Skip to main content

عہد رسالت میں کتابت قرآن

سرورکائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے مندرجہ ذیل صحابہ کو کاتب وحی مقرر فرمایا تھا:

حضرت بوبکررضی اللہ تعالٰی عنہ ، عمرفاروقرضی اللہ تعالٰی عنہ، عثمانرضی اللہ تعالٰی عنہ، علیرضی اللہ تعالٰی عنہ، معاویہرضی اللہ تعالٰی عنہ ، زید بن ثابت رضی اللہ تعالٰی عنہ،ابی بن کعبرضی اللہ تعالٰی عنہ، خالد بن ولیدرضی اللہ تعالٰی عنہ،ثابت بن قیسرضی اللہ تعالٰی عنہ،۔

قرآن کا جو حصہ نازل ہوتا آپ صحابہ کو مامور فرماتے کہ اسے تحریر کرلیں یہاں تک کہ کتابت کے پہلو بہ پہلو قرآن کریم کو سینوں میں بھی محفوظ کرلیا گیا۔(مشہور مستشرق بلاشیر نے کاتبین وحی صحابہ کی تعداد چالیس بتائ ہے دیگر مستشرقین مثلاً شفالی بہل اور کازانوفاکا زاویہ نگاہ بھی یہی ہے مؤخر الذکر نے اس ضمن میں طبقا ابن سعد، طبری ، نووی اور سیرت حلبی پر اعتماد کیا ہے ۔)

محدث حاکم نےمستدرک میں زید بن ثابت سے بخاری ومسلم کی شرط کے مطابق روایت کیا ہے کہ زید بن ثابت نے کہا ہم عہد رسالت میں ''رقاع''(ٹکڑوں)سے قرآن جمع کیا کرتے تھے ۔

(الاتقان،ج۱ص،۹۹نیز البرہان ،ج۱ص۲۳۷)

مذکورہ صدر حدیث میں ''رقاع ''کا جو لفظ وارد ہوا ہے یہ رقعہ (ٹکڑے) کی جمع ہے اس کا اطلاق چمڑے ،کپڑے اور کاغذ کے ٹکڑے پر کیا جاتا ہے اس حدیث سے واضح ہوتا کہ کاتبین وحی عہد رسالت میں کتاب کے لئے کس قسم کا سامان استعمال کرتے تھے چناچہ نازل شدہ قرآن کریم کو پتھر کی باریک اور چوڑی سلوں، کھجور کی ٹہنیوں اونٹ یا بکری کے شانہ کی ہڈیوں ، اونٹ کے کجاوہ کی لکڑیوں اور چمڑے کے ٹکڑوں پر تحریر کیا جاتا تھا۔

(الاتقان،ج۱،ص،۱۰۱)

ترتیب سوروآیات:

حضرت زید کی روایت میں مختلف اشیاء کے ٹکڑوں سے قرآن جمع کرنے کا جو ذکر کیا گیا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ ٹکڑوں سے نقل کرکے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے مطابق قرآنی آیات وسورکو مرتکب کیا جاتا تھا۔ اس میں شبہ کی کوئ مجال نہیںکہ ہر سورت کی آیات کی ترتیب اور ان سے پہلے بسم اللہ کی تحریر ایک توقیفی امر ہے جو آنحضور کے حکم سے کیا گیاہے اس میں اختلاف کی کوئ گنجائش نہیں یہی وجہ ہےکہ اس ترتیب کا عکس جائز نہیں۔

(دیکھئے البرھان للزرکشی ،ج۱،ص۲۵۶۔امام سیوطی نے ترتیب آیات کی توقیفی ہونے کے بارے میں زرکشی کے نقل کردہ اجماع کی جانب اشارہ کیا ہے اس کے بعد اس ضمن میں موسوف نے ابو جعفر بن زیر کی ''کتاب المناسبات''سے نقل کیا ہے کہ'' قرآنی سورتوں میں آیات کی ترتیب آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے قائم کی گئ مسلمانوں کے یہاں اس میں کوئ اختلاف نہیں پایا جاتا ہے(الاتقان ،ج۱،ص،۴)باقی رہا زرکشی کا یہ قول کہ ''اس ترتیب کا عکس جائز نہیں''تو اس کامطلب یہ کہ آیات کی اس توقیفی ترتیب پر عمل ضروری ہے اور اس میں تقدیم وتاخیر نہیں کی جاسکتی ۔اس امر کی وضاحت زرکشی کے اس قول سے بھی ہوتی فرماتے ہیں:بعض علماء نے ''ورتل القرآن ترتیلا''کی تفسیریوں کی ہے ''قرآن کو اسی ترتیب کے مطابق بلاتقدیم وتاخیر پڑھئے جو شخص اس کی خلاف ورزی کرتا ہے وہ موردالزام ہے. اس کی دلیل میں صحیح بخاری کی وہ حدیث پیش کی جاتی ہے جو عبداللہ بن زبیر سے مروی ہے کہ میں حضرت عثمانرضی اللہ تعالٰی عنہسے کہا کہ ''آیت قرآنی''والذین یتوفون منکم ویذرون ازواجا''(سورہ البقرہ آیت۲۲۴)کو دوسری آیت سے منسوخ کردیا گیاپھر آپ نے اس کو قرآن کریم کے نسخے میں باقی کیوں رہنے دیا ہے؟ حضرت عثمانرضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا:بھتیجے!میں قرآن میں کوئ تبدیلی نہیں کرسکتا۔(صحیح بخاری ،ج۶،ص،۲۹،نیزالاتقان،ج۱،ص۱۰۵)اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حضرت عثمان کو معلوم تھا کہ یہ آیت منسوخ ہوچکی ہے مگر تاہم اس آیت کو اس کی جگہ سے تبدیل نہ کرسکے۔کیونکہ وہ اس حقیقت سے آگاہ تھے کہ حضرت جبریل سرورکائنات صلی اللہ علیہ وسلم کو ترتیب قرآن سے آگاہ کرچے ہیں ۔ اس لئے اب کوئ شخص اس میں تبدیلی کا مجاز نہیں ہے ۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو بھی خداوندی ترتیب سے آگاہ کردیا تھا۔امام احمد بن حنبل نے اسناد حسن کے ساتھ عثمان بن ابی العاص سے روایت کی ہے کہ میں ایک روز بارگاہ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں بیٹھا تھا آپ نے نگاہ اٹھائ اور پھر نیچے کرکے فرمایا :میرے پاس جبریل آئے تھے انہوں نے کہا کہ آیت کریمہ''ان اللہ یأمر بالعدل والاحسان ایتاء ذی القربی ''کو فلاں سورت میں فلاں جگہ رکھئے ۔
کتب حدیث میں ایسی لا تعداد روایا ت موجود ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کاتبین وحی صحابہ کو قرآن مجید لکھواتے اور ان کو آیات کی ترتیب سے آگاہ کیاکرتے تھے ۔(صحیح بخاری ،کتاب تفسیر القرآن باب ۱۸ وکتاب الاحکام باب ۹۷ ومسند احمد ،ج،۳ص،۱۲،ج۴،ص۳۸۱)

احادیث سے ثابت ہے کہ آپ نے قرآن کی متعدد سورتیں نماز کے دوران یا خطبہ جمعہ میں ترتیب آیات کے ساتھ صحابہ کرام کی موجودگی میں تلاوت کیں یہ اس امر کی صریح دلیل ہے کہ آیت کی ترتیب توقیفی ہے ایسا کبھی نہیں ہوا کہ صحابہ کسی سورت کی آیات کو آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ترتیب کے خلاف تلاوت کریں نظر بریں ثابت ہوا کہ آیت کی ترتیب تواتر کی حد تک پہنچ چکی ہے ۔(الاتقان،ج۱،ص،۱۰۵)

ترتیب سورت وقیفی ہے :

جہاں تک سورتوں کی ترتیب کا تعلق ہے وہ بھی توقیفی(بحکم خداوندی اور اس کے آگاہ کرنے پر موقف ومبنی )ہے ۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں یہ ترتیب معلوم تھی ۔ اس کے خلاف کوئ دلیل ہمارے علم میں نہیں ہم اس رائے کو تسلیم نہیں کرتے کہ سورتوں کی ترتیب صحابہ کے اجتہاد پر مبنی ہے ہم اس بات کو بھی تصور نہیں کرتے کہ بعض سورتوں کی ترتیب اجتہادی اور بعض کی توقیفی ہے۔نظربریں علامہ زرکشی کا یہ قول قابل تسلیم نہیں کہ :

بعض سورتوں کی ترتیب خداکی واجب کردہ نہیں بلکہ صحابہ کے اجتہاد پر مبنی ہے یہی وجہ ہے کہ قرآن کے ہر نسخے کی ترتیب جداگانہ ہے ۔(البرہان،ج۱،ص۲۶۲)

اس کی وجہ یہ کہ صحابہ نے اپنے اجتہاد کے مطابق قرآن کریم کو جو ذاتی نسخے مرتب کئے تھے وہ ان کا ایک ذاتی فعل تھا اور انہوں نے کسی دوسرے کو اس کا پابند بنانے کی کوشش نہیں کی تھی صحابہ نے کبھی یہ نہ کہا کہ ان کی ذاتی ترتیب کی مخالفت حرام ہے اس لئے کہ انہوں نے قرآن کریم کے یہ نسخے اپنے لئے مرتب کئے تھے لوگوں کے لئے نہیں جب پوری امت مسلمہ حضرت عثمانرضی اللہ تعالٰی عنہ کے مرتب کئے نسخے پر متفق ہوگئتو صحابہ نے بھی اس سے اظہار اتفاق کیا اور اپنے ذاتی نسخے ترک کردئیے اور اگر وہ ترتیب آیات وسورکے معاملہ کو اپنے اجتہاد پر مبنی تصور کرتے تو اپنے ذاتی نسخوں پر قائم رہتے اور حضرت عثمان کے نسخے سے متفق نہ ہوتے ۔اس پر طرہ یہ کہ زرکشی خود مانتے ہیں کہ جو لوگ سورتوں کی ترتیب کو مبنی پر اجتہاد تسلیم کرتے ہیں ان کے اور قائلین توفیق کے مابین صرف نزاع لفظی پایا جاتا ہے وہ اس دلیل میں امام مالک کا قول پیش کرتے ہیں ۔امام مالک فرماتے ہیں:صحابہ نےجس طرح آنحضور صلی اللہ علیہ وسلمکو قرآن پڑھتے سنا تھا اسی طرح اس کو مرتب کردیا ۔اس کے ساتھ امام مالک یہ بھی فرماتے ہیں کہ سورتوں کی ترتیب صھابہ کے اجتہادپر مبنی ہے اب اس میں اختلاف رونما ہوا کے آیا آنحضور صلی اللہ علیہ وسلمنے بذات خود اس ترتیب کا حکم دیا تھا یا فعلا اس ترتیب کو (بوقت تلاوت) ملحوظ رکھا تھا ۔(البرہان ،ج۱،ص،۱۵۷)
جہاں تک اس نظریہ کا تعلق ہے کہ ترتیب کی دوقسمیں ہی

١)توقیفی (۲) اجتہادی۔تو اس قسم میں دوسری قسم اجتہادی ترتیب کسی صحیح دلیل پر مبنی نہیں ہے ۔اس لحاظ سے یہ ایک کمزور قسم ہے اور اعتماد کے لائق نہیں قاضی ابومحمد بن عطیہ لکھتے ہیں :

بہت سی سورتوں کی ترتیب عہد رسالت میں معلوم تھی۔ مثلاًسبع طول (سات طویل سورتیں جو قرآن جو قرآن کے شروع میں ہیں )دیکھئیے (البرہان طول بضم الطاء وفتح الواو۔عام لوگ طوال بکسر الطاء کہتے ہیں زرکشی کا قول ہے کہ طول بضم الطاء کا واحد طولی ہے ۔ جیسے کبرکاواحد کبری ہے ابو حیان توحیدی کا قول ہے کہ طوال بکسر الطاء غلط ہے) (البرہان،ج۱ص۲۴۴)

اور حوارم مفصل سورتیں۔(البرہان ،ج۱،ص۲۵۷)

ابو جعفر بن زبیر فرماتے ہیں( ان کا نام اھمد بن ابراہیم بن زبیر اندلسی ہے موصوف نے کتاب ''الصلۃ''کا ضمیمہ تیار کیا ہے آپ بہت بڑے حافظ حدیث اور نحودان تھے ۸۰۷ھجری میں وفات پائ(الدارالکا نتہ،ج۱۔ص۸۴،۸۶)

''توقیفی قسم مقابلۃ بڑی ہے بخلاف ازیں اجتہادی قسم اس سے چھوٹی ہے ''

وہ مزید فرماتے ہیں:

''ابن عطیہ نے جن سورتوں کے بارے میں کہا ہے کہ ان کی ترتیب عہد رسالت میں معروف تھی،آثاوشواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ۰ ایسی سورتوں کی تعداد ابن عطیہ کی بیان کردہ سورتوں سے زیادہ ہے بہت کم سورتیں ایسی ہیں جن میں اختلاف کی گنجائش ہے''(البرہان ،ج۱،ص۲۸۵)

جن قلیل التعدادسورتوں میں اختلاف کی گنجائش ہے ان کی اصل واساس ایک ضعیف بلکہ بے بنیاد روایت پر رکھی گئ ہے اس کا راوی یزید الفارسی اس حدیث کو حضرت ابن عباسرضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کرتا ہے دیکھئے علامہ احمد محمد شاکر ۳۹۹۔مسند احمد ،ج۱،ص۳۲۹)

امام بخاری نےا س کو ضعیف راویوں کے زمرہ میں شمار کیا ہے اس لئے اس کی منفرد روایات قابل قبول نہیں بصورت قبول یہ حدیث قرآن کریم کی ان سورتوں میں تشکیل کی موجب ہوگی جو قراءۃ سماعاًاور مصاحف میںلکھے جانے کی روسے تواتر قطعی کے ساتھ ثابت ہیں سورتوں کے آغاز میں بسم اللہ کی تحریر بھی اس حدیث کی روسے مشکوک ٹہرے گی گویا حضرت عثمان اس کی نفی بھی کرتے تھے اوراثبات بھی حالانکہ حضرت عثمان کا دامن اس (دوعملی) سے پاک ہے لہٰذااس حدیث کو بے اصل قراردینے میں کوئ حرج نہیں(دیکھئیے مسند احمد ،ج۱،ص۳۳۰یہ حاشیہ بتمام وکمال پڑھنے کے لائق ہے اس کے ذکر کی یہاں گنجائش نہیں ہے)اس حدیث کو بیان کرکے اپنے بیان کو طوالت دینابھی غیر ضروری ہے۔

یہاں قابل ذکر وہ جواب ہے جو حضرت عثمان نے ابن عباس کو دیا اور ساتھ ہی یہ بھی بتایا کہ سورہ انفال کو سورہ توبہ کے ساتھ بسم اللہ کے بغیر کس لئے ملادیا گیا ہے ۔سورہ انفال آغاز حجرت میں نازل ہوءی تھی جبکہ سورہ توبہ آنحضورصلی اللہ علیہ وسلمکی زندگی کے آخری دور میں نازل ہوئ۔ان دونوں سورتوں کے مضامین باہم ملتے جلتے تھے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہوگیا اورآپ نے یہ نہ بتایا کہ یہ دونوں سورتیں ایک ہی ہیں ۔اس لئے میں (حضرت عثمان)نےدونوں ( سورہ انفال وتوبہ)کو ملادیا ۔(مسند احمد طبع شاکر،ج۱۔ص۳۳۱۔حدیث،۳۹۹،نیز مسند طبع قدیم ،ج۱،ص۵۷)

اس ضمن میں راجح اور مختار مذہب یہ ہے کہ قرآنی سورتوں کی موجودہ ترتیب اسی طرح توقیفی اور غیر اجتہادی ہے جس طرح آیات کی موجودہ ترتیب مگر بایں ہمہ توقیف سرورکائنات صلی اللہ علیہ وسلم نہ تو ہرسورت کی آیات کو علیحدہ علیحدہ صحیفوں میں جمع کرسکے ،اور نہ ہی آپ کو پورے قرآن کو کتابی صورت میں یکجا کرنے کا موقع ملا۔اس کی وجہ یہ تھی کہ قرآن کے حافظ وقاری بکثرت موجود تھے۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کو ابھی قرآن کے باقی ماندہ حصہ کے نزول کا انتظار تھا علوہ ازیں اس امر کا بھی احتما تھا کہ بعض نئے احکام نازل ہوں جو سابقہ احکام کو منسوخ کردیں۔(الاتقان ،ج۱،ص۹۸،نیز البرہان ،ج۱،ص۲۳۵)

خلاصہ یہ کہ قرآن مجید عہد رسالت میں لکھا جاچکا تھا۔ مگر اس کو کتابی صورت میں یکجا کرنے کی نوبت نہ آئ تھی کیونکہ قرآن صحابہ کے سینوں میں اسی طرح محفوظ تھا جیسے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بحکم خداوندی ان کو آگاہ وآشنا کیا تھا ۔ امام زرکشی لکھتے ہیں:

''عہد رسالت میں قرآن کو ایک مصحف میں اس لئے نہ لکھا گیا تاکہ اس کو بار بار تبدیل کرنے کی ضرورت پیش نہ آئے ۔اس لئے قرآن کی کتابت کو اس وقت تک ملتوی رکھا گیا جبکہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کی وجہ سے نزول قرآن کی تکمیل ہوگئ۔(البرہان ،ج۱،ص۲۶۲)

اکثر علماء کا زاویہ نگاہ یہ ہے کہ عہد رسالت میں قرآن مجید کو جمع کرتے وقت ان ساتھ قراءتوں کو ملحوظ رکھا گیا تھا جن میں قرآن نازل ہوتھا ہم حرف سبعہ کی فصل میں اس پر تفصیلی بحث کریں گے ۔

قرآن کریم کا جو حصہ تحریر کیا جاتا تھا اس کو آپ کے گھر میں محفوظ رکھا جاتا تھا جو لوگ لکھنا جانتے تھے اس سے اپنے لئے ایک نسخہ نقل کرلیا کرتے تھے چناچہ ایک طرف لکھنے والوں کے یہ ذاتی نسخے ،دوسری جانب وہ صحیفے جو آپ کے گھر میں محفوظ تھے اور اس کے پہلو پہلو امّی اور غیر امّی صحابہ کا حافظہ قرآن کریم کی حفاظت وصیانت میں ممدون ومعاون اور اس آیت کامصد اق ثابت ہوئے :انا نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحافظون ،

بے شک ہم ہی نے اس ذکر کو اتارا اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں ۔(سورہ حجرآیت۹)

Comments

Popular posts from this blog

Yusufzai (Pashtun tribe)

The  Yūsufzai  (also  Youssofzay ,  Yousefzai ,  Yousafzai ,  Esapzey ,  Yousufi , or  Yūsufi ) (Pashto:  يوسفزی ,Persian and Urdu:  یوسف زئی ) is one of the largest Pashtun (Afghans) tribes. The majority of the Yusufzai tribe reside in parts of Western Afghanistan, Khyber Pakhtunkhwa and Provincially Administered Tribal Areas near the Afghan-Pakistan border. They are the predominant population in the districts of Konar, Ningarhar, Mardan District, Dir, Swat,Malakand, Swabi, Buner, Shangla, Haripur District [Khalabat Town Ship and Tarbela] and in Mansehra and Battagram. There is also a Yusufzai clan of Dehwar tribe in the Mastung district of Balochistan who speak Persian with some mixture of Birahvi words. The descendants of Yusuf inhabit Konar, Jalalabad, Swat, Upper Dir, Lower Dir, Malakand Swabi and Mardan...

کتاب اللہ کی کون سی آیت سب سے عظیم ہے؟

آیۃ الکرسی کی فضیلت !!! آیۃ الکرسی کی کیااھمیت ہے ؟ اور کیا اس آیت کی عظمت پرکوئ دلیل وارد ہے ؟ الحمد للہ ابن کثیررحمہ اللہ تعالی سورۃ البقرۃ کی آیۃ الکرسی کی تفسیرکرتےہو‏ۓ کہتے ہیں : یہ آیۃ الکرسی ہے جس کی فضیلت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح حدیث میں ہے کہ کتاب اللہ میں یہ آیت سب سے افضل آیت ہے ۔ ابی بن کعب رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نےان سے سوال کیا کہ کتاب اللہ میں سب سے عظیم آیت کونسی ہے ؟ تو وہ کہنے لگے کہ اللہ اور اس کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم کوہی زیادہ علم ہے ، یہ سوال کئ باردھرایا اور پھر فرمانےلگے کہ وہ آیت الکرسی ہے ۔ فرمانے لگے اے ابوالمنذر علم مبارک ہو اس ذات کی قسم جس کےھاتھ میں میری جان ہے اس آیت کی زبان اور ہونٹ ہونگے عرش کے پاۓ کے ہاں اللہ تعالی کی پاکی بیان کررہی ہوگی ۔ اور غالبا مسلم نے والذی نفسی سے آگے والے الفاظ نہیں ہیں ۔ عبداللہ بن ابی بن کعب رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ ان کے والد کے پاس کھجوریں رکھنے کی جگہ تھی ، عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں میرے والد اس کاخیال رکھتے تھے تو...

عہد عثمان میں تدوین قرآن

امام بخاری نے صحیح بخاری میں اپنی سند کے ساتھ ابن شھاب سے روایت کیا ہے کہ انس بن مالک نے انہیں بتایا کہ حذیفہ بن یمان حضرت عثمان کی خدمت میں حاضر ہوئے موسوف نے رمینیہ اور آذربیجان کی جنگ میں شرکت کی تھی وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ لوگ تلاوت قرآن میں بہت اختلاف کرنے لگے تھے ۔ حذیفہ نے حضرت عثمان سے کہا امیرالمؤمنین ! قبل اس کے کہ یہ امت کتاب الٰہی میں یہودیوں اور نصاریٰ کی طرح اکتلاف کرنے لگے اس کو سنبھال لیجئے یہ سن کر حضرت عثمان نے حجرت حفصہ کو کہلا بھیجا کہ آپ کے پاس قرآن کے جو صحیفے پڑے ہیں وہ ہمارے پاس بھیج دیجئے تاکہ ہم ان کو کتابی صورت میں جمع کریں پھر ہم ان کو واپس کردیں گے ۔محترمہ موصوفہ نے وہ صحیفے ارسال کردئیے۔حضرت عثمانرضی اللہ تعالٰی عنہ نے (۱) زید بن ثابترضی اللہ تعالٰی عنہ،(۲) عبداللہ بن زبیررضی اللہ تعالٰی عنہ،(۳)سعد بن العاصرضی اللہ تعالٰی عنہ،(۴)عبدالرحمان بن حارث بن ہشامرضی اللہ تعالٰی عنہکو مومورکیا کہ وہ صحیفوں سے نقل کرکے قرآن کریم کو کتابی صورت میں جمع کردیں۔ حضرت عثمانرضی اللہ تعالٰی عنہ نے تینوں قریشی صحابہ(حضرت زید بن ثابت کے علاوہ باقی تینوں صحابہ سے...

Rasulullah Sallallahu Alaihi Wasallam Kay Muay Mubarak By Shaykh Mufti Umar Farooq

Read Online (400 K) AN EXTRACT FROM MONTHLY MAGAZINE OF DARUL ULOOM DEOBAND ON SOME DETAILS REGARDING THE BELOVED AND MUBARIK HAIR OF RASOOLULLAH [Sallallahu Alaihi Wasallam]. By Shaykh Mufti Umar Farooq

Namwar Series by M. A. Rahat (Complete 14 Parts)

Namwar Series by M. A. Rahat (Complete 14 Parts) 4shared Download Part 1 4shared Download Part 2 4shared Download Part 3 4shared Download Part 4 4shared Download Part 5 4shared Download Part 6 4shared Download Part 7 4shared Download Part 8 4shared Download Part 9 4shared Download Part 10 4shared Download Part 11 4shared download Part 12 4shared Download Part 13 4shared Download Last Part 14 Namwar Series by M. A. Rahat (Complete 14 Parts) Box Download and Online Read 1 Box Download and Online Read 2 Box Download and Online Read 3 Box Download and Online Read 4 Box Download and Online Read 5 Box Download and Online Read 6 Box Download and Online Read 7 Box Download and Online Read 8 Box Download and Online Read 9 Box Download and Online Read 10 Box Download and Online Read 11 Box Download and Online read 12 Box Download and Online Read 13 Box Download and Online Read (LAST PART) 14 Namwar Series by M. A. Rahat (Complete 14 ...

عشرة ذوالحجہ

 *✨عشرة ذوالحجہ* *✨مختصر تعارف * 🌿 ذوالحجہ کا پہلا عشره نیکیوں اور اجر و ثواب کے اعتبار سے عام دنوں کے مقابلے میں بہت اہم ہے، جس کی فضیلت قرآن کریم اور احادیث سے ثابت ہے۔ قرآن مجید میں الله سبحانه و تعالیٰ نے ان دس دن کی قسم کھائی ہے۔ *🌿 وَالْفَجْرِ وَ لَیَالٍ عَشْرٍ*   "قسم ہے فجر کی اور دس راتوں کی" (الفجر : 2-1)  اکثر مفسرین کے نزدیک *’’لَیَالٍ عَشْرٍ‘‘* سے مراد ذوالحجہ کی ابتدائی دس راتیں ہیں۔ ان دس دنوں میں کئے جانے والے اعمال الله تعالیٰ کو دیگر دنوں کی نسبت زیاده محبوب ہیں۔ 🌿 رسول الله ﷺ نے فرمایا : "کسی بھی دن کیا ہوا عمل الله تعالیٰ کو ان دس دنوں میں کئے ہوئے عمل سے زیاده محبوب نہیں ہے،  انہوں (صحابہ ؓ) نے پوچھا : اے الله کے رسول ﷺ، جہاد فی سبیل الله بھی نہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا : "جہاد فی سبیل الله بھی نہیں ہاں مگر وه شخص جو اپنی جان و مال کے ساتھ نکلے اور کچھ واپس لے کر نہ آئے۔" (سنن ابوداؤد) 🌿 عبدالله ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : "کوئی دن الله تعالیٰ کے ہاں ان دس دنوں سے زیاده عظمت والا نہیں اور نہ ہی کسی دن کا عمل الله تعالیٰ...

دعا؛ اہمیت ، آداب اور قبولیت کی شرطیں

مخلوق جلبِ منفعت اور اپنے دین ودنیا کی اصلاح کے لیے اپنے رب کی محتاج ہے۔ بندہ ان آزمائشوں سے جو اس پر نازل ہوتی ہیں اور جو اسے ہمیشہ کے لیے اپنے رب کا محتاج بناتی ہیں بچ نہیں سکتا ہے۔ اسی وجہ سے اللہ نے اس کے لیے دعا کرنے کو مشروع قرار دیا ہے۔ اور اس کے لیے آداب وشروط اور مستحب اوقات مقرر کر دیے ہیں۔ ان وقتوں میں دعا قبولیت کے زیادہ قریب ہوتی ہے۔ الحمد للہ کفی وسلام علی عبادہ الذین اصطفی أمابعد!معزز برادرانِ  اسلام!انسان جب رحم مادر میں نطفہ کی شکل میں قرار پاتا ہے اسی وقت سے وہ حاجتوں اور ضرورتوں کا غلام بن جاتا ہے اور اس کی ضرورتوں اور حاجتوں کا یہ لامتناہی سلسلہ   اس کی زندگی  کی آخری سانس تک ختم  نہیں ہوتا۔ وہ مرنے کے بعد بھی دوسروں  کا محتاج  ہوتاہے۔ اس  کی محتاجی اور ضرورت مندی  کبھی ختم  نہیں  ہوتی۔  ویسے تو انسان دنیا میں آنے کے بعد قدم قدم پر  اپنے ہی  جیسے  دوسرے  انسانوں کا بھی ضرورت مند ہوتا ہے؛ لیکن  سب سے زیادہ  ضرورت  مندوہ  اپنے خالق  حقیقی  کا ہوتا ہے۔ ...

خیرخواہی وامانت داری

خیرخواہی وامانت داری خیر خواہی دین کی بنیاد ا ور اس کا جوہر ہے۔ دین دراصل خیر خواہی کا نام ہے۔ خیرخواہی اللہ کی، اس کے کتاب کی، اس کے رسول کی، مسلم ائمہ وحکمرانوں کی اور عامۃ المسلمین کی ہوتی ہے۔ پس جب ان تمام کے حق میں بندہ خیرخواہ ہوگا تو اس کا دین کامل ہوگا اور جس میں ان میں سے کسی کی خیرخواہی میں کمی و کوتاہی ہوگی تو اسی قدر اس کے دین میں نقص وکمی ہوگی۔ مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اپنی خیرخواہی میں امانت کو ملحوظ رکھے اور بغیر کسی مداہنت ومجاملت کے حق کو بیان کرے۔ یہی شخص اللہ کے نزدیک امین ہوگا۔ إن الحمد لله، نحمده ونستعينه ونستغفره، ونعوذ بالله من شرور أنفسنا، وسيئات أعمالنا، من يهده الله فلا مضل له، ومن يضلل فلا هادى له، وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له، وأشهد أن محمداً عبده ورسوله۔ أما بعد: فإن خیر الحدیث کتاب اللہ، وخیر الھدی ھدی محمد صلی اللہ علیہ وسلم، وشر الأمور محدثاتھا، وکل محدثۃ بدعۃ، وکل بدعۃ ضلالۃ، وکل ضلالۃ  فی النار۔  وقد قال اللہ تبارک وتعالی فی کتابہ المجید: (إِنَّ اللَّـهَ يَأْمُرُكُمْ أَن تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَىٰ أَهْلِهَا وَإِذَا حَ...

شرک فی التصرف کا بیان

بسم اللہ الرحمن الرحیم اللّٰھم لک الحمد حمدا یوافی نعمک ویکافی مزید کرمک احمد ک بجمیع محا مدک ما علمت و ما لم اعلم علی جمیع نعمک ما علمت منھا وما لم اعلم وعلی کل حالط اللّٰھم صل علی محمد و علی ال محمد و بارک وسلم۔ اما بعد۔ فاعوذ باللہ من الشیطن الرجیم ط بسم اللہ الرحمن الرحیمط قُلِ ادْعُوا الَّذِيْنَ زَعَمْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللہِ۝۰ۚ لَا يَمْلِكُوْنَ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ فِي السَّمٰوٰتِ وَلَا فِي الْاَرْضِ وَمَا لَہُمْ فِيْہِمَا مِنْ شِرْكٍ وَّمَا لَہٗ مِنْہُمْ مِّنْ ظَہِيْرٍ۝۲۲ وَلَا تَنْفَعُ الشَّفَاعَۃُ عِنْدَہٗٓ اِلَّا لِمَنْ اَذِنَ لَہٗ۝۰ۭ حَتّٰٓي اِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوْبِہِمْ قَالُوْا مَاذَا۝۰ۙ قَالَ رَبُّكُمْ۝۰ۭ قَالُوا الْحَقَّ۝۰ۚ وَہُوَالْعَلِيُّ الْكَبِيْرُ۝۲۳ (السبا:۲۲۔۲۳) اے میرے محسن خدا! کل تعریفوں کا مستحق تو ہی ہے، میں تیری وہ تعریف کرتا ہوں جو تیری دی ہوئی نعمتوں کا بدل ہو، ا ور اس سے جو زیادہ دے، اس کا بدلہ ہو، اور پھر میں تیری جن نعمتوں کو جانتا ہوں اور جن کو نہیں جانتا سب ہی کا ا ن خوبیوں کے ساتھ شکریہ ادا کرتا ہوں، جس کا مجھ کو علم ہے اور جن کا نہیں، غرضیکہ ہر ...