Skip to main content

Posts

Showing posts from August, 2016

صلیبی اور یہودی خبیثوں کی خباثت

ہم مسلمانوں نے اللہ کے احکامات کو نظر انداز کرتے ہوئے خبیث صلیبیوں کو جگری یار بنالیا۔ سورة مائدہ آئت نمبر51 (اے ایمان والو! یہود و نصاری کو دوست نہ بناﺅ وہ آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں۔ اور تم میں جو کوئی ان سے دوستی رکھے گاتو وہ انہیں میں سے ہے۔ بے شک اللہ بے انصافوں کو راہ نہیں دیتا)اتنے بڑے صاف اور واضح حکم پر آج کہاں عمل ہورہا ہے؟ سرور کون و مکاں ہم غلاموں کے آقا اللہ کے حبیب رحمة للعلمین ﷺ کا ارشاد پاک ہے اخرجوا الیہود والنصاری من جزیرة العرب( یہود و نصاری کو جزیرة العرب سے نکال دو) میرے آقا ﷺ کے نشہءعشق رسول سے سرشار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے صلیبیوں کے خلاف مسلسل جہاد کرکے شام ، فلسطین اور افریقہ سے بھی انکا اقتدار ختم فرمایا۔ اندلس سے آٹھ سوسالہ مسلم اقتدار یونہی ختم نہیں ہوا۔ سلطان ترکی کی فرانس سے دوستی کا نتیجہ ہے۔ صلیبی یورپ نے ہمیشہ انسانی اقدار کی دھجیاں بکھیریں۔ ان غیر مسلموں کے ہاں کوئی اخلاقی ضابطہ نہیں۔ تاریخ شاہد ہے کہ صلیبیوں نے ہمیشہ مکروفریب سے مسلمانوں کو ظلم وستم اور بربریت کا شکاربنایا۔ امریکی پادری اور اسکے ساتھی ہی توہین رسالت کے مرتکب نہیں بلکہ تمام

عقیدہ ختم نبوت

عقیدہ ختم نبوت اسلام کا وہ بنیادی عقیدہ ہے جس میں معمولی ساشبہ بھی قابل برداشت نہیں‘ حضرت امام اعظم امام ابوحنیفہ کا قول ہے کہ:”جو شخص کسی جھوٹے مدعی نبوت (نبوت کا دعویٰ کرنے والا) سے دلیل طلب کرے وہ بھی دائرہ اسلام سے خارج ہے“۔کیونکہ دلیل طلب کرکے اس نے اجرائے نبوت (نبوت جاری ہے) کے امکان کا عقیدہ رکھا (اور یہی کفر ہے) اسلام کی بنیاد اسلام کی بنیاد توحید‘ رسالت اور آخرت کے علاوہ جس بنیادی عقیدہ پر ہے ‘ وہ ہے ”عقیدہ ختم نبوت“ حضرت محمد ا پر نبوت اور رسالت کا سلسلہ ختم کردیا گیا‘ آپ ا سلسلہ نبوت کی آخری کڑی ہیں‘ آپ اکے بعد کسی شخص کو اس منصب پر فائز نہیں کیا جائے گا۔ ختم نبوت اسلام کی جان ہے یہ عقیدہ اسلام کی جان ہے ‘ ساری شریعت اور سارے دین کا مدار اسی عقیدہ پر ہے‘ قرآن کریم کی ایک سو سے زائد آیات اور آنحضرت اکی سینکڑوں احادیث اس عقیدہ پر گواہ ہیں‘ تمام صحابہ کرام‘ تابعین عظام‘ تبع تابعین‘ ائمہ مجتہدین اور چودہ صدیوں کے مفسرین‘ محدثین‘ متکلمین‘ علماء اور صوفیاء (اللہ ان سب پر رحمت کرے) کا اس پر اجماع ہے۔چنانچہ قرآن کریم میں ہے: ”ماکان محمد ابا احد من رجالکم ولکن رسول الله

کیا حساب وکتاب کا یقین نہیں؟

”جو آدمی نماز نہیں ادا کرتا‘ اسے جسم وجان اور لباس پاک رکھنے کی کیا ضرورت ہے“ جو شخص زکوٰة کی ادائیگی نہیں کرتا‘ وہ حلال مال کمانے کا تکلف کیوں کرے گا؟ اور جس انسان کو مرنے کے بعد حساب وکتاب پر یقین نہیں ہے‘ وہ دوسروں کے حقوق غصب کیوں نہ کرے گا؟ مرنے کے بعد زندہ ہونے اور اعمال صالحہ کے بدلے جنت اور برے اعمال پر جہنم جس کا عقیدہ نہیں‘ وہ برے عملوں کی لذت کیوں چھوڑے اور اچھے اعمال کی مشقت کیوں برداشت کرے ۔ جسے نبی دوجہاں ا کے آخری ہادی ومہدی ہونے پر یقین نہیں ہے وہ ان کی فرمانبرداری کیوں کرے گا۔یہ چند موٹے موٹے اصول ہیں‘ ہم نے دیکھا ہے کہ عورتیں چھوٹے بچوں کو مَردوں کے پاس جانے سے روکتی ہیں کہ تمہارے ابو نے‘ تمہارے بھائی نے نماز کے لئے جانا ہے‘ ان کے کپڑے ناپاک نہ ہوجائیں‘ بچہ پیشاب نہ کردے۔ ہم نے دیکھا ہے: کہیں اوپر سے پانی کے چھینٹے آرہے ہوں تو راہ چلتے بھی آدمی سوچتا ہے‘ کہیں یہ ناپاک پانی کے چھینٹے نہ ہوں‘ گھر میں یا باہر کپڑوں پر ایسے چھینٹے پڑجائیں جو مشکوک ہوں تو نمازی آدمی اس جگہ سے کپڑا کو دھو لیتا ہے یا لباس ہی تبدیل کرلیتاہے۔مگر بے نماز آدمی یا غیر مسلم جسے نماز ادا نہیں ک

اسلام میں سنت اور حدیث کا مقام

حق تعالیٰ نے بنی نوع انسان کی ہدایت ورہنمائی کے لئے وحی آسمانی کا سلسلہ جاری فرمایا‘ اس کے لئے جن برگزیدہ نفوسِ قدسیہ کا انتخاب فرمایا‘ اسلامی زبان میں انہیں انبیاء ورسل کہتے ہیں‘ ان مقدس ہستیوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے” عصمت“ کی ضمانت دی جاتی ہے یعنی ان کا ہرقول وفعل شیطانی تسلط اور نفسانی خواہش سے پاک ہوتا ہے: ”وما ینطق عن الہویٰ ان ہو الا وحی یوحیٰ“ (النجم:۳) ترجمہ:․․․”اور نہیں بولتا اپنے نفس کی خواہش سے‘ وہ تو حکم ہے بھیجا ہوا“۔ (ترجمہ شیخ الہند)ان کی صداقت وحقانیت کو قطعی دلائل وشواہد سے ثابت کیا جاتا ہے‘ تاکہ مخلوق پر حجت قائم ہو اور وہ پوری طرح یقین واطمینان کے ساتھ ان پر ایمان لائیں اور ان کی تصدیق کر سکیں‘انہی دلائل کا نام ”معجزات“ و”بینات“ ہے‘ ان کی نبوت ورسالت ‘ ان کی صداقت وحقانیت اور ان کی عصمت وضمانت کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ ان کی اطاعت تمام انسانوں کے لئے فرض ہوجاتی ہے۔جیساکہ قرآن کریم میں ارشاد ہے: ”وما ارسلنا من رسول الا لیطاع باذن الله“ (النساء:۶۴) ترجمہ:․․․”اور ہم نے کوئی رسول نہیں بھیجا مگر اسی واسطے کہ اس حکم کو مانیں اللہ کے فرمانے سے “۔ (ترجمہ شیخ الہن