Skip to main content

مکتوبات نبوی



آپ نے جس طرح صحابہٴ کرام کو اپنے ارشادات سے نوازا‘ اسی طرح ان لوگوں تک بھی اپنے پیغامات پہنچائے جو حاضری کی سعادت سے محروم رہے۔ ان پیغامات میں جس طرح اسلام کی دعوت کے لعل وجواہر جڑے ہوئے ہیں‘ اسی طرح ان کی روشن جبیں پر گرانقدر نصائح‘سیاسی نکات اور اصولِ جہاں بانی وحکمرانی کے بیش بہا موتی بھی گندھے ہوئے ہیں۔ عرب کی مخالفت کی وجہ سے صلح حدیبیہ ۶ھ تک دعوت اسلام کا دروازہ بند تھا‘ اس صلح نے دعوت کا دروازہ کھول دیا اور اب وہ وقت آگیا کہ اللہ تعالیٰ کا پیغام ساری انسانیت کو پہنچادیا جائے اور اسلام کے عظیم الشان پروگرام ومنشور کی طرف دنیا کو دعوت دی جائے‘ اب تک جو لوگ دائرہٴ اسلام میں داخل ہوئے تھے‘ انہیں آغوشِ اسلام میں آتے ہی احساس ہوا کہ انسانیت کے لئے جتنے بھی فضائل‘ محاسن اور آداب ہوسکتے ہیں وہ تمام کے تمام اسلام کی ابدی تعلیمات کا جزو لازم ہیں‘ اسلام کی انہی ابدی صدا قتوں سے دیگر اقوام عالم کو روشناس کرانے کے لئے آپ ا نے ضروری سمجھا کہ سلاطینِ عالم تک خطوط کے ذریعے اس پیغام کو پہنچایا جائے‘ تاکہ آپ ا اپنے فریضہ ٴ تبلیغ سے کما حقہ عہدہ برآہوسکیں‘ چنانچہ آپ ا نے صلح حدیبیہ سے واپسی پر ماہ ذی الحجہ ۶ھ میں بادشاہوں کے نام دعوتی خطوط بھیجنے کا ارادہ کیا‘ اس موقع پر آپ ا نے صحابہٴ کرام سے مشورہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: ”اے لوگو! میں تمام عالم کے لئے رحمت بناکر بھیجا گیا ہوں‘ تمام دنیا کو یہ پیام پہنچاؤ‘اللہ تعالیٰ تم پر رحم فرمائے گا‘ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حواریین کی طرح اختلاف نہ کرنا کہ اگر قریب جانے کو کہا تو راضی ہوگئے اور اگر کہیں دور جانے کا حکم دیا تو زمین پر بوجھل ہوکر بیٹھ گئے“۔ (۱) صحابہٴ کرام جو اطاعت وجانثاری کے لئے ہروقت تیار رہتے تھے اور اپنے خلوص‘ تعمیلِ ارشاد اور وفا شعاری کے بڑے سخت سے سخت مراحل میں بھی اعلیٰ درجہ کی کامیابی کی سند اور رضی اللہ عنہ کا طلائی تمغہ حاصل کرچکے تھے‘ انہوں نے اس خدمت کو اپنے لئے سعادت سمجھا اور تعمیلِ ارشاد کے لئے دل وجان سے تیار ہوگئے مگر بایں ہمہ آپ کی خدمت اقدس میں ایک مشورہ بھی پیش کیاکہ یا رسول اللہ! جس خط پر مہر نہ ہو‘ سلاطین اس کو قابل وثوق اور قابل اعتماد نہیں سمجھتے ‘حتی کہ ایسے خط کو پڑھتے تک نہیں۔ آپ ا نے صحابہٴ کرام کے مشورہ سے ایک مہر کندہ کروائی‘ جس کا حلقہ چاندی کا تھا تونگینہ بھی چاندی ہی کا تھا‘ مگر صنعت حبشہ کی تھی اس پر مہر کی شکل میں ”محمد رسول اللہ “ کندہ تھا صورت یہ تھی:
اللہ رسول محمد
سب سے نیچے لفظ محمد‘ سب سے اوپر لفظ اللہ اوردرمیان میں لفظ رسول تھا۔ (۲) چنانچہ آپ ا نے یہ مہر لگاکر سلاطین وامراء کے نام خطوط روانہ فرمائے‘ ان کو دین اسلام قبول کرنے کی دعوت دی اور یہ بھی واضح فرمادیا کہ رعایا کی گمراہی کی ذمہ داری تم پر عائد ہوتی ہے۔ واقدی کے قول کے مطابق آپ ا نے یہ خطوط ۶ھ کے اخیر ماہ ذو الحجہ میں صلح حدیبیہ کے بعد روانہ کئے اور بعض کے نزدیک ۷ھ میں روانہ کئے گئے۔ ممکن ہے کہ آپ ا نے سلاطین عالم کے نام یہ خطوط بھیجنے کا ارادہ تو ۶ھ کے آخر میں فرمایا ہو اور پھر ۷ھ میں خطوط روانہ کئے ہوں۔ (۳) بہر حال حدیبیہ کے بعد اور فتح مکہ سے پہلے یہ خطوط روانہ کئے گئے۔ (۴) مکتوبات نبوی ا میں جن لوگوں کو مخاطب کیا گیا ہے‘ ان میں چار مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے لوگ ہیں: ۱:- مشرکین عرب۲:- عیسائی۳:- یہودی اور۴:- رزرتشی (مجوسی)۔ آپ ا نے ہرقل اور مقوقس کے نام جو خطوط لکھے‘ ان میں آپ ا نے اپنے نام کے ساتھ خصوصیت کے ساتھ عبد اللہ (خدا کا بندہ) لکھا‘ جس سے مخاطب کے عقیدے کی نہایت لطیف پیرائے میں تردید کردی گئی ہے کہ انبیاء ومرسلین خدا کی اولاد نہیں‘ بلکہ مخلوق ہوتے ہیں۔ فارس خسر وپرویز کے نام جو نامہٴ مبارک ارسال کیا گیا‘ اس میں عقیدہٴ توحید کو خاص طور پر اجاگر کیا گیا‘ کیونکہ فارس میں دو خداؤں کا عقیدہ موجود تھا‘ اس کے بعد اسلام کے عالمی مذہب ہونے اور آپ ا کے تمام اقوام کی جانب مبعوث ہونے کا صاف لفظوں میں اظہار کیا گیا۔ یہود کے نام خط میں تورات کے حوالے دے کر اپنی نبوت کا اثبات کیا گیا اور مشرکینِ عرب کے نامہٴ مبارک میں توحید خدا پر زور دے کر غیر خدا کی عبادت سے روکا گیا۔ قیصر روم (جو کہ مذہباً عیسائی تھا) نے آپ ا کے دعوتی خط کے بعد احوال کا جائزہ لے کر آپ ا کی نبوت ورسالت کا اقرار کیا‘ مگر اسلام قبول نہ کیا۔ اسی طرح عزیز مصر مقوقس نے بھی (جوکہ مذہبا نصرانی تھا) آپ اکی نبوت ورسالت کا اعتراف کیا‘ مگر حلقہٴ اسلام میں داخل نہ ہوا‘ نجاشی شاہ حبشہ (جوکہ عیسائی تھا) حلقہ بگوش اسلام ہوا۔ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ا نے ایک خط اہل سندھ کی جانب بھی ارسال فرمایا تھا جو نتیجہ خیز ثابت ہوا اور سندھ کے کچھ خوش قسمت حضرات حلقہ بگوش اسلام ہوکر دربار رسالت مآب امیں حاضر ہوئے۔ (۵) آپ ا نے ہمسایہ ممالک کے حکمرانوں اور عرب کے قبائلی سرداروں کے نام جو خطوط تحریر فرمائے ہیں‘ ان کے مطالعہ سے واضح ہوتا ہے کہ آپ ا نے دنیا میں کس طرح کا ذہنی ‘ فکری اور عملی انقلاب برپا کیا؟ اور انسانیت کے لئے کیسے کیسے زریں اصول وضع فرمائے؟ تمدن اور معاشرت کو کن راہوں پر ڈالا؟ اور انسانیت کے فطری تقاضوں کی کس حد تک تکمیل فرمائی؟۔ کسی شخصیت کا مطالعہ اس کے خطوط کی روشنی میں بہترین مطالعہ قرار دیا گیا ہے۔ خطوط کے ذریعے مکتوب نگار کی سیرت‘ شخصیت‘ روز مرہ پیش آنے والے حالات وواقعات‘ معاشرتی وسیاسی تغیرات اور اس عہد کے معاشرتی وسیاسی اور تاریخی عوامل با آسانی معلوم ہوجاتے ہیں‘ نیز کسی شخص کے انفرادی واجتماعی حالات معلوم کرنے کے لئے اس سے بہتر کوئی ذریعہ نہیں ہوسکتا‘ کسی مفکر کا قول بھی ہے کہ خطوط انسانی زندگی کے آئینہ دار ہوتے ہیں۔ آپ انے اپنی زندگی میں بڑے بڑے بادشاہوں‘ قبائل عرب کے سرداروں اور گورنروں کے نام جو خطوط لکھے ‘ وہ کتب حدیث میں محفوظ ہیں۔ ان کی تعداد تین سو کے قریب ہے‘ ان میں سے ۱۳۹ خطوط ایسے ہیں جن کا اصل متن محفوظ ہے اور ۸۶ خطوط وہ ہیں جن کا صرف مفہوم کتب میں ذکر کیا گیا ہے۔ (۶) آپ ا کے مکاتیب کو سب سے پہلے حضرت عمرو بن حزم انصاری نے مرتب کیا تھا‘ انہوں نے آپ ا کے ۲۱ مکاتیب گرامی جمع کئے تھے‘ ابن طولون نے بھی اپنی کتاب ”مفاکہة الخلان فی حوادث الزمان“ میں مکاتیب پر لمبا چوڑا نوٹ لکھا ہے۔ ڈاکٹر حمید اللہ نے ” الوثائق السیاسیہ“ کے نام سے بہت جامع کام کیا ہے‘ جس کا اردو ترجمہ ” رسول اکرم ا کی سیاسی زندگی“ کے نام سے دستیاب ہے۔ اس موضوع پر اردو میں اب تک جنہوں نے سب سے زیادہ قابل قدر کام کیا ہے‘ وہ مولانا سید محبوب رضوی صاحب ہیں‘ موصوف نے اپنی کتاب ”مکتوبات نبوی ا“ میں آقائے نامدار ا کے تین سو کے قریب مکاتیب جمع کردئے ہیں اور بہت تحقیقی کام کیا ہے۔ اس کے علاوہ مولانا حفظ الرحمن صاحب نے ”بلاغ مبین“ میں آپ ا کے مکاتیب کو جمع کیا ہے اور صاحبزادہ عبد المنعم خان نے ”رسالات محمدیہ“ میں مکتوبات نبوی اکی کافی تعداد جمع کردی ہے۔ گذشتہ دوصدیوں میں آپ ا کے چھ مکتوبات اپنی اصلی حالت میں دستیاب ہوچکے ہیں‘ یہ مکاتیب نجاشی شاہ حبشہ‘ منذر بن ساوی گورنر بحرین‘ قیصر روم ہرقل ‘ شاہ مصر واسکندریہ مقوقس‘ شہنشاہ ایران خسرو پرویز کسریٰ‘ شاہ عمان جیفر وعبدان کے نام ہیں اور انہیں مولانا عبد العزیز محمدی صاحب ڈیرہ اسماعیل خان نے ایک خوبصورت چارٹ کی صورت میں شائع کیا ہے۔ اسلام کو دنیا کے سامنے پیش کرنے کا سب سے بہتر اور مؤثر طریقہ وہی ہے جو آپ ا نے اختیار فرمایا‘ مکتوبات نبوی امیں اسی طریقہ کو پیش کیا گیا ہے‘ آپ ا کے ان خطوط سے جو بات نمایاں طور پر سمجھ میں آتی ہے‘ وہ یہی ہے کہ اسلام کو غیر مسلموں کے سامنے کس انداز سے پیش کرنا چاہئے؟ اور مسلمانوں کو غیر مسلموں سے تعلقات ومعاملات میں کن امور کا لحاظ رکھنا چاہئے؟ مکتوبات نبوی ا کے ایک ایک لفظ سے مخاطب کے لئے ہمدردی وخیر اندیشی کے جذبات ٹپکتے ہیں‘ سرور عالم ا کے خطوط میں طوالت ‘ تکلف وتصنع اور بیان کی شوخی کی بجائے لطافت‘ انشأ پردازی‘ سادگی‘ حقیقت پسندی اور ایجاز واختصار کا پہلو نمایاں ہے‘ ان میں پیغمبرانہ امانت وصداقت کے انتہائی عزم ویقین کے ساتھ حق کی دعوت ہے‘ ان خطوط میں تبلیغی جذبے کی آبیاری کا سامان بھی ہے اور تزکیہٴ باطن واصلاح نفس کے لئے رہنمائی بھی۔ اصول دین کی تبلیغ بھی ہے اور اسلام کے احکام ومصالح اور تشریعی مسائل کا ذکر بھی۔ آپ انے شاہانِ عالم کے نام جو خطوط ارسال فرمائے ہیں‘ یہ اس امر کی واضح دلیل ہے کہ آپ اکی نبوت ورسالت فقط جزیرہٴ عرب کے امیین کے ساتھ مخصوص نہیں تھی‘ بلکہ آپ اکی رسالت عرب وعجم‘ جن وانس‘ یہود ونصاری‘ مشرکین اور مجوس اور پوری دنیا کے سب جنوں‘ انسانوں کے لئے ہے۔
حوالہ جات
۱- کاندھلوی ‘ ادریس‘ مولانا‘ سیرت المصطفی:ج:۲‘ص:۴۰۹۔ ۲- طبری‘ ابن جریر‘ تاریخ الامم والملوک: ج:۳‘ ص:۸۴۔ابن سعد‘ محمد‘الطبقات الکبری بیروت‘ دارصادر ج:۱‘ صں۴۷۵‘ زرقانی‘ محمد بن عبد الباقی‘ شرح مواہب لدنیہ‘ مصر‘ مطبع ازہریہ‘ ج:۳‘ص:۳۳۴۔ ۳- عبد الحق محدث دہلوی شیخ‘ مدارج النبوت‘ ج:۲‘ص:۲۹۴۔ ۴- ابن کثیر‘ اسماعیل بن عمر‘ الہدایہ والنہایہ‘ ج:۴‘ص:۲۶۲۔ ۵-رضوی‘ محبوب‘ مولانا‘ مکتوبات نبوی‘ طبع پاکستان‘ ص:۴۲۔ ۶- رضوی‘ محبوب‘ مولانا مکتوبات نبوی‘ طبع پاکستان‘ ص:۳۰۵۔

Comments

Popular posts from this blog

Yusufzai (Pashtun tribe)

The  Yūsufzai  (also  Youssofzay ,  Yousefzai ,  Yousafzai ,  Esapzey ,  Yousufi , or  Yūsufi ) (Pashto:  يوسفزی ,Persian and Urdu:  یوسف زئی ) is one of the largest Pashtun (Afghans) tribes. The majority of the Yusufzai tribe reside in parts of Western Afghanistan, Khyber Pakhtunkhwa and Provincially Administered Tribal Areas near the Afghan-Pakistan border. They are the predominant population in the districts of Konar, Ningarhar, Mardan District, Dir, Swat,Malakand, Swabi, Buner, Shangla, Haripur District [Khalabat Town Ship and Tarbela] and in Mansehra and Battagram. There is also a Yusufzai clan of Dehwar tribe in the Mastung district of Balochistan who speak Persian with some mixture of Birahvi words. The descendants of Yusuf inhabit Konar, Jalalabad, Swat, Upper Dir, Lower Dir, Malakand Swabi and Mardan...

عہد عثمان میں تدوین قرآن

امام بخاری نے صحیح بخاری میں اپنی سند کے ساتھ ابن شھاب سے روایت کیا ہے کہ انس بن مالک نے انہیں بتایا کہ حذیفہ بن یمان حضرت عثمان کی خدمت میں حاضر ہوئے موسوف نے رمینیہ اور آذربیجان کی جنگ میں شرکت کی تھی وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ لوگ تلاوت قرآن میں بہت اختلاف کرنے لگے تھے ۔ حذیفہ نے حضرت عثمان سے کہا امیرالمؤمنین ! قبل اس کے کہ یہ امت کتاب الٰہی میں یہودیوں اور نصاریٰ کی طرح اکتلاف کرنے لگے اس کو سنبھال لیجئے یہ سن کر حضرت عثمان نے حجرت حفصہ کو کہلا بھیجا کہ آپ کے پاس قرآن کے جو صحیفے پڑے ہیں وہ ہمارے پاس بھیج دیجئے تاکہ ہم ان کو کتابی صورت میں جمع کریں پھر ہم ان کو واپس کردیں گے ۔محترمہ موصوفہ نے وہ صحیفے ارسال کردئیے۔حضرت عثمانرضی اللہ تعالٰی عنہ نے (۱) زید بن ثابترضی اللہ تعالٰی عنہ،(۲) عبداللہ بن زبیررضی اللہ تعالٰی عنہ،(۳)سعد بن العاصرضی اللہ تعالٰی عنہ،(۴)عبدالرحمان بن حارث بن ہشامرضی اللہ تعالٰی عنہکو مومورکیا کہ وہ صحیفوں سے نقل کرکے قرآن کریم کو کتابی صورت میں جمع کردیں۔ حضرت عثمانرضی اللہ تعالٰی عنہ نے تینوں قریشی صحابہ(حضرت زید بن ثابت کے علاوہ باقی تینوں صحابہ سے...

کتاب اللہ کی کون سی آیت سب سے عظیم ہے؟

آیۃ الکرسی کی فضیلت !!! آیۃ الکرسی کی کیااھمیت ہے ؟ اور کیا اس آیت کی عظمت پرکوئ دلیل وارد ہے ؟ الحمد للہ ابن کثیررحمہ اللہ تعالی سورۃ البقرۃ کی آیۃ الکرسی کی تفسیرکرتےہو‏ۓ کہتے ہیں : یہ آیۃ الکرسی ہے جس کی فضیلت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح حدیث میں ہے کہ کتاب اللہ میں یہ آیت سب سے افضل آیت ہے ۔ ابی بن کعب رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نےان سے سوال کیا کہ کتاب اللہ میں سب سے عظیم آیت کونسی ہے ؟ تو وہ کہنے لگے کہ اللہ اور اس کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم کوہی زیادہ علم ہے ، یہ سوال کئ باردھرایا اور پھر فرمانےلگے کہ وہ آیت الکرسی ہے ۔ فرمانے لگے اے ابوالمنذر علم مبارک ہو اس ذات کی قسم جس کےھاتھ میں میری جان ہے اس آیت کی زبان اور ہونٹ ہونگے عرش کے پاۓ کے ہاں اللہ تعالی کی پاکی بیان کررہی ہوگی ۔ اور غالبا مسلم نے والذی نفسی سے آگے والے الفاظ نہیں ہیں ۔ عبداللہ بن ابی بن کعب رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ ان کے والد کے پاس کھجوریں رکھنے کی جگہ تھی ، عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں میرے والد اس کاخیال رکھتے تھے تو...

عہد رسالت میں کتابت قرآن

سرورکائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے مندرجہ ذیل صحابہ کو کاتب وحی مقرر فرمایا تھا: حضرت بوبکررضی اللہ تعالٰی عنہ ، عمرفاروقرضی اللہ تعالٰی عنہ، عثمانرضی اللہ تعالٰی عنہ، علیرضی اللہ تعالٰی عنہ، معاویہرضی اللہ تعالٰی عنہ ، زید بن ثابت رضی اللہ تعالٰی عنہ،ابی بن کعبرضی اللہ تعالٰی عنہ، خالد بن ولیدرضی اللہ تعالٰی عنہ،ثابت بن قیسرضی اللہ تعالٰی عنہ،۔ قرآن کا جو حصہ نازل ہوتا آپ صحابہ کو مامور فرماتے کہ اسے تحریر کرلیں یہاں تک کہ کتابت کے پہلو بہ پہلو قرآن کریم کو سینوں میں بھی محفوظ کرلیا گیا۔(مشہور مستشرق بلاشیر نے کاتبین وحی صحابہ کی تعداد چالیس بتائ ہے دیگر مستشرقین مثلاً شفالی بہل اور کازانوفاکا زاویہ نگاہ بھی یہی ہے مؤخر الذکر نے اس ضمن میں طبقا ابن سعد، طبری ، نووی اور سیرت حلبی پر اعتماد کیا ہے ۔) محدث حاکم نےمستدرک میں زید بن ثابت سے بخاری ومسلم کی شرط کے مطابق روایت کیا ہے کہ زید بن ثابت نے کہا ہم عہد رسالت میں ''رقاع''(ٹکڑوں)سے قرآن جمع کیا کرتے تھے ۔ (الاتقان،ج۱ص،۹۹نیز البرہان ،ج۱ص۲۳۷) مذکورہ صدر حدیث میں ''رقاع ''کا جو لفظ وا...

شرک فی التصرف کا بیان

بسم اللہ الرحمن الرحیم اللّٰھم لک الحمد حمدا یوافی نعمک ویکافی مزید کرمک احمد ک بجمیع محا مدک ما علمت و ما لم اعلم علی جمیع نعمک ما علمت منھا وما لم اعلم وعلی کل حالط اللّٰھم صل علی محمد و علی ال محمد و بارک وسلم۔ اما بعد۔ فاعوذ باللہ من الشیطن الرجیم ط بسم اللہ الرحمن الرحیمط قُلِ ادْعُوا الَّذِيْنَ زَعَمْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللہِ۝۰ۚ لَا يَمْلِكُوْنَ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ فِي السَّمٰوٰتِ وَلَا فِي الْاَرْضِ وَمَا لَہُمْ فِيْہِمَا مِنْ شِرْكٍ وَّمَا لَہٗ مِنْہُمْ مِّنْ ظَہِيْرٍ۝۲۲ وَلَا تَنْفَعُ الشَّفَاعَۃُ عِنْدَہٗٓ اِلَّا لِمَنْ اَذِنَ لَہٗ۝۰ۭ حَتّٰٓي اِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوْبِہِمْ قَالُوْا مَاذَا۝۰ۙ قَالَ رَبُّكُمْ۝۰ۭ قَالُوا الْحَقَّ۝۰ۚ وَہُوَالْعَلِيُّ الْكَبِيْرُ۝۲۳ (السبا:۲۲۔۲۳) اے میرے محسن خدا! کل تعریفوں کا مستحق تو ہی ہے، میں تیری وہ تعریف کرتا ہوں جو تیری دی ہوئی نعمتوں کا بدل ہو، ا ور اس سے جو زیادہ دے، اس کا بدلہ ہو، اور پھر میں تیری جن نعمتوں کو جانتا ہوں اور جن کو نہیں جانتا سب ہی کا ا ن خوبیوں کے ساتھ شکریہ ادا کرتا ہوں، جس کا مجھ کو علم ہے اور جن کا نہیں، غرضیکہ ہر ...

حکایت

حضرت شیخ الاسلام امام غزالی نے احیاء العلوم میں ایک حاسد آدمی کی یہ حکایت فرمائی ہے کہ ایک شخص بادشاہ کے سامنے کھڑا ہوکر یہ کہا کرتا تھا کہ نیک لوگوں کے ساتھ نیکی کرو اور محسن کے احسان کا بدلہ دو کیوںکہ برائی کرنے والے کی برائی تمہاری طرف سے خود کفایت کرے گی۔ یہ شخص بادشاہ کے سامنے یہ نصیحت کیا کرتا تھا جس سے اس کی بڑی عزت تھی۔ اس کی عزت، عظمت اور مرتبہ کو دیکھ کر ایک شخص کو حسد پیدا ہوگیا۔ اس نے بادشاہ سے شکایت کی کہ یہ شخص حضور کے سامنے کھڑا ہوکر گندہ دہن بتاتا ہے۔ بادشاہ نے کہا اس کی تصدیق کیسے ہو؟ حاسد نے کہا جب وہ آپ کے پاس آئے تو آپ اسے اپنے قریب بلا لیجیے، جب وہ آپ کے بالکل قریب آجائے گا تو اپنی ناک بند کرلے گا، تاکہ آپ کے منہ کی بدبو نہ آنے پائے۔ بادشاہ نے کہا بہت اچھا، کل امتحان کریں گے۔ ادھر اس حاسد نے بادشاہ سے یہ کہا، ادھر اس نے جاکر اس ناصح و نیک آدمی کی دعوت کرکے ایسا کھانا کھلایا جس میں لہسن بہت سا تھا۔ یہ کھانا کھا کر فارغ ہی ہوا تھا کہ دربار کا وقت آگیا۔ بدستور سابق بادشاہ کے سامنے کھڑے ہوکر اس نے وہی جملہ کہا جو کہا کرتا تھا۔ بادشاہ نے اس کو اپنے پاس بلانے کا ...

Rasulullah Sallallahu Alaihi Wasallam Kay Muay Mubarak By Shaykh Mufti Umar Farooq

Read Online (400 K) AN EXTRACT FROM MONTHLY MAGAZINE OF DARUL ULOOM DEOBAND ON SOME DETAILS REGARDING THE BELOVED AND MUBARIK HAIR OF RASOOLULLAH [Sallallahu Alaihi Wasallam]. By Shaykh Mufti Umar Farooq

اتباع سنت کا بیان

بسم اللہ الرحمن الرحیم الحمد للہ الذی لم یزل عالماً قدیرا حیاً قیوماً سمیعاً بصیراً و اشھد ان لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ واکبرہ تکبیراً۔ واشھد ان محمداعبدہ ورسولہ و صلی اللہ علی سیدنا محمد ن الذی ارسلہ الی الناس کافۃ بشیراً ونذیرًا۔ و علی الہ و صحبہ وسلم تسلیماً کثیراکثیرا۔ اما بعد! فاعوذ باللہ من الشیطن الرجیم۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللہَ فَاتَّبِعُوْنِيْ يُحْبِبْكُمُ اللہُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ۝۰ۭ وَاللہُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ۝۳۱ قُلْ اَطِيْعُوا اللہَ وَالرَّسُوْلَ۝۰ۚ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّ اللہَ لَا يُحِبُّ الْكٰفِرِيْنَ۝۳۲ (آل عمران:۳۱۔۳۲) سب تعریف اللہ کے لیے ثابت ہے،جو ہمیشہ سے جاننے والا، قدرت والا، زندہ رکھنے والا، سنبھالنے والا، سننے والا اور دیکھنے والا ہے، اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ ایک اور یکتا ہے، جس کا کوئی شریک نہیں ہے، اور میں اس کی بڑائی بیان کرتا ہوں، اور اس بات کی گواہی دیتا ہوں ، کہ محمد ﷺ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، اللہ تعالیٰ ہمارے آقا محمد ﷺ پر رحمت کا ملہ نازل فرم...

اللہ و رسول ﷺ کی اطاعت کا بیان

بسم ا للہ الرحمن الرحیم۔ الحمد للہ رب العالمین۔ الرحمن الرحیم۔ مالک یوم الدین۔ والصلوۃ والسلام علی رسولہ المبین سیدنا محمد خاتم النبیین۔ وعلی جمیع الانبیاء والمرسلین۔ وسائر عباد اللہ الصالحین۔ اما بعد! فاعوذ باللہ من الشیطن الرجیم ط بسم اللہ الرحمن الرحیم ط يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَطِيْعُوا اللہَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ وَاُولِي الْاَمْرِ مِنْكُمْ۝۰ۚ فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِيْ شَيْءٍ فَرُدُّوْہُ اِلَى اللہِ وَالرَّسُوْلِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللہِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ۝۰ۭ ذٰلِكَ خَيْرٌ وَاَحْسَنُ تَاْوِيْلًا۔ (النساء:۵۹) سب تعریف اللہ کے لیے ہے، جو سار ے جہاں کا پالنے والا ہے، بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، بدلے کے دن (قیامت )کا مالک ہے، اور درودوسلام نازل ہوں، ا للہ تعالیٰ کے رسول پر جو احکام الٰہی کے ظاہر کرنے والے ہیں، ہمارے سردار جن کا نام نامی اسم گرامی محمد ﷺ ہے، جو سب نبیوں کے ختم کرنے والے ہیں، اور اللہ کے تمام نبیوں ا ور رسولوں پر، اور ا للہ کے تمام نیک بندوں پر، حمد و صلوۃ کے بعد، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ا ے ایمان والوفرمانبرداری کرو اللہ کی اور فرمانبر...

شرک کی مذمّت

بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ الحمدللہ الذی لم یتخذ ولداو لم یکن لہ شریک فی الملک ولم یکن لہ ولی من الذل وکبرہ تکبیرا۔ ونشھد ان لاالہ ا لااللہ وحدہ لا شریک لہ ونشھد ان محمداعبدہ ورسولہ صلی اللہ علیہ وعلی اٰلہ واصحابہ وسلم تسلیما کثیرا۔ اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم ط بسم اللہ الرحمن الرحیم بِہٖ۝۰ۭ وَمَنْ يُّشْرِكْ بِاللہِ فَكَاَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَاۗءِ فَتَخْطَفُہُ الطَّيْرُ اَوْ تَہْوِيْ بِہِ الرِّيْحُ فِيْ مَكَانٍ سَحِيْقٍ (الحج:۳۱) سب تعریف اللہ ہی کے لیے ہے، جو نہ اولاد رکھتا ہے، اور اپنی سلطنت میں کسی کو شریک بھی نہیں کرتا، اور نہ وہ ایسا حقیر ہے، کہ اس کا کوئی حمائتی ہو، تم اس کی بڑائی بیان کرو، اور ہم اس بات کی شہادت دیتے ہیں، کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے، وہ ایک ا کیلا ہے، اس کے ساتھ کوئی شریک نہیں ہے، اور ہم اس بات کی شہادت دیتے ہیں، کہ محمدﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں، اللہ تعالیٰ ان پر اور ان کے اصحابؓ پر بہت بہت درود بھیجے حمدو صلوٰۃ کے بعد عرض ہے ، کہ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں یہ فرما رہاہے، کہ اللہ کے ساتھ شرک کرنے والا گویا آسمان سے گر پڑا، تو اب اسے یا تو پرند...