Skip to main content

کیا حساب وکتاب کا یقین نہیں؟

”جو آدمی نماز نہیں ادا کرتا‘ اسے جسم وجان اور لباس پاک رکھنے کی کیا ضرورت ہے“ جو شخص زکوٰة کی ادائیگی نہیں کرتا‘ وہ حلال مال کمانے کا تکلف کیوں کرے گا؟ اور جس انسان کو مرنے کے بعد حساب وکتاب پر یقین نہیں ہے‘ وہ دوسروں کے حقوق غصب کیوں نہ کرے گا؟ مرنے کے بعد زندہ ہونے اور اعمال صالحہ کے بدلے جنت اور برے اعمال پر جہنم جس کا عقیدہ نہیں‘ وہ برے عملوں کی لذت کیوں چھوڑے اور اچھے اعمال کی مشقت کیوں برداشت کرے ۔ جسے نبی دوجہاں ا کے آخری ہادی ومہدی ہونے پر یقین نہیں ہے وہ ان کی فرمانبرداری کیوں کرے گا۔یہ چند موٹے موٹے اصول ہیں‘ ہم نے دیکھا ہے کہ عورتیں چھوٹے بچوں کو مَردوں کے پاس جانے سے روکتی ہیں کہ تمہارے ابو نے‘ تمہارے بھائی نے نماز کے لئے جانا ہے‘ ان کے کپڑے ناپاک نہ ہوجائیں‘ بچہ پیشاب نہ کردے۔ ہم نے دیکھا ہے: کہیں اوپر سے پانی کے چھینٹے آرہے ہوں تو راہ چلتے بھی آدمی سوچتا ہے‘ کہیں یہ ناپاک پانی کے چھینٹے نہ ہوں‘ گھر میں یا باہر کپڑوں پر ایسے چھینٹے پڑجائیں جو مشکوک ہوں تو نمازی آدمی اس جگہ سے کپڑا کو دھو لیتا ہے یا لباس ہی تبدیل کرلیتاہے۔مگر بے نماز آدمی یا غیر مسلم جسے نماز ادا نہیں کرنی‘ وہ صرف یہ دیکھے گا کہ یہ معمولی چھینٹے میرے لباس کی ظاہری صفائی ستھرائی کے خلاف تو نہیں‘ کوئی داغ ظاہر نظر تو نہیں آرہا۔ مغرب کی ”روشن خیال“ تہذیب اسی لئے پانی کے ساتھ طہارت کو معیوب سمجھتی ہے‘ اگرچہ ظاہراً وہ اسے خلاف ِ نظافت سمجھتے ہیں‘ مگر حقیقت میں وہ خود سراپا کثافت ہیں۔ ان کو خوب صاف ستھرے کپڑے مطلوب ہیں‘ مگر کیا وہ پاک بھی ہیں؟ اس سے ان کو کچھ غرض نہیں۔ ان کا جسم ناپاک ہے‘ انہیں غسل سے کچھ غرض نہیں۔ ان کو وضو نصیب نہیں‘ بس ہاتھ منہ خوب چمک دمک والا ہونا ضروری ہے۔ مسلمان کہلانے والے بے نماز نوجوان کا بھی حال غیر مسلم ”روشن خیالوں“ سے قطعاً مختلف نہیں زباں سے کہہ بھی دیا لا الٰہ تو کیا حاصلدِل ونگاہ مسلمان نہیں تو کچھ بھی نہیںجی ہاں ”زبان سے“ لا الٰہ کہنا اور دل ونگاہ سے ہزاروں ”الٰہ“ اپنائے رکھنے سے آدمی مسلمان تھوڑی ہوجاتا ہے۔ مرتے وقت تو بعض بزرگوں سے سنا ہے‘ہندو بھی اپنے مرنے والے کی تکلیف دیکھ کر اسے تجویز دیتے ہیں ”ان کہنی کہہ لے“ اور اگر وہ لا الٰہ الا اللہ کہہ لیتا ہے‘ صرف جان کنی کی مصیبت سے بچنے کے لئے تو کیا وہ مسلمان شمار ہوگا؟ ہاں جان آسانی سے نکل جائے گی یہی حیلہ مصر کے فرعون نے بھی کیا تھا‘ یہی چال چلی تھی کہ جب ”نیل“ میں دو غوطے آئے تو کہنے لگا:
”آمنت انہ لا الہ الا الذی آمنت بہ بنوا اسرائیل وانا من المسلمین“۔ (یونس:۹۰)
ترجمہ:․․․”یقین کرلیا میں نے‘ کوئی معبود نہیں مگر جس پر کہ ایمان لائے بنی اسرائیل اور میں ہوں فرمابنرداروں میں“۔ مگر کیا اس کا یہ ایمان اس کے کام آیا؟ اسے غرق ِ آب ہونے سے اور نمونہٴ عبرت بننے سے بچاسکا؟ جو شخص زکوٰة جو مساکین کا حق ہے‘ ادا نہیں کرتا وہ ان کا مال‘ شیرِ مادر سمجھ کر ہضم کرجاتا ہے‘ وفات پانے والے کے ترکہ میں سے زیادہ سے زیادہ لے لینا چاہتا ہے‘ چھوٹے بچوں کا حق ان کو نہیں دیتا‘ بیوہ اور بیٹیوں ‘ بہنوں کا حصہ ان کو پہنچنے سے پہلے ہی ٹھکانے لگا دیتا ہے‘ بہنوں سے زبردستی‘ پٹواری کے پاس بیان دلوا کر‘ زمین ‘ جائداد اپنے حق میں منتقل کروا لیتا ہے یا زمین جائداد تو بہنوں‘ بیٹیوں کو دے دیتا ہے‘ لیکن ان کی ”شادی قرآن کے ساتھ“ کردیتا ہے‘ حتی کہ وہ مظلوم عورتیں اپنے ”اقارب کا لعقارب“ کو دعائیں دیتے زندگی سے گزر جائیں اور زمین ‘ جائداد کا قبضہ پھر اسی کے پاس آجائے۔ کیا ایسا مسلمان زکوٰة اور عشر اللہ کی رضا کے لئے ادا کرے گا؟ ہرگز نہیں۔ کراچی میں مفتی محمود سے ایک لطیفہ سنا تھا‘ انہوں نے تقریر کے دور ان فرمایا تھا : ملتان میں ایک شخص مجھ سے مسئلہ پوچھنے آیا کہ حضرت زکوٰة حلال مال پر فرض ہے یا حرام پر بھی؟ میں اس کی چال بھانپ گیا کہ یہ حرام مال‘ غصب کا مال سارا ہڑپ کرنے کے لئے مجھ سے کہلوانا چاہتا ہے کہ حرام مال پر کوئی زکوٰة نہیں۔ میں نے جواب دیا: حرام مال پر بھی زکوٰة فرض ہے۔ وہ حیرت سے کہنے لگا: مفتی صاحب! حرام مال پر بھی؟ میں نے کہا: ہاں! البتہ ایک فرق ہے ”حلال پر ڈھائی فیصد اور حرام پر سو فیصد“ یعنی جس کا مال غصب کیا ہے‘ جس کا حق کھایا ہے اس کو سارا واپس کرو“۔ خیال ہے‘ سائل کوئی نیک نیت ہوگا یا بھولا کہ یا تو اس نے نیک نیتی سے پوچھا اور عمل کی توفیق اسے ہوگئی ہوگی یا بھولے سے پوچھ بیٹھا ہوگا‘ ادائیگی تھوڑی ہی کرنی تھی؟ بس یوں سمجھ لیں جو زکوٰة اور عشر ادا نہیں کرتا‘ وہ زیادہ سے زیادہ مال جمع کرنے میں لگاہوا ہے پھر وہ حلال وحرام‘ رشوت‘ سود ‘ چوری‘ ڈاکہ‘ غصب‘ غرض کسی بھی غلط طریقے سے مال کیو ں نہ کمائے گا؟ اور یہ تو ممکن نہیں کہ وہ ہزار جتن کرکے چالیس ہزار کمائے اور پھر چالیسواں ہزار بلا معاوضہ (صرف اللہ کی رضا کے لئے) کسی مسکین کو دیدے‘ ایسا ممکن نہیں‘ حرام مال ‘ حلال مصرف پر لگ ہی نہیں سکتا‘ اسے توفیق ہی نہ ہوگی۔ اس کی کوشش تو مرتے ہوئے بھی ہوگی کہ مرتے ہوئے بھی اپنے خزانے اپنے ساتھ ہی زمین کے اندر لے جائے۔ جب انسان کو یقین ہی نہیں کہ مرنے کے بعد حساب کتاب ہونا ہے‘ اعمال کا بدلا ملنا ہے تو وہ کسی بھی انسان کا حق اس تک کیوں پہنچنے دے گا؟ اس کی کوشش یہی ہوگی کہ ساری دنیا کا بڑا قارون میں ہی بن جاؤں اور یہ کہ میرے بال بچے بھی میرا بچا ہوا مال کھا سکیں تو کھائیں‘ ورنہ تو میں اپنے پیٹ کے جہنم میں ڈال کر ساتھ لے جاؤں ‘ جب مرنے کے بعد اعمال کے بدلے جنت اور جہنم ملنے پر یقین نہیں تو کس لئے اعمال کے مخمصے میں پڑا جائے بقول شاعر (اپنی محبوب بیوی کو خطاب کرتے ہوئے)
حیاة ثم موت ثم بعثحد یث خرافة یا ام عمرو
ترجمہ:․․․”عمرو کی ماں! زندگی پھر موت اور موت کے بعد ہم پھر اٹھائے جائیں گے یہ سب خرافات‘ فضول با تیں ہیں“۔ بس ”روشن خیالی“ یہی ہے کہ مرنا تو ہے مگر مرنے کے بعد کچھ نہیں‘ کوئی حساب وکتاب نہیں‘ کسی سے کسی کے حق کا مطالبہ نہیں‘ کوئی جنت ‘ دوزخ نہیں‘ ”ان بھر بھری ہوکر ختم ہوجانے والی ہڈیوں کو دوبارہ کون زندہ کرے گا؟“ اے محبوب نبی! آپ کہہ دیجئے! وہی دوبارہ زندہ کرے گا جس نے ان کو پہلی بار تخلیق کیا تھا۔ جسم وجان‘ لباس اور جسد وروح کی پاکیزگی‘ دل ونگاہ کی طہارت‘ عقل وفہم وتدبر کی عاقبت اندیشی مطلوب ہے‘ اس لئے ہی اللہ نے ہر بستی‘ ہرزمانے‘ ہرقوم میں نبی بھیجے اور سب سے آخر میں سید الانبیاء والمرسلین ‘ خاتم المعصومین حضرت محمد اکو آخری ہادی ومہدی بناکر بھیجا کہ اب ” اے صحابہ! میں نے تمہارے اوپر‘ تمہارا دین مکمل کردیا اور تم پر اپنی نعمت مکمل کردی اور تمہارے لئے دین اسلام پسند کرایا“ اللہ خالق کائنات کی طرف سے محمد رسول اللہ ا پر آنے والا یہ آخری پیغام تھا کہ اب جس کی مرضی ہو وہ ایمان لائے اور جس کی مرضی ہو وہ کفر کے اندھیروں میں دھکے کھاتا رہے ۔ ہدایت اسی کو ملے گی جو برے اعمال کی لذتوں کو چھوڑے‘ حقوق ادا کرے‘ اچھے اعمال کی مشقتوں کو برداشت کرے‘ اس لئے کہ جس کو آپ ا کے آخری نبی‘ آخری ہادی ہونے پر یقین ہے‘ وہی ان کی فرمانبرداری کرے گا‘ جو ان کو آخری مرکز ہدایت ‘ مرکز خیر آخرت نہیں مانتا وہ ان کی فرمانبرداری کیوں کرے گا؟

Comments

Popular posts from this blog

Yusufzai (Pashtun tribe)

The  Yūsufzai  (also  Youssofzay ,  Yousefzai ,  Yousafzai ,  Esapzey ,  Yousufi , or  Yūsufi ) (Pashto:  يوسفزی ,Persian and Urdu:  یوسف زئی ) is one of the largest Pashtun (Afghans) tribes. The majority of the Yusufzai tribe reside in parts of Western Afghanistan, Khyber Pakhtunkhwa and Provincially Administered Tribal Areas near the Afghan-Pakistan border. They are the predominant population in the districts of Konar, Ningarhar, Mardan District, Dir, Swat,Malakand, Swabi, Buner, Shangla, Haripur District [Khalabat Town Ship and Tarbela] and in Mansehra and Battagram. There is also a Yusufzai clan of Dehwar tribe in the Mastung district of Balochistan who speak Persian with some mixture of Birahvi words. The descendants of Yusuf inhabit Konar, Jalalabad, Swat, Upper Dir, Lower Dir, Malakand Swabi and Mardan...

Masail -e- Ghusl By Shaykh Mufti Abdur Rauf Sakharvi

Read Online (2.1 M) By Shaykh Mufti Abdur Rauf Sakharvi

جمع عثمانی رِوایات کے آئینے میں

نبی مکرمﷺ کی حدیث مبارکہ ’’خَیْرُ النَّاسِ قَرْنِيْ ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَھُمْ ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَھُمْ‘‘۔(صحیح البخاري: ۲۶۵۲) پر جب نظر پڑتی ہے تو سر احسان و نیازمندی کے ملے جلے تاثر ات سے جھک جاتا ہے کہ واقعتا آپﷺ، صحابہ رضی اللہ عنہم اور تابعین رحمہم اللہ کا زمانہ خیر القرون تھا، کیونکہ اس میں بنی نوع اِنسان کی راہ روی اور اسلام کی سربلندی کے لیے وہ محنتیں اور کوششیں ہوئی ہیں کہ جس کی مثال آئندہ جمیع قرون میں پیش کرنا مشکل ہے۔ یقینا وہ لوگ اس قابل تھے کہ اُنہیں یہ ذمہ داری سونپی جاتی کہ وہ دینِ الٰہی اور شرع اللہ کو اپنی مکمل تشریحات کے ساتھ آئندہ نسلوں تک منتقل کریں، بلا شبہ وہ طائفہ فائزہ اپنے اس مقصد میں بامراد ہوا ہے۔ان جملہ ذمہ داریوں میں سے اَہم ترین ذمہ داری یہ تھی کہ ہدایت سماوی کے آخری ربانی صحیفہ کو محفوظ اور غیر متبدل شکل میں ہم تک پہنچایا جائے۔ ہمارا یہ قطعی ایمان ہے کہ وہ پیام اَیزدی آج اپنی سو فیصد اَصلی اور حقیقی شکل میں ہمارے درمیان موجود ہے۔ الحمد ﷲ علی ذلک۔اِس سلسلہ میں خیرالقرون میں جو سب سے اَہم کام ہوا ہے وہ سیدنا عثمان ذوالنورین رضی ال...

دین اسلام میں رسول اللہ ﷺ کی اطاعت فرض ہے

بسم اللہ الرحمن الرحیم دین اسلام میں رسول اللہ ﷺ کی اطاعت فرض ہے يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ أَطِيعُوا۟ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ وَلَا تَوَلَّوْا۟ عَنْهُ وَأَنتُمْ تَسْمَعُونَ ﴿20﴾ترجمہ: اے ایمان والو الله اور اس کے رسول کا حکم مانو اور سن کر اس سے مت پھرو(سورۃ الانفال،آیت20) قُلْ أَطِيعُوا۟ ٱللَّهَ وَأَطِيعُوا۟ ٱلرَّسُولَ ۖ فَإِن تَوَلَّوْا۟ فَإِنَّمَا عَلَيْهِ مَا حُمِّلَ وَعَلَيْكُم مَّا حُمِّلْتُمْ ۖ وَإِن تُطِيعُوهُ تَهْتَدُوا۟ ۚ وَمَا عَلَى ٱلرَّسُولِ إِلَّا ٱلْبَلَٰغُ ٱلْمُبِينُ﴿56﴾ترجمہ: کہہ دو الله اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرو پھر اگر منہ پھیرو گے تو پیغمبر تو وہی ہے جس کا وہ ذمہ دار ہے اورتم پر وہ ہے جو تمہارے ذمہ لازم کیا گیا ہے اور اگر اس کی فرمانبرداری کرو گے تو ہدایت پاؤ گے اور رسول کے ذمہ صرف صاف طور پر پہنچا دینا ہے (سورۃ النور،آیت 56) مَّن يُطِعِ ٱلرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ ٱللَّهَ ۖ وَمَن تَوَلَّىٰ فَمَآ أَرْسَلْنَٰكَ عَلَيْهِمْ حَفِيظًۭا ﴿80﴾ترجمہ: جو شخص رسول کی فرمانبرداری کرے گا تو بےشک اس نے اللہ کی فرمانبرداری کی اور جو نافرمانی کرے گا تو اے ...

قراء ات متواترہ کا ثبوت اور اس کے منکر کا حکم

قرآن حکیم اللہ تبارک وتعالیٰ کا انمٹ اورلاریب کلام ہے جس کی مثل لانے سے دنیا کا ہر فرد عاجز اور درماندہ ہے۔ بڑے بڑے فصحائے عرب اور فارسانِ بلاغت اس کی نظیر اورمثل پیش نہیں کرسکے اور نہ ہی قیامِ قیامت تک پیش کر سکتے ہیں۔ علمائے اسلام اور زعمائے ملت نے اس کی تفسیر وتوضیح اور مفاہیم ومعانی کی عقدہ کشائی کے لئے انتھک محنت اور قابل رشک جدوجہد کی ہے اور اس کا حقِ خدمت ادا کرنے کے لئے صعوبتوں اورمسافتوں سے بھرپور دور دراز بلاد و ممالک کے سفر طے کیے۔ اورہر کسی نے اپنی اپنی ہمت اوربساط کے مطابق اس کی خدمت کر کے اعلیٰ وارفع مقام حاصل کیا ۔جن میں ابن جریر طبری، ابن حاتم رازی، عبد الرزاق ، نسائی اور ابن کثیررحمہم اللہ جیسے گلستان ِ حدیث کے خوشبودار پھول، ابوحیان اندلسی اور زمخشری رحمہم اللہ جیسے فارسانِ بلاغت وادب اورنکتہ سنج۔ ابو عبد اللہ قرطبی اورابوبکر ابن العربی رحمہم اللہ جیسے فقاہت کے درخشندہ ستارے۔ رازی اوربیضاوی رحمہم اللہ جیسے فلاسفہ اورمتکلمین جہاں معانی ومفا،عثمان بن سعید ابو سعید ورش القبطی، احمد بن قالون المدنی، خلف بن ہشام البغدادی، ابو معبد عبد اللہ بن ہیم رحمہم اللہ کے گلستان ...

خیرخواہی وامانت داری

خیرخواہی وامانت داری خیر خواہی دین کی بنیاد ا ور اس کا جوہر ہے۔ دین دراصل خیر خواہی کا نام ہے۔ خیرخواہی اللہ کی، اس کے کتاب کی، اس کے رسول کی، مسلم ائمہ وحکمرانوں کی اور عامۃ المسلمین کی ہوتی ہے۔ پس جب ان تمام کے حق میں بندہ خیرخواہ ہوگا تو اس کا دین کامل ہوگا اور جس میں ان میں سے کسی کی خیرخواہی میں کمی و کوتاہی ہوگی تو اسی قدر اس کے دین میں نقص وکمی ہوگی۔ مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اپنی خیرخواہی میں امانت کو ملحوظ رکھے اور بغیر کسی مداہنت ومجاملت کے حق کو بیان کرے۔ یہی شخص اللہ کے نزدیک امین ہوگا۔ إن الحمد لله، نحمده ونستعينه ونستغفره، ونعوذ بالله من شرور أنفسنا، وسيئات أعمالنا، من يهده الله فلا مضل له، ومن يضلل فلا هادى له، وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له، وأشهد أن محمداً عبده ورسوله۔ أما بعد: فإن خیر الحدیث کتاب اللہ، وخیر الھدی ھدی محمد صلی اللہ علیہ وسلم، وشر الأمور محدثاتھا، وکل محدثۃ بدعۃ، وکل بدعۃ ضلالۃ، وکل ضلالۃ  فی النار۔  وقد قال اللہ تبارک وتعالی فی کتابہ المجید: (إِنَّ اللَّـهَ يَأْمُرُكُمْ أَن تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَىٰ أَهْلِهَا وَإِذَا حَ...

Alamaat -e- Qayamat Aur Nuzool -e- Maseeh [a.s] By Shaykh Mufti Rafi Usmani

Read Online Slideshare Download [27] ENGLISH TRANSLATION

دعا مانگنے کا ضابطہ اور اس کے آداب

ارشاد ربانی ہے:”ونادٰی نوح ربہ فقال رب ان ابنی من اہلی وان وعدک الحق وانت احکم الحاکمین‘ قال یا نوح انہ لیس من اہلک‘ انہ عمل غیر صالح‘ فلاتسئلن مالیس لک بہ علم‘ انی اعظک ان تکون من الجاہلین“۔ (۱)ترجمہ:․․․”اور نوح علیہ السلام نے اپنے رب کو پکارا اور عرض کیا کہ اے میرے رب! میرا بیٹا میرے گھروالوں میں سے ہے اور آپ کا وعدہ بالکل سچا ہے‘ اور تو سب سے بڑا حاکم ہے‘ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: کہ اے نوح! یہ شخص تمہارے گھروالوں میں نہیں‘ یہ تباہ کار ہے‘ سو مجھ سے ایسی چیز کی درخواست مت کرو جس کی تم کو خبر نہیں۔ میں تم کو نصیحت کرتا ہوں کہ تم نادانوں میں داخل نہ ہوجاؤ“۔آیات مذکورہ بالا سے فقہاء نے یہ مسئلہ اخذ کیا ہے کہ دعا کے لئے ضروری ہے کہ دعا کرنے والا پہلے یہ معلوم کرے کہ جس کام کی دعا کررہا ہے وہ جائز وحلال ہے یانہیں۔ مشتبہ حالت میں دعا کرنے سے منع فرمایا گیا ہے‘ جیساکہ قاضی بیضاوی لکھتے ہیں:”فلاتسئلن مالیس لک بہ علم“ ای مالم تعلم اصواب ہو ام لیس کذلک“ (۲)ترجمہ:․․․”سو مجھ سے ایسی چیز کی درخواست مت کرو جس کی تم کو خبر نہیں یعنی جس کے بارے میں تجھے یہ علم نہ ہو کہ یہ حق وجائز ہے یا نہیں...

قرآن مجید سے فائدہ اٹھانے کی پانچ شرائط

ایمان حاصل کرنے کا اصل ذریعہ قرآنِ کریم ہے لیکن اس مقصد کے لئے قرآن کی تلاوت کے کچھ آداب و شرائط ہیں۔ اگر ان کا خیال رکھا جائے تو تبھی قرآن سے مذکورہ فائدہ حاصل ہوتا ہے۔ لہٰذا ان آداب و شرائط کا پورا پورا اہتمام کرنا چاہئے۔ ۱ نیت کی پاکیزگی: سب سے پہلی چیز نیت کی پاکیزگی ہے۔ یعنی آدمی قرآن مجید کو صرف ہدایت حاصل کرنے کے لئے پڑھے، کوئی ذاتی غرض سامنے رکھ کر نہ پڑھے، اگر طلبِ ہدایت کے سوا آدمی کے سامنے کوئی اور غرض ہوگی تو نہ صرف یہ کہ وہ قرآن مجید کے فیض سے محروم رہے گا بلکہ اس بات کا اندیشہ بھی ہے کہ قرآن مجید سے جتنا دور وہ اب تک رہا ہے، اس سے بھی کچھ زیادہ دور ہٹ جائے گا۔ اگر آدمی قرآن مجید کو اس لئے پڑھے کہ لوگ اسے مفسر قرآن سمجھنے لگیں یا اس لئے پڑھے کہ اس کے کچھ اپنے نظریات ہوں اور وہ اپنے ان نظریات کو قرآن مجید کے رنگ کے ساتھ لوگوں کے سامنے پیش کرنے کا خواہش مند ہو تو ممکن ہے اس کے یہ ارادے کسی حد تک پورے ہوجائیں لیکن اس طرح وہ قرآن مجید سمجھنے کا دروازہ اپنے اوپر بالکل بند کرلے گا۔قرآن مجید کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت کا صحیفہ بنا کر اتارا ہے اور ہرآدمی...

The Qur’an & Modern Science -Compatible or Incompatible?

Read and Download