Skip to main content

فرعونیوں پر عذاب



فرعون بڑا سرکش تھا۔ باوجود ربوبیت کے دعویٰ کے بنی اسرائیل کے بچوں کو ذبح کراتا تھا اور بنی اسرائیل پر حد سے زیادہ ظلم کرتا رہا تو اللہ تعالیٰ نے اُسے سمجھانے کے لیے موسیٰ علیہ السلام کو نبی بنا کر بھیجا۔ لیکن اس نے ایمان لانے سے انکار کردیا اور باقاعدہ اُس سے مقابلہ کیا۔ مناظرہ کرایا۔ اُس نے معجزات طلب کیے۔ اتمامِ حجت کے لیے فرعون اور اس کی قوم کو ید بیضا اور عصا کے علاوہ اور بھی نشانیاں دکھائی گئیں اور وہ یہ نشانیاں تھیں (۱) سنین قحط سالیاں (۲) نقص ثمرات، پیداوار میں کمی (۳) طوفان سیلاب (۴) جراد ٹڈی (۵) قمل جوئیں (۶) ضفادع مینڈک (۷) دم خون۔
تفسیر معالم التنزیل اور تاریخ ابن الاثیر میں ہے کہ جب قوم فرعون نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی اطاعت سے انکار کیا اور سارے معجزات کو جادو بتایا، قِسم قِسم کے ظلم و ستم بنی اسرائیل پر کرنے لگے تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرعون کی قوم کے لیے جناب باری میں دُعا کی۔ حق تعالیٰ نے قومِ فرعون پر پانی کا عذاب نازل کیا۔ کالا ابر آیا اور سات دن تک برابر مینہ برستا رہا۔ قبطیوں کے گھروں میں پانی جمع ہوا، قومِ فرعون کے گھر پانی کے چشمے بنے۔ ہر مرد عورت کے گلے گلے تک گھروں میں پانی کھڑا ہوگیا۔ جو شخص ذرا جھکا فوراً ڈوب گیا، جو سیدھا کھڑا رہا، وہ زندہ رہا۔ سارے کھیت اور باغ غرق ہوگئے۔ ایک ہفتہ تک برابر یہی عذاب ہوتا رہا اگرچہ بنی اسرائیل کے اور قبطیوں کے گھر محلہ میں برابر دیوار سے دیوار ملی ہوئی تھیں، لیکن یہ قدرت تھی کہ برابر کا گھر تو پانی سے بھرا ہوا ہے، خوب زور سے بارش ہورہی ہے، اندھیرا ہورہا ہے اور اس کے پاس ہی مسلمان اسرائیلی کا مکان بدستور سوکھا پڑا ہے، دھوپ نکل رہی ہے ، ایک قطرہ اس طوفان کے پانی کا اس گھر میں موجود نہیں ہے۔ ساتویں دن قبطیوں کے عذر و معذرت کرنے کے بعد یہ عذاب دفع ہوگیا۔ مگر فرعونی پھر سرکشی کرنے لگے۔
ایک مہینے کے بعد دوسرا عذاب ٹڈیوں کا نازل ہوا۔ ٹڈیوں نے قبطیوں کے باغات، کھیت ہر قسم کی ہری چیز چاٹ لی۔ اُن کے کھیتوں کے پاس ہی بنی اسرائیل کے کھیت اور باغ تھے، وہاں کسی ایک ٹڈی کا نام بھی نہ تھا۔ اگر کسی کافر نے کچھ ٹڈیاں اپنے کھیت میں سے پکڑ کر مسلمان کے کھیت میں ڈال دیں تو وہ ٹڈیاں فوراً وہاں سے اُڑ کر پھر کسی کافر کے کھیت میں جاپڑیں۔ اگر کوئی درخت مسلمان اور کافر کی شرکت میں تھا تو ٹڈیوں نے اس درخت کو آدھا کھایا اور آدھا چھوڑ دیا۔ اس واقعہ کو دیکھ کر کافر نے کہا کہ اے مسلمان جو حصہ ٹڈیوں نے کھا لیا ہے وہ تیرا ہے اور یہ جو سالم ہے وہ میرا ہے ۔ یہ کہتے ہی فوراً ٹڈیوں نے اس باقی آدھے کو بھی کھالیا۔ اور وہ پہلا آدھا کھایا ہوا پھر ہرا ہوگیا۔ سات دن اور رات تک یہ عذاب رہا۔ جب قبطی بہت روئے، اقرار کیا کہ اب ہم ضرور مسلمان ہوجائیں گے، اے موسیٰ ؑ! دُعا کرو کہ خدا تعالیٰ اس عذاب کو دفع کردے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے دُعا فرمائی، وہ ٹڈیاں فوراً غائب ہوگئیں۔
مگر پھر انھوں نے وہی کفر و سرکشی شروع کردی۔ اب پھر حضرت موسیٰ ؑ نے بددُعا کی تو چیچڑیاں نازل ہوئیں، جو تمام قبطیوں کے خون کو چوس گئیں۔ سارے جسم میں، آنکھوں کی پلکوں میں لپٹ گئیں۔ لیکن کوئی چیچڑی مسلمان کے پاس نہیں جاتی تھی۔ اہلِ ایمان بالکل امن میں تھے۔ اس کے بعد مینڈک نازل ہوئے جو قبطیوں کے گھروں میں گھس گئے۔ ہر طرح کی کھانے پینے کی چیزوں میں گرجاتے اور خراب کردیتے۔ مگر ایمان والے قبطیوں کے پاس بیٹھے رہتے۔ انھیں مطلق نہ ستاتے، نہ اُن کے کھانے وانے میں گرتے۔ نہ گھروں میں کوئی مینڈک نظر آتا۔ یہ لوگ رحمت ِ الٰہی کے اور ایمان و امن کے گنبد میں آرام سے بیٹھے رہتے۔
پھر اس کے بعد قبطیوں میں خون کا عذاب نازل ہوا۔ اور دریائے نیل جس کا اہلِ مصر پانی پیتے تھے وہ سارے کا سارا قبطیوں کے لیے نہایت بدبودار کالا خون ہوگیا۔ سارے کنویں خون کے ہوگئے۔ قبطیوں کے پانی کے برتن اور مٹکے نرے خون سے بھر گئے۔ اسی پانی کو مسلمان پیتے اور بھرتے ہیں۔ اُن کے لیے وہ پانی نہایت شیریں صاف اور سفید ہے۔ دو خاصیتیں ایک پانی میں۔ اگر کسی کنویں پر مسلمان اور کافر پانی بھرتے تھے تو کافر کے ڈول میں کالا خون اور مسلمان کے ڈول میں صاف پانی آتا تھا۔ ایک دن فرعون نے ایک قبطی کافر اور ایک مسلمان اسرائیلی کو اپنے سامنے دربار میں بلایا اور ایک برتن میں پانی بھروایا اور حکم دیا کہ دونوں اس میں سے اپنے اپنے چلّو میں اُٹھا کر پیو۔ جو چلّو مسلمان اُٹھاتا، وہ پانی تھا اور جو کافر اُٹھاتا وہ خون تھا۔ پھر فرعون نے حکم دیا کہ تم دونوں اسی برتن سے منہ لگا کر پیو۔ کافر و مسلمان دونوں اس برتن پر جھک گئے۔ ایک طرف پانی، دوسری طرف خون ہے۔ جو پانی کافر اپنے منہ میں کھینچ رہا ہے وہ خون ہے اور جو مسلمان کی طرف کھنچ رہا ہے وہ شیریں اور خوشبودار پانی ہے۔ پھر فرعون نے حکم دیا کہ اے اسرائیلی تو اپنے منہ میں پانی بھر کر وہ کلی قبطی کے منہ میں ڈال۔ مسلمان نے اپنے منہ میں پانی لیا پھر منہ کی کلی قبطی کے منہ میں ڈالی۔ قبطی کے منہ کے قریب پہنچتے ہی خون ہوگیا۔ اِدھر پانی اُدھر خون۔
آخر تنگ آکر حضرت موسیٰ علیہ السلام سے درخواست کی کہ آپ دُعا کیجیے اگر یہ عذاب ہٹ گیا تو ہم ضرور ایمان لے آئیں گے۔ حضرت موسیٰ ؑ کی دُعا سے وہ عذاب دُور ہوگیا اور خوش حالی پیدا ہوگئی مگر وہ ایمان نہیں لائے اور کفر پر جمے رہے۔ تب اللہ تعالیٰ نے قحط سالی مسلّط کردی اور پیداوار میں کمی ہوگئی اور غلّوں میں گھن لگنے لگے۔
غرض یہ کہ ہر طرح سے اُن کو متنبہّ کیا گیا مگر وہ اپنی شرارت سے باز نہیں آئے، اور اُنھیں مختلف قسم کے عذابوں سے دوچار ہونا پڑا۔ مگر خدائے قادر پر ایمان لانا نصیب نہ ہوا۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے ان کا حال بیان فرمایا ہے:
وَلَمَّا وَقَعَ عَلَيْہِمُ الرِّجْزُ قَالُوْا يٰمُوْسَى ادْعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَہِدَ عِنْدَكَ۝۰ۚ لَىِٕنْ كَشَفْتَ عَنَّا الرِّجْزَ لَنُؤْمِنَنَّ لَكَ وَلَنُرْسِلَنَّ مَعَكَ بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ۝۱۳۴ۚ فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْہُمُ الرِّجْزَ اِلٰٓي اَجَلٍ ہُمْ بٰلِغُوْہُ اِذَا ہُمْ يَنْكُثُوْنَ۝۱۳۵ (الاعراف:۱۳۴۔۱۳۵)
اور جب اُن پر کوئی عذاب واقع ہوتا تو یوں کہتے، اے موسیٰ ؑ! ہمارے لیے اپنے رب سے اس بات کی دُعا کر دیجیے جس کا اُس نے آپ سے وعدہ کر رکھا ہے۔ اگر آپ اس عذاب کو ہم سے ہٹا دیں تو ہم ضرورضرور آپ پر ایمان لے آئیں گے۔ اور ہم بنی اسرائیل کو بھی رہا کردیں گے۔ اور آپ کے ہمراہ بھیج دیں گے۔ پھر جب ان سے اس عذاب کو ایک خاص وقت تک ہٹا دیا گیا تو فوراً ہی عہد شکنی کرنے لگتے۔
جب معاملہ اس حد تک پہنچ گیا تو خدائے تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو حکم دیا کہ اب وقت آگیا ہے تم بنی اسرائیل کو نکال کر باپ دادا کی سرزمین کی طرف لے جاؤ۔ چنانچہ حضرت موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کو لے کر تشریف لے چلے۔ جب دریا کے کنارے پہنچے تو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ اپنی لاٹھی سے پانی پر مار دو۔ پانی پھٹ کر بیچ میں راستہ نکل آئے گا۔ موسیٰ علیہ السلام نے ایسا ہی کیا۔ اِدھر فرعون نے مع لشکر کے ان کا تعاقب کیا۔ جب سمندر کے کنارے پہنچا تو اس وقت موسیٰ علیہ السلام مع اسرائیل کے اس پار نکل چکے تھے۔ فرعون مع لشکر کے دریائی راستے میں بنی اسرائیل کو پکڑنے چل پڑا۔ جب پورا لشکر اور فرعون دریا کے بیچو بیچ میں پہنچ گئے۔ کوئی فرعونی باہر نہیں رہا۔ تب اللہ تعالیٰ نے دریا کے پانی کو بدستورِ سابق بہنے کا حکم دیا۔ سارے فرعونی دریا میں ڈوبنے لگے۔ جب فرعون غرق ہونے لگا اور عذاب کے فرشتے سامنے نظر آنے لگے تو کہا میں اُسی ایک وحدہٗ لاشریک لہٗ ہستی پر ایمان لاتا ہوں، جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے ہیں اور میں فرماں برداروں میں سے ہوں مگر یہ ایمان چونکہ حقیقی ایمان نہ تھا بلکہ گزشتہ فریب کاریوں کی طرف عذاب سے نجات حاصل کرنے کے لیے یہ بھی ایک مضطربانہ بات تھی اس لیے خدا کی طرف سے جواب ملا:
اٰۗلْــٰٔــنَ وَقَدْ عَصَيْتَ قَبْلُ وَكُنْتَ مِنَ الْمُفْسِدِيْنَ۝۹۱ (یونس:۹۱)
اب یہ کہہ رہا ہے حالاں کہ اس سے پہلے جو اقرار کا وقت تھا اُس میں انکار اور خلاف ہی کرتا رہا۔ اور درحقیقت تو مفسدوں میں سے تھا۔
فرعونیوں کی یہ تباہی محض اللہ کی نافرمانی سے ہوئی۔ تو جو بھی قانونِ الٰہی کی خلاف ورزی کرے گا۔ اُس پر دنیاوی مصیبتیں اور اخروی سزائیں بھی ہوں گی۔ فرعون کی طرح قارون بھی خدائی عذاب میں گرفتار ہوا، اور اُسے زمین میں دھنسا دیا گیا۔ دنیا و آخرت دونوں تباہ ہوگئی۔

Comments

Popular posts from this blog

Yusufzai (Pashtun tribe)

The  Yūsufzai  (also  Youssofzay ,  Yousefzai ,  Yousafzai ,  Esapzey ,  Yousufi , or  Yūsufi ) (Pashto:  يوسفزی ,Persian and Urdu:  یوسف زئی ) is one of the largest Pashtun (Afghans) tribes. The majority of the Yusufzai tribe reside in parts of Western Afghanistan, Khyber Pakhtunkhwa and Provincially Administered Tribal Areas near the Afghan-Pakistan border. They are the predominant population in the districts of Konar, Ningarhar, Mardan District, Dir, Swat,Malakand, Swabi, Buner, Shangla, Haripur District [Khalabat Town Ship and Tarbela] and in Mansehra and Battagram. There is also a Yusufzai clan of Dehwar tribe in the Mastung district of Balochistan who speak Persian with some mixture of Birahvi words. The descendants of Yusuf inhabit Konar, Jalalabad, Swat, Upper Dir, Lower Dir, Malakand Swabi and Mardan...

عہد عثمان میں تدوین قرآن

امام بخاری نے صحیح بخاری میں اپنی سند کے ساتھ ابن شھاب سے روایت کیا ہے کہ انس بن مالک نے انہیں بتایا کہ حذیفہ بن یمان حضرت عثمان کی خدمت میں حاضر ہوئے موسوف نے رمینیہ اور آذربیجان کی جنگ میں شرکت کی تھی وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ لوگ تلاوت قرآن میں بہت اختلاف کرنے لگے تھے ۔ حذیفہ نے حضرت عثمان سے کہا امیرالمؤمنین ! قبل اس کے کہ یہ امت کتاب الٰہی میں یہودیوں اور نصاریٰ کی طرح اکتلاف کرنے لگے اس کو سنبھال لیجئے یہ سن کر حضرت عثمان نے حجرت حفصہ کو کہلا بھیجا کہ آپ کے پاس قرآن کے جو صحیفے پڑے ہیں وہ ہمارے پاس بھیج دیجئے تاکہ ہم ان کو کتابی صورت میں جمع کریں پھر ہم ان کو واپس کردیں گے ۔محترمہ موصوفہ نے وہ صحیفے ارسال کردئیے۔حضرت عثمانرضی اللہ تعالٰی عنہ نے (۱) زید بن ثابترضی اللہ تعالٰی عنہ،(۲) عبداللہ بن زبیررضی اللہ تعالٰی عنہ،(۳)سعد بن العاصرضی اللہ تعالٰی عنہ،(۴)عبدالرحمان بن حارث بن ہشامرضی اللہ تعالٰی عنہکو مومورکیا کہ وہ صحیفوں سے نقل کرکے قرآن کریم کو کتابی صورت میں جمع کردیں۔ حضرت عثمانرضی اللہ تعالٰی عنہ نے تینوں قریشی صحابہ(حضرت زید بن ثابت کے علاوہ باقی تینوں صحابہ سے...

کتاب اللہ کی کون سی آیت سب سے عظیم ہے؟

آیۃ الکرسی کی فضیلت !!! آیۃ الکرسی کی کیااھمیت ہے ؟ اور کیا اس آیت کی عظمت پرکوئ دلیل وارد ہے ؟ الحمد للہ ابن کثیررحمہ اللہ تعالی سورۃ البقرۃ کی آیۃ الکرسی کی تفسیرکرتےہو‏ۓ کہتے ہیں : یہ آیۃ الکرسی ہے جس کی فضیلت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح حدیث میں ہے کہ کتاب اللہ میں یہ آیت سب سے افضل آیت ہے ۔ ابی بن کعب رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نےان سے سوال کیا کہ کتاب اللہ میں سب سے عظیم آیت کونسی ہے ؟ تو وہ کہنے لگے کہ اللہ اور اس کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم کوہی زیادہ علم ہے ، یہ سوال کئ باردھرایا اور پھر فرمانےلگے کہ وہ آیت الکرسی ہے ۔ فرمانے لگے اے ابوالمنذر علم مبارک ہو اس ذات کی قسم جس کےھاتھ میں میری جان ہے اس آیت کی زبان اور ہونٹ ہونگے عرش کے پاۓ کے ہاں اللہ تعالی کی پاکی بیان کررہی ہوگی ۔ اور غالبا مسلم نے والذی نفسی سے آگے والے الفاظ نہیں ہیں ۔ عبداللہ بن ابی بن کعب رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ ان کے والد کے پاس کھجوریں رکھنے کی جگہ تھی ، عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں میرے والد اس کاخیال رکھتے تھے تو...

عہد رسالت میں کتابت قرآن

سرورکائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے مندرجہ ذیل صحابہ کو کاتب وحی مقرر فرمایا تھا: حضرت بوبکررضی اللہ تعالٰی عنہ ، عمرفاروقرضی اللہ تعالٰی عنہ، عثمانرضی اللہ تعالٰی عنہ، علیرضی اللہ تعالٰی عنہ، معاویہرضی اللہ تعالٰی عنہ ، زید بن ثابت رضی اللہ تعالٰی عنہ،ابی بن کعبرضی اللہ تعالٰی عنہ، خالد بن ولیدرضی اللہ تعالٰی عنہ،ثابت بن قیسرضی اللہ تعالٰی عنہ،۔ قرآن کا جو حصہ نازل ہوتا آپ صحابہ کو مامور فرماتے کہ اسے تحریر کرلیں یہاں تک کہ کتابت کے پہلو بہ پہلو قرآن کریم کو سینوں میں بھی محفوظ کرلیا گیا۔(مشہور مستشرق بلاشیر نے کاتبین وحی صحابہ کی تعداد چالیس بتائ ہے دیگر مستشرقین مثلاً شفالی بہل اور کازانوفاکا زاویہ نگاہ بھی یہی ہے مؤخر الذکر نے اس ضمن میں طبقا ابن سعد، طبری ، نووی اور سیرت حلبی پر اعتماد کیا ہے ۔) محدث حاکم نےمستدرک میں زید بن ثابت سے بخاری ومسلم کی شرط کے مطابق روایت کیا ہے کہ زید بن ثابت نے کہا ہم عہد رسالت میں ''رقاع''(ٹکڑوں)سے قرآن جمع کیا کرتے تھے ۔ (الاتقان،ج۱ص،۹۹نیز البرہان ،ج۱ص۲۳۷) مذکورہ صدر حدیث میں ''رقاع ''کا جو لفظ وا...

شرک فی التصرف کا بیان

بسم اللہ الرحمن الرحیم اللّٰھم لک الحمد حمدا یوافی نعمک ویکافی مزید کرمک احمد ک بجمیع محا مدک ما علمت و ما لم اعلم علی جمیع نعمک ما علمت منھا وما لم اعلم وعلی کل حالط اللّٰھم صل علی محمد و علی ال محمد و بارک وسلم۔ اما بعد۔ فاعوذ باللہ من الشیطن الرجیم ط بسم اللہ الرحمن الرحیمط قُلِ ادْعُوا الَّذِيْنَ زَعَمْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللہِ۝۰ۚ لَا يَمْلِكُوْنَ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ فِي السَّمٰوٰتِ وَلَا فِي الْاَرْضِ وَمَا لَہُمْ فِيْہِمَا مِنْ شِرْكٍ وَّمَا لَہٗ مِنْہُمْ مِّنْ ظَہِيْرٍ۝۲۲ وَلَا تَنْفَعُ الشَّفَاعَۃُ عِنْدَہٗٓ اِلَّا لِمَنْ اَذِنَ لَہٗ۝۰ۭ حَتّٰٓي اِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوْبِہِمْ قَالُوْا مَاذَا۝۰ۙ قَالَ رَبُّكُمْ۝۰ۭ قَالُوا الْحَقَّ۝۰ۚ وَہُوَالْعَلِيُّ الْكَبِيْرُ۝۲۳ (السبا:۲۲۔۲۳) اے میرے محسن خدا! کل تعریفوں کا مستحق تو ہی ہے، میں تیری وہ تعریف کرتا ہوں جو تیری دی ہوئی نعمتوں کا بدل ہو، ا ور اس سے جو زیادہ دے، اس کا بدلہ ہو، اور پھر میں تیری جن نعمتوں کو جانتا ہوں اور جن کو نہیں جانتا سب ہی کا ا ن خوبیوں کے ساتھ شکریہ ادا کرتا ہوں، جس کا مجھ کو علم ہے اور جن کا نہیں، غرضیکہ ہر ...

حکایت

حضرت شیخ الاسلام امام غزالی نے احیاء العلوم میں ایک حاسد آدمی کی یہ حکایت فرمائی ہے کہ ایک شخص بادشاہ کے سامنے کھڑا ہوکر یہ کہا کرتا تھا کہ نیک لوگوں کے ساتھ نیکی کرو اور محسن کے احسان کا بدلہ دو کیوںکہ برائی کرنے والے کی برائی تمہاری طرف سے خود کفایت کرے گی۔ یہ شخص بادشاہ کے سامنے یہ نصیحت کیا کرتا تھا جس سے اس کی بڑی عزت تھی۔ اس کی عزت، عظمت اور مرتبہ کو دیکھ کر ایک شخص کو حسد پیدا ہوگیا۔ اس نے بادشاہ سے شکایت کی کہ یہ شخص حضور کے سامنے کھڑا ہوکر گندہ دہن بتاتا ہے۔ بادشاہ نے کہا اس کی تصدیق کیسے ہو؟ حاسد نے کہا جب وہ آپ کے پاس آئے تو آپ اسے اپنے قریب بلا لیجیے، جب وہ آپ کے بالکل قریب آجائے گا تو اپنی ناک بند کرلے گا، تاکہ آپ کے منہ کی بدبو نہ آنے پائے۔ بادشاہ نے کہا بہت اچھا، کل امتحان کریں گے۔ ادھر اس حاسد نے بادشاہ سے یہ کہا، ادھر اس نے جاکر اس ناصح و نیک آدمی کی دعوت کرکے ایسا کھانا کھلایا جس میں لہسن بہت سا تھا۔ یہ کھانا کھا کر فارغ ہی ہوا تھا کہ دربار کا وقت آگیا۔ بدستور سابق بادشاہ کے سامنے کھڑے ہوکر اس نے وہی جملہ کہا جو کہا کرتا تھا۔ بادشاہ نے اس کو اپنے پاس بلانے کا ...

Rasulullah Sallallahu Alaihi Wasallam Kay Muay Mubarak By Shaykh Mufti Umar Farooq

Read Online (400 K) AN EXTRACT FROM MONTHLY MAGAZINE OF DARUL ULOOM DEOBAND ON SOME DETAILS REGARDING THE BELOVED AND MUBARIK HAIR OF RASOOLULLAH [Sallallahu Alaihi Wasallam]. By Shaykh Mufti Umar Farooq

اتباع سنت کا بیان

بسم اللہ الرحمن الرحیم الحمد للہ الذی لم یزل عالماً قدیرا حیاً قیوماً سمیعاً بصیراً و اشھد ان لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ واکبرہ تکبیراً۔ واشھد ان محمداعبدہ ورسولہ و صلی اللہ علی سیدنا محمد ن الذی ارسلہ الی الناس کافۃ بشیراً ونذیرًا۔ و علی الہ و صحبہ وسلم تسلیماً کثیراکثیرا۔ اما بعد! فاعوذ باللہ من الشیطن الرجیم۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللہَ فَاتَّبِعُوْنِيْ يُحْبِبْكُمُ اللہُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ۝۰ۭ وَاللہُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ۝۳۱ قُلْ اَطِيْعُوا اللہَ وَالرَّسُوْلَ۝۰ۚ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّ اللہَ لَا يُحِبُّ الْكٰفِرِيْنَ۝۳۲ (آل عمران:۳۱۔۳۲) سب تعریف اللہ کے لیے ثابت ہے،جو ہمیشہ سے جاننے والا، قدرت والا، زندہ رکھنے والا، سنبھالنے والا، سننے والا اور دیکھنے والا ہے، اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ ایک اور یکتا ہے، جس کا کوئی شریک نہیں ہے، اور میں اس کی بڑائی بیان کرتا ہوں، اور اس بات کی گواہی دیتا ہوں ، کہ محمد ﷺ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، اللہ تعالیٰ ہمارے آقا محمد ﷺ پر رحمت کا ملہ نازل فرم...

اللہ و رسول ﷺ کی اطاعت کا بیان

بسم ا للہ الرحمن الرحیم۔ الحمد للہ رب العالمین۔ الرحمن الرحیم۔ مالک یوم الدین۔ والصلوۃ والسلام علی رسولہ المبین سیدنا محمد خاتم النبیین۔ وعلی جمیع الانبیاء والمرسلین۔ وسائر عباد اللہ الصالحین۔ اما بعد! فاعوذ باللہ من الشیطن الرجیم ط بسم اللہ الرحمن الرحیم ط يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَطِيْعُوا اللہَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ وَاُولِي الْاَمْرِ مِنْكُمْ۝۰ۚ فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِيْ شَيْءٍ فَرُدُّوْہُ اِلَى اللہِ وَالرَّسُوْلِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللہِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ۝۰ۭ ذٰلِكَ خَيْرٌ وَاَحْسَنُ تَاْوِيْلًا۔ (النساء:۵۹) سب تعریف اللہ کے لیے ہے، جو سار ے جہاں کا پالنے والا ہے، بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، بدلے کے دن (قیامت )کا مالک ہے، اور درودوسلام نازل ہوں، ا للہ تعالیٰ کے رسول پر جو احکام الٰہی کے ظاہر کرنے والے ہیں، ہمارے سردار جن کا نام نامی اسم گرامی محمد ﷺ ہے، جو سب نبیوں کے ختم کرنے والے ہیں، اور اللہ کے تمام نبیوں ا ور رسولوں پر، اور ا للہ کے تمام نیک بندوں پر، حمد و صلوۃ کے بعد، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ا ے ایمان والوفرمانبرداری کرو اللہ کی اور فرمانبر...

شرک کی مذمّت

بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ الحمدللہ الذی لم یتخذ ولداو لم یکن لہ شریک فی الملک ولم یکن لہ ولی من الذل وکبرہ تکبیرا۔ ونشھد ان لاالہ ا لااللہ وحدہ لا شریک لہ ونشھد ان محمداعبدہ ورسولہ صلی اللہ علیہ وعلی اٰلہ واصحابہ وسلم تسلیما کثیرا۔ اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم ط بسم اللہ الرحمن الرحیم بِہٖ۝۰ۭ وَمَنْ يُّشْرِكْ بِاللہِ فَكَاَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَاۗءِ فَتَخْطَفُہُ الطَّيْرُ اَوْ تَہْوِيْ بِہِ الرِّيْحُ فِيْ مَكَانٍ سَحِيْقٍ (الحج:۳۱) سب تعریف اللہ ہی کے لیے ہے، جو نہ اولاد رکھتا ہے، اور اپنی سلطنت میں کسی کو شریک بھی نہیں کرتا، اور نہ وہ ایسا حقیر ہے، کہ اس کا کوئی حمائتی ہو، تم اس کی بڑائی بیان کرو، اور ہم اس بات کی شہادت دیتے ہیں، کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے، وہ ایک ا کیلا ہے، اس کے ساتھ کوئی شریک نہیں ہے، اور ہم اس بات کی شہادت دیتے ہیں، کہ محمدﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں، اللہ تعالیٰ ان پر اور ان کے اصحابؓ پر بہت بہت درود بھیجے حمدو صلوٰۃ کے بعد عرض ہے ، کہ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں یہ فرما رہاہے، کہ اللہ کے ساتھ شرک کرنے والا گویا آسمان سے گر پڑا، تو اب اسے یا تو پرند...