Skip to main content

جھوٹ



جھوٹ کے معنی دروغ گوئی اور غلط بیانی کے ہیں۔ اور یہ نہایت ہی قبیح وصف ہے۔ جس میں یہ بُری صفت یعنی جھوٹ بولنے کی عادت پائی جاتی ہے وہ خدا اور انسانوں کے نزدیک بہت بُرا ہے اور اس کا اعتبار نہیں کیا جاتا۔ کتاب و سنت میں جھوٹ کی بڑی مذمت آئی ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
اِنَّ اللہَ لَا یَھْدِیْ مَنْ ھُوَ کَاذِبٌ کَفَّارٌ۔ (زمر:۳)
بے شک اللہ تعالیٰ اس کو راہ نہیں دکھاتا جو جھوٹا ہے، احسان نہیں مانتا۔
آنحضرت ﷺ نے فرمایا: کہ جھوٹ گناہ (فجور) کی طرف لے جاتا ہے اور گناہ دوزخ میں، اور جھوٹ بولتے بولتے آدمی خدا کے ہاں جھوٹا لکھا جاتا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاصؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی، یا رسول اللہ ! جنت میں لے جانے والا کام کیا ہے، فرمایا سچ بولنا۔ جب بندہ سچ بولتا ہے تو نیکی کا کام کرتا ہے اور جو نیکی کا کام کرتا ہے وہ ایمان سے بھرپور ہوجاتا ہے اور جو ایمان سے بھرپور ہوا وہ جنت میں داخل ہوا۔ اس نے پھر پوچھا کہ یارسول اللہﷺ! دوزخ میں لے جانے والا کام کیا ہے۔ فرمایا جھوٹ بولنا، جب بندہ جھوٹ بولے گا تو گناہ کا کام کرے گا اور جب گناہ کے کام کرے گا تو کفر کرے گا اور جو کفر کرے گا وہ دوزخ میں جائے گا۔ (مسند احمد ص ۱۶۷، مصری)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جھوٹ کی بُرائی کی وسعت اتنی ہے کہ کفر بھی اس میں آجاتا ہے، جس سے زیادہ بُری چیز کوئی دوسری نہیں اور جس کے لیے نجات کا کوئی دروازہ کھلا نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت کا دائرہ بہت وسیع ہے وہ دنیا کے ذرّہ ذرّہ کو گھیرے ہوئے ہے۔ اس کی رحمت کی چھاؤں میں ساری کائنات آرام کررہی ہے مگر رحمتِ الٰہی کے اس گھنے سایہ سے وہ باہر ہے، جس کا منہ جھوٹ کی بادِ سموم سے جھلس رہا ہے۔
اسلام کے محاورہ میں سخت ترین لفظ لعنت ہے۔ لعنت کے معنی اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دوری اور محرومی کے ہیں۔ قرآن پاک میں اس کا مستحق شیطان بتایا گیا ہے اور اس کے بعد یہودیوں، کافروں اور منافقوں کو اس کی وعید سنائی گئی ہے لیکن کسی مومن کو کذب کے سوا اس کے کسی فعل کی بنا پر لعنت سے یاد نہیں کیا گیا۔ جھوٹ بولنے اور جھوٹا الزام لگانے کی صورت میں اللہ تعالیٰ نے اجازت دی ہے کہ جو جھوٹا ہو، اس پر خدا کی لعنت کی جائے۔ مباہلہ کے موقع پر یہ فرمایا گیا کہ دونوں فریق خدائے تعالیٰ سے گڑگڑا کر دعا مانگیں کہ جو ہم میں جھوٹا ہو اس پر خدا کی لعنت ہو۔

ثُمَّ نَبْتَہِلْ فَنَجْعَلْ لَّعْنَتَ اللہِ عَلَي الْكٰذِبِيْنَ۝۶۱ (آل عمران:۶۱)
پھر دعا کریں، پھر جھوٹوں پر اللہ تعالیٰ کی لعنت بھیجیں۔
میاں بیوی کے لعان کی صورت میں جب شوہر بیوی پر بدکاری کا الزام لگائے اور شوہر کے پاس اس کا کوئی گواہ نہ ہو تو اس کو چار دفعہ اپنی سچائی کی قسم کھانے کے بعد پانچویں دفعہ کہنا پڑے گا:

اَنَّ لَعْنَتَ اللہِ عَلَيْہِ اِنْ كَانَ مِنَ الْكٰذِبِيْنَ۝۷ (نور:۷)
اس پر اللہ کی لعنت ہو اگر وہ جھوٹوں میں سے ہو۔
اس سے معلوم ہوا کہ جھوٹ ایسی بڑی لعنت ہے کہ جو اس کا مرتکب ہوتا ہے وہ کافروں اور منافقوں کی طرح بددعا کا مستحق ہوتا ہے۔ نفاق جھوٹ کی بدترین قسم ہے۔ اس لیے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

اٰیَۃُ الْمُنَافِقِ ثَلَاثٌ اِذَا حَدَّثَ کَذَبَ وَاِذَا وَعَدَ اَخْلَفَ وَاِذَا عَاھَدَ غَدَرَ۔ (بخاری، مسلم)
منافق کی تین علامتیں ہیں (۱) جب بات کرے تو جھوٹ بولے (۲) جب وعدہ کرے تو خلاف کرے (۳) جب عہد و اقرار کرے تو عہدشکنی کرے۔
جھوٹ بولنے والے کا دل سیاہ ہوجاتا ہے اور اللہ کے نزدیک جھوٹا لکھا جاتا ہے۔ (مؤطا امام مالک) … اور جھوٹ بولنے والے کے منہ سے اتنی بدبو نکلتی ہے کہ فرشتے اس سے دُور بھاگتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

اِذَا کَذَبَ الْعَبْدُ تَبَاعَدَ عَنْہُ الْمَلَکُ مِیْلًا مِّنْ نَتْنِ مَاجَآئَ بِہٖ۔ (ترمذی)
یعنی جب آدمی جھوٹ بولتا ہے تو (رحمت کے) فرشتے اس سے ایک میل دُور ہوجاتے ہیں اس بدبو کے باعث جو جھوٹ بولنے سے پیدا ہوتی ہے۔
جھوٹ بولنے سے روزی میں بھی بے برکتی ہوتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

بِرُّ الْوَالِدَیْنِ یَزِیْدُ فِی الْعُمُرِ وَالْکِذْبُ یَنْقُصُ الرِّزْقَ، وَالدُّعَائُ یَرُدُّ الْقَضَائَ۔ (رواہ الاصبھانی)
والدین کے ساتھ بھلائی کرنے سے عمر میں زیادتی ہوتی ہے اور جھوٹ بولنے سے روزی میں کمی ہوتی ہے اور دعا تقدیر کو لوٹا دیتی ہے۔
مومن آدمی کبھی جھو ٹ نہیں بول سکتا اور جو مومن ہوگا وہ جھوٹ نہیں بولے گا۔ رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا گیا:

یَا رَسُوْلَ اللہِ! اَیَکُوْنُ الْمُؤْمِنُ جَبَانًا قَالَ نَعَمْ قِیْلَ لَہٗ اَیَکُوْنُ الْمُؤْمِنُ بَخِیْلًا قَالَ نَعَمْ قِیْلَ لَہٗ اَیَکُوْنُ الْمُؤْمِنُ کَذَّابًا قَالَ لَا۔ (مؤطا امام مالک)
یارسول اللہﷺ! کیا مومن بزدل ہوسکتا ہے۔ آپﷺ نے فرمایا: ہاں ہوسکتا ہے۔ پھر آپﷺ سے عرض کیا گیا، کیا مومن بخیل بھی ہوسکتا ہے، آپﷺ نے فرمایا: ہاں ہوسکتا ہے! پھر آپﷺ سے عرض کیا گیا کیا مومن آدمی جھوٹا بھی ہوسکتا ہے؟ آپﷺ نے فرمایا نہیں۔
معلو م ہوا کہ ایمان اور جھوٹ متضاد چیزیں ہیں۔ دونوں کا یک جا جمع ہونا غیرممکن ہے، جس طرح کفر و ایمان یک جا جمع نہیں ہوسکتے۔ اس کی تائید اس حدیث سے ہوتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

لَا یَجْتَمِعُ الْکُفْرُ وَالْاِیْمَانُ فِیْ قَلْبِ امْرَأٍ وَلَا یَجْتَمِعُ الصِّدْقُ وَالْکِذْبُ جَمِیْعًا وَلَا تَجْتَمِعُ الْخِیَانَۃُ وَالْاَمَانَۃُ جَمِیْعًا۔ (احمد)
یعنی کسی کے دل میں ایمان و کفر اکٹھا جمع نہیں ہوسکتا، اگر کفر ہے تو ایمان نہیں ہے اور ایمان ہے تو کفر نہیں ہے۔ اور جھوٹ اور سچ بھی اکٹھا جمع نہیں ہوسکتا اور خیانت و امانت بھی اکٹھی نہیں ہوسکتی۔
جھوٹے آدمی کی قیامت کے دن بڑی بڑی سزائیں ہیں۔ معراج والی حدیث میں آپﷺ نے فرمایا: کہ جھوٹے آدمی کو میں نے دیکھا کہ اس کے جبڑے چیرے جارہے ہیں۔ قبر میں بھی یہی عذاب قیامت تک ہوتا رہے گا۔
جھوٹ کے بہت سے مرتبے ہیں۔ اچھے اچھے لوگوں کا یہ حال ہے کہ وہ بے ضرورت جھوٹ کو بُرا نہیں جانتے، جیسے اکثر لوگوں کو دیکھا جاتا ہے کہ بچوں کو بہلانے کے لیے ان سے جھوٹے وعدے کرلیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ وہ ان وعدوں کو تھوڑی دیر میں بھول جائیں گے اور ہوتا بھی اکثر یہی ہے مگر جھوٹ بہرحال جھوٹ ہے۔ اسلام نے اس جھوٹ کی بھی اجازت نہیں دی ہے۔ ایک کم سن صحابی عبداللہ بن عامرؓ کہتے ہیں:

دَعَتْنِیْ اُمِّیْ یَوْمًا وَرَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَاعِدٌ فِیْ بَیْتِنَا فَقَالَتْ لَہَ تَعَالَ اَعْطِکَ فَقَالَ لَھَا رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَا اَرَدْتِّ اَنْ تُعْطِیَہٗ قَالَتْ اَرَدْتُّ اَنْ اُعْطِیَہٗ تَمْرًا فَقَالَ لَھَا رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَمَا اِنَّکِ لَوْلَمْ تُعْطِہٖ شَیْئًا کُتِبَتْ عَلَیْکِ کِذْبَۃٌ۔ (ابوداؤد)
ایک دفعہ میری ماں نے مجھے بلایا اور حضورِ انور ﷺ ہمارے گھر تشریف رکھتے تھے تو ماں نے میرے بلانے کے لیے کہا کہ یہاں آ، تجھے کچھ دوں گی۔ حضور ﷺ نے فرمایا تم اس کو کیا دینا چاہتی ہو۔ ماں نے کہا میں اس کوکھجور دوں گی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہاں اگر تم اس وقت اس کو کچھ نہ دیتیں تو یہ جھوٹ بھی تمہارا لکھا جاتا۔
بعض لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ جب ان کو کھانے کے لیے یا کسی اور چیز کے لیے کہا جاتا ہے تو وہ تصنع اور بناوٹ سے یہ کہہ دیتے ہیں کہ مجھے خواہش نہیں حالاںکہ ان کے دل میں اس کی خواہش موجود ہوتی ہے۔ تو یہ بھی جھوٹ ہے چناںچہ ایک دفعہ ایک صحابیہ خاتون نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا:

یَارَسُوْلَ اللہِ اِنْ قَالَتْ اِحْدَانَا لِشَیْءٍ تَشْتَھِیْہِ لَا اَشْتَھِیْہِ یُعَدُّ ذَالِکَ کَذِبًا قَالَ اِنَّ الْکَذِبَ یُکْتَبُ کَذِبًا حَتّٰی تُکْتَبَ الْکُذَیْبَۃُ کُذَیْبَۃً۔ (احمد)
یارسول اللہ! ہم میں سے کوئی کسی چیز کی خواہش رکھے اور پھر کہہ دے کہ مجھے اس کی خواہش نہیں تو کیا یہ بھی جھوٹ شمار ہوگا۔ ارشاد ہوا کہ ہر چھوٹے سے چھوٹا جھوٹ بھی جھوٹ لکھا جاتا ہے۔
اسی طرح وہ جھوٹ ہے جو خوش گپی کے موقع پر محض لطف صحبت کے لیے بولا جاتا ہے۔ اس سے اگرچہ کسی کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ بعض موقعوں پر یہ ایک دل چسپی کی چیز بن جاتا ہے۔ تاہم اسلام نے اس کی بھی اجازت نہیں دی ہے اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے:

وَیْلٌ لِّلَّذِیْ یُحَدِّثُ بِالْحَدِیْثِ لِیُضْحِکَ بِہِ الْقَوْمَ فَیَکْذِبُ وَیْلٌ لَّہٗ۔ (ابوداؤد، ترمذی)
جو لوگوں کو ہنسانے کے لیے جھوٹ بولتا ہے اس پر بڑا افسوس ہے۔
لوگوں کو خوش کرتا ہے اور جھوٹ بول کر اپنی آخرت برباد کرتا ہے، اور جھوٹ بولنا بڑی خیانت کی بات ہے کیوںکہ وہ خدا کا اور لوگوں کا امین ہے تو اس کو سچ ہی بولنا چاہیے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

کَبُرَتْ خِیَانَۃً اَنْ تُحَدِّثَ اَخَاکَ حَدِیْثًا ھُوَلَکَ مُصَدِّقٌ وَاَنْتَ لَہٗ بِہٖ کَاذِبٌ۔ (ابوداؤد)
یہ بہت بڑی خیانت کی بات ہے کہ تم اپنے بھائی سے کوئی جھوٹی بات کہو، اس حال میں کہ وہ تم کو سچا سمجھتا ہو۔
ہنسی مذاق میں بھی جھوٹ نہیں بولنا چاہیے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

لَا یُؤْمِنُ الْعَبْدُ الْاِیْمَانَ کُلَّہٗ حَتّٰی یَتْرُکَ الْکَذِبَ الْمَزَاحَۃَ وَالْمَرَائَ وَاِنْ کَانَ صَادِقًا۔ (احمد)
کوئی بندہ پورا مومن نہیں ہو سکتا یہاں تک کہ ہنسی مذاق میں جھوٹ بولنا اور جھگڑا کرنا چھوڑ دے اگرچہ وہ فی نفسہٖ سچا ہو۔
یعنی ہر صورت میں جھوٹ بولنا اور فضول جھگڑا کرنا بُرا ہے۔ اس سے ایمان کامل جاتا رہتا ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

Yusufzai (Pashtun tribe)

The  Yūsufzai  (also  Youssofzay ,  Yousefzai ,  Yousafzai ,  Esapzey ,  Yousufi , or  Yūsufi ) (Pashto:  يوسفزی ,Persian and Urdu:  یوسف زئی ) is one of the largest Pashtun (Afghans) tribes. The majority of the Yusufzai tribe reside in parts of Western Afghanistan, Khyber Pakhtunkhwa and Provincially Administered Tribal Areas near the Afghan-Pakistan border. They are the predominant population in the districts of Konar, Ningarhar, Mardan District, Dir, Swat,Malakand, Swabi, Buner, Shangla, Haripur District [Khalabat Town Ship and Tarbela] and in Mansehra and Battagram. There is also a Yusufzai clan of Dehwar tribe in the Mastung district of Balochistan who speak Persian with some mixture of Birahvi words. The descendants of Yusuf inhabit Konar, Jalalabad, Swat, Upper Dir, Lower Dir, Malakand Swabi and Mardan...

یہودی پروٹوکولز

Online Read یہودی پروٹوکولز ============================================== Online Read E Book یہودی پروٹوکولز ============================================== Download Free یہودی پروٹوکولز ---------------------------------------------------- Download Free یہودی پروٹوکولز ----------------------------------------------------

دین اسلام میں رسول اللہ ﷺ کی اطاعت فرض ہے

بسم اللہ الرحمن الرحیم دین اسلام میں رسول اللہ ﷺ کی اطاعت فرض ہے يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ أَطِيعُوا۟ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ وَلَا تَوَلَّوْا۟ عَنْهُ وَأَنتُمْ تَسْمَعُونَ ﴿20﴾ترجمہ: اے ایمان والو الله اور اس کے رسول کا حکم مانو اور سن کر اس سے مت پھرو(سورۃ الانفال،آیت20) قُلْ أَطِيعُوا۟ ٱللَّهَ وَأَطِيعُوا۟ ٱلرَّسُولَ ۖ فَإِن تَوَلَّوْا۟ فَإِنَّمَا عَلَيْهِ مَا حُمِّلَ وَعَلَيْكُم مَّا حُمِّلْتُمْ ۖ وَإِن تُطِيعُوهُ تَهْتَدُوا۟ ۚ وَمَا عَلَى ٱلرَّسُولِ إِلَّا ٱلْبَلَٰغُ ٱلْمُبِينُ﴿56﴾ترجمہ: کہہ دو الله اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرو پھر اگر منہ پھیرو گے تو پیغمبر تو وہی ہے جس کا وہ ذمہ دار ہے اورتم پر وہ ہے جو تمہارے ذمہ لازم کیا گیا ہے اور اگر اس کی فرمانبرداری کرو گے تو ہدایت پاؤ گے اور رسول کے ذمہ صرف صاف طور پر پہنچا دینا ہے (سورۃ النور،آیت 56) مَّن يُطِعِ ٱلرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ ٱللَّهَ ۖ وَمَن تَوَلَّىٰ فَمَآ أَرْسَلْنَٰكَ عَلَيْهِمْ حَفِيظًۭا ﴿80﴾ترجمہ: جو شخص رسول کی فرمانبرداری کرے گا تو بےشک اس نے اللہ کی فرمانبرداری کی اور جو نافرمانی کرے گا تو اے ...

قرآن حکیم کے نازل ہونے کی کیا غرض ہے

سورہ آلِ عمران هَـٰذَا بَيَانٌ لِّلنَّاسِ وَهُدًى وَمَوْعِظَةٌ لِّلْمُتَّقِينَ ﴿١٣٨﴾ یہ (قرآن) لوگوں کے لیے بیان صریح اور اہلِ تقویٰ کے لیے ہدایت اور نصیحت ہے۔ سورہ المآئدۃ يَا أَهْلَ الْكِتَابِ قَدْ جَاءَكُمْ رَسُولُنَا يُبَيِّنُ لَكُمْ كَثِيرًا مِّمَّا كُنتُمْ تُخْفُونَ مِنَ الْكِتَابِ وَيَعْفُو عَن كَثِيرٍ ۚ قَدْ جَاءَكُم مِّنَ اللَّـهِ نُورٌ وَكِتَابٌ مُّبِينٌ ﴿١٥﴾هْدِي بِهِ اللَّـهُ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَهُ سُبُلَ السَّلَامِ وَيُخْرِجُهُم مِّنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ بِإِذْنِهِ وَيَهْدِيهِمْ إِلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ ﴿١٦﴾  اے اہل کتاب! تمہارے پاس ہمارے پیغمبر (آخرالزماں) آ گئے ہیں کہ جو کچھ تم کتاب (الہٰی) میں سے چھپاتے تھے وہ اس میں سے بہت کچھ تمہیں کھول کھول کر بتا دیتے ہیں اور تمہارے بہت سے قصور معاف کر دیتے ہیں بےشک تمہارے پاس خدا کی طرف سے نور اور روشن کتاب آ چکی ہے۔جس سے خدا اپنی رضا پر چلنے والوں کو نجات کے رستے دکھاتا ہے اور اپنے حکم سے اندھیرے میں سے نکال کر روشنی کی طرف لے جاتا اور ان کو سیدھے رستہ پر چلاتا ہے۔ وَكَتَبْنَا عَلَيْه...

جمع عثمانی رِوایات کے آئینے میں

نبی مکرمﷺ کی حدیث مبارکہ ’’خَیْرُ النَّاسِ قَرْنِيْ ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَھُمْ ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَھُمْ‘‘۔(صحیح البخاري: ۲۶۵۲) پر جب نظر پڑتی ہے تو سر احسان و نیازمندی کے ملے جلے تاثر ات سے جھک جاتا ہے کہ واقعتا آپﷺ، صحابہ رضی اللہ عنہم اور تابعین رحمہم اللہ کا زمانہ خیر القرون تھا، کیونکہ اس میں بنی نوع اِنسان کی راہ روی اور اسلام کی سربلندی کے لیے وہ محنتیں اور کوششیں ہوئی ہیں کہ جس کی مثال آئندہ جمیع قرون میں پیش کرنا مشکل ہے۔ یقینا وہ لوگ اس قابل تھے کہ اُنہیں یہ ذمہ داری سونپی جاتی کہ وہ دینِ الٰہی اور شرع اللہ کو اپنی مکمل تشریحات کے ساتھ آئندہ نسلوں تک منتقل کریں، بلا شبہ وہ طائفہ فائزہ اپنے اس مقصد میں بامراد ہوا ہے۔ان جملہ ذمہ داریوں میں سے اَہم ترین ذمہ داری یہ تھی کہ ہدایت سماوی کے آخری ربانی صحیفہ کو محفوظ اور غیر متبدل شکل میں ہم تک پہنچایا جائے۔ ہمارا یہ قطعی ایمان ہے کہ وہ پیام اَیزدی آج اپنی سو فیصد اَصلی اور حقیقی شکل میں ہمارے درمیان موجود ہے۔ الحمد ﷲ علی ذلک۔اِس سلسلہ میں خیرالقرون میں جو سب سے اَہم کام ہوا ہے وہ سیدنا عثمان ذوالنورین رضی ال...

ان شاءاللہ لکھنے میں غلطی کرنا

بسم اللہ الرحمن الرحیم السلام علیکم ورحمتہ اللہ آ پ لوگوں نے اکثر کتابوں میں لفظ ان شاءاللہ کو اس طرح لکھا ہوا پڑھاہوگا انشاءاللہ اور جب کہ اس طرح لکھنے سے اس کا معنی بدل جاتا ہے۔ لفظ ان شاءاللہ کے اردو میں معنی بنتا ہے اگر اللہ نے چاہا اور جب کہ انشاء عربی میں کسی چیز کو بنانے کو کہتے ہیں اس طرح انشاءاللہ کے معنی بہت غلط بن جاتے ہیں ۔ہم لوگ عربی زبان سے واقفیت نہ رکھنے کی وجہ سے ایسی غلطیاں کر جاتے ہیں اللہ ہمیں معاف فرمائے آمین۔اللہ کا ارشاد ہے کہاِنَّآ اَنْشَاْنٰهُنَّ اِنْشَاۗءً 35۝ۙہم نے ان (کی بیویوں کو) خاص طور پر بنایا ہے۔الواقعہ:۳۵قَالَ اِنَّمَا يَاْتِيْكُمْ بِهِ اللّٰهُ اِنْ شَاۗءَ وَمَآ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِيْنَ 33 ؀جواب دیا کہ اسے بھی اللہ تعالٰی ہی لائے گااگر وہ چاہے اور ہاں تم اسے ہرانے والے نہیں ہو۔ھود:۳۳فَلَمَّا دَخَلُوْا عَلٰي يُوْسُفَ اٰوٰٓى اِلَيْهِ اَبَوَيْهِ وَقَالَ ادْخُلُوْا مِصْرَ اِنْ شَاۗءَ اللّٰهُ اٰمِنِيْنَ 99؀ۭپھر جب (سب کے سب) یوسف کے پاس پہنچے تو اس نے اپنے والدین کو (عزت و احترام کے ساتھ) اپنے پاس جگہ دی اور کہا، ''کہاگر اللہ نے چاہا تو...

قراء توں کا اِختلاف اور منکرینِ حدیث

یہ ایک مسلّمہ اَمر ہے کہ قرآن مجید کی ایک سے زیادہ قراء تیں ثابت ہیں۔ لیکن اہلِ قرآن کہلانے والے منکرین حدیث ان اختلافِ قراء ات کو نہیں مانتے۔ وہ کہتے ہیں کہ قرآن کی صرف ایک ہی قراء ت ہے اور یہ کہ خود نبیﷺنے قرآن کو کتابی صورت میں مرتب اور مدوّن کیا اور اس پر اعراب و نقطے لگوائے تھے جبکہ یہ بات خلاف ِ واقعہ ہے۔جناب پرویز صاحب لکھتے ہیں:’’ہم سمجھتے ہیں کہ اس کے بعد ’اختلاف قراء ت‘ کے فتنہ کے متعلق کچھ سمجھنے کی ضرورت باقی نہیں رہتی‘‘(طلوع اسلام، ص۵۶، شمارہ جنوری ۱۹۸۲ء، لاہور)وہ مزید لکھتے ہیں :’’قرآن مجیدجس شکل میں ہمارے پاس موجود ہے اسے خود رسول اللہﷺنے اسی طرح مرتب اور مدوّن شکل میں اُمت کو دیا تھا۔‘‘(طلوع اسلام، ص۴۲، شمارہ جنوری۱۹۸۲ء، لاہور)اسی طرح ایک اور منکرِ حدیث رحمت اللہ طارق صاحب نے لکھا ہے :’’اختلاف قراء ت کا فتنہ ہی لے لیجئے جس کا مودودی صاحب جیسا شخص نہ صرف معترف اور معتقد ہے بلکہ سرگرم مبلغ اور پُرجوش ناشر ہے۔‘‘(اعجاز قرآن و اختلاف قراء ت، مرتبہ تمنا عمادی:۷۴۲) طارق صاحب نے مزید لکھا ہے :’’ لَوْ کَانَ مِنْ عِنْدِ غَیْرِ اﷲِ لَوَجَدُوْا فِیْہِ اخْتِلَافًا کَثِیْرًا ‘‘...

جمع قرآن اور اس کی تدوین

جمع قرآن اور اس کی تدوین جمع قرآن سے مراد قرآن کریم کا جمع کرنا۔ خواہ حفظ سے ہو یا کتابت سے یا تلاوت کی ریکارڈنگ سے۔ اور تدوین سے مراد اس کو کتابی صورت میں ترتیب دینا ہے۔ان سب مراحل کی ایک دل چسپ معلوماتی تاریخ ہے جسے ایک طالب علم کے لئے جاننا بہت اہم ہے۔تاکہ وہ آگاہ رہے کہ یہ مقدس کتاب کس طرح کن کن ادوار سے گذر کر محفوظ ترین صورت میں ہم تک پہنچی؟مقصد جمع قرآن: جمع قرآن کا مقصد یہی تھا کہ جس طرح قرآن مجید آپ ﷺ پر اترا ہے اور جس طرح آپ نے اسے پڑھا یا سکھایا ہے اسے لکھ کر محفوظ کرلیا جائے۔ یہ اللہ کا حکم تھا تاکہ مستقبل میں ممکنہ اختلاف جو قراءت یا اس کے الفاظ ، ترتیب اور لغت میں پیدا ہوسکتا ہے وہ نہ ہوسکے۔ اللہ تعالیٰ نے خود بھی اس کی حفاظت کی ذمہ داری لی مگر اس حفاظت کا کام صحابہ رسول اور امت کے قراء وحفاظ سے بھی لیا۔جمع قرآن کی دلیل: آپ ﷺ قرآن کی تنزیل میں سخت شدت محسوس کیا کرتے۔ اور اپنے ہونٹوں کو حرکت دیا کرتے تھے۔ جیسا کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت صحیحین میں ہے۔تو اللہ تعالیٰ نے ابتداء میں ہی یہ فرمادیا : {لَا تُحَرِّكْ بِہٖ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ...

عورت، اسلام کی نظر میں

عورت جاہلیت میں نہایت ذلیل وحقیر چیز تھی یہاں تک کہ اسلام آیا تو اس نے اسے ایسی عزت وتکریم بخشی جس کی کوئی نظیر نہیں۔ اس نے جاہلیت کے مظالم سے اسے نجات دی اور اس کے حقوق کا ضامن وکفیل ہوا۔ اس نے عورت کو بہت سی دینی واجبات اور ثواب وعقاب میں اسے مردوں کے مساوی قرار دیا۔ چنانچہ اسے اسلام میں بہت زیادہ عزت وتکریم ملی ۔ إن الحمد لله، نحمده, ونستعينه، ونستغفره، ونعوذ بالله من شرور أنفسنا وسيئات أعمالنا، من يهده الله فلا مضل له، ومن يضلل فلا هادى له، وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له، وأشهد أن محمداً عبده ورسوله،وقد قال اللہ تبارک وتعالی فی محکم تنزیلہ، أعوذ باللہ من الشیطان الرجیم: (مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّن ذَكَرٍ أَوْ أُنثَىٰ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهُ حَيَاةً طَيِّبَةً ۖ وَلَنَجْزِيَنَّهُمْ أَجْرَهُم بِأَحْسَنِ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ) (النحل: 97)"جو شخص نیک عمل کرے مرد ہو یا عورت، لیکن باایمان ہو تو ہم اسے یقیناً نہایت بہتر زندگی عطا فرمائیں گے۔ اور ان کے نیک اعمال کا بہتر بدلہ بھی انہیں ضرور ضرور دیں گے۔"وقال النبی صلی اللہ علیہ وسلم: )إنما النساء شقائ...

خیرخواہی وامانت داری

خیرخواہی وامانت داری خیر خواہی دین کی بنیاد ا ور اس کا جوہر ہے۔ دین دراصل خیر خواہی کا نام ہے۔ خیرخواہی اللہ کی، اس کے کتاب کی، اس کے رسول کی، مسلم ائمہ وحکمرانوں کی اور عامۃ المسلمین کی ہوتی ہے۔ پس جب ان تمام کے حق میں بندہ خیرخواہ ہوگا تو اس کا دین کامل ہوگا اور جس میں ان میں سے کسی کی خیرخواہی میں کمی و کوتاہی ہوگی تو اسی قدر اس کے دین میں نقص وکمی ہوگی۔ مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اپنی خیرخواہی میں امانت کو ملحوظ رکھے اور بغیر کسی مداہنت ومجاملت کے حق کو بیان کرے۔ یہی شخص اللہ کے نزدیک امین ہوگا۔ إن الحمد لله، نحمده ونستعينه ونستغفره، ونعوذ بالله من شرور أنفسنا، وسيئات أعمالنا، من يهده الله فلا مضل له، ومن يضلل فلا هادى له، وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له، وأشهد أن محمداً عبده ورسوله۔ أما بعد: فإن خیر الحدیث کتاب اللہ، وخیر الھدی ھدی محمد صلی اللہ علیہ وسلم، وشر الأمور محدثاتھا، وکل محدثۃ بدعۃ، وکل بدعۃ ضلالۃ، وکل ضلالۃ  فی النار۔  وقد قال اللہ تبارک وتعالی فی کتابہ المجید: (إِنَّ اللَّـهَ يَأْمُرُكُمْ أَن تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَىٰ أَهْلِهَا وَإِذَا حَ...