Skip to main content

ایمان لانے سے پہلے کیا کریں؟؟؟



لقول اللّٰہ تعالٰی: وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِیْ کُلِّ أُمَّۃٍ رَّسُوْلاً أَنِ اعْبُدُوا اللّٰہَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ 
ہم نے ہر امت میں ایک رسول بھیج دیا اور اس کے ذریعہ سے سب کو خبردار کردیا کہ ’’اﷲ تعالیٰ کی بندگی کرو اور طاغوت کی بندگی سے بچو‘‘۔(النحل : ۶۳)۔
قولہ :الطاغوت
طغیان سے مشتق ہے، اس کے معنی حد سے تجاوز کرنے کے ہیں۔
سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
الطاغوت الشیطان
’’طاغوت کا اطلاق شیطان پر ہوتا ہے‘‘۔
علامہ ابن کثیر رحمہ اﷲ حسان بن قائد عبیسی عن عمر نقل کرتے ہیں کہ :
’’ جبت سے جادو اور طاغوت سے شیطان مراد ہے ‘‘۔
علامہ ابن کثیر رحمہ اﷲ علیہ مزید فرماتے ہیں:
’’طاغوت کے معنی شیطان زیادہ صحیح ہے کیونکہ دور جاہلیت میں جتنا بھی شرو فساد تھا اس کا اصل مرکز و محور شیاطین ہی توتھے کیونکہ لوگ شیاطین سے مدد طلب کرتے تھے ،انہی کے ہاں سے فیصلے کرواتے،اور شیاطین ہی بتوں کی پوجا کاسبب بنے۔‘‘
علامہ ابن جریر رحمہ اللہ نے بھی یہی مفہوم بیان فرمایا ہے ۔
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:

ألطوا غیت کھان کانت تنزل علیھم الشیاطین 
طاغوت کاہنوں کو کہتے ہیں ان کے پاس شیاطین مختلف خبریں لاتے تھے۔
یہ دونوں اقوال ابن ابی حاتم نے روایت کئے ہیں ۔امام مالک رحمہ اﷲ فرماتے ہیں: 

ألطاغوت کل ما عبد من دون اﷲ 
طاغوت ہر اس شے کا نام ہے جس کی اﷲ تعالیٰ کے سوا عبادت کی جاتی ہو۔
علامہ ابن قیم رحمہ اللہ نے طاغوت کی ایک ایسی تعریف کی ہے جو بڑی جامع و مانع ہے، وہ فرماتے ہیں:

الطاغوت کل ما تجاوز بہ العبد حدہ من معبود اور متبوع اور مطاع فطاغوت کل قوم من یتحاکمون الیہ غیر اﷲ ورسولہ او یعبدونہ من دون اﷲ او یتبعونہ علی غیر بصیرۃ من اﷲ او یطیعونہ فیما لا یعلمون انہ طاعۃ ﷲ 
’’طاغوت ہر وہ چیز ہے جس کی وجہ سے انسان حد سے تجاوز کر جائے، خواہ عبادت میں، یا تابعداری میں، یا اطاعت میں۔ ہر قوم کا طاغوت وہی ہے جس کی طرف وہ اﷲ تعالیٰ اور رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے بجائے فیصلہ کے لئے رجوع کرتے ہیں، یا اﷲ کے سوا اس کی پرستش کرتے ہیں، یا بلا دلیل اس کی اتباع کرتے ہیں، یا اس کی اطاعت بغیر اس علم کے کرتے ہیں کہ یہ اﷲ تعالیٰ کی اطاعت ہے۔
پس اﷲ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ کر جس کسی کے پاس بھی اپنا فیصلہ لے جایا جائے یا اﷲ کے سوا جس کی بھی عبادت کی جائے یا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کو ترک کر کے کسی دوسری شخصیت کی اطاعت کی جائے، اُسے اس قوم کا طاغوت سمجھا جائے گا‘‘۔
اﷲ تعالیٰ نے ہر قبیلے اور ہرگروہ کے پاس اپنے رسول u یہ دعوت دے کر بھیجے کہ وہ صرف اﷲ تعالیٰ ہی کی عبادت کریں اور اس کے سوا ہرقسم کے معبود کی عبادت ترک کردیں۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے :۔

ان اعبدوا اﷲ واجتنبوا الطاغوت (النحل:۳۶)۔
’’ صرف اﷲ تعالیٰ ہی کی عبادت کرو اور طاغوت کی بندگی سے بچو‘‘۔
اﷲ تعالیٰ کایہ بھی ارشاد ہے کہ :

فمن یکفر بالطاغوت و یؤمن باﷲ فقد استمسک بالعروۃ الوثقی لاانفصام لھا (البقرۃ:۲۶۵)۔
اب جو کوئی طاغوت کا انکار کر کے اﷲ پر ایمان لے آیا اُس نے ایک ایسا مضبوط سہارا تھام لیا جو کبھی ٹوٹنے والا نہیں
حقیقت میں کلمہ ’’لا اِلٰہ الا اﷲ‘‘ کا مطلب یہی ہے۔ کیونکہ ’’مضبوط سہارا‘‘ ’’لا اِلٰہ الا اﷲ‘‘ ہی ہے۔
علامہ ابن کثیر رحمہ اﷲ اس آیت کامطلب اس طرح بیان کرتے ہیں :
’’تمام انبیائے کرام علیہم السلام اﷲ تعالیٰ کی عبادت کی دعوت دیتے رہے اور اس کے سوا تمام عبادتوں سے روکتے رہے ۔
جب سے آدم علیہ السلام کی اولاد شرک میں مبتلا ہوئی اسی وقت سے اﷲ تعالیٰ نے انبیائے کرام علیہم السلام کی بعثت کاسلسلہ شروع کردیا ، چنانچہ اہل زمین پر جو سب سے پہلے رسول مبعوث کئے گئے وہ سیدنا نوح علیہ السلام تھے اور جناب محمد ﷺ پر سلسلہ نبوت ختم کر دیا گیا کیونکہ آپ ﷺ کی دعوت اور پیغام مشرق و مغرب کے تمام انسانوں اور جنوں کے لئے عمومی حیثیت رکھتا ہے ۔
اﷲ تعالیٰ تمام انبیائے کرام کے بارے میں فرماتا ہے :۔

وما ارسلنا من قبلک من رسول الا نوحی الیہ انہ لاالہ الا انا فاعبدون 
ہم نے تم سے پہلے جو بھی رسول بھیجا اس کو یہی وحی کی کہ میرے سوا کوئی اﷲ نہیں ہے پس تم لوگ میری ہی بندگی کرو۔ (الانبیاء:۲۵) ۔
اور زیر بحث آیت میں فرمایا :

ولقد بعثنا فی کل امۃ رسولا ان اعبدوا اﷲ واجتنبوا الطاغوت (النحل:۳۶) 
ہم نے ہر اُمت میں ایک رسول بھیج دیا اور اس کے ذریعہ سے سب کو خبردار کردیا کہ اﷲ کی بندگی کرو اور طاغوت کی بندگی سے بچو۔
ان واضح اور بیّن دلائل کے ہوتے ہوئے مشرکین یہ کہہ کر بری الذّمہ نہیں ہوسکتے کہ
لو شآء اﷲ ماعبدنا من دونہ من شیئٍ
اگر اﷲ چاہتا تو ہم اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرتے۔
اﷲ تعالیٰ کی مشیت شرعیہ ان سے الگ ہوگئی ہے ، کیونکہ اﷲ نے اپنے انبیائے کرام علیہم السلام کی زبان سے ان کو شرک سے باز رہنے کی حجت قائم کردی ہے۔
زیر بحث آیت میں اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے کہ انبیائے کرام علیہم السلام کی دعوت و ارشاد کے بعد ان کو دنیا میں عذاب میں مبتلا نہیں کرے گا بلکہ آخرت میں سزا دے گا ۔اﷲ تعالیٰ کافرمان ہے ۔

فمنھم من ھدی اﷲ و منھم من حقت علیہ الضللۃ (النحل:۳۶)۔
اس کے بعد ان میں سے کسی کو اﷲ نے ہدایت بخشی اور کسی پر ضلالت مسلط ہوگئی

Comments

Popular posts from this blog

یہودی پروٹوکولز

Online Read یہودی پروٹوکولز ============================================== Online Read E Book یہودی پروٹوکولز ============================================== Download Free یہودی پروٹوکولز ---------------------------------------------------- Download Free یہودی پروٹوکولز ----------------------------------------------------

قرآن حکیم کے نازل ہونے کی کیا غرض ہے

سورہ آلِ عمران هَـٰذَا بَيَانٌ لِّلنَّاسِ وَهُدًى وَمَوْعِظَةٌ لِّلْمُتَّقِينَ ﴿١٣٨﴾ یہ (قرآن) لوگوں کے لیے بیان صریح اور اہلِ تقویٰ کے لیے ہدایت اور نصیحت ہے۔ سورہ المآئدۃ يَا أَهْلَ الْكِتَابِ قَدْ جَاءَكُمْ رَسُولُنَا يُبَيِّنُ لَكُمْ كَثِيرًا مِّمَّا كُنتُمْ تُخْفُونَ مِنَ الْكِتَابِ وَيَعْفُو عَن كَثِيرٍ ۚ قَدْ جَاءَكُم مِّنَ اللَّـهِ نُورٌ وَكِتَابٌ مُّبِينٌ ﴿١٥﴾هْدِي بِهِ اللَّـهُ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَهُ سُبُلَ السَّلَامِ وَيُخْرِجُهُم مِّنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ بِإِذْنِهِ وَيَهْدِيهِمْ إِلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ ﴿١٦﴾  اے اہل کتاب! تمہارے پاس ہمارے پیغمبر (آخرالزماں) آ گئے ہیں کہ جو کچھ تم کتاب (الہٰی) میں سے چھپاتے تھے وہ اس میں سے بہت کچھ تمہیں کھول کھول کر بتا دیتے ہیں اور تمہارے بہت سے قصور معاف کر دیتے ہیں بےشک تمہارے پاس خدا کی طرف سے نور اور روشن کتاب آ چکی ہے۔جس سے خدا اپنی رضا پر چلنے والوں کو نجات کے رستے دکھاتا ہے اور اپنے حکم سے اندھیرے میں سے نکال کر روشنی کی طرف لے جاتا اور ان کو سیدھے رستہ پر چلاتا ہے۔ وَكَتَبْنَا عَلَيْه...

اللہ تعالیٰ کے حقوق

بسم اللہ الرحمن الرحیم اللہ تعالیٰ کے حقوق اللہ تعالیٰ کا حق تمام حقوق سے زیادہ ضروری ہے اور سب سے اہم ہے۔کیونکہ وہ اس کائنات کا خالق و مالک اور تمام تر امور کی تدبیر کرنے والا ہے۔وہ زندہ جاوید ہستی ہے جو تمام کائنات کا نطام سنبھالے ہوئے ہے،اس نے ہر چیز کو پیدا کیا اور اپنی حکمت بالغہ سے اس کا اندازہ کیا۔انسان کو اشرف المخلوقات بنایا ،پھر انسان کو اپنے احسانات یاد کرائے کہ اے انسان !تجھ پر اس ذات کا حق ہے جس نے نعمتوں کے ساتھ تیری پرورش کی۔تو اپنی ماں کے پیٹ میں تین طرح کے اندھیروں میں تھا۔جہاں مخلوقات میں کوئی بھی تجھے غذا یا ایسی اشیاء نہیں پہنچا سکتا تھا جو تیری افزائش اور زندگی کو قائم رکھنے والی ہوں۔اس نے ماں کی چھاتیوں میں وافر دودھ اتارا،تجھے اس کی راہ دکھلائی اور تیرے والدین کو تیرا محسن بنا دیا۔تیری امداد کی اور تجھے کامیاب کیا۔ارشاد باری تعالیٰ ہے: وَٱللَّهُ أَخْرَجَكُم مِّنۢ بُطُونِ أُمَّهَٰتِكُمْ لَا تَعْلَمُونَ شَيْا وَجَعَلَ لَكُمُ ٱلسَّمْعَ وَٱلْأَبْصَٰرَ وَٱلْأَفْدَةَ ۙ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ ﴿78﴾ ترجمہ: اور اللہ ہی نے تم کو تمہاری ماؤں کے شکم سے پیدا کیا کہ...

ان شاءاللہ لکھنے میں غلطی کرنا

بسم اللہ الرحمن الرحیم السلام علیکم ورحمتہ اللہ آ پ لوگوں نے اکثر کتابوں میں لفظ ان شاءاللہ کو اس طرح لکھا ہوا پڑھاہوگا انشاءاللہ اور جب کہ اس طرح لکھنے سے اس کا معنی بدل جاتا ہے۔ لفظ ان شاءاللہ کے اردو میں معنی بنتا ہے اگر اللہ نے چاہا اور جب کہ انشاء عربی میں کسی چیز کو بنانے کو کہتے ہیں اس طرح انشاءاللہ کے معنی بہت غلط بن جاتے ہیں ۔ہم لوگ عربی زبان سے واقفیت نہ رکھنے کی وجہ سے ایسی غلطیاں کر جاتے ہیں اللہ ہمیں معاف فرمائے آمین۔اللہ کا ارشاد ہے کہاِنَّآ اَنْشَاْنٰهُنَّ اِنْشَاۗءً 35۝ۙہم نے ان (کی بیویوں کو) خاص طور پر بنایا ہے۔الواقعہ:۳۵قَالَ اِنَّمَا يَاْتِيْكُمْ بِهِ اللّٰهُ اِنْ شَاۗءَ وَمَآ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِيْنَ 33 ؀جواب دیا کہ اسے بھی اللہ تعالٰی ہی لائے گااگر وہ چاہے اور ہاں تم اسے ہرانے والے نہیں ہو۔ھود:۳۳فَلَمَّا دَخَلُوْا عَلٰي يُوْسُفَ اٰوٰٓى اِلَيْهِ اَبَوَيْهِ وَقَالَ ادْخُلُوْا مِصْرَ اِنْ شَاۗءَ اللّٰهُ اٰمِنِيْنَ 99؀ۭپھر جب (سب کے سب) یوسف کے پاس پہنچے تو اس نے اپنے والدین کو (عزت و احترام کے ساتھ) اپنے پاس جگہ دی اور کہا، ''کہاگر اللہ نے چاہا تو...

جمع عثمانی رِوایات کے آئینے میں

نبی مکرمﷺ کی حدیث مبارکہ ’’خَیْرُ النَّاسِ قَرْنِيْ ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَھُمْ ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَھُمْ‘‘۔(صحیح البخاري: ۲۶۵۲) پر جب نظر پڑتی ہے تو سر احسان و نیازمندی کے ملے جلے تاثر ات سے جھک جاتا ہے کہ واقعتا آپﷺ، صحابہ رضی اللہ عنہم اور تابعین رحمہم اللہ کا زمانہ خیر القرون تھا، کیونکہ اس میں بنی نوع اِنسان کی راہ روی اور اسلام کی سربلندی کے لیے وہ محنتیں اور کوششیں ہوئی ہیں کہ جس کی مثال آئندہ جمیع قرون میں پیش کرنا مشکل ہے۔ یقینا وہ لوگ اس قابل تھے کہ اُنہیں یہ ذمہ داری سونپی جاتی کہ وہ دینِ الٰہی اور شرع اللہ کو اپنی مکمل تشریحات کے ساتھ آئندہ نسلوں تک منتقل کریں، بلا شبہ وہ طائفہ فائزہ اپنے اس مقصد میں بامراد ہوا ہے۔ان جملہ ذمہ داریوں میں سے اَہم ترین ذمہ داری یہ تھی کہ ہدایت سماوی کے آخری ربانی صحیفہ کو محفوظ اور غیر متبدل شکل میں ہم تک پہنچایا جائے۔ ہمارا یہ قطعی ایمان ہے کہ وہ پیام اَیزدی آج اپنی سو فیصد اَصلی اور حقیقی شکل میں ہمارے درمیان موجود ہے۔ الحمد ﷲ علی ذلک۔اِس سلسلہ میں خیرالقرون میں جو سب سے اَہم کام ہوا ہے وہ سیدنا عثمان ذوالنورین رضی ال...

دین اسلام میں رسول اللہ ﷺ کی اطاعت فرض ہے

بسم اللہ الرحمن الرحیم دین اسلام میں رسول اللہ ﷺ کی اطاعت فرض ہے يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ أَطِيعُوا۟ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ وَلَا تَوَلَّوْا۟ عَنْهُ وَأَنتُمْ تَسْمَعُونَ ﴿20﴾ترجمہ: اے ایمان والو الله اور اس کے رسول کا حکم مانو اور سن کر اس سے مت پھرو(سورۃ الانفال،آیت20) قُلْ أَطِيعُوا۟ ٱللَّهَ وَأَطِيعُوا۟ ٱلرَّسُولَ ۖ فَإِن تَوَلَّوْا۟ فَإِنَّمَا عَلَيْهِ مَا حُمِّلَ وَعَلَيْكُم مَّا حُمِّلْتُمْ ۖ وَإِن تُطِيعُوهُ تَهْتَدُوا۟ ۚ وَمَا عَلَى ٱلرَّسُولِ إِلَّا ٱلْبَلَٰغُ ٱلْمُبِينُ﴿56﴾ترجمہ: کہہ دو الله اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرو پھر اگر منہ پھیرو گے تو پیغمبر تو وہی ہے جس کا وہ ذمہ دار ہے اورتم پر وہ ہے جو تمہارے ذمہ لازم کیا گیا ہے اور اگر اس کی فرمانبرداری کرو گے تو ہدایت پاؤ گے اور رسول کے ذمہ صرف صاف طور پر پہنچا دینا ہے (سورۃ النور،آیت 56) مَّن يُطِعِ ٱلرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ ٱللَّهَ ۖ وَمَن تَوَلَّىٰ فَمَآ أَرْسَلْنَٰكَ عَلَيْهِمْ حَفِيظًۭا ﴿80﴾ترجمہ: جو شخص رسول کی فرمانبرداری کرے گا تو بےشک اس نے اللہ کی فرمانبرداری کی اور جو نافرمانی کرے گا تو اے ...

Mashaikh E Naqshbandia Mujadidia

  Download

دعا؛ اہمیت ، آداب اور قبولیت کی شرطیں

مخلوق جلبِ منفعت اور اپنے دین ودنیا کی اصلاح کے لیے اپنے رب کی محتاج ہے۔ بندہ ان آزمائشوں سے جو اس پر نازل ہوتی ہیں اور جو اسے ہمیشہ کے لیے اپنے رب کا محتاج بناتی ہیں بچ نہیں سکتا ہے۔ اسی وجہ سے اللہ نے اس کے لیے دعا کرنے کو مشروع قرار دیا ہے۔ اور اس کے لیے آداب وشروط اور مستحب اوقات مقرر کر دیے ہیں۔ ان وقتوں میں دعا قبولیت کے زیادہ قریب ہوتی ہے۔ الحمد للہ کفی وسلام علی عبادہ الذین اصطفی أمابعد!معزز برادرانِ  اسلام!انسان جب رحم مادر میں نطفہ کی شکل میں قرار پاتا ہے اسی وقت سے وہ حاجتوں اور ضرورتوں کا غلام بن جاتا ہے اور اس کی ضرورتوں اور حاجتوں کا یہ لامتناہی سلسلہ   اس کی زندگی  کی آخری سانس تک ختم  نہیں ہوتا۔ وہ مرنے کے بعد بھی دوسروں  کا محتاج  ہوتاہے۔ اس  کی محتاجی اور ضرورت مندی  کبھی ختم  نہیں  ہوتی۔  ویسے تو انسان دنیا میں آنے کے بعد قدم قدم پر  اپنے ہی  جیسے  دوسرے  انسانوں کا بھی ضرورت مند ہوتا ہے؛ لیکن  سب سے زیادہ  ضرورت  مندوہ  اپنے خالق  حقیقی  کا ہوتا ہے۔ ...

کیا میڈیا کے حوالے سے ہم یونہی سوئے رہیں گے ؟

یوسف علیہ السلام پر ایرانی ڈرامہ سیریل کیا ہم انہیں اسلام کا ترجمان بنا رہنے دیں؟ ’حزب اللہ‘ لبنان کی ایک مشہور رافضی جماعت ہے، جس کا سربراہ حسن نصر اللہ نام کی ایک شخصیت ہیں۔ لبنان میں اِس تنظیم کا ایک ٹی وی چینل ہے جو ”المنار“ کے نام سے کام کرتا ہے اور ایک عشرے سے زائد عرصہ کام کرنے کے بعد بڑا نام کما چکا ہے۔ حسن نصر اللہ فخر سے سر عام کہتے ہیں کہ وہ اور انکی یہ تنظیم ’قم کی ولایت فقیہ‘ کے تابع ہیں۔گزشتہ رمضان میں حزب اللہ کے اِس ٹی وی چینل سے ایک ڈرامہ سیریل چلائی گئی جسکا عنوان تھا: ”یوسف الصدیق“۔ یہ اِس قدر ایک دلچسپ ڈرامہ سیریل تھی کہ عالم عرب کی ایک کثیر تعداد اِس کی نئی قسط کا انتظار کر رہی ہوتی تھی، خصوصاً خواتین اور نوجوان۔ اس کا انتظار کرنے والے بالعموم وہ ’دینی ذہن‘ رکھنے والے طبقے ہوتے تھے جو میڈیا میں اسلامی پروگراموں کی کمی محسوس کرتے ہیں! اِس ڈرامہ سیریل کے ختم ہونے کے بعد میں پورے دو ماہ تک انتظار کرتا رہا کہ اِس پر اہل سنت حلقوں کی طرف سے کوئی رد آئے، تاکہ میں کچھ لکھوں تو سنی حلقوں کے اِس رد عمل ہی کے حوالے سے لکھوں، مگر میں کسی زوردار رد عمل کو دیکھنے ...

جمع قرآن اور اس کی تدوین

جمع قرآن اور اس کی تدوین جمع قرآن سے مراد قرآن کریم کا جمع کرنا۔ خواہ حفظ سے ہو یا کتابت سے یا تلاوت کی ریکارڈنگ سے۔ اور تدوین سے مراد اس کو کتابی صورت میں ترتیب دینا ہے۔ان سب مراحل کی ایک دل چسپ معلوماتی تاریخ ہے جسے ایک طالب علم کے لئے جاننا بہت اہم ہے۔تاکہ وہ آگاہ رہے کہ یہ مقدس کتاب کس طرح کن کن ادوار سے گذر کر محفوظ ترین صورت میں ہم تک پہنچی؟مقصد جمع قرآن: جمع قرآن کا مقصد یہی تھا کہ جس طرح قرآن مجید آپ ﷺ پر اترا ہے اور جس طرح آپ نے اسے پڑھا یا سکھایا ہے اسے لکھ کر محفوظ کرلیا جائے۔ یہ اللہ کا حکم تھا تاکہ مستقبل میں ممکنہ اختلاف جو قراءت یا اس کے الفاظ ، ترتیب اور لغت میں پیدا ہوسکتا ہے وہ نہ ہوسکے۔ اللہ تعالیٰ نے خود بھی اس کی حفاظت کی ذمہ داری لی مگر اس حفاظت کا کام صحابہ رسول اور امت کے قراء وحفاظ سے بھی لیا۔جمع قرآن کی دلیل: آپ ﷺ قرآن کی تنزیل میں سخت شدت محسوس کیا کرتے۔ اور اپنے ہونٹوں کو حرکت دیا کرتے تھے۔ جیسا کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت صحیحین میں ہے۔تو اللہ تعالیٰ نے ابتداء میں ہی یہ فرمادیا : {لَا تُحَرِّكْ بِہٖ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ...