما عاہدوا للہ علیہ فمنہم من قضیٰ نحبہ ومنہم من ینتظر وما بدلوا تبدیلا“۔ (الاحزاب:۳۳) ترجمہ:․․․”ان ایمان والوں میں کچھ لوگ ایسے ہیں کہ انہوں نے جس بات کا اللہ سے عہد کیا تھا اسے سچ کرکے دکھا یا پھر ان میں کچھ وہ ہیں جو اپنی نذر پوری کرچکے اور کچھ وہ ہیں جو شہادت کے مشتاق ہیں اور انہوں نے ذرا سا بھی بدل نہیں کیا“ ۔ مجدد سرہندی اور مجدد دہلی کے فضل وکمال اور مجاہدہ : یہ سادات حسنی کا خاندان تھا‘ جس میں مجدد الف ثانی اور شاہ ولی اللہ دہلوی کی تعلیمات کا فیض آکر مل گیا تھا‘ اس خاندان کا آغاز شیخ الاسلام امیر کبیر قطب الدین مدنی سے ہوا‘ جنہوں نے ساتویں صدی ہجری کی ابتداء میں ہندوستان آکر جہاد کیا‘ اس خاندان کے آخری مورث سید علم اللہ ہیں جو عالم گیر کے زمانہ میں تھے اور حضرت مجدد الف ثانی کے مشہور خلیفہ اور جانشین حضرت سید آدم بنوری کے فیض سے مستفید اور مشرق کے دیار میں ان کے خلیفہ خاص تھے‘ اس خاندان کے ممتاز افراد مجدد دہلوی شاہ ولی اللہ کے فیض درس اور فیض صحبت سے سیراب تھے‘ اس طرح اس خاندان میں حضرت مجدد الف ثانی سرہندی