Skip to main content

مجدد الف ثانی

شیخ احمد سرہندی المعروف مجدد الف ثانی (مکمل نام:شیخ احمد سر ہندی ابن شیخ عبدالا حد فاروقی) دسویں صدی ہجری کے نہایت ہی مشہور عالم و صوفی تھے ۔

زندگی

آپ 15 جون 1564ء بمطابق 14 شوال 971ھ میں سرہند، ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد شیخ عبد الاحد ایک ممتاز عالم دین تھے اور صوفی تھے۔ صغر سنی میں ہی قرآن حفظ کر کے اپنے والد سے علوم متداولہ حاصل کیے پھر سیالکوٹ جا کر مولانا کمال الدیّن کشمیری سے معقولات کی تکمیل کی اور اکابر محدثّین سے فن حدیث حاصل کیا ۔ آپ سترہ سال کی عمر میں تمام مراحل تعلیم سے فارغ ہو کر درس و تدریس میں مشغول ہوگئے ۔
تصوف میں سلسلہ چشتیہ کی تعلیم اپنے والد سے پائی، قادریہ سلسلہ کی شیخ سکندر کیتھلی اور سلسلہ نقشبندیہ کی تعلیم دہلی جاکر خواجہ باقی باللہ سے حاصل کی۔ 1599ء میں آپ نے خواجہ باقی باللہ کے ہاتھ پر بیعت کی۔ آپ کے علم و بزرگی کی شہرت اس قدر پھیلی کہ روم، شام، ماوراء النہر اورافغانستان وغیرہ تمام عالم اسلام کے مشائخ علماء اور ارادتمند آکر آپ سے مستفیذ ہوتے۔ یہاں تک کہ وہ ’’مجدد الف ثانی ‘‘ کے خطاب سے یاد کیے جانے لگے ۔ یہ خطاب سب سے پہلے آپ کے لیے ’’عبدالحکیم سیالکوٹی‘‘ نے استعمال کیا ۔ طریقت کے ساتھ وہ شریعت کے بھی سخت پابند تھے ۔ آپ کو مرشد کی وفات (نومبر 1603ء) کے بعد سلسلہ تقشبندیہ کی سربراہی کا شرف حاصل ہوا۔

مجدد کا لقب

بعض روایات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ہر ہزار سال کے بعد تجدید دین کے لئے اللہ تعالی ایک مجدد مبعوث فرماتا ہے۔ چنانچہ علماء کا اتفاق ہے کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز  کے بعد دوسرے ہزار سال کے مجدد آپ ہی ہیں اسی لئے آپ کو مجدد الف ثانی کہتے ہیں۔

شریعت کی پابندی

حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ مطلقاً تصوف کے مخالف نہیں تھے۔ آپ نے ایسے تصوف کی مخالفت کی جو شریعت کے تابع نہ ہو۔ قرآن و سنت کی پیروی اور ارکان اسلام پر عمل ہی آپ کے نزدیک کامیابی کا واحد راستہ ہے۔ آپ نے ہندوستان میں تصوف کا نقشبندی سلسلہ متعارف کرایا۔

بدعات کا رد

مغل بادشاہ اکبر کے دور میں بہت سی ہندوانہ رسوم و رواج اور عقائد اسلام میں شامل ہو گئے تھے۔ اسلام کا تشخص ختم ہو چکا تھا اور اسلام اور ہندومت میں فرق کرنا مشکل ہو گیا تھا۔ ان کے مطابق دین میں ہر نئی بات بدعت ہے اور بدعت گمراہی ہے۔ آپ اپنے ایک مکتوب میں بدعات کی شدید مخالفت کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ:
”لوگوں نے کہا ہے کہ بدعت کی دو قسمیں ہیں: بدعت حسنہ اور بدعت سیئہ۔ بدعت دافع سنت ہے، اس فقیر کو ان بدعات میں سے کسی بدعت میں حسن و نورانیت نظر نہیں آتی اور سوائے ظلمت اور کدورت کے کچھ محسوس نہیں ہوتا۔

قید و بند کی صعوبت

حضرت مجدد الف ثانی کو اپنے مشن کی تکمیل کے لئے دور ابتلاء سے بھی گزرنا پڑا۔ علمائے سوء نے مغل بادشاہ جہانگیر کو آپ کے خلاف بھڑکایا اور یقین دلایا کہ آپ باغی ہیں اور اس کی نشانی یہ بتائی کہ آپ بادشاہ کو تعظیمی سجدہ کرنے کے قائل نہیں ہیں، چنانچہ آپ کو دربار میں طلب کیا جائے۔ جہانگیر نے حضرت مجدد الف ثانی کو دربار میں طلب کر لیا۔ آپ نے بادشاہ کو تعظیمی سجدہ نہ کیا۔ جب بادشاہ نے وجہ پوچھی تو آپ نے کہا:
”سجدہ اللہ کے علاوہ کسی اور کے لئے جائز نہیں ہے۔ یہ اللہ کا حق ہے جو اس کے کسی بندے کو نہیں دیا جا سکتا۔ “
بادشاہ نے ہر ممکن کوشش کی کہ شیخ جھک جائیں لیکن حضرت مجدد الف ثانی اپنے موقف پر ڈٹے رہے۔ بعض امراء اور علمائے سوء نے بادشاہ کو آپ کے قتل کا مشورہ دیا۔ غیر معمولی اثر و رسوخ کی وجہ سے یہ تو نہ ہو سکا البتہ آپ کو گوالیار کے قلعے میں نظر بند کر دیا گیا۔ آپ نے قلعے کے اندر ہی تبلیغ شروع کر دی اور وہاں کئی غیر مسلم مسلمان ہو گئے۔ قلعہ میں متعین فوج میں بھی آپ کو کافی اثر و رسوخ حاصل ہو گیا۔ بالآخر جہانگیر کو اپنی غلطی کا احساس ہوا اور آپ کو رہا کر دیا۔ رہائی کے بعد جہانگیر نے آپ کو اپنے لشکر کے ساتھ ہی رکھا۔

انتقال

آپ 27 صفر 1034ھ میں انتقال کر گئے۔ اور شوال 971ھ میں سر ہند میں طلوع ہونے والا سورج ہمیشہ ہمیشہ کے لیے غروب ہوگیا۔

اولاد و امجاد

حضرت مجدد الف ثانی کے سات صاحبزادے اور تین صاحبزادیاں تھیں جن کے نام یوں ہیں:

صاحبزادگان

  • خواجہ محمد صادق
  • خواجہ محمد سعید
  • خواجہ محمد معصوم
  • خواجہ محمد فرخ
  • خواجہ محمد عیسیٰ
  • خواجہ محمد اشرف
  • خواجہ محمد یحییٰ

صاحبزادیاں

  • بی بی رقیہ بانو علیہ الرحمہ
  • بی بی خدیجہ بانو علیہ الرحمہ
  • بی بی ام کلثوم علیہ الرحمہ

Comments

Popular posts from this blog

Maqalaat -e- Usmani – Shaykh Zafar Ahmad Usmani (r.a)

Read Online Volume 1   Volume 2  Download Volume 1  [28]  Volume 2  [43]

Yusufzai (Pashtun tribe)

The  Yūsufzai  (also  Youssofzay ,  Yousefzai ,  Yousafzai ,  Esapzey ,  Yousufi , or  Yūsufi ) (Pashto:  يوسفزی ,Persian and Urdu:  یوسف زئی ) is one of the largest Pashtun (Afghans) tribes. The majority of the Yusufzai tribe reside in parts of Western Afghanistan, Khyber Pakhtunkhwa and Provincially Administered Tribal Areas near the Afghan-Pakistan border. They are the predominant population in the districts of Konar, Ningarhar, Mardan District, Dir, Swat,Malakand, Swabi, Buner, Shangla, Haripur District [Khalabat Town Ship and Tarbela] and in Mansehra and Battagram. There is also a Yusufzai clan of Dehwar tribe in the Mastung district of Balochistan who speak Persian with some mixture of Birahvi words. The descendants of Yusuf inhabit Konar, Jalalabad, Swat, Upper Dir, Lower Dir, Malakand Swabi and Mardan...

95 - Sunehri Chingariyaan (The Golden Sparks)

4shared Download MEDIAFIRE DOWNLOAD AND ONLINE READ BOX DOWNLOAD AND ONLINE READ

EXPLAINING THE FUNDAMENTALS OF FAITH

AFKAAR-E-AZEEZ BELGAUMI by AZEEZ BELGAUMI BANGLORE

Online Reading

Tahir Ul Qadri Ke Haqeeqat Kya Hai by Mufti Wali Ahmad Rizvi

Online Reading

الإسلام دين الوسطية والفضائل والقيم الخالدة. عبد السلام الهراس

DOWNLOAD MEDIAFIRE

عہد عثمان میں تدوین قرآن

امام بخاری نے صحیح بخاری میں اپنی سند کے ساتھ ابن شھاب سے روایت کیا ہے کہ انس بن مالک نے انہیں بتایا کہ حذیفہ بن یمان حضرت عثمان کی خدمت میں حاضر ہوئے موسوف نے رمینیہ اور آذربیجان کی جنگ میں شرکت کی تھی وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ لوگ تلاوت قرآن میں بہت اختلاف کرنے لگے تھے ۔ حذیفہ نے حضرت عثمان سے کہا امیرالمؤمنین ! قبل اس کے کہ یہ امت کتاب الٰہی میں یہودیوں اور نصاریٰ کی طرح اکتلاف کرنے لگے اس کو سنبھال لیجئے یہ سن کر حضرت عثمان نے حجرت حفصہ کو کہلا بھیجا کہ آپ کے پاس قرآن کے جو صحیفے پڑے ہیں وہ ہمارے پاس بھیج دیجئے تاکہ ہم ان کو کتابی صورت میں جمع کریں پھر ہم ان کو واپس کردیں گے ۔محترمہ موصوفہ نے وہ صحیفے ارسال کردئیے۔حضرت عثمانرضی اللہ تعالٰی عنہ نے (۱) زید بن ثابترضی اللہ تعالٰی عنہ،(۲) عبداللہ بن زبیررضی اللہ تعالٰی عنہ،(۳)سعد بن العاصرضی اللہ تعالٰی عنہ،(۴)عبدالرحمان بن حارث بن ہشامرضی اللہ تعالٰی عنہکو مومورکیا کہ وہ صحیفوں سے نقل کرکے قرآن کریم کو کتابی صورت میں جمع کردیں۔ حضرت عثمانرضی اللہ تعالٰی عنہ نے تینوں قریشی صحابہ(حضرت زید بن ثابت کے علاوہ باقی تینوں صحابہ سے...

سنہری کِرنیں از مولاناعبدالمالک مجاہد

سنہری کِرنیں   مولاناعبدالمالک مجاہد ڈاؤن لوڈ کیجئے

HOW TO PERFORM WUDH AND PRAYER AND ITS PROOF