Skip to main content

کیا میڈیا کے حوالے سے ہم یونہی سوئے رہیں گے ؟

یوسف علیہ السلام پر ایرانی ڈرامہ سیریل
کیا ہم انہیں اسلام کا ترجمان بنا رہنے دیں؟

’حزب اللہ‘ لبنان کی ایک مشہور رافضی جماعت ہے، جس کا سربراہ حسن نصر اللہ نام کی ایک شخصیت ہیں۔ لبنان میں اِس تنظیم کا ایک ٹی وی چینل ہے جو ”المنار“ کے نام سے کام کرتا ہے اور ایک عشرے سے زائد عرصہ کام کرنے کے بعد بڑا نام کما چکا ہے۔ حسن نصر اللہ فخر سے سر عام کہتے ہیں کہ وہ اور انکی یہ تنظیم ’قم کی ولایت فقیہ‘ کے تابع ہیں۔گزشتہ رمضان میں حزب اللہ کے اِس ٹی وی چینل سے ایک ڈرامہ سیریل چلائی گئی جسکا عنوان تھا: ”یوسف الصدیق“۔ یہ اِس قدر ایک دلچسپ ڈرامہ سیریل تھی کہ عالم عرب کی ایک کثیر تعداد اِس کی نئی قسط کا انتظار کر رہی ہوتی تھی، خصوصاً خواتین اور نوجوان۔ اس کا انتظار کرنے والے بالعموم وہ ’دینی ذہن‘ رکھنے والے طبقے ہوتے تھے جو میڈیا میں اسلامی پروگراموں کی کمی محسوس کرتے ہیں!
اِس ڈرامہ سیریل کے ختم ہونے کے بعد میں پورے دو ماہ تک انتظار کرتا رہا کہ اِس پر اہل سنت حلقوں کی طرف سے کوئی رد آئے، تاکہ میں کچھ لکھوں تو سنی حلقوں کے اِس رد عمل ہی کے حوالے سے لکھوں، مگر میں کسی زوردار رد عمل کو دیکھنے کا انتظار ہی کرتا رہا۔ کہیں اِس پر کچھ دیکھا تو نہایت بے جان اور سطحی قسم کی چند ایک باتیں۔ حالانکہ ایسا نہیں کہ رافضی میڈیا کے پروگرام کوئی ’ناقابل توجہ‘ ہوں۔ یہ پروگرام نہایت معیاری انداز میں پیش کئے جاتے ہیں اور ان کی تیاری پر ڈھیروں محنت کی گئی ہوتی ہے۔ خصوصاً کبھی آپ ان کے وہ پروگرام دیکھیں جو یہ اپنے رافضی مفہومات کو ذہنوں کے اندر بٹھانے کیلئے ان چینلوں پر دیتے ہیں، بطور خاص ان کے وہ فیچر پروگرام جو انبیائے کرام کی سیرت کو نمایاں کرنے کیلئے دیے جاتے ہیں، نیز وہ پروگرام جو یہ آل بیت میں سے کچھ شخصیات پر دیتے ہیں۔
رافضی چینل اِس وقت دنیا بھر میں یوں دھڑا دھڑ کھل رہے ہیں گویا برسات میں کھمبیاں اگ رہی ہوں۔ یہاں تک کہ ایک مختصر عرصے میں ان کی تعداد (عربی زبان میں) تیس تک پہنچ گئی ہے۔ یہ چینل جی بھر کر گمراہ کن مواد دے رہے ہیں، قرآن مجید، رسالت مآب ﷺ، اور آلِ بیت ایسے سب برگزیدہ موضوعات پر صبح شام باطل نشر کر رہے ہیں، جبکہ صحابہ اور امہات المؤمنین ایسے موضوعات پر تو اپنا کینہ چھپانا ان کے بس میں ہی نہیں۔ البتہ میں سمجھتا ہوں، یہ ڈرامہ رافضی چینلز کے نشر کردہ ان تمام پروگراموں سے زیادہ خطرناک رہا، جو پچھلے کچھ عرصہ میں ان کی جانب سے نشر کئے گئے۔
کہنے کو آپ کہہ سکتے ہیں کہ یوسف علیہ السلام پر دیا گیا ایک ’سیریل ڈرامہ‘ ان کی معروف مذہبی شخصیات کے اُس تبرا سے زیادہ خطرناک کیسے ہو سکتا ہے جس میں صحابہ و امہات المؤمنین کے خلاف جی کھول کر بغض اگل دیا گیا ہوتا ہے۔ میرا مقصد بھی یہ نہیں کہ ان کا وہ بغض جو ان کی مجالس اور تقاریر میں برہنہ طور پر نکالا گیا ہوتا ہے، کوئی معمولی چیز ہے۔ مگر وہ ایک برہنہ چیز ہے، اور اس کا اثر اہلسنت عوام کے کچے ذہنوں پر بہت زیادہ شاید نہ ہوتا ہو۔ البتہ رافضیوں کی تیار کردہ فلمیں اور ڈرامے تو گویا زہر میں بجھے ہوئے نشتر ہیں اور کسی ’وائرس‘ کی طرح اپنا چھپا ہوا کینہ پھیلانے کیلئے کام میں لائے جاتے ہیں۔
ان فیچر پروگراموں کا موضوع ایسی شخصیات کو بنایا جاتا ہے جو جملہ مسلمانوں کے ہاں مقدس و قابل احترام ہیں۔ البتہ یہ لوگ ’تقیہ‘ کے ہنر سے لیس ہوتے ہیں اور یہیں سے اپنے نقب لگانے اور اپنے افکار کا ’میٹھا زہر‘ذہنوں میں اتارنے کے مواقع تلاش کرتے ہیں۔ ’دینی شخصیات‘ پر رافضی چینلز کے یہ فیچر پروگرام کچھ اِس وجہ سے بھی کامیاب جاتے ہیں، کہ مسلم ملکوں کا سیکولر میڈیا بالعموم جن شخصیات کو اپنے فیچر پروگراموں کا موضوع بناتا ہے وہ سرے سے ہی کچھ ’ناقابل احترام‘ شخصیات ہوتی ہیں، مانند کچھ گلوکار، کھیلوں کے ہیرو، اداکار اور سیاستدان وغیرہ! رہی ”اسلامی شخصیات“ تو ان پر پروگرام پیش کرنے کیلئے اب صرف ’رافضی چینل‘ ہیں۔ یہاں تک کہ ہمارا ’قومی میڈیا‘ اسلام کی تاریخی شخصیات پر کوئی پروگرام پیش کرتا ہے تو وہاں بھی ایسے ایسے گل کھلاتا ہے کہ آدمی کو ابکائی آنے لگے۔ (بطورِ مثال، ایک اسلامی ملک کے قومی ٹی وی چینل نے اب سے کچھ عرصہ پہلے محمد بن قاسمؒ پر ایک ڈرامہ سیریل دکھائی، تو ڈرامہ کا بڑا حصہ محمد بن قاسمؒ کے ’عشق و معاشقہ‘ کیلئے مخصوص رکھا گیا تھا، کہ کیونکر محمد بن قاسم کی تمام تر جولانی ایک افغان شہزادی کو پانے اور اس کے باپ کو متاثر کرنے ایسے ’رومانوی‘ جذبے کے زیر اثر تھی، پورا ڈرامہ محمد بن قاسم کے ’عشق‘ کے گرد گھوم رہا تھا، دیکھتے ہی دیکھتے ’درمیان میں‘ فتح سندھ کا واقعہ بھی رونما ہو گیا....!)
یعنی سیکولر میڈیا سے کسی وقت جان چھوٹے تو اس کا ’مذہبی‘ و ’روحانی‘ متبادل رافضی میڈیا....!
پھر ایرانی پروڈکشنز کو جو چیز دیگر ’اسلامی ملکوں کے چینلز‘ سے ممتاز کرتی ہے وہ یہ کہ ان میں آنے والی فنکاراؤں کا پورا جسم مستور ہوتا ہے اور صرف چہرہ اور دونوں ہاتھ کھلے ہوتے ہیں۔ جبکہ ’عام چینلز‘ میں ’مستورات‘ کے تن پر جو ’ملبوسات‘ ہوتے ہیں وہ وہی ہیں جو گھروں کے اندر باپ اور بھائی کے سامنے بھی نہ پہنے جا سکتے ہوں! ایسے میں رافضی میڈیا ایک ’نعمت غیر مترقبہ‘ نہ ہو تو کیا ہو؟!
اب آتے ہیں ”یوسف علیہ السلام “ پر دیے گئے ایرانی ٹی وی ڈرامہ پر، جس کو بعد ازاں عربی زبان میں ڈبنگ کر کے المنار ٹی وی پر چلایا گیا تھا....
سب سے پہلے تو سوال یہی ہے کہ کیا خدا کے دو عظیم نبیوں یعقوب علیہ السلام اور یوسف علیہ السلام کی شخصیت کو فلمانا، یعنی کچھ بہروپیوں اور اداکاروں کا یعقوب علیہ السلام اور یوسف علیہ السلام کا روپ دھارنا جائز ہے؟ معاصر علمائے اسلام کا اس بات کے حرام ہونے پر اجماع ہے کہ کوئی شخص نبی بن کر اداکاری کرے اور ایک نبی کی صورت میں ٹی وی یا سینما سکرین پر نمودار ہو۔آج یعقوب علیہ السلام اور یوسف علیہ السلام کے کردار کو اداکاروں کے ذریعے فلمایا گیا ہے تو کل کو کسی اور نبی پر بھی ’ڈرامہ‘ کیا جا سکتا ہے۔ یعنی ’فلاں‘ اور ’فلاں‘ فلمی ہیرو کو اب ہم ایک ”رسول“ کے کردار میں بھی دیکھنے لگیں گے؟ تو کیا یہ ایک سوچی سمجھی رافضی کوشش ہے کہ میڈیا کی دنیا میں اس بات کیلئے راہ ہموار کی جائے کہ کسی دن کوئی بدبخت خاتم الانبیاءﷺ کی بابت بھی ایسی جسارت کرے؟؟؟
جو شخص اِس گروہ کو اندر سے جانتا ہے، اور اس بات سے بھی واقف ہے کہ کیسی کیسی جلیل القدر ہستیوں کی مورتیں ان کے ہاں پائی جاتی ہیں، وہ ضرور یہ کہے گا کہ رافضیوں سے ایسی کوئی چیز بھی بعید نہیں۔
پھر ڈرامہ میں یعقوب علیہ السلام کے منہ سے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کیلئے ’ولایت‘ کی بشارت کہلوائی جاتی ہے۔ یعنی ان کے سفید جھوٹ جو ان کی کتابوں میں گھڑے گئے ہیں، اب انبیاءکی زبان سے لوگوں کو سنوائے جائیں گے! معاذ اللہ۔
ڈرامہ چلتا ہے تو اس میں یوسف علیہ السلام کو یعقوب علیہ السلام سے افضل بتایا جاتا ہے، اس لئے کہ یعقوب علیہ السلام صرف نبی ہیں، جبکہ یوسف علیہ السلام نبی بھی ہیں اور ولی بھی! تاکہ ان پڑھ جاہل ’ناظرین‘ کے ذہنوں کے اندر اپنا یہ عقیدہ راسخ کرا دیا جائے کہ ولی مرتبے میں نبی سے بڑھا ہوا ہوتا ہے۔
ڈرامہ میں جب وہ موڑ آتا ہے کہ برادارنِ یوسفؑ اپنے والد سے اپنے قصور پر معذرت کرنے آتے ہیں تو والد گرامی ان کو معاف کرنے سے انکار کر دیتے ہیں، جوکہ ظاہر ہے کہ صاف جھوٹ ہے اور قرآن مجید کی تکذیب ہے۔
قرآن میں صاف کہا گیا ہے کہ بیٹوں نے یعقوب علیہ السلام سے اپنے لئے استغفار کرنے کو کہا، تو آپؑ نے بیٹوں کی یہ درخواست قبول فرمائی:
فَلَمَّا أَن جَاء الْبَشِيرُ أَلْقَاهُ عَلَى وَجْهِهِ فَارْتَدَّ بَصِيرًا قَالَ أَلَمْ أَقُل لَّكُمْ إِنِّي أَعْلَمُ مِنَ اللّهِ مَا لاَ تَعْلَمُونَ۔  قَالُواْ يَا أَبَانَا اسْتَغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا إِنَّا كُنَّا خَاطِئِينَ۔  قَالَ سَوْفَ أَسْتَغْفِرُ لَكُمْ رَبِّيَ إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ ۔ (یوسف: 96- 98)
”پھر جب بشارت لانے والا آیا تو اس نے وہ (قمیص) اس کے چہرے پر ڈالا، تب اس کی بصارت لوٹ آئی۔ کہنے لگا: کیا میں نے تم سے نہ کہا تھا: میں اللہ کے ہاں سے وہ کچھ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔ وہ کہنے لگے: اے ہمارے باپ! آپ ہمارے گناہوں کیلئے بخشش مانگئے، بے شک ہم خطاکار ہوئے ہیں۔ اس نے کہا : میں تمہارے لئے اپنے رب سے بخشش مانگوں گا، بے شک وہ بڑا معاف کرنے والا مہربانی کرنے والا ہے“۔
عام آدمی تو صرف یہی سمجھے گا کہ ڈرامہ میں محض کچھ تاریخی حقائق کو بلکہ قرآن کے بیان کردہ حقائق کو توڑا مروڑا گیا ہے۔ مگر شاید اس کی نظر اس بات کی طرف نہ جائے کہ ان تاریخی اور قرآنی حقائق کو توڑنے مروڑنے کی ضرورت ان لوگوں کو کیوں پیش آئی۔ ایک رافضی ڈرامہ میں آخر کیوں یہ دکھانا مشکل ہوا کہ یعقوب علیہ السلام نے اپنے بیٹوں کی زیادتیوں کو جو انہوں نے اپنے بھائی یوسف علیہ السلام کے ساتھ رَوا رکھیں اور پھر اپنے باپ کو بھی اس وجہ سے ساری زندگی دکھ میں مبتلا کر کے رکھا، بالآخر معاف کر دیا تھا؟
کیا اس کے پیچھے کوئی اور کہانی تو نہیں؟؟؟!
ایک صاحبِ نظر کیلئے اس بات کو پانا چنداں مشکل نہیں کہ رافضی ڈرامہ درحقیقت یوسف علیہ السلام کی شکل میں حضرت علیؓ کو پیش کر رہا تھا اور برادرانِ یوسفؑ کی صورت میں صحابۂ کرامؓ کو! یہ بات ہے تو برادرانِ یوسفؑ کے گناہ معاف ہو جانا تو کہانی کے سارے کلائمکس کو ہی برباد کر دیتا ہے!!! یہ سب آخر میں جا کر بھی اگر بھائی بھائی بن جاتے ہیں اور کوئی ایک گھڑی کیلئے بھی شیر و شکر نظر آتے ہیں، خصوصاً جہاں پر ’کہانی‘ کا اختتام ہوتا ہے، تو اُس ”تبرا“ میں جان کہاں سے آئے گی، جس کے بغیر پورا رافضی عقیدہ ہی ادھورا ہے؟!
یہ ساری محنت تو ہے ہی اسی بات کیلئے کہ کسی شخص کا مرتبہ و مقام ’منصوص من اللہ‘ ہے، اور وحی کے ذریعے اس کا اعلان کروا دیا گیا ہے، تو اب اس کی راہ میں روڑے اٹکانے اور اس کے ساتھ حسد کرنے اور اس کو اس منصب تک پہنچنے سے روکنے والے بھی اپنے ایک ’تاریخی کردار‘ کے ساتھ پہچان میں آ جائیں!
پس ’برادرانِ یوسفؑ‘ اگر آخر میں جا کر بخش دیے جاتے ہیں، تو ’ڈرامے‘ پر اتنی محنت کرنے کا فائدہ ہی کیا؟!!!!
کیا ہمارے اہل سنت طبقے ’میڈیا‘ کی بابت اب بھی سوئے رہیں گے؟ یہاں پر ایک اسلامی متبادل فراہم کرنے کے فرض سے غافل ہی رہیں گے؟ صرف گلے شکوے کرتے چلے جانا، کہ فلاں نے یہ کفر کر دیا، فلاں زندیق نے میڈیا میں یہ زہر گھولا، فلاں چینل پر اسلام کے خلاف یہ بجھا ہوا نشتر چلا، اور فلاں پروگرام میں خباثت کے فلاں اور فلاں دوررس منصوبے سامنے لائے گئے اور مسلسل لائے جا رہے ہیں.. یہ شکوے کرتے چلے جانا آخر کس مسئلہ کا حل ہے؟ اتنی بڑی بڑی جماعتیں، تنظیمیں اور ادارے آخر ہاتھ باندھ کر کیوں بیٹھے ہیں؟ آخر ہم لوگ پیچھے رہنے پر ہی کیوں مصر ہیں؟

Comments

Popular posts from this blog

Yusufzai (Pashtun tribe)

The  Yūsufzai  (also  Youssofzay ,  Yousefzai ,  Yousafzai ,  Esapzey ,  Yousufi , or  Yūsufi ) (Pashto:  يوسفزی ,Persian and Urdu:  یوسف زئی ) is one of the largest Pashtun (Afghans) tribes. The majority of the Yusufzai tribe reside in parts of Western Afghanistan, Khyber Pakhtunkhwa and Provincially Administered Tribal Areas near the Afghan-Pakistan border. They are the predominant population in the districts of Konar, Ningarhar, Mardan District, Dir, Swat,Malakand, Swabi, Buner, Shangla, Haripur District [Khalabat Town Ship and Tarbela] and in Mansehra and Battagram. There is also a Yusufzai clan of Dehwar tribe in the Mastung district of Balochistan who speak Persian with some mixture of Birahvi words. The descendants of Yusuf inhabit Konar, Jalalabad, Swat, Upper Dir, Lower Dir, Malakand Swabi and Mardan...

یہودی پروٹوکولز

Online Read یہودی پروٹوکولز ============================================== Online Read E Book یہودی پروٹوکولز ============================================== Download Free یہودی پروٹوکولز ---------------------------------------------------- Download Free یہودی پروٹوکولز ----------------------------------------------------

جمع عثمانی رِوایات کے آئینے میں

نبی مکرمﷺ کی حدیث مبارکہ ’’خَیْرُ النَّاسِ قَرْنِيْ ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَھُمْ ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَھُمْ‘‘۔(صحیح البخاري: ۲۶۵۲) پر جب نظر پڑتی ہے تو سر احسان و نیازمندی کے ملے جلے تاثر ات سے جھک جاتا ہے کہ واقعتا آپﷺ، صحابہ رضی اللہ عنہم اور تابعین رحمہم اللہ کا زمانہ خیر القرون تھا، کیونکہ اس میں بنی نوع اِنسان کی راہ روی اور اسلام کی سربلندی کے لیے وہ محنتیں اور کوششیں ہوئی ہیں کہ جس کی مثال آئندہ جمیع قرون میں پیش کرنا مشکل ہے۔ یقینا وہ لوگ اس قابل تھے کہ اُنہیں یہ ذمہ داری سونپی جاتی کہ وہ دینِ الٰہی اور شرع اللہ کو اپنی مکمل تشریحات کے ساتھ آئندہ نسلوں تک منتقل کریں، بلا شبہ وہ طائفہ فائزہ اپنے اس مقصد میں بامراد ہوا ہے۔ان جملہ ذمہ داریوں میں سے اَہم ترین ذمہ داری یہ تھی کہ ہدایت سماوی کے آخری ربانی صحیفہ کو محفوظ اور غیر متبدل شکل میں ہم تک پہنچایا جائے۔ ہمارا یہ قطعی ایمان ہے کہ وہ پیام اَیزدی آج اپنی سو فیصد اَصلی اور حقیقی شکل میں ہمارے درمیان موجود ہے۔ الحمد ﷲ علی ذلک۔اِس سلسلہ میں خیرالقرون میں جو سب سے اَہم کام ہوا ہے وہ سیدنا عثمان ذوالنورین رضی ال...

دین اسلام میں رسول اللہ ﷺ کی اطاعت فرض ہے

بسم اللہ الرحمن الرحیم دین اسلام میں رسول اللہ ﷺ کی اطاعت فرض ہے يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ أَطِيعُوا۟ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ وَلَا تَوَلَّوْا۟ عَنْهُ وَأَنتُمْ تَسْمَعُونَ ﴿20﴾ترجمہ: اے ایمان والو الله اور اس کے رسول کا حکم مانو اور سن کر اس سے مت پھرو(سورۃ الانفال،آیت20) قُلْ أَطِيعُوا۟ ٱللَّهَ وَأَطِيعُوا۟ ٱلرَّسُولَ ۖ فَإِن تَوَلَّوْا۟ فَإِنَّمَا عَلَيْهِ مَا حُمِّلَ وَعَلَيْكُم مَّا حُمِّلْتُمْ ۖ وَإِن تُطِيعُوهُ تَهْتَدُوا۟ ۚ وَمَا عَلَى ٱلرَّسُولِ إِلَّا ٱلْبَلَٰغُ ٱلْمُبِينُ﴿56﴾ترجمہ: کہہ دو الله اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرو پھر اگر منہ پھیرو گے تو پیغمبر تو وہی ہے جس کا وہ ذمہ دار ہے اورتم پر وہ ہے جو تمہارے ذمہ لازم کیا گیا ہے اور اگر اس کی فرمانبرداری کرو گے تو ہدایت پاؤ گے اور رسول کے ذمہ صرف صاف طور پر پہنچا دینا ہے (سورۃ النور،آیت 56) مَّن يُطِعِ ٱلرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ ٱللَّهَ ۖ وَمَن تَوَلَّىٰ فَمَآ أَرْسَلْنَٰكَ عَلَيْهِمْ حَفِيظًۭا ﴿80﴾ترجمہ: جو شخص رسول کی فرمانبرداری کرے گا تو بےشک اس نے اللہ کی فرمانبرداری کی اور جو نافرمانی کرے گا تو اے ...

قرآن حکیم کے نازل ہونے کی کیا غرض ہے

سورہ آلِ عمران هَـٰذَا بَيَانٌ لِّلنَّاسِ وَهُدًى وَمَوْعِظَةٌ لِّلْمُتَّقِينَ ﴿١٣٨﴾ یہ (قرآن) لوگوں کے لیے بیان صریح اور اہلِ تقویٰ کے لیے ہدایت اور نصیحت ہے۔ سورہ المآئدۃ يَا أَهْلَ الْكِتَابِ قَدْ جَاءَكُمْ رَسُولُنَا يُبَيِّنُ لَكُمْ كَثِيرًا مِّمَّا كُنتُمْ تُخْفُونَ مِنَ الْكِتَابِ وَيَعْفُو عَن كَثِيرٍ ۚ قَدْ جَاءَكُم مِّنَ اللَّـهِ نُورٌ وَكِتَابٌ مُّبِينٌ ﴿١٥﴾هْدِي بِهِ اللَّـهُ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَهُ سُبُلَ السَّلَامِ وَيُخْرِجُهُم مِّنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ بِإِذْنِهِ وَيَهْدِيهِمْ إِلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ ﴿١٦﴾  اے اہل کتاب! تمہارے پاس ہمارے پیغمبر (آخرالزماں) آ گئے ہیں کہ جو کچھ تم کتاب (الہٰی) میں سے چھپاتے تھے وہ اس میں سے بہت کچھ تمہیں کھول کھول کر بتا دیتے ہیں اور تمہارے بہت سے قصور معاف کر دیتے ہیں بےشک تمہارے پاس خدا کی طرف سے نور اور روشن کتاب آ چکی ہے۔جس سے خدا اپنی رضا پر چلنے والوں کو نجات کے رستے دکھاتا ہے اور اپنے حکم سے اندھیرے میں سے نکال کر روشنی کی طرف لے جاتا اور ان کو سیدھے رستہ پر چلاتا ہے۔ وَكَتَبْنَا عَلَيْه...

قراء توں کا اِختلاف اور منکرینِ حدیث

یہ ایک مسلّمہ اَمر ہے کہ قرآن مجید کی ایک سے زیادہ قراء تیں ثابت ہیں۔ لیکن اہلِ قرآن کہلانے والے منکرین حدیث ان اختلافِ قراء ات کو نہیں مانتے۔ وہ کہتے ہیں کہ قرآن کی صرف ایک ہی قراء ت ہے اور یہ کہ خود نبیﷺنے قرآن کو کتابی صورت میں مرتب اور مدوّن کیا اور اس پر اعراب و نقطے لگوائے تھے جبکہ یہ بات خلاف ِ واقعہ ہے۔جناب پرویز صاحب لکھتے ہیں:’’ہم سمجھتے ہیں کہ اس کے بعد ’اختلاف قراء ت‘ کے فتنہ کے متعلق کچھ سمجھنے کی ضرورت باقی نہیں رہتی‘‘(طلوع اسلام، ص۵۶، شمارہ جنوری ۱۹۸۲ء، لاہور)وہ مزید لکھتے ہیں :’’قرآن مجیدجس شکل میں ہمارے پاس موجود ہے اسے خود رسول اللہﷺنے اسی طرح مرتب اور مدوّن شکل میں اُمت کو دیا تھا۔‘‘(طلوع اسلام، ص۴۲، شمارہ جنوری۱۹۸۲ء، لاہور)اسی طرح ایک اور منکرِ حدیث رحمت اللہ طارق صاحب نے لکھا ہے :’’اختلاف قراء ت کا فتنہ ہی لے لیجئے جس کا مودودی صاحب جیسا شخص نہ صرف معترف اور معتقد ہے بلکہ سرگرم مبلغ اور پُرجوش ناشر ہے۔‘‘(اعجاز قرآن و اختلاف قراء ت، مرتبہ تمنا عمادی:۷۴۲) طارق صاحب نے مزید لکھا ہے :’’ لَوْ کَانَ مِنْ عِنْدِ غَیْرِ اﷲِ لَوَجَدُوْا فِیْہِ اخْتِلَافًا کَثِیْرًا ‘‘...

ان شاءاللہ لکھنے میں غلطی کرنا

بسم اللہ الرحمن الرحیم السلام علیکم ورحمتہ اللہ آ پ لوگوں نے اکثر کتابوں میں لفظ ان شاءاللہ کو اس طرح لکھا ہوا پڑھاہوگا انشاءاللہ اور جب کہ اس طرح لکھنے سے اس کا معنی بدل جاتا ہے۔ لفظ ان شاءاللہ کے اردو میں معنی بنتا ہے اگر اللہ نے چاہا اور جب کہ انشاء عربی میں کسی چیز کو بنانے کو کہتے ہیں اس طرح انشاءاللہ کے معنی بہت غلط بن جاتے ہیں ۔ہم لوگ عربی زبان سے واقفیت نہ رکھنے کی وجہ سے ایسی غلطیاں کر جاتے ہیں اللہ ہمیں معاف فرمائے آمین۔اللہ کا ارشاد ہے کہاِنَّآ اَنْشَاْنٰهُنَّ اِنْشَاۗءً 35۝ۙہم نے ان (کی بیویوں کو) خاص طور پر بنایا ہے۔الواقعہ:۳۵قَالَ اِنَّمَا يَاْتِيْكُمْ بِهِ اللّٰهُ اِنْ شَاۗءَ وَمَآ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِيْنَ 33 ؀جواب دیا کہ اسے بھی اللہ تعالٰی ہی لائے گااگر وہ چاہے اور ہاں تم اسے ہرانے والے نہیں ہو۔ھود:۳۳فَلَمَّا دَخَلُوْا عَلٰي يُوْسُفَ اٰوٰٓى اِلَيْهِ اَبَوَيْهِ وَقَالَ ادْخُلُوْا مِصْرَ اِنْ شَاۗءَ اللّٰهُ اٰمِنِيْنَ 99؀ۭپھر جب (سب کے سب) یوسف کے پاس پہنچے تو اس نے اپنے والدین کو (عزت و احترام کے ساتھ) اپنے پاس جگہ دی اور کہا، ''کہاگر اللہ نے چاہا تو...

جمع قرآن اور اس کی تدوین

جمع قرآن اور اس کی تدوین جمع قرآن سے مراد قرآن کریم کا جمع کرنا۔ خواہ حفظ سے ہو یا کتابت سے یا تلاوت کی ریکارڈنگ سے۔ اور تدوین سے مراد اس کو کتابی صورت میں ترتیب دینا ہے۔ان سب مراحل کی ایک دل چسپ معلوماتی تاریخ ہے جسے ایک طالب علم کے لئے جاننا بہت اہم ہے۔تاکہ وہ آگاہ رہے کہ یہ مقدس کتاب کس طرح کن کن ادوار سے گذر کر محفوظ ترین صورت میں ہم تک پہنچی؟مقصد جمع قرآن: جمع قرآن کا مقصد یہی تھا کہ جس طرح قرآن مجید آپ ﷺ پر اترا ہے اور جس طرح آپ نے اسے پڑھا یا سکھایا ہے اسے لکھ کر محفوظ کرلیا جائے۔ یہ اللہ کا حکم تھا تاکہ مستقبل میں ممکنہ اختلاف جو قراءت یا اس کے الفاظ ، ترتیب اور لغت میں پیدا ہوسکتا ہے وہ نہ ہوسکے۔ اللہ تعالیٰ نے خود بھی اس کی حفاظت کی ذمہ داری لی مگر اس حفاظت کا کام صحابہ رسول اور امت کے قراء وحفاظ سے بھی لیا۔جمع قرآن کی دلیل: آپ ﷺ قرآن کی تنزیل میں سخت شدت محسوس کیا کرتے۔ اور اپنے ہونٹوں کو حرکت دیا کرتے تھے۔ جیسا کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت صحیحین میں ہے۔تو اللہ تعالیٰ نے ابتداء میں ہی یہ فرمادیا : {لَا تُحَرِّكْ بِہٖ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ...

عورت، اسلام کی نظر میں

عورت جاہلیت میں نہایت ذلیل وحقیر چیز تھی یہاں تک کہ اسلام آیا تو اس نے اسے ایسی عزت وتکریم بخشی جس کی کوئی نظیر نہیں۔ اس نے جاہلیت کے مظالم سے اسے نجات دی اور اس کے حقوق کا ضامن وکفیل ہوا۔ اس نے عورت کو بہت سی دینی واجبات اور ثواب وعقاب میں اسے مردوں کے مساوی قرار دیا۔ چنانچہ اسے اسلام میں بہت زیادہ عزت وتکریم ملی ۔ إن الحمد لله، نحمده, ونستعينه، ونستغفره، ونعوذ بالله من شرور أنفسنا وسيئات أعمالنا، من يهده الله فلا مضل له، ومن يضلل فلا هادى له، وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له، وأشهد أن محمداً عبده ورسوله،وقد قال اللہ تبارک وتعالی فی محکم تنزیلہ، أعوذ باللہ من الشیطان الرجیم: (مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّن ذَكَرٍ أَوْ أُنثَىٰ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهُ حَيَاةً طَيِّبَةً ۖ وَلَنَجْزِيَنَّهُمْ أَجْرَهُم بِأَحْسَنِ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ) (النحل: 97)"جو شخص نیک عمل کرے مرد ہو یا عورت، لیکن باایمان ہو تو ہم اسے یقیناً نہایت بہتر زندگی عطا فرمائیں گے۔ اور ان کے نیک اعمال کا بہتر بدلہ بھی انہیں ضرور ضرور دیں گے۔"وقال النبی صلی اللہ علیہ وسلم: )إنما النساء شقائ...