Skip to main content

شرک کی مذمّت



بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ الحمدللہ الذی لم یتخذ ولداو لم یکن لہ شریک فی الملک ولم یکن لہ ولی من الذل وکبرہ تکبیرا۔ ونشھد ان لاالہ ا لااللہ وحدہ لا شریک لہ ونشھد ان محمداعبدہ ورسولہ صلی اللہ علیہ وعلی اٰلہ واصحابہ وسلم تسلیما کثیرا۔ اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم ط بسم اللہ الرحمن الرحیم بِہٖ۝۰ۭ وَمَنْ يُّشْرِكْ بِاللہِ فَكَاَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَاۗءِ فَتَخْطَفُہُ الطَّيْرُ اَوْ تَہْوِيْ بِہِ الرِّيْحُ فِيْ مَكَانٍ سَحِيْقٍ (الحج:۳۱)
سب تعریف اللہ ہی کے لیے ہے، جو نہ اولاد رکھتا ہے، اور اپنی سلطنت میں کسی کو شریک بھی نہیں کرتا، اور نہ وہ ایسا حقیر ہے، کہ اس کا کوئی حمائتی ہو، تم اس کی بڑائی بیان کرو، اور ہم اس بات کی شہادت دیتے ہیں، کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے، وہ ایک ا کیلا ہے، اس کے ساتھ کوئی شریک نہیں ہے، اور ہم اس بات کی شہادت دیتے ہیں، کہ محمدﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں، اللہ تعالیٰ ان پر اور ان کے اصحابؓ پر بہت بہت درود بھیجے حمدو صلوٰۃ کے بعد عرض ہے ، کہ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں یہ فرما رہاہے، کہ اللہ کے ساتھ شرک کرنے والا گویا آسمان سے گر پڑا، تو اب اسے یا تو پرندے اچک لے جائیں گے یا ہوا کسی دور دراز مقام پر پھینک دے گی۔مطلب یہ ہے، کہ شرک بدترین چیز ہے، جو مشرکوں کو تباہی کے گڑھے میں ڈال دیتی ہے، اس کی مثال اللہ تعالیٰ نے یہ دی ہے کہ جیسے کوئی آسمان سے گر پڑے، تو یا تو اسے پرندے ہی اچک لے جائیں یا ہوا کسی ہلاکت کے دور دراز گڑھے میں پھینک دے۔
حضرت شاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ البلاغ المبین میں فرماتے ہیں: اس آیت کریمہ سے چار باتیں معلوم ہوئیں (۱) اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک ٹھہرانا (۲) آسمان سے گرنا(۳) پرندوں کا اچک لینا(۴) تیز ہوا کا دور جگہ لے جا کرڈال دینا۔
پس اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک ٹھہرانا یہ ہے، کہ جو صفتیں اللہ تعالیٰ کے ساتھ خاص ہیں، جیسے زندہ کرنا مارنا، اولاد بخشنا، روزی دینا ، اور چھپی ہوئی باتوں کو جاننا وغیرہ یہ سب اللہ تعالیٰ ہی کے ساتھ خاص ہیں، ان باتوں کو اللہ تعالیٰ کے علاوہ دوسروں کی طرف نسبت کریں اور یہ سمجھیں کہ یہ کام دوسرابھی کر سکتا ہے شرک کے یہی معنی ہیں، ورنہ کوئی شخص ایسا نہیں ہے، جو یہ کہے کہ اللہ تعالیٰ کا شریک کوئی دوسرا خدا ہے۔
اور آسمان سے گرنے سے یہ مراد ہے، کہ دین توحید آسمان کی طرح ایک ایسی اونچی اور بلند جگہ ہے جہاں پر نبی ﷺ کی سنت کی روشنی چمکتے سورج کی طرح امتیوں کے دل کو روشن کرتی ہے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے آثار روشن ستاروں کی طرح مسلمانوں کو راستہ بتاتے ہیں، جیسا کہ نبی ﷺ فرماتے ہیں۔
اصحابی کالنجوم بایھم اقتدیتم اھتدیتم۔ (مشکوۃ)
میرے صحابہؓ روشن ستاروں کی طرح ہیں، ان میں سے جس کی بھی اتباع کرو گے ہدایت اور راستہ پالوگے۔
پس جس نے دین توحید اسلام کو چھوڑ دیا، تو گویا وہ آسمان جیسے بلند مقام سے گر پڑا، اسی نکتہ (باریکی) کی طرف اشارہ کرنے کے لیے لفظ کانما (گویا) حرف تشبیہ کالا یا گیا، جس سے مضمون کی خوبی اور باریکی اچھی طرح سمجھ میں آجاتی ہے، اور پرندوں کے اچک لے جانے کا مطلب یہ ہے، کہ شیاطین مشرکوں کو اچک لے جانے کے لیے زمین و آسمان کے درمیان اڑتے رہتے ہیں، جیسے چیل، کوّے، ٹڈی وغیرہ کا شکار کرتے ہیں، اسی طرح شیاطین ان مشرکوں کو شکار کرتے رہتے ہیں، مشرکین کی دو قسمیں ہیں، ایک وہ جن پر دنیا میں شرک کا حکم کھلم کھلا لگا سکتے ہیں، دوسرے وہ جن پر آخرت میں شرک کا حکم لگایا جائے گا، پہلی قسم کے مشرکوں کو تخطفہ الطیر کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے، کہ شیطان ان کے اوپر پورا پورا قابو پا چکا ہے، اور دوسری قسم کو تھوی بہ الریح میں بیان کیا گیا ہے، اور وہ ریح(آندھی) نفسانی خواہشات ہیں، جو منافقوں کے لیے ہلاکت کا سبب ہو جاتی ہیں، اور دوسری جگہ منافقین کے بارے میں قرآن مجید کی یہ آیت اتری:
اِنَّ الْمُنٰفِقِيْنَ فِي الدَّرْكِ الْاَسْفَلِ مِنَ النَّارِ۔ (النساء:۱۴۵)
کہ منافقین یقینا جہنم کے سب سے نیچے درجے میں ہوں گے۔
پس اس جگہ سوچنا چاہیے، کہ جب ریح سے خواہشات نفسانی مراد ہیں، تو پھر مکان سحیق (دور جگہ) کیا ہے؟ یعنی اس سے مراد ہے، کہ نفسانی خواہشات ایسی جگہ لے جا کر پٹخ دیتی ہیں، جہاں سے پھر کبھی باہر نہیں نکل سکتا، یہ بات جان لینی چاہیے، کہ ''مکان سحیق'' سے مراد اس جگہ تقلید کا مقام ہے، کہ اس جگہ پہنچ کر انسان راہ راست سے بھٹک جاتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے کفار کی بات قرآن مجید میں نقل کی ہے، کہ جب کافروں سے کہا جاتاہے کہ اللہ و رسول ﷺ کی بات مانو، اور باپ دادا کے رسم و رواج کو چھوڑ دو، تو کہتے ہیں:
اِنَّا وَجَدْنَآ اٰبَاۗءَنَا عَلٰٓي اُمَّۃٍ وَّاِنَّا عَلٰٓي اٰثٰرِہِمْ مُّقْتَدُوْنَ۔ (الزخرف:۲۳)
ہم نے اپنے بزرگوں(باپ دادوں) کو ایک (خاص) طریقہ پر پایا ہے، اور ہم ہمیشہ ان ہی کے نقش قدم پر چلیں گے۔
بڑے گناہوں میں شرک کبیرہ گناہ ہے، اللہ سب گناہوں کو معاف کر دے گا، مگر مشرک کو کبھی معاف نہیں فرمائے گا، مشرکوں کے لیے بڑی بڑی سزائیں ہیں، مرنے کے بعد ہی قبر میں عذاب کے فرشتے ان کو گرزوں سے ماریں گے، جن سے ان کی ہڈیاں ریزہ ریزہ ہو جائیں گی، اور ایسے زہریلے سانپ ، بچھو ان کو کاٹیں اور ڈنگ ماریں گے، کہ وہ اگر ایک مرتبہ زمین پر پھونک مار دیں، تو ان کے زہر کی وجہ سے قیامت تک زمین پر کوئی سبزہ نہ اُگے، ا ور خود قبر بھی ایسی بری طرح دبوچے گی، کہ تمام پسلیاں ٹوٹ کر اِدھر اُدھر نکل جائیں گی اور جہنم کی طرف کھڑکی کھول دی جائے گی، جس سے گرم لو آئے گی، اور قیامت میں دوزخ کی آگ میںہمیشہ جلیں گے، سانپ بچھو کاٹیں گے، اور پیپ ، لہو اور اتنا گرم کھولتا ہوا پانی پینے کو ملے گا، کہ لبوں تک پہنچتے ہی اوپر کا ہونٹ اس قدر سوکھ اور سکڑ جائے گا، کہ ناک اور آنکھیں ڈھک جائیں گی، اور نیچے کا ہونٹ سوج کر سینے اور ناف تک پہنچ جائے گا، زبان جل جائے گی، حلق میں اترتے ہی پھیپھڑے ، معدے اور آنتوں کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے نکال دے گا، اور کھانے کو زقوم (تھوہر) دیا جائے گا، جو کھاتے ہی گلے میں پھنس جائے گا، اسی طرح دوزخ کی آگ میں ہمیشہ جلتے رہیں گے، روئیں گے، شور مچائیں گے، مگر بے فائدہ ہوگا، ان سے کہا جائے گا، کہ دنیا میں تم ایک خدا کو نہیں مانتے تھے، اس لیے یہ سزا مل رہی ہے، اگر ایک خدا کو مانتے ، تو یہ سزا نہ ملتی
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا ہے:
اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِاٰيٰتِنَا سَوْفَ نُصْلِيْہِمْ نَارًا۝۰ۭ كُلَّمَا نَضِجَتْ جُلُوْدُھُمْ بَدَّلْنٰھُمْ جُلُوْدًا غَيْرَھَا لِيَذُوْقُوا الْعَذَابَ۝۰ۭ (نساء:۵۶)
جو لوگ ہمارے احکام سے قطع تعلق کریں گے، ان کو ہم آگ میں ڈالیں گے، جب کبھی ان کی کھالیں جل جائیں گی تو ہم ان پردوسری کھالیں مڑھ دیں گے تاکہ وہ عذاب کا مزہ چکھتے رہیں۔
اَلْقِيَا فِيْ جَہَنَّمَ كُلَّ كَفَّارٍ عَنِيْدٍ۝۲۴ۙ مَّنَّاعٍ لِّــلْخَيْرِ مُعْتَدٍ مُّرِيْبِۨ۝۲۵ۙ الَّذِيْ جَعَلَ مَعَ اللہِ اِلٰـــہًا اٰخَرَ فَاَلْقِيٰہُ فِي الْعَذَابِ الشَّدِيْدِ۔ (ق:۲۴ تا ۲۶)
دونوں جاکر ہر ناشکرے، شریر، بھلائی سے روکنے والے حد سے بڑھنے والے ، ایمان کی باتوں میںشک کرنے والے کودوزخ میں جھونک دو، جو اللہ کے سوائے دوسرا معبود ٹھہرائے، اس کو سخت عذاب میں ڈال دو۔
اِنَّ الْمُجْرِمِيْنَ فِيْ ضَلٰلٍ وَّسُعُرٍ۝۴۷ۘ يَوْمَ يُسْحَبُوْنَ فِي النَّارِ عَلٰي وُجُوْہِہِمْ۝۰ۭ ذُوْقُوْا مَسَّ سَقَرَ۔
ٍُبیشک نافرمان گمراہی میں ہیں اور دہکتی ہوئی آگ میں وہ جھونک دیے جائیں گے، جس دن یہ لوگ اوندھے منہ دوزخ کی آگ میں گھسیٹے جائیں گے تب ان سے کہا جائے گا اب دوزخ کی آگ کا مزہ چکھو۔ (القمر:۴۷۔۴۸)
ثُمَّ اِنَّكُمْ اَيُّہَا الضَّاۗلُّوْنَ الْمُكَذِّبُوْنَ۝۵۱ۙ لَاٰكِلُوْنَ مِنْ شَجَرٍ مِّنْ زَقُّوْمٍ۝۵۲ۙ فَمَالِــــُٔـوْنَ مِنْہَا الْبُطُوْنَ۝۵۳ۚ فَشٰرِبُوْنَ عَلَيْہِ مِنَ الْحَمِيْمِ۝۵۴ۚ فَشٰرِبُوْنَ شُرْبَ الْہِيْمِ۝۵۵ۭ ھٰذَا نُزُلُہُمْ يَوْمَ الدِّيْنِ۝۵۶ۭ
پھر بے شک اے خدا کے اور قیامت کے جھٹلانے والو تھوہر کے درختوں سے ضرور کچھ کھانا پڑے گا، اس سے پیٹ بھرنا پڑے گا، پھر اوپر سے کھولتا ہوا پانی پینا ہوگا، اسی طرح پیو گے، جیسے کہ بیمار پیاسے اونٹ غٹ غٹ پی جاتے ہیں، جزا اور انصاف کے دن ان کی یہ مہمانی ہوگی۔ (الواقعۃ:۵۱ تا ۵۶)
فَالَّذِيْنَ كَفَرُوْا قُطِّعَتْ لَہُمْ ثِيَابٌ مِّنْ نَّارٍ۝۰ۭ يُصَبُّ مِنْ فَوْقِ رُءُوْسِہِمُ الْحَمِيْمُ۝۱۹ۚ يُصْہَرُ بِہٖ مَا فِيْ بُطُوْنِہِمْ وَالْجُلُوْدُ۝۲۰ۭ وَلَہُمْ مَّقَامِعُ مِنْ حَدِيْدٍ۝۲۱ كُلَّمَآ اَرَادُوْٓا اَنْ يَّخْرُجُوْا مِنْہَا مِنْ غَمٍّ اُعِيْدُوْا فِيْہَا۝۰ۤ وَذُوْقُوْا عَذَابَ الْحَرِيْقِ۝۲۲ۧ (الحج:۱۹ تا ۲۲)
نافرمانوں اور منکرین خدا کے لیے آگ کے کپڑے ٹھیک ان کے بدن کے موافق تراشے جائیں گے، ان کے سروں پر کھولتا ہوا پانی ڈالا جائے گا، جس کی گرمی سے آنتیں وغیرہ جو ان کے پیٹ میںہیں اور کھالیں گل جائیں گی، اور ان کے مارنے کے لیے لوہے کے گرز ہوں گے، پھر جب گھٹ کر ان سے نکلنا چاہیں گے، تو پھر اسی میں لوٹا دیے جائیں گے اور ان سے کہا جائے گا، جلنے کے عذاب کا مزہ چکھتے رہو۔
وَاِنَّ لِلطّٰغِيْنَ لَـشَرَّ مَاٰبٍ۝۵۵ۙ جَہَنَّمَ۝۰ۚ يَصْلَوْنَہَا۝۰ۚ فَبِئْسَ الْمِہَادُ۝۵۶ ھٰذَا۝۰ۙ فَلْيَذُوْقُوْہُ حَمِيْمٌ وَّغَسَّاقٌ۝۵۷ۙ وَّاٰخَرُ مِنْ شَكْلِہٖٓ اَزْوَاجٌ۝۵۸ۭ (ص:۵۵ تا ۵۸)
اور شریروں کے لیے بڑا ٹھکانا ہے، لازمی دوزخ میں جا پڑیں گے، وہ بری جگہ ہے، یہ گرم کھولتا ہوا پانی اور پیپ اور اسی صورت کی دوسری چیزیں تیار ہیں، ان کو چکھیں۔
سَاُصْلِيْہِ سَقَرَ۝۲۶ وَمَآ اَدْرٰىكَ مَا سَقَرُ۝۲۷ۭ لَا تُبْقِيْ وَلَا تَذَرُ۝۲۸ۚ لَوَّاحَۃٌ لِّلْبَشَرِ۝۲۹ۚۖ عَلَيْہَا تِسْعَۃَ عَشَرَ۝۳۰ۭ (المدثر:۲۶ تا ۳۰)
اس کافر کو دوزخ میں جھونک دوں گا،تمہیں معلوم بھی ہے دوزخ کیا بلا ہے، وہ کھال کوجلا دے گی، اس پر انیس داروغہ مقرر ہیں۔
یہ سب قرآن مجید کی آیتیں ہیں، جن کا ترجمہ بھی آپ نے پڑھ لیا، اب آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ کافروں اور مشرکوں کے لیے کیسی بڑی بڑی سزائیں ہیں، لہٰذا آپ کسی وقت بھی شرک و کفر کی باتوں کے قریب بھی نہ جائیں خواہ آپ کو کتنا ہی مجبور کیا جائے۔ آخرت کے عذابوں کے مقابلے میں قتل کی تکلیف یا دنیاوی آگ کا عذاب بھی برداشت کرنا پڑے، تو شرک سے بچنے کے لیے اسے برداشت کرنا چاہیے، کیونکہ مشرک کبھی نہ بخشا جائے گا، ہمیش ہمیش کے لیے اس کا ٹھکانا جہنم میں ہوگا، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
اِنَّ اللہَ لَا يَغْفِرُ اَنْ يُّشْرَكَ بِہٖ وَيَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ يَّشَاۗءُ۔ (النساء:۴۸)
خدا شرک کو ہرگز معاف نہیںفرمائے گا، اور اس کے علاوہ جس کو چاہے گا، معاف فرما دے گا۔
دوسری آیت میں فرمایا:
اِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيْمٌ۝۱۳ (لقمان:۱۳)
یقینا شرک بہت بڑا ظلم ہے۔
آدمی کا اشرف المخلوقات ہونا شرک کی تردید کے لیے سب سے بڑی دلیل ہے، نوعیت میں انسان سے بڑھ کر کون سی مخلوق ہے، جس کے سامنے یہ جھکے، اور اللہ تعالیٰ نے شرک کرنے والوں پر جنت حرام کر دی ہے، جیسا کہ سورہ مائدہ میں فرمایا:
اِنَّہٗ مَنْ يُّشْرِكْ بِاللہِ فَقَدْ حَرَّمَ اللہُ عَلَيْہِ الْجَنَّۃَ وَمَاْوٰىہُ النَّارُ۝۰ۭ وَمَا لِلظّٰلِــمِيْنَ مِنْ اَنْصَارٍ۝۷۲
کیونکہ جو شخص اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرے، تو اللہ تعالیٰ جنت کو اس پر حرام کر چکا ، اور اس کا ٹھکانہ دوزخ ہے، اور ظالموں کا یعنی مشرکوں کا کوئی مدد گار نہ ہوگا۔ (المائدہ:۷۲)
معلوم ہوا، کہ شرک ایسی بری چیز ہے، جس سے جنت حرام ہو جاتی ہے، اور دوزخ واجب ہو جاتی ہے اس لیے ہر حال میں شرک سے بچتے رہنا چاہیے، رسول اللہ ﷺ نے حضرت معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو نصیحت فرمائی کہ:
لا تشرک باللہ وان قتلت اوحرقت۔ (احمد۔ مشکوۃ)
اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا، اگرچہ تجھ کو قتل کیا جائے یا جلایا جائے۔
یعنی کتنی ہی سخت مصیبت کیوں نہ ہو، اور ظالم ظلم کر کے شرک کرانا چاہے، اور آپ پر جبر کر کے یہ کہے کہ یا تو شرک کرو، ورنہ ہم تم کو قتل کر دیں گے یا جلا دیں گے، تو قتل ہونا یا جلنا منظور ہو، لیکن شرک کرنا ہرگز منظور نہ ہونا چاہیے، پہلے مسلمانوں پر اس قسم کی مصیبتیں آئیں، اور ان کو زندہ جلایا گیا، مگر انہوں نے اللہ کے ساتھ شرک نہیں کیا، اس سلسلہ میں ہم خندق والوں کا ایک واقعہ سناتے ہیں، جس کا بیان قرآن مجید میں بھی ہے اورحدیثوں میں بھی آیا ہے، اسے پڑھ کر اور سن کر ایمان کو مضبوط کرو۔
مسند احمد میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کہ اگلے زمانے میں ایک بادشاہ تھا، اس کے ہاں ایک جادوگر تھا، جب جادوگر بوڑھا ہوا،تو اس نے بادشاہ سے کہا، کہ اب میں بوڑھا ہوگیا ہوں، اور میری موت کا وقت قریب آرہا ہے، مجھے کوئی بچہ سونپ دو، میں اس کو جادو سکھا دوں، چنانچہ ایک ذہین لڑکے کو وہ تعلیم دینے لگا، لڑکا اس کے پاس جاتا تو راستے میںایک راہب کا گھر پڑتا، جہاں وہ عبادت میں کبھی وعظ و نصیحت میں مشغول ہوتا، یہ بھی کھڑا ہو جاتا، اور اس کے طریقہ عبادت کودیکھتا، اور وعظ سنتا آتے جاتے، یہاں رک جایاکرتا تھا، جادوگر بھی مارتا، اور ماں باپ بھی، کیونکہ وہاں بھی دیر میںپہنچتا ، اور یہاں بھی دیر میں آتا، ایک دن اس بچے نے راہب کے سامنے یہ شکایت بیان کی، راہب نے کہا جب جادوگر تم سے پوچھے کیوں دیر لگ گئی، تو کہنا کہ گھر والوں نے روک لیا تھا، اور اگر گھر والے بگڑیں، تو کہنا، کہ جادوگر نے روک لیا تھا۔
یوں ہی ایک زمانہ گذر گیا، کہ ایک طرف تو وہ جادو سیکھتا تھا، اور دوسری طرف کلام اللہ اور اللہ کا دین سیکھتا تھا، ایک دن یہ دیکھتا ہے، کہ راستے میں ایک زبردست ہیبت ناک سانپ پڑا ہے، لوگوں کی آمد و رفت بند کر رکھی ہے، ادھر والے اوھر، اور اوھر والے ادھر ہیں، اور سب لوگ اوھر ادھر پریشان کھڑے ہیں، اس نے اپنے دل میں سوچا، کہ آج موقع ہے، کہ میں امتحان کر لوں، کہ راہب کا دین خدا کو پسند ہے یا کہ جادوگر کا اس نے ایک پتھر اٹھایا، اور یہ کہہ کر اس پر پھینکا، کہ خدایا تیرے نزدیک راہب کا دین اور اس کی تعلیم جادوگر کی تعلیم سے زیادہ محبوب ہے تو تواس جانور کو اس پتھر سے ہلاک کر دے، تا کہ لوگوں کو اس بلا سے نجات ملے، پتھر کے لگتے ہی وہ جانور مرگیا، اور لوگوں کا آنا جانا شروع ہوگیا، پھر جاکر راہب کو خبر دی ، اس نے کہا پیارے بچے تو مجھ سے افضل ہے، اب خدا کی طرف سے تیری آزمائش ہوگی، اگر ایسا ہو، تو میری خبر نہ کرنا۔
اب اس بچے کے پاس حاجت مند لوگوں کا تانتا لگ گیا، اور اس کی دعا سے مادرزاد اندھے، کوڑھی ، جذامی اور ہر قسم کے بیمار اچھے ہونے لگے، بادشاہ کے ایک نابینا وزیر کے کان میں یہ آواز پڑی، وہ بڑے تحفے تحائف لے کرحاضر ہوا، اور کہنے لگا، اگر تو مجھے شفا دیدے، تو یہ سب میںتجھے دے دوں گا، اس نے کہا، شفا میرے ہاتھ میں نہیں ہے، میں کسی کو شفا نہیں دے سکتا، شفا دینے والا تو اللہ وحدہ لاشریک لہ ہے، اگر تو اس پر ایمان لانے کا وعدہ کرے، تو میں اس سے دعا کروں، اس نے اقرار کیا، بچے نے اس کے لیے دعا کی اللہ نے اسے شفا دے دی۔
وہ بادشاہ کے دربارمیں آیا، اور جس طرح اندھا ہونے سے پہلے کام کرتا تھا کرنے لگا، اور آنکھیں بالکل روشن تھیں، بادشاہ نے متعجب ہو کر پوچھا ، کہ تجھے آنکھیں کس نے دیں؟ اس نے کہا''میرے رب نے'' بادشاہ نے کہا ''ہاں'' یعنی میں نے دی ہیں، وزیر نے کہا''نہیں نہیں میرا اور تیرا رب اللہ ہے''بادشاہ نے کہا''کیا تیرا رب میرے سوا کوئی اور ہے'' وزیر نے کہا''ہاں میرا اورتیر ا رب اللہ عزوجل ہے'' اب بادشاہ نے اسے مار پیٹ شروع کر دی اور طرح طرح کی تکلیفیں اور ایذائیں دینے لگا ، اور پوچھنے لگا، کہ تجھے یہ تعلیم کس نے دی ہے، آخر اس نے بتا دیا، کہ میںنے اس بچے کے ہاتھ پر اسلام قبول کر لیا ہے، اس نے اسے بلوایا اور کہا اب تو تم جادو میں کامل ہو گئے کہ اندھوںکودیکھتا، اور بیماروں کو تندرست کرنے لگ گئے ہو۔
اس نے کہا، غلط ہے، نہ میں کسی کو شفا دے سکتا ہوں، نہ جادو گر ہوں، شفا اللہ کے ہاتھ میں ہے،وہ کہنے لگا اللہ تو میں ہی ہوں، اس نے کہا ہر گز نہیں، بادشاہ نے کہا، پھر کیا تو میرے سوا کسی اور کو رب مانتا ہے، تو اس نے کہا،ہاں میرا رب اور تیرا رب اللہ تعالیٰ ہے، اس نے اب اس بچے کو طرح طرح کی سزائیں دینی شروع کیں، یہاں تک کہ راہب کا پتہ لگا لیا، اور راہب کو بلا کر کہا، کہ تو اسلام کو چھوڑ دے، اس نے انکار کیا، تو بادشاہ نے اسے آرے سے چروادیا، پھر اس نوجوان سے کہا، کہ تو بھی دین اسلام سے پھر جا، اس نے بھی انکار کیا، تو بادشاہ نے اپنے سپاہیوں کوحکم دیا، کہ اسے فلاں پہاڑ کی بلند چوٹی پر لے جاؤ، وہاں پہنچ کر بھی اگر دین سے باز آجائے تو اچھا ہے، ورنہ وہیں سے اسے لڑھکا دیں، چنا نچہ سپاہی اسے پہاڑ کی چوٹی پر لے گئے جب اسے دھکا دینا چاہا،تو اس نے اللہ سے دعا کی اللھم اکفنیھم بماشئت اللہ جس طرح توچاہے مجھے اس سے نجات دے، اس دعا کے ساتھ ہی پہاڑ ہلا، اور سب سپاہی لڑھک گئے، صرف وہ بچہ ہی بچا رہا، وہاں سے وہ بادشاہ کے پاس آگیا، بادشاہ نے کہا یہ کیا ہوا ، میرے سپاہی سب کہاں ہیں، بچے نے کہا خدا نے مجھے بچا لیا، وہ سب ہلاک ہوگئے۔
بادشاہ نے اپنے دوسرے سپاہیوں کو حکم دیا، کہ اسے کشتی میں بٹھا کربیچو بیچ سمندر میں لے جا کرڈبو آؤ، یہ لوگ اسے لے کر چلے بیچ سمندر کے پہنچ کر جب اسے پھینکنا چاہا، تو اس نے پھر وہی دعا کی، کہ بارالٰہا! جس طرح چاہ مجھے ان سے بچا، دعا کے ساتھ ہی موج اٹھی ، اور وہ سارے کے سارے سپاہی سمندر میں ڈوب گئے، صرف وہ بچہ ہی باقی بچا، وہ پھر بادشاہ کے پاس آیا اور کہا، میرے رب نے مجھے ان سے بھی بچا لیا، اور اے بادشاہ تو چاہے جتنی تدبیریں کرڈال، لیکن تو مجھے ہلاک نہیں کرسکتا، ہاں ایک صورت ہے، جس طرح میں کہوں اگر اس طرح تو کرے، تو البتہ میری جان نکل جائے گی، بادشاہ نے کہا، اچھا بتا کیاکروں، اس نے کہا تمام لوگوں کو ایک میدان میں جمع کرو، پھر کھجور کے تنے پر مجھے سولی چڑھا، اور میرے تیر کو میری کمان پر چڑھا اور بسم اللہ رب ھذا الغلام، یعنی اس اللہ کے نام سے جو اس بچے کا رب ہے، کہہ کر تیر میری طرف پھینک وہ مجھے لگے گا،اور میں اس سے مروں گا، چنانچہ بادشاہ نے یہ کیا تیر بچے کی کنپٹی میں لگا، اس نے اپنا ہاتھ اس جگہ رکھ لیا، چاروں طرف سے یہ آوازیں اٹھنے لگیں، کہ ہم سب اس بچے کے رب پر ایمان لائے۔
یہ حال دیکھ کر بادشاہ کے ساتھی بڑے گھبرائے، اور بادشاہ سے کہنے لگے، اس لڑکے کی ترکیب ہم تو سمجھے ہی نہیں، دیکھیے اس کا اثر کیا پڑا، کہ یہ تمام لوگ اس کے مذہب میں داخل ہوگئے۔ ہم نے تو اس لیے قتل کیا تھا کہ کہیں یہ مذہب پھیل نہ جائے لیکن جو ڈر تھا وہ تو سامنے ہی آگیا اور سب مسلمان ہو گئے۔ بادشاہ نے کہا اچھا یہ کرو کہ تمام محلوں اور راستوں میںخندقیں کھدوادو، ان میں لکڑیاں بھرو، اور ان میں آگ لگا دو، جو اس دین سے پھر جائے اسے چھوڑ دو، اور جو نہ مانے اسے آگ میں ڈال دو، ان مسلمانوں نے صبرو شکیب اور سہار کے ساتھ آگ میں جلنا منظور کر لیا، اور اس میں کود کود کر گرنے لگے، البتہ ایک عورت جس کی گود میں دودھ پیتا چھوٹا سا بچہ تھا، وہ ذراجھجکی، تو اس بچہ کو خدا نے بولنے کی طاقت دی، اس نے کہا، اماں کیاکر رہی ہو، تم توحق پر ہو، صبر کرو، اور اس میں کود پڑو، یہ حدیث مسند احمد میں بھی ہے، اور مسلم میں بھی، اور بعض کتب احادیث میں بھی ہے، قرآن مجید کے سورہ بروج میں اس واقعہ کو اس طرح بیان کیا گیا ہے:
وَالسَّمَاۗءِ ذَاتِ الْبُرُوْج ۝۱ۙ وَالْيَوْمِ الْمَوْعُوْدِ۝۲ۙ وَشَاہِدٍ وَّمَشْہُوْدٍ۝۳ۭ قُتِلَ اَصْحٰبُ الْاُخْدُوْدِ۝۴ۙ النَّارِ ذَاتِ الْوَقُوْدِ۝۵ۙ اِذْ ہُمْ عَلَيْہَا قُعُوْدٌ۝۶ۙ وَّہُمْ عَلٰي مَا يَفْعَلُوْنَ بِالْمُؤْمِنِيْنَ شُہُوْدٌ۝۷ۭ وَمَا نَقَمُوْا مِنْہُمْ اِلَّآ اَنْ يُّؤْمِنُوْا بِاللہِ الْعَزِيْزِ الْحَمِيْدِ۝۸ۙ الَّذِيْ لَہٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ۝۰ۭ وَاللہُ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ شَہِيْدٌ۝۹ۭ اِنَّ الَّذِيْنَ فَتَنُوا الْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ ثُمَّ لَمْ يَتُوْبُوْا فَلَہُمْ عَذَابُ جَہَنَّمَ وَلَہُمْ عَذَابُ الْحَرِيْقِ۝۱۰ۭ اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَہُمْ جَنّٰتٌ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِہَا الْاَنْہٰرُ۝۰ۥۭ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْكَبِيْرُ۝۱۱ۭ (البروج:۱تا۱۱)
برجوں والے آسمان کی قسم، اور وعدہ کیے گئے دن کی قسم حاضر ہونے والے ا ور حاضر کیے گئے کی قسم کہ خندق والے ہلاک کیے گئے، وہ آگ ایندھن اور شعلہ والی وہ لوگ اس کے آس پاس بیٹھے مسلمانوں کے ساتھ جو کچھ کررہے تھے، اپنے سامنے دیکھ رہے تھے ان مسلمانوں کے کسی اور گناہ کا یہ بدلہ نہ تھا، سوائے اس کے کہ وہ اللہ تعالیٰ غالب سزاوار حمد کی ذات پر ایمان لائے تھے، جس کے لیے آسمان و زمین کا ملک ہے اور جو خدا ہر چیز سے خوب واقف ہے بے شک جن لوگوں نے مسلمان مردوں اور عورتوں کو ستایا پھر توبہ بھی نہیں کی ان کے لیے جہنم کے عذاب ہیں، بے شک ایمان قبول کرنے والوں اور مطابق سنت کام کرنے والوں کے لیے وہ باغات ہیں، جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، اور وہی بڑی کامیابی ہے۔
اللہ تعالیٰ ہم کو اور آپ کو امن و عافیت سے رکھے، اور ہر فتنہ و فساد سے بچائے رکھے، اور مرتے دم تک دین حق پر قائم رکھے، آمین ثم آمین۔
بارک اللہ لنا ولکم فی القراٰن العظیم
ونفعنا وایاکم بالایات و الذکر الحکیمط

Comments

Popular posts from this blog

Yusufzai (Pashtun tribe)

The  Yūsufzai  (also  Youssofzay ,  Yousefzai ,  Yousafzai ,  Esapzey ,  Yousufi , or  Yūsufi ) (Pashto:  يوسفزی ,Persian and Urdu:  یوسف زئی ) is one of the largest Pashtun (Afghans) tribes. The majority of the Yusufzai tribe reside in parts of Western Afghanistan, Khyber Pakhtunkhwa and Provincially Administered Tribal Areas near the Afghan-Pakistan border. They are the predominant population in the districts of Konar, Ningarhar, Mardan District, Dir, Swat,Malakand, Swabi, Buner, Shangla, Haripur District [Khalabat Town Ship and Tarbela] and in Mansehra and Battagram. There is also a Yusufzai clan of Dehwar tribe in the Mastung district of Balochistan who speak Persian with some mixture of Birahvi words. The descendants of Yusuf inhabit Konar, Jalalabad, Swat, Upper Dir, Lower Dir, Malakand Swabi and Mardan...

عہد عثمان میں تدوین قرآن

امام بخاری نے صحیح بخاری میں اپنی سند کے ساتھ ابن شھاب سے روایت کیا ہے کہ انس بن مالک نے انہیں بتایا کہ حذیفہ بن یمان حضرت عثمان کی خدمت میں حاضر ہوئے موسوف نے رمینیہ اور آذربیجان کی جنگ میں شرکت کی تھی وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ لوگ تلاوت قرآن میں بہت اختلاف کرنے لگے تھے ۔ حذیفہ نے حضرت عثمان سے کہا امیرالمؤمنین ! قبل اس کے کہ یہ امت کتاب الٰہی میں یہودیوں اور نصاریٰ کی طرح اکتلاف کرنے لگے اس کو سنبھال لیجئے یہ سن کر حضرت عثمان نے حجرت حفصہ کو کہلا بھیجا کہ آپ کے پاس قرآن کے جو صحیفے پڑے ہیں وہ ہمارے پاس بھیج دیجئے تاکہ ہم ان کو کتابی صورت میں جمع کریں پھر ہم ان کو واپس کردیں گے ۔محترمہ موصوفہ نے وہ صحیفے ارسال کردئیے۔حضرت عثمانرضی اللہ تعالٰی عنہ نے (۱) زید بن ثابترضی اللہ تعالٰی عنہ،(۲) عبداللہ بن زبیررضی اللہ تعالٰی عنہ،(۳)سعد بن العاصرضی اللہ تعالٰی عنہ،(۴)عبدالرحمان بن حارث بن ہشامرضی اللہ تعالٰی عنہکو مومورکیا کہ وہ صحیفوں سے نقل کرکے قرآن کریم کو کتابی صورت میں جمع کردیں۔ حضرت عثمانرضی اللہ تعالٰی عنہ نے تینوں قریشی صحابہ(حضرت زید بن ثابت کے علاوہ باقی تینوں صحابہ سے...

کتاب اللہ کی کون سی آیت سب سے عظیم ہے؟

آیۃ الکرسی کی فضیلت !!! آیۃ الکرسی کی کیااھمیت ہے ؟ اور کیا اس آیت کی عظمت پرکوئ دلیل وارد ہے ؟ الحمد للہ ابن کثیررحمہ اللہ تعالی سورۃ البقرۃ کی آیۃ الکرسی کی تفسیرکرتےہو‏ۓ کہتے ہیں : یہ آیۃ الکرسی ہے جس کی فضیلت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح حدیث میں ہے کہ کتاب اللہ میں یہ آیت سب سے افضل آیت ہے ۔ ابی بن کعب رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نےان سے سوال کیا کہ کتاب اللہ میں سب سے عظیم آیت کونسی ہے ؟ تو وہ کہنے لگے کہ اللہ اور اس کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم کوہی زیادہ علم ہے ، یہ سوال کئ باردھرایا اور پھر فرمانےلگے کہ وہ آیت الکرسی ہے ۔ فرمانے لگے اے ابوالمنذر علم مبارک ہو اس ذات کی قسم جس کےھاتھ میں میری جان ہے اس آیت کی زبان اور ہونٹ ہونگے عرش کے پاۓ کے ہاں اللہ تعالی کی پاکی بیان کررہی ہوگی ۔ اور غالبا مسلم نے والذی نفسی سے آگے والے الفاظ نہیں ہیں ۔ عبداللہ بن ابی بن کعب رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ ان کے والد کے پاس کھجوریں رکھنے کی جگہ تھی ، عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں میرے والد اس کاخیال رکھتے تھے تو...

عہد رسالت میں کتابت قرآن

سرورکائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے مندرجہ ذیل صحابہ کو کاتب وحی مقرر فرمایا تھا: حضرت بوبکررضی اللہ تعالٰی عنہ ، عمرفاروقرضی اللہ تعالٰی عنہ، عثمانرضی اللہ تعالٰی عنہ، علیرضی اللہ تعالٰی عنہ، معاویہرضی اللہ تعالٰی عنہ ، زید بن ثابت رضی اللہ تعالٰی عنہ،ابی بن کعبرضی اللہ تعالٰی عنہ، خالد بن ولیدرضی اللہ تعالٰی عنہ،ثابت بن قیسرضی اللہ تعالٰی عنہ،۔ قرآن کا جو حصہ نازل ہوتا آپ صحابہ کو مامور فرماتے کہ اسے تحریر کرلیں یہاں تک کہ کتابت کے پہلو بہ پہلو قرآن کریم کو سینوں میں بھی محفوظ کرلیا گیا۔(مشہور مستشرق بلاشیر نے کاتبین وحی صحابہ کی تعداد چالیس بتائ ہے دیگر مستشرقین مثلاً شفالی بہل اور کازانوفاکا زاویہ نگاہ بھی یہی ہے مؤخر الذکر نے اس ضمن میں طبقا ابن سعد، طبری ، نووی اور سیرت حلبی پر اعتماد کیا ہے ۔) محدث حاکم نےمستدرک میں زید بن ثابت سے بخاری ومسلم کی شرط کے مطابق روایت کیا ہے کہ زید بن ثابت نے کہا ہم عہد رسالت میں ''رقاع''(ٹکڑوں)سے قرآن جمع کیا کرتے تھے ۔ (الاتقان،ج۱ص،۹۹نیز البرہان ،ج۱ص۲۳۷) مذکورہ صدر حدیث میں ''رقاع ''کا جو لفظ وا...

شرک فی التصرف کا بیان

بسم اللہ الرحمن الرحیم اللّٰھم لک الحمد حمدا یوافی نعمک ویکافی مزید کرمک احمد ک بجمیع محا مدک ما علمت و ما لم اعلم علی جمیع نعمک ما علمت منھا وما لم اعلم وعلی کل حالط اللّٰھم صل علی محمد و علی ال محمد و بارک وسلم۔ اما بعد۔ فاعوذ باللہ من الشیطن الرجیم ط بسم اللہ الرحمن الرحیمط قُلِ ادْعُوا الَّذِيْنَ زَعَمْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللہِ۝۰ۚ لَا يَمْلِكُوْنَ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ فِي السَّمٰوٰتِ وَلَا فِي الْاَرْضِ وَمَا لَہُمْ فِيْہِمَا مِنْ شِرْكٍ وَّمَا لَہٗ مِنْہُمْ مِّنْ ظَہِيْرٍ۝۲۲ وَلَا تَنْفَعُ الشَّفَاعَۃُ عِنْدَہٗٓ اِلَّا لِمَنْ اَذِنَ لَہٗ۝۰ۭ حَتّٰٓي اِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوْبِہِمْ قَالُوْا مَاذَا۝۰ۙ قَالَ رَبُّكُمْ۝۰ۭ قَالُوا الْحَقَّ۝۰ۚ وَہُوَالْعَلِيُّ الْكَبِيْرُ۝۲۳ (السبا:۲۲۔۲۳) اے میرے محسن خدا! کل تعریفوں کا مستحق تو ہی ہے، میں تیری وہ تعریف کرتا ہوں جو تیری دی ہوئی نعمتوں کا بدل ہو، ا ور اس سے جو زیادہ دے، اس کا بدلہ ہو، اور پھر میں تیری جن نعمتوں کو جانتا ہوں اور جن کو نہیں جانتا سب ہی کا ا ن خوبیوں کے ساتھ شکریہ ادا کرتا ہوں، جس کا مجھ کو علم ہے اور جن کا نہیں، غرضیکہ ہر ...

حکایت

حضرت شیخ الاسلام امام غزالی نے احیاء العلوم میں ایک حاسد آدمی کی یہ حکایت فرمائی ہے کہ ایک شخص بادشاہ کے سامنے کھڑا ہوکر یہ کہا کرتا تھا کہ نیک لوگوں کے ساتھ نیکی کرو اور محسن کے احسان کا بدلہ دو کیوںکہ برائی کرنے والے کی برائی تمہاری طرف سے خود کفایت کرے گی۔ یہ شخص بادشاہ کے سامنے یہ نصیحت کیا کرتا تھا جس سے اس کی بڑی عزت تھی۔ اس کی عزت، عظمت اور مرتبہ کو دیکھ کر ایک شخص کو حسد پیدا ہوگیا۔ اس نے بادشاہ سے شکایت کی کہ یہ شخص حضور کے سامنے کھڑا ہوکر گندہ دہن بتاتا ہے۔ بادشاہ نے کہا اس کی تصدیق کیسے ہو؟ حاسد نے کہا جب وہ آپ کے پاس آئے تو آپ اسے اپنے قریب بلا لیجیے، جب وہ آپ کے بالکل قریب آجائے گا تو اپنی ناک بند کرلے گا، تاکہ آپ کے منہ کی بدبو نہ آنے پائے۔ بادشاہ نے کہا بہت اچھا، کل امتحان کریں گے۔ ادھر اس حاسد نے بادشاہ سے یہ کہا، ادھر اس نے جاکر اس ناصح و نیک آدمی کی دعوت کرکے ایسا کھانا کھلایا جس میں لہسن بہت سا تھا۔ یہ کھانا کھا کر فارغ ہی ہوا تھا کہ دربار کا وقت آگیا۔ بدستور سابق بادشاہ کے سامنے کھڑے ہوکر اس نے وہی جملہ کہا جو کہا کرتا تھا۔ بادشاہ نے اس کو اپنے پاس بلانے کا ...

Rasulullah Sallallahu Alaihi Wasallam Kay Muay Mubarak By Shaykh Mufti Umar Farooq

Read Online (400 K) AN EXTRACT FROM MONTHLY MAGAZINE OF DARUL ULOOM DEOBAND ON SOME DETAILS REGARDING THE BELOVED AND MUBARIK HAIR OF RASOOLULLAH [Sallallahu Alaihi Wasallam]. By Shaykh Mufti Umar Farooq

اتباع سنت کا بیان

بسم اللہ الرحمن الرحیم الحمد للہ الذی لم یزل عالماً قدیرا حیاً قیوماً سمیعاً بصیراً و اشھد ان لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ واکبرہ تکبیراً۔ واشھد ان محمداعبدہ ورسولہ و صلی اللہ علی سیدنا محمد ن الذی ارسلہ الی الناس کافۃ بشیراً ونذیرًا۔ و علی الہ و صحبہ وسلم تسلیماً کثیراکثیرا۔ اما بعد! فاعوذ باللہ من الشیطن الرجیم۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللہَ فَاتَّبِعُوْنِيْ يُحْبِبْكُمُ اللہُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ۝۰ۭ وَاللہُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ۝۳۱ قُلْ اَطِيْعُوا اللہَ وَالرَّسُوْلَ۝۰ۚ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّ اللہَ لَا يُحِبُّ الْكٰفِرِيْنَ۝۳۲ (آل عمران:۳۱۔۳۲) سب تعریف اللہ کے لیے ثابت ہے،جو ہمیشہ سے جاننے والا، قدرت والا، زندہ رکھنے والا، سنبھالنے والا، سننے والا اور دیکھنے والا ہے، اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ ایک اور یکتا ہے، جس کا کوئی شریک نہیں ہے، اور میں اس کی بڑائی بیان کرتا ہوں، اور اس بات کی گواہی دیتا ہوں ، کہ محمد ﷺ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، اللہ تعالیٰ ہمارے آقا محمد ﷺ پر رحمت کا ملہ نازل فرم...

شفاعت ِ رسول ﷺ

بسم اللہ الرحمن الرحیم ط الحمد للّٰہ الملک الحی الذی لاینام ولا ینبغی لہ ان ینام ۔ یرفع القسط ویخفضہ یرفع الیہ عمل اللّیل قبل النھار وعمل النھار قبل اللّیل۔ وھوالذی یتوفاکم باللّیل ویعلم ما جرحتم بالنھار ثم یبعثکم فیہ لیقضی اجل مسمی ثم الیہ مرجعکم ثم ینبئکم بما کنتم تعملون۔ اشھدان لاالہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ علیہ توکلت والیہ انیب۔ ا شھدان محمدا عبدہ ورسولہ اللہ علیہ وعلی الہ واصحابہ وسلم۔ اما بعد! فاعوذ باللہ من الشیطن الرجیم ، بسم اللہ الرحمن الرحیم اَقِـمِ الصَّلٰوۃَ لِدُلُوْكِ الشَّمْسِ اِلٰى غَسَقِ الَّيْلِ وَقُرْاٰنَ الْفَجْرِ۝۰ۭ اِنَّ قُرْاٰنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْہُوْدًا۝۷۸ وَمِنَ الَّيْلِ فَتَہَجَّدْ بِہٖ نَافِلَۃً لَّكَ۝۰ۤۖ عَسٰٓي اَنْ يَّبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا۝۷۹ (بنی اسرائیل:۷۸۔۷۹) نماز کو قائم ر کھیے آفتاب کے ڈھلنے سے لے کر رات کی تاریکی تک اور فجر کے وقت قرآن پڑھیے یقیناً فجر کے وقت قرآن پڑھنے پر فرشتے حاضر ہوتے ہیں، رات کے کچھ حصے میں تہجد کی نماز میں قرآن کی تلاوت کیجیے یہ زائد عبادت آپ کے لیے ہے، عنقریب آپ کا رب آپ کو مقام محمود ...