Skip to main content

اتباع سنت کا بیان


بسم اللہ الرحمن الرحیم الحمد للہ الذی لم یزل عالماً قدیرا حیاً قیوماً سمیعاً بصیراً و اشھد ان لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ واکبرہ تکبیراً۔ واشھد ان محمداعبدہ ورسولہ و صلی اللہ علی سیدنا محمد ن الذی ارسلہ الی الناس کافۃ بشیراً ونذیرًا۔ و علی الہ و صحبہ وسلم تسلیماً کثیراکثیرا۔ اما بعد! فاعوذ باللہ من الشیطن الرجیم۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللہَ فَاتَّبِعُوْنِيْ يُحْبِبْكُمُ اللہُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ۝۰ۭ وَاللہُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ۝۳۱ قُلْ اَطِيْعُوا اللہَ وَالرَّسُوْلَ۝۰ۚ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّ اللہَ لَا يُحِبُّ الْكٰفِرِيْنَ۝۳۲ (آل عمران:۳۱۔۳۲)
سب تعریف اللہ کے لیے ثابت ہے،جو ہمیشہ سے جاننے والا، قدرت والا، زندہ رکھنے والا، سنبھالنے والا، سننے والا اور دیکھنے والا ہے، اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ ایک اور یکتا ہے، جس کا کوئی شریک نہیں ہے، اور میں اس کی بڑائی بیان کرتا ہوں، اور اس بات کی گواہی دیتا ہوں ، کہ محمد ﷺ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، اللہ تعالیٰ ہمارے آقا محمد ﷺ پر رحمت کا ملہ نازل فرمائے جن کو اللہ تعالیٰ نے تمام لوگوں کی طرف بشیر و نذیر بنا کے بھیجاہے، اور آپﷺ کے آل و اصحاب پر بہت بہت سلام ہو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے ہمارے نبی آپ سب لوگوں سے کہہ دیجیے، کہ اگر تم اللہ کو چاہتے ہو، تو میری پیروی کرو، اللہ تم کو چاہے گا، اور تمہارے گناہوں کو معاف فرمائے گا، وہ بخشنے والا مہربان ہے، لوگوں سے کہہ دیجیے کہ اللہ اور رسول کی فرمانبرداری کرو، اگر ان کی فرمانبرداری سے پھر جاؤ گے، تو کافر ہو جاؤ گے، اور کافروں کو اللہ تعالیٰ دوست نہیں رکھتا۔اس آیت کریمہ سے معلوم ہوا، کہ رسول اللہ ﷺ کی تابعداری تمام لوگوں پر فرض ہے اتباع کے معنی تابعداری کے اور کسی کے موافق عمل کے ہیں، اور سنت کے معنی رسول اللہ ﷺ کے قول و فعل و تقریر کے ہیں اس کے موافق عمل کرنے کو اتباع سنت کہتے ہیں، آپﷺ کے حکموں اوراعمال کی تابعداری فرض ہے آپﷺ کی فرمانبرداری اللہ کی فرمانبرداری ہے، آپﷺ کی پیروی کرنے والے سے خدا بہت خوش ہوتا ہے ا ور اپنا پیارا بنا لیتا ہے، جیسا کہ آیت مذکورہ سے معلوم ہوا، کہ تم اگر خدا کو محبوب بنانا چاہتے ہو، تو اس کے رسول کی پیروی کرو، تو اللہ تعالیٰ تم کو محبوب بنا لے گا، اور اگر آپﷺ کی اطاعت سے روگردانی کرو گے، تو اللہ تعالیٰ نافرمانوں کو دوست نہیں بناتا، رسول کی باتوں کو لو، اور جس چیز کاحکم دیں کرو، اور جس بات سے منع کریں، اس سے باز رہو، جیسا کہ قرآن مجید میں ہے:
وَمَآ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْہُ۝۰ۤ وَمَا نَہٰىكُمْ عَنْہُ فَانْتَہُوْا۝۰ۚ (الحشر:۷)
ہمارے رسول جو حکم تمہیں دیں، اس کو مان لو، اور جس سے منع کریں، اس سے باز رہو۔
اور دوسری جگہ فرمایا:
اِنَّ الَّذِيْنَ يَكْفُرُوْنَ بِاللہِ وَرُسُلِہٖ وَيُرِيْدُوْنَ اَنْ يُّفَرِّقُوْا بَيْنَ اللہِ وَرُسُلِہٖ وَيَقُوْلُوْنَ نُؤْمِنُ بِبَعْضٍ وَّنَكْفُرُ بِبَعْضٍ۝۰ۙ وَّيُرِيْدُوْنَ اَنْ يَّتَّخِذُوْا بَيْنَ ذٰلِكَ سَبِيْلًا۝۱۵۰ۙ اُولٰۗىِٕكَ ہُمُ الْكٰفِرُوْنَ حَقًّا۝۰ۚ وَاَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِيْنَ عَذَابًا مُّہِيْنًا۝۱۵۱ (النساء:۱۵۰۔۱۵۱)
بے شک جو لوگ اللہ اور اس کے رسولوں کے حکموں کے درمیان فرق کرنا چاہتے ہیں، اور یہ کہتے ہیں کہ ہم بعض کو مانیں گے، اور بعض کو نہیں مانیں گے اور وہ ان دونوں کے بیچ کا راستہ چاہتے ہیں یہی لوگ پکے کافر ہیں۔
ایک اور جگہ فرمایا:
فَلْيَحْذَرِ الَّذِيْنَ يُخَالِفُوْنَ عَنْ اَمْرِہٖٓ اَنْ تُصِيْبَہُمْ فِتْنَۃٌ اَوْ يُصِيْبَہُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ۔ (النور:۶۳)
جو لوگ اللہ کے رسول کے حکم کی مخالفت کرتے ہیں، ان کوڈرنا چاہیے،کہ کوئی درد ناک مصیبت یا عذاب ان کو نہ پہنچ جائے۔
اس قسم کی بہت سی آیتیں ہیں، جن میں رسول اللہ ﷺ کی فرمانبرداری اور اطاعت کا حکم دیا گیا ہے، اوررسول اللہ ﷺ کی تابعداری ہی اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری ہے، کیونکہ رسول اللہ ﷺ وہی کہتے اور کرتے تھے، جو خدا کاحکم ہوتا تھا، بلا خدا کے حکم وہ بولتے ہی نہیں اور نہ کچھ کرتے تھے، فرمایا اللہ تعالیٰ نے:
وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْہَوٰى۝۳ۭ اِنْ ہُوَاِلَّا وَحْيٌ يُّوْحٰى۝۴ۙ (النجم:۳۔۴)
وہ اپنی خواہش سے نہیں بولتے، مگر ان کا ارشاد صرف وہی ہے، جو ان پر اترتا ہے۔
لہٰذا رسول اللہ ﷺ کی فرمانبرداری و پیروی ہم سب پر فرض ہے، بلا رسول اللہ ﷺ کی فرمانبرداری و پیروی کے نجات نہیں ہے، حدیثوں میں بھی اتباع سنت کی بڑی اہمیت آئی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
لا یؤمن احدکم حتی یکون ھواہ تبعا لما جئت بہ۔ (رواہ فی شرح السنۃ)
کہ تم میں کوئی اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا، جب تک کہ اس کی خواہشات میری لائی ہوئی شریعت کے تابع نہ ہو جائیں۔
یعنی ہر کام میں سنت کی پیروی ضروری ہے، اور اسی میں ہم سب مسلمانوں کا امتحان بھی ہے جو لوگ اس میں پورے اتریں گے، وہی پورے مسلمان ہیں، اورجو لوگ اتباع سنت میں کچے ہوں گے، وہ پکے مسلمان نہیں ہیں۔قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَمَا جَعَلْنَا الْقِبْلَۃَ الَّتِىْ كُنْتَ عَلَيْہَآ اِلَّا لِنَعْلَمَ مَنْ يَّتَّبِــعُ الرَّسُوْلَ مِمَّنْ يَّنْقَلِبُ عَلٰي عَقِبَيْہِ۝۰ۭ وَاِنْ كَانَتْ لَكَبِيْرَۃً اِلَّا عَلَي الَّذِيْنَ ھَدَى اللہُ۝۰ۭ وَمَا كَانَ اللہُ لِـيُضِيْعَ اِيْمَانَكُمْ۝۰ۭ اِنَّ اللہَ بِالنَّاسِ لَرَءُوْفٌ رَّحِيْمٌ۝۱۴۳ (البقرۃ:۱۴۳)
جس قبلہ پر تم پہلے سے تھے، اسے ہم نے صرف اس لیے مقرر کیا تھا، کہ ہم جان لیں، کہ رسول کا سچا تابعدار کون ہے اورکون ہے جو اپنی ایڑیوں پر پھر جاتا ہے، گویہ کام مشکل ہے مگر جنہیں خدا نے ہدایت دی ہے(ان پر کوئی مشکل نہیں) اللہ تمہارے ایمان ضائع نہ کرے گا، اللہ تعالیٰ لوگوں کے ساتھ شفقت اور مہربانی کرنے والاہے۔
یعنی تحویل قبلہ امتحان کے لیے ہے، یعنی پہلے بیت المقدس کو قبلہ مقرر کرکے پھر بیت اللہ کی طرف متوجہ کرنا اسی لیے ہے، تاکہ معلوم ہو جائے، کہ رسول کا سچا تابعدارکون ہے، جنہوں نے نبی ﷺ کی تابعداری نہیں کی اور نہ بیت اللہ کی طرف نماز پڑھی، وہ سچے مسلمان نہیں ہیں، رسول اللہ ﷺ کی نافرمانی سے بڑی سخت مصیبت آتی ہے، جیسا کہ جنگ احد میں رسول اللہ ﷺ کی نافرمانی سے شکست ہوگئی اور بہت سے لوگ شہید ہوگئے
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَلَقَدْ صَدَقَكُمُ اللہُ وَعْدَہٗٓ اِذْ تَحُسُّوْنَھُمْ بِـاِذْنِہٖ۝۰ۚ حَتّٰٓي اِذَا فَشِلْتُمْ وَتَنَازَعْتُمْ فِي الْاَمْرِ وَعَصَيْتُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَآ اَرٰىكُمْ مَّا تُحِبُّوْنَ۝۰ۭ مِنْكُمْ مَّنْ يُّرِيْدُ الدُّنْيَا وَمِنْكُمْ مَّنْ يُّرِيْدُ الْاٰخِرَۃَ۝۰ۚ ثُمَّ صَرَفَكُمْ عَنْھُمْ لِـيَبْتَلِيَكُمْ۝۰ۚ وَلَقَدْ عَفَا عَنْكُمْ۝۰ۭ وَاللہُ ذُوْ فَضْلٍ عَلَي الْمُؤْمِنِيْنَ۝۱۵۲ ۞ اِذْ تُصْعِدُوْنَ وَلَا تَلْوٗنَ عَلٰٓي اَحَدٍ وَّالرَّسُوْلُ يَدْعُوْكُمْ فِيْٓ اُخْرٰىكُمْ فَاَثَابَكُمْ غَمًّۢا بِغَمٍّ لِّكَيْلَا تَحْزَنُوْا عَلٰي مَا فَاتَكُمْ وَلَا مَآ اَصَابَكُمْ۝۰ۭ وَاللہُ خَبِيْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ (آل عمران:۱۵۲۔۱۵۳)
اللہ تعالیٰ نے تم سے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا کہ تم اس کے حکم سے انہیں اپنے ہاتھوں سے کاٹنے لگے، یہاں تک کہ تم بزدل ہو گئے، اور کام میں جھگڑنے لگے، اور نافرمانی کرنے لگے اس کے بعد کہ اس نے تمہاری چاہت کی چیز تمہیں دکھا دی تم میںسے بعض دنیا چاہتے تھے، اور بعض کا ارادہ آخرت کا تھا، پھر تمہیں ان سے پھیر دیا، تا کہ تمہیں آزمائے، اور یقینا اس نے تمہاری لغزش سے درگذر فرمایا: ایمان والوں پر اللہ بڑا فضل والا ہے، جب کہ تم چڑھے چلے جا رہے تھے، اور کسی کی طرف توجہ تک نہ کرتے تھے، اور اللہ کے رسول تمہیں تمہارے پیچھے سے آوازیں دے رہے تھے پس تمہیں غم پر غم پہنچا، تاکہ تم نہ فوت شدہ چیز پر غمگین ہو اور نہ ملی ہوئی چیز پر اداس ہو، اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال سے خبردار ہے۔
اس آیت کریمہ میں جنگ احد کی طرف اشارہ ہے، کہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی فتحیابی کا وعدہ کیا تھا جو پورا کر کے دکھایا، لیکن بعض لوگوں نے رسول کی نافرمانی کی، کہ آپﷺ نے مورچہ والوں سے کہا تھا، کہ تم لوگ یہیں پر جمے رہنا، خواہ ہماری فتح ہو یا نہ ہو، لیکن فتح ہونے کے بعد مورچہ والوں نے مورچہ چھوڑ دیا، اور مال غنیمت کے لینے میں مشغول ہوگئے، مخالفین نے دوبارہ حملہ کیا، جس سے مسلمانوں کی فتح مندی کے بعد شکست ہوگئی۔ یہ سب کچھ رسول اللہ ﷺ کی نافرمانی سے ہوا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَمَنْ يُّشَاقِقِ الرَّسُوْلَ مِنْۢ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَہُ الْہُدٰى وَيَتَّبِـعْ غَيْرَ سَبِيْلِ الْمُؤْمِنِيْنَ نُوَلِّہٖ مَا تَوَلّٰى وَنُصْلِہٖ جَہَنَّمَ۝۰ۭ وَسَاۗءَتْ مَصِيْرًا۔ (النساء:۱۱۵)
جو شخص باوجود راہ ہدایت کی وضاحت ہوجانے کے بعد بھی رسول کا خلاف کرے، اور تمام مومنوں کی راہ چھوڑ کر چلے ہم اسے ادھر ہی متوجہ کر دیں گے جدھر وہ خود متوجہ ہوا ہے اور اسے دوزخ میں ڈال دیں گے وہ بہت ہی بری جگہ ہے پہنچنے کی۔
یعنی جو غیر شرعی طریق پر چلے ، شرع ایک طرف ہو، اور اس کی راہ ایک طرف ہو، فرمان رسول کچھ ہو، اور اس کا منتہائے نظر کچھ اور ہو، حالانکہ اس پرحق کھل چکا ہو، دلیل دیکھ لی ہو، پھر بھی مخالفت رسول کر کے مسلمانوں کی صاف راہ سے ہٹ جائے، تو ہم بھی اسی ٹیڑھی اور بری راہ پر اسے لگا دیتے ہیں، اسے پھر وہی بری راہ اچھی معلوم ہونے لگتی ہے، یہاں تک کہ بیچوں بیچ جہنم میں جا پہنچتا ہے، مومنوں کی راہ کے علاوہ راہ ڈھونڈھنا دراصل رسول سے شقاق اور خلاف کرنا ہے، ایسے لوگ قیامت کے دن بہت افسوس کریں گے، اور پچھتائیں گے
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَيَوْمَ يَعَضُّ الظَّالِمُ عَلٰي يَدَيْہِ يَقُوْلُ يٰلَيْتَنِي اتَّخَذْتُ مَعَ الرَّسُوْلِ سَبِيْلًا۝۲۷ يٰوَيْلَتٰى لَيْتَنِيْ لَمْ اَتَّخِذْ فُلَانًا خَلِيْلًا۝۲۸ لَقَدْ اَضَلَّنِيْ عَنِ الذِّكْرِ بَعْدَ اِذْ جَاۗءَنِيْ۝۰ۭ وَكَانَ الشَّيْطٰنُ لِلْاِنْسَانِ خَذُوْلًا۝۲۹
اس دن ستم گر شخص اپنے ہاتھوں کو چبا چبا کرکہے گا، ہائے کاش کہ میں نے رسول کی راہ لی ہوتی، ہائے افسوس کاش کہ میں نے فلاں کو دوست نہ بنایا ہوتا، اس نے تو مجھے اس کے بعد گمراہ کردیا، کہ نصیحت میرے پاس آپہنچی تھی، شیطان تو انسان کو وقت پر دغا دینے والا ہے۔ (الفرقان:۲۷۔۲۹)
یعنی قیامت کے روز رسول کا نافرمان کف افسوس ملتا ہوا کہے گا، کہ کاش میں رسول کے راستے پر چلتا اور فلاں فلاں کو دوست نہ بناتا، ان ایرے غیروں نے نصیحت پہنچنے کے بعد مجھے گمراہ کر دیا، لیکن اس وقت کے افسوس کرنے سے کچھ نتیجہ نہیں نکلے گا، جہنمی جہنم میں چلے جانے کے بعد بھی یہی آرزو کریں گے۔
يَوْمَ تُقَلَّبُ وُجُوْہُہُمْ فِي النَّارِ يَقُوْلُوْنَ يٰلَيْتَنَآ اَطَعْنَا اللہَ وَاَطَعْنَا الرَّسُوْلَا۝۶۶ وَقَالُوْا رَبَّنَآ اِنَّآ اَطَعْنَا سَادَتَنَا وَكُبَرَاۗءَنَا فَاَضَلُّوْنَا السَّبِيْلَا۝۶۷ رَبَّنَآ اٰتِہِمْ ضِعْفَيْنِ مِنَ الْعَذَابِ وَالْعَنْہُمْ لَعْنًا كَبِيْرًا۔ (احزاب:۶۶ تا ۶۸)
اس دن ان کے چہرے آگ میں الٹ پلٹ کیے جائیں گے حسرت اور افسوس سے کہیں گے کہ کاش ہم اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے، اور کہیں گے اے ہمارے رب! ہم نے اپنے سرداروں اور بزرگوں کی بات مانی، جنہوں نے ہمیں راہ راست سے بھٹکا دیا، پروردگار تو انہیں دگنا عذاب دے، اور ان پر بہت بڑی لعنت نازل فرما۔
اس قسم کی اور بہت سی آیتیں ہیں، جن میں رسول کی نافرمانی کی وجہ سے سخت سزا کی دھمکی دی گئی ہے، اللہ تعالیٰ ہم سب مسلمانوں کو رسول اللہ ﷺ کی اطاعت و فرمانبرداری کی توفیق عطا فرمائے، اور ہم سب مسلمانوں کا خاتمہ آپ ﷺ کے طریقے پر کرے، نبی کریم ﷺ کی سنت پر چلنے والے صحابہ کرام اور اسلاف عظام کی مبارک جماعت میں ہمارا شمار کرے، آمین ثم آمین۔

Comments

Popular posts from this blog

Yusufzai (Pashtun tribe)

The  Yūsufzai  (also  Youssofzay ,  Yousefzai ,  Yousafzai ,  Esapzey ,  Yousufi , or  Yūsufi ) (Pashto:  يوسفزی ,Persian and Urdu:  یوسف زئی ) is one of the largest Pashtun (Afghans) tribes. The majority of the Yusufzai tribe reside in parts of Western Afghanistan, Khyber Pakhtunkhwa and Provincially Administered Tribal Areas near the Afghan-Pakistan border. They are the predominant population in the districts of Konar, Ningarhar, Mardan District, Dir, Swat,Malakand, Swabi, Buner, Shangla, Haripur District [Khalabat Town Ship and Tarbela] and in Mansehra and Battagram. There is also a Yusufzai clan of Dehwar tribe in the Mastung district of Balochistan who speak Persian with some mixture of Birahvi words. The descendants of Yusuf inhabit Konar, Jalalabad, Swat, Upper Dir, Lower Dir, Malakand Swabi and Mardan...

عہد عثمان میں تدوین قرآن

امام بخاری نے صحیح بخاری میں اپنی سند کے ساتھ ابن شھاب سے روایت کیا ہے کہ انس بن مالک نے انہیں بتایا کہ حذیفہ بن یمان حضرت عثمان کی خدمت میں حاضر ہوئے موسوف نے رمینیہ اور آذربیجان کی جنگ میں شرکت کی تھی وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ لوگ تلاوت قرآن میں بہت اختلاف کرنے لگے تھے ۔ حذیفہ نے حضرت عثمان سے کہا امیرالمؤمنین ! قبل اس کے کہ یہ امت کتاب الٰہی میں یہودیوں اور نصاریٰ کی طرح اکتلاف کرنے لگے اس کو سنبھال لیجئے یہ سن کر حضرت عثمان نے حجرت حفصہ کو کہلا بھیجا کہ آپ کے پاس قرآن کے جو صحیفے پڑے ہیں وہ ہمارے پاس بھیج دیجئے تاکہ ہم ان کو کتابی صورت میں جمع کریں پھر ہم ان کو واپس کردیں گے ۔محترمہ موصوفہ نے وہ صحیفے ارسال کردئیے۔حضرت عثمانرضی اللہ تعالٰی عنہ نے (۱) زید بن ثابترضی اللہ تعالٰی عنہ،(۲) عبداللہ بن زبیررضی اللہ تعالٰی عنہ،(۳)سعد بن العاصرضی اللہ تعالٰی عنہ،(۴)عبدالرحمان بن حارث بن ہشامرضی اللہ تعالٰی عنہکو مومورکیا کہ وہ صحیفوں سے نقل کرکے قرآن کریم کو کتابی صورت میں جمع کردیں۔ حضرت عثمانرضی اللہ تعالٰی عنہ نے تینوں قریشی صحابہ(حضرت زید بن ثابت کے علاوہ باقی تینوں صحابہ سے...

کتاب اللہ کی کون سی آیت سب سے عظیم ہے؟

آیۃ الکرسی کی فضیلت !!! آیۃ الکرسی کی کیااھمیت ہے ؟ اور کیا اس آیت کی عظمت پرکوئ دلیل وارد ہے ؟ الحمد للہ ابن کثیررحمہ اللہ تعالی سورۃ البقرۃ کی آیۃ الکرسی کی تفسیرکرتےہو‏ۓ کہتے ہیں : یہ آیۃ الکرسی ہے جس کی فضیلت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح حدیث میں ہے کہ کتاب اللہ میں یہ آیت سب سے افضل آیت ہے ۔ ابی بن کعب رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نےان سے سوال کیا کہ کتاب اللہ میں سب سے عظیم آیت کونسی ہے ؟ تو وہ کہنے لگے کہ اللہ اور اس کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم کوہی زیادہ علم ہے ، یہ سوال کئ باردھرایا اور پھر فرمانےلگے کہ وہ آیت الکرسی ہے ۔ فرمانے لگے اے ابوالمنذر علم مبارک ہو اس ذات کی قسم جس کےھاتھ میں میری جان ہے اس آیت کی زبان اور ہونٹ ہونگے عرش کے پاۓ کے ہاں اللہ تعالی کی پاکی بیان کررہی ہوگی ۔ اور غالبا مسلم نے والذی نفسی سے آگے والے الفاظ نہیں ہیں ۔ عبداللہ بن ابی بن کعب رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ ان کے والد کے پاس کھجوریں رکھنے کی جگہ تھی ، عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں میرے والد اس کاخیال رکھتے تھے تو...

عہد رسالت میں کتابت قرآن

سرورکائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے مندرجہ ذیل صحابہ کو کاتب وحی مقرر فرمایا تھا: حضرت بوبکررضی اللہ تعالٰی عنہ ، عمرفاروقرضی اللہ تعالٰی عنہ، عثمانرضی اللہ تعالٰی عنہ، علیرضی اللہ تعالٰی عنہ، معاویہرضی اللہ تعالٰی عنہ ، زید بن ثابت رضی اللہ تعالٰی عنہ،ابی بن کعبرضی اللہ تعالٰی عنہ، خالد بن ولیدرضی اللہ تعالٰی عنہ،ثابت بن قیسرضی اللہ تعالٰی عنہ،۔ قرآن کا جو حصہ نازل ہوتا آپ صحابہ کو مامور فرماتے کہ اسے تحریر کرلیں یہاں تک کہ کتابت کے پہلو بہ پہلو قرآن کریم کو سینوں میں بھی محفوظ کرلیا گیا۔(مشہور مستشرق بلاشیر نے کاتبین وحی صحابہ کی تعداد چالیس بتائ ہے دیگر مستشرقین مثلاً شفالی بہل اور کازانوفاکا زاویہ نگاہ بھی یہی ہے مؤخر الذکر نے اس ضمن میں طبقا ابن سعد، طبری ، نووی اور سیرت حلبی پر اعتماد کیا ہے ۔) محدث حاکم نےمستدرک میں زید بن ثابت سے بخاری ومسلم کی شرط کے مطابق روایت کیا ہے کہ زید بن ثابت نے کہا ہم عہد رسالت میں ''رقاع''(ٹکڑوں)سے قرآن جمع کیا کرتے تھے ۔ (الاتقان،ج۱ص،۹۹نیز البرہان ،ج۱ص۲۳۷) مذکورہ صدر حدیث میں ''رقاع ''کا جو لفظ وا...

شرک فی التصرف کا بیان

بسم اللہ الرحمن الرحیم اللّٰھم لک الحمد حمدا یوافی نعمک ویکافی مزید کرمک احمد ک بجمیع محا مدک ما علمت و ما لم اعلم علی جمیع نعمک ما علمت منھا وما لم اعلم وعلی کل حالط اللّٰھم صل علی محمد و علی ال محمد و بارک وسلم۔ اما بعد۔ فاعوذ باللہ من الشیطن الرجیم ط بسم اللہ الرحمن الرحیمط قُلِ ادْعُوا الَّذِيْنَ زَعَمْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللہِ۝۰ۚ لَا يَمْلِكُوْنَ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ فِي السَّمٰوٰتِ وَلَا فِي الْاَرْضِ وَمَا لَہُمْ فِيْہِمَا مِنْ شِرْكٍ وَّمَا لَہٗ مِنْہُمْ مِّنْ ظَہِيْرٍ۝۲۲ وَلَا تَنْفَعُ الشَّفَاعَۃُ عِنْدَہٗٓ اِلَّا لِمَنْ اَذِنَ لَہٗ۝۰ۭ حَتّٰٓي اِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوْبِہِمْ قَالُوْا مَاذَا۝۰ۙ قَالَ رَبُّكُمْ۝۰ۭ قَالُوا الْحَقَّ۝۰ۚ وَہُوَالْعَلِيُّ الْكَبِيْرُ۝۲۳ (السبا:۲۲۔۲۳) اے میرے محسن خدا! کل تعریفوں کا مستحق تو ہی ہے، میں تیری وہ تعریف کرتا ہوں جو تیری دی ہوئی نعمتوں کا بدل ہو، ا ور اس سے جو زیادہ دے، اس کا بدلہ ہو، اور پھر میں تیری جن نعمتوں کو جانتا ہوں اور جن کو نہیں جانتا سب ہی کا ا ن خوبیوں کے ساتھ شکریہ ادا کرتا ہوں، جس کا مجھ کو علم ہے اور جن کا نہیں، غرضیکہ ہر ...

حکایت

حضرت شیخ الاسلام امام غزالی نے احیاء العلوم میں ایک حاسد آدمی کی یہ حکایت فرمائی ہے کہ ایک شخص بادشاہ کے سامنے کھڑا ہوکر یہ کہا کرتا تھا کہ نیک لوگوں کے ساتھ نیکی کرو اور محسن کے احسان کا بدلہ دو کیوںکہ برائی کرنے والے کی برائی تمہاری طرف سے خود کفایت کرے گی۔ یہ شخص بادشاہ کے سامنے یہ نصیحت کیا کرتا تھا جس سے اس کی بڑی عزت تھی۔ اس کی عزت، عظمت اور مرتبہ کو دیکھ کر ایک شخص کو حسد پیدا ہوگیا۔ اس نے بادشاہ سے شکایت کی کہ یہ شخص حضور کے سامنے کھڑا ہوکر گندہ دہن بتاتا ہے۔ بادشاہ نے کہا اس کی تصدیق کیسے ہو؟ حاسد نے کہا جب وہ آپ کے پاس آئے تو آپ اسے اپنے قریب بلا لیجیے، جب وہ آپ کے بالکل قریب آجائے گا تو اپنی ناک بند کرلے گا، تاکہ آپ کے منہ کی بدبو نہ آنے پائے۔ بادشاہ نے کہا بہت اچھا، کل امتحان کریں گے۔ ادھر اس حاسد نے بادشاہ سے یہ کہا، ادھر اس نے جاکر اس ناصح و نیک آدمی کی دعوت کرکے ایسا کھانا کھلایا جس میں لہسن بہت سا تھا۔ یہ کھانا کھا کر فارغ ہی ہوا تھا کہ دربار کا وقت آگیا۔ بدستور سابق بادشاہ کے سامنے کھڑے ہوکر اس نے وہی جملہ کہا جو کہا کرتا تھا۔ بادشاہ نے اس کو اپنے پاس بلانے کا ...

Rasulullah Sallallahu Alaihi Wasallam Kay Muay Mubarak By Shaykh Mufti Umar Farooq

Read Online (400 K) AN EXTRACT FROM MONTHLY MAGAZINE OF DARUL ULOOM DEOBAND ON SOME DETAILS REGARDING THE BELOVED AND MUBARIK HAIR OF RASOOLULLAH [Sallallahu Alaihi Wasallam]. By Shaykh Mufti Umar Farooq

شرک کی مذمّت

بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ الحمدللہ الذی لم یتخذ ولداو لم یکن لہ شریک فی الملک ولم یکن لہ ولی من الذل وکبرہ تکبیرا۔ ونشھد ان لاالہ ا لااللہ وحدہ لا شریک لہ ونشھد ان محمداعبدہ ورسولہ صلی اللہ علیہ وعلی اٰلہ واصحابہ وسلم تسلیما کثیرا۔ اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم ط بسم اللہ الرحمن الرحیم بِہٖ۝۰ۭ وَمَنْ يُّشْرِكْ بِاللہِ فَكَاَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَاۗءِ فَتَخْطَفُہُ الطَّيْرُ اَوْ تَہْوِيْ بِہِ الرِّيْحُ فِيْ مَكَانٍ سَحِيْقٍ (الحج:۳۱) سب تعریف اللہ ہی کے لیے ہے، جو نہ اولاد رکھتا ہے، اور اپنی سلطنت میں کسی کو شریک بھی نہیں کرتا، اور نہ وہ ایسا حقیر ہے، کہ اس کا کوئی حمائتی ہو، تم اس کی بڑائی بیان کرو، اور ہم اس بات کی شہادت دیتے ہیں، کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے، وہ ایک ا کیلا ہے، اس کے ساتھ کوئی شریک نہیں ہے، اور ہم اس بات کی شہادت دیتے ہیں، کہ محمدﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں، اللہ تعالیٰ ان پر اور ان کے اصحابؓ پر بہت بہت درود بھیجے حمدو صلوٰۃ کے بعد عرض ہے ، کہ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں یہ فرما رہاہے، کہ اللہ کے ساتھ شرک کرنے والا گویا آسمان سے گر پڑا، تو اب اسے یا تو پرند...

شفاعت ِ رسول ﷺ

بسم اللہ الرحمن الرحیم ط الحمد للّٰہ الملک الحی الذی لاینام ولا ینبغی لہ ان ینام ۔ یرفع القسط ویخفضہ یرفع الیہ عمل اللّیل قبل النھار وعمل النھار قبل اللّیل۔ وھوالذی یتوفاکم باللّیل ویعلم ما جرحتم بالنھار ثم یبعثکم فیہ لیقضی اجل مسمی ثم الیہ مرجعکم ثم ینبئکم بما کنتم تعملون۔ اشھدان لاالہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ علیہ توکلت والیہ انیب۔ ا شھدان محمدا عبدہ ورسولہ اللہ علیہ وعلی الہ واصحابہ وسلم۔ اما بعد! فاعوذ باللہ من الشیطن الرجیم ، بسم اللہ الرحمن الرحیم اَقِـمِ الصَّلٰوۃَ لِدُلُوْكِ الشَّمْسِ اِلٰى غَسَقِ الَّيْلِ وَقُرْاٰنَ الْفَجْرِ۝۰ۭ اِنَّ قُرْاٰنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْہُوْدًا۝۷۸ وَمِنَ الَّيْلِ فَتَہَجَّدْ بِہٖ نَافِلَۃً لَّكَ۝۰ۤۖ عَسٰٓي اَنْ يَّبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا۝۷۹ (بنی اسرائیل:۷۸۔۷۹) نماز کو قائم ر کھیے آفتاب کے ڈھلنے سے لے کر رات کی تاریکی تک اور فجر کے وقت قرآن پڑھیے یقیناً فجر کے وقت قرآن پڑھنے پر فرشتے حاضر ہوتے ہیں، رات کے کچھ حصے میں تہجد کی نماز میں قرآن کی تلاوت کیجیے یہ زائد عبادت آپ کے لیے ہے، عنقریب آپ کا رب آپ کو مقام محمود ...