Skip to main content

کیا حساب وکتاب کا یقین نہیں؟

”جو آدمی نماز نہیں ادا کرتا‘ اسے جسم وجان اور لباس پاک رکھنے کی کیا ضرورت ہے“ جو شخص زکوٰة کی ادائیگی نہیں کرتا‘ وہ حلال مال کمانے کا تکلف کیوں کرے گا؟ اور جس انسان کو مرنے کے بعد حساب وکتاب پر یقین نہیں ہے‘ وہ دوسروں کے حقوق غصب کیوں نہ کرے گا؟ مرنے کے بعد زندہ ہونے اور اعمال صالحہ کے بدلے جنت اور برے اعمال پر جہنم جس کا عقیدہ نہیں‘ وہ برے عملوں کی لذت کیوں چھوڑے اور اچھے اعمال کی مشقت کیوں برداشت کرے ۔ جسے نبی دوجہاں ا کے آخری ہادی ومہدی ہونے پر یقین نہیں ہے وہ ان کی فرمانبرداری کیوں کرے گا۔یہ چند موٹے موٹے اصول ہیں‘ ہم نے دیکھا ہے کہ عورتیں چھوٹے بچوں کو مَردوں کے پاس جانے سے روکتی ہیں کہ تمہارے ابو نے‘ تمہارے بھائی نے نماز کے لئے جانا ہے‘ ان کے کپڑے ناپاک نہ ہوجائیں‘ بچہ پیشاب نہ کردے۔ ہم نے دیکھا ہے: کہیں اوپر سے پانی کے چھینٹے آرہے ہوں تو راہ چلتے بھی آدمی سوچتا ہے‘ کہیں یہ ناپاک پانی کے چھینٹے نہ ہوں‘ گھر میں یا باہر کپڑوں پر ایسے چھینٹے پڑجائیں جو مشکوک ہوں تو نمازی آدمی اس جگہ سے کپڑا کو دھو لیتا ہے یا لباس ہی تبدیل کرلیتاہے۔مگر بے نماز آدمی یا غیر مسلم جسے نماز ادا نہیں کرنی‘ وہ صرف یہ دیکھے گا کہ یہ معمولی چھینٹے میرے لباس کی ظاہری صفائی ستھرائی کے خلاف تو نہیں‘ کوئی داغ ظاہر نظر تو نہیں آرہا۔ مغرب کی ”روشن خیال“ تہذیب اسی لئے پانی کے ساتھ طہارت کو معیوب سمجھتی ہے‘ اگرچہ ظاہراً وہ اسے خلاف ِ نظافت سمجھتے ہیں‘ مگر حقیقت میں وہ خود سراپا کثافت ہیں۔ ان کو خوب صاف ستھرے کپڑے مطلوب ہیں‘ مگر کیا وہ پاک بھی ہیں؟ اس سے ان کو کچھ غرض نہیں۔ ان کا جسم ناپاک ہے‘ انہیں غسل سے کچھ غرض نہیں۔ ان کو وضو نصیب نہیں‘ بس ہاتھ منہ خوب چمک دمک والا ہونا ضروری ہے۔ مسلمان کہلانے والے بے نماز نوجوان کا بھی حال غیر مسلم ”روشن خیالوں“ سے قطعاً مختلف نہیں زباں سے کہہ بھی دیا لا الٰہ تو کیا حاصلدِل ونگاہ مسلمان نہیں تو کچھ بھی نہیںجی ہاں ”زبان سے“ لا الٰہ کہنا اور دل ونگاہ سے ہزاروں ”الٰہ“ اپنائے رکھنے سے آدمی مسلمان تھوڑی ہوجاتا ہے۔ مرتے وقت تو بعض بزرگوں سے سنا ہے‘ہندو بھی اپنے مرنے والے کی تکلیف دیکھ کر اسے تجویز دیتے ہیں ”ان کہنی کہہ لے“ اور اگر وہ لا الٰہ الا اللہ کہہ لیتا ہے‘ صرف جان کنی کی مصیبت سے بچنے کے لئے تو کیا وہ مسلمان شمار ہوگا؟ ہاں جان آسانی سے نکل جائے گی یہی حیلہ مصر کے فرعون نے بھی کیا تھا‘ یہی چال چلی تھی کہ جب ”نیل“ میں دو غوطے آئے تو کہنے لگا:
”آمنت انہ لا الہ الا الذی آمنت بہ بنوا اسرائیل وانا من المسلمین“۔ (یونس:۹۰)
ترجمہ:․․․”یقین کرلیا میں نے‘ کوئی معبود نہیں مگر جس پر کہ ایمان لائے بنی اسرائیل اور میں ہوں فرمابنرداروں میں“۔ مگر کیا اس کا یہ ایمان اس کے کام آیا؟ اسے غرق ِ آب ہونے سے اور نمونہٴ عبرت بننے سے بچاسکا؟ جو شخص زکوٰة جو مساکین کا حق ہے‘ ادا نہیں کرتا وہ ان کا مال‘ شیرِ مادر سمجھ کر ہضم کرجاتا ہے‘ وفات پانے والے کے ترکہ میں سے زیادہ سے زیادہ لے لینا چاہتا ہے‘ چھوٹے بچوں کا حق ان کو نہیں دیتا‘ بیوہ اور بیٹیوں ‘ بہنوں کا حصہ ان کو پہنچنے سے پہلے ہی ٹھکانے لگا دیتا ہے‘ بہنوں سے زبردستی‘ پٹواری کے پاس بیان دلوا کر‘ زمین ‘ جائداد اپنے حق میں منتقل کروا لیتا ہے یا زمین جائداد تو بہنوں‘ بیٹیوں کو دے دیتا ہے‘ لیکن ان کی ”شادی قرآن کے ساتھ“ کردیتا ہے‘ حتی کہ وہ مظلوم عورتیں اپنے ”اقارب کا لعقارب“ کو دعائیں دیتے زندگی سے گزر جائیں اور زمین ‘ جائداد کا قبضہ پھر اسی کے پاس آجائے۔ کیا ایسا مسلمان زکوٰة اور عشر اللہ کی رضا کے لئے ادا کرے گا؟ ہرگز نہیں۔ کراچی میں مفتی محمود سے ایک لطیفہ سنا تھا‘ انہوں نے تقریر کے دور ان فرمایا تھا : ملتان میں ایک شخص مجھ سے مسئلہ پوچھنے آیا کہ حضرت زکوٰة حلال مال پر فرض ہے یا حرام پر بھی؟ میں اس کی چال بھانپ گیا کہ یہ حرام مال‘ غصب کا مال سارا ہڑپ کرنے کے لئے مجھ سے کہلوانا چاہتا ہے کہ حرام مال پر کوئی زکوٰة نہیں۔ میں نے جواب دیا: حرام مال پر بھی زکوٰة فرض ہے۔ وہ حیرت سے کہنے لگا: مفتی صاحب! حرام مال پر بھی؟ میں نے کہا: ہاں! البتہ ایک فرق ہے ”حلال پر ڈھائی فیصد اور حرام پر سو فیصد“ یعنی جس کا مال غصب کیا ہے‘ جس کا حق کھایا ہے اس کو سارا واپس کرو“۔ خیال ہے‘ سائل کوئی نیک نیت ہوگا یا بھولا کہ یا تو اس نے نیک نیتی سے پوچھا اور عمل کی توفیق اسے ہوگئی ہوگی یا بھولے سے پوچھ بیٹھا ہوگا‘ ادائیگی تھوڑی ہی کرنی تھی؟ بس یوں سمجھ لیں جو زکوٰة اور عشر ادا نہیں کرتا‘ وہ زیادہ سے زیادہ مال جمع کرنے میں لگاہوا ہے پھر وہ حلال وحرام‘ رشوت‘ سود ‘ چوری‘ ڈاکہ‘ غصب‘ غرض کسی بھی غلط طریقے سے مال کیو ں نہ کمائے گا؟ اور یہ تو ممکن نہیں کہ وہ ہزار جتن کرکے چالیس ہزار کمائے اور پھر چالیسواں ہزار بلا معاوضہ (صرف اللہ کی رضا کے لئے) کسی مسکین کو دیدے‘ ایسا ممکن نہیں‘ حرام مال ‘ حلال مصرف پر لگ ہی نہیں سکتا‘ اسے توفیق ہی نہ ہوگی۔ اس کی کوشش تو مرتے ہوئے بھی ہوگی کہ مرتے ہوئے بھی اپنے خزانے اپنے ساتھ ہی زمین کے اندر لے جائے۔ جب انسان کو یقین ہی نہیں کہ مرنے کے بعد حساب کتاب ہونا ہے‘ اعمال کا بدلا ملنا ہے تو وہ کسی بھی انسان کا حق اس تک کیوں پہنچنے دے گا؟ اس کی کوشش یہی ہوگی کہ ساری دنیا کا بڑا قارون میں ہی بن جاؤں اور یہ کہ میرے بال بچے بھی میرا بچا ہوا مال کھا سکیں تو کھائیں‘ ورنہ تو میں اپنے پیٹ کے جہنم میں ڈال کر ساتھ لے جاؤں ‘ جب مرنے کے بعد اعمال کے بدلے جنت اور جہنم ملنے پر یقین نہیں تو کس لئے اعمال کے مخمصے میں پڑا جائے بقول شاعر (اپنی محبوب بیوی کو خطاب کرتے ہوئے)
حیاة ثم موت ثم بعثحد یث خرافة یا ام عمرو
ترجمہ:․․․”عمرو کی ماں! زندگی پھر موت اور موت کے بعد ہم پھر اٹھائے جائیں گے یہ سب خرافات‘ فضول با تیں ہیں“۔ بس ”روشن خیالی“ یہی ہے کہ مرنا تو ہے مگر مرنے کے بعد کچھ نہیں‘ کوئی حساب وکتاب نہیں‘ کسی سے کسی کے حق کا مطالبہ نہیں‘ کوئی جنت ‘ دوزخ نہیں‘ ”ان بھر بھری ہوکر ختم ہوجانے والی ہڈیوں کو دوبارہ کون زندہ کرے گا؟“ اے محبوب نبی! آپ کہہ دیجئے! وہی دوبارہ زندہ کرے گا جس نے ان کو پہلی بار تخلیق کیا تھا۔ جسم وجان‘ لباس اور جسد وروح کی پاکیزگی‘ دل ونگاہ کی طہارت‘ عقل وفہم وتدبر کی عاقبت اندیشی مطلوب ہے‘ اس لئے ہی اللہ نے ہر بستی‘ ہرزمانے‘ ہرقوم میں نبی بھیجے اور سب سے آخر میں سید الانبیاء والمرسلین ‘ خاتم المعصومین حضرت محمد اکو آخری ہادی ومہدی بناکر بھیجا کہ اب ” اے صحابہ! میں نے تمہارے اوپر‘ تمہارا دین مکمل کردیا اور تم پر اپنی نعمت مکمل کردی اور تمہارے لئے دین اسلام پسند کرایا“ اللہ خالق کائنات کی طرف سے محمد رسول اللہ ا پر آنے والا یہ آخری پیغام تھا کہ اب جس کی مرضی ہو وہ ایمان لائے اور جس کی مرضی ہو وہ کفر کے اندھیروں میں دھکے کھاتا رہے ۔ ہدایت اسی کو ملے گی جو برے اعمال کی لذتوں کو چھوڑے‘ حقوق ادا کرے‘ اچھے اعمال کی مشقتوں کو برداشت کرے‘ اس لئے کہ جس کو آپ ا کے آخری نبی‘ آخری ہادی ہونے پر یقین ہے‘ وہی ان کی فرمانبرداری کرے گا‘ جو ان کو آخری مرکز ہدایت ‘ مرکز خیر آخرت نہیں مانتا وہ ان کی فرمانبرداری کیوں کرے گا؟

Comments

Popular posts from this blog

Yusufzai (Pashtun tribe)

The  Yūsufzai  (also  Youssofzay ,  Yousefzai ,  Yousafzai ,  Esapzey ,  Yousufi , or  Yūsufi ) (Pashto:  يوسفزی ,Persian and Urdu:  یوسف زئی ) is one of the largest Pashtun (Afghans) tribes. The majority of the Yusufzai tribe reside in parts of Western Afghanistan, Khyber Pakhtunkhwa and Provincially Administered Tribal Areas near the Afghan-Pakistan border. They are the predominant population in the districts of Konar, Ningarhar, Mardan District, Dir, Swat,Malakand, Swabi, Buner, Shangla, Haripur District [Khalabat Town Ship and Tarbela] and in Mansehra and Battagram. There is also a Yusufzai clan of Dehwar tribe in the Mastung district of Balochistan who speak Persian with some mixture of Birahvi words. The descendants of Yusuf inhabit Konar, Jalalabad, Swat, Upper Dir, Lower Dir, Malakand Swabi and Mardan...

عہد عثمان میں تدوین قرآن

امام بخاری نے صحیح بخاری میں اپنی سند کے ساتھ ابن شھاب سے روایت کیا ہے کہ انس بن مالک نے انہیں بتایا کہ حذیفہ بن یمان حضرت عثمان کی خدمت میں حاضر ہوئے موسوف نے رمینیہ اور آذربیجان کی جنگ میں شرکت کی تھی وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ لوگ تلاوت قرآن میں بہت اختلاف کرنے لگے تھے ۔ حذیفہ نے حضرت عثمان سے کہا امیرالمؤمنین ! قبل اس کے کہ یہ امت کتاب الٰہی میں یہودیوں اور نصاریٰ کی طرح اکتلاف کرنے لگے اس کو سنبھال لیجئے یہ سن کر حضرت عثمان نے حجرت حفصہ کو کہلا بھیجا کہ آپ کے پاس قرآن کے جو صحیفے پڑے ہیں وہ ہمارے پاس بھیج دیجئے تاکہ ہم ان کو کتابی صورت میں جمع کریں پھر ہم ان کو واپس کردیں گے ۔محترمہ موصوفہ نے وہ صحیفے ارسال کردئیے۔حضرت عثمانرضی اللہ تعالٰی عنہ نے (۱) زید بن ثابترضی اللہ تعالٰی عنہ،(۲) عبداللہ بن زبیررضی اللہ تعالٰی عنہ،(۳)سعد بن العاصرضی اللہ تعالٰی عنہ،(۴)عبدالرحمان بن حارث بن ہشامرضی اللہ تعالٰی عنہکو مومورکیا کہ وہ صحیفوں سے نقل کرکے قرآن کریم کو کتابی صورت میں جمع کردیں۔ حضرت عثمانرضی اللہ تعالٰی عنہ نے تینوں قریشی صحابہ(حضرت زید بن ثابت کے علاوہ باقی تینوں صحابہ سے...

کتاب اللہ کی کون سی آیت سب سے عظیم ہے؟

آیۃ الکرسی کی فضیلت !!! آیۃ الکرسی کی کیااھمیت ہے ؟ اور کیا اس آیت کی عظمت پرکوئ دلیل وارد ہے ؟ الحمد للہ ابن کثیررحمہ اللہ تعالی سورۃ البقرۃ کی آیۃ الکرسی کی تفسیرکرتےہو‏ۓ کہتے ہیں : یہ آیۃ الکرسی ہے جس کی فضیلت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح حدیث میں ہے کہ کتاب اللہ میں یہ آیت سب سے افضل آیت ہے ۔ ابی بن کعب رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نےان سے سوال کیا کہ کتاب اللہ میں سب سے عظیم آیت کونسی ہے ؟ تو وہ کہنے لگے کہ اللہ اور اس کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم کوہی زیادہ علم ہے ، یہ سوال کئ باردھرایا اور پھر فرمانےلگے کہ وہ آیت الکرسی ہے ۔ فرمانے لگے اے ابوالمنذر علم مبارک ہو اس ذات کی قسم جس کےھاتھ میں میری جان ہے اس آیت کی زبان اور ہونٹ ہونگے عرش کے پاۓ کے ہاں اللہ تعالی کی پاکی بیان کررہی ہوگی ۔ اور غالبا مسلم نے والذی نفسی سے آگے والے الفاظ نہیں ہیں ۔ عبداللہ بن ابی بن کعب رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ ان کے والد کے پاس کھجوریں رکھنے کی جگہ تھی ، عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں میرے والد اس کاخیال رکھتے تھے تو...

عہد رسالت میں کتابت قرآن

سرورکائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے مندرجہ ذیل صحابہ کو کاتب وحی مقرر فرمایا تھا: حضرت بوبکررضی اللہ تعالٰی عنہ ، عمرفاروقرضی اللہ تعالٰی عنہ، عثمانرضی اللہ تعالٰی عنہ، علیرضی اللہ تعالٰی عنہ، معاویہرضی اللہ تعالٰی عنہ ، زید بن ثابت رضی اللہ تعالٰی عنہ،ابی بن کعبرضی اللہ تعالٰی عنہ، خالد بن ولیدرضی اللہ تعالٰی عنہ،ثابت بن قیسرضی اللہ تعالٰی عنہ،۔ قرآن کا جو حصہ نازل ہوتا آپ صحابہ کو مامور فرماتے کہ اسے تحریر کرلیں یہاں تک کہ کتابت کے پہلو بہ پہلو قرآن کریم کو سینوں میں بھی محفوظ کرلیا گیا۔(مشہور مستشرق بلاشیر نے کاتبین وحی صحابہ کی تعداد چالیس بتائ ہے دیگر مستشرقین مثلاً شفالی بہل اور کازانوفاکا زاویہ نگاہ بھی یہی ہے مؤخر الذکر نے اس ضمن میں طبقا ابن سعد، طبری ، نووی اور سیرت حلبی پر اعتماد کیا ہے ۔) محدث حاکم نےمستدرک میں زید بن ثابت سے بخاری ومسلم کی شرط کے مطابق روایت کیا ہے کہ زید بن ثابت نے کہا ہم عہد رسالت میں ''رقاع''(ٹکڑوں)سے قرآن جمع کیا کرتے تھے ۔ (الاتقان،ج۱ص،۹۹نیز البرہان ،ج۱ص۲۳۷) مذکورہ صدر حدیث میں ''رقاع ''کا جو لفظ وا...

شرک فی التصرف کا بیان

بسم اللہ الرحمن الرحیم اللّٰھم لک الحمد حمدا یوافی نعمک ویکافی مزید کرمک احمد ک بجمیع محا مدک ما علمت و ما لم اعلم علی جمیع نعمک ما علمت منھا وما لم اعلم وعلی کل حالط اللّٰھم صل علی محمد و علی ال محمد و بارک وسلم۔ اما بعد۔ فاعوذ باللہ من الشیطن الرجیم ط بسم اللہ الرحمن الرحیمط قُلِ ادْعُوا الَّذِيْنَ زَعَمْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللہِ۝۰ۚ لَا يَمْلِكُوْنَ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ فِي السَّمٰوٰتِ وَلَا فِي الْاَرْضِ وَمَا لَہُمْ فِيْہِمَا مِنْ شِرْكٍ وَّمَا لَہٗ مِنْہُمْ مِّنْ ظَہِيْرٍ۝۲۲ وَلَا تَنْفَعُ الشَّفَاعَۃُ عِنْدَہٗٓ اِلَّا لِمَنْ اَذِنَ لَہٗ۝۰ۭ حَتّٰٓي اِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوْبِہِمْ قَالُوْا مَاذَا۝۰ۙ قَالَ رَبُّكُمْ۝۰ۭ قَالُوا الْحَقَّ۝۰ۚ وَہُوَالْعَلِيُّ الْكَبِيْرُ۝۲۳ (السبا:۲۲۔۲۳) اے میرے محسن خدا! کل تعریفوں کا مستحق تو ہی ہے، میں تیری وہ تعریف کرتا ہوں جو تیری دی ہوئی نعمتوں کا بدل ہو، ا ور اس سے جو زیادہ دے، اس کا بدلہ ہو، اور پھر میں تیری جن نعمتوں کو جانتا ہوں اور جن کو نہیں جانتا سب ہی کا ا ن خوبیوں کے ساتھ شکریہ ادا کرتا ہوں، جس کا مجھ کو علم ہے اور جن کا نہیں، غرضیکہ ہر ...

حکایت

حضرت شیخ الاسلام امام غزالی نے احیاء العلوم میں ایک حاسد آدمی کی یہ حکایت فرمائی ہے کہ ایک شخص بادشاہ کے سامنے کھڑا ہوکر یہ کہا کرتا تھا کہ نیک لوگوں کے ساتھ نیکی کرو اور محسن کے احسان کا بدلہ دو کیوںکہ برائی کرنے والے کی برائی تمہاری طرف سے خود کفایت کرے گی۔ یہ شخص بادشاہ کے سامنے یہ نصیحت کیا کرتا تھا جس سے اس کی بڑی عزت تھی۔ اس کی عزت، عظمت اور مرتبہ کو دیکھ کر ایک شخص کو حسد پیدا ہوگیا۔ اس نے بادشاہ سے شکایت کی کہ یہ شخص حضور کے سامنے کھڑا ہوکر گندہ دہن بتاتا ہے۔ بادشاہ نے کہا اس کی تصدیق کیسے ہو؟ حاسد نے کہا جب وہ آپ کے پاس آئے تو آپ اسے اپنے قریب بلا لیجیے، جب وہ آپ کے بالکل قریب آجائے گا تو اپنی ناک بند کرلے گا، تاکہ آپ کے منہ کی بدبو نہ آنے پائے۔ بادشاہ نے کہا بہت اچھا، کل امتحان کریں گے۔ ادھر اس حاسد نے بادشاہ سے یہ کہا، ادھر اس نے جاکر اس ناصح و نیک آدمی کی دعوت کرکے ایسا کھانا کھلایا جس میں لہسن بہت سا تھا۔ یہ کھانا کھا کر فارغ ہی ہوا تھا کہ دربار کا وقت آگیا۔ بدستور سابق بادشاہ کے سامنے کھڑے ہوکر اس نے وہی جملہ کہا جو کہا کرتا تھا۔ بادشاہ نے اس کو اپنے پاس بلانے کا ...

Rasulullah Sallallahu Alaihi Wasallam Kay Muay Mubarak By Shaykh Mufti Umar Farooq

Read Online (400 K) AN EXTRACT FROM MONTHLY MAGAZINE OF DARUL ULOOM DEOBAND ON SOME DETAILS REGARDING THE BELOVED AND MUBARIK HAIR OF RASOOLULLAH [Sallallahu Alaihi Wasallam]. By Shaykh Mufti Umar Farooq

اتباع سنت کا بیان

بسم اللہ الرحمن الرحیم الحمد للہ الذی لم یزل عالماً قدیرا حیاً قیوماً سمیعاً بصیراً و اشھد ان لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ واکبرہ تکبیراً۔ واشھد ان محمداعبدہ ورسولہ و صلی اللہ علی سیدنا محمد ن الذی ارسلہ الی الناس کافۃ بشیراً ونذیرًا۔ و علی الہ و صحبہ وسلم تسلیماً کثیراکثیرا۔ اما بعد! فاعوذ باللہ من الشیطن الرجیم۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللہَ فَاتَّبِعُوْنِيْ يُحْبِبْكُمُ اللہُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ۝۰ۭ وَاللہُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ۝۳۱ قُلْ اَطِيْعُوا اللہَ وَالرَّسُوْلَ۝۰ۚ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّ اللہَ لَا يُحِبُّ الْكٰفِرِيْنَ۝۳۲ (آل عمران:۳۱۔۳۲) سب تعریف اللہ کے لیے ثابت ہے،جو ہمیشہ سے جاننے والا، قدرت والا، زندہ رکھنے والا، سنبھالنے والا، سننے والا اور دیکھنے والا ہے، اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ ایک اور یکتا ہے، جس کا کوئی شریک نہیں ہے، اور میں اس کی بڑائی بیان کرتا ہوں، اور اس بات کی گواہی دیتا ہوں ، کہ محمد ﷺ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، اللہ تعالیٰ ہمارے آقا محمد ﷺ پر رحمت کا ملہ نازل فرم...

اللہ و رسول ﷺ کی اطاعت کا بیان

بسم ا للہ الرحمن الرحیم۔ الحمد للہ رب العالمین۔ الرحمن الرحیم۔ مالک یوم الدین۔ والصلوۃ والسلام علی رسولہ المبین سیدنا محمد خاتم النبیین۔ وعلی جمیع الانبیاء والمرسلین۔ وسائر عباد اللہ الصالحین۔ اما بعد! فاعوذ باللہ من الشیطن الرجیم ط بسم اللہ الرحمن الرحیم ط يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَطِيْعُوا اللہَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ وَاُولِي الْاَمْرِ مِنْكُمْ۝۰ۚ فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِيْ شَيْءٍ فَرُدُّوْہُ اِلَى اللہِ وَالرَّسُوْلِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللہِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ۝۰ۭ ذٰلِكَ خَيْرٌ وَاَحْسَنُ تَاْوِيْلًا۔ (النساء:۵۹) سب تعریف اللہ کے لیے ہے، جو سار ے جہاں کا پالنے والا ہے، بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، بدلے کے دن (قیامت )کا مالک ہے، اور درودوسلام نازل ہوں، ا للہ تعالیٰ کے رسول پر جو احکام الٰہی کے ظاہر کرنے والے ہیں، ہمارے سردار جن کا نام نامی اسم گرامی محمد ﷺ ہے، جو سب نبیوں کے ختم کرنے والے ہیں، اور اللہ کے تمام نبیوں ا ور رسولوں پر، اور ا للہ کے تمام نیک بندوں پر، حمد و صلوۃ کے بعد، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ا ے ایمان والوفرمانبرداری کرو اللہ کی اور فرمانبر...

شرک کی مذمّت

بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ الحمدللہ الذی لم یتخذ ولداو لم یکن لہ شریک فی الملک ولم یکن لہ ولی من الذل وکبرہ تکبیرا۔ ونشھد ان لاالہ ا لااللہ وحدہ لا شریک لہ ونشھد ان محمداعبدہ ورسولہ صلی اللہ علیہ وعلی اٰلہ واصحابہ وسلم تسلیما کثیرا۔ اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم ط بسم اللہ الرحمن الرحیم بِہٖ۝۰ۭ وَمَنْ يُّشْرِكْ بِاللہِ فَكَاَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَاۗءِ فَتَخْطَفُہُ الطَّيْرُ اَوْ تَہْوِيْ بِہِ الرِّيْحُ فِيْ مَكَانٍ سَحِيْقٍ (الحج:۳۱) سب تعریف اللہ ہی کے لیے ہے، جو نہ اولاد رکھتا ہے، اور اپنی سلطنت میں کسی کو شریک بھی نہیں کرتا، اور نہ وہ ایسا حقیر ہے، کہ اس کا کوئی حمائتی ہو، تم اس کی بڑائی بیان کرو، اور ہم اس بات کی شہادت دیتے ہیں، کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے، وہ ایک ا کیلا ہے، اس کے ساتھ کوئی شریک نہیں ہے، اور ہم اس بات کی شہادت دیتے ہیں، کہ محمدﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں، اللہ تعالیٰ ان پر اور ان کے اصحابؓ پر بہت بہت درود بھیجے حمدو صلوٰۃ کے بعد عرض ہے ، کہ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں یہ فرما رہاہے، کہ اللہ کے ساتھ شرک کرنے والا گویا آسمان سے گر پڑا، تو اب اسے یا تو پرند...