Skip to main content

جذبہٴ ایثارکا عملی مظاہرہ

اللہ رب العزت نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا اور اسے دنیا کے رہن سہن کا سلیقہ سکھایا اور ساتھ ساتھ انسان کو انفاق فی سبیل اللہ کا حکم دیا۔انفاق وفیاضی کا ایک بڑا درجہ ایثار ہے‘یعنی دوسروں کو آرام پہنچانے کی خاطراپنا آرام چھوڑنا ‘ خود بھوکا رہ کر دوسروں کو کھلانا‘ خود پیاسا رہ کر دوسروں کو پلانا‘ خود تکلیف برداشت کرکے دوسروں کو راحت پہنچانا‘ غرض یہ کہ دوسروں کی ضروریات کو اپنی ضروریات پر مقدم رکھنے کوایثار کہتے ہیں۔یہ انسانی شرافت کا بہترین جوہر ہے۔جیساکہ باری تعالیٰ نے صحابہ کرام کی صفات کے متعلق ارشاد فرمایا: 
”یؤثرون علی انفسہم ولو کان بہم خصاصة“ ۔(سورہ حشر:۹)
ترجمہ:․․․”اور مقدم رکھتے ہیں ان کو اپنی جان سے اور اگرچہ ہو اپنے اوپر فاقہ“۔اس صفت ”ایثار“ کا اہم درجہ قربانی ہے‘ مثل مشہور ہے: ”الجود بالنفس غایة الجود“ محبوب کی خاطر جان قربان کردینا اعلیٰ درجہ کی فیاضی ہے۔قربانی کا معنی ہے ”ما یتقرب بہ الی الله ‘ یقال: قربت الله“ یعنی قربان اس چیز کو کہتے ہیں‘ جس کے ساتھ انسان خدا تعالیٰ کا قرب ڈھونڈتا ہے‘ چنانچہ کہتے ہیں ”قربت لله قرباناً“ چونکہ انسان قربانی سے قرب الٰہی کا طالب ہوتا ہے‘ اس لئے اس فعل کا نام بھی قربانی ہوا۔ کائنات کی ہر چھوٹی چیز اپنی سے بڑی چیز پر فدا اور قربان ہوتی دکھائی دیتی ہے‘ تمام جمادات نباتات کے لئے‘ تمام نباتات حیوانات کے لئے اور حیوانات انسان کے لئے قربانی دیتے ہیں۔قربانی کا نظریہ ایک عالمگیر نظریہ اور عقیدہ ہے جو ہرقوم وملت میں رہا ہے۔جیسے قرآن مجید میں ارشاد ہے:
:- ”ولکل امة جعلنا منسکا“ - (الحج:۳۴)
ترجمہ:․․․”ہرقوم وملت کے لئے ہم نے قربانی مقرر کردی ہے“۔
:-” اذ قربا قرباناً فتقبل من احدہما ولم یتقبل من الآخر“۔ (المائدہ: )
یعنی سید البشر حضرت آدم علیہ السلام کے دو بیٹوں ہابیل اور قابیل کے درمیان ایک مسئلے کے بارے میں اختلاف ہوگیا‘ اس وقت شرعی دستور یہ تھا کہ دونوں جھگڑنے والے قربانی کریں‘ جس کی قربانی کو آسمانی آگ جلادے‘ وہ سچا سمجھا جائے گااور جس کی قربانی پڑی رہے وہ جھوٹا ہوگا۔ ہابیل نے اپنے ریوڑ میں سے موٹا تازہ مینڈھا قربان کیا اور قابیل نے ناقص قسم کا غلہ قربانی کے طور پر پیش کیا‘ ہابیل کی قربانی منظور ہوئی‘ اس کی قربانی کو آسمانی آگ نے جلادیا۔ قابیل کا غلہ پڑا رہا اور اس کی قربانی نامنظور ہوئی‘ قابیل کے دل میں حسد پیدا ہوا اور اس نے ہابیل کو قتل کردیا۔اسی طرح حضرت یعقوب علیہ السلام اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کا اپنے اپنے وقتوں میں جانوروں کی قربانی کرنا توریت سے ثابت ہے۔ حضرت سلیمان علیہ السلام نے گھوڑوں کی قربانی کی ہے‘ اسی طرح دوسری قوموں میں بھی اس کا ثبوت ملتا ہے‘ کسی نے اس کو ”بلیدان“ کے نام سے یاد کیا ہے ‘ کسی نے قربانی کو نذراور کسی نے بھینٹ کے نام سے پکارا ہے۔امت مسلمہ کی قربانی کی نسبتجب فخر دو عالم‘ محسن انسانیت ﷺ سے پوچھا گیا ”ما ہذہ الاضاحی“؟ یہ قربانیاں کیا ہیں یعنی کس کی یادگار ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: یہ تمہارے باپ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے‘ گویا ہماری قربانی کی ابتداء حضرت ابراہیم علیہ السلام سے ہوئی ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو خواب میں حکم ہوا کہ اپنی پسندیدہ (محبوب) چیز کو قربان کرو‘ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے پیارے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام سے اس بارے میں رائے طلب کی‘ اس پر حضرت اسماعیل علیہ السلام نے کہا: ”یآبت
فعل ما تؤمر ستجدنی ان شاء الله من الصابرین․․․“ ۔( الصافات:)
”یعنی جو آپ کے رب نے آپ کو حکم دیا ہے آپ کر گذریں‘ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے“۔اس اطاعت وفرمانبرداری کو دیکھ کر یہ شعر یاد آجاتاہے:میری مشاطگی کی کیا ضرورت ہے حسن معنی کو کہ فطرت خود بخود کرتی ہے لالہ کی حنا بندیعلامہ اقبال نے اس منظر کو اس طرح پیش کیا:یہ فیضان نظر تھا یاکہ مکتب کی کرامت تھیسکھائے کس نے اسماعیل کو آداب فرزندیچنانچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے لخت جگر کو ذبح کرنا چاہا‘ لیکن چھری نے اللہ کے حکم سے کام نہیں کیا‘ اس پر اللہ تعالیٰ نے ملائکہ کو حکم دیا کہ جنت سے ایک دنبہ لے کر آؤ‘ تو ملائکہ نے دنبہ لاکر حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاؤں کے نیچے دیا اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کو نکال دیا‘ اس طرح قربانی دنبہ کی شکل میں قبول ہوئی اور یہ سنت آئندہ آنے والی نسلوں کے واسطے قائم کردی گئی اور قیامت تک یہ سنت جاری رہے گی۔اس واقعہ میں ہمارے لئے صبر واستقلال‘ ایثار وغم خواری اور شجاعت وبہادری کی طرف اشارہ ہے‘ کہ ایثار اور صبر حضرت ابراہیم‘ حضرت ہاجرہ اور حضرت اسماعیل علیہم السلام سے سیکھو۔
قربانی کی فضیلت
”․․․․قالوا فما لنافیہا یا رسول الله ؟ قال بکل شعرة حسنة‘ قالوا فالصوف یا رسول اللہ؟ قال بکل شعرة من الصوف حسنة“۔ (رواہ احمد وابن ماجہ)
ترجمہ:․․․․”صحابہ کرام نے آپ ﷺ سے عرض کیا :اس میں ہمیں کیا ثواب ملے گا؟آپ ﷺ نے فرمایا: ہر بال کے بدلے میں ایک نیکی ملے گی۔صحابہ کرام نے عرض کیا: اگر قربانی کا جانور ایسا ہو جس پر اون ہو تو اس کا کیا حکم ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اون کے ہربال کے بدلے میں ایک نیکی لکھی جائے گی“۔
جاہلانہ اعتراض
آج کل بعض پڑھے لکھے جاہلوں سے یہ اعتراض سنا جاتا ہے کہ قربانی کیا ہے؟ یہ قربانی (معاذ اللہ) خواہ مخواہ رکھی گئی ہے‘ قربانی شریعت کو مقصود نہیں بلکہ یہ تو خلاف عقل ہے کہ ایک دن میں اتنے جانوروں پر ظلم کرکے ان کو ذبح کیا جاتاہے‘ لاکھوں روپے خون کی شکل میں نالیوں میں بہائے جاتے ہیں‘ یہ تو معاشی اعتبار سے بھی نقصان ہے کہ کتنے جانور کم ہوجاتے ہیں‘ لہذا قربانی کے بجائے یہ کرنا چاہئے کہ وہ لوگ جو غریب ہیں جو بھوک سے بلبلا رہے ہیں‘ قربانی کرکے گوشت تقسیم کرنے کے بجائے اگر وہ پیسے ان غرباء ومساکین کو دیدیئے جائیں تو ا ن کی ضروریات بہتر طریقے سے پوری ہوسکتی ہیں۔بات یہ ہے کہ قربانی کی صورت میں ایک تعلیم ہے‘ جسے عالم اور جاہل سب جانتے ہیں‘ وہ تعلیم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو کسی کے خون اور گوشت کی پرواہ نہیں ‘ بلکہ وہ ہمیں سکھانا چاہتا ہے کہ تم بھی اللہ کے حضوروقت آنے پر اپنی جان‘ مال ‘ عزت آبرو اس طرح قربان کرو‘ جس طرح کہ یہ جانور اللہ کے نام پر تمہارے ہاتھوں اپنی گردن کٹوا رہا ہے۔اپنے جانور کو اللہ کے حکم پر قربان کرنا یہ بھی ہمارا ہی قربان ہونا ہے کہ اپنے بدلے اپنا قیمتی جانور قربان کررہے ہیں۔یہ کہنا کہ جانوروں کو عید الاضحی پر قربان اس لئے نہ کریں کہ ہمارا ذبح کرنا رحم کے خلاف ہے‘ تو اس کا جواب یہ ہے کہ ہمارے اس طرح نہ کرنے سے کیا وہ جانور ہمیشہ زندہ رہیں گے؟ اگر ان کو ذبح نہ کیا جاوے توکیا وہ خود بیمار ہوکرنہ مریں گے؟یہ کہنا کہ قربانی خود شریعت میں مقصود نہیں بلکہ اصل مقصود غرباء کی امداد ہے اور ابتداء اسلام میں لوگوں کے پاس نقد کم تھا‘ مویشی زیادہ تھے‘ اس لئے یہ طریقہ اختیارکیا گیا کہ جانور کو ذبح کرکے غرباء کو گوشت دیدیاجاتا‘ چونکہ اس زمانے میں نقد بھی موجود ہے‘ غلہ بھی موجود ہے‘ پس آجکل بجائے قربانی کے نقد روپئے سے غرباء کی امداد کرنی چاہئے۔ جواب یہ ہے کہ یہ سمجھنا کہ قربانی کی حکمت غرباء کی مدد کرنا ہے ،یہ صحیح نہیں۔ بلکہ مقصود تو تعمیل حکم ہے‘ کیونکہ اگر یہ حکمت مقصود ہوتی تو اس کی کیا وجہ ہے کہ غرباء کواگر قربانی کا گوشت دیا جائے تو واجب ادا ہو‘ اوراگر زندہ جانور کسی غریب کو دے دیں تو واجب ادا نہ ہو۔کیا پہلے مسلمانوں پر نقد کی وسعت کبھی نہ ہوئی تھی؟ تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کرام نے جس وقت قیصر وکسریٰ کے خزانے فتح کئے ہیں تو اس وقت مسلمانوں کے پاس نقد سونا اور چاندی اس قدر تھا کہ آج کل تو اس کا عشر عشیر بھی نہ ہوگا‘ پھر اس وقت صحابہ کرام کو یہ بات کیوں نہ سوجھی جو آجکل نام نہاد روشن خیالوں کو سوجھی ہے اور صحابہ کرام نے بجائے قربانی کے نقد امداد کو کیوں نہ اختیار کیا ؟رہی بات قربانی کا خلاف العقل ہونا تو اس کو یوں سمجھا جاسکتا ہے کہ دنیا کی عارضی عدالت میں ایک جج اگر کسی مجرم کو سزا ئے موت دے اور مجرم یہ کہے کہ یہ سزا تو عقل کے خلاف ہے تو کیا وہ جج اس کی اس بات کی سماعت کرے گا؟ ہرگز نہیں- بلکہ وہ کہے گا کہ قانون پر تمہاری عقل کی حکومت نہیں‘ بلکہ قانون‘ عقل پر حاکم ہے- اور اس کے اس جواب کو سب عقلاء تسلیم کرتے ہیں-افسوس یہ ہے کہ قانون الٰہی کو آجکل کے مسلمان اپنی عقل پر حاکم نہیں مانتے بلکہ اس کو اپنی عقل کے تابع کرنا چاہتے ہیں-ورنہ قانون الٰہی تو بالکل عقل کے مطابق ہے‘ بشرطیکہ عقل سلیم ہو‘ یہ کیا ضروری ہے کہ ہر شخص کی عقل میں شریعت کی حکمتیں آجایا کریں‘ آخر پارلیمنٹ کے اراکین جو قوانین تجویز کرتے ہیں‘ کیا ہر عامی کی عقل اس کے مصالح تک پہنچ پاتی ہے؟ ہر گز نہیں- بلکہ اس کے مصالح وحکم کو خاص خاص لوگ ہی سمجھتے ہیں‘ پھر آج قانون الٰہی کی حکمتوں اور مصالح کو ہر شخص اپنی عقل سے کیوں معلوم کرنا چاہتا ہے اور یہاں یہ کیوں نہیں کہا جاتا کہ قانون الٰہی عقل کے مطالق ضرور ہے مگر ہماری عقلیں اس کے مصالح سمجھنے سے قاصر ہیں‘ کیونکہ قانون پر عقل حاکم نہیں‘ بلکہ عقل اس کی ماتحت اور اس کے تابع ہے‘ قربانی کے خلاف پروپیگنڈہ عقل کے خلاف ہے‘ یہ پروپیگنڈہ وہ لوگ کرتے ہیں جو دین اسلام کی روح سے ناواقف ہیں۔یاد رکھنا چاہئے کہ دین اسلام کا اصل جوہر ”اتباع کامل“ ہے‘ جب تک انسان میں اتباع کا جذبہ نہیں ہو گا‘ اس وقت تک انسان ‘ انسان نہیں بن سکتا- آجکل معاشرے میں جتنی بدعنوانیاں‘ مظالم‘ نافرمانیاں‘ اورتباہ کاریاں پھیلی ہوئی ہیں، وہ درحقیقت اس بنیاد کو فراموش کرنے کی وجہ سے ہیں کہ انسان اپنی عقل کے پیچھے چلتا ہے‘ اللہ کے حکم کی اتباع نہیں کرتا۔  

Comments

Popular posts from this blog

Yusufzai (Pashtun tribe)

The  Yūsufzai  (also  Youssofzay ,  Yousefzai ,  Yousafzai ,  Esapzey ,  Yousufi , or  Yūsufi ) (Pashto:  يوسفزی ,Persian and Urdu:  یوسف زئی ) is one of the largest Pashtun (Afghans) tribes. The majority of the Yusufzai tribe reside in parts of Western Afghanistan, Khyber Pakhtunkhwa and Provincially Administered Tribal Areas near the Afghan-Pakistan border. They are the predominant population in the districts of Konar, Ningarhar, Mardan District, Dir, Swat,Malakand, Swabi, Buner, Shangla, Haripur District [Khalabat Town Ship and Tarbela] and in Mansehra and Battagram. There is also a Yusufzai clan of Dehwar tribe in the Mastung district of Balochistan who speak Persian with some mixture of Birahvi words. The descendants of Yusuf inhabit Konar, Jalalabad, Swat, Upper Dir, Lower Dir, Malakand Swabi and Mardan...

عہد عثمان میں تدوین قرآن

امام بخاری نے صحیح بخاری میں اپنی سند کے ساتھ ابن شھاب سے روایت کیا ہے کہ انس بن مالک نے انہیں بتایا کہ حذیفہ بن یمان حضرت عثمان کی خدمت میں حاضر ہوئے موسوف نے رمینیہ اور آذربیجان کی جنگ میں شرکت کی تھی وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ لوگ تلاوت قرآن میں بہت اختلاف کرنے لگے تھے ۔ حذیفہ نے حضرت عثمان سے کہا امیرالمؤمنین ! قبل اس کے کہ یہ امت کتاب الٰہی میں یہودیوں اور نصاریٰ کی طرح اکتلاف کرنے لگے اس کو سنبھال لیجئے یہ سن کر حضرت عثمان نے حجرت حفصہ کو کہلا بھیجا کہ آپ کے پاس قرآن کے جو صحیفے پڑے ہیں وہ ہمارے پاس بھیج دیجئے تاکہ ہم ان کو کتابی صورت میں جمع کریں پھر ہم ان کو واپس کردیں گے ۔محترمہ موصوفہ نے وہ صحیفے ارسال کردئیے۔حضرت عثمانرضی اللہ تعالٰی عنہ نے (۱) زید بن ثابترضی اللہ تعالٰی عنہ،(۲) عبداللہ بن زبیررضی اللہ تعالٰی عنہ،(۳)سعد بن العاصرضی اللہ تعالٰی عنہ،(۴)عبدالرحمان بن حارث بن ہشامرضی اللہ تعالٰی عنہکو مومورکیا کہ وہ صحیفوں سے نقل کرکے قرآن کریم کو کتابی صورت میں جمع کردیں۔ حضرت عثمانرضی اللہ تعالٰی عنہ نے تینوں قریشی صحابہ(حضرت زید بن ثابت کے علاوہ باقی تینوں صحابہ سے...

کتاب اللہ کی کون سی آیت سب سے عظیم ہے؟

آیۃ الکرسی کی فضیلت !!! آیۃ الکرسی کی کیااھمیت ہے ؟ اور کیا اس آیت کی عظمت پرکوئ دلیل وارد ہے ؟ الحمد للہ ابن کثیررحمہ اللہ تعالی سورۃ البقرۃ کی آیۃ الکرسی کی تفسیرکرتےہو‏ۓ کہتے ہیں : یہ آیۃ الکرسی ہے جس کی فضیلت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح حدیث میں ہے کہ کتاب اللہ میں یہ آیت سب سے افضل آیت ہے ۔ ابی بن کعب رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نےان سے سوال کیا کہ کتاب اللہ میں سب سے عظیم آیت کونسی ہے ؟ تو وہ کہنے لگے کہ اللہ اور اس کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم کوہی زیادہ علم ہے ، یہ سوال کئ باردھرایا اور پھر فرمانےلگے کہ وہ آیت الکرسی ہے ۔ فرمانے لگے اے ابوالمنذر علم مبارک ہو اس ذات کی قسم جس کےھاتھ میں میری جان ہے اس آیت کی زبان اور ہونٹ ہونگے عرش کے پاۓ کے ہاں اللہ تعالی کی پاکی بیان کررہی ہوگی ۔ اور غالبا مسلم نے والذی نفسی سے آگے والے الفاظ نہیں ہیں ۔ عبداللہ بن ابی بن کعب رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ ان کے والد کے پاس کھجوریں رکھنے کی جگہ تھی ، عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں میرے والد اس کاخیال رکھتے تھے تو...

عہد رسالت میں کتابت قرآن

سرورکائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے مندرجہ ذیل صحابہ کو کاتب وحی مقرر فرمایا تھا: حضرت بوبکررضی اللہ تعالٰی عنہ ، عمرفاروقرضی اللہ تعالٰی عنہ، عثمانرضی اللہ تعالٰی عنہ، علیرضی اللہ تعالٰی عنہ، معاویہرضی اللہ تعالٰی عنہ ، زید بن ثابت رضی اللہ تعالٰی عنہ،ابی بن کعبرضی اللہ تعالٰی عنہ، خالد بن ولیدرضی اللہ تعالٰی عنہ،ثابت بن قیسرضی اللہ تعالٰی عنہ،۔ قرآن کا جو حصہ نازل ہوتا آپ صحابہ کو مامور فرماتے کہ اسے تحریر کرلیں یہاں تک کہ کتابت کے پہلو بہ پہلو قرآن کریم کو سینوں میں بھی محفوظ کرلیا گیا۔(مشہور مستشرق بلاشیر نے کاتبین وحی صحابہ کی تعداد چالیس بتائ ہے دیگر مستشرقین مثلاً شفالی بہل اور کازانوفاکا زاویہ نگاہ بھی یہی ہے مؤخر الذکر نے اس ضمن میں طبقا ابن سعد، طبری ، نووی اور سیرت حلبی پر اعتماد کیا ہے ۔) محدث حاکم نےمستدرک میں زید بن ثابت سے بخاری ومسلم کی شرط کے مطابق روایت کیا ہے کہ زید بن ثابت نے کہا ہم عہد رسالت میں ''رقاع''(ٹکڑوں)سے قرآن جمع کیا کرتے تھے ۔ (الاتقان،ج۱ص،۹۹نیز البرہان ،ج۱ص۲۳۷) مذکورہ صدر حدیث میں ''رقاع ''کا جو لفظ وا...

شرک فی التصرف کا بیان

بسم اللہ الرحمن الرحیم اللّٰھم لک الحمد حمدا یوافی نعمک ویکافی مزید کرمک احمد ک بجمیع محا مدک ما علمت و ما لم اعلم علی جمیع نعمک ما علمت منھا وما لم اعلم وعلی کل حالط اللّٰھم صل علی محمد و علی ال محمد و بارک وسلم۔ اما بعد۔ فاعوذ باللہ من الشیطن الرجیم ط بسم اللہ الرحمن الرحیمط قُلِ ادْعُوا الَّذِيْنَ زَعَمْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللہِ۝۰ۚ لَا يَمْلِكُوْنَ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ فِي السَّمٰوٰتِ وَلَا فِي الْاَرْضِ وَمَا لَہُمْ فِيْہِمَا مِنْ شِرْكٍ وَّمَا لَہٗ مِنْہُمْ مِّنْ ظَہِيْرٍ۝۲۲ وَلَا تَنْفَعُ الشَّفَاعَۃُ عِنْدَہٗٓ اِلَّا لِمَنْ اَذِنَ لَہٗ۝۰ۭ حَتّٰٓي اِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوْبِہِمْ قَالُوْا مَاذَا۝۰ۙ قَالَ رَبُّكُمْ۝۰ۭ قَالُوا الْحَقَّ۝۰ۚ وَہُوَالْعَلِيُّ الْكَبِيْرُ۝۲۳ (السبا:۲۲۔۲۳) اے میرے محسن خدا! کل تعریفوں کا مستحق تو ہی ہے، میں تیری وہ تعریف کرتا ہوں جو تیری دی ہوئی نعمتوں کا بدل ہو، ا ور اس سے جو زیادہ دے، اس کا بدلہ ہو، اور پھر میں تیری جن نعمتوں کو جانتا ہوں اور جن کو نہیں جانتا سب ہی کا ا ن خوبیوں کے ساتھ شکریہ ادا کرتا ہوں، جس کا مجھ کو علم ہے اور جن کا نہیں، غرضیکہ ہر ...

حکایت

حضرت شیخ الاسلام امام غزالی نے احیاء العلوم میں ایک حاسد آدمی کی یہ حکایت فرمائی ہے کہ ایک شخص بادشاہ کے سامنے کھڑا ہوکر یہ کہا کرتا تھا کہ نیک لوگوں کے ساتھ نیکی کرو اور محسن کے احسان کا بدلہ دو کیوںکہ برائی کرنے والے کی برائی تمہاری طرف سے خود کفایت کرے گی۔ یہ شخص بادشاہ کے سامنے یہ نصیحت کیا کرتا تھا جس سے اس کی بڑی عزت تھی۔ اس کی عزت، عظمت اور مرتبہ کو دیکھ کر ایک شخص کو حسد پیدا ہوگیا۔ اس نے بادشاہ سے شکایت کی کہ یہ شخص حضور کے سامنے کھڑا ہوکر گندہ دہن بتاتا ہے۔ بادشاہ نے کہا اس کی تصدیق کیسے ہو؟ حاسد نے کہا جب وہ آپ کے پاس آئے تو آپ اسے اپنے قریب بلا لیجیے، جب وہ آپ کے بالکل قریب آجائے گا تو اپنی ناک بند کرلے گا، تاکہ آپ کے منہ کی بدبو نہ آنے پائے۔ بادشاہ نے کہا بہت اچھا، کل امتحان کریں گے۔ ادھر اس حاسد نے بادشاہ سے یہ کہا، ادھر اس نے جاکر اس ناصح و نیک آدمی کی دعوت کرکے ایسا کھانا کھلایا جس میں لہسن بہت سا تھا۔ یہ کھانا کھا کر فارغ ہی ہوا تھا کہ دربار کا وقت آگیا۔ بدستور سابق بادشاہ کے سامنے کھڑے ہوکر اس نے وہی جملہ کہا جو کہا کرتا تھا۔ بادشاہ نے اس کو اپنے پاس بلانے کا ...

Rasulullah Sallallahu Alaihi Wasallam Kay Muay Mubarak By Shaykh Mufti Umar Farooq

Read Online (400 K) AN EXTRACT FROM MONTHLY MAGAZINE OF DARUL ULOOM DEOBAND ON SOME DETAILS REGARDING THE BELOVED AND MUBARIK HAIR OF RASOOLULLAH [Sallallahu Alaihi Wasallam]. By Shaykh Mufti Umar Farooq

اتباع سنت کا بیان

بسم اللہ الرحمن الرحیم الحمد للہ الذی لم یزل عالماً قدیرا حیاً قیوماً سمیعاً بصیراً و اشھد ان لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ واکبرہ تکبیراً۔ واشھد ان محمداعبدہ ورسولہ و صلی اللہ علی سیدنا محمد ن الذی ارسلہ الی الناس کافۃ بشیراً ونذیرًا۔ و علی الہ و صحبہ وسلم تسلیماً کثیراکثیرا۔ اما بعد! فاعوذ باللہ من الشیطن الرجیم۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللہَ فَاتَّبِعُوْنِيْ يُحْبِبْكُمُ اللہُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ۝۰ۭ وَاللہُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ۝۳۱ قُلْ اَطِيْعُوا اللہَ وَالرَّسُوْلَ۝۰ۚ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّ اللہَ لَا يُحِبُّ الْكٰفِرِيْنَ۝۳۲ (آل عمران:۳۱۔۳۲) سب تعریف اللہ کے لیے ثابت ہے،جو ہمیشہ سے جاننے والا، قدرت والا، زندہ رکھنے والا، سنبھالنے والا، سننے والا اور دیکھنے والا ہے، اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ ایک اور یکتا ہے، جس کا کوئی شریک نہیں ہے، اور میں اس کی بڑائی بیان کرتا ہوں، اور اس بات کی گواہی دیتا ہوں ، کہ محمد ﷺ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، اللہ تعالیٰ ہمارے آقا محمد ﷺ پر رحمت کا ملہ نازل فرم...

اللہ و رسول ﷺ کی اطاعت کا بیان

بسم ا للہ الرحمن الرحیم۔ الحمد للہ رب العالمین۔ الرحمن الرحیم۔ مالک یوم الدین۔ والصلوۃ والسلام علی رسولہ المبین سیدنا محمد خاتم النبیین۔ وعلی جمیع الانبیاء والمرسلین۔ وسائر عباد اللہ الصالحین۔ اما بعد! فاعوذ باللہ من الشیطن الرجیم ط بسم اللہ الرحمن الرحیم ط يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَطِيْعُوا اللہَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ وَاُولِي الْاَمْرِ مِنْكُمْ۝۰ۚ فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِيْ شَيْءٍ فَرُدُّوْہُ اِلَى اللہِ وَالرَّسُوْلِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللہِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ۝۰ۭ ذٰلِكَ خَيْرٌ وَاَحْسَنُ تَاْوِيْلًا۔ (النساء:۵۹) سب تعریف اللہ کے لیے ہے، جو سار ے جہاں کا پالنے والا ہے، بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، بدلے کے دن (قیامت )کا مالک ہے، اور درودوسلام نازل ہوں، ا للہ تعالیٰ کے رسول پر جو احکام الٰہی کے ظاہر کرنے والے ہیں، ہمارے سردار جن کا نام نامی اسم گرامی محمد ﷺ ہے، جو سب نبیوں کے ختم کرنے والے ہیں، اور اللہ کے تمام نبیوں ا ور رسولوں پر، اور ا للہ کے تمام نیک بندوں پر، حمد و صلوۃ کے بعد، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ا ے ایمان والوفرمانبرداری کرو اللہ کی اور فرمانبر...

شرک کی مذمّت

بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ الحمدللہ الذی لم یتخذ ولداو لم یکن لہ شریک فی الملک ولم یکن لہ ولی من الذل وکبرہ تکبیرا۔ ونشھد ان لاالہ ا لااللہ وحدہ لا شریک لہ ونشھد ان محمداعبدہ ورسولہ صلی اللہ علیہ وعلی اٰلہ واصحابہ وسلم تسلیما کثیرا۔ اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم ط بسم اللہ الرحمن الرحیم بِہٖ۝۰ۭ وَمَنْ يُّشْرِكْ بِاللہِ فَكَاَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَاۗءِ فَتَخْطَفُہُ الطَّيْرُ اَوْ تَہْوِيْ بِہِ الرِّيْحُ فِيْ مَكَانٍ سَحِيْقٍ (الحج:۳۱) سب تعریف اللہ ہی کے لیے ہے، جو نہ اولاد رکھتا ہے، اور اپنی سلطنت میں کسی کو شریک بھی نہیں کرتا، اور نہ وہ ایسا حقیر ہے، کہ اس کا کوئی حمائتی ہو، تم اس کی بڑائی بیان کرو، اور ہم اس بات کی شہادت دیتے ہیں، کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے، وہ ایک ا کیلا ہے، اس کے ساتھ کوئی شریک نہیں ہے، اور ہم اس بات کی شہادت دیتے ہیں، کہ محمدﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں، اللہ تعالیٰ ان پر اور ان کے اصحابؓ پر بہت بہت درود بھیجے حمدو صلوٰۃ کے بعد عرض ہے ، کہ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں یہ فرما رہاہے، کہ اللہ کے ساتھ شرک کرنے والا گویا آسمان سے گر پڑا، تو اب اسے یا تو پرند...