Skip to main content

مکتوبات نبوی



آپ نے جس طرح صحابہٴ کرام کو اپنے ارشادات سے نوازا‘ اسی طرح ان لوگوں تک بھی اپنے پیغامات پہنچائے جو حاضری کی سعادت سے محروم رہے۔ ان پیغامات میں جس طرح اسلام کی دعوت کے لعل وجواہر جڑے ہوئے ہیں‘ اسی طرح ان کی روشن جبیں پر گرانقدر نصائح‘سیاسی نکات اور اصولِ جہاں بانی وحکمرانی کے بیش بہا موتی بھی گندھے ہوئے ہیں۔ عرب کی مخالفت کی وجہ سے صلح حدیبیہ ۶ھ تک دعوت اسلام کا دروازہ بند تھا‘ اس صلح نے دعوت کا دروازہ کھول دیا اور اب وہ وقت آگیا کہ اللہ تعالیٰ کا پیغام ساری انسانیت کو پہنچادیا جائے اور اسلام کے عظیم الشان پروگرام ومنشور کی طرف دنیا کو دعوت دی جائے‘ اب تک جو لوگ دائرہٴ اسلام میں داخل ہوئے تھے‘ انہیں آغوشِ اسلام میں آتے ہی احساس ہوا کہ انسانیت کے لئے جتنے بھی فضائل‘ محاسن اور آداب ہوسکتے ہیں وہ تمام کے تمام اسلام کی ابدی تعلیمات کا جزو لازم ہیں‘ اسلام کی انہی ابدی صدا قتوں سے دیگر اقوام عالم کو روشناس کرانے کے لئے آپ ا نے ضروری سمجھا کہ سلاطینِ عالم تک خطوط کے ذریعے اس پیغام کو پہنچایا جائے‘ تاکہ آپ ا اپنے فریضہ ٴ تبلیغ سے کما حقہ عہدہ برآہوسکیں‘ چنانچہ آپ ا نے صلح حدیبیہ سے واپسی پر ماہ ذی الحجہ ۶ھ میں بادشاہوں کے نام دعوتی خطوط بھیجنے کا ارادہ کیا‘ اس موقع پر آپ ا نے صحابہٴ کرام سے مشورہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: ”اے لوگو! میں تمام عالم کے لئے رحمت بناکر بھیجا گیا ہوں‘ تمام دنیا کو یہ پیام پہنچاؤ‘اللہ تعالیٰ تم پر رحم فرمائے گا‘ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حواریین کی طرح اختلاف نہ کرنا کہ اگر قریب جانے کو کہا تو راضی ہوگئے اور اگر کہیں دور جانے کا حکم دیا تو زمین پر بوجھل ہوکر بیٹھ گئے“۔ (۱) صحابہٴ کرام جو اطاعت وجانثاری کے لئے ہروقت تیار رہتے تھے اور اپنے خلوص‘ تعمیلِ ارشاد اور وفا شعاری کے بڑے سخت سے سخت مراحل میں بھی اعلیٰ درجہ کی کامیابی کی سند اور رضی اللہ عنہ کا طلائی تمغہ حاصل کرچکے تھے‘ انہوں نے اس خدمت کو اپنے لئے سعادت سمجھا اور تعمیلِ ارشاد کے لئے دل وجان سے تیار ہوگئے مگر بایں ہمہ آپ کی خدمت اقدس میں ایک مشورہ بھی پیش کیاکہ یا رسول اللہ! جس خط پر مہر نہ ہو‘ سلاطین اس کو قابل وثوق اور قابل اعتماد نہیں سمجھتے ‘حتی کہ ایسے خط کو پڑھتے تک نہیں۔ آپ ا نے صحابہٴ کرام کے مشورہ سے ایک مہر کندہ کروائی‘ جس کا حلقہ چاندی کا تھا تونگینہ بھی چاندی ہی کا تھا‘ مگر صنعت حبشہ کی تھی اس پر مہر کی شکل میں ”محمد رسول اللہ “ کندہ تھا صورت یہ تھی:
اللہ رسول محمد
سب سے نیچے لفظ محمد‘ سب سے اوپر لفظ اللہ اوردرمیان میں لفظ رسول تھا۔ (۲) چنانچہ آپ ا نے یہ مہر لگاکر سلاطین وامراء کے نام خطوط روانہ فرمائے‘ ان کو دین اسلام قبول کرنے کی دعوت دی اور یہ بھی واضح فرمادیا کہ رعایا کی گمراہی کی ذمہ داری تم پر عائد ہوتی ہے۔ واقدی کے قول کے مطابق آپ ا نے یہ خطوط ۶ھ کے اخیر ماہ ذو الحجہ میں صلح حدیبیہ کے بعد روانہ کئے اور بعض کے نزدیک ۷ھ میں روانہ کئے گئے۔ ممکن ہے کہ آپ ا نے سلاطین عالم کے نام یہ خطوط بھیجنے کا ارادہ تو ۶ھ کے آخر میں فرمایا ہو اور پھر ۷ھ میں خطوط روانہ کئے ہوں۔ (۳) بہر حال حدیبیہ کے بعد اور فتح مکہ سے پہلے یہ خطوط روانہ کئے گئے۔ (۴) مکتوبات نبوی ا میں جن لوگوں کو مخاطب کیا گیا ہے‘ ان میں چار مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے لوگ ہیں: ۱:- مشرکین عرب۲:- عیسائی۳:- یہودی اور۴:- رزرتشی (مجوسی)۔ آپ ا نے ہرقل اور مقوقس کے نام جو خطوط لکھے‘ ان میں آپ ا نے اپنے نام کے ساتھ خصوصیت کے ساتھ عبد اللہ (خدا کا بندہ) لکھا‘ جس سے مخاطب کے عقیدے کی نہایت لطیف پیرائے میں تردید کردی گئی ہے کہ انبیاء ومرسلین خدا کی اولاد نہیں‘ بلکہ مخلوق ہوتے ہیں۔ فارس خسر وپرویز کے نام جو نامہٴ مبارک ارسال کیا گیا‘ اس میں عقیدہٴ توحید کو خاص طور پر اجاگر کیا گیا‘ کیونکہ فارس میں دو خداؤں کا عقیدہ موجود تھا‘ اس کے بعد اسلام کے عالمی مذہب ہونے اور آپ ا کے تمام اقوام کی جانب مبعوث ہونے کا صاف لفظوں میں اظہار کیا گیا۔ یہود کے نام خط میں تورات کے حوالے دے کر اپنی نبوت کا اثبات کیا گیا اور مشرکینِ عرب کے نامہٴ مبارک میں توحید خدا پر زور دے کر غیر خدا کی عبادت سے روکا گیا۔ قیصر روم (جو کہ مذہباً عیسائی تھا) نے آپ ا کے دعوتی خط کے بعد احوال کا جائزہ لے کر آپ ا کی نبوت ورسالت کا اقرار کیا‘ مگر اسلام قبول نہ کیا۔ اسی طرح عزیز مصر مقوقس نے بھی (جوکہ مذہبا نصرانی تھا) آپ اکی نبوت ورسالت کا اعتراف کیا‘ مگر حلقہٴ اسلام میں داخل نہ ہوا‘ نجاشی شاہ حبشہ (جوکہ عیسائی تھا) حلقہ بگوش اسلام ہوا۔ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ا نے ایک خط اہل سندھ کی جانب بھی ارسال فرمایا تھا جو نتیجہ خیز ثابت ہوا اور سندھ کے کچھ خوش قسمت حضرات حلقہ بگوش اسلام ہوکر دربار رسالت مآب امیں حاضر ہوئے۔ (۵) آپ ا نے ہمسایہ ممالک کے حکمرانوں اور عرب کے قبائلی سرداروں کے نام جو خطوط تحریر فرمائے ہیں‘ ان کے مطالعہ سے واضح ہوتا ہے کہ آپ ا نے دنیا میں کس طرح کا ذہنی ‘ فکری اور عملی انقلاب برپا کیا؟ اور انسانیت کے لئے کیسے کیسے زریں اصول وضع فرمائے؟ تمدن اور معاشرت کو کن راہوں پر ڈالا؟ اور انسانیت کے فطری تقاضوں کی کس حد تک تکمیل فرمائی؟۔ کسی شخصیت کا مطالعہ اس کے خطوط کی روشنی میں بہترین مطالعہ قرار دیا گیا ہے۔ خطوط کے ذریعے مکتوب نگار کی سیرت‘ شخصیت‘ روز مرہ پیش آنے والے حالات وواقعات‘ معاشرتی وسیاسی تغیرات اور اس عہد کے معاشرتی وسیاسی اور تاریخی عوامل با آسانی معلوم ہوجاتے ہیں‘ نیز کسی شخص کے انفرادی واجتماعی حالات معلوم کرنے کے لئے اس سے بہتر کوئی ذریعہ نہیں ہوسکتا‘ کسی مفکر کا قول بھی ہے کہ خطوط انسانی زندگی کے آئینہ دار ہوتے ہیں۔ آپ انے اپنی زندگی میں بڑے بڑے بادشاہوں‘ قبائل عرب کے سرداروں اور گورنروں کے نام جو خطوط لکھے ‘ وہ کتب حدیث میں محفوظ ہیں۔ ان کی تعداد تین سو کے قریب ہے‘ ان میں سے ۱۳۹ خطوط ایسے ہیں جن کا اصل متن محفوظ ہے اور ۸۶ خطوط وہ ہیں جن کا صرف مفہوم کتب میں ذکر کیا گیا ہے۔ (۶) آپ ا کے مکاتیب کو سب سے پہلے حضرت عمرو بن حزم انصاری نے مرتب کیا تھا‘ انہوں نے آپ ا کے ۲۱ مکاتیب گرامی جمع کئے تھے‘ ابن طولون نے بھی اپنی کتاب ”مفاکہة الخلان فی حوادث الزمان“ میں مکاتیب پر لمبا چوڑا نوٹ لکھا ہے۔ ڈاکٹر حمید اللہ نے ” الوثائق السیاسیہ“ کے نام سے بہت جامع کام کیا ہے‘ جس کا اردو ترجمہ ” رسول اکرم ا کی سیاسی زندگی“ کے نام سے دستیاب ہے۔ اس موضوع پر اردو میں اب تک جنہوں نے سب سے زیادہ قابل قدر کام کیا ہے‘ وہ مولانا سید محبوب رضوی صاحب ہیں‘ موصوف نے اپنی کتاب ”مکتوبات نبوی ا“ میں آقائے نامدار ا کے تین سو کے قریب مکاتیب جمع کردئے ہیں اور بہت تحقیقی کام کیا ہے۔ اس کے علاوہ مولانا حفظ الرحمن صاحب نے ”بلاغ مبین“ میں آپ ا کے مکاتیب کو جمع کیا ہے اور صاحبزادہ عبد المنعم خان نے ”رسالات محمدیہ“ میں مکتوبات نبوی اکی کافی تعداد جمع کردی ہے۔ گذشتہ دوصدیوں میں آپ ا کے چھ مکتوبات اپنی اصلی حالت میں دستیاب ہوچکے ہیں‘ یہ مکاتیب نجاشی شاہ حبشہ‘ منذر بن ساوی گورنر بحرین‘ قیصر روم ہرقل ‘ شاہ مصر واسکندریہ مقوقس‘ شہنشاہ ایران خسرو پرویز کسریٰ‘ شاہ عمان جیفر وعبدان کے نام ہیں اور انہیں مولانا عبد العزیز محمدی صاحب ڈیرہ اسماعیل خان نے ایک خوبصورت چارٹ کی صورت میں شائع کیا ہے۔ اسلام کو دنیا کے سامنے پیش کرنے کا سب سے بہتر اور مؤثر طریقہ وہی ہے جو آپ ا نے اختیار فرمایا‘ مکتوبات نبوی امیں اسی طریقہ کو پیش کیا گیا ہے‘ آپ ا کے ان خطوط سے جو بات نمایاں طور پر سمجھ میں آتی ہے‘ وہ یہی ہے کہ اسلام کو غیر مسلموں کے سامنے کس انداز سے پیش کرنا چاہئے؟ اور مسلمانوں کو غیر مسلموں سے تعلقات ومعاملات میں کن امور کا لحاظ رکھنا چاہئے؟ مکتوبات نبوی ا کے ایک ایک لفظ سے مخاطب کے لئے ہمدردی وخیر اندیشی کے جذبات ٹپکتے ہیں‘ سرور عالم ا کے خطوط میں طوالت ‘ تکلف وتصنع اور بیان کی شوخی کی بجائے لطافت‘ انشأ پردازی‘ سادگی‘ حقیقت پسندی اور ایجاز واختصار کا پہلو نمایاں ہے‘ ان میں پیغمبرانہ امانت وصداقت کے انتہائی عزم ویقین کے ساتھ حق کی دعوت ہے‘ ان خطوط میں تبلیغی جذبے کی آبیاری کا سامان بھی ہے اور تزکیہٴ باطن واصلاح نفس کے لئے رہنمائی بھی۔ اصول دین کی تبلیغ بھی ہے اور اسلام کے احکام ومصالح اور تشریعی مسائل کا ذکر بھی۔ آپ انے شاہانِ عالم کے نام جو خطوط ارسال فرمائے ہیں‘ یہ اس امر کی واضح دلیل ہے کہ آپ اکی نبوت ورسالت فقط جزیرہٴ عرب کے امیین کے ساتھ مخصوص نہیں تھی‘ بلکہ آپ اکی رسالت عرب وعجم‘ جن وانس‘ یہود ونصاری‘ مشرکین اور مجوس اور پوری دنیا کے سب جنوں‘ انسانوں کے لئے ہے۔
حوالہ جات
۱- کاندھلوی ‘ ادریس‘ مولانا‘ سیرت المصطفی:ج:۲‘ص:۴۰۹۔ ۲- طبری‘ ابن جریر‘ تاریخ الامم والملوک: ج:۳‘ ص:۸۴۔ابن سعد‘ محمد‘الطبقات الکبری بیروت‘ دارصادر ج:۱‘ صں۴۷۵‘ زرقانی‘ محمد بن عبد الباقی‘ شرح مواہب لدنیہ‘ مصر‘ مطبع ازہریہ‘ ج:۳‘ص:۳۳۴۔ ۳- عبد الحق محدث دہلوی شیخ‘ مدارج النبوت‘ ج:۲‘ص:۲۹۴۔ ۴- ابن کثیر‘ اسماعیل بن عمر‘ الہدایہ والنہایہ‘ ج:۴‘ص:۲۶۲۔ ۵-رضوی‘ محبوب‘ مولانا‘ مکتوبات نبوی‘ طبع پاکستان‘ ص:۴۲۔ ۶- رضوی‘ محبوب‘ مولانا مکتوبات نبوی‘ طبع پاکستان‘ ص:۳۰۵۔

Comments

Popular posts from this blog

Yusufzai (Pashtun tribe)

The  Yūsufzai  (also  Youssofzay ,  Yousefzai ,  Yousafzai ,  Esapzey ,  Yousufi , or  Yūsufi ) (Pashto:  يوسفزی ,Persian and Urdu:  یوسف زئی ) is one of the largest Pashtun (Afghans) tribes. The majority of the Yusufzai tribe reside in parts of Western Afghanistan, Khyber Pakhtunkhwa and Provincially Administered Tribal Areas near the Afghan-Pakistan border. They are the predominant population in the districts of Konar, Ningarhar, Mardan District, Dir, Swat,Malakand, Swabi, Buner, Shangla, Haripur District [Khalabat Town Ship and Tarbela] and in Mansehra and Battagram. There is also a Yusufzai clan of Dehwar tribe in the Mastung district of Balochistan who speak Persian with some mixture of Birahvi words. The descendants of Yusuf inhabit Konar, Jalalabad, Swat, Upper Dir, Lower Dir, Malakand Swabi and Mardan...

یہودی پروٹوکولز

Online Read یہودی پروٹوکولز ============================================== Online Read E Book یہودی پروٹوکولز ============================================== Download Free یہودی پروٹوکولز ---------------------------------------------------- Download Free یہودی پروٹوکولز ----------------------------------------------------

دین اسلام میں رسول اللہ ﷺ کی اطاعت فرض ہے

بسم اللہ الرحمن الرحیم دین اسلام میں رسول اللہ ﷺ کی اطاعت فرض ہے يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ أَطِيعُوا۟ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ وَلَا تَوَلَّوْا۟ عَنْهُ وَأَنتُمْ تَسْمَعُونَ ﴿20﴾ترجمہ: اے ایمان والو الله اور اس کے رسول کا حکم مانو اور سن کر اس سے مت پھرو(سورۃ الانفال،آیت20) قُلْ أَطِيعُوا۟ ٱللَّهَ وَأَطِيعُوا۟ ٱلرَّسُولَ ۖ فَإِن تَوَلَّوْا۟ فَإِنَّمَا عَلَيْهِ مَا حُمِّلَ وَعَلَيْكُم مَّا حُمِّلْتُمْ ۖ وَإِن تُطِيعُوهُ تَهْتَدُوا۟ ۚ وَمَا عَلَى ٱلرَّسُولِ إِلَّا ٱلْبَلَٰغُ ٱلْمُبِينُ﴿56﴾ترجمہ: کہہ دو الله اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرو پھر اگر منہ پھیرو گے تو پیغمبر تو وہی ہے جس کا وہ ذمہ دار ہے اورتم پر وہ ہے جو تمہارے ذمہ لازم کیا گیا ہے اور اگر اس کی فرمانبرداری کرو گے تو ہدایت پاؤ گے اور رسول کے ذمہ صرف صاف طور پر پہنچا دینا ہے (سورۃ النور،آیت 56) مَّن يُطِعِ ٱلرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ ٱللَّهَ ۖ وَمَن تَوَلَّىٰ فَمَآ أَرْسَلْنَٰكَ عَلَيْهِمْ حَفِيظًۭا ﴿80﴾ترجمہ: جو شخص رسول کی فرمانبرداری کرے گا تو بےشک اس نے اللہ کی فرمانبرداری کی اور جو نافرمانی کرے گا تو اے ...

قرآن حکیم کے نازل ہونے کی کیا غرض ہے

سورہ آلِ عمران هَـٰذَا بَيَانٌ لِّلنَّاسِ وَهُدًى وَمَوْعِظَةٌ لِّلْمُتَّقِينَ ﴿١٣٨﴾ یہ (قرآن) لوگوں کے لیے بیان صریح اور اہلِ تقویٰ کے لیے ہدایت اور نصیحت ہے۔ سورہ المآئدۃ يَا أَهْلَ الْكِتَابِ قَدْ جَاءَكُمْ رَسُولُنَا يُبَيِّنُ لَكُمْ كَثِيرًا مِّمَّا كُنتُمْ تُخْفُونَ مِنَ الْكِتَابِ وَيَعْفُو عَن كَثِيرٍ ۚ قَدْ جَاءَكُم مِّنَ اللَّـهِ نُورٌ وَكِتَابٌ مُّبِينٌ ﴿١٥﴾هْدِي بِهِ اللَّـهُ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَهُ سُبُلَ السَّلَامِ وَيُخْرِجُهُم مِّنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ بِإِذْنِهِ وَيَهْدِيهِمْ إِلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ ﴿١٦﴾  اے اہل کتاب! تمہارے پاس ہمارے پیغمبر (آخرالزماں) آ گئے ہیں کہ جو کچھ تم کتاب (الہٰی) میں سے چھپاتے تھے وہ اس میں سے بہت کچھ تمہیں کھول کھول کر بتا دیتے ہیں اور تمہارے بہت سے قصور معاف کر دیتے ہیں بےشک تمہارے پاس خدا کی طرف سے نور اور روشن کتاب آ چکی ہے۔جس سے خدا اپنی رضا پر چلنے والوں کو نجات کے رستے دکھاتا ہے اور اپنے حکم سے اندھیرے میں سے نکال کر روشنی کی طرف لے جاتا اور ان کو سیدھے رستہ پر چلاتا ہے۔ وَكَتَبْنَا عَلَيْه...

جمع عثمانی رِوایات کے آئینے میں

نبی مکرمﷺ کی حدیث مبارکہ ’’خَیْرُ النَّاسِ قَرْنِيْ ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَھُمْ ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَھُمْ‘‘۔(صحیح البخاري: ۲۶۵۲) پر جب نظر پڑتی ہے تو سر احسان و نیازمندی کے ملے جلے تاثر ات سے جھک جاتا ہے کہ واقعتا آپﷺ، صحابہ رضی اللہ عنہم اور تابعین رحمہم اللہ کا زمانہ خیر القرون تھا، کیونکہ اس میں بنی نوع اِنسان کی راہ روی اور اسلام کی سربلندی کے لیے وہ محنتیں اور کوششیں ہوئی ہیں کہ جس کی مثال آئندہ جمیع قرون میں پیش کرنا مشکل ہے۔ یقینا وہ لوگ اس قابل تھے کہ اُنہیں یہ ذمہ داری سونپی جاتی کہ وہ دینِ الٰہی اور شرع اللہ کو اپنی مکمل تشریحات کے ساتھ آئندہ نسلوں تک منتقل کریں، بلا شبہ وہ طائفہ فائزہ اپنے اس مقصد میں بامراد ہوا ہے۔ان جملہ ذمہ داریوں میں سے اَہم ترین ذمہ داری یہ تھی کہ ہدایت سماوی کے آخری ربانی صحیفہ کو محفوظ اور غیر متبدل شکل میں ہم تک پہنچایا جائے۔ ہمارا یہ قطعی ایمان ہے کہ وہ پیام اَیزدی آج اپنی سو فیصد اَصلی اور حقیقی شکل میں ہمارے درمیان موجود ہے۔ الحمد ﷲ علی ذلک۔اِس سلسلہ میں خیرالقرون میں جو سب سے اَہم کام ہوا ہے وہ سیدنا عثمان ذوالنورین رضی ال...

ان شاءاللہ لکھنے میں غلطی کرنا

بسم اللہ الرحمن الرحیم السلام علیکم ورحمتہ اللہ آ پ لوگوں نے اکثر کتابوں میں لفظ ان شاءاللہ کو اس طرح لکھا ہوا پڑھاہوگا انشاءاللہ اور جب کہ اس طرح لکھنے سے اس کا معنی بدل جاتا ہے۔ لفظ ان شاءاللہ کے اردو میں معنی بنتا ہے اگر اللہ نے چاہا اور جب کہ انشاء عربی میں کسی چیز کو بنانے کو کہتے ہیں اس طرح انشاءاللہ کے معنی بہت غلط بن جاتے ہیں ۔ہم لوگ عربی زبان سے واقفیت نہ رکھنے کی وجہ سے ایسی غلطیاں کر جاتے ہیں اللہ ہمیں معاف فرمائے آمین۔اللہ کا ارشاد ہے کہاِنَّآ اَنْشَاْنٰهُنَّ اِنْشَاۗءً 35۝ۙہم نے ان (کی بیویوں کو) خاص طور پر بنایا ہے۔الواقعہ:۳۵قَالَ اِنَّمَا يَاْتِيْكُمْ بِهِ اللّٰهُ اِنْ شَاۗءَ وَمَآ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِيْنَ 33 ؀جواب دیا کہ اسے بھی اللہ تعالٰی ہی لائے گااگر وہ چاہے اور ہاں تم اسے ہرانے والے نہیں ہو۔ھود:۳۳فَلَمَّا دَخَلُوْا عَلٰي يُوْسُفَ اٰوٰٓى اِلَيْهِ اَبَوَيْهِ وَقَالَ ادْخُلُوْا مِصْرَ اِنْ شَاۗءَ اللّٰهُ اٰمِنِيْنَ 99؀ۭپھر جب (سب کے سب) یوسف کے پاس پہنچے تو اس نے اپنے والدین کو (عزت و احترام کے ساتھ) اپنے پاس جگہ دی اور کہا، ''کہاگر اللہ نے چاہا تو...

قراء توں کا اِختلاف اور منکرینِ حدیث

یہ ایک مسلّمہ اَمر ہے کہ قرآن مجید کی ایک سے زیادہ قراء تیں ثابت ہیں۔ لیکن اہلِ قرآن کہلانے والے منکرین حدیث ان اختلافِ قراء ات کو نہیں مانتے۔ وہ کہتے ہیں کہ قرآن کی صرف ایک ہی قراء ت ہے اور یہ کہ خود نبیﷺنے قرآن کو کتابی صورت میں مرتب اور مدوّن کیا اور اس پر اعراب و نقطے لگوائے تھے جبکہ یہ بات خلاف ِ واقعہ ہے۔جناب پرویز صاحب لکھتے ہیں:’’ہم سمجھتے ہیں کہ اس کے بعد ’اختلاف قراء ت‘ کے فتنہ کے متعلق کچھ سمجھنے کی ضرورت باقی نہیں رہتی‘‘(طلوع اسلام، ص۵۶، شمارہ جنوری ۱۹۸۲ء، لاہور)وہ مزید لکھتے ہیں :’’قرآن مجیدجس شکل میں ہمارے پاس موجود ہے اسے خود رسول اللہﷺنے اسی طرح مرتب اور مدوّن شکل میں اُمت کو دیا تھا۔‘‘(طلوع اسلام، ص۴۲، شمارہ جنوری۱۹۸۲ء، لاہور)اسی طرح ایک اور منکرِ حدیث رحمت اللہ طارق صاحب نے لکھا ہے :’’اختلاف قراء ت کا فتنہ ہی لے لیجئے جس کا مودودی صاحب جیسا شخص نہ صرف معترف اور معتقد ہے بلکہ سرگرم مبلغ اور پُرجوش ناشر ہے۔‘‘(اعجاز قرآن و اختلاف قراء ت، مرتبہ تمنا عمادی:۷۴۲) طارق صاحب نے مزید لکھا ہے :’’ لَوْ کَانَ مِنْ عِنْدِ غَیْرِ اﷲِ لَوَجَدُوْا فِیْہِ اخْتِلَافًا کَثِیْرًا ‘‘...

جمع قرآن اور اس کی تدوین

جمع قرآن اور اس کی تدوین جمع قرآن سے مراد قرآن کریم کا جمع کرنا۔ خواہ حفظ سے ہو یا کتابت سے یا تلاوت کی ریکارڈنگ سے۔ اور تدوین سے مراد اس کو کتابی صورت میں ترتیب دینا ہے۔ان سب مراحل کی ایک دل چسپ معلوماتی تاریخ ہے جسے ایک طالب علم کے لئے جاننا بہت اہم ہے۔تاکہ وہ آگاہ رہے کہ یہ مقدس کتاب کس طرح کن کن ادوار سے گذر کر محفوظ ترین صورت میں ہم تک پہنچی؟مقصد جمع قرآن: جمع قرآن کا مقصد یہی تھا کہ جس طرح قرآن مجید آپ ﷺ پر اترا ہے اور جس طرح آپ نے اسے پڑھا یا سکھایا ہے اسے لکھ کر محفوظ کرلیا جائے۔ یہ اللہ کا حکم تھا تاکہ مستقبل میں ممکنہ اختلاف جو قراءت یا اس کے الفاظ ، ترتیب اور لغت میں پیدا ہوسکتا ہے وہ نہ ہوسکے۔ اللہ تعالیٰ نے خود بھی اس کی حفاظت کی ذمہ داری لی مگر اس حفاظت کا کام صحابہ رسول اور امت کے قراء وحفاظ سے بھی لیا۔جمع قرآن کی دلیل: آپ ﷺ قرآن کی تنزیل میں سخت شدت محسوس کیا کرتے۔ اور اپنے ہونٹوں کو حرکت دیا کرتے تھے۔ جیسا کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت صحیحین میں ہے۔تو اللہ تعالیٰ نے ابتداء میں ہی یہ فرمادیا : {لَا تُحَرِّكْ بِہٖ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ...

عورت، اسلام کی نظر میں

عورت جاہلیت میں نہایت ذلیل وحقیر چیز تھی یہاں تک کہ اسلام آیا تو اس نے اسے ایسی عزت وتکریم بخشی جس کی کوئی نظیر نہیں۔ اس نے جاہلیت کے مظالم سے اسے نجات دی اور اس کے حقوق کا ضامن وکفیل ہوا۔ اس نے عورت کو بہت سی دینی واجبات اور ثواب وعقاب میں اسے مردوں کے مساوی قرار دیا۔ چنانچہ اسے اسلام میں بہت زیادہ عزت وتکریم ملی ۔ إن الحمد لله، نحمده, ونستعينه، ونستغفره، ونعوذ بالله من شرور أنفسنا وسيئات أعمالنا، من يهده الله فلا مضل له، ومن يضلل فلا هادى له، وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له، وأشهد أن محمداً عبده ورسوله،وقد قال اللہ تبارک وتعالی فی محکم تنزیلہ، أعوذ باللہ من الشیطان الرجیم: (مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّن ذَكَرٍ أَوْ أُنثَىٰ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهُ حَيَاةً طَيِّبَةً ۖ وَلَنَجْزِيَنَّهُمْ أَجْرَهُم بِأَحْسَنِ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ) (النحل: 97)"جو شخص نیک عمل کرے مرد ہو یا عورت، لیکن باایمان ہو تو ہم اسے یقیناً نہایت بہتر زندگی عطا فرمائیں گے۔ اور ان کے نیک اعمال کا بہتر بدلہ بھی انہیں ضرور ضرور دیں گے۔"وقال النبی صلی اللہ علیہ وسلم: )إنما النساء شقائ...

خیرخواہی وامانت داری

خیرخواہی وامانت داری خیر خواہی دین کی بنیاد ا ور اس کا جوہر ہے۔ دین دراصل خیر خواہی کا نام ہے۔ خیرخواہی اللہ کی، اس کے کتاب کی، اس کے رسول کی، مسلم ائمہ وحکمرانوں کی اور عامۃ المسلمین کی ہوتی ہے۔ پس جب ان تمام کے حق میں بندہ خیرخواہ ہوگا تو اس کا دین کامل ہوگا اور جس میں ان میں سے کسی کی خیرخواہی میں کمی و کوتاہی ہوگی تو اسی قدر اس کے دین میں نقص وکمی ہوگی۔ مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اپنی خیرخواہی میں امانت کو ملحوظ رکھے اور بغیر کسی مداہنت ومجاملت کے حق کو بیان کرے۔ یہی شخص اللہ کے نزدیک امین ہوگا۔ إن الحمد لله، نحمده ونستعينه ونستغفره، ونعوذ بالله من شرور أنفسنا، وسيئات أعمالنا، من يهده الله فلا مضل له، ومن يضلل فلا هادى له، وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له، وأشهد أن محمداً عبده ورسوله۔ أما بعد: فإن خیر الحدیث کتاب اللہ، وخیر الھدی ھدی محمد صلی اللہ علیہ وسلم، وشر الأمور محدثاتھا، وکل محدثۃ بدعۃ، وکل بدعۃ ضلالۃ، وکل ضلالۃ  فی النار۔  وقد قال اللہ تبارک وتعالی فی کتابہ المجید: (إِنَّ اللَّـهَ يَأْمُرُكُمْ أَن تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَىٰ أَهْلِهَا وَإِذَا حَ...