Skip to main content

فرعونیوں پر عذاب



فرعون بڑا سرکش تھا۔ باوجود ربوبیت کے دعویٰ کے بنی اسرائیل کے بچوں کو ذبح کراتا تھا اور بنی اسرائیل پر حد سے زیادہ ظلم کرتا رہا تو اللہ تعالیٰ نے اُسے سمجھانے کے لیے موسیٰ علیہ السلام کو نبی بنا کر بھیجا۔ لیکن اس نے ایمان لانے سے انکار کردیا اور باقاعدہ اُس سے مقابلہ کیا۔ مناظرہ کرایا۔ اُس نے معجزات طلب کیے۔ اتمامِ حجت کے لیے فرعون اور اس کی قوم کو ید بیضا اور عصا کے علاوہ اور بھی نشانیاں دکھائی گئیں اور وہ یہ نشانیاں تھیں (۱) سنین قحط سالیاں (۲) نقص ثمرات، پیداوار میں کمی (۳) طوفان سیلاب (۴) جراد ٹڈی (۵) قمل جوئیں (۶) ضفادع مینڈک (۷) دم خون۔
تفسیر معالم التنزیل اور تاریخ ابن الاثیر میں ہے کہ جب قوم فرعون نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی اطاعت سے انکار کیا اور سارے معجزات کو جادو بتایا، قِسم قِسم کے ظلم و ستم بنی اسرائیل پر کرنے لگے تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرعون کی قوم کے لیے جناب باری میں دُعا کی۔ حق تعالیٰ نے قومِ فرعون پر پانی کا عذاب نازل کیا۔ کالا ابر آیا اور سات دن تک برابر مینہ برستا رہا۔ قبطیوں کے گھروں میں پانی جمع ہوا، قومِ فرعون کے گھر پانی کے چشمے بنے۔ ہر مرد عورت کے گلے گلے تک گھروں میں پانی کھڑا ہوگیا۔ جو شخص ذرا جھکا فوراً ڈوب گیا، جو سیدھا کھڑا رہا، وہ زندہ رہا۔ سارے کھیت اور باغ غرق ہوگئے۔ ایک ہفتہ تک برابر یہی عذاب ہوتا رہا اگرچہ بنی اسرائیل کے اور قبطیوں کے گھر محلہ میں برابر دیوار سے دیوار ملی ہوئی تھیں، لیکن یہ قدرت تھی کہ برابر کا گھر تو پانی سے بھرا ہوا ہے، خوب زور سے بارش ہورہی ہے، اندھیرا ہورہا ہے اور اس کے پاس ہی مسلمان اسرائیلی کا مکان بدستور سوکھا پڑا ہے، دھوپ نکل رہی ہے ، ایک قطرہ اس طوفان کے پانی کا اس گھر میں موجود نہیں ہے۔ ساتویں دن قبطیوں کے عذر و معذرت کرنے کے بعد یہ عذاب دفع ہوگیا۔ مگر فرعونی پھر سرکشی کرنے لگے۔
ایک مہینے کے بعد دوسرا عذاب ٹڈیوں کا نازل ہوا۔ ٹڈیوں نے قبطیوں کے باغات، کھیت ہر قسم کی ہری چیز چاٹ لی۔ اُن کے کھیتوں کے پاس ہی بنی اسرائیل کے کھیت اور باغ تھے، وہاں کسی ایک ٹڈی کا نام بھی نہ تھا۔ اگر کسی کافر نے کچھ ٹڈیاں اپنے کھیت میں سے پکڑ کر مسلمان کے کھیت میں ڈال دیں تو وہ ٹڈیاں فوراً وہاں سے اُڑ کر پھر کسی کافر کے کھیت میں جاپڑیں۔ اگر کوئی درخت مسلمان اور کافر کی شرکت میں تھا تو ٹڈیوں نے اس درخت کو آدھا کھایا اور آدھا چھوڑ دیا۔ اس واقعہ کو دیکھ کر کافر نے کہا کہ اے مسلمان جو حصہ ٹڈیوں نے کھا لیا ہے وہ تیرا ہے اور یہ جو سالم ہے وہ میرا ہے ۔ یہ کہتے ہی فوراً ٹڈیوں نے اس باقی آدھے کو بھی کھالیا۔ اور وہ پہلا آدھا کھایا ہوا پھر ہرا ہوگیا۔ سات دن اور رات تک یہ عذاب رہا۔ جب قبطی بہت روئے، اقرار کیا کہ اب ہم ضرور مسلمان ہوجائیں گے، اے موسیٰ ؑ! دُعا کرو کہ خدا تعالیٰ اس عذاب کو دفع کردے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے دُعا فرمائی، وہ ٹڈیاں فوراً غائب ہوگئیں۔
مگر پھر انھوں نے وہی کفر و سرکشی شروع کردی۔ اب پھر حضرت موسیٰ ؑ نے بددُعا کی تو چیچڑیاں نازل ہوئیں، جو تمام قبطیوں کے خون کو چوس گئیں۔ سارے جسم میں، آنکھوں کی پلکوں میں لپٹ گئیں۔ لیکن کوئی چیچڑی مسلمان کے پاس نہیں جاتی تھی۔ اہلِ ایمان بالکل امن میں تھے۔ اس کے بعد مینڈک نازل ہوئے جو قبطیوں کے گھروں میں گھس گئے۔ ہر طرح کی کھانے پینے کی چیزوں میں گرجاتے اور خراب کردیتے۔ مگر ایمان والے قبطیوں کے پاس بیٹھے رہتے۔ انھیں مطلق نہ ستاتے، نہ اُن کے کھانے وانے میں گرتے۔ نہ گھروں میں کوئی مینڈک نظر آتا۔ یہ لوگ رحمت ِ الٰہی کے اور ایمان و امن کے گنبد میں آرام سے بیٹھے رہتے۔
پھر اس کے بعد قبطیوں میں خون کا عذاب نازل ہوا۔ اور دریائے نیل جس کا اہلِ مصر پانی پیتے تھے وہ سارے کا سارا قبطیوں کے لیے نہایت بدبودار کالا خون ہوگیا۔ سارے کنویں خون کے ہوگئے۔ قبطیوں کے پانی کے برتن اور مٹکے نرے خون سے بھر گئے۔ اسی پانی کو مسلمان پیتے اور بھرتے ہیں۔ اُن کے لیے وہ پانی نہایت شیریں صاف اور سفید ہے۔ دو خاصیتیں ایک پانی میں۔ اگر کسی کنویں پر مسلمان اور کافر پانی بھرتے تھے تو کافر کے ڈول میں کالا خون اور مسلمان کے ڈول میں صاف پانی آتا تھا۔ ایک دن فرعون نے ایک قبطی کافر اور ایک مسلمان اسرائیلی کو اپنے سامنے دربار میں بلایا اور ایک برتن میں پانی بھروایا اور حکم دیا کہ دونوں اس میں سے اپنے اپنے چلّو میں اُٹھا کر پیو۔ جو چلّو مسلمان اُٹھاتا، وہ پانی تھا اور جو کافر اُٹھاتا وہ خون تھا۔ پھر فرعون نے حکم دیا کہ تم دونوں اسی برتن سے منہ لگا کر پیو۔ کافر و مسلمان دونوں اس برتن پر جھک گئے۔ ایک طرف پانی، دوسری طرف خون ہے۔ جو پانی کافر اپنے منہ میں کھینچ رہا ہے وہ خون ہے اور جو مسلمان کی طرف کھنچ رہا ہے وہ شیریں اور خوشبودار پانی ہے۔ پھر فرعون نے حکم دیا کہ اے اسرائیلی تو اپنے منہ میں پانی بھر کر وہ کلی قبطی کے منہ میں ڈال۔ مسلمان نے اپنے منہ میں پانی لیا پھر منہ کی کلی قبطی کے منہ میں ڈالی۔ قبطی کے منہ کے قریب پہنچتے ہی خون ہوگیا۔ اِدھر پانی اُدھر خون۔
آخر تنگ آکر حضرت موسیٰ علیہ السلام سے درخواست کی کہ آپ دُعا کیجیے اگر یہ عذاب ہٹ گیا تو ہم ضرور ایمان لے آئیں گے۔ حضرت موسیٰ ؑ کی دُعا سے وہ عذاب دُور ہوگیا اور خوش حالی پیدا ہوگئی مگر وہ ایمان نہیں لائے اور کفر پر جمے رہے۔ تب اللہ تعالیٰ نے قحط سالی مسلّط کردی اور پیداوار میں کمی ہوگئی اور غلّوں میں گھن لگنے لگے۔
غرض یہ کہ ہر طرح سے اُن کو متنبہّ کیا گیا مگر وہ اپنی شرارت سے باز نہیں آئے، اور اُنھیں مختلف قسم کے عذابوں سے دوچار ہونا پڑا۔ مگر خدائے قادر پر ایمان لانا نصیب نہ ہوا۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے ان کا حال بیان فرمایا ہے:
وَلَمَّا وَقَعَ عَلَيْہِمُ الرِّجْزُ قَالُوْا يٰمُوْسَى ادْعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَہِدَ عِنْدَكَ۝۰ۚ لَىِٕنْ كَشَفْتَ عَنَّا الرِّجْزَ لَنُؤْمِنَنَّ لَكَ وَلَنُرْسِلَنَّ مَعَكَ بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ۝۱۳۴ۚ فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْہُمُ الرِّجْزَ اِلٰٓي اَجَلٍ ہُمْ بٰلِغُوْہُ اِذَا ہُمْ يَنْكُثُوْنَ۝۱۳۵ (الاعراف:۱۳۴۔۱۳۵)
اور جب اُن پر کوئی عذاب واقع ہوتا تو یوں کہتے، اے موسیٰ ؑ! ہمارے لیے اپنے رب سے اس بات کی دُعا کر دیجیے جس کا اُس نے آپ سے وعدہ کر رکھا ہے۔ اگر آپ اس عذاب کو ہم سے ہٹا دیں تو ہم ضرورضرور آپ پر ایمان لے آئیں گے۔ اور ہم بنی اسرائیل کو بھی رہا کردیں گے۔ اور آپ کے ہمراہ بھیج دیں گے۔ پھر جب ان سے اس عذاب کو ایک خاص وقت تک ہٹا دیا گیا تو فوراً ہی عہد شکنی کرنے لگتے۔
جب معاملہ اس حد تک پہنچ گیا تو خدائے تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو حکم دیا کہ اب وقت آگیا ہے تم بنی اسرائیل کو نکال کر باپ دادا کی سرزمین کی طرف لے جاؤ۔ چنانچہ حضرت موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کو لے کر تشریف لے چلے۔ جب دریا کے کنارے پہنچے تو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ اپنی لاٹھی سے پانی پر مار دو۔ پانی پھٹ کر بیچ میں راستہ نکل آئے گا۔ موسیٰ علیہ السلام نے ایسا ہی کیا۔ اِدھر فرعون نے مع لشکر کے ان کا تعاقب کیا۔ جب سمندر کے کنارے پہنچا تو اس وقت موسیٰ علیہ السلام مع اسرائیل کے اس پار نکل چکے تھے۔ فرعون مع لشکر کے دریائی راستے میں بنی اسرائیل کو پکڑنے چل پڑا۔ جب پورا لشکر اور فرعون دریا کے بیچو بیچ میں پہنچ گئے۔ کوئی فرعونی باہر نہیں رہا۔ تب اللہ تعالیٰ نے دریا کے پانی کو بدستورِ سابق بہنے کا حکم دیا۔ سارے فرعونی دریا میں ڈوبنے لگے۔ جب فرعون غرق ہونے لگا اور عذاب کے فرشتے سامنے نظر آنے لگے تو کہا میں اُسی ایک وحدہٗ لاشریک لہٗ ہستی پر ایمان لاتا ہوں، جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے ہیں اور میں فرماں برداروں میں سے ہوں مگر یہ ایمان چونکہ حقیقی ایمان نہ تھا بلکہ گزشتہ فریب کاریوں کی طرف عذاب سے نجات حاصل کرنے کے لیے یہ بھی ایک مضطربانہ بات تھی اس لیے خدا کی طرف سے جواب ملا:
اٰۗلْــٰٔــنَ وَقَدْ عَصَيْتَ قَبْلُ وَكُنْتَ مِنَ الْمُفْسِدِيْنَ۝۹۱ (یونس:۹۱)
اب یہ کہہ رہا ہے حالاں کہ اس سے پہلے جو اقرار کا وقت تھا اُس میں انکار اور خلاف ہی کرتا رہا۔ اور درحقیقت تو مفسدوں میں سے تھا۔
فرعونیوں کی یہ تباہی محض اللہ کی نافرمانی سے ہوئی۔ تو جو بھی قانونِ الٰہی کی خلاف ورزی کرے گا۔ اُس پر دنیاوی مصیبتیں اور اخروی سزائیں بھی ہوں گی۔ فرعون کی طرح قارون بھی خدائی عذاب میں گرفتار ہوا، اور اُسے زمین میں دھنسا دیا گیا۔ دنیا و آخرت دونوں تباہ ہوگئی۔

Comments

Popular posts from this blog

Yusufzai (Pashtun tribe)

The  Yūsufzai  (also  Youssofzay ,  Yousefzai ,  Yousafzai ,  Esapzey ,  Yousufi , or  Yūsufi ) (Pashto:  يوسفزی ,Persian and Urdu:  یوسف زئی ) is one of the largest Pashtun (Afghans) tribes. The majority of the Yusufzai tribe reside in parts of Western Afghanistan, Khyber Pakhtunkhwa and Provincially Administered Tribal Areas near the Afghan-Pakistan border. They are the predominant population in the districts of Konar, Ningarhar, Mardan District, Dir, Swat,Malakand, Swabi, Buner, Shangla, Haripur District [Khalabat Town Ship and Tarbela] and in Mansehra and Battagram. There is also a Yusufzai clan of Dehwar tribe in the Mastung district of Balochistan who speak Persian with some mixture of Birahvi words. The descendants of Yusuf inhabit Konar, Jalalabad, Swat, Upper Dir, Lower Dir, Malakand Swabi and Mardan...

یہودی پروٹوکولز

Online Read یہودی پروٹوکولز ============================================== Online Read E Book یہودی پروٹوکولز ============================================== Download Free یہودی پروٹوکولز ---------------------------------------------------- Download Free یہودی پروٹوکولز ----------------------------------------------------

دین اسلام میں رسول اللہ ﷺ کی اطاعت فرض ہے

بسم اللہ الرحمن الرحیم دین اسلام میں رسول اللہ ﷺ کی اطاعت فرض ہے يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ أَطِيعُوا۟ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ وَلَا تَوَلَّوْا۟ عَنْهُ وَأَنتُمْ تَسْمَعُونَ ﴿20﴾ترجمہ: اے ایمان والو الله اور اس کے رسول کا حکم مانو اور سن کر اس سے مت پھرو(سورۃ الانفال،آیت20) قُلْ أَطِيعُوا۟ ٱللَّهَ وَأَطِيعُوا۟ ٱلرَّسُولَ ۖ فَإِن تَوَلَّوْا۟ فَإِنَّمَا عَلَيْهِ مَا حُمِّلَ وَعَلَيْكُم مَّا حُمِّلْتُمْ ۖ وَإِن تُطِيعُوهُ تَهْتَدُوا۟ ۚ وَمَا عَلَى ٱلرَّسُولِ إِلَّا ٱلْبَلَٰغُ ٱلْمُبِينُ﴿56﴾ترجمہ: کہہ دو الله اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرو پھر اگر منہ پھیرو گے تو پیغمبر تو وہی ہے جس کا وہ ذمہ دار ہے اورتم پر وہ ہے جو تمہارے ذمہ لازم کیا گیا ہے اور اگر اس کی فرمانبرداری کرو گے تو ہدایت پاؤ گے اور رسول کے ذمہ صرف صاف طور پر پہنچا دینا ہے (سورۃ النور،آیت 56) مَّن يُطِعِ ٱلرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ ٱللَّهَ ۖ وَمَن تَوَلَّىٰ فَمَآ أَرْسَلْنَٰكَ عَلَيْهِمْ حَفِيظًۭا ﴿80﴾ترجمہ: جو شخص رسول کی فرمانبرداری کرے گا تو بےشک اس نے اللہ کی فرمانبرداری کی اور جو نافرمانی کرے گا تو اے ...

قرآن حکیم کے نازل ہونے کی کیا غرض ہے

سورہ آلِ عمران هَـٰذَا بَيَانٌ لِّلنَّاسِ وَهُدًى وَمَوْعِظَةٌ لِّلْمُتَّقِينَ ﴿١٣٨﴾ یہ (قرآن) لوگوں کے لیے بیان صریح اور اہلِ تقویٰ کے لیے ہدایت اور نصیحت ہے۔ سورہ المآئدۃ يَا أَهْلَ الْكِتَابِ قَدْ جَاءَكُمْ رَسُولُنَا يُبَيِّنُ لَكُمْ كَثِيرًا مِّمَّا كُنتُمْ تُخْفُونَ مِنَ الْكِتَابِ وَيَعْفُو عَن كَثِيرٍ ۚ قَدْ جَاءَكُم مِّنَ اللَّـهِ نُورٌ وَكِتَابٌ مُّبِينٌ ﴿١٥﴾هْدِي بِهِ اللَّـهُ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَهُ سُبُلَ السَّلَامِ وَيُخْرِجُهُم مِّنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ بِإِذْنِهِ وَيَهْدِيهِمْ إِلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ ﴿١٦﴾  اے اہل کتاب! تمہارے پاس ہمارے پیغمبر (آخرالزماں) آ گئے ہیں کہ جو کچھ تم کتاب (الہٰی) میں سے چھپاتے تھے وہ اس میں سے بہت کچھ تمہیں کھول کھول کر بتا دیتے ہیں اور تمہارے بہت سے قصور معاف کر دیتے ہیں بےشک تمہارے پاس خدا کی طرف سے نور اور روشن کتاب آ چکی ہے۔جس سے خدا اپنی رضا پر چلنے والوں کو نجات کے رستے دکھاتا ہے اور اپنے حکم سے اندھیرے میں سے نکال کر روشنی کی طرف لے جاتا اور ان کو سیدھے رستہ پر چلاتا ہے۔ وَكَتَبْنَا عَلَيْه...

جمع عثمانی رِوایات کے آئینے میں

نبی مکرمﷺ کی حدیث مبارکہ ’’خَیْرُ النَّاسِ قَرْنِيْ ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَھُمْ ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَھُمْ‘‘۔(صحیح البخاري: ۲۶۵۲) پر جب نظر پڑتی ہے تو سر احسان و نیازمندی کے ملے جلے تاثر ات سے جھک جاتا ہے کہ واقعتا آپﷺ، صحابہ رضی اللہ عنہم اور تابعین رحمہم اللہ کا زمانہ خیر القرون تھا، کیونکہ اس میں بنی نوع اِنسان کی راہ روی اور اسلام کی سربلندی کے لیے وہ محنتیں اور کوششیں ہوئی ہیں کہ جس کی مثال آئندہ جمیع قرون میں پیش کرنا مشکل ہے۔ یقینا وہ لوگ اس قابل تھے کہ اُنہیں یہ ذمہ داری سونپی جاتی کہ وہ دینِ الٰہی اور شرع اللہ کو اپنی مکمل تشریحات کے ساتھ آئندہ نسلوں تک منتقل کریں، بلا شبہ وہ طائفہ فائزہ اپنے اس مقصد میں بامراد ہوا ہے۔ان جملہ ذمہ داریوں میں سے اَہم ترین ذمہ داری یہ تھی کہ ہدایت سماوی کے آخری ربانی صحیفہ کو محفوظ اور غیر متبدل شکل میں ہم تک پہنچایا جائے۔ ہمارا یہ قطعی ایمان ہے کہ وہ پیام اَیزدی آج اپنی سو فیصد اَصلی اور حقیقی شکل میں ہمارے درمیان موجود ہے۔ الحمد ﷲ علی ذلک۔اِس سلسلہ میں خیرالقرون میں جو سب سے اَہم کام ہوا ہے وہ سیدنا عثمان ذوالنورین رضی ال...

ان شاءاللہ لکھنے میں غلطی کرنا

بسم اللہ الرحمن الرحیم السلام علیکم ورحمتہ اللہ آ پ لوگوں نے اکثر کتابوں میں لفظ ان شاءاللہ کو اس طرح لکھا ہوا پڑھاہوگا انشاءاللہ اور جب کہ اس طرح لکھنے سے اس کا معنی بدل جاتا ہے۔ لفظ ان شاءاللہ کے اردو میں معنی بنتا ہے اگر اللہ نے چاہا اور جب کہ انشاء عربی میں کسی چیز کو بنانے کو کہتے ہیں اس طرح انشاءاللہ کے معنی بہت غلط بن جاتے ہیں ۔ہم لوگ عربی زبان سے واقفیت نہ رکھنے کی وجہ سے ایسی غلطیاں کر جاتے ہیں اللہ ہمیں معاف فرمائے آمین۔اللہ کا ارشاد ہے کہاِنَّآ اَنْشَاْنٰهُنَّ اِنْشَاۗءً 35۝ۙہم نے ان (کی بیویوں کو) خاص طور پر بنایا ہے۔الواقعہ:۳۵قَالَ اِنَّمَا يَاْتِيْكُمْ بِهِ اللّٰهُ اِنْ شَاۗءَ وَمَآ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِيْنَ 33 ؀جواب دیا کہ اسے بھی اللہ تعالٰی ہی لائے گااگر وہ چاہے اور ہاں تم اسے ہرانے والے نہیں ہو۔ھود:۳۳فَلَمَّا دَخَلُوْا عَلٰي يُوْسُفَ اٰوٰٓى اِلَيْهِ اَبَوَيْهِ وَقَالَ ادْخُلُوْا مِصْرَ اِنْ شَاۗءَ اللّٰهُ اٰمِنِيْنَ 99؀ۭپھر جب (سب کے سب) یوسف کے پاس پہنچے تو اس نے اپنے والدین کو (عزت و احترام کے ساتھ) اپنے پاس جگہ دی اور کہا، ''کہاگر اللہ نے چاہا تو...

قراء توں کا اِختلاف اور منکرینِ حدیث

یہ ایک مسلّمہ اَمر ہے کہ قرآن مجید کی ایک سے زیادہ قراء تیں ثابت ہیں۔ لیکن اہلِ قرآن کہلانے والے منکرین حدیث ان اختلافِ قراء ات کو نہیں مانتے۔ وہ کہتے ہیں کہ قرآن کی صرف ایک ہی قراء ت ہے اور یہ کہ خود نبیﷺنے قرآن کو کتابی صورت میں مرتب اور مدوّن کیا اور اس پر اعراب و نقطے لگوائے تھے جبکہ یہ بات خلاف ِ واقعہ ہے۔جناب پرویز صاحب لکھتے ہیں:’’ہم سمجھتے ہیں کہ اس کے بعد ’اختلاف قراء ت‘ کے فتنہ کے متعلق کچھ سمجھنے کی ضرورت باقی نہیں رہتی‘‘(طلوع اسلام، ص۵۶، شمارہ جنوری ۱۹۸۲ء، لاہور)وہ مزید لکھتے ہیں :’’قرآن مجیدجس شکل میں ہمارے پاس موجود ہے اسے خود رسول اللہﷺنے اسی طرح مرتب اور مدوّن شکل میں اُمت کو دیا تھا۔‘‘(طلوع اسلام، ص۴۲، شمارہ جنوری۱۹۸۲ء، لاہور)اسی طرح ایک اور منکرِ حدیث رحمت اللہ طارق صاحب نے لکھا ہے :’’اختلاف قراء ت کا فتنہ ہی لے لیجئے جس کا مودودی صاحب جیسا شخص نہ صرف معترف اور معتقد ہے بلکہ سرگرم مبلغ اور پُرجوش ناشر ہے۔‘‘(اعجاز قرآن و اختلاف قراء ت، مرتبہ تمنا عمادی:۷۴۲) طارق صاحب نے مزید لکھا ہے :’’ لَوْ کَانَ مِنْ عِنْدِ غَیْرِ اﷲِ لَوَجَدُوْا فِیْہِ اخْتِلَافًا کَثِیْرًا ‘‘...

جمع قرآن اور اس کی تدوین

جمع قرآن اور اس کی تدوین جمع قرآن سے مراد قرآن کریم کا جمع کرنا۔ خواہ حفظ سے ہو یا کتابت سے یا تلاوت کی ریکارڈنگ سے۔ اور تدوین سے مراد اس کو کتابی صورت میں ترتیب دینا ہے۔ان سب مراحل کی ایک دل چسپ معلوماتی تاریخ ہے جسے ایک طالب علم کے لئے جاننا بہت اہم ہے۔تاکہ وہ آگاہ رہے کہ یہ مقدس کتاب کس طرح کن کن ادوار سے گذر کر محفوظ ترین صورت میں ہم تک پہنچی؟مقصد جمع قرآن: جمع قرآن کا مقصد یہی تھا کہ جس طرح قرآن مجید آپ ﷺ پر اترا ہے اور جس طرح آپ نے اسے پڑھا یا سکھایا ہے اسے لکھ کر محفوظ کرلیا جائے۔ یہ اللہ کا حکم تھا تاکہ مستقبل میں ممکنہ اختلاف جو قراءت یا اس کے الفاظ ، ترتیب اور لغت میں پیدا ہوسکتا ہے وہ نہ ہوسکے۔ اللہ تعالیٰ نے خود بھی اس کی حفاظت کی ذمہ داری لی مگر اس حفاظت کا کام صحابہ رسول اور امت کے قراء وحفاظ سے بھی لیا۔جمع قرآن کی دلیل: آپ ﷺ قرآن کی تنزیل میں سخت شدت محسوس کیا کرتے۔ اور اپنے ہونٹوں کو حرکت دیا کرتے تھے۔ جیسا کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت صحیحین میں ہے۔تو اللہ تعالیٰ نے ابتداء میں ہی یہ فرمادیا : {لَا تُحَرِّكْ بِہٖ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ...

عورت، اسلام کی نظر میں

عورت جاہلیت میں نہایت ذلیل وحقیر چیز تھی یہاں تک کہ اسلام آیا تو اس نے اسے ایسی عزت وتکریم بخشی جس کی کوئی نظیر نہیں۔ اس نے جاہلیت کے مظالم سے اسے نجات دی اور اس کے حقوق کا ضامن وکفیل ہوا۔ اس نے عورت کو بہت سی دینی واجبات اور ثواب وعقاب میں اسے مردوں کے مساوی قرار دیا۔ چنانچہ اسے اسلام میں بہت زیادہ عزت وتکریم ملی ۔ إن الحمد لله، نحمده, ونستعينه، ونستغفره، ونعوذ بالله من شرور أنفسنا وسيئات أعمالنا، من يهده الله فلا مضل له، ومن يضلل فلا هادى له، وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له، وأشهد أن محمداً عبده ورسوله،وقد قال اللہ تبارک وتعالی فی محکم تنزیلہ، أعوذ باللہ من الشیطان الرجیم: (مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّن ذَكَرٍ أَوْ أُنثَىٰ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهُ حَيَاةً طَيِّبَةً ۖ وَلَنَجْزِيَنَّهُمْ أَجْرَهُم بِأَحْسَنِ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ) (النحل: 97)"جو شخص نیک عمل کرے مرد ہو یا عورت، لیکن باایمان ہو تو ہم اسے یقیناً نہایت بہتر زندگی عطا فرمائیں گے۔ اور ان کے نیک اعمال کا بہتر بدلہ بھی انہیں ضرور ضرور دیں گے۔"وقال النبی صلی اللہ علیہ وسلم: )إنما النساء شقائ...

خیرخواہی وامانت داری

خیرخواہی وامانت داری خیر خواہی دین کی بنیاد ا ور اس کا جوہر ہے۔ دین دراصل خیر خواہی کا نام ہے۔ خیرخواہی اللہ کی، اس کے کتاب کی، اس کے رسول کی، مسلم ائمہ وحکمرانوں کی اور عامۃ المسلمین کی ہوتی ہے۔ پس جب ان تمام کے حق میں بندہ خیرخواہ ہوگا تو اس کا دین کامل ہوگا اور جس میں ان میں سے کسی کی خیرخواہی میں کمی و کوتاہی ہوگی تو اسی قدر اس کے دین میں نقص وکمی ہوگی۔ مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اپنی خیرخواہی میں امانت کو ملحوظ رکھے اور بغیر کسی مداہنت ومجاملت کے حق کو بیان کرے۔ یہی شخص اللہ کے نزدیک امین ہوگا۔ إن الحمد لله، نحمده ونستعينه ونستغفره، ونعوذ بالله من شرور أنفسنا، وسيئات أعمالنا، من يهده الله فلا مضل له، ومن يضلل فلا هادى له، وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له، وأشهد أن محمداً عبده ورسوله۔ أما بعد: فإن خیر الحدیث کتاب اللہ، وخیر الھدی ھدی محمد صلی اللہ علیہ وسلم، وشر الأمور محدثاتھا، وکل محدثۃ بدعۃ، وکل بدعۃ ضلالۃ، وکل ضلالۃ  فی النار۔  وقد قال اللہ تبارک وتعالی فی کتابہ المجید: (إِنَّ اللَّـهَ يَأْمُرُكُمْ أَن تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَىٰ أَهْلِهَا وَإِذَا حَ...