Skip to main content

جھوٹ



جھوٹ کے معنی دروغ گوئی اور غلط بیانی کے ہیں۔ اور یہ نہایت ہی قبیح وصف ہے۔ جس میں یہ بُری صفت یعنی جھوٹ بولنے کی عادت پائی جاتی ہے وہ خدا اور انسانوں کے نزدیک بہت بُرا ہے اور اس کا اعتبار نہیں کیا جاتا۔ کتاب و سنت میں جھوٹ کی بڑی مذمت آئی ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
اِنَّ اللہَ لَا یَھْدِیْ مَنْ ھُوَ کَاذِبٌ کَفَّارٌ۔ (زمر:۳)
بے شک اللہ تعالیٰ اس کو راہ نہیں دکھاتا جو جھوٹا ہے، احسان نہیں مانتا۔
آنحضرت ﷺ نے فرمایا: کہ جھوٹ گناہ (فجور) کی طرف لے جاتا ہے اور گناہ دوزخ میں، اور جھوٹ بولتے بولتے آدمی خدا کے ہاں جھوٹا لکھا جاتا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاصؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی، یا رسول اللہ ! جنت میں لے جانے والا کام کیا ہے، فرمایا سچ بولنا۔ جب بندہ سچ بولتا ہے تو نیکی کا کام کرتا ہے اور جو نیکی کا کام کرتا ہے وہ ایمان سے بھرپور ہوجاتا ہے اور جو ایمان سے بھرپور ہوا وہ جنت میں داخل ہوا۔ اس نے پھر پوچھا کہ یارسول اللہﷺ! دوزخ میں لے جانے والا کام کیا ہے۔ فرمایا جھوٹ بولنا، جب بندہ جھوٹ بولے گا تو گناہ کا کام کرے گا اور جب گناہ کے کام کرے گا تو کفر کرے گا اور جو کفر کرے گا وہ دوزخ میں جائے گا۔ (مسند احمد ص ۱۶۷، مصری)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جھوٹ کی بُرائی کی وسعت اتنی ہے کہ کفر بھی اس میں آجاتا ہے، جس سے زیادہ بُری چیز کوئی دوسری نہیں اور جس کے لیے نجات کا کوئی دروازہ کھلا نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت کا دائرہ بہت وسیع ہے وہ دنیا کے ذرّہ ذرّہ کو گھیرے ہوئے ہے۔ اس کی رحمت کی چھاؤں میں ساری کائنات آرام کررہی ہے مگر رحمتِ الٰہی کے اس گھنے سایہ سے وہ باہر ہے، جس کا منہ جھوٹ کی بادِ سموم سے جھلس رہا ہے۔
اسلام کے محاورہ میں سخت ترین لفظ لعنت ہے۔ لعنت کے معنی اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دوری اور محرومی کے ہیں۔ قرآن پاک میں اس کا مستحق شیطان بتایا گیا ہے اور اس کے بعد یہودیوں، کافروں اور منافقوں کو اس کی وعید سنائی گئی ہے لیکن کسی مومن کو کذب کے سوا اس کے کسی فعل کی بنا پر لعنت سے یاد نہیں کیا گیا۔ جھوٹ بولنے اور جھوٹا الزام لگانے کی صورت میں اللہ تعالیٰ نے اجازت دی ہے کہ جو جھوٹا ہو، اس پر خدا کی لعنت کی جائے۔ مباہلہ کے موقع پر یہ فرمایا گیا کہ دونوں فریق خدائے تعالیٰ سے گڑگڑا کر دعا مانگیں کہ جو ہم میں جھوٹا ہو اس پر خدا کی لعنت ہو۔

ثُمَّ نَبْتَہِلْ فَنَجْعَلْ لَّعْنَتَ اللہِ عَلَي الْكٰذِبِيْنَ۝۶۱ (آل عمران:۶۱)
پھر دعا کریں، پھر جھوٹوں پر اللہ تعالیٰ کی لعنت بھیجیں۔
میاں بیوی کے لعان کی صورت میں جب شوہر بیوی پر بدکاری کا الزام لگائے اور شوہر کے پاس اس کا کوئی گواہ نہ ہو تو اس کو چار دفعہ اپنی سچائی کی قسم کھانے کے بعد پانچویں دفعہ کہنا پڑے گا:

اَنَّ لَعْنَتَ اللہِ عَلَيْہِ اِنْ كَانَ مِنَ الْكٰذِبِيْنَ۝۷ (نور:۷)
اس پر اللہ کی لعنت ہو اگر وہ جھوٹوں میں سے ہو۔
اس سے معلوم ہوا کہ جھوٹ ایسی بڑی لعنت ہے کہ جو اس کا مرتکب ہوتا ہے وہ کافروں اور منافقوں کی طرح بددعا کا مستحق ہوتا ہے۔ نفاق جھوٹ کی بدترین قسم ہے۔ اس لیے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

اٰیَۃُ الْمُنَافِقِ ثَلَاثٌ اِذَا حَدَّثَ کَذَبَ وَاِذَا وَعَدَ اَخْلَفَ وَاِذَا عَاھَدَ غَدَرَ۔ (بخاری، مسلم)
منافق کی تین علامتیں ہیں (۱) جب بات کرے تو جھوٹ بولے (۲) جب وعدہ کرے تو خلاف کرے (۳) جب عہد و اقرار کرے تو عہدشکنی کرے۔
جھوٹ بولنے والے کا دل سیاہ ہوجاتا ہے اور اللہ کے نزدیک جھوٹا لکھا جاتا ہے۔ (مؤطا امام مالک) … اور جھوٹ بولنے والے کے منہ سے اتنی بدبو نکلتی ہے کہ فرشتے اس سے دُور بھاگتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

اِذَا کَذَبَ الْعَبْدُ تَبَاعَدَ عَنْہُ الْمَلَکُ مِیْلًا مِّنْ نَتْنِ مَاجَآئَ بِہٖ۔ (ترمذی)
یعنی جب آدمی جھوٹ بولتا ہے تو (رحمت کے) فرشتے اس سے ایک میل دُور ہوجاتے ہیں اس بدبو کے باعث جو جھوٹ بولنے سے پیدا ہوتی ہے۔
جھوٹ بولنے سے روزی میں بھی بے برکتی ہوتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

بِرُّ الْوَالِدَیْنِ یَزِیْدُ فِی الْعُمُرِ وَالْکِذْبُ یَنْقُصُ الرِّزْقَ، وَالدُّعَائُ یَرُدُّ الْقَضَائَ۔ (رواہ الاصبھانی)
والدین کے ساتھ بھلائی کرنے سے عمر میں زیادتی ہوتی ہے اور جھوٹ بولنے سے روزی میں کمی ہوتی ہے اور دعا تقدیر کو لوٹا دیتی ہے۔
مومن آدمی کبھی جھو ٹ نہیں بول سکتا اور جو مومن ہوگا وہ جھوٹ نہیں بولے گا۔ رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا گیا:

یَا رَسُوْلَ اللہِ! اَیَکُوْنُ الْمُؤْمِنُ جَبَانًا قَالَ نَعَمْ قِیْلَ لَہٗ اَیَکُوْنُ الْمُؤْمِنُ بَخِیْلًا قَالَ نَعَمْ قِیْلَ لَہٗ اَیَکُوْنُ الْمُؤْمِنُ کَذَّابًا قَالَ لَا۔ (مؤطا امام مالک)
یارسول اللہﷺ! کیا مومن بزدل ہوسکتا ہے۔ آپﷺ نے فرمایا: ہاں ہوسکتا ہے۔ پھر آپﷺ سے عرض کیا گیا، کیا مومن بخیل بھی ہوسکتا ہے، آپﷺ نے فرمایا: ہاں ہوسکتا ہے! پھر آپﷺ سے عرض کیا گیا کیا مومن آدمی جھوٹا بھی ہوسکتا ہے؟ آپﷺ نے فرمایا نہیں۔
معلو م ہوا کہ ایمان اور جھوٹ متضاد چیزیں ہیں۔ دونوں کا یک جا جمع ہونا غیرممکن ہے، جس طرح کفر و ایمان یک جا جمع نہیں ہوسکتے۔ اس کی تائید اس حدیث سے ہوتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

لَا یَجْتَمِعُ الْکُفْرُ وَالْاِیْمَانُ فِیْ قَلْبِ امْرَأٍ وَلَا یَجْتَمِعُ الصِّدْقُ وَالْکِذْبُ جَمِیْعًا وَلَا تَجْتَمِعُ الْخِیَانَۃُ وَالْاَمَانَۃُ جَمِیْعًا۔ (احمد)
یعنی کسی کے دل میں ایمان و کفر اکٹھا جمع نہیں ہوسکتا، اگر کفر ہے تو ایمان نہیں ہے اور ایمان ہے تو کفر نہیں ہے۔ اور جھوٹ اور سچ بھی اکٹھا جمع نہیں ہوسکتا اور خیانت و امانت بھی اکٹھی نہیں ہوسکتی۔
جھوٹے آدمی کی قیامت کے دن بڑی بڑی سزائیں ہیں۔ معراج والی حدیث میں آپﷺ نے فرمایا: کہ جھوٹے آدمی کو میں نے دیکھا کہ اس کے جبڑے چیرے جارہے ہیں۔ قبر میں بھی یہی عذاب قیامت تک ہوتا رہے گا۔
جھوٹ کے بہت سے مرتبے ہیں۔ اچھے اچھے لوگوں کا یہ حال ہے کہ وہ بے ضرورت جھوٹ کو بُرا نہیں جانتے، جیسے اکثر لوگوں کو دیکھا جاتا ہے کہ بچوں کو بہلانے کے لیے ان سے جھوٹے وعدے کرلیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ وہ ان وعدوں کو تھوڑی دیر میں بھول جائیں گے اور ہوتا بھی اکثر یہی ہے مگر جھوٹ بہرحال جھوٹ ہے۔ اسلام نے اس جھوٹ کی بھی اجازت نہیں دی ہے۔ ایک کم سن صحابی عبداللہ بن عامرؓ کہتے ہیں:

دَعَتْنِیْ اُمِّیْ یَوْمًا وَرَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَاعِدٌ فِیْ بَیْتِنَا فَقَالَتْ لَہَ تَعَالَ اَعْطِکَ فَقَالَ لَھَا رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَا اَرَدْتِّ اَنْ تُعْطِیَہٗ قَالَتْ اَرَدْتُّ اَنْ اُعْطِیَہٗ تَمْرًا فَقَالَ لَھَا رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَمَا اِنَّکِ لَوْلَمْ تُعْطِہٖ شَیْئًا کُتِبَتْ عَلَیْکِ کِذْبَۃٌ۔ (ابوداؤد)
ایک دفعہ میری ماں نے مجھے بلایا اور حضورِ انور ﷺ ہمارے گھر تشریف رکھتے تھے تو ماں نے میرے بلانے کے لیے کہا کہ یہاں آ، تجھے کچھ دوں گی۔ حضور ﷺ نے فرمایا تم اس کو کیا دینا چاہتی ہو۔ ماں نے کہا میں اس کوکھجور دوں گی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہاں اگر تم اس وقت اس کو کچھ نہ دیتیں تو یہ جھوٹ بھی تمہارا لکھا جاتا۔
بعض لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ جب ان کو کھانے کے لیے یا کسی اور چیز کے لیے کہا جاتا ہے تو وہ تصنع اور بناوٹ سے یہ کہہ دیتے ہیں کہ مجھے خواہش نہیں حالاںکہ ان کے دل میں اس کی خواہش موجود ہوتی ہے۔ تو یہ بھی جھوٹ ہے چناںچہ ایک دفعہ ایک صحابیہ خاتون نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا:

یَارَسُوْلَ اللہِ اِنْ قَالَتْ اِحْدَانَا لِشَیْءٍ تَشْتَھِیْہِ لَا اَشْتَھِیْہِ یُعَدُّ ذَالِکَ کَذِبًا قَالَ اِنَّ الْکَذِبَ یُکْتَبُ کَذِبًا حَتّٰی تُکْتَبَ الْکُذَیْبَۃُ کُذَیْبَۃً۔ (احمد)
یارسول اللہ! ہم میں سے کوئی کسی چیز کی خواہش رکھے اور پھر کہہ دے کہ مجھے اس کی خواہش نہیں تو کیا یہ بھی جھوٹ شمار ہوگا۔ ارشاد ہوا کہ ہر چھوٹے سے چھوٹا جھوٹ بھی جھوٹ لکھا جاتا ہے۔
اسی طرح وہ جھوٹ ہے جو خوش گپی کے موقع پر محض لطف صحبت کے لیے بولا جاتا ہے۔ اس سے اگرچہ کسی کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ بعض موقعوں پر یہ ایک دل چسپی کی چیز بن جاتا ہے۔ تاہم اسلام نے اس کی بھی اجازت نہیں دی ہے اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے:

وَیْلٌ لِّلَّذِیْ یُحَدِّثُ بِالْحَدِیْثِ لِیُضْحِکَ بِہِ الْقَوْمَ فَیَکْذِبُ وَیْلٌ لَّہٗ۔ (ابوداؤد، ترمذی)
جو لوگوں کو ہنسانے کے لیے جھوٹ بولتا ہے اس پر بڑا افسوس ہے۔
لوگوں کو خوش کرتا ہے اور جھوٹ بول کر اپنی آخرت برباد کرتا ہے، اور جھوٹ بولنا بڑی خیانت کی بات ہے کیوںکہ وہ خدا کا اور لوگوں کا امین ہے تو اس کو سچ ہی بولنا چاہیے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

کَبُرَتْ خِیَانَۃً اَنْ تُحَدِّثَ اَخَاکَ حَدِیْثًا ھُوَلَکَ مُصَدِّقٌ وَاَنْتَ لَہٗ بِہٖ کَاذِبٌ۔ (ابوداؤد)
یہ بہت بڑی خیانت کی بات ہے کہ تم اپنے بھائی سے کوئی جھوٹی بات کہو، اس حال میں کہ وہ تم کو سچا سمجھتا ہو۔
ہنسی مذاق میں بھی جھوٹ نہیں بولنا چاہیے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

لَا یُؤْمِنُ الْعَبْدُ الْاِیْمَانَ کُلَّہٗ حَتّٰی یَتْرُکَ الْکَذِبَ الْمَزَاحَۃَ وَالْمَرَائَ وَاِنْ کَانَ صَادِقًا۔ (احمد)
کوئی بندہ پورا مومن نہیں ہو سکتا یہاں تک کہ ہنسی مذاق میں جھوٹ بولنا اور جھگڑا کرنا چھوڑ دے اگرچہ وہ فی نفسہٖ سچا ہو۔
یعنی ہر صورت میں جھوٹ بولنا اور فضول جھگڑا کرنا بُرا ہے۔ اس سے ایمان کامل جاتا رہتا ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

Yusufzai (Pashtun tribe)

The  Yūsufzai  (also  Youssofzay ,  Yousefzai ,  Yousafzai ,  Esapzey ,  Yousufi , or  Yūsufi ) (Pashto:  يوسفزی ,Persian and Urdu:  یوسف زئی ) is one of the largest Pashtun (Afghans) tribes. The majority of the Yusufzai tribe reside in parts of Western Afghanistan, Khyber Pakhtunkhwa and Provincially Administered Tribal Areas near the Afghan-Pakistan border. They are the predominant population in the districts of Konar, Ningarhar, Mardan District, Dir, Swat,Malakand, Swabi, Buner, Shangla, Haripur District [Khalabat Town Ship and Tarbela] and in Mansehra and Battagram. There is also a Yusufzai clan of Dehwar tribe in the Mastung district of Balochistan who speak Persian with some mixture of Birahvi words. The descendants of Yusuf inhabit Konar, Jalalabad, Swat, Upper Dir, Lower Dir, Malakand Swabi and Mardan...

Masail -e- Ghusl By Shaykh Mufti Abdur Rauf Sakharvi

Read Online (2.1 M) By Shaykh Mufti Abdur Rauf Sakharvi

جمع عثمانی رِوایات کے آئینے میں

نبی مکرمﷺ کی حدیث مبارکہ ’’خَیْرُ النَّاسِ قَرْنِيْ ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَھُمْ ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَھُمْ‘‘۔(صحیح البخاري: ۲۶۵۲) پر جب نظر پڑتی ہے تو سر احسان و نیازمندی کے ملے جلے تاثر ات سے جھک جاتا ہے کہ واقعتا آپﷺ، صحابہ رضی اللہ عنہم اور تابعین رحمہم اللہ کا زمانہ خیر القرون تھا، کیونکہ اس میں بنی نوع اِنسان کی راہ روی اور اسلام کی سربلندی کے لیے وہ محنتیں اور کوششیں ہوئی ہیں کہ جس کی مثال آئندہ جمیع قرون میں پیش کرنا مشکل ہے۔ یقینا وہ لوگ اس قابل تھے کہ اُنہیں یہ ذمہ داری سونپی جاتی کہ وہ دینِ الٰہی اور شرع اللہ کو اپنی مکمل تشریحات کے ساتھ آئندہ نسلوں تک منتقل کریں، بلا شبہ وہ طائفہ فائزہ اپنے اس مقصد میں بامراد ہوا ہے۔ان جملہ ذمہ داریوں میں سے اَہم ترین ذمہ داری یہ تھی کہ ہدایت سماوی کے آخری ربانی صحیفہ کو محفوظ اور غیر متبدل شکل میں ہم تک پہنچایا جائے۔ ہمارا یہ قطعی ایمان ہے کہ وہ پیام اَیزدی آج اپنی سو فیصد اَصلی اور حقیقی شکل میں ہمارے درمیان موجود ہے۔ الحمد ﷲ علی ذلک۔اِس سلسلہ میں خیرالقرون میں جو سب سے اَہم کام ہوا ہے وہ سیدنا عثمان ذوالنورین رضی ال...

دین اسلام میں رسول اللہ ﷺ کی اطاعت فرض ہے

بسم اللہ الرحمن الرحیم دین اسلام میں رسول اللہ ﷺ کی اطاعت فرض ہے يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ أَطِيعُوا۟ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ وَلَا تَوَلَّوْا۟ عَنْهُ وَأَنتُمْ تَسْمَعُونَ ﴿20﴾ترجمہ: اے ایمان والو الله اور اس کے رسول کا حکم مانو اور سن کر اس سے مت پھرو(سورۃ الانفال،آیت20) قُلْ أَطِيعُوا۟ ٱللَّهَ وَأَطِيعُوا۟ ٱلرَّسُولَ ۖ فَإِن تَوَلَّوْا۟ فَإِنَّمَا عَلَيْهِ مَا حُمِّلَ وَعَلَيْكُم مَّا حُمِّلْتُمْ ۖ وَإِن تُطِيعُوهُ تَهْتَدُوا۟ ۚ وَمَا عَلَى ٱلرَّسُولِ إِلَّا ٱلْبَلَٰغُ ٱلْمُبِينُ﴿56﴾ترجمہ: کہہ دو الله اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرو پھر اگر منہ پھیرو گے تو پیغمبر تو وہی ہے جس کا وہ ذمہ دار ہے اورتم پر وہ ہے جو تمہارے ذمہ لازم کیا گیا ہے اور اگر اس کی فرمانبرداری کرو گے تو ہدایت پاؤ گے اور رسول کے ذمہ صرف صاف طور پر پہنچا دینا ہے (سورۃ النور،آیت 56) مَّن يُطِعِ ٱلرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ ٱللَّهَ ۖ وَمَن تَوَلَّىٰ فَمَآ أَرْسَلْنَٰكَ عَلَيْهِمْ حَفِيظًۭا ﴿80﴾ترجمہ: جو شخص رسول کی فرمانبرداری کرے گا تو بےشک اس نے اللہ کی فرمانبرداری کی اور جو نافرمانی کرے گا تو اے ...

قراء ات متواترہ کا ثبوت اور اس کے منکر کا حکم

قرآن حکیم اللہ تبارک وتعالیٰ کا انمٹ اورلاریب کلام ہے جس کی مثل لانے سے دنیا کا ہر فرد عاجز اور درماندہ ہے۔ بڑے بڑے فصحائے عرب اور فارسانِ بلاغت اس کی نظیر اورمثل پیش نہیں کرسکے اور نہ ہی قیامِ قیامت تک پیش کر سکتے ہیں۔ علمائے اسلام اور زعمائے ملت نے اس کی تفسیر وتوضیح اور مفاہیم ومعانی کی عقدہ کشائی کے لئے انتھک محنت اور قابل رشک جدوجہد کی ہے اور اس کا حقِ خدمت ادا کرنے کے لئے صعوبتوں اورمسافتوں سے بھرپور دور دراز بلاد و ممالک کے سفر طے کیے۔ اورہر کسی نے اپنی اپنی ہمت اوربساط کے مطابق اس کی خدمت کر کے اعلیٰ وارفع مقام حاصل کیا ۔جن میں ابن جریر طبری، ابن حاتم رازی، عبد الرزاق ، نسائی اور ابن کثیررحمہم اللہ جیسے گلستان ِ حدیث کے خوشبودار پھول، ابوحیان اندلسی اور زمخشری رحمہم اللہ جیسے فارسانِ بلاغت وادب اورنکتہ سنج۔ ابو عبد اللہ قرطبی اورابوبکر ابن العربی رحمہم اللہ جیسے فقاہت کے درخشندہ ستارے۔ رازی اوربیضاوی رحمہم اللہ جیسے فلاسفہ اورمتکلمین جہاں معانی ومفا،عثمان بن سعید ابو سعید ورش القبطی، احمد بن قالون المدنی، خلف بن ہشام البغدادی، ابو معبد عبد اللہ بن ہیم رحمہم اللہ کے گلستان ...

خیرخواہی وامانت داری

خیرخواہی وامانت داری خیر خواہی دین کی بنیاد ا ور اس کا جوہر ہے۔ دین دراصل خیر خواہی کا نام ہے۔ خیرخواہی اللہ کی، اس کے کتاب کی، اس کے رسول کی، مسلم ائمہ وحکمرانوں کی اور عامۃ المسلمین کی ہوتی ہے۔ پس جب ان تمام کے حق میں بندہ خیرخواہ ہوگا تو اس کا دین کامل ہوگا اور جس میں ان میں سے کسی کی خیرخواہی میں کمی و کوتاہی ہوگی تو اسی قدر اس کے دین میں نقص وکمی ہوگی۔ مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اپنی خیرخواہی میں امانت کو ملحوظ رکھے اور بغیر کسی مداہنت ومجاملت کے حق کو بیان کرے۔ یہی شخص اللہ کے نزدیک امین ہوگا۔ إن الحمد لله، نحمده ونستعينه ونستغفره، ونعوذ بالله من شرور أنفسنا، وسيئات أعمالنا، من يهده الله فلا مضل له، ومن يضلل فلا هادى له، وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له، وأشهد أن محمداً عبده ورسوله۔ أما بعد: فإن خیر الحدیث کتاب اللہ، وخیر الھدی ھدی محمد صلی اللہ علیہ وسلم، وشر الأمور محدثاتھا، وکل محدثۃ بدعۃ، وکل بدعۃ ضلالۃ، وکل ضلالۃ  فی النار۔  وقد قال اللہ تبارک وتعالی فی کتابہ المجید: (إِنَّ اللَّـهَ يَأْمُرُكُمْ أَن تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَىٰ أَهْلِهَا وَإِذَا حَ...

Alamaat -e- Qayamat Aur Nuzool -e- Maseeh [a.s] By Shaykh Mufti Rafi Usmani

Read Online Slideshare Download [27] ENGLISH TRANSLATION

دعا مانگنے کا ضابطہ اور اس کے آداب

ارشاد ربانی ہے:”ونادٰی نوح ربہ فقال رب ان ابنی من اہلی وان وعدک الحق وانت احکم الحاکمین‘ قال یا نوح انہ لیس من اہلک‘ انہ عمل غیر صالح‘ فلاتسئلن مالیس لک بہ علم‘ انی اعظک ان تکون من الجاہلین“۔ (۱)ترجمہ:․․․”اور نوح علیہ السلام نے اپنے رب کو پکارا اور عرض کیا کہ اے میرے رب! میرا بیٹا میرے گھروالوں میں سے ہے اور آپ کا وعدہ بالکل سچا ہے‘ اور تو سب سے بڑا حاکم ہے‘ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: کہ اے نوح! یہ شخص تمہارے گھروالوں میں نہیں‘ یہ تباہ کار ہے‘ سو مجھ سے ایسی چیز کی درخواست مت کرو جس کی تم کو خبر نہیں۔ میں تم کو نصیحت کرتا ہوں کہ تم نادانوں میں داخل نہ ہوجاؤ“۔آیات مذکورہ بالا سے فقہاء نے یہ مسئلہ اخذ کیا ہے کہ دعا کے لئے ضروری ہے کہ دعا کرنے والا پہلے یہ معلوم کرے کہ جس کام کی دعا کررہا ہے وہ جائز وحلال ہے یانہیں۔ مشتبہ حالت میں دعا کرنے سے منع فرمایا گیا ہے‘ جیساکہ قاضی بیضاوی لکھتے ہیں:”فلاتسئلن مالیس لک بہ علم“ ای مالم تعلم اصواب ہو ام لیس کذلک“ (۲)ترجمہ:․․․”سو مجھ سے ایسی چیز کی درخواست مت کرو جس کی تم کو خبر نہیں یعنی جس کے بارے میں تجھے یہ علم نہ ہو کہ یہ حق وجائز ہے یا نہیں...

قرآن مجید سے فائدہ اٹھانے کی پانچ شرائط

ایمان حاصل کرنے کا اصل ذریعہ قرآنِ کریم ہے لیکن اس مقصد کے لئے قرآن کی تلاوت کے کچھ آداب و شرائط ہیں۔ اگر ان کا خیال رکھا جائے تو تبھی قرآن سے مذکورہ فائدہ حاصل ہوتا ہے۔ لہٰذا ان آداب و شرائط کا پورا پورا اہتمام کرنا چاہئے۔ ۱ نیت کی پاکیزگی: سب سے پہلی چیز نیت کی پاکیزگی ہے۔ یعنی آدمی قرآن مجید کو صرف ہدایت حاصل کرنے کے لئے پڑھے، کوئی ذاتی غرض سامنے رکھ کر نہ پڑھے، اگر طلبِ ہدایت کے سوا آدمی کے سامنے کوئی اور غرض ہوگی تو نہ صرف یہ کہ وہ قرآن مجید کے فیض سے محروم رہے گا بلکہ اس بات کا اندیشہ بھی ہے کہ قرآن مجید سے جتنا دور وہ اب تک رہا ہے، اس سے بھی کچھ زیادہ دور ہٹ جائے گا۔ اگر آدمی قرآن مجید کو اس لئے پڑھے کہ لوگ اسے مفسر قرآن سمجھنے لگیں یا اس لئے پڑھے کہ اس کے کچھ اپنے نظریات ہوں اور وہ اپنے ان نظریات کو قرآن مجید کے رنگ کے ساتھ لوگوں کے سامنے پیش کرنے کا خواہش مند ہو تو ممکن ہے اس کے یہ ارادے کسی حد تک پورے ہوجائیں لیکن اس طرح وہ قرآن مجید سمجھنے کا دروازہ اپنے اوپر بالکل بند کرلے گا۔قرآن مجید کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت کا صحیفہ بنا کر اتارا ہے اور ہرآدمی...

The Qur’an & Modern Science -Compatible or Incompatible?

Read and Download