Skip to main content

Posts

دین اسلام میں رسول اللہ ﷺ کی اطاعت فرض ہے

بسم اللہ الرحمن الرحیم دین اسلام میں رسول اللہ ﷺ کی اطاعت فرض ہے يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ أَطِيعُوا۟ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ وَلَا تَوَلَّوْا۟ عَنْهُ وَأَنتُمْ تَسْمَعُونَ ﴿20﴾ترجمہ: اے ایمان والو الله اور اس کے رسول کا حکم مانو اور سن کر اس سے مت پھرو(سورۃ الانفال،آیت20) قُلْ أَطِيعُوا۟ ٱللَّهَ وَأَطِيعُوا۟ ٱلرَّسُولَ ۖ فَإِن تَوَلَّوْا۟ فَإِنَّمَا عَلَيْهِ مَا حُمِّلَ وَعَلَيْكُم مَّا حُمِّلْتُمْ ۖ وَإِن تُطِيعُوهُ تَهْتَدُوا۟ ۚ وَمَا عَلَى ٱلرَّسُولِ إِلَّا ٱلْبَلَٰغُ ٱلْمُبِينُ﴿56﴾ترجمہ: کہہ دو الله اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرو پھر اگر منہ پھیرو گے تو پیغمبر تو وہی ہے جس کا وہ ذمہ دار ہے اورتم پر وہ ہے جو تمہارے ذمہ لازم کیا گیا ہے اور اگر اس کی فرمانبرداری کرو گے تو ہدایت پاؤ گے اور رسول کے ذمہ صرف صاف طور پر پہنچا دینا ہے (سورۃ النور،آیت 56) مَّن يُطِعِ ٱلرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ ٱللَّهَ ۖ وَمَن تَوَلَّىٰ فَمَآ أَرْسَلْنَٰكَ عَلَيْهِمْ حَفِيظًۭا ﴿80﴾ترجمہ: جو شخص رسول کی فرمانبرداری کرے گا تو بےشک اس نے اللہ کی فرمانبرداری کی اور جو نافرمانی کرے گا تو اے ...

اللہ کے ایک ہونے کا مطلب

بسم اللہ الرحمن الرحیم. اللہ کے ایک ہونے کا مطلب کیا ہے؟کلمے کا سادہ مطلب: کلمۂ طیبہ لَا اِلٰہ اِلا اللہ کا مفہوم یوں بھی بیان کیا جاتا ہے کہ ''اللہ ایک ہے''، یا ''اللہ کا کوئی شریک نہیں ہے''۔ اور یہی مفہوم سورئہ اخلاص (قُلْ ھُوَ اﷲُ اَحَدٌ) میں بھی پایا جاتا ہے۔ ہر کلمہ پڑھنے والا، چاہے وہ کسی گروہ سے تعلق رکھتا ہو، اس مفہوم کا قائل ہوتا ہے اور اسے اسلام کی بنیاد سمجھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ایک اور اکیلا ہونا ایک بڑا اور وسیع لفظ ہے جس میں کچھ اہم باتیں اور مفاہیم شامل ہیں۔ محض اتنا کہہ دینے سے کہ ''اللہ ایک ہے''، اللہ کے ایک کہلانے کا حق ادا نہیں ہو سکتا جب تک اس ''ایک ہونے'' کی مراد اور حقیقت کو نہ پہنچا جائے۔ تمام قومیں اللہ کو ایک مانتی ہیں: ہندو، سکھ، پارسی، عیسائی، یہودی، مجوسی وغیرہ سب کے سب نہ صرف اللہ کے وجود کو مانتے ہیں بلکہ اس کے ایک ہونے کے بھی قائل ہیں۔ اس کے باوجود یہ سب مشرک ہیں۔ اللہ کے آخری پیغمبر محمد رسول اللہ e کے دور میں مکہ کے مشرکین بھی اللہ کو ایک مانتے تھے۔ قرآن مجید میں کئی جگہ اس کی وض...

اللہ تعالیٰ نے بڑا عمدہ کلام نازل فرمایا ہے !!!

قرآن مجید !!! قرآن مجید کیا ہے ؟ الحمد للہ: قرآن مجید کلام اللہ ہے جسے اللہ تعالی نے اپنے نبی محمدصلی اللہ علیہ وسلم پرنازل فرمایا تاکہ وہ لوگوں کو گمراہی سے نوروھدایت کی طرف نکالے- جیسا کہ اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے : { وہ اللہ تعالی ہی ہے جو اپنے بندے پرواضح آیات اتارتا ہے تاکہ وہ تمہیں اندھیروں سے نور کی طرف لے جاۓ } الحدید ( 9 ) ۔ اللہ تبارک وتعالی نے قرآن مجید میں پہلے اور آخری لوگوں اور زمین وآسمان کی پیدائش کی خبریں دی ، اور اس میں حلال وحرام اور آداب واخلاق کے اصول ، اور عبادات و معاملات کے احکام ، انبیاء وصالحین کی سیرت ، کافروں اور مومنوں کی جزاوسزا ، مومنین کے گھر جنت کا وصف اور کافروں کے گھر جہنم کا تفصیلی بیان ہے اور اسے ہرچيز کے بیان کرنے والا بنایا ۔ اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے : { اور ہم نے آپ پریہ کتاب نازل فرمائ ہے جس میں ہرچیزکا کافی وشافی بیان ہے اور مسلمانوں کے لیے رحمت وخوشخبری ہے } النحل ( 89 ) ۔ قرآن مجید میں اللہ تعالی کے اسماء وصفات اور اس کی مخلوقات اور اللہ تعالی اس کےفرشتوں اورکتابوں اوررسولوں اورآخرت کے دن پرایمان کی د...

کیا میڈیا کے حوالے سے ہم یونہی سوئے رہیں گے ؟

یوسف علیہ السلام پر ایرانی ڈرامہ سیریل کیا ہم انہیں اسلام کا ترجمان بنا رہنے دیں؟ ’حزب اللہ‘ لبنان کی ایک مشہور رافضی جماعت ہے، جس کا سربراہ حسن نصر اللہ نام کی ایک شخصیت ہیں۔ لبنان میں اِس تنظیم کا ایک ٹی وی چینل ہے جو ”المنار“ کے نام سے کام کرتا ہے اور ایک عشرے سے زائد عرصہ کام کرنے کے بعد بڑا نام کما چکا ہے۔ حسن نصر اللہ فخر سے سر عام کہتے ہیں کہ وہ اور انکی یہ تنظیم ’قم کی ولایت فقیہ‘ کے تابع ہیں۔گزشتہ رمضان میں حزب اللہ کے اِس ٹی وی چینل سے ایک ڈرامہ سیریل چلائی گئی جسکا عنوان تھا: ”یوسف الصدیق“۔ یہ اِس قدر ایک دلچسپ ڈرامہ سیریل تھی کہ عالم عرب کی ایک کثیر تعداد اِس کی نئی قسط کا انتظار کر رہی ہوتی تھی، خصوصاً خواتین اور نوجوان۔ اس کا انتظار کرنے والے بالعموم وہ ’دینی ذہن‘ رکھنے والے طبقے ہوتے تھے جو میڈیا میں اسلامی پروگراموں کی کمی محسوس کرتے ہیں! اِس ڈرامہ سیریل کے ختم ہونے کے بعد میں پورے دو ماہ تک انتظار کرتا رہا کہ اِس پر اہل سنت حلقوں کی طرف سے کوئی رد آئے، تاکہ میں کچھ لکھوں تو سنی حلقوں کے اِس رد عمل ہی کے حوالے سے لکھوں، مگر میں کسی زوردار رد عمل کو دیکھنے ...

کہاں گئے اُن کے مشکل کشا !

وَلَقَدْ أَهْلَكْنَا مَا حَوْلَكُم مِّنَ الْقُرَىٰ وَصَرَّفْنَا الْآيَاتِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ ﴿٢٧﴾سورة الأحقافاور یقیناً ہم نے تمہارے آس پاس کی بستیاں تباه کر دیں اور طرح طرح کی ہم نے اپنی نشانیاں بیان کر دیں تاکہ وه رجوع کر لیں (27)تفسیر احسن البیان (حافظ صلاح الدین یوسف حفظہ اللہ) :آس پاس سے عاد، ثمود اور لوط کی وہ بستیاں مراد ہیں جو حجاز کے قریب ہی تھیں، یمن اور شام و فلسطین کی طرف آتے جاتے ان سے ان کا گزر ہوتا تھا۔یعنی ہم نے مختلف انداز سے اور مختلف انوواع کے دلائل ان کے سامنے پیش کئے کہ شاید وہ توبہ کرلیں۔ لیکن وہ ٹس سے مس نہیں ہوئے۔فَلَوْلَا نَصَرَهُمُ الَّذِينَ اتَّخَذُوا مِن دُونِ اللَّـهِ قُرْبَانًا آلِهَةً ۖ بَلْ ضَلُّوا عَنْهُمْ ۚ وَذَٰلِكَ إِفْكُهُمْ وَمَا كَانُوا يَفْتَرُونَ ﴿٢٨﴾سورة الأحقافپس قرب الٰہی حاصل کرنے کے لئے انہوں نے اللہ کے سوا جن جن کو اپنا معبود بنا رکھا تھا انہوں نے ان کی مدد کیوں نہ کی؟ بلکہ وه تو ان سے کھو گئے، (بلکہ دراصل) یہ ان کا محض جھوٹ اور (بالکل) بہتان تھا (28)تفسیر احسن البیان :یعنی جن معبودوں کو وہ تقرب الہی کا ذریعہ سمجھتے تھےانہوں ...

تلاوتِ قرآن کی فضیلت

عن ابی امامہ رضی اللہ عنہ قال: سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول: اقرووا القرآن فانہ یاتی یوم القیامة شفیعا لاصحابہ (رواہ مسلم )ترجمہ : حضر ت ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :" قرآن کثرت سے پڑھا کرو، اس لیے کہ قیامت والے دن یہ اپنے پڑھنے والے ساتھیوں کے لیے سفارشی بن کر آئے گا۔" (مسلم)تشریح: اس میں قرآن مجید کی تلاوت اور اس پر عمل کرنے کی فضیلت کا بیان ہے ، کیونکہ عمل کے بغیر محض خوش الحانی سے پڑھ لینے کی اللہ کے ہاں کوئی قیمت نہیں ہوگی ، سفارشی کا مطلب ہے کہ اللہ تعالی قرآن مجید کو قوت گویائی عطافرمائے گا اوروہ اپنے قاری اور عامل کے گناہوںکی مغفرت کا اللہ سے سوال کرے گا ' جسے اللہ قبول فرمائے گا ۔عن عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خیرکم من تعلم القرآن وعلمہ (رواہ البخاری )ترجمہ : عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:" تم میں سب سے بہتر وہ شخص ہے جو قرآن سیکھے اور اسے سکھلائے ۔" (بخاری )تشریح: اس میں قرآن کریم کی تعلیم ...

کتاب اللہ کی کون سی آیت سب سے عظیم ہے؟

آیۃ الکرسی کی فضیلت !!! آیۃ الکرسی کی کیااھمیت ہے ؟ اور کیا اس آیت کی عظمت پرکوئ دلیل وارد ہے ؟ الحمد للہ ابن کثیررحمہ اللہ تعالی سورۃ البقرۃ کی آیۃ الکرسی کی تفسیرکرتےہو‏ۓ کہتے ہیں : یہ آیۃ الکرسی ہے جس کی فضیلت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح حدیث میں ہے کہ کتاب اللہ میں یہ آیت سب سے افضل آیت ہے ۔ ابی بن کعب رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نےان سے سوال کیا کہ کتاب اللہ میں سب سے عظیم آیت کونسی ہے ؟ تو وہ کہنے لگے کہ اللہ اور اس کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم کوہی زیادہ علم ہے ، یہ سوال کئ باردھرایا اور پھر فرمانےلگے کہ وہ آیت الکرسی ہے ۔ فرمانے لگے اے ابوالمنذر علم مبارک ہو اس ذات کی قسم جس کےھاتھ میں میری جان ہے اس آیت کی زبان اور ہونٹ ہونگے عرش کے پاۓ کے ہاں اللہ تعالی کی پاکی بیان کررہی ہوگی ۔ اور غالبا مسلم نے والذی نفسی سے آگے والے الفاظ نہیں ہیں ۔ عبداللہ بن ابی بن کعب رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ ان کے والد کے پاس کھجوریں رکھنے کی جگہ تھی ، عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں میرے والد اس کاخیال رکھتے تھے تو...