وَلاء کے معنی بیان کرتے ہوئے امام راغبؒ نے فرمایاہے کہ ’ولائ‘ کے اصل معنی
’’دو یا دو سے زیادہ چیزوں کااس طرح یکے بعد دیگرے آنا کہ ان کے درمیان کوئی ایسی چیز نہ آئے جو ان میں سے نہ ہو۔ پھر یہ لفظ استعارہ کے طور پر قرب کے معنی میں استعمال ہونے لگا ہے، خواہ وہ قرب بلحاظ مکان ہو یا بلحاظِ نسب، یا بلحاظِ دین اور دوستی و نصرت کے ہو، یا بلحاظِ اعتقاد کے۔ ‘‘ (المفردات،ص۵۵۵)
اسی سے لفظ ’ولی‘ ہے جس کی ضد ’عدوّ‘ (دشمن) ہے اور اسی سے ’الموالات‘ اور ’المواسات‘ ہے جس کے معنی میں تقرب، دوستی، تعاون، مدد، صلح، اور غم خواری کا مفہوم پایا جاتاہے۔
وَلاء کے مقابلے میں بَراء ہے جس کے اصل معنی:کسی ناپسندیدہ اور مکروہ امر سے نجات حاصل کرنا کے ہیں۔ اسی لئے کہا جاتاہے:
وَلاء کے مقابلے میں بَراء ہے جس کے اصل معنی:کسی ناپسندیدہ اور مکروہ امر سے نجات حاصل کرنا کے ہیں۔ اسی لئے کہا جاتاہے:
براء تُ من المرض’’میں تندرست ہوگیا، میں نے بیماری سے نجات پائی۔‘‘
اوریوں بھی کہا جاتا ہے:
براء تُ من فلان یعنی ’’میں فلاں سے بیزارہوں۔‘‘
گویا’ولائ‘ میں موالات ہے اور ’برائ‘ میں انقطاع اور بیزاری مراد ہے اور یہ دونوں حقیقۃً ’محبت‘ اور’بُغض‘کے تابع ہیں اور یہی دونوں ایمان کی بنیادی صفات ہیں۔ رسول اللہﷺ کاارشاد ہے :
’’من أحبّ ﷲ وأبغض ﷲ وأعطٰی ﷲ ومنع ﷲ فقد استکمل الإیمان‘‘
’’ جس نے اللہ کے لیے محبت کی اور اللہ کے لیے دشمنی ،اللہ کے لیے دیا اور اللہ کے لیے نہ دیا تحقیق اس کا ایمان مکمل ہو گیا۔‘‘ (السلسلۃ الصحیحۃ:۳۸۰)
حضرت عبد اللہ بن عبا سؓ سے مروی ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا:
’’أوثق عری الإیمان،الموالاۃ في اﷲ والمعاداۃ في اﷲ والحب في اﷲ والبغض في اﷲ‘‘ (الطبراني؛ السلسلۃ الصحیحۃ : ۱۷۲۸)
’’ ایمان کی بلندی یہ ہے کہ اللہ کے لیے دوستی ہو،اللہ کے لیے دشمنی ہو، اللہ کے لیے محبت ہو اور اللہ کے لیے بغض ہو۔‘‘
اللہ سے محبت کا تقاضا ہے کہ اللہ کے انبیاے کرام اوران کے اطاعت گزاروں سے محبت کی جائے اسی طرح اللہ اور اس کے انبیاے کرام کے دشمنوں سے دشمنی اورعداوت رکھی جائے اور ان کے نافرمانوں سے علیٰ حسب الدرجات بغض رکھاجائے۔
شیخ الاسلام حافظ ابن تیمیہؒ نے فرمایا ہے:
شیخ الاسلام حافظ ابن تیمیہؒ نے فرمایا ہے:
’’علی المؤمن أن یعادي في اﷲ ویوالي في اﷲ فإن کان ھناک مؤمن فعلیہ أن یوالیہ، وإن ظلمہ، فإن الظلم لایقطع الموالاۃ الإیمانیۃ وإذا اجتمع في الرجل الواحد خیر وشر وفجور، وطاعۃ ومعصیۃ، وسنۃ وبدعۃ استحق من الموالاۃ والثواب بقدر ما فیہ من الخیر، واستحق من المعاداۃ والعقاب بحسب ما فیہ من الشر‘‘ (مجموع الفتاویٰ:۲؍۲۰۸، ۲۰۹)
اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے قرآنِ پاک میں متعدد مقامات پر مؤمنوں اور کافروں کے مابین موالات کی نفی کی ہے۔ چنانچہ ارشاد ہوتا ہے:
٭
٭
{یٰاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْا الْیَہُوْدَ وَالنَّصَارٰی اَوْلِیَائَ بَعْضُھُمْ اَوْلِیَائُ بَعْضٍ وَمَنْ یَّتَوَلَّھُمْ مِنْکُمْ فَإنَّہُ مِنْھُمْ} (المائدۃ:۵۱)
’’اے ایمان والو! یہود اور نصاری کو دوست نہ بناؤ یہ ایک دوسرے کے دوست ہیں اور جو شخص تم میں سے ان کو دوست بنائے گا وہ بھی انہیں میں سے ہو گا۔‘‘
٭
{یٰاَیُّھَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا لَاتَتَّخِذُوْا الْکٰفِرِیْنَ اَوْلِیَائَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤمِنِیْنَ}
’’ اے اہل ایمان! مومنوں کے سوا کافروں کو دوست نہ بناؤ۔‘‘ (النسائ: ۱۴۴)
٭
{یٰاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْا عَدُوِّیْ وَعَدُوَّکُمْ اَوْلِیَائَ} [الممتحنۃ:۱]
’’مؤمنو! اگر تم میری راہ میں لڑنے اور میری خوشنودی طلب کرنے کے لیے نکلے ہو تومیرے اور اپنے دشمنوں کو دوست مت بناؤ۔‘‘
٭
{یٰاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَاتَتَّخِذُوْا اٰبَائَ کُمْ وَاِخْوَانَکُمْ اَوْلِیَائَ اِنِ اسْتَحَبُّوْا الْکُفْرَ عَلَی الِایْمَانِ وَمَنْ یَتَوَلَّھُمْ مِنْکُمْ فَاُؤلٰئِکَ ھُمُ الظَّالِمُوْنَ} (التوبہ:۲۳)
’’اے اہل ایمان! اگر تمہارے ماں باپ اور بہن بھائی ایمان کے مقابل کفر کو پسند کریں تو ان سے دوستی نہ رکھواور جو ان سے دوستی رکھیں گے وہ ظالم ہیں۔‘‘
٭
{یٰاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْا الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا دِیْنَکُمْ ھُزُوًا وَّلَعِبًا مِنَ الَّذِیْنَ أوْتُوْا الْکِتَابَ مِنْ قَبْلِکُمْ وَالْکُفَّارَ اَوْلِیَائَ وَاتَّقُوْا اﷲَ إنْ کُنْتُمْ مُؤمِنِیْنَ} (المائدۃ: ۵۷)اس موضوع کی اور بھی آیاتِ مبارکہ ہیں مگر یہاں استیعاب مقصود نہیں۔ اس اہم حکم نافرمانی کے نتیجہ سے اللہ تعالیٰ نے ہمیں خبردار کیا ہے کہ
اے ایمان والو! جن لوگوں کو تم سے پہلے کتابیں دی گئی تھیں ان کو اور کافروں کو جنہوں نے تمہارے دین کو ہنسی اور کھیل بنا رکھا ہے دوست نہ بناؤ اور مومن ہو تو خدا سے ڈرتے رہو۔‘‘
{وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا بَعْضُھُمْ اَوْلِیَائُ بَعْضٍ إلَّا تَفْعَلُوْہُ تَکُنْ فِتْنَۃٌ فِیْ الْاَرْضِ وَفَسَادٌ کَبِیْرٌ} (الانفال:۷۳)
’’اور جو لوگ کافر ہیں (وہ بھی) ایک دوسرے کے رفیق ہیں تو (مومنو!) اگر تم یہ(کام) نہ کرو گے تو زمین میں فتنہ برپا ہو جائے گا اور بڑا فساد برپا ہو گا۔‘‘
٭
{قَدْ کَانَتْ لَکُمْ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ فِیْ اِبْرَاھِیْمَ وَالَّذِیْنَ مَعَہُ اِذْ قَالُوْا لِقَوْمِھِمْ إِنَّا بُرَئٰ ؤُا مِنْکُمْ وَمِمَّا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اﷲِ کَفَرْنَا بِکُمْ وَبَدَا بَیْنَنَا وَبَیْنَکُمُ الْعَدَاوَۃُ وَالْبَغْـضَائُ اَبَدًا حَتّٰی تُؤمِنُوْا بِاﷲِ وَحْدَہُ اِلَّا قَوْلَ اِبْرَاھِیْمَ لِاَبِیْہِ لَاَسْتَغْفِرَنَّ لَکَ وَمَا اَمْلِکُ لَکَ مِنَ اﷲِ مِنْ شَيْئٍ} (المُمتحنۃ:۴)
’’تم لوگوں کے لیے ابراہیم اور اس کے ساتھیوں میں ایک اچھا نمونہ ہے جب انہوں نے اپنی قوم کے لوگوں سے کہا کہ ہم تم سے اور ان (بتوں) سے جن کو تم خدا کے سوا پوجتے ہو بے تعلق ہیں۔تمہارے (معبودوں کے کبھی) قائل نہیں (ہو سکتے)اور جب تک خدائے واحد پر ایمان نہ لاؤ ہم میں تم میں ہمیشہ کھلم کھلی عداوت اور دشمنی رہے گی۔ہاں ابراہیم نے اپنے باپ سے یہ (ضرور) کہا کہ میں آپ کے لیے مغفرت مانگوں گا اور میں خدا کے سامنے آپ کے بارے میں کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتا۔‘‘
{وَمَا کَانَ اسْتِغْفَارُ اِبْرَاھِیْمَ لِاَبِیْہِ إلَّا عَنْ مَوْعِدَۃٍ وَّعَدَھَا اِیَّاہُ فَلَمَّا تَبَیَّنَ لَہُ أنَّہُ عَدُوٌّ ﷲِ تَبَرَّاَ مِنْہُ إِنَّ اِبْرَاہِیْمَ لَحَلِیْمٌ أَوَّاہٌ مُّنِیْبٌ } (التوبہ:۱۱۴)
’’اور ابراہیم کا اپنے باپ کے لیے بخشش مانگنا تو ایک وعدے کے سبب تھا جو وہ اس سے کر چکے تھے،لیکن جب ان کو معلوم ہو گیا کہ وہ خدا کا دشمن ہے تو اس سے بیزار ہو گئے بے شک ابراہیم بڑے نرم دل اور متحمل مزاج تھے۔‘‘
{وَمَا کَانَ لِلنَّبِیِّ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اَنْ یَسْتَغْفِرُوْا لِلْمُشْرِکِیْنَ وَلَوْ کَانُوْا أوْلِی قُرْبٰی مِنْ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَہُمْ اَنَّہُمْ اَصْحَابُ الْجَحِیْمِ} (التوبہ:۱۱۳)
’’نبی اور ان لوگوں کو جو ایمان لائے زیبا نہیں ہے کہ مشرکوں کے لیے مغفرت کی دعا کریں، چاہے وہ ان کے رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں جب کہ ان پر یہ بات کھل چکی ہے کہ وہ جہنم کے مستحق ہیں۔‘‘
’’ لایرث المسلم الکافر ولا الکافر المسلم ‘‘ (سنن ابوداؤد:۲۹۰۹ اور شیخ البانی ؒنے اس کو صحیح کہا ہے)
’’مسلمان اور کافر ایک دوسرے کے وارث نہیں ہوسکتے۔‘‘
’’حضرت علیؓ اور جعفر طیارؓ نے اسی لئے عم رسول ابوطالب کی وراثت وصول کرنے سے انکار کردیا اور ابوطالب کے وارث عقیل اور طالب ہی بنے تھے۔ ‘‘ (موطأ:۱۴۷۰)
بدر کے قیدیوں میں جن میں حضرت ابوبکرصدیق کا بیٹا عبدالرحمن بھی تھا، حضرت عمرؓ نے مشورہ دیتے ہوئے کہا:
یا رسول اﷲ ﷺ! کذّبوک وأخرجوک، قاتلوک فاضرب أعناقھم (مختصر ابن کثیر،ص۴۲۹)
’’ یا رسول اللہ! اُنہوں نے آپ کو جھٹلایا،مکہ سے نکال دیا، آپ سے لڑائی کی، آپ انکی گردنیں اڑا دیں۔‘‘
اسے ذرا مضبوطی سے باندھو اس کی ماں بہت مالدار ہے۔(قرطبی:۸؍۴۸)
جہاد بھی کفار سے براء ت ہی کااظہار ہے کہ جواللہ اور اس کے رسولؐ کا دشمن ہے، ہمارااس کے خلاف علیٰ اعلانِ جنگ ہے :
قال معاویۃ: واﷲ لئن لم تنـتہ وترجع إلی بلادک یا لعین لأصطلحن أنا وابن عمي علیک ولأخرجنک من جمیع بلادکیہاں یہ بات پیش نگاہ رہے کہ ایک تو وہ ہیں جو اللہ تعالیٰ اور رسول اللہﷺ کے منکر ہیں اور وہ غیر مسلم اور کافر ہیں۔ ان کے ساتھ موالات اور مواسات کی صراحتاً ممانعت ہے اور دوسرے وہ ہیں جنہیں ان کی کوتاہیوں کی بنا پر کافر قرار دیاجاتا ہے۔ یا ان کی بدعات وخرافات کی بنا پر اُنہیں کافر یا بدعتی کہاجاتا ہے اور پھر ان سے اسی اصول کے مطابق معاملہ کیاجاتاہے۔
’’ سیدنا معاویہ ؓنے (رومی بادشاہ کو جواب دیتے ہوئے) کہا: اے لعین! اگر تو باز نہ آیا اور اپنے ملک واپس نہ لوٹ گیا تو میں اور میرے چچاکا بیٹا (علیؓ)تیرے خلاف صلح کر لیں گے اور تجھے تیری ساری حکومت سے نکال دیں گے۔‘‘ (البدایۃ والنہایۃ:۸؍۵۱۴)
اس اصول کی روشنی میں دیکھا جائے تو آج کل فتنۂ تکفیر کی جو لہر چل نکلی ہے اور اس کے جو برگ و بار ہیں، وہ انتہائی خطرناک ہیں۔مثلاً {مَنْ لَمْ یَحْکُمْ بِمَا أنْزَلَ اﷲُ فَاُوْلٰئِکَ ھُمُ الْکٰفِرُوْنَ}کی وجہ سے مسلم حکمرانوں کے بارے میں فتویٰ کفراور اسی بنا پر ان کے خلاف خروج اور فساد کااِقدام۔حالانکہ اس آیت کے بارے حضرت عبد اللہ بن عباسؓ فرماتے ہیں:
من جَحَد ما أنزل اﷲ فقد کفر ومن أقرَّ بہٖ ولم یحکم بہ فھو ظالم فاسق‘‘ (تفسیرابن کثیر:۲؍۸۵، )
’’جس شخض نے اللہ کی نازل کردہ شریعت کا انکار کر دیا تحقیق اس نے کفر کیا اور جس نے اقرار کیا اور اس کے مطابق فیصلہ نہ کیا وہ ظالم فاسق ہے۔‘‘
’’لیس کفر ینقل عن الملۃ، لیس کمن یکفر باﷲ والملائکۃ وکتبہ ورسلہ‘‘ (فتح القدیر:۵۸)
’’ یہ ایسا کفر نہیں جو ملت اسلامیہ سے خارج کر دے اور نہ ہی اس شخص کے کفر کی طرح ہے جس نے اللہ،اس کے فرشتوں،کتابوں اور رسولوں کاانکار کیا۔‘‘
’’لیس بالکفر الذي تذہبون إلیہ‘‘
’’ یہ وہ کفر نہیں ہے جس کی طرف تم چل نکلے ہو۔‘‘ (فتح القدیر:۵۸)
قد أخبر النبي ! عن افتراق ھذہ الأمۃ، وظھور الأھواء والبدع فیھم وحکم بالنجاۃ لمن اتبع سنتہ، وسنۃ أصحابہ رضي اﷲ عنھم، فعلی المرء المسلم إذا رأیٰ رجلاً یتعاطی شیئًا من الأھواء والبدع معتقدًا، أو یتھاون بشيء من السنن، أن یھجرہ ویتبرأ منہ ویترکہ حیًّا ومیتًا، فلا یسلم علیہ إذا لقیہ، ولایجیبہ إذا ابتدأ، إلی أن یترک بدعتہ ویراجع الحق‘‘ (شرح السنہ:۱؍۲۲۴)
’’قد مضت الصحابۃ والتابعون وأتباعھم وعلماء السنۃ علی ھذا مجمعین متفقین علی معاداۃ أھل البدعۃ ومھاجرتھم‘‘ [ایضاً :۱؍۲۲۷]
صحابہ کرام رض سے تو صرف ایک حدیث کی مخالفت اور معارضت پر انکار اور ترکِ موالات معروف ہے۔ علامہ ابن قتیبہؒ نے ’المعارف‘ ص۵۵۰ میںاس کے متعلق متعدد واقعات ذکر کئے ہیں۔ علامہ بغویؒ کے علاوہ یہی بات علامہ ابن عبدالبر، علامہ نووی، علامہ شاطبی، اور حافظ ابن تیمیہ رحمہم اللہ نے کہی ہے۔
البتہ یہاں یہ بات ملحوظِ خاطر رہنی چاہئے کہ تمام بدعات یکساں اور ان کے مرتکبین ایک جیسے نہیں۔ جو بدعات حد ِکفر تک پہنچتی ہیں، ان سے بہرنوع براء ت کا اظہار ایمان کا تقاضا ہے۔البتہ جو بدعات اس سے کم تر ہیں، ان سے معاملہ بقدرِ بدعت ہونا چاہئے۔جیساکہ پہلے شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ کے حوالے سے گزرا ہے کہ ایک آدمی میں جب خیر و شر، طاعت ومعصیت اور سنت و بدعت دونوں جمع ہوں تو اس سے بقدرِ خیر موالات اور بقدرِشر ہی معادات اختیار کرنی چاہئے۔ (مجموع فتاویٰ :ج۲۸؍ ص۲۰۹،۲۱۰)
علامہ ابن ابی العز ؒنے بھی فرمایا ہے:’’الحب والبغض بحسب ما فیھم من خصال الخیر والشر فإن العبد یجتمع فیہ سبب الموالاۃ و سبب العداوۃ والحب والبغض فیکون محبوبًا من وجہ ومبغوضًا من وجہ والحکم للغالب‘‘ (شرح الصغیر الطحاویہ ص۴۳۴)
’’والثاني یقبل من لم یکن داعیۃ علی الأصح إلا أن روٰی ما یقوي بدعتہ فیردّ علی المختار‘‘ (شرح نخبۃ الفکر: ص۱۳۷)
’’والتعزیر لمن ظھر منہ ترک الواجبات وفعل المحرمات کتارک الصلاۃ والتظاھر بالمظالم والفواحش، والداعي إلی البدع المخالفۃ للکتاب والسنۃ وإجماع سلف الأمۃ التي ظھر أنھا بدع وھذا حقیقۃ قول السلف والأئمۃ أن الدعاۃ إلی البدع لاتقبل شھادتھم ولا یصلی خلفھم ولایؤخذ عنھم العلم ولا یناکحون فھذہ عقوبۃ لھم حتی ینتھوا ولھذا فرقوا بین الداعیۃ وغیر الداعیۃ، لأن الداعیۃ أظھر المنکرات فاستحق العقوبۃ، بخلاف الکاتم، فانہ لیس شرًا من المنافقین الذین کان النبي ! یقبل علانیتھم ویکل سرائرھم إلی اﷲ‘‘ [مجموع الفتاویٰ: ج۲۸؍ ص۲۰۵]یہاں دو باتیں مزید غور طلب ہیں:
ایک یہ کہ اگر مطلقاً بدعتی مردود ہوتا اور اس سے موالات کلیۃ ناجائز ہوتے تو داعی اور غیر داعی کے مابین یہ فرق بے معنی ہوکر رہ جاتا ہے۔ دوسری بات یہ کہ شیخ الاسلام نے جو فرمایا ہے کہ داعی الی البدعت کے پیچھے نمازنہ پڑھی جائے، اس میں بھی قدرے تفصیل ہے۔ مامون، معتصم وغیرہ اُمراء جوصرف جہمی عقائد ہی نہیں رکھتے تھے بلکہ جہمیت کے داعی بھی تھے اور اسی سبب سے اُنہوں نے امام احمد اور دیگر بہت سے محدثین کواپنے ظلم و ستم کا تختۂ مشق بنا رکھا تھا، انہی کے بارے میں خود شیخ الاسلام نے فرمایا ہے:
’’یہ جہمی حکام جو اپنی بدعت کے داعی اورعلمبردار تھے اور اپنے مخالفوں کو قید و بند کی سزائیں دیتے اور اسے تب تک نہ چھوڑتے جب تک وہ یہ اقرار نہ کرلیتا کہ قرآن مخلوق ہے۔مگر اس کے باوجود امام احمدؒ ان پر ترس کھاتے اور ان کے لئے مغفرت کی دعا کرتے، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ وہ ایسے ہیں جن کے لئے یہ وضاحت نہیں کی گئی کہ وہ رسولؐ کی تکذیب کرنے والے ہیںاور یہ کہ وہ اس کے لائے ہوئے دین سے انکاری ہیں بلکہ اُنہوں نے تاویل کی اوراس میںخطا کے مرتکب ہوئے اور جنہوں نے اُنہیں یہ کہا کہ ان کے مقلد ہوگئے۔ ایسے حکام اُمرا یاان کے مقرر کردہ اماموں کے پیچھے نماز بالخصوص نمازِ جمعہ، عیدین اور حج کے دوران کی نمازیں درست ہیں۔‘‘ (مجموع الفتاویٰ:۲۳ ؍۳۴۹)
’’وذھبت طائفۃ الصحابۃ کلھم دون خلاف من أحد منھم وجمیع فقھاء التابعین کلھم دون خلاف من أحد منھم وأکثر من بعدھم وجمہور أصحاب الحدیث وھو قول أحمد والشافعي وأبي حنیفۃ وداود وغیرھم إلی جواز الصلاۃ خلف الفاسق الجمعۃ وغیرھا، وبھذا نقول وخلاف ھذا القول بدعۃ محدثۃ فما تأخر قط أحد من الصحابۃ الذین أدرکو المختار بن أبی عبید والحجاج وعبید اﷲ بن زیاد وجیش بن دلجۃ وغیرھم عن الصلاۃ خلفھم وھؤلاء أفسق الفساق وأما المختار فکان متھما في دینہ مظنونا بہ الکفر‘‘ (الفصل فی الملل والأھواء والنحل :ج۴؍ ص۱۷۶)
ہم یہاں مزید تفصیل میں جانانہیں چاہتے، تاہم یہ بات بہرحال ملحوظِ خاطر رہنی چاہیے کہ بدعتی کے پیچھے نماز کاجائز ہونا اور بات ہے مگر اُنہیں امام بنانا امر دیگر ہے۔امربالمعروف ونہی عن المنکر کا تقاضا ہے کہ اس کی بدعت پرانکار کیاجائے اور اس کی تعظیم و تکریم سے مقدور بھر اجتناب کیا جائے۔ لیکن اگر انکارِ منکر میں فتنہ کا خوف ہو یا دوسری جماعت کی کوئی سبیل نہ ہو تو اس کے پیچھے نماز پڑھنی جائز ہے۔
’’ولھذا کان الصحابۃ یصلون خلف الحجاج والمختار بن أبي عبید الثقفي وغیرھما الجمعۃ والجماعۃ فإن تفویت الجمعۃ والجماعۃ أعظم فسادًا من الإقتداء فیھما بـإمام فاجر‘‘ (مجموع الفتاویٰ: ج۲۳؍ ص۳۴۳)
’’یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرام حجاج اور مختار بن ابو عبید ثقفی کے پیچھے نماز اور جمعہ پڑھ لیا کرتے تھے کیونکہ نماز اور جمعہ کافوت ہو جانا فاجر امام کے پیچھے نماز پڑھنے سے زیادہ فساد کا کام ہے۔‘‘
’’وعن دیننا أن نصلی الجمعۃ والأعیاد وسائر الصلوات والجماعات خلف کل بر وفاجر لما روی عن ابن عمر أنہ کان یصلی خلف الحجاج‘‘ (الابانہ: ص۶۱)
’’ ہمارے مذہب میں یہی ہے کہ ہم جمعہ،عیدین اور سب نماز میں ہر نیک وفاجر کے پیچھے پڑھ لیں، کیونکہ سیدنا ابن عمرؓ سے منقول ہے کہ وہ حجاج کے پیچھے نماز پڑھ لیتے تھے۔‘‘
علامہ ابن ابی العزؒ نے فرمایا ہے کہ
’’والفاسق والمبتدع صلاتہ في نفسھا صحیحۃ فإذا صلی المأموم خلفہ لم تبطل صلاتہ‘‘ (شرح عقیدہ طحاویہ:ص۳۷۵)
’’ فاسق اور بدعتی کی نماز فی نفسہا صحیح ہے اور اگر کوئی شخص ان کی اقتداء میں نماز پڑھ لیتا ہے تو اس کی نماز بھی باطل نہیں ہو گی۔‘‘
’’مَن أحدث في أمرنا ما لیس منہ فھو ردّ‘‘ [بخاری مع الفتح: ۵؍ ۳۰۱، ۲۶۹۷] رہ گئے بدعتی کے دوسرے اَعمال تو اس کی قبولیت کے جو شرائط ہیں کہ وہ سنت کے مطابق ہوں اور اخلاص پر مبنی ہوں تو وہ اعمال مقبول ہیں۔
خلاصۂ کلام یہ کہ کوئی بدعتی ہو یا فسق کامرتکب ہو تو اس سے براء ت بقدرِ فسق و بدعت ہونی چاہیے۔ان سے سلام و کلام، بیمار پرسی، میل ملاقات کاعلیٰ الاطلاق ترک سلف کے موقف و منہج کے موافق نہیں۔بدعت اگر حد کفر تک نہیں ہے تو وہ بدعتی مسلمان ہے اور سلام مسلمان کے حقوق میں سے ایک حق ہے۔امام احمدؒ سے امام ابوداؤدؒ نے پوچھا کہ خراسان میں ہمارے مرجئ عزیزو اقارب ہیں، ہم انہیں خط لکھتے تو اُنہیں سلام لکھیں؟انہوں نے فرمایا: ’’سبحان اﷲ لم لا تقرئھم‘‘(مسائل احمد بروایۃ ابی داؤد:ص۲۷۶) البتہ اگر زجراً و توبیخاً اور تادیباً انہیں سلام نہ کہا جائے تو اس کی بھی ائمہ کرام نے اجازت دی ہے۔بالخصوص جب کہ وہ بدعت کے مرتکب ہوں یافاسق مسلمان فسق و فجور میں مبتلا ہوں۔ علامہ شاطبیؒ رقم طراز ہیں:
’’الھجران و ترک الکلام والسلام حسبما تقدم عن جملۃ من السلف في ھجرانھم لمن تلبس ببدعۃ‘‘ (الاعتصام:ج۱؍ ص۱۷۵)
’’ حق المسلم علی المسلم خمس: ردّ السلام وعیادۃ المریض واتباع الجنائز وإجابۃ الدعوۃ وتشمیت العاطس ‘‘ (صحیح بخاری:۱۲۴۰)
’’ مسلمان کے مسلمان پر پانچ حق ہیں،سلام کا جواب دینا،مریض کی عیادت کرنا،دعوت قبول کرنا،جنازے میں جانا اور چھینک کا جواب دینا۔‘‘
’’الثالث عشر ترک عیادۃ مرضاھم وھو من باب الزجر والعقوبۃ‘‘ [الاعتصام:ج۱؍ ص۱۷۷]
’’اہل بدعت اوراہل فسق کے پیچھے نماز پڑھنے کے بارے میں فقہا کا اختلاف ہے۔بعض مطلقاً اس کی اجازت دیتے ہیں اور بعض بالکل منع کرتے ہیں۔ اس مسئلہ میں تحقیقی بات یہ ہے کہ ان کے پیچھے نماز کی ممانعت اس لئے نہیں کہ خود ان کی نماز باطل ہے بلکہ اس لئے کہ وہ بدعت کو ہوادیتے ہیں،اس لئے وہ اس لائق ہیں کہ ان سے تعلق نہ رکھاجائے اور اُنہیں مسلمانوں کا امام نہ بنایا جائے۔ ان کی عیادت نہ کرنا اور جنازے کے ساتھ نہ جانا بھی اسی انکارِ منکر کے باب سے ہے۔ اور جب یہ عقوباتِ شرعیہ میںسے ہے تو معلوم ہوا کہ بدعت کی قلت و کثرت اور سنت کے اظہار و اخفا کے لحاظ سے مختلف اَحوال کی بنا پر اس کا حکم مختلف ہے۔ اسی لئے کبھی تألیف ِقلب مشروع ہے اور کبھی ہجران و براء ۃ مشروع ہے۔جیسا کہ رسول اللہﷺ نئے مسلمان ہونے والوں اور جن کے بارے میں فتنہ کااندیشہ ہوتا تھا، ان سے تالیف و تعلق کا مظاہرہ فرماتے اورکبھی بعض ایمانداروں کی غلطی پر ان سے قطع تعلقی کا اظہار فرماتے، جیسا کہ تبوک سے پیچھے رہنے والے صحابہ کرامؓ سے کیاتھا۔کیونکہ مقصد تو صحیح اُسلوب میں مخلوق کواطاعت ِ الٰہی کی دعوت ہے۔ اس لیے جہاںرغبت اصلاح کاذریعہ ہے وہاں رغبت کا رویہ اور جہاں ڈرانا اور دھمکانا بہتر ہے، وہاں ڈرانا اور ہجر ہی بہتر ہے۔‘‘ (منہاج السنہ: ۱؍۶۳،۶۵)یہی بات اُنہوں نے ایک اور مقام پر فرمائی ہے۔چنانچہ ان کے فتاویٰ میں ہے:
’’یہ ہجر و ترک ہاجرین کی قوت و ضعف اور قلت و کثرت کے لحاظ سے مختلف ہے۔ کیونکہ مقصد تو مہجورین کی تادیب ہے اور عوام الناس کو اس سے بچانا ہے۔ لہٰذا مصلحت اسی میں ہے کہ اگر ہجر و ترک شرو فساد کے ضعف کاباعث ہے تو وہاں ہجر مشروع ہے، لیکن ہاجر کمزور ہے اور ہجر و ترک شر کے اضافے کا باعث ہے تو مصلحت یہی ہے کہ وہاں ہجر مشروع نہیں۔ بلکہ بعض لوگوں کیلئے تألیف ہی ہجر سے زیادہ سودمند ثابت ہوتی ہے اور بعض کیلئے ہجر تألیف سے زیادہ نفع بخش ہوتا ہے۔یہ اسی طرح ہے جیسے کبھی دشمن سے قتال بہتر ہے اور کبھی جزیہ لینا بہتر ہوتا ہے۔ یہ سب مختلف احوال اور مصالح کے اعتبار سے ہے۔‘‘ (مجموع الفتاویٰ: ۲۸؍۲۰۷)
ہمارا یہ مقصد قطعاً نہیں کہ ولاء و براء کے اس اُصولی اوردینی پہلو میں سرد مہری کامظاہرہ کیا جائے بلکہ عامۃ الناس جو اس کی نزاکت سے بے خبر ہیں، اُنہیں بہرنوع اس سے خبردار کرنا چاہئے کہ وہ مبتدع کی مجلس کی زینت نہ بنیں اور ’’من کثر سواد قوم فھو منھم‘‘ کا مصداق نہ بنیں۔
’’من جالس صاحب بدعۃ لم یسلم من إحدٰی ثلاث: إما ان یکون فتنۃ لغیرہ وإما أن یقع في قلبہ شيء فیزل بہ فیدخلہ اﷲ النار، وإما أن یقول واﷲ ما أبالي ما تکلموا وإني واثق بنفسي فمَن أمن اﷲ علی دینہ طرفۃ عین سلبہ إیاہ‘‘ (البدع والنھي عنھا لابن وضاح:ص۴۷)
جو شخص کسی بدعتی کے پاس بیٹھتا رہا، تین صورتوں سے وہ بچ نہیں سکتا: یا تو وہ دوسروں کے لئے باعث ِآزمائش بنے گا(کہ لوگ خیال کریں گے کہ فلاں بدعتی تو اچھا شخص ہے، یا وہ شخص خود اپنے دل میں شک وشبہ کا شکار ہوکر گمراہ ہوجائے گا اور آگ کا ایندھن بنے گا۔ یا وہ یوں کہے گا کہ میں بدعتی کی باتوں کی پروا نہیں کرتا، مجھے تو اپنے ایقان پر اعتماد ہے۔‘‘
مسلمانوں سے محبت وقربت : الولاء
کفار، مبتدعین اور فساق کے مقابلے میںمسلمانوں کے ساتھ محبت و اُلفت کااظہار بھی ایمان کی علامت ہے۔ فرمانِ الٰہی ہے:{اَلْمُؤْمِنُوْنَ وَالْمُؤْمِنَاتُ بَعْضُھُمْ اَوْلِیَائُ بَعْضٍ} (التوبہ:۷۱)
’’ مؤمن مرد اور مؤمن عورتیں آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں۔‘‘اسی طرح ارشاداتِ نبویؐ ہیں:{إنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَۃٌ}(الحجرات:۱۰)
’’ تمام مومن آپس میں بھائی بھائی ہیں۔‘‘’’ لا تدخلون الجنۃ حتی تؤمنوا ولاتؤمنوا حتی تحابوا ‘‘ (صحیح مسلم:۱۹۴)
’’ تم جنت میں داخل نہیں ہو سکتے یہاں تک کہ تم ایمان نہ لے آؤ اور تم اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتے جب تک آپس میں محبت نہ کرنے لگو۔‘‘٭ عرشِ الٰہی کے سائے تلے ۷ افراد میں سے وہ دو آدمی بھی ہیں:’’ لا یؤمن أحدکم حتی یحب لأخیہ ما یحب لنفسہ ‘‘ (صحیح بخاری:۱۴)
’’تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک کامل مومن نہیں ہو سکتا جب تک وہ اپنے بھائی کے لیے وہی پسند نہ کرے جووہ اپنے لیے پسند کرتا ہے۔‘‘٭’’ رجلان تحابّا في اﷲ اجتمعا علیہ وتفرّقا علیہ ‘‘ (صحیح بخاری:۶۶۰،صحیح مسلم:۲۳۸۰)
’’جو اللہ کے لیے محبت کرتے ہیں اور اسی پر اکٹھے ہوتے ہیں اور اس پر جدا ہوتے ہیں۔‘‘٭’’ قال اﷲ أین المتحابّون فی جلالي لہم منابرمن نور یغبطھم النبیون والشھدائ ‘‘ (سنن ترمذی:۲۳۹۰،البانی اس کو صحیح کہا ہے)
’’(قیامت کے دن) اللہ تعالیٰ فرمائیں گے۔میرے لیے محبت کرنے والے کہاں ہیں؟ آج ان کے لیے نور کے منبر ہیں، انبیاء کرام اور شہداء عظام بھی ان کی شان پر رشک کریں گے۔‘‘٭’’لا تقاطعوا ولا تدابروا ولاتباغضوا ولاتحاسدوا وکونوا عباداﷲ إخوانا ‘‘ (صحیح بخاری:۶۰۶۴)
’’آپس میں قطع تعلقی نہ کرو اور نہ دشمنی رکھو اور نہ ایک دوسرے کے ساتھ بغض رکھو اور نہ ہی ایک دوسرے سے حسد کرو اور اے اللہ کے بندو! بھائی بھائی بن جاؤ۔‘‘٭’’ولا یحل لمسلم أن یھجر أخاہ فوق ثلاث ‘‘ (ایضا:۶۰۶۴)
’’کسی مسلمان کیلئے جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو تین دن سے زیادہ چھوڑ دے۔‘‘٭’’ فمن ہجر فوق ثلاث فمات دخل النار ‘‘ [ ابوداؤد:۴۹۱۴]
’’جس نے تین دن سے زیادہ چھوڑ دیا اور وہ اسی دوران مر گیا تو آگ میں داخل ہو گا۔‘‘٭’’ المسلم أخوالمسلم لا یظلمہ ولا یسلمہ [إلی عدوّہ] ولا یحقرہ ولا یخذلہ ‘‘ (صحیح مسلم:۶۵۴۱)
’’مسلمان مسلمان کا بھائی ہے نہ وہ اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ ہی اسے دشمن کے سپرد کرتا ہے نہ اس کو حقیر جانتا ہے اور نہ ہی اسے ذلیل کرتا ہے۔‘‘’’ لاتحاسدوا ولا تناجشوا ولا تباغضوا ولا تدابروا ولا یبع بعضکم علی بیع بعض وکونوا عباداﷲ إخوانًا ‘‘ (صحیح مسلم:۶۵۴۱)
’’ آپس میں حسد نہ کرو،بولی پہ بولی نہ لگاؤ، ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو، ایک دوسرے سے دشمنی نہ رکھو، اور نہ ہی کوئی شخص کسی شخص کی بیع پر بیع کرے۔ اللہ کے بندو! آپس میں بھائی بھائی بن جاؤ۔‘‘

Comments
Post a Comment