Skip to main content

جذبہٴ ایثارکا عملی مظاہرہ

اللہ رب العزت نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا اور اسے دنیا کے رہن سہن کا سلیقہ سکھایا اور ساتھ ساتھ انسان کو انفاق فی سبیل اللہ کا حکم دیا۔انفاق وفیاضی کا ایک بڑا درجہ ایثار ہے‘یعنی دوسروں کو آرام پہنچانے کی خاطراپنا آرام چھوڑنا ‘ خود بھوکا رہ کر دوسروں کو کھلانا‘ خود پیاسا رہ کر دوسروں کو پلانا‘ خود تکلیف برداشت کرکے دوسروں کو راحت پہنچانا‘ غرض یہ کہ دوسروں کی ضروریات کو اپنی ضروریات پر مقدم رکھنے کوایثار کہتے ہیں۔یہ انسانی شرافت کا بہترین جوہر ہے۔جیساکہ باری تعالیٰ نے صحابہ کرام کی صفات کے متعلق ارشاد فرمایا: 
”یؤثرون علی انفسہم ولو کان بہم خصاصة“ ۔(سورہ حشر:۹)
ترجمہ:․․․”اور مقدم رکھتے ہیں ان کو اپنی جان سے اور اگرچہ ہو اپنے اوپر فاقہ“۔اس صفت ”ایثار“ کا اہم درجہ قربانی ہے‘ مثل مشہور ہے: ”الجود بالنفس غایة الجود“ محبوب کی خاطر جان قربان کردینا اعلیٰ درجہ کی فیاضی ہے۔قربانی کا معنی ہے ”ما یتقرب بہ الی الله ‘ یقال: قربت الله“ یعنی قربان اس چیز کو کہتے ہیں‘ جس کے ساتھ انسان خدا تعالیٰ کا قرب ڈھونڈتا ہے‘ چنانچہ کہتے ہیں ”قربت لله قرباناً“ چونکہ انسان قربانی سے قرب الٰہی کا طالب ہوتا ہے‘ اس لئے اس فعل کا نام بھی قربانی ہوا۔ کائنات کی ہر چھوٹی چیز اپنی سے بڑی چیز پر فدا اور قربان ہوتی دکھائی دیتی ہے‘ تمام جمادات نباتات کے لئے‘ تمام نباتات حیوانات کے لئے اور حیوانات انسان کے لئے قربانی دیتے ہیں۔قربانی کا نظریہ ایک عالمگیر نظریہ اور عقیدہ ہے جو ہرقوم وملت میں رہا ہے۔جیسے قرآن مجید میں ارشاد ہے:
:- ”ولکل امة جعلنا منسکا“ - (الحج:۳۴)
ترجمہ:․․․”ہرقوم وملت کے لئے ہم نے قربانی مقرر کردی ہے“۔
:-” اذ قربا قرباناً فتقبل من احدہما ولم یتقبل من الآخر“۔ (المائدہ: )
یعنی سید البشر حضرت آدم علیہ السلام کے دو بیٹوں ہابیل اور قابیل کے درمیان ایک مسئلے کے بارے میں اختلاف ہوگیا‘ اس وقت شرعی دستور یہ تھا کہ دونوں جھگڑنے والے قربانی کریں‘ جس کی قربانی کو آسمانی آگ جلادے‘ وہ سچا سمجھا جائے گااور جس کی قربانی پڑی رہے وہ جھوٹا ہوگا۔ ہابیل نے اپنے ریوڑ میں سے موٹا تازہ مینڈھا قربان کیا اور قابیل نے ناقص قسم کا غلہ قربانی کے طور پر پیش کیا‘ ہابیل کی قربانی منظور ہوئی‘ اس کی قربانی کو آسمانی آگ نے جلادیا۔ قابیل کا غلہ پڑا رہا اور اس کی قربانی نامنظور ہوئی‘ قابیل کے دل میں حسد پیدا ہوا اور اس نے ہابیل کو قتل کردیا۔اسی طرح حضرت یعقوب علیہ السلام اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کا اپنے اپنے وقتوں میں جانوروں کی قربانی کرنا توریت سے ثابت ہے۔ حضرت سلیمان علیہ السلام نے گھوڑوں کی قربانی کی ہے‘ اسی طرح دوسری قوموں میں بھی اس کا ثبوت ملتا ہے‘ کسی نے اس کو ”بلیدان“ کے نام سے یاد کیا ہے ‘ کسی نے قربانی کو نذراور کسی نے بھینٹ کے نام سے پکارا ہے۔امت مسلمہ کی قربانی کی نسبتجب فخر دو عالم‘ محسن انسانیت ﷺ سے پوچھا گیا ”ما ہذہ الاضاحی“؟ یہ قربانیاں کیا ہیں یعنی کس کی یادگار ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: یہ تمہارے باپ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے‘ گویا ہماری قربانی کی ابتداء حضرت ابراہیم علیہ السلام سے ہوئی ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو خواب میں حکم ہوا کہ اپنی پسندیدہ (محبوب) چیز کو قربان کرو‘ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے پیارے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام سے اس بارے میں رائے طلب کی‘ اس پر حضرت اسماعیل علیہ السلام نے کہا: ”یآبت
فعل ما تؤمر ستجدنی ان شاء الله من الصابرین․․․“ ۔( الصافات:)
”یعنی جو آپ کے رب نے آپ کو حکم دیا ہے آپ کر گذریں‘ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے“۔اس اطاعت وفرمانبرداری کو دیکھ کر یہ شعر یاد آجاتاہے:میری مشاطگی کی کیا ضرورت ہے حسن معنی کو کہ فطرت خود بخود کرتی ہے لالہ کی حنا بندیعلامہ اقبال نے اس منظر کو اس طرح پیش کیا:یہ فیضان نظر تھا یاکہ مکتب کی کرامت تھیسکھائے کس نے اسماعیل کو آداب فرزندیچنانچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے لخت جگر کو ذبح کرنا چاہا‘ لیکن چھری نے اللہ کے حکم سے کام نہیں کیا‘ اس پر اللہ تعالیٰ نے ملائکہ کو حکم دیا کہ جنت سے ایک دنبہ لے کر آؤ‘ تو ملائکہ نے دنبہ لاکر حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاؤں کے نیچے دیا اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کو نکال دیا‘ اس طرح قربانی دنبہ کی شکل میں قبول ہوئی اور یہ سنت آئندہ آنے والی نسلوں کے واسطے قائم کردی گئی اور قیامت تک یہ سنت جاری رہے گی۔اس واقعہ میں ہمارے لئے صبر واستقلال‘ ایثار وغم خواری اور شجاعت وبہادری کی طرف اشارہ ہے‘ کہ ایثار اور صبر حضرت ابراہیم‘ حضرت ہاجرہ اور حضرت اسماعیل علیہم السلام سے سیکھو۔
قربانی کی فضیلت
”․․․․قالوا فما لنافیہا یا رسول الله ؟ قال بکل شعرة حسنة‘ قالوا فالصوف یا رسول اللہ؟ قال بکل شعرة من الصوف حسنة“۔ (رواہ احمد وابن ماجہ)
ترجمہ:․․․․”صحابہ کرام نے آپ ﷺ سے عرض کیا :اس میں ہمیں کیا ثواب ملے گا؟آپ ﷺ نے فرمایا: ہر بال کے بدلے میں ایک نیکی ملے گی۔صحابہ کرام نے عرض کیا: اگر قربانی کا جانور ایسا ہو جس پر اون ہو تو اس کا کیا حکم ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اون کے ہربال کے بدلے میں ایک نیکی لکھی جائے گی“۔
جاہلانہ اعتراض
آج کل بعض پڑھے لکھے جاہلوں سے یہ اعتراض سنا جاتا ہے کہ قربانی کیا ہے؟ یہ قربانی (معاذ اللہ) خواہ مخواہ رکھی گئی ہے‘ قربانی شریعت کو مقصود نہیں بلکہ یہ تو خلاف عقل ہے کہ ایک دن میں اتنے جانوروں پر ظلم کرکے ان کو ذبح کیا جاتاہے‘ لاکھوں روپے خون کی شکل میں نالیوں میں بہائے جاتے ہیں‘ یہ تو معاشی اعتبار سے بھی نقصان ہے کہ کتنے جانور کم ہوجاتے ہیں‘ لہذا قربانی کے بجائے یہ کرنا چاہئے کہ وہ لوگ جو غریب ہیں جو بھوک سے بلبلا رہے ہیں‘ قربانی کرکے گوشت تقسیم کرنے کے بجائے اگر وہ پیسے ان غرباء ومساکین کو دیدیئے جائیں تو ا ن کی ضروریات بہتر طریقے سے پوری ہوسکتی ہیں۔بات یہ ہے کہ قربانی کی صورت میں ایک تعلیم ہے‘ جسے عالم اور جاہل سب جانتے ہیں‘ وہ تعلیم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو کسی کے خون اور گوشت کی پرواہ نہیں ‘ بلکہ وہ ہمیں سکھانا چاہتا ہے کہ تم بھی اللہ کے حضوروقت آنے پر اپنی جان‘ مال ‘ عزت آبرو اس طرح قربان کرو‘ جس طرح کہ یہ جانور اللہ کے نام پر تمہارے ہاتھوں اپنی گردن کٹوا رہا ہے۔اپنے جانور کو اللہ کے حکم پر قربان کرنا یہ بھی ہمارا ہی قربان ہونا ہے کہ اپنے بدلے اپنا قیمتی جانور قربان کررہے ہیں۔یہ کہنا کہ جانوروں کو عید الاضحی پر قربان اس لئے نہ کریں کہ ہمارا ذبح کرنا رحم کے خلاف ہے‘ تو اس کا جواب یہ ہے کہ ہمارے اس طرح نہ کرنے سے کیا وہ جانور ہمیشہ زندہ رہیں گے؟ اگر ان کو ذبح نہ کیا جاوے توکیا وہ خود بیمار ہوکرنہ مریں گے؟یہ کہنا کہ قربانی خود شریعت میں مقصود نہیں بلکہ اصل مقصود غرباء کی امداد ہے اور ابتداء اسلام میں لوگوں کے پاس نقد کم تھا‘ مویشی زیادہ تھے‘ اس لئے یہ طریقہ اختیارکیا گیا کہ جانور کو ذبح کرکے غرباء کو گوشت دیدیاجاتا‘ چونکہ اس زمانے میں نقد بھی موجود ہے‘ غلہ بھی موجود ہے‘ پس آجکل بجائے قربانی کے نقد روپئے سے غرباء کی امداد کرنی چاہئے۔ جواب یہ ہے کہ یہ سمجھنا کہ قربانی کی حکمت غرباء کی مدد کرنا ہے ،یہ صحیح نہیں۔ بلکہ مقصود تو تعمیل حکم ہے‘ کیونکہ اگر یہ حکمت مقصود ہوتی تو اس کی کیا وجہ ہے کہ غرباء کواگر قربانی کا گوشت دیا جائے تو واجب ادا ہو‘ اوراگر زندہ جانور کسی غریب کو دے دیں تو واجب ادا نہ ہو۔کیا پہلے مسلمانوں پر نقد کی وسعت کبھی نہ ہوئی تھی؟ تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کرام نے جس وقت قیصر وکسریٰ کے خزانے فتح کئے ہیں تو اس وقت مسلمانوں کے پاس نقد سونا اور چاندی اس قدر تھا کہ آج کل تو اس کا عشر عشیر بھی نہ ہوگا‘ پھر اس وقت صحابہ کرام کو یہ بات کیوں نہ سوجھی جو آجکل نام نہاد روشن خیالوں کو سوجھی ہے اور صحابہ کرام نے بجائے قربانی کے نقد امداد کو کیوں نہ اختیار کیا ؟رہی بات قربانی کا خلاف العقل ہونا تو اس کو یوں سمجھا جاسکتا ہے کہ دنیا کی عارضی عدالت میں ایک جج اگر کسی مجرم کو سزا ئے موت دے اور مجرم یہ کہے کہ یہ سزا تو عقل کے خلاف ہے تو کیا وہ جج اس کی اس بات کی سماعت کرے گا؟ ہرگز نہیں- بلکہ وہ کہے گا کہ قانون پر تمہاری عقل کی حکومت نہیں‘ بلکہ قانون‘ عقل پر حاکم ہے- اور اس کے اس جواب کو سب عقلاء تسلیم کرتے ہیں-افسوس یہ ہے کہ قانون الٰہی کو آجکل کے مسلمان اپنی عقل پر حاکم نہیں مانتے بلکہ اس کو اپنی عقل کے تابع کرنا چاہتے ہیں-ورنہ قانون الٰہی تو بالکل عقل کے مطابق ہے‘ بشرطیکہ عقل سلیم ہو‘ یہ کیا ضروری ہے کہ ہر شخص کی عقل میں شریعت کی حکمتیں آجایا کریں‘ آخر پارلیمنٹ کے اراکین جو قوانین تجویز کرتے ہیں‘ کیا ہر عامی کی عقل اس کے مصالح تک پہنچ پاتی ہے؟ ہر گز نہیں- بلکہ اس کے مصالح وحکم کو خاص خاص لوگ ہی سمجھتے ہیں‘ پھر آج قانون الٰہی کی حکمتوں اور مصالح کو ہر شخص اپنی عقل سے کیوں معلوم کرنا چاہتا ہے اور یہاں یہ کیوں نہیں کہا جاتا کہ قانون الٰہی عقل کے مطالق ضرور ہے مگر ہماری عقلیں اس کے مصالح سمجھنے سے قاصر ہیں‘ کیونکہ قانون پر عقل حاکم نہیں‘ بلکہ عقل اس کی ماتحت اور اس کے تابع ہے‘ قربانی کے خلاف پروپیگنڈہ عقل کے خلاف ہے‘ یہ پروپیگنڈہ وہ لوگ کرتے ہیں جو دین اسلام کی روح سے ناواقف ہیں۔یاد رکھنا چاہئے کہ دین اسلام کا اصل جوہر ”اتباع کامل“ ہے‘ جب تک انسان میں اتباع کا جذبہ نہیں ہو گا‘ اس وقت تک انسان ‘ انسان نہیں بن سکتا- آجکل معاشرے میں جتنی بدعنوانیاں‘ مظالم‘ نافرمانیاں‘ اورتباہ کاریاں پھیلی ہوئی ہیں، وہ درحقیقت اس بنیاد کو فراموش کرنے کی وجہ سے ہیں کہ انسان اپنی عقل کے پیچھے چلتا ہے‘ اللہ کے حکم کی اتباع نہیں کرتا۔  

Comments

Popular posts from this blog

Yusufzai (Pashtun tribe)

The  Yūsufzai  (also  Youssofzay ,  Yousefzai ,  Yousafzai ,  Esapzey ,  Yousufi , or  Yūsufi ) (Pashto:  يوسفزی ,Persian and Urdu:  یوسف زئی ) is one of the largest Pashtun (Afghans) tribes. The majority of the Yusufzai tribe reside in parts of Western Afghanistan, Khyber Pakhtunkhwa and Provincially Administered Tribal Areas near the Afghan-Pakistan border. They are the predominant population in the districts of Konar, Ningarhar, Mardan District, Dir, Swat,Malakand, Swabi, Buner, Shangla, Haripur District [Khalabat Town Ship and Tarbela] and in Mansehra and Battagram. There is also a Yusufzai clan of Dehwar tribe in the Mastung district of Balochistan who speak Persian with some mixture of Birahvi words. The descendants of Yusuf inhabit Konar, Jalalabad, Swat, Upper Dir, Lower Dir, Malakand Swabi and Mardan...

یہودی پروٹوکولز

Online Read یہودی پروٹوکولز ============================================== Online Read E Book یہودی پروٹوکولز ============================================== Download Free یہودی پروٹوکولز ---------------------------------------------------- Download Free یہودی پروٹوکولز ----------------------------------------------------

دین اسلام میں رسول اللہ ﷺ کی اطاعت فرض ہے

بسم اللہ الرحمن الرحیم دین اسلام میں رسول اللہ ﷺ کی اطاعت فرض ہے يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ أَطِيعُوا۟ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ وَلَا تَوَلَّوْا۟ عَنْهُ وَأَنتُمْ تَسْمَعُونَ ﴿20﴾ترجمہ: اے ایمان والو الله اور اس کے رسول کا حکم مانو اور سن کر اس سے مت پھرو(سورۃ الانفال،آیت20) قُلْ أَطِيعُوا۟ ٱللَّهَ وَأَطِيعُوا۟ ٱلرَّسُولَ ۖ فَإِن تَوَلَّوْا۟ فَإِنَّمَا عَلَيْهِ مَا حُمِّلَ وَعَلَيْكُم مَّا حُمِّلْتُمْ ۖ وَإِن تُطِيعُوهُ تَهْتَدُوا۟ ۚ وَمَا عَلَى ٱلرَّسُولِ إِلَّا ٱلْبَلَٰغُ ٱلْمُبِينُ﴿56﴾ترجمہ: کہہ دو الله اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرو پھر اگر منہ پھیرو گے تو پیغمبر تو وہی ہے جس کا وہ ذمہ دار ہے اورتم پر وہ ہے جو تمہارے ذمہ لازم کیا گیا ہے اور اگر اس کی فرمانبرداری کرو گے تو ہدایت پاؤ گے اور رسول کے ذمہ صرف صاف طور پر پہنچا دینا ہے (سورۃ النور،آیت 56) مَّن يُطِعِ ٱلرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ ٱللَّهَ ۖ وَمَن تَوَلَّىٰ فَمَآ أَرْسَلْنَٰكَ عَلَيْهِمْ حَفِيظًۭا ﴿80﴾ترجمہ: جو شخص رسول کی فرمانبرداری کرے گا تو بےشک اس نے اللہ کی فرمانبرداری کی اور جو نافرمانی کرے گا تو اے ...

قرآن حکیم کے نازل ہونے کی کیا غرض ہے

سورہ آلِ عمران هَـٰذَا بَيَانٌ لِّلنَّاسِ وَهُدًى وَمَوْعِظَةٌ لِّلْمُتَّقِينَ ﴿١٣٨﴾ یہ (قرآن) لوگوں کے لیے بیان صریح اور اہلِ تقویٰ کے لیے ہدایت اور نصیحت ہے۔ سورہ المآئدۃ يَا أَهْلَ الْكِتَابِ قَدْ جَاءَكُمْ رَسُولُنَا يُبَيِّنُ لَكُمْ كَثِيرًا مِّمَّا كُنتُمْ تُخْفُونَ مِنَ الْكِتَابِ وَيَعْفُو عَن كَثِيرٍ ۚ قَدْ جَاءَكُم مِّنَ اللَّـهِ نُورٌ وَكِتَابٌ مُّبِينٌ ﴿١٥﴾هْدِي بِهِ اللَّـهُ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَهُ سُبُلَ السَّلَامِ وَيُخْرِجُهُم مِّنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ بِإِذْنِهِ وَيَهْدِيهِمْ إِلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ ﴿١٦﴾  اے اہل کتاب! تمہارے پاس ہمارے پیغمبر (آخرالزماں) آ گئے ہیں کہ جو کچھ تم کتاب (الہٰی) میں سے چھپاتے تھے وہ اس میں سے بہت کچھ تمہیں کھول کھول کر بتا دیتے ہیں اور تمہارے بہت سے قصور معاف کر دیتے ہیں بےشک تمہارے پاس خدا کی طرف سے نور اور روشن کتاب آ چکی ہے۔جس سے خدا اپنی رضا پر چلنے والوں کو نجات کے رستے دکھاتا ہے اور اپنے حکم سے اندھیرے میں سے نکال کر روشنی کی طرف لے جاتا اور ان کو سیدھے رستہ پر چلاتا ہے۔ وَكَتَبْنَا عَلَيْه...

جمع عثمانی رِوایات کے آئینے میں

نبی مکرمﷺ کی حدیث مبارکہ ’’خَیْرُ النَّاسِ قَرْنِيْ ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَھُمْ ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَھُمْ‘‘۔(صحیح البخاري: ۲۶۵۲) پر جب نظر پڑتی ہے تو سر احسان و نیازمندی کے ملے جلے تاثر ات سے جھک جاتا ہے کہ واقعتا آپﷺ، صحابہ رضی اللہ عنہم اور تابعین رحمہم اللہ کا زمانہ خیر القرون تھا، کیونکہ اس میں بنی نوع اِنسان کی راہ روی اور اسلام کی سربلندی کے لیے وہ محنتیں اور کوششیں ہوئی ہیں کہ جس کی مثال آئندہ جمیع قرون میں پیش کرنا مشکل ہے۔ یقینا وہ لوگ اس قابل تھے کہ اُنہیں یہ ذمہ داری سونپی جاتی کہ وہ دینِ الٰہی اور شرع اللہ کو اپنی مکمل تشریحات کے ساتھ آئندہ نسلوں تک منتقل کریں، بلا شبہ وہ طائفہ فائزہ اپنے اس مقصد میں بامراد ہوا ہے۔ان جملہ ذمہ داریوں میں سے اَہم ترین ذمہ داری یہ تھی کہ ہدایت سماوی کے آخری ربانی صحیفہ کو محفوظ اور غیر متبدل شکل میں ہم تک پہنچایا جائے۔ ہمارا یہ قطعی ایمان ہے کہ وہ پیام اَیزدی آج اپنی سو فیصد اَصلی اور حقیقی شکل میں ہمارے درمیان موجود ہے۔ الحمد ﷲ علی ذلک۔اِس سلسلہ میں خیرالقرون میں جو سب سے اَہم کام ہوا ہے وہ سیدنا عثمان ذوالنورین رضی ال...

ان شاءاللہ لکھنے میں غلطی کرنا

بسم اللہ الرحمن الرحیم السلام علیکم ورحمتہ اللہ آ پ لوگوں نے اکثر کتابوں میں لفظ ان شاءاللہ کو اس طرح لکھا ہوا پڑھاہوگا انشاءاللہ اور جب کہ اس طرح لکھنے سے اس کا معنی بدل جاتا ہے۔ لفظ ان شاءاللہ کے اردو میں معنی بنتا ہے اگر اللہ نے چاہا اور جب کہ انشاء عربی میں کسی چیز کو بنانے کو کہتے ہیں اس طرح انشاءاللہ کے معنی بہت غلط بن جاتے ہیں ۔ہم لوگ عربی زبان سے واقفیت نہ رکھنے کی وجہ سے ایسی غلطیاں کر جاتے ہیں اللہ ہمیں معاف فرمائے آمین۔اللہ کا ارشاد ہے کہاِنَّآ اَنْشَاْنٰهُنَّ اِنْشَاۗءً 35۝ۙہم نے ان (کی بیویوں کو) خاص طور پر بنایا ہے۔الواقعہ:۳۵قَالَ اِنَّمَا يَاْتِيْكُمْ بِهِ اللّٰهُ اِنْ شَاۗءَ وَمَآ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِيْنَ 33 ؀جواب دیا کہ اسے بھی اللہ تعالٰی ہی لائے گااگر وہ چاہے اور ہاں تم اسے ہرانے والے نہیں ہو۔ھود:۳۳فَلَمَّا دَخَلُوْا عَلٰي يُوْسُفَ اٰوٰٓى اِلَيْهِ اَبَوَيْهِ وَقَالَ ادْخُلُوْا مِصْرَ اِنْ شَاۗءَ اللّٰهُ اٰمِنِيْنَ 99؀ۭپھر جب (سب کے سب) یوسف کے پاس پہنچے تو اس نے اپنے والدین کو (عزت و احترام کے ساتھ) اپنے پاس جگہ دی اور کہا، ''کہاگر اللہ نے چاہا تو...

قراء توں کا اِختلاف اور منکرینِ حدیث

یہ ایک مسلّمہ اَمر ہے کہ قرآن مجید کی ایک سے زیادہ قراء تیں ثابت ہیں۔ لیکن اہلِ قرآن کہلانے والے منکرین حدیث ان اختلافِ قراء ات کو نہیں مانتے۔ وہ کہتے ہیں کہ قرآن کی صرف ایک ہی قراء ت ہے اور یہ کہ خود نبیﷺنے قرآن کو کتابی صورت میں مرتب اور مدوّن کیا اور اس پر اعراب و نقطے لگوائے تھے جبکہ یہ بات خلاف ِ واقعہ ہے۔جناب پرویز صاحب لکھتے ہیں:’’ہم سمجھتے ہیں کہ اس کے بعد ’اختلاف قراء ت‘ کے فتنہ کے متعلق کچھ سمجھنے کی ضرورت باقی نہیں رہتی‘‘(طلوع اسلام، ص۵۶، شمارہ جنوری ۱۹۸۲ء، لاہور)وہ مزید لکھتے ہیں :’’قرآن مجیدجس شکل میں ہمارے پاس موجود ہے اسے خود رسول اللہﷺنے اسی طرح مرتب اور مدوّن شکل میں اُمت کو دیا تھا۔‘‘(طلوع اسلام، ص۴۲، شمارہ جنوری۱۹۸۲ء، لاہور)اسی طرح ایک اور منکرِ حدیث رحمت اللہ طارق صاحب نے لکھا ہے :’’اختلاف قراء ت کا فتنہ ہی لے لیجئے جس کا مودودی صاحب جیسا شخص نہ صرف معترف اور معتقد ہے بلکہ سرگرم مبلغ اور پُرجوش ناشر ہے۔‘‘(اعجاز قرآن و اختلاف قراء ت، مرتبہ تمنا عمادی:۷۴۲) طارق صاحب نے مزید لکھا ہے :’’ لَوْ کَانَ مِنْ عِنْدِ غَیْرِ اﷲِ لَوَجَدُوْا فِیْہِ اخْتِلَافًا کَثِیْرًا ‘‘...

جمع قرآن اور اس کی تدوین

جمع قرآن اور اس کی تدوین جمع قرآن سے مراد قرآن کریم کا جمع کرنا۔ خواہ حفظ سے ہو یا کتابت سے یا تلاوت کی ریکارڈنگ سے۔ اور تدوین سے مراد اس کو کتابی صورت میں ترتیب دینا ہے۔ان سب مراحل کی ایک دل چسپ معلوماتی تاریخ ہے جسے ایک طالب علم کے لئے جاننا بہت اہم ہے۔تاکہ وہ آگاہ رہے کہ یہ مقدس کتاب کس طرح کن کن ادوار سے گذر کر محفوظ ترین صورت میں ہم تک پہنچی؟مقصد جمع قرآن: جمع قرآن کا مقصد یہی تھا کہ جس طرح قرآن مجید آپ ﷺ پر اترا ہے اور جس طرح آپ نے اسے پڑھا یا سکھایا ہے اسے لکھ کر محفوظ کرلیا جائے۔ یہ اللہ کا حکم تھا تاکہ مستقبل میں ممکنہ اختلاف جو قراءت یا اس کے الفاظ ، ترتیب اور لغت میں پیدا ہوسکتا ہے وہ نہ ہوسکے۔ اللہ تعالیٰ نے خود بھی اس کی حفاظت کی ذمہ داری لی مگر اس حفاظت کا کام صحابہ رسول اور امت کے قراء وحفاظ سے بھی لیا۔جمع قرآن کی دلیل: آپ ﷺ قرآن کی تنزیل میں سخت شدت محسوس کیا کرتے۔ اور اپنے ہونٹوں کو حرکت دیا کرتے تھے۔ جیسا کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت صحیحین میں ہے۔تو اللہ تعالیٰ نے ابتداء میں ہی یہ فرمادیا : {لَا تُحَرِّكْ بِہٖ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ...

عورت، اسلام کی نظر میں

عورت جاہلیت میں نہایت ذلیل وحقیر چیز تھی یہاں تک کہ اسلام آیا تو اس نے اسے ایسی عزت وتکریم بخشی جس کی کوئی نظیر نہیں۔ اس نے جاہلیت کے مظالم سے اسے نجات دی اور اس کے حقوق کا ضامن وکفیل ہوا۔ اس نے عورت کو بہت سی دینی واجبات اور ثواب وعقاب میں اسے مردوں کے مساوی قرار دیا۔ چنانچہ اسے اسلام میں بہت زیادہ عزت وتکریم ملی ۔ إن الحمد لله، نحمده, ونستعينه، ونستغفره، ونعوذ بالله من شرور أنفسنا وسيئات أعمالنا، من يهده الله فلا مضل له، ومن يضلل فلا هادى له، وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له، وأشهد أن محمداً عبده ورسوله،وقد قال اللہ تبارک وتعالی فی محکم تنزیلہ، أعوذ باللہ من الشیطان الرجیم: (مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّن ذَكَرٍ أَوْ أُنثَىٰ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهُ حَيَاةً طَيِّبَةً ۖ وَلَنَجْزِيَنَّهُمْ أَجْرَهُم بِأَحْسَنِ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ) (النحل: 97)"جو شخص نیک عمل کرے مرد ہو یا عورت، لیکن باایمان ہو تو ہم اسے یقیناً نہایت بہتر زندگی عطا فرمائیں گے۔ اور ان کے نیک اعمال کا بہتر بدلہ بھی انہیں ضرور ضرور دیں گے۔"وقال النبی صلی اللہ علیہ وسلم: )إنما النساء شقائ...

خیرخواہی وامانت داری

خیرخواہی وامانت داری خیر خواہی دین کی بنیاد ا ور اس کا جوہر ہے۔ دین دراصل خیر خواہی کا نام ہے۔ خیرخواہی اللہ کی، اس کے کتاب کی، اس کے رسول کی، مسلم ائمہ وحکمرانوں کی اور عامۃ المسلمین کی ہوتی ہے۔ پس جب ان تمام کے حق میں بندہ خیرخواہ ہوگا تو اس کا دین کامل ہوگا اور جس میں ان میں سے کسی کی خیرخواہی میں کمی و کوتاہی ہوگی تو اسی قدر اس کے دین میں نقص وکمی ہوگی۔ مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اپنی خیرخواہی میں امانت کو ملحوظ رکھے اور بغیر کسی مداہنت ومجاملت کے حق کو بیان کرے۔ یہی شخص اللہ کے نزدیک امین ہوگا۔ إن الحمد لله، نحمده ونستعينه ونستغفره، ونعوذ بالله من شرور أنفسنا، وسيئات أعمالنا، من يهده الله فلا مضل له، ومن يضلل فلا هادى له، وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له، وأشهد أن محمداً عبده ورسوله۔ أما بعد: فإن خیر الحدیث کتاب اللہ، وخیر الھدی ھدی محمد صلی اللہ علیہ وسلم، وشر الأمور محدثاتھا، وکل محدثۃ بدعۃ، وکل بدعۃ ضلالۃ، وکل ضلالۃ  فی النار۔  وقد قال اللہ تبارک وتعالی فی کتابہ المجید: (إِنَّ اللَّـهَ يَأْمُرُكُمْ أَن تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَىٰ أَهْلِهَا وَإِذَا حَ...