Skip to main content

اللہ و رسول ﷺ کی اطاعت کا بیان


بسم ا للہ الرحمن الرحیم۔ الحمد للہ رب العالمین۔ الرحمن الرحیم۔ مالک یوم الدین۔ والصلوۃ والسلام علی رسولہ المبین سیدنا محمد خاتم النبیین۔ وعلی جمیع الانبیاء والمرسلین۔ وسائر عباد اللہ الصالحین۔ اما بعد! فاعوذ باللہ من الشیطن الرجیم ط بسم اللہ الرحمن الرحیم ط يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَطِيْعُوا اللہَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ وَاُولِي الْاَمْرِ مِنْكُمْ۝۰ۚ فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِيْ شَيْءٍ فَرُدُّوْہُ اِلَى اللہِ وَالرَّسُوْلِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللہِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ۝۰ۭ ذٰلِكَ خَيْرٌ وَاَحْسَنُ تَاْوِيْلًا۔ (النساء:۵۹)
سب تعریف اللہ کے لیے ہے، جو سار
ے جہاں کا پالنے والا ہے، بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، بدلے کے دن (قیامت )کا مالک ہے، اور درودوسلام نازل ہوں، ا للہ تعالیٰ کے رسول پر جو احکام الٰہی کے ظاہر کرنے والے ہیں، ہمارے سردار جن کا نام نامی اسم گرامی محمد ﷺ ہے، جو سب نبیوں کے ختم کرنے والے ہیں، اور اللہ کے تمام نبیوں ا ور رسولوں پر، اور ا للہ کے تمام نیک بندوں پر، حمد و صلوۃ کے بعد، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ا ے ایمان والوفرمانبرداری کرو اللہ کی اور فرمانبرداری کرو رسول ﷺ کی اور تم میں سے اختیار والوں کی، پھر اگر کسی چیز میں اختلاف کرو، تو اسے رجوع کرو اللہ کی طرف اور اس کے رسول کی طرف اگر تمہیں خدا پر اور قیامت کے دن پر ایمان ہے یہ بہت بہتر ہے، اور باعتبار انجام کے بہت اچھا ہے۔
اطاعت کے معنی فرمانبرداری اور حکم کی بجاآوری کے ہیں، یعنی ہر کام میں اور ہر معاملہ میں خدا اور اس کے رسول کے ارشاد کے مطابق عمل کرنا چاہیے، خواہ دین کا معاملہ ہو یا دنیا کا معاملہ ہو، اس اطاعت اور فرمانبرداری پر قرآن مجید میں بہت زور دیا گیا ہے، اور جگہ جگہ اطیعوااللہ واطیعوالرسول تاکیدی حکم آیا ہے، چند آیتوں کو پڑھئے، سنئے اور سمجھئے تاکہ اطاعت کا مفہوم کما حقہ سمجھ میں آجائے:
وَاَطِيْعُوا اللہَ وَالرَّسُوْلَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ۔ (آل عمران:۱۳۲)
اور اطاعت کرو اللہ تعالیٰ کی اور اطاعت کرو رسول ﷺ کی تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔
وَمَنْ يُّطِعِ اللہَ وَالرَّسُوْلَ فَاُولٰۗىِٕكَ مَعَ الَّذِيْنَ اَنْعَمَ اللہُ عَلَيْہِمْ۔ (النساء:۶۹)
اور جو لوگ اللہ اور رسولﷺ کی اطاعت کرتے ہیں، تو یہ ان لوگوں کیساتھ ہوں گے، جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام کیا۔
مَنْ يُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللہَ۔ (النساء:۸۰)
جو شخص اللہ کے رسول کی اطاعت کرتا ہے، وہ یقینا اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتا ہے۔
وَاَطِيْعُوا اللہَ وَرَسُوْلَہٗ وَلَا تَنَازَعُوْا فَتَفْشَلُوْا وَتَذْہَبَ رِيْحُكُمْ۔ (انفال:۴۶)
اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو، آپس میں جھگڑا نہ کرو، ورنہ تم بزدل ہو جاؤ گے، اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی۔
قُلْ اَطِيْعُوا اللہَ وَالرَّسُوْلَ۝۰ۚ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّ اللہَ لَا يُحِبُّ الْكٰفِرِيْنَ۔ (آل عمران:۳۲)
کہہ دیجیے کہ اللہ اور اس کے رسولﷺ کی اطاعت کرو، پھر اگر وہ پھر جائیں تو اللہ تعالیٰ کافروں سے محبت نہیں کرتا۔
وَاَطِيْعُوا اللہَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ وَاحْذَرُوْا۔ (المائدۃ:۹۲)
اور اللہ کی اطاعت کرو اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرو اور بچتے رہو۔
قُلْ اَطِيْعُوا اللہَ وَالرَّسُوْلَ۔ (آل عمران:۳۲)
کہہ دیجیے ا للہ کی اطاعت کرو، اوراس کے رسولﷺ کی بھی اطاعت کرو۔
وَمَنْ يُّطِعِ اللہَ وَرَسُوْلَہٗ وَيَخْشَ اللہَ وَيَتَّقْہِ فَاُولٰۗىِٕكَ ہُمُ الْفَاۗىِٕزُوْنَ۔ (النور:۵۲)
اور جو اللہ اور اس کے رسولﷺ کی اطاعت کرتا ہے اور اس سے ڈرتا ہے، تو یہی لوگ بامراد ہیں۔
وَاَقِيْمُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتُوا الزَّكٰوۃَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ۔(النور:۵۶)
اور نماز قائم کرو، اور زکوۃ دو، اور اللہ کی اطاعت کرو، ا ور اس کے رسول کی اطاعت کرو، تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔
وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَّلَا مُؤْمِنَۃٍ اِذَا قَضَى اللہُ وَرَسُوْلُہٗٓ اَمْرًا اَنْ يَّكُوْنَ لَہُمُ الْخِـيَرَۃُ مِنْ اَمْرِہِمْ۝۰ۭ وَمَنْ يَّعْصِ اللہَ وَرَسُوْلَہٗ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًا مُّبِيْنًا۔(الاحزاب:۳۶)
اور نہ کسی مومن مرد اور نہ کسی مومنہ عورت کے شایان شان ہے کہ جب اللہ اور اس کا رسولﷺ کسی بات کا فیصلہ کر دیں،تو وہ اس معاملہ میں اپنا کچھ اختیار سمجھیں، اور جو کوئی اللہ اور اس کے رسولﷺ کی نافرمانی کرتا ہے، تو وہ کھلی گمراہی میں گمراہ ہوگیا۔
ان دس آیتوں سے اطاعت اور فرمانبرداری کی تاکید صراحۃً ثابت ہوتی ہے، ا ور رسول کی اطاعت خدا ہی کی اطاعت ہے، اور بہت سی حدیثیں بھی اس اطاعت کی اہمیت میں آتی ہیں، جن میں سے دو چار حدیثیں ہم آپ کو سناتے ہیں، حضرت جابر رضی ا للہ عنہ بیان کرتے ہیں:
جآءت ملائکۃ الی النبیﷺ فقالواان لصاحبکم ھذا مثلا فاضربوالہ مثلا قال بعضھم انہ نآئم وقال بعضھم ان العین نائمۃ والقلب یقظان فقالوا مثلہ کمثل رجل بنی داراو جعل فیھامادبۃ وبعث داعیا فمن اجاب الداعی دخل الدارواکل من المادبۃ و من لم یجب الداعی لم ید خل ا لدار ولم یاکل من المادبۃ فقالوا اولوھا لہ یفقھھا قال بعضھم انہ نائم و قال بعضھم ان العین نائمۃ والقلب یقظان فقالوا الدار الجنۃ و الداعی محمد فمن اطاع محمدا فقد اطاع اللہ ومن عصی محمدا فقد عصی اللہ ومحمد فرق بین الناس۔(رواہ البخاری)
رسول اللہ ﷺ کے پاس فرشتوں کی ایک جماعت حاضر ہوئی، جب کہ آپﷺ سورہے تھے ان فرشتوں نے آپس میں کہا، کہ تمہارے ان صاحب (محمد ﷺ) کی ایک مثال ہے، اس مثال کو بیان کرو، ان میں سے بعض فرشتوں نے کہا، آپ سو رہے ہیں، (مثال بیان کرنے سے کیا فائدہ جب کہ سن نہیں سکتے، ان میں سے (بعض فرشتوں نے اس کا یہ جواب دیا، کہ آنکھ سوتی ہے، دل جاگتا ہے، (جو کچھ تم بیان کرو گے وہ سمجھ لیں گے، پھر وہ بیان کرنے لگے) ان کی ایسی مثال ہے ، جیسے کسی شخص نے مکان تیار کیا، اور لوگوں کو کھانا کھلانے کے لئے دستر خوان چنا، یعنی دعوت کا اہتمام کیا، اور لوگوں کو دعوت دینے کے لئے ایک شخص کو بھیجا، (یہ بلانے والا سب کو دعوت دے رہا ہے) تو جس نے اس بلانے والے کی دعوت منظور کر لی، اور اس کے ساتھ چلا آیا، تو اس کے ساتھ اس مکان میں داخل ہو جائے گا ا ور چنے ہوئے دستر خوان سے کھانا بھی کھائے گا، اور جس نے اس دعوت دینے والے کی بات نہ مانی، اور نہ دعوت کو قبول کیا، تو وہ نہ مکان ہی میں داخل ہو سکتا ہے، اور نہ دعوت کا کھانا ہی کھا سکتا ہے، ان فرشتوں نے کہا(بہت بہترین مثال ہے لیکن) اس مثال کی توضیح و تشریح کر دو تاکہ آپ سمجھ لیں، اس پر بعض نے کہا کہ آپﷺ سو رہے ہیں(کیا سمجھیں گے)دوسرے نے جواب دیا، آپ ﷺ کی آنکھ سوتی ہے، مگر دل جاگتا ہے ( جو کہو گے آپ ﷺ صاف صاف سمجھ جائیں گے)پھر وہ کہنے لگے، وہ مکان تو جنت ہے، اور اس کا بلانے والا اللہ تعالیٰ ہے، اور اس نے لوگوں کو دعوت دینے کے لیے محمد ﷺ کو بھیجا ہے، کہ آپﷺ بلانے والے ہیں، پس جس نے محمد ﷺ کی دعوت منظور کر لی، اور آپﷺ کی اطاعت کر لی اس نے اللہ کی اطاعت کرلی، وہ مکان میں داخل ہوگا، اور وہاں کی نعمتوں کو کھائے گا، ا ور جس نے محمد ﷺ کی نافرمانی کی اس نے اللہ کی نافرمانی کی(نہ وہ جنت میں داخل ہوسکتا ہے اور نہ وہاں کی نعمتوں کوکھا سکتا ہے) اورمحمد ﷺ لوگوں میں فرق کرنے والے ا ور تمیز کرنے والے ہیں۔
یعنی کافر اور مومن میں یہی تمیز ہے، کہ جو اللہ کے رسول کی تابعداری کرے گا، وہ مومن ہوگا، اور جو رسول کی اطاعت نہیں کرے گا، وہ کافر ہوگا، جیسا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
کل امتی یدخلون الجنۃ الامن ابی قیل ومن ابی قال من اطاعنی دخل الجنۃ ومن عصانی فقد ابی ۔ (بخاری)
میری امت کا ہر شخص جنت میں داخل ہوگا، مگر جس نے میرا انکار کیا(وہ داخل نہیںہوگا) آپﷺ سے دریافت کیا گیا، وہ کون شخص ہے، جس نے آپﷺ کا انکار کیا، آپﷺ نے فرمایا: جس نے میری تابعداری کی وہ جنت میں داخل ہوگا، اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے میرا انکار کر دیا ہے۔
اس حدیث سے معلوم ہوا، کہ رسولﷺ کی پیروی فرض ہے، اور نافرمانی کرنے والا جنت میں داخل نہیں ہوگا، حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:
قال رسول اللہ ﷺ انما مثلی ومثل ما بعثنی اللہ بہ کمثل رجل اتی قوما فقال یا قوم انی رایت الجیش بعینی وانی انا النذیرا لعریان فالنجاء النجاء فاطاعہ طائفۃ من قومہ فادلجوا فانطلقوا علی مھلھم فنجوا وکذبت طائفۃ منھم فاصبحوا مکانھم فصبحھم الجیش فاھلکھم واجتاحھم فذلک مثل من اطاعنی فاتبع ما جئت بہ ومثل من عصانی وکذب ما جئت بہ من الحق۔ (متفق علیہ)
انہوں نے کہا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کہ میری اور اس دین کی مثال جس کو اللہ تعالیٰ نے مجھے دے کر دنیا میں بھیجا ہے، اس شخص کی طرح ہے، جو اپنی قوم کے پاس آیا، اور کہا اے میری قوم! میں نے دشمن کے لشکر کو اپنی دونوں آنکھوں سے دیکھا ہے(وہ دشمن بہت جلد حملہ آور ہونے والا ہے) میں تم کو اس دشمن سے ہوشیار کرتا ہوں اور خیر خواہی کے لیے تمہیں ڈراتا ہوں، لہٰذا اس دشمن کے آنے سے پہلے اپنی نجات کا سامان کرلو، اور بچنے کی کوئی صورت نکال لو، اس کی ان ناصحانہ باتوں کو سن کر اس کی قوم کے کچھ لوگوں نے اس کا کہا مان لیا، ا ور راتوں رات آہستہ آہستہ وہاں سے چل پڑے، اور دشمن سے نجات پا گئے، اور کچھ لوگوں نے اس کو نہ سمجھا، اور صبح تک اپنے بستروں پر سوئے پڑے رہے، کہ دشمن کا لشکر صبح ان پر ٹوٹ پڑا، اور ان کو ہلاک و برباد کر ڈالا، اور ان کی نسل کا خاتمہ کر دیا، پس بالکل ہو بہو یہی مثال اس شخص کی ہے، جس نے میری بات مان لی، ا ور میری تابعداری کی، اور جو احکام خدا کی طرف سے لایا ہوں، ان کی پیروی کی ، ا ور اس شخص کی جس نے میری نافرمانی کی، اور میری لائی ہوئی سچی بات کی تکذیب کی، اور اس کو جھٹلایا۔
یعنی اطاعت اور تابعداری کرنے والا نجات پائے گا، اور نافرمانی کرنے والا ہلاک ہوگا، اللہ تعالیٰ ہم سب مسلمانوں کوخدا اوررسول کی تابعداری کا سچا جذبہ عطا فرمائے، اور اسی پر ہم سب کا خاتمہ کرے ، آمین یا رب العالمین۔
واخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔

Comments

Popular posts from this blog

Yusufzai (Pashtun tribe)

The  Yūsufzai  (also  Youssofzay ,  Yousefzai ,  Yousafzai ,  Esapzey ,  Yousufi , or  Yūsufi ) (Pashto:  يوسفزی ,Persian and Urdu:  یوسف زئی ) is one of the largest Pashtun (Afghans) tribes. The majority of the Yusufzai tribe reside in parts of Western Afghanistan, Khyber Pakhtunkhwa and Provincially Administered Tribal Areas near the Afghan-Pakistan border. They are the predominant population in the districts of Konar, Ningarhar, Mardan District, Dir, Swat,Malakand, Swabi, Buner, Shangla, Haripur District [Khalabat Town Ship and Tarbela] and in Mansehra and Battagram. There is also a Yusufzai clan of Dehwar tribe in the Mastung district of Balochistan who speak Persian with some mixture of Birahvi words. The descendants of Yusuf inhabit Konar, Jalalabad, Swat, Upper Dir, Lower Dir, Malakand Swabi and Mardan...

اسلامی عقیدہ کا اہم پہلو الوَلاء والبراء

وَلاء کے معنی بیان کرتے ہوئے امام راغبؒ نے فرمایاہے کہ ’ولائ‘ کے اصل معنی ’’دو یا دو سے زیادہ چیزوں کااس طرح یکے بعد دیگرے آنا کہ ان کے درمیان کوئی ایسی چیز نہ آئے جو ان میں سے نہ ہو۔ پھر یہ لفظ استعارہ کے طور پر قرب کے معنی میں استعمال ہونے لگا ہے، خواہ وہ قرب بلحاظ مکان ہو یا بلحاظِ نسب، یا بلحاظِ دین اور دوستی و نصرت کے ہو، یا بلحاظِ اعتقاد کے۔ ‘‘ (المفردات،ص۵۵۵) اسی سے لفظ ’ولی‘ ہے جس کی ضد ’عدوّ‘ (دشمن) ہے اور اسی سے ’الموالات‘ اور ’المواسات‘ ہے جس کے معنی میں تقرب، دوستی، تعاون، مدد، صلح، اور غم خواری کا مفہوم پایا جاتاہے۔ وَلاء کے مقابلے میں بَراء ہے جس کے اصل معنی:کسی ناپسندیدہ اور مکروہ امر سے نجات حاصل کرنا کے ہیں۔ اسی لئے کہا جاتاہے: براء تُ من المرض’’میں تندرست ہوگیا، میں نے بیماری سے نجات پائی۔‘‘ اوریوں بھی کہا جاتا ہے: براء تُ من فلان یعنی ’’میں فلاں سے بیزارہوں۔‘‘ گویا’ولائ‘ میں موالات ہے اور ’برائ‘ میں انقطاع اور بیزاری مراد ہے اور یہ دونوں حقیقۃً ’محبت‘ اور’بُغض‘کے تابع ہیں اور یہی دونوں ایمان کی بنیادی صفات ہیں۔ رسول اللہﷺ کاارشاد ہے : ’’من أ...

عہد رسالت میں کتابت قرآن

سرورکائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے مندرجہ ذیل صحابہ کو کاتب وحی مقرر فرمایا تھا: حضرت بوبکررضی اللہ تعالٰی عنہ ، عمرفاروقرضی اللہ تعالٰی عنہ، عثمانرضی اللہ تعالٰی عنہ، علیرضی اللہ تعالٰی عنہ، معاویہرضی اللہ تعالٰی عنہ ، زید بن ثابت رضی اللہ تعالٰی عنہ،ابی بن کعبرضی اللہ تعالٰی عنہ، خالد بن ولیدرضی اللہ تعالٰی عنہ،ثابت بن قیسرضی اللہ تعالٰی عنہ،۔ قرآن کا جو حصہ نازل ہوتا آپ صحابہ کو مامور فرماتے کہ اسے تحریر کرلیں یہاں تک کہ کتابت کے پہلو بہ پہلو قرآن کریم کو سینوں میں بھی محفوظ کرلیا گیا۔(مشہور مستشرق بلاشیر نے کاتبین وحی صحابہ کی تعداد چالیس بتائ ہے دیگر مستشرقین مثلاً شفالی بہل اور کازانوفاکا زاویہ نگاہ بھی یہی ہے مؤخر الذکر نے اس ضمن میں طبقا ابن سعد، طبری ، نووی اور سیرت حلبی پر اعتماد کیا ہے ۔) محدث حاکم نےمستدرک میں زید بن ثابت سے بخاری ومسلم کی شرط کے مطابق روایت کیا ہے کہ زید بن ثابت نے کہا ہم عہد رسالت میں ''رقاع''(ٹکڑوں)سے قرآن جمع کیا کرتے تھے ۔ (الاتقان،ج۱ص،۹۹نیز البرہان ،ج۱ص۲۳۷) مذکورہ صدر حدیث میں ''رقاع ''کا جو لفظ وا...

شرک فی التصرف کا بیان

بسم اللہ الرحمن الرحیم اللّٰھم لک الحمد حمدا یوافی نعمک ویکافی مزید کرمک احمد ک بجمیع محا مدک ما علمت و ما لم اعلم علی جمیع نعمک ما علمت منھا وما لم اعلم وعلی کل حالط اللّٰھم صل علی محمد و علی ال محمد و بارک وسلم۔ اما بعد۔ فاعوذ باللہ من الشیطن الرجیم ط بسم اللہ الرحمن الرحیمط قُلِ ادْعُوا الَّذِيْنَ زَعَمْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللہِ۝۰ۚ لَا يَمْلِكُوْنَ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ فِي السَّمٰوٰتِ وَلَا فِي الْاَرْضِ وَمَا لَہُمْ فِيْہِمَا مِنْ شِرْكٍ وَّمَا لَہٗ مِنْہُمْ مِّنْ ظَہِيْرٍ۝۲۲ وَلَا تَنْفَعُ الشَّفَاعَۃُ عِنْدَہٗٓ اِلَّا لِمَنْ اَذِنَ لَہٗ۝۰ۭ حَتّٰٓي اِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوْبِہِمْ قَالُوْا مَاذَا۝۰ۙ قَالَ رَبُّكُمْ۝۰ۭ قَالُوا الْحَقَّ۝۰ۚ وَہُوَالْعَلِيُّ الْكَبِيْرُ۝۲۳ (السبا:۲۲۔۲۳) اے میرے محسن خدا! کل تعریفوں کا مستحق تو ہی ہے، میں تیری وہ تعریف کرتا ہوں جو تیری دی ہوئی نعمتوں کا بدل ہو، ا ور اس سے جو زیادہ دے، اس کا بدلہ ہو، اور پھر میں تیری جن نعمتوں کو جانتا ہوں اور جن کو نہیں جانتا سب ہی کا ا ن خوبیوں کے ساتھ شکریہ ادا کرتا ہوں، جس کا مجھ کو علم ہے اور جن کا نہیں، غرضیکہ ہر ...

کتاب اللہ کی کون سی آیت سب سے عظیم ہے؟

آیۃ الکرسی کی فضیلت !!! آیۃ الکرسی کی کیااھمیت ہے ؟ اور کیا اس آیت کی عظمت پرکوئ دلیل وارد ہے ؟ الحمد للہ ابن کثیررحمہ اللہ تعالی سورۃ البقرۃ کی آیۃ الکرسی کی تفسیرکرتےہو‏ۓ کہتے ہیں : یہ آیۃ الکرسی ہے جس کی فضیلت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح حدیث میں ہے کہ کتاب اللہ میں یہ آیت سب سے افضل آیت ہے ۔ ابی بن کعب رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نےان سے سوال کیا کہ کتاب اللہ میں سب سے عظیم آیت کونسی ہے ؟ تو وہ کہنے لگے کہ اللہ اور اس کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم کوہی زیادہ علم ہے ، یہ سوال کئ باردھرایا اور پھر فرمانےلگے کہ وہ آیت الکرسی ہے ۔ فرمانے لگے اے ابوالمنذر علم مبارک ہو اس ذات کی قسم جس کےھاتھ میں میری جان ہے اس آیت کی زبان اور ہونٹ ہونگے عرش کے پاۓ کے ہاں اللہ تعالی کی پاکی بیان کررہی ہوگی ۔ اور غالبا مسلم نے والذی نفسی سے آگے والے الفاظ نہیں ہیں ۔ عبداللہ بن ابی بن کعب رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ ان کے والد کے پاس کھجوریں رکھنے کی جگہ تھی ، عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں میرے والد اس کاخیال رکھتے تھے تو...

حکایت

حضرت شیخ الاسلام امام غزالی نے احیاء العلوم میں ایک حاسد آدمی کی یہ حکایت فرمائی ہے کہ ایک شخص بادشاہ کے سامنے کھڑا ہوکر یہ کہا کرتا تھا کہ نیک لوگوں کے ساتھ نیکی کرو اور محسن کے احسان کا بدلہ دو کیوںکہ برائی کرنے والے کی برائی تمہاری طرف سے خود کفایت کرے گی۔ یہ شخص بادشاہ کے سامنے یہ نصیحت کیا کرتا تھا جس سے اس کی بڑی عزت تھی۔ اس کی عزت، عظمت اور مرتبہ کو دیکھ کر ایک شخص کو حسد پیدا ہوگیا۔ اس نے بادشاہ سے شکایت کی کہ یہ شخص حضور کے سامنے کھڑا ہوکر گندہ دہن بتاتا ہے۔ بادشاہ نے کہا اس کی تصدیق کیسے ہو؟ حاسد نے کہا جب وہ آپ کے پاس آئے تو آپ اسے اپنے قریب بلا لیجیے، جب وہ آپ کے بالکل قریب آجائے گا تو اپنی ناک بند کرلے گا، تاکہ آپ کے منہ کی بدبو نہ آنے پائے۔ بادشاہ نے کہا بہت اچھا، کل امتحان کریں گے۔ ادھر اس حاسد نے بادشاہ سے یہ کہا، ادھر اس نے جاکر اس ناصح و نیک آدمی کی دعوت کرکے ایسا کھانا کھلایا جس میں لہسن بہت سا تھا۔ یہ کھانا کھا کر فارغ ہی ہوا تھا کہ دربار کا وقت آگیا۔ بدستور سابق بادشاہ کے سامنے کھڑے ہوکر اس نے وہی جملہ کہا جو کہا کرتا تھا۔ بادشاہ نے اس کو اپنے پاس بلانے کا ...

Muslim Christian Dialogue

Title: Muslim Christian Dialogue Author: H. M. Baagil, M.D. Category: Introduction to Islam Filetype: pdf Filesize: 556 KB Description: Download

مدرّسینِ قرآن کے لیے خصوصی ہدایات کتاب وسنت کی روشنی میں

پچھلی دو تین دہائیوں سے فہم قرآن کی جو تحریک پاکستان کے بڑے بڑے شہروں میں بالعموم اور شہر لاہور میں بالخصوص جس تیزی سے پھیل رہی ہے و ہ واقعتا ایک بہت ہی مستحسن امر ہے۔اوریہ کہنے میں بھی کوئی مبالغہ نہیں ہے کہ اس تحریک نے ایک بہت بڑے تعلیم یافتہ طبقے کومتأثر کیا ہے اور ہزاروں افراد کی زندگیوں کے رُخ کویکسر تبدیل کر دیا ہے ۔یہ اسی درسِ قرآن اور ترجمۂ قرآن کی کلاسز کے ہی ثمرات ہیں کہ آج ہر طرف فہم قرآن کے ادارے نظر آتے ہیں اورقرآن کے درس وتدریس کا رجحان بہت تیزی سے بڑھ رہا ہے ۔ہم فہم قرآن کی اس تحریک کے حق میں ہیں اور اس کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں،لیکن چونکہ اس تحریک کے اکثر افراد نہ تو دینی مدارس کے فارغ طلبہ یاعلماء ہیں اور نہ ہی انہوں نے ٹھوس علمی بنیادوں پر دین یعنی قرآن وحدیث کاباقاعدہ علم حاصل کیا ہوتا ہے بلکہ یہ عموما دینی اسلامی تحریکوں کے متحرک کارکنان ہوتے ہیں،اس لیے اپنی کم علمی کی وجہ سے یہ حضرات بعض اوقات لا شعوری طور پر درسِ قرآن کے اصل مقصد سے ہٹ کر ایک ایسی راہ پر چلنا شروع کر دیتے ہیں جس سے خیر کم وجود میں آتا ہے اور فتنہ پیدا ہونے کا امکان بڑھ جاتا ہے ۔ایسے مدرسین،اپ...

اتباع سنت کا بیان

بسم اللہ الرحمن الرحیم الحمد للہ الذی لم یزل عالماً قدیرا حیاً قیوماً سمیعاً بصیراً و اشھد ان لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ واکبرہ تکبیراً۔ واشھد ان محمداعبدہ ورسولہ و صلی اللہ علی سیدنا محمد ن الذی ارسلہ الی الناس کافۃ بشیراً ونذیرًا۔ و علی الہ و صحبہ وسلم تسلیماً کثیراکثیرا۔ اما بعد! فاعوذ باللہ من الشیطن الرجیم۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللہَ فَاتَّبِعُوْنِيْ يُحْبِبْكُمُ اللہُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ۝۰ۭ وَاللہُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ۝۳۱ قُلْ اَطِيْعُوا اللہَ وَالرَّسُوْلَ۝۰ۚ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّ اللہَ لَا يُحِبُّ الْكٰفِرِيْنَ۝۳۲ (آل عمران:۳۱۔۳۲) سب تعریف اللہ کے لیے ثابت ہے،جو ہمیشہ سے جاننے والا، قدرت والا، زندہ رکھنے والا، سنبھالنے والا، سننے والا اور دیکھنے والا ہے، اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ ایک اور یکتا ہے، جس کا کوئی شریک نہیں ہے، اور میں اس کی بڑائی بیان کرتا ہوں، اور اس بات کی گواہی دیتا ہوں ، کہ محمد ﷺ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، اللہ تعالیٰ ہمارے آقا محمد ﷺ پر رحمت کا ملہ نازل فرم...