Skip to main content

کیا حساب وکتاب کا یقین نہیں؟

”جو آدمی نماز نہیں ادا کرتا‘ اسے جسم وجان اور لباس پاک رکھنے کی کیا ضرورت ہے“ جو شخص زکوٰة کی ادائیگی نہیں کرتا‘ وہ حلال مال کمانے کا تکلف کیوں کرے گا؟ اور جس انسان کو مرنے کے بعد حساب وکتاب پر یقین نہیں ہے‘ وہ دوسروں کے حقوق غصب کیوں نہ کرے گا؟ مرنے کے بعد زندہ ہونے اور اعمال صالحہ کے بدلے جنت اور برے اعمال پر جہنم جس کا عقیدہ نہیں‘ وہ برے عملوں کی لذت کیوں چھوڑے اور اچھے اعمال کی مشقت کیوں برداشت کرے ۔ جسے نبی دوجہاں ا کے آخری ہادی ومہدی ہونے پر یقین نہیں ہے وہ ان کی فرمانبرداری کیوں کرے گا۔یہ چند موٹے موٹے اصول ہیں‘ ہم نے دیکھا ہے کہ عورتیں چھوٹے بچوں کو مَردوں کے پاس جانے سے روکتی ہیں کہ تمہارے ابو نے‘ تمہارے بھائی نے نماز کے لئے جانا ہے‘ ان کے کپڑے ناپاک نہ ہوجائیں‘ بچہ پیشاب نہ کردے۔ ہم نے دیکھا ہے: کہیں اوپر سے پانی کے چھینٹے آرہے ہوں تو راہ چلتے بھی آدمی سوچتا ہے‘ کہیں یہ ناپاک پانی کے چھینٹے نہ ہوں‘ گھر میں یا باہر کپڑوں پر ایسے چھینٹے پڑجائیں جو مشکوک ہوں تو نمازی آدمی اس جگہ سے کپڑا کو دھو لیتا ہے یا لباس ہی تبدیل کرلیتاہے۔مگر بے نماز آدمی یا غیر مسلم جسے نماز ادا نہیں کرنی‘ وہ صرف یہ دیکھے گا کہ یہ معمولی چھینٹے میرے لباس کی ظاہری صفائی ستھرائی کے خلاف تو نہیں‘ کوئی داغ ظاہر نظر تو نہیں آرہا۔ مغرب کی ”روشن خیال“ تہذیب اسی لئے پانی کے ساتھ طہارت کو معیوب سمجھتی ہے‘ اگرچہ ظاہراً وہ اسے خلاف ِ نظافت سمجھتے ہیں‘ مگر حقیقت میں وہ خود سراپا کثافت ہیں۔ ان کو خوب صاف ستھرے کپڑے مطلوب ہیں‘ مگر کیا وہ پاک بھی ہیں؟ اس سے ان کو کچھ غرض نہیں۔ ان کا جسم ناپاک ہے‘ انہیں غسل سے کچھ غرض نہیں۔ ان کو وضو نصیب نہیں‘ بس ہاتھ منہ خوب چمک دمک والا ہونا ضروری ہے۔ مسلمان کہلانے والے بے نماز نوجوان کا بھی حال غیر مسلم ”روشن خیالوں“ سے قطعاً مختلف نہیں زباں سے کہہ بھی دیا لا الٰہ تو کیا حاصلدِل ونگاہ مسلمان نہیں تو کچھ بھی نہیںجی ہاں ”زبان سے“ لا الٰہ کہنا اور دل ونگاہ سے ہزاروں ”الٰہ“ اپنائے رکھنے سے آدمی مسلمان تھوڑی ہوجاتا ہے۔ مرتے وقت تو بعض بزرگوں سے سنا ہے‘ہندو بھی اپنے مرنے والے کی تکلیف دیکھ کر اسے تجویز دیتے ہیں ”ان کہنی کہہ لے“ اور اگر وہ لا الٰہ الا اللہ کہہ لیتا ہے‘ صرف جان کنی کی مصیبت سے بچنے کے لئے تو کیا وہ مسلمان شمار ہوگا؟ ہاں جان آسانی سے نکل جائے گی یہی حیلہ مصر کے فرعون نے بھی کیا تھا‘ یہی چال چلی تھی کہ جب ”نیل“ میں دو غوطے آئے تو کہنے لگا:
”آمنت انہ لا الہ الا الذی آمنت بہ بنوا اسرائیل وانا من المسلمین“۔ (یونس:۹۰)
ترجمہ:․․․”یقین کرلیا میں نے‘ کوئی معبود نہیں مگر جس پر کہ ایمان لائے بنی اسرائیل اور میں ہوں فرمابنرداروں میں“۔ مگر کیا اس کا یہ ایمان اس کے کام آیا؟ اسے غرق ِ آب ہونے سے اور نمونہٴ عبرت بننے سے بچاسکا؟ جو شخص زکوٰة جو مساکین کا حق ہے‘ ادا نہیں کرتا وہ ان کا مال‘ شیرِ مادر سمجھ کر ہضم کرجاتا ہے‘ وفات پانے والے کے ترکہ میں سے زیادہ سے زیادہ لے لینا چاہتا ہے‘ چھوٹے بچوں کا حق ان کو نہیں دیتا‘ بیوہ اور بیٹیوں ‘ بہنوں کا حصہ ان کو پہنچنے سے پہلے ہی ٹھکانے لگا دیتا ہے‘ بہنوں سے زبردستی‘ پٹواری کے پاس بیان دلوا کر‘ زمین ‘ جائداد اپنے حق میں منتقل کروا لیتا ہے یا زمین جائداد تو بہنوں‘ بیٹیوں کو دے دیتا ہے‘ لیکن ان کی ”شادی قرآن کے ساتھ“ کردیتا ہے‘ حتی کہ وہ مظلوم عورتیں اپنے ”اقارب کا لعقارب“ کو دعائیں دیتے زندگی سے گزر جائیں اور زمین ‘ جائداد کا قبضہ پھر اسی کے پاس آجائے۔ کیا ایسا مسلمان زکوٰة اور عشر اللہ کی رضا کے لئے ادا کرے گا؟ ہرگز نہیں۔ کراچی میں مفتی محمود سے ایک لطیفہ سنا تھا‘ انہوں نے تقریر کے دور ان فرمایا تھا : ملتان میں ایک شخص مجھ سے مسئلہ پوچھنے آیا کہ حضرت زکوٰة حلال مال پر فرض ہے یا حرام پر بھی؟ میں اس کی چال بھانپ گیا کہ یہ حرام مال‘ غصب کا مال سارا ہڑپ کرنے کے لئے مجھ سے کہلوانا چاہتا ہے کہ حرام مال پر کوئی زکوٰة نہیں۔ میں نے جواب دیا: حرام مال پر بھی زکوٰة فرض ہے۔ وہ حیرت سے کہنے لگا: مفتی صاحب! حرام مال پر بھی؟ میں نے کہا: ہاں! البتہ ایک فرق ہے ”حلال پر ڈھائی فیصد اور حرام پر سو فیصد“ یعنی جس کا مال غصب کیا ہے‘ جس کا حق کھایا ہے اس کو سارا واپس کرو“۔ خیال ہے‘ سائل کوئی نیک نیت ہوگا یا بھولا کہ یا تو اس نے نیک نیتی سے پوچھا اور عمل کی توفیق اسے ہوگئی ہوگی یا بھولے سے پوچھ بیٹھا ہوگا‘ ادائیگی تھوڑی ہی کرنی تھی؟ بس یوں سمجھ لیں جو زکوٰة اور عشر ادا نہیں کرتا‘ وہ زیادہ سے زیادہ مال جمع کرنے میں لگاہوا ہے پھر وہ حلال وحرام‘ رشوت‘ سود ‘ چوری‘ ڈاکہ‘ غصب‘ غرض کسی بھی غلط طریقے سے مال کیو ں نہ کمائے گا؟ اور یہ تو ممکن نہیں کہ وہ ہزار جتن کرکے چالیس ہزار کمائے اور پھر چالیسواں ہزار بلا معاوضہ (صرف اللہ کی رضا کے لئے) کسی مسکین کو دیدے‘ ایسا ممکن نہیں‘ حرام مال ‘ حلال مصرف پر لگ ہی نہیں سکتا‘ اسے توفیق ہی نہ ہوگی۔ اس کی کوشش تو مرتے ہوئے بھی ہوگی کہ مرتے ہوئے بھی اپنے خزانے اپنے ساتھ ہی زمین کے اندر لے جائے۔ جب انسان کو یقین ہی نہیں کہ مرنے کے بعد حساب کتاب ہونا ہے‘ اعمال کا بدلا ملنا ہے تو وہ کسی بھی انسان کا حق اس تک کیوں پہنچنے دے گا؟ اس کی کوشش یہی ہوگی کہ ساری دنیا کا بڑا قارون میں ہی بن جاؤں اور یہ کہ میرے بال بچے بھی میرا بچا ہوا مال کھا سکیں تو کھائیں‘ ورنہ تو میں اپنے پیٹ کے جہنم میں ڈال کر ساتھ لے جاؤں ‘ جب مرنے کے بعد اعمال کے بدلے جنت اور جہنم ملنے پر یقین نہیں تو کس لئے اعمال کے مخمصے میں پڑا جائے بقول شاعر (اپنی محبوب بیوی کو خطاب کرتے ہوئے)
حیاة ثم موت ثم بعثحد یث خرافة یا ام عمرو
ترجمہ:․․․”عمرو کی ماں! زندگی پھر موت اور موت کے بعد ہم پھر اٹھائے جائیں گے یہ سب خرافات‘ فضول با تیں ہیں“۔ بس ”روشن خیالی“ یہی ہے کہ مرنا تو ہے مگر مرنے کے بعد کچھ نہیں‘ کوئی حساب وکتاب نہیں‘ کسی سے کسی کے حق کا مطالبہ نہیں‘ کوئی جنت ‘ دوزخ نہیں‘ ”ان بھر بھری ہوکر ختم ہوجانے والی ہڈیوں کو دوبارہ کون زندہ کرے گا؟“ اے محبوب نبی! آپ کہہ دیجئے! وہی دوبارہ زندہ کرے گا جس نے ان کو پہلی بار تخلیق کیا تھا۔ جسم وجان‘ لباس اور جسد وروح کی پاکیزگی‘ دل ونگاہ کی طہارت‘ عقل وفہم وتدبر کی عاقبت اندیشی مطلوب ہے‘ اس لئے ہی اللہ نے ہر بستی‘ ہرزمانے‘ ہرقوم میں نبی بھیجے اور سب سے آخر میں سید الانبیاء والمرسلین ‘ خاتم المعصومین حضرت محمد اکو آخری ہادی ومہدی بناکر بھیجا کہ اب ” اے صحابہ! میں نے تمہارے اوپر‘ تمہارا دین مکمل کردیا اور تم پر اپنی نعمت مکمل کردی اور تمہارے لئے دین اسلام پسند کرایا“ اللہ خالق کائنات کی طرف سے محمد رسول اللہ ا پر آنے والا یہ آخری پیغام تھا کہ اب جس کی مرضی ہو وہ ایمان لائے اور جس کی مرضی ہو وہ کفر کے اندھیروں میں دھکے کھاتا رہے ۔ ہدایت اسی کو ملے گی جو برے اعمال کی لذتوں کو چھوڑے‘ حقوق ادا کرے‘ اچھے اعمال کی مشقتوں کو برداشت کرے‘ اس لئے کہ جس کو آپ ا کے آخری نبی‘ آخری ہادی ہونے پر یقین ہے‘ وہی ان کی فرمانبرداری کرے گا‘ جو ان کو آخری مرکز ہدایت ‘ مرکز خیر آخرت نہیں مانتا وہ ان کی فرمانبرداری کیوں کرے گا؟

Comments

Popular posts from this blog

Yusufzai (Pashtun tribe)

The  Yūsufzai  (also  Youssofzay ,  Yousefzai ,  Yousafzai ,  Esapzey ,  Yousufi , or  Yūsufi ) (Pashto:  يوسفزی ,Persian and Urdu:  یوسف زئی ) is one of the largest Pashtun (Afghans) tribes. The majority of the Yusufzai tribe reside in parts of Western Afghanistan, Khyber Pakhtunkhwa and Provincially Administered Tribal Areas near the Afghan-Pakistan border. They are the predominant population in the districts of Konar, Ningarhar, Mardan District, Dir, Swat,Malakand, Swabi, Buner, Shangla, Haripur District [Khalabat Town Ship and Tarbela] and in Mansehra and Battagram. There is also a Yusufzai clan of Dehwar tribe in the Mastung district of Balochistan who speak Persian with some mixture of Birahvi words. The descendants of Yusuf inhabit Konar, Jalalabad, Swat, Upper Dir, Lower Dir, Malakand Swabi and Mardan...

یہودی پروٹوکولز

Online Read یہودی پروٹوکولز ============================================== Online Read E Book یہودی پروٹوکولز ============================================== Download Free یہودی پروٹوکولز ---------------------------------------------------- Download Free یہودی پروٹوکولز ----------------------------------------------------

دین اسلام میں رسول اللہ ﷺ کی اطاعت فرض ہے

بسم اللہ الرحمن الرحیم دین اسلام میں رسول اللہ ﷺ کی اطاعت فرض ہے يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ أَطِيعُوا۟ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ وَلَا تَوَلَّوْا۟ عَنْهُ وَأَنتُمْ تَسْمَعُونَ ﴿20﴾ترجمہ: اے ایمان والو الله اور اس کے رسول کا حکم مانو اور سن کر اس سے مت پھرو(سورۃ الانفال،آیت20) قُلْ أَطِيعُوا۟ ٱللَّهَ وَأَطِيعُوا۟ ٱلرَّسُولَ ۖ فَإِن تَوَلَّوْا۟ فَإِنَّمَا عَلَيْهِ مَا حُمِّلَ وَعَلَيْكُم مَّا حُمِّلْتُمْ ۖ وَإِن تُطِيعُوهُ تَهْتَدُوا۟ ۚ وَمَا عَلَى ٱلرَّسُولِ إِلَّا ٱلْبَلَٰغُ ٱلْمُبِينُ﴿56﴾ترجمہ: کہہ دو الله اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرو پھر اگر منہ پھیرو گے تو پیغمبر تو وہی ہے جس کا وہ ذمہ دار ہے اورتم پر وہ ہے جو تمہارے ذمہ لازم کیا گیا ہے اور اگر اس کی فرمانبرداری کرو گے تو ہدایت پاؤ گے اور رسول کے ذمہ صرف صاف طور پر پہنچا دینا ہے (سورۃ النور،آیت 56) مَّن يُطِعِ ٱلرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ ٱللَّهَ ۖ وَمَن تَوَلَّىٰ فَمَآ أَرْسَلْنَٰكَ عَلَيْهِمْ حَفِيظًۭا ﴿80﴾ترجمہ: جو شخص رسول کی فرمانبرداری کرے گا تو بےشک اس نے اللہ کی فرمانبرداری کی اور جو نافرمانی کرے گا تو اے ...

قرآن حکیم کے نازل ہونے کی کیا غرض ہے

سورہ آلِ عمران هَـٰذَا بَيَانٌ لِّلنَّاسِ وَهُدًى وَمَوْعِظَةٌ لِّلْمُتَّقِينَ ﴿١٣٨﴾ یہ (قرآن) لوگوں کے لیے بیان صریح اور اہلِ تقویٰ کے لیے ہدایت اور نصیحت ہے۔ سورہ المآئدۃ يَا أَهْلَ الْكِتَابِ قَدْ جَاءَكُمْ رَسُولُنَا يُبَيِّنُ لَكُمْ كَثِيرًا مِّمَّا كُنتُمْ تُخْفُونَ مِنَ الْكِتَابِ وَيَعْفُو عَن كَثِيرٍ ۚ قَدْ جَاءَكُم مِّنَ اللَّـهِ نُورٌ وَكِتَابٌ مُّبِينٌ ﴿١٥﴾هْدِي بِهِ اللَّـهُ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَهُ سُبُلَ السَّلَامِ وَيُخْرِجُهُم مِّنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ بِإِذْنِهِ وَيَهْدِيهِمْ إِلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ ﴿١٦﴾  اے اہل کتاب! تمہارے پاس ہمارے پیغمبر (آخرالزماں) آ گئے ہیں کہ جو کچھ تم کتاب (الہٰی) میں سے چھپاتے تھے وہ اس میں سے بہت کچھ تمہیں کھول کھول کر بتا دیتے ہیں اور تمہارے بہت سے قصور معاف کر دیتے ہیں بےشک تمہارے پاس خدا کی طرف سے نور اور روشن کتاب آ چکی ہے۔جس سے خدا اپنی رضا پر چلنے والوں کو نجات کے رستے دکھاتا ہے اور اپنے حکم سے اندھیرے میں سے نکال کر روشنی کی طرف لے جاتا اور ان کو سیدھے رستہ پر چلاتا ہے۔ وَكَتَبْنَا عَلَيْه...

جمع عثمانی رِوایات کے آئینے میں

نبی مکرمﷺ کی حدیث مبارکہ ’’خَیْرُ النَّاسِ قَرْنِيْ ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَھُمْ ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَھُمْ‘‘۔(صحیح البخاري: ۲۶۵۲) پر جب نظر پڑتی ہے تو سر احسان و نیازمندی کے ملے جلے تاثر ات سے جھک جاتا ہے کہ واقعتا آپﷺ، صحابہ رضی اللہ عنہم اور تابعین رحمہم اللہ کا زمانہ خیر القرون تھا، کیونکہ اس میں بنی نوع اِنسان کی راہ روی اور اسلام کی سربلندی کے لیے وہ محنتیں اور کوششیں ہوئی ہیں کہ جس کی مثال آئندہ جمیع قرون میں پیش کرنا مشکل ہے۔ یقینا وہ لوگ اس قابل تھے کہ اُنہیں یہ ذمہ داری سونپی جاتی کہ وہ دینِ الٰہی اور شرع اللہ کو اپنی مکمل تشریحات کے ساتھ آئندہ نسلوں تک منتقل کریں، بلا شبہ وہ طائفہ فائزہ اپنے اس مقصد میں بامراد ہوا ہے۔ان جملہ ذمہ داریوں میں سے اَہم ترین ذمہ داری یہ تھی کہ ہدایت سماوی کے آخری ربانی صحیفہ کو محفوظ اور غیر متبدل شکل میں ہم تک پہنچایا جائے۔ ہمارا یہ قطعی ایمان ہے کہ وہ پیام اَیزدی آج اپنی سو فیصد اَصلی اور حقیقی شکل میں ہمارے درمیان موجود ہے۔ الحمد ﷲ علی ذلک۔اِس سلسلہ میں خیرالقرون میں جو سب سے اَہم کام ہوا ہے وہ سیدنا عثمان ذوالنورین رضی ال...

ان شاءاللہ لکھنے میں غلطی کرنا

بسم اللہ الرحمن الرحیم السلام علیکم ورحمتہ اللہ آ پ لوگوں نے اکثر کتابوں میں لفظ ان شاءاللہ کو اس طرح لکھا ہوا پڑھاہوگا انشاءاللہ اور جب کہ اس طرح لکھنے سے اس کا معنی بدل جاتا ہے۔ لفظ ان شاءاللہ کے اردو میں معنی بنتا ہے اگر اللہ نے چاہا اور جب کہ انشاء عربی میں کسی چیز کو بنانے کو کہتے ہیں اس طرح انشاءاللہ کے معنی بہت غلط بن جاتے ہیں ۔ہم لوگ عربی زبان سے واقفیت نہ رکھنے کی وجہ سے ایسی غلطیاں کر جاتے ہیں اللہ ہمیں معاف فرمائے آمین۔اللہ کا ارشاد ہے کہاِنَّآ اَنْشَاْنٰهُنَّ اِنْشَاۗءً 35۝ۙہم نے ان (کی بیویوں کو) خاص طور پر بنایا ہے۔الواقعہ:۳۵قَالَ اِنَّمَا يَاْتِيْكُمْ بِهِ اللّٰهُ اِنْ شَاۗءَ وَمَآ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِيْنَ 33 ؀جواب دیا کہ اسے بھی اللہ تعالٰی ہی لائے گااگر وہ چاہے اور ہاں تم اسے ہرانے والے نہیں ہو۔ھود:۳۳فَلَمَّا دَخَلُوْا عَلٰي يُوْسُفَ اٰوٰٓى اِلَيْهِ اَبَوَيْهِ وَقَالَ ادْخُلُوْا مِصْرَ اِنْ شَاۗءَ اللّٰهُ اٰمِنِيْنَ 99؀ۭپھر جب (سب کے سب) یوسف کے پاس پہنچے تو اس نے اپنے والدین کو (عزت و احترام کے ساتھ) اپنے پاس جگہ دی اور کہا، ''کہاگر اللہ نے چاہا تو...

قراء توں کا اِختلاف اور منکرینِ حدیث

یہ ایک مسلّمہ اَمر ہے کہ قرآن مجید کی ایک سے زیادہ قراء تیں ثابت ہیں۔ لیکن اہلِ قرآن کہلانے والے منکرین حدیث ان اختلافِ قراء ات کو نہیں مانتے۔ وہ کہتے ہیں کہ قرآن کی صرف ایک ہی قراء ت ہے اور یہ کہ خود نبیﷺنے قرآن کو کتابی صورت میں مرتب اور مدوّن کیا اور اس پر اعراب و نقطے لگوائے تھے جبکہ یہ بات خلاف ِ واقعہ ہے۔جناب پرویز صاحب لکھتے ہیں:’’ہم سمجھتے ہیں کہ اس کے بعد ’اختلاف قراء ت‘ کے فتنہ کے متعلق کچھ سمجھنے کی ضرورت باقی نہیں رہتی‘‘(طلوع اسلام، ص۵۶، شمارہ جنوری ۱۹۸۲ء، لاہور)وہ مزید لکھتے ہیں :’’قرآن مجیدجس شکل میں ہمارے پاس موجود ہے اسے خود رسول اللہﷺنے اسی طرح مرتب اور مدوّن شکل میں اُمت کو دیا تھا۔‘‘(طلوع اسلام، ص۴۲، شمارہ جنوری۱۹۸۲ء، لاہور)اسی طرح ایک اور منکرِ حدیث رحمت اللہ طارق صاحب نے لکھا ہے :’’اختلاف قراء ت کا فتنہ ہی لے لیجئے جس کا مودودی صاحب جیسا شخص نہ صرف معترف اور معتقد ہے بلکہ سرگرم مبلغ اور پُرجوش ناشر ہے۔‘‘(اعجاز قرآن و اختلاف قراء ت، مرتبہ تمنا عمادی:۷۴۲) طارق صاحب نے مزید لکھا ہے :’’ لَوْ کَانَ مِنْ عِنْدِ غَیْرِ اﷲِ لَوَجَدُوْا فِیْہِ اخْتِلَافًا کَثِیْرًا ‘‘...

جمع قرآن اور اس کی تدوین

جمع قرآن اور اس کی تدوین جمع قرآن سے مراد قرآن کریم کا جمع کرنا۔ خواہ حفظ سے ہو یا کتابت سے یا تلاوت کی ریکارڈنگ سے۔ اور تدوین سے مراد اس کو کتابی صورت میں ترتیب دینا ہے۔ان سب مراحل کی ایک دل چسپ معلوماتی تاریخ ہے جسے ایک طالب علم کے لئے جاننا بہت اہم ہے۔تاکہ وہ آگاہ رہے کہ یہ مقدس کتاب کس طرح کن کن ادوار سے گذر کر محفوظ ترین صورت میں ہم تک پہنچی؟مقصد جمع قرآن: جمع قرآن کا مقصد یہی تھا کہ جس طرح قرآن مجید آپ ﷺ پر اترا ہے اور جس طرح آپ نے اسے پڑھا یا سکھایا ہے اسے لکھ کر محفوظ کرلیا جائے۔ یہ اللہ کا حکم تھا تاکہ مستقبل میں ممکنہ اختلاف جو قراءت یا اس کے الفاظ ، ترتیب اور لغت میں پیدا ہوسکتا ہے وہ نہ ہوسکے۔ اللہ تعالیٰ نے خود بھی اس کی حفاظت کی ذمہ داری لی مگر اس حفاظت کا کام صحابہ رسول اور امت کے قراء وحفاظ سے بھی لیا۔جمع قرآن کی دلیل: آپ ﷺ قرآن کی تنزیل میں سخت شدت محسوس کیا کرتے۔ اور اپنے ہونٹوں کو حرکت دیا کرتے تھے۔ جیسا کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت صحیحین میں ہے۔تو اللہ تعالیٰ نے ابتداء میں ہی یہ فرمادیا : {لَا تُحَرِّكْ بِہٖ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ...

عورت، اسلام کی نظر میں

عورت جاہلیت میں نہایت ذلیل وحقیر چیز تھی یہاں تک کہ اسلام آیا تو اس نے اسے ایسی عزت وتکریم بخشی جس کی کوئی نظیر نہیں۔ اس نے جاہلیت کے مظالم سے اسے نجات دی اور اس کے حقوق کا ضامن وکفیل ہوا۔ اس نے عورت کو بہت سی دینی واجبات اور ثواب وعقاب میں اسے مردوں کے مساوی قرار دیا۔ چنانچہ اسے اسلام میں بہت زیادہ عزت وتکریم ملی ۔ إن الحمد لله، نحمده, ونستعينه، ونستغفره، ونعوذ بالله من شرور أنفسنا وسيئات أعمالنا، من يهده الله فلا مضل له، ومن يضلل فلا هادى له، وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له، وأشهد أن محمداً عبده ورسوله،وقد قال اللہ تبارک وتعالی فی محکم تنزیلہ، أعوذ باللہ من الشیطان الرجیم: (مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّن ذَكَرٍ أَوْ أُنثَىٰ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهُ حَيَاةً طَيِّبَةً ۖ وَلَنَجْزِيَنَّهُمْ أَجْرَهُم بِأَحْسَنِ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ) (النحل: 97)"جو شخص نیک عمل کرے مرد ہو یا عورت، لیکن باایمان ہو تو ہم اسے یقیناً نہایت بہتر زندگی عطا فرمائیں گے۔ اور ان کے نیک اعمال کا بہتر بدلہ بھی انہیں ضرور ضرور دیں گے۔"وقال النبی صلی اللہ علیہ وسلم: )إنما النساء شقائ...

خیرخواہی وامانت داری

خیرخواہی وامانت داری خیر خواہی دین کی بنیاد ا ور اس کا جوہر ہے۔ دین دراصل خیر خواہی کا نام ہے۔ خیرخواہی اللہ کی، اس کے کتاب کی، اس کے رسول کی، مسلم ائمہ وحکمرانوں کی اور عامۃ المسلمین کی ہوتی ہے۔ پس جب ان تمام کے حق میں بندہ خیرخواہ ہوگا تو اس کا دین کامل ہوگا اور جس میں ان میں سے کسی کی خیرخواہی میں کمی و کوتاہی ہوگی تو اسی قدر اس کے دین میں نقص وکمی ہوگی۔ مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اپنی خیرخواہی میں امانت کو ملحوظ رکھے اور بغیر کسی مداہنت ومجاملت کے حق کو بیان کرے۔ یہی شخص اللہ کے نزدیک امین ہوگا۔ إن الحمد لله، نحمده ونستعينه ونستغفره، ونعوذ بالله من شرور أنفسنا، وسيئات أعمالنا، من يهده الله فلا مضل له، ومن يضلل فلا هادى له، وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له، وأشهد أن محمداً عبده ورسوله۔ أما بعد: فإن خیر الحدیث کتاب اللہ، وخیر الھدی ھدی محمد صلی اللہ علیہ وسلم، وشر الأمور محدثاتھا، وکل محدثۃ بدعۃ، وکل بدعۃ ضلالۃ، وکل ضلالۃ  فی النار۔  وقد قال اللہ تبارک وتعالی فی کتابہ المجید: (إِنَّ اللَّـهَ يَأْمُرُكُمْ أَن تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَىٰ أَهْلِهَا وَإِذَا حَ...