Skip to main content

مکتوبات نبوی



آپ نے جس طرح صحابہٴ کرام کو اپنے ارشادات سے نوازا‘ اسی طرح ان لوگوں تک بھی اپنے پیغامات پہنچائے جو حاضری کی سعادت سے محروم رہے۔ ان پیغامات میں جس طرح اسلام کی دعوت کے لعل وجواہر جڑے ہوئے ہیں‘ اسی طرح ان کی روشن جبیں پر گرانقدر نصائح‘سیاسی نکات اور اصولِ جہاں بانی وحکمرانی کے بیش بہا موتی بھی گندھے ہوئے ہیں۔ عرب کی مخالفت کی وجہ سے صلح حدیبیہ ۶ھ تک دعوت اسلام کا دروازہ بند تھا‘ اس صلح نے دعوت کا دروازہ کھول دیا اور اب وہ وقت آگیا کہ اللہ تعالیٰ کا پیغام ساری انسانیت کو پہنچادیا جائے اور اسلام کے عظیم الشان پروگرام ومنشور کی طرف دنیا کو دعوت دی جائے‘ اب تک جو لوگ دائرہٴ اسلام میں داخل ہوئے تھے‘ انہیں آغوشِ اسلام میں آتے ہی احساس ہوا کہ انسانیت کے لئے جتنے بھی فضائل‘ محاسن اور آداب ہوسکتے ہیں وہ تمام کے تمام اسلام کی ابدی تعلیمات کا جزو لازم ہیں‘ اسلام کی انہی ابدی صدا قتوں سے دیگر اقوام عالم کو روشناس کرانے کے لئے آپ ا نے ضروری سمجھا کہ سلاطینِ عالم تک خطوط کے ذریعے اس پیغام کو پہنچایا جائے‘ تاکہ آپ ا اپنے فریضہ ٴ تبلیغ سے کما حقہ عہدہ برآہوسکیں‘ چنانچہ آپ ا نے صلح حدیبیہ سے واپسی پر ماہ ذی الحجہ ۶ھ میں بادشاہوں کے نام دعوتی خطوط بھیجنے کا ارادہ کیا‘ اس موقع پر آپ ا نے صحابہٴ کرام سے مشورہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: ”اے لوگو! میں تمام عالم کے لئے رحمت بناکر بھیجا گیا ہوں‘ تمام دنیا کو یہ پیام پہنچاؤ‘اللہ تعالیٰ تم پر رحم فرمائے گا‘ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حواریین کی طرح اختلاف نہ کرنا کہ اگر قریب جانے کو کہا تو راضی ہوگئے اور اگر کہیں دور جانے کا حکم دیا تو زمین پر بوجھل ہوکر بیٹھ گئے“۔ (۱) صحابہٴ کرام جو اطاعت وجانثاری کے لئے ہروقت تیار رہتے تھے اور اپنے خلوص‘ تعمیلِ ارشاد اور وفا شعاری کے بڑے سخت سے سخت مراحل میں بھی اعلیٰ درجہ کی کامیابی کی سند اور رضی اللہ عنہ کا طلائی تمغہ حاصل کرچکے تھے‘ انہوں نے اس خدمت کو اپنے لئے سعادت سمجھا اور تعمیلِ ارشاد کے لئے دل وجان سے تیار ہوگئے مگر بایں ہمہ آپ کی خدمت اقدس میں ایک مشورہ بھی پیش کیاکہ یا رسول اللہ! جس خط پر مہر نہ ہو‘ سلاطین اس کو قابل وثوق اور قابل اعتماد نہیں سمجھتے ‘حتی کہ ایسے خط کو پڑھتے تک نہیں۔ آپ ا نے صحابہٴ کرام کے مشورہ سے ایک مہر کندہ کروائی‘ جس کا حلقہ چاندی کا تھا تونگینہ بھی چاندی ہی کا تھا‘ مگر صنعت حبشہ کی تھی اس پر مہر کی شکل میں ”محمد رسول اللہ “ کندہ تھا صورت یہ تھی:
اللہ رسول محمد
سب سے نیچے لفظ محمد‘ سب سے اوپر لفظ اللہ اوردرمیان میں لفظ رسول تھا۔ (۲) چنانچہ آپ ا نے یہ مہر لگاکر سلاطین وامراء کے نام خطوط روانہ فرمائے‘ ان کو دین اسلام قبول کرنے کی دعوت دی اور یہ بھی واضح فرمادیا کہ رعایا کی گمراہی کی ذمہ داری تم پر عائد ہوتی ہے۔ واقدی کے قول کے مطابق آپ ا نے یہ خطوط ۶ھ کے اخیر ماہ ذو الحجہ میں صلح حدیبیہ کے بعد روانہ کئے اور بعض کے نزدیک ۷ھ میں روانہ کئے گئے۔ ممکن ہے کہ آپ ا نے سلاطین عالم کے نام یہ خطوط بھیجنے کا ارادہ تو ۶ھ کے آخر میں فرمایا ہو اور پھر ۷ھ میں خطوط روانہ کئے ہوں۔ (۳) بہر حال حدیبیہ کے بعد اور فتح مکہ سے پہلے یہ خطوط روانہ کئے گئے۔ (۴) مکتوبات نبوی ا میں جن لوگوں کو مخاطب کیا گیا ہے‘ ان میں چار مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے لوگ ہیں: ۱:- مشرکین عرب۲:- عیسائی۳:- یہودی اور۴:- رزرتشی (مجوسی)۔ آپ ا نے ہرقل اور مقوقس کے نام جو خطوط لکھے‘ ان میں آپ ا نے اپنے نام کے ساتھ خصوصیت کے ساتھ عبد اللہ (خدا کا بندہ) لکھا‘ جس سے مخاطب کے عقیدے کی نہایت لطیف پیرائے میں تردید کردی گئی ہے کہ انبیاء ومرسلین خدا کی اولاد نہیں‘ بلکہ مخلوق ہوتے ہیں۔ فارس خسر وپرویز کے نام جو نامہٴ مبارک ارسال کیا گیا‘ اس میں عقیدہٴ توحید کو خاص طور پر اجاگر کیا گیا‘ کیونکہ فارس میں دو خداؤں کا عقیدہ موجود تھا‘ اس کے بعد اسلام کے عالمی مذہب ہونے اور آپ ا کے تمام اقوام کی جانب مبعوث ہونے کا صاف لفظوں میں اظہار کیا گیا۔ یہود کے نام خط میں تورات کے حوالے دے کر اپنی نبوت کا اثبات کیا گیا اور مشرکینِ عرب کے نامہٴ مبارک میں توحید خدا پر زور دے کر غیر خدا کی عبادت سے روکا گیا۔ قیصر روم (جو کہ مذہباً عیسائی تھا) نے آپ ا کے دعوتی خط کے بعد احوال کا جائزہ لے کر آپ ا کی نبوت ورسالت کا اقرار کیا‘ مگر اسلام قبول نہ کیا۔ اسی طرح عزیز مصر مقوقس نے بھی (جوکہ مذہبا نصرانی تھا) آپ اکی نبوت ورسالت کا اعتراف کیا‘ مگر حلقہٴ اسلام میں داخل نہ ہوا‘ نجاشی شاہ حبشہ (جوکہ عیسائی تھا) حلقہ بگوش اسلام ہوا۔ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ا نے ایک خط اہل سندھ کی جانب بھی ارسال فرمایا تھا جو نتیجہ خیز ثابت ہوا اور سندھ کے کچھ خوش قسمت حضرات حلقہ بگوش اسلام ہوکر دربار رسالت مآب امیں حاضر ہوئے۔ (۵) آپ ا نے ہمسایہ ممالک کے حکمرانوں اور عرب کے قبائلی سرداروں کے نام جو خطوط تحریر فرمائے ہیں‘ ان کے مطالعہ سے واضح ہوتا ہے کہ آپ ا نے دنیا میں کس طرح کا ذہنی ‘ فکری اور عملی انقلاب برپا کیا؟ اور انسانیت کے لئے کیسے کیسے زریں اصول وضع فرمائے؟ تمدن اور معاشرت کو کن راہوں پر ڈالا؟ اور انسانیت کے فطری تقاضوں کی کس حد تک تکمیل فرمائی؟۔ کسی شخصیت کا مطالعہ اس کے خطوط کی روشنی میں بہترین مطالعہ قرار دیا گیا ہے۔ خطوط کے ذریعے مکتوب نگار کی سیرت‘ شخصیت‘ روز مرہ پیش آنے والے حالات وواقعات‘ معاشرتی وسیاسی تغیرات اور اس عہد کے معاشرتی وسیاسی اور تاریخی عوامل با آسانی معلوم ہوجاتے ہیں‘ نیز کسی شخص کے انفرادی واجتماعی حالات معلوم کرنے کے لئے اس سے بہتر کوئی ذریعہ نہیں ہوسکتا‘ کسی مفکر کا قول بھی ہے کہ خطوط انسانی زندگی کے آئینہ دار ہوتے ہیں۔ آپ انے اپنی زندگی میں بڑے بڑے بادشاہوں‘ قبائل عرب کے سرداروں اور گورنروں کے نام جو خطوط لکھے ‘ وہ کتب حدیث میں محفوظ ہیں۔ ان کی تعداد تین سو کے قریب ہے‘ ان میں سے ۱۳۹ خطوط ایسے ہیں جن کا اصل متن محفوظ ہے اور ۸۶ خطوط وہ ہیں جن کا صرف مفہوم کتب میں ذکر کیا گیا ہے۔ (۶) آپ ا کے مکاتیب کو سب سے پہلے حضرت عمرو بن حزم انصاری نے مرتب کیا تھا‘ انہوں نے آپ ا کے ۲۱ مکاتیب گرامی جمع کئے تھے‘ ابن طولون نے بھی اپنی کتاب ”مفاکہة الخلان فی حوادث الزمان“ میں مکاتیب پر لمبا چوڑا نوٹ لکھا ہے۔ ڈاکٹر حمید اللہ نے ” الوثائق السیاسیہ“ کے نام سے بہت جامع کام کیا ہے‘ جس کا اردو ترجمہ ” رسول اکرم ا کی سیاسی زندگی“ کے نام سے دستیاب ہے۔ اس موضوع پر اردو میں اب تک جنہوں نے سب سے زیادہ قابل قدر کام کیا ہے‘ وہ مولانا سید محبوب رضوی صاحب ہیں‘ موصوف نے اپنی کتاب ”مکتوبات نبوی ا“ میں آقائے نامدار ا کے تین سو کے قریب مکاتیب جمع کردئے ہیں اور بہت تحقیقی کام کیا ہے۔ اس کے علاوہ مولانا حفظ الرحمن صاحب نے ”بلاغ مبین“ میں آپ ا کے مکاتیب کو جمع کیا ہے اور صاحبزادہ عبد المنعم خان نے ”رسالات محمدیہ“ میں مکتوبات نبوی اکی کافی تعداد جمع کردی ہے۔ گذشتہ دوصدیوں میں آپ ا کے چھ مکتوبات اپنی اصلی حالت میں دستیاب ہوچکے ہیں‘ یہ مکاتیب نجاشی شاہ حبشہ‘ منذر بن ساوی گورنر بحرین‘ قیصر روم ہرقل ‘ شاہ مصر واسکندریہ مقوقس‘ شہنشاہ ایران خسرو پرویز کسریٰ‘ شاہ عمان جیفر وعبدان کے نام ہیں اور انہیں مولانا عبد العزیز محمدی صاحب ڈیرہ اسماعیل خان نے ایک خوبصورت چارٹ کی صورت میں شائع کیا ہے۔ اسلام کو دنیا کے سامنے پیش کرنے کا سب سے بہتر اور مؤثر طریقہ وہی ہے جو آپ ا نے اختیار فرمایا‘ مکتوبات نبوی امیں اسی طریقہ کو پیش کیا گیا ہے‘ آپ ا کے ان خطوط سے جو بات نمایاں طور پر سمجھ میں آتی ہے‘ وہ یہی ہے کہ اسلام کو غیر مسلموں کے سامنے کس انداز سے پیش کرنا چاہئے؟ اور مسلمانوں کو غیر مسلموں سے تعلقات ومعاملات میں کن امور کا لحاظ رکھنا چاہئے؟ مکتوبات نبوی ا کے ایک ایک لفظ سے مخاطب کے لئے ہمدردی وخیر اندیشی کے جذبات ٹپکتے ہیں‘ سرور عالم ا کے خطوط میں طوالت ‘ تکلف وتصنع اور بیان کی شوخی کی بجائے لطافت‘ انشأ پردازی‘ سادگی‘ حقیقت پسندی اور ایجاز واختصار کا پہلو نمایاں ہے‘ ان میں پیغمبرانہ امانت وصداقت کے انتہائی عزم ویقین کے ساتھ حق کی دعوت ہے‘ ان خطوط میں تبلیغی جذبے کی آبیاری کا سامان بھی ہے اور تزکیہٴ باطن واصلاح نفس کے لئے رہنمائی بھی۔ اصول دین کی تبلیغ بھی ہے اور اسلام کے احکام ومصالح اور تشریعی مسائل کا ذکر بھی۔ آپ انے شاہانِ عالم کے نام جو خطوط ارسال فرمائے ہیں‘ یہ اس امر کی واضح دلیل ہے کہ آپ اکی نبوت ورسالت فقط جزیرہٴ عرب کے امیین کے ساتھ مخصوص نہیں تھی‘ بلکہ آپ اکی رسالت عرب وعجم‘ جن وانس‘ یہود ونصاری‘ مشرکین اور مجوس اور پوری دنیا کے سب جنوں‘ انسانوں کے لئے ہے۔
حوالہ جات
۱- کاندھلوی ‘ ادریس‘ مولانا‘ سیرت المصطفی:ج:۲‘ص:۴۰۹۔ ۲- طبری‘ ابن جریر‘ تاریخ الامم والملوک: ج:۳‘ ص:۸۴۔ابن سعد‘ محمد‘الطبقات الکبری بیروت‘ دارصادر ج:۱‘ صں۴۷۵‘ زرقانی‘ محمد بن عبد الباقی‘ شرح مواہب لدنیہ‘ مصر‘ مطبع ازہریہ‘ ج:۳‘ص:۳۳۴۔ ۳- عبد الحق محدث دہلوی شیخ‘ مدارج النبوت‘ ج:۲‘ص:۲۹۴۔ ۴- ابن کثیر‘ اسماعیل بن عمر‘ الہدایہ والنہایہ‘ ج:۴‘ص:۲۶۲۔ ۵-رضوی‘ محبوب‘ مولانا‘ مکتوبات نبوی‘ طبع پاکستان‘ ص:۴۲۔ ۶- رضوی‘ محبوب‘ مولانا مکتوبات نبوی‘ طبع پاکستان‘ ص:۳۰۵۔

Comments

Popular posts from this blog

اللہ تعالیٰ کے حقوق

بسم اللہ الرحمن الرحیم اللہ تعالیٰ کے حقوق اللہ تعالیٰ کا حق تمام حقوق سے زیادہ ضروری ہے اور سب سے اہم ہے۔کیونکہ وہ اس کائنات کا خالق و مالک اور تمام تر امور کی تدبیر کرنے والا ہے۔وہ زندہ جاوید ہستی ہے جو تمام کائنات کا نطام سنبھالے ہوئے ہے،اس نے ہر چیز کو پیدا کیا اور اپنی حکمت بالغہ سے اس کا اندازہ کیا۔انسان کو اشرف المخلوقات بنایا ،پھر انسان کو اپنے احسانات یاد کرائے کہ اے انسان !تجھ پر اس ذات کا حق ہے جس نے نعمتوں کے ساتھ تیری پرورش کی۔تو اپنی ماں کے پیٹ میں تین طرح کے اندھیروں میں تھا۔جہاں مخلوقات میں کوئی بھی تجھے غذا یا ایسی اشیاء نہیں پہنچا سکتا تھا جو تیری افزائش اور زندگی کو قائم رکھنے والی ہوں۔اس نے ماں کی چھاتیوں میں وافر دودھ اتارا،تجھے اس کی راہ دکھلائی اور تیرے والدین کو تیرا محسن بنا دیا۔تیری امداد کی اور تجھے کامیاب کیا۔ارشاد باری تعالیٰ ہے: وَٱللَّهُ أَخْرَجَكُم مِّنۢ بُطُونِ أُمَّهَٰتِكُمْ لَا تَعْلَمُونَ شَيْا وَجَعَلَ لَكُمُ ٱلسَّمْعَ وَٱلْأَبْصَٰرَ وَٱلْأَفْدَةَ ۙ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ ﴿78﴾ ترجمہ: اور اللہ ہی نے تم کو تمہاری ماؤں کے شکم سے پیدا کیا کہ...

یہودی پروٹوکولز

Online Read یہودی پروٹوکولز ============================================== Online Read E Book یہودی پروٹوکولز ============================================== Download Free یہودی پروٹوکولز ---------------------------------------------------- Download Free یہودی پروٹوکولز ----------------------------------------------------

Kaghazee Qiyamat mazhar kaleem M.A

Download 1 Download 2

جمع عثمانی رِوایات کے آئینے میں

نبی مکرمﷺ کی حدیث مبارکہ ’’خَیْرُ النَّاسِ قَرْنِيْ ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَھُمْ ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَھُمْ‘‘۔(صحیح البخاري: ۲۶۵۲) پر جب نظر پڑتی ہے تو سر احسان و نیازمندی کے ملے جلے تاثر ات سے جھک جاتا ہے کہ واقعتا آپﷺ، صحابہ رضی اللہ عنہم اور تابعین رحمہم اللہ کا زمانہ خیر القرون تھا، کیونکہ اس میں بنی نوع اِنسان کی راہ روی اور اسلام کی سربلندی کے لیے وہ محنتیں اور کوششیں ہوئی ہیں کہ جس کی مثال آئندہ جمیع قرون میں پیش کرنا مشکل ہے۔ یقینا وہ لوگ اس قابل تھے کہ اُنہیں یہ ذمہ داری سونپی جاتی کہ وہ دینِ الٰہی اور شرع اللہ کو اپنی مکمل تشریحات کے ساتھ آئندہ نسلوں تک منتقل کریں، بلا شبہ وہ طائفہ فائزہ اپنے اس مقصد میں بامراد ہوا ہے۔ان جملہ ذمہ داریوں میں سے اَہم ترین ذمہ داری یہ تھی کہ ہدایت سماوی کے آخری ربانی صحیفہ کو محفوظ اور غیر متبدل شکل میں ہم تک پہنچایا جائے۔ ہمارا یہ قطعی ایمان ہے کہ وہ پیام اَیزدی آج اپنی سو فیصد اَصلی اور حقیقی شکل میں ہمارے درمیان موجود ہے۔ الحمد ﷲ علی ذلک۔اِس سلسلہ میں خیرالقرون میں جو سب سے اَہم کام ہوا ہے وہ سیدنا عثمان ذوالنورین رضی ال...

گستاخ رسول کی سزااورحکومت وقت کی ذمہ داری

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ: ”الہدیٰ انٹرنیشنل“ ایک دینی ادارہ کہلاتا ہے، کیا اس ادارے والے صحیح المسلک اور متبع سنت ہیں یا نہیں ؟یہاں تعلیم حاصل کرنے والی چند خواتین جوکہ قرآن کریم کی تجوید درست کرنے یا علم دین حاصل کرنے کی طلب میں ان مدارس میں گئیں‘ لیکن وہاں چند ایسے مسائل سامنے آئے کہ عجیب تذبذب اور پریشانی کا شکار ہوگئیں‘ آپ سے درخواست ہے کہ کافی شافی اور تفصیلی جواب عنایت فرمایئے اور امت مسلمہ کے تذبذب کو دور فرمایئے اور گمراہی سے بچایئے ۔ اسی طرح پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ایک شہر میں لڑکیوں کا ایک مدرسہ ہے‘ جس کی صدر مدرسہ یا منتظمہ ایک خاتون ہیں ‘یہ خاتون غیر شادی شدہ ہیں۔ نیز یہ جامعہ‘ صرف بنات کا ہے۔ یہاں کا سارا نظام موصوفہ یا یہیں کی تعلیم یافتہ چند خواتین سنبھالتی ہیں‘ یہ بھی غیر شادی شدہ ہیں۔ مقصد یہ ہے کہ یہاں کی انتظامیہ میں کسی مرد کاکوئی عمل دخل نہیں ہے اور جس طرح یہ تمام خواتین غیر شادی شدہ ہیں۔ اسی طرح یہاں کی تمام طالبات بھی غیر شادی شدہ ہیں۔ اگر کسی طالبہ کے بارے میں یہ علم ہوجائے کہ یہ شادی شدہ ہے تو اسے خارج کردیا جاتاہے او...

قرآن حکیم کے نازل ہونے کی کیا غرض ہے

سورہ آلِ عمران هَـٰذَا بَيَانٌ لِّلنَّاسِ وَهُدًى وَمَوْعِظَةٌ لِّلْمُتَّقِينَ ﴿١٣٨﴾ یہ (قرآن) لوگوں کے لیے بیان صریح اور اہلِ تقویٰ کے لیے ہدایت اور نصیحت ہے۔ سورہ المآئدۃ يَا أَهْلَ الْكِتَابِ قَدْ جَاءَكُمْ رَسُولُنَا يُبَيِّنُ لَكُمْ كَثِيرًا مِّمَّا كُنتُمْ تُخْفُونَ مِنَ الْكِتَابِ وَيَعْفُو عَن كَثِيرٍ ۚ قَدْ جَاءَكُم مِّنَ اللَّـهِ نُورٌ وَكِتَابٌ مُّبِينٌ ﴿١٥﴾هْدِي بِهِ اللَّـهُ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَهُ سُبُلَ السَّلَامِ وَيُخْرِجُهُم مِّنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ بِإِذْنِهِ وَيَهْدِيهِمْ إِلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ ﴿١٦﴾  اے اہل کتاب! تمہارے پاس ہمارے پیغمبر (آخرالزماں) آ گئے ہیں کہ جو کچھ تم کتاب (الہٰی) میں سے چھپاتے تھے وہ اس میں سے بہت کچھ تمہیں کھول کھول کر بتا دیتے ہیں اور تمہارے بہت سے قصور معاف کر دیتے ہیں بےشک تمہارے پاس خدا کی طرف سے نور اور روشن کتاب آ چکی ہے۔جس سے خدا اپنی رضا پر چلنے والوں کو نجات کے رستے دکھاتا ہے اور اپنے حکم سے اندھیرے میں سے نکال کر روشنی کی طرف لے جاتا اور ان کو سیدھے رستہ پر چلاتا ہے۔ وَكَتَبْنَا عَلَيْه...

The Case of Hudood Ordinances By Shaykh Mufti Taqi Usmani

Read Online [0.4] Urdu Translation

Yusufzai (Pashtun tribe)

The  Yūsufzai  (also  Youssofzay ,  Yousefzai ,  Yousafzai ,  Esapzey ,  Yousufi , or  Yūsufi ) (Pashto:  يوسفزی ,Persian and Urdu:  یوسف زئی ) is one of the largest Pashtun (Afghans) tribes. The majority of the Yusufzai tribe reside in parts of Western Afghanistan, Khyber Pakhtunkhwa and Provincially Administered Tribal Areas near the Afghan-Pakistan border. They are the predominant population in the districts of Konar, Ningarhar, Mardan District, Dir, Swat,Malakand, Swabi, Buner, Shangla, Haripur District [Khalabat Town Ship and Tarbela] and in Mansehra and Battagram. There is also a Yusufzai clan of Dehwar tribe in the Mastung district of Balochistan who speak Persian with some mixture of Birahvi words. The descendants of Yusuf inhabit Konar, Jalalabad, Swat, Upper Dir, Lower Dir, Malakand Swabi and Mardan...

ان شاءاللہ لکھنے میں غلطی کرنا

بسم اللہ الرحمن الرحیم السلام علیکم ورحمتہ اللہ آ پ لوگوں نے اکثر کتابوں میں لفظ ان شاءاللہ کو اس طرح لکھا ہوا پڑھاہوگا انشاءاللہ اور جب کہ اس طرح لکھنے سے اس کا معنی بدل جاتا ہے۔ لفظ ان شاءاللہ کے اردو میں معنی بنتا ہے اگر اللہ نے چاہا اور جب کہ انشاء عربی میں کسی چیز کو بنانے کو کہتے ہیں اس طرح انشاءاللہ کے معنی بہت غلط بن جاتے ہیں ۔ہم لوگ عربی زبان سے واقفیت نہ رکھنے کی وجہ سے ایسی غلطیاں کر جاتے ہیں اللہ ہمیں معاف فرمائے آمین۔اللہ کا ارشاد ہے کہاِنَّآ اَنْشَاْنٰهُنَّ اِنْشَاۗءً 35۝ۙہم نے ان (کی بیویوں کو) خاص طور پر بنایا ہے۔الواقعہ:۳۵قَالَ اِنَّمَا يَاْتِيْكُمْ بِهِ اللّٰهُ اِنْ شَاۗءَ وَمَآ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِيْنَ 33 ؀جواب دیا کہ اسے بھی اللہ تعالٰی ہی لائے گااگر وہ چاہے اور ہاں تم اسے ہرانے والے نہیں ہو۔ھود:۳۳فَلَمَّا دَخَلُوْا عَلٰي يُوْسُفَ اٰوٰٓى اِلَيْهِ اَبَوَيْهِ وَقَالَ ادْخُلُوْا مِصْرَ اِنْ شَاۗءَ اللّٰهُ اٰمِنِيْنَ 99؀ۭپھر جب (سب کے سب) یوسف کے پاس پہنچے تو اس نے اپنے والدین کو (عزت و احترام کے ساتھ) اپنے پاس جگہ دی اور کہا، ''کہاگر اللہ نے چاہا تو...

خواتین اسلام کو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی نصیحتیں

فرمانِ الہٰی ہے :۔ 1(اے نبی صلی اللہ علیہ و سلم ) مومن عورتوں سے کہہ دیجئے کہ وہ اپنی نظر یں نیچی رکھیں ، اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں ۔ (النور24:آیت31) 2 اپنی زیب وزینت کا اظہار نہ ہونے دیں۔(النور24:آیت31) 3 اپنی اوڑھنیاں اپنے سینوں پر ڈالے رہیں۔(النور24:آیت31) 4 ( غیر محرموں سے) نرم لہجہ میں بات نہ کرو ۔(الاحزاب33:آیت32) 5 نماز کی پابندی کرو، زکوٰۃ کی ادائیگی کرو۔(الاحزاب33:آیت32) 6 اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو۔(الاحزاب33:آیت32) رسول اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا :۔ 1 ایسے راستوں پر نہ چلیں جہاں مردوں کی ریل پیل ہوبلکہ کنارے کنارہ چلتے ہوئے راستہ طے کریں۔(ابوداؤد) 2 غیر محرم مردوں سے تنہائی میں نہ ملیں اس لئے کہ اس وقت تیسرا شیطان ہوتا ہے۔(جو برائی کروانے کی بھرپور کوشش کرتا ہے)۔(ابوداؤد) 3 دیور ، جیٹھ وغیرہ سے بھی تنہائی میں نہ ملیں۔(بخاری) 4 غیر محرم کے ساتھ سفر سے اجتناب کریں۔(بخاری) 5 بازار بد ترین جگہ ہے (بلا ضرورت بازار نہ جائیں)۔(مسلم) 6 خوشبو لگا کر اور باریک لباس پہن کر گھر سے نہ نکلیں اس لئے کہ یہ عریانی اور د...