Skip to main content

فرعونیوں پر عذاب



فرعون بڑا سرکش تھا۔ باوجود ربوبیت کے دعویٰ کے بنی اسرائیل کے بچوں کو ذبح کراتا تھا اور بنی اسرائیل پر حد سے زیادہ ظلم کرتا رہا تو اللہ تعالیٰ نے اُسے سمجھانے کے لیے موسیٰ علیہ السلام کو نبی بنا کر بھیجا۔ لیکن اس نے ایمان لانے سے انکار کردیا اور باقاعدہ اُس سے مقابلہ کیا۔ مناظرہ کرایا۔ اُس نے معجزات طلب کیے۔ اتمامِ حجت کے لیے فرعون اور اس کی قوم کو ید بیضا اور عصا کے علاوہ اور بھی نشانیاں دکھائی گئیں اور وہ یہ نشانیاں تھیں (۱) سنین قحط سالیاں (۲) نقص ثمرات، پیداوار میں کمی (۳) طوفان سیلاب (۴) جراد ٹڈی (۵) قمل جوئیں (۶) ضفادع مینڈک (۷) دم خون۔
تفسیر معالم التنزیل اور تاریخ ابن الاثیر میں ہے کہ جب قوم فرعون نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی اطاعت سے انکار کیا اور سارے معجزات کو جادو بتایا، قِسم قِسم کے ظلم و ستم بنی اسرائیل پر کرنے لگے تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرعون کی قوم کے لیے جناب باری میں دُعا کی۔ حق تعالیٰ نے قومِ فرعون پر پانی کا عذاب نازل کیا۔ کالا ابر آیا اور سات دن تک برابر مینہ برستا رہا۔ قبطیوں کے گھروں میں پانی جمع ہوا، قومِ فرعون کے گھر پانی کے چشمے بنے۔ ہر مرد عورت کے گلے گلے تک گھروں میں پانی کھڑا ہوگیا۔ جو شخص ذرا جھکا فوراً ڈوب گیا، جو سیدھا کھڑا رہا، وہ زندہ رہا۔ سارے کھیت اور باغ غرق ہوگئے۔ ایک ہفتہ تک برابر یہی عذاب ہوتا رہا اگرچہ بنی اسرائیل کے اور قبطیوں کے گھر محلہ میں برابر دیوار سے دیوار ملی ہوئی تھیں، لیکن یہ قدرت تھی کہ برابر کا گھر تو پانی سے بھرا ہوا ہے، خوب زور سے بارش ہورہی ہے، اندھیرا ہورہا ہے اور اس کے پاس ہی مسلمان اسرائیلی کا مکان بدستور سوکھا پڑا ہے، دھوپ نکل رہی ہے ، ایک قطرہ اس طوفان کے پانی کا اس گھر میں موجود نہیں ہے۔ ساتویں دن قبطیوں کے عذر و معذرت کرنے کے بعد یہ عذاب دفع ہوگیا۔ مگر فرعونی پھر سرکشی کرنے لگے۔
ایک مہینے کے بعد دوسرا عذاب ٹڈیوں کا نازل ہوا۔ ٹڈیوں نے قبطیوں کے باغات، کھیت ہر قسم کی ہری چیز چاٹ لی۔ اُن کے کھیتوں کے پاس ہی بنی اسرائیل کے کھیت اور باغ تھے، وہاں کسی ایک ٹڈی کا نام بھی نہ تھا۔ اگر کسی کافر نے کچھ ٹڈیاں اپنے کھیت میں سے پکڑ کر مسلمان کے کھیت میں ڈال دیں تو وہ ٹڈیاں فوراً وہاں سے اُڑ کر پھر کسی کافر کے کھیت میں جاپڑیں۔ اگر کوئی درخت مسلمان اور کافر کی شرکت میں تھا تو ٹڈیوں نے اس درخت کو آدھا کھایا اور آدھا چھوڑ دیا۔ اس واقعہ کو دیکھ کر کافر نے کہا کہ اے مسلمان جو حصہ ٹڈیوں نے کھا لیا ہے وہ تیرا ہے اور یہ جو سالم ہے وہ میرا ہے ۔ یہ کہتے ہی فوراً ٹڈیوں نے اس باقی آدھے کو بھی کھالیا۔ اور وہ پہلا آدھا کھایا ہوا پھر ہرا ہوگیا۔ سات دن اور رات تک یہ عذاب رہا۔ جب قبطی بہت روئے، اقرار کیا کہ اب ہم ضرور مسلمان ہوجائیں گے، اے موسیٰ ؑ! دُعا کرو کہ خدا تعالیٰ اس عذاب کو دفع کردے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے دُعا فرمائی، وہ ٹڈیاں فوراً غائب ہوگئیں۔
مگر پھر انھوں نے وہی کفر و سرکشی شروع کردی۔ اب پھر حضرت موسیٰ ؑ نے بددُعا کی تو چیچڑیاں نازل ہوئیں، جو تمام قبطیوں کے خون کو چوس گئیں۔ سارے جسم میں، آنکھوں کی پلکوں میں لپٹ گئیں۔ لیکن کوئی چیچڑی مسلمان کے پاس نہیں جاتی تھی۔ اہلِ ایمان بالکل امن میں تھے۔ اس کے بعد مینڈک نازل ہوئے جو قبطیوں کے گھروں میں گھس گئے۔ ہر طرح کی کھانے پینے کی چیزوں میں گرجاتے اور خراب کردیتے۔ مگر ایمان والے قبطیوں کے پاس بیٹھے رہتے۔ انھیں مطلق نہ ستاتے، نہ اُن کے کھانے وانے میں گرتے۔ نہ گھروں میں کوئی مینڈک نظر آتا۔ یہ لوگ رحمت ِ الٰہی کے اور ایمان و امن کے گنبد میں آرام سے بیٹھے رہتے۔
پھر اس کے بعد قبطیوں میں خون کا عذاب نازل ہوا۔ اور دریائے نیل جس کا اہلِ مصر پانی پیتے تھے وہ سارے کا سارا قبطیوں کے لیے نہایت بدبودار کالا خون ہوگیا۔ سارے کنویں خون کے ہوگئے۔ قبطیوں کے پانی کے برتن اور مٹکے نرے خون سے بھر گئے۔ اسی پانی کو مسلمان پیتے اور بھرتے ہیں۔ اُن کے لیے وہ پانی نہایت شیریں صاف اور سفید ہے۔ دو خاصیتیں ایک پانی میں۔ اگر کسی کنویں پر مسلمان اور کافر پانی بھرتے تھے تو کافر کے ڈول میں کالا خون اور مسلمان کے ڈول میں صاف پانی آتا تھا۔ ایک دن فرعون نے ایک قبطی کافر اور ایک مسلمان اسرائیلی کو اپنے سامنے دربار میں بلایا اور ایک برتن میں پانی بھروایا اور حکم دیا کہ دونوں اس میں سے اپنے اپنے چلّو میں اُٹھا کر پیو۔ جو چلّو مسلمان اُٹھاتا، وہ پانی تھا اور جو کافر اُٹھاتا وہ خون تھا۔ پھر فرعون نے حکم دیا کہ تم دونوں اسی برتن سے منہ لگا کر پیو۔ کافر و مسلمان دونوں اس برتن پر جھک گئے۔ ایک طرف پانی، دوسری طرف خون ہے۔ جو پانی کافر اپنے منہ میں کھینچ رہا ہے وہ خون ہے اور جو مسلمان کی طرف کھنچ رہا ہے وہ شیریں اور خوشبودار پانی ہے۔ پھر فرعون نے حکم دیا کہ اے اسرائیلی تو اپنے منہ میں پانی بھر کر وہ کلی قبطی کے منہ میں ڈال۔ مسلمان نے اپنے منہ میں پانی لیا پھر منہ کی کلی قبطی کے منہ میں ڈالی۔ قبطی کے منہ کے قریب پہنچتے ہی خون ہوگیا۔ اِدھر پانی اُدھر خون۔
آخر تنگ آکر حضرت موسیٰ علیہ السلام سے درخواست کی کہ آپ دُعا کیجیے اگر یہ عذاب ہٹ گیا تو ہم ضرور ایمان لے آئیں گے۔ حضرت موسیٰ ؑ کی دُعا سے وہ عذاب دُور ہوگیا اور خوش حالی پیدا ہوگئی مگر وہ ایمان نہیں لائے اور کفر پر جمے رہے۔ تب اللہ تعالیٰ نے قحط سالی مسلّط کردی اور پیداوار میں کمی ہوگئی اور غلّوں میں گھن لگنے لگے۔
غرض یہ کہ ہر طرح سے اُن کو متنبہّ کیا گیا مگر وہ اپنی شرارت سے باز نہیں آئے، اور اُنھیں مختلف قسم کے عذابوں سے دوچار ہونا پڑا۔ مگر خدائے قادر پر ایمان لانا نصیب نہ ہوا۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے ان کا حال بیان فرمایا ہے:
وَلَمَّا وَقَعَ عَلَيْہِمُ الرِّجْزُ قَالُوْا يٰمُوْسَى ادْعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَہِدَ عِنْدَكَ۝۰ۚ لَىِٕنْ كَشَفْتَ عَنَّا الرِّجْزَ لَنُؤْمِنَنَّ لَكَ وَلَنُرْسِلَنَّ مَعَكَ بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ۝۱۳۴ۚ فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْہُمُ الرِّجْزَ اِلٰٓي اَجَلٍ ہُمْ بٰلِغُوْہُ اِذَا ہُمْ يَنْكُثُوْنَ۝۱۳۵ (الاعراف:۱۳۴۔۱۳۵)
اور جب اُن پر کوئی عذاب واقع ہوتا تو یوں کہتے، اے موسیٰ ؑ! ہمارے لیے اپنے رب سے اس بات کی دُعا کر دیجیے جس کا اُس نے آپ سے وعدہ کر رکھا ہے۔ اگر آپ اس عذاب کو ہم سے ہٹا دیں تو ہم ضرورضرور آپ پر ایمان لے آئیں گے۔ اور ہم بنی اسرائیل کو بھی رہا کردیں گے۔ اور آپ کے ہمراہ بھیج دیں گے۔ پھر جب ان سے اس عذاب کو ایک خاص وقت تک ہٹا دیا گیا تو فوراً ہی عہد شکنی کرنے لگتے۔
جب معاملہ اس حد تک پہنچ گیا تو خدائے تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو حکم دیا کہ اب وقت آگیا ہے تم بنی اسرائیل کو نکال کر باپ دادا کی سرزمین کی طرف لے جاؤ۔ چنانچہ حضرت موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کو لے کر تشریف لے چلے۔ جب دریا کے کنارے پہنچے تو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ اپنی لاٹھی سے پانی پر مار دو۔ پانی پھٹ کر بیچ میں راستہ نکل آئے گا۔ موسیٰ علیہ السلام نے ایسا ہی کیا۔ اِدھر فرعون نے مع لشکر کے ان کا تعاقب کیا۔ جب سمندر کے کنارے پہنچا تو اس وقت موسیٰ علیہ السلام مع اسرائیل کے اس پار نکل چکے تھے۔ فرعون مع لشکر کے دریائی راستے میں بنی اسرائیل کو پکڑنے چل پڑا۔ جب پورا لشکر اور فرعون دریا کے بیچو بیچ میں پہنچ گئے۔ کوئی فرعونی باہر نہیں رہا۔ تب اللہ تعالیٰ نے دریا کے پانی کو بدستورِ سابق بہنے کا حکم دیا۔ سارے فرعونی دریا میں ڈوبنے لگے۔ جب فرعون غرق ہونے لگا اور عذاب کے فرشتے سامنے نظر آنے لگے تو کہا میں اُسی ایک وحدہٗ لاشریک لہٗ ہستی پر ایمان لاتا ہوں، جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے ہیں اور میں فرماں برداروں میں سے ہوں مگر یہ ایمان چونکہ حقیقی ایمان نہ تھا بلکہ گزشتہ فریب کاریوں کی طرف عذاب سے نجات حاصل کرنے کے لیے یہ بھی ایک مضطربانہ بات تھی اس لیے خدا کی طرف سے جواب ملا:
اٰۗلْــٰٔــنَ وَقَدْ عَصَيْتَ قَبْلُ وَكُنْتَ مِنَ الْمُفْسِدِيْنَ۝۹۱ (یونس:۹۱)
اب یہ کہہ رہا ہے حالاں کہ اس سے پہلے جو اقرار کا وقت تھا اُس میں انکار اور خلاف ہی کرتا رہا۔ اور درحقیقت تو مفسدوں میں سے تھا۔
فرعونیوں کی یہ تباہی محض اللہ کی نافرمانی سے ہوئی۔ تو جو بھی قانونِ الٰہی کی خلاف ورزی کرے گا۔ اُس پر دنیاوی مصیبتیں اور اخروی سزائیں بھی ہوں گی۔ فرعون کی طرح قارون بھی خدائی عذاب میں گرفتار ہوا، اور اُسے زمین میں دھنسا دیا گیا۔ دنیا و آخرت دونوں تباہ ہوگئی۔

Comments

Popular posts from this blog

اللہ تعالیٰ کے حقوق

بسم اللہ الرحمن الرحیم اللہ تعالیٰ کے حقوق اللہ تعالیٰ کا حق تمام حقوق سے زیادہ ضروری ہے اور سب سے اہم ہے۔کیونکہ وہ اس کائنات کا خالق و مالک اور تمام تر امور کی تدبیر کرنے والا ہے۔وہ زندہ جاوید ہستی ہے جو تمام کائنات کا نطام سنبھالے ہوئے ہے،اس نے ہر چیز کو پیدا کیا اور اپنی حکمت بالغہ سے اس کا اندازہ کیا۔انسان کو اشرف المخلوقات بنایا ،پھر انسان کو اپنے احسانات یاد کرائے کہ اے انسان !تجھ پر اس ذات کا حق ہے جس نے نعمتوں کے ساتھ تیری پرورش کی۔تو اپنی ماں کے پیٹ میں تین طرح کے اندھیروں میں تھا۔جہاں مخلوقات میں کوئی بھی تجھے غذا یا ایسی اشیاء نہیں پہنچا سکتا تھا جو تیری افزائش اور زندگی کو قائم رکھنے والی ہوں۔اس نے ماں کی چھاتیوں میں وافر دودھ اتارا،تجھے اس کی راہ دکھلائی اور تیرے والدین کو تیرا محسن بنا دیا۔تیری امداد کی اور تجھے کامیاب کیا۔ارشاد باری تعالیٰ ہے: وَٱللَّهُ أَخْرَجَكُم مِّنۢ بُطُونِ أُمَّهَٰتِكُمْ لَا تَعْلَمُونَ شَيْا وَجَعَلَ لَكُمُ ٱلسَّمْعَ وَٱلْأَبْصَٰرَ وَٱلْأَفْدَةَ ۙ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ ﴿78﴾ ترجمہ: اور اللہ ہی نے تم کو تمہاری ماؤں کے شکم سے پیدا کیا کہ...

یہودی پروٹوکولز

Online Read یہودی پروٹوکولز ============================================== Online Read E Book یہودی پروٹوکولز ============================================== Download Free یہودی پروٹوکولز ---------------------------------------------------- Download Free یہودی پروٹوکولز ----------------------------------------------------

Kaghazee Qiyamat mazhar kaleem M.A

Download 1 Download 2

جمع عثمانی رِوایات کے آئینے میں

نبی مکرمﷺ کی حدیث مبارکہ ’’خَیْرُ النَّاسِ قَرْنِيْ ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَھُمْ ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَھُمْ‘‘۔(صحیح البخاري: ۲۶۵۲) پر جب نظر پڑتی ہے تو سر احسان و نیازمندی کے ملے جلے تاثر ات سے جھک جاتا ہے کہ واقعتا آپﷺ، صحابہ رضی اللہ عنہم اور تابعین رحمہم اللہ کا زمانہ خیر القرون تھا، کیونکہ اس میں بنی نوع اِنسان کی راہ روی اور اسلام کی سربلندی کے لیے وہ محنتیں اور کوششیں ہوئی ہیں کہ جس کی مثال آئندہ جمیع قرون میں پیش کرنا مشکل ہے۔ یقینا وہ لوگ اس قابل تھے کہ اُنہیں یہ ذمہ داری سونپی جاتی کہ وہ دینِ الٰہی اور شرع اللہ کو اپنی مکمل تشریحات کے ساتھ آئندہ نسلوں تک منتقل کریں، بلا شبہ وہ طائفہ فائزہ اپنے اس مقصد میں بامراد ہوا ہے۔ان جملہ ذمہ داریوں میں سے اَہم ترین ذمہ داری یہ تھی کہ ہدایت سماوی کے آخری ربانی صحیفہ کو محفوظ اور غیر متبدل شکل میں ہم تک پہنچایا جائے۔ ہمارا یہ قطعی ایمان ہے کہ وہ پیام اَیزدی آج اپنی سو فیصد اَصلی اور حقیقی شکل میں ہمارے درمیان موجود ہے۔ الحمد ﷲ علی ذلک۔اِس سلسلہ میں خیرالقرون میں جو سب سے اَہم کام ہوا ہے وہ سیدنا عثمان ذوالنورین رضی ال...

گستاخ رسول کی سزااورحکومت وقت کی ذمہ داری

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ: ”الہدیٰ انٹرنیشنل“ ایک دینی ادارہ کہلاتا ہے، کیا اس ادارے والے صحیح المسلک اور متبع سنت ہیں یا نہیں ؟یہاں تعلیم حاصل کرنے والی چند خواتین جوکہ قرآن کریم کی تجوید درست کرنے یا علم دین حاصل کرنے کی طلب میں ان مدارس میں گئیں‘ لیکن وہاں چند ایسے مسائل سامنے آئے کہ عجیب تذبذب اور پریشانی کا شکار ہوگئیں‘ آپ سے درخواست ہے کہ کافی شافی اور تفصیلی جواب عنایت فرمایئے اور امت مسلمہ کے تذبذب کو دور فرمایئے اور گمراہی سے بچایئے ۔ اسی طرح پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ایک شہر میں لڑکیوں کا ایک مدرسہ ہے‘ جس کی صدر مدرسہ یا منتظمہ ایک خاتون ہیں ‘یہ خاتون غیر شادی شدہ ہیں۔ نیز یہ جامعہ‘ صرف بنات کا ہے۔ یہاں کا سارا نظام موصوفہ یا یہیں کی تعلیم یافتہ چند خواتین سنبھالتی ہیں‘ یہ بھی غیر شادی شدہ ہیں۔ مقصد یہ ہے کہ یہاں کی انتظامیہ میں کسی مرد کاکوئی عمل دخل نہیں ہے اور جس طرح یہ تمام خواتین غیر شادی شدہ ہیں۔ اسی طرح یہاں کی تمام طالبات بھی غیر شادی شدہ ہیں۔ اگر کسی طالبہ کے بارے میں یہ علم ہوجائے کہ یہ شادی شدہ ہے تو اسے خارج کردیا جاتاہے او...

قرآن حکیم کے نازل ہونے کی کیا غرض ہے

سورہ آلِ عمران هَـٰذَا بَيَانٌ لِّلنَّاسِ وَهُدًى وَمَوْعِظَةٌ لِّلْمُتَّقِينَ ﴿١٣٨﴾ یہ (قرآن) لوگوں کے لیے بیان صریح اور اہلِ تقویٰ کے لیے ہدایت اور نصیحت ہے۔ سورہ المآئدۃ يَا أَهْلَ الْكِتَابِ قَدْ جَاءَكُمْ رَسُولُنَا يُبَيِّنُ لَكُمْ كَثِيرًا مِّمَّا كُنتُمْ تُخْفُونَ مِنَ الْكِتَابِ وَيَعْفُو عَن كَثِيرٍ ۚ قَدْ جَاءَكُم مِّنَ اللَّـهِ نُورٌ وَكِتَابٌ مُّبِينٌ ﴿١٥﴾هْدِي بِهِ اللَّـهُ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَهُ سُبُلَ السَّلَامِ وَيُخْرِجُهُم مِّنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ بِإِذْنِهِ وَيَهْدِيهِمْ إِلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ ﴿١٦﴾  اے اہل کتاب! تمہارے پاس ہمارے پیغمبر (آخرالزماں) آ گئے ہیں کہ جو کچھ تم کتاب (الہٰی) میں سے چھپاتے تھے وہ اس میں سے بہت کچھ تمہیں کھول کھول کر بتا دیتے ہیں اور تمہارے بہت سے قصور معاف کر دیتے ہیں بےشک تمہارے پاس خدا کی طرف سے نور اور روشن کتاب آ چکی ہے۔جس سے خدا اپنی رضا پر چلنے والوں کو نجات کے رستے دکھاتا ہے اور اپنے حکم سے اندھیرے میں سے نکال کر روشنی کی طرف لے جاتا اور ان کو سیدھے رستہ پر چلاتا ہے۔ وَكَتَبْنَا عَلَيْه...

The Case of Hudood Ordinances By Shaykh Mufti Taqi Usmani

Read Online [0.4] Urdu Translation

Yusufzai (Pashtun tribe)

The  Yūsufzai  (also  Youssofzay ,  Yousefzai ,  Yousafzai ,  Esapzey ,  Yousufi , or  Yūsufi ) (Pashto:  يوسفزی ,Persian and Urdu:  یوسف زئی ) is one of the largest Pashtun (Afghans) tribes. The majority of the Yusufzai tribe reside in parts of Western Afghanistan, Khyber Pakhtunkhwa and Provincially Administered Tribal Areas near the Afghan-Pakistan border. They are the predominant population in the districts of Konar, Ningarhar, Mardan District, Dir, Swat,Malakand, Swabi, Buner, Shangla, Haripur District [Khalabat Town Ship and Tarbela] and in Mansehra and Battagram. There is also a Yusufzai clan of Dehwar tribe in the Mastung district of Balochistan who speak Persian with some mixture of Birahvi words. The descendants of Yusuf inhabit Konar, Jalalabad, Swat, Upper Dir, Lower Dir, Malakand Swabi and Mardan...

ان شاءاللہ لکھنے میں غلطی کرنا

بسم اللہ الرحمن الرحیم السلام علیکم ورحمتہ اللہ آ پ لوگوں نے اکثر کتابوں میں لفظ ان شاءاللہ کو اس طرح لکھا ہوا پڑھاہوگا انشاءاللہ اور جب کہ اس طرح لکھنے سے اس کا معنی بدل جاتا ہے۔ لفظ ان شاءاللہ کے اردو میں معنی بنتا ہے اگر اللہ نے چاہا اور جب کہ انشاء عربی میں کسی چیز کو بنانے کو کہتے ہیں اس طرح انشاءاللہ کے معنی بہت غلط بن جاتے ہیں ۔ہم لوگ عربی زبان سے واقفیت نہ رکھنے کی وجہ سے ایسی غلطیاں کر جاتے ہیں اللہ ہمیں معاف فرمائے آمین۔اللہ کا ارشاد ہے کہاِنَّآ اَنْشَاْنٰهُنَّ اِنْشَاۗءً 35۝ۙہم نے ان (کی بیویوں کو) خاص طور پر بنایا ہے۔الواقعہ:۳۵قَالَ اِنَّمَا يَاْتِيْكُمْ بِهِ اللّٰهُ اِنْ شَاۗءَ وَمَآ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِيْنَ 33 ؀جواب دیا کہ اسے بھی اللہ تعالٰی ہی لائے گااگر وہ چاہے اور ہاں تم اسے ہرانے والے نہیں ہو۔ھود:۳۳فَلَمَّا دَخَلُوْا عَلٰي يُوْسُفَ اٰوٰٓى اِلَيْهِ اَبَوَيْهِ وَقَالَ ادْخُلُوْا مِصْرَ اِنْ شَاۗءَ اللّٰهُ اٰمِنِيْنَ 99؀ۭپھر جب (سب کے سب) یوسف کے پاس پہنچے تو اس نے اپنے والدین کو (عزت و احترام کے ساتھ) اپنے پاس جگہ دی اور کہا، ''کہاگر اللہ نے چاہا تو...

خواتین اسلام کو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی نصیحتیں

فرمانِ الہٰی ہے :۔ 1(اے نبی صلی اللہ علیہ و سلم ) مومن عورتوں سے کہہ دیجئے کہ وہ اپنی نظر یں نیچی رکھیں ، اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں ۔ (النور24:آیت31) 2 اپنی زیب وزینت کا اظہار نہ ہونے دیں۔(النور24:آیت31) 3 اپنی اوڑھنیاں اپنے سینوں پر ڈالے رہیں۔(النور24:آیت31) 4 ( غیر محرموں سے) نرم لہجہ میں بات نہ کرو ۔(الاحزاب33:آیت32) 5 نماز کی پابندی کرو، زکوٰۃ کی ادائیگی کرو۔(الاحزاب33:آیت32) 6 اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو۔(الاحزاب33:آیت32) رسول اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا :۔ 1 ایسے راستوں پر نہ چلیں جہاں مردوں کی ریل پیل ہوبلکہ کنارے کنارہ چلتے ہوئے راستہ طے کریں۔(ابوداؤد) 2 غیر محرم مردوں سے تنہائی میں نہ ملیں اس لئے کہ اس وقت تیسرا شیطان ہوتا ہے۔(جو برائی کروانے کی بھرپور کوشش کرتا ہے)۔(ابوداؤد) 3 دیور ، جیٹھ وغیرہ سے بھی تنہائی میں نہ ملیں۔(بخاری) 4 غیر محرم کے ساتھ سفر سے اجتناب کریں۔(بخاری) 5 بازار بد ترین جگہ ہے (بلا ضرورت بازار نہ جائیں)۔(مسلم) 6 خوشبو لگا کر اور باریک لباس پہن کر گھر سے نہ نکلیں اس لئے کہ یہ عریانی اور د...