Skip to main content

ہمدردی ایک خاص احساس ہے، اس کا ایک خاص اثر ہے روح پر سب سے پہلے یہ کہ مومنوں میں رحم دلی کا احساس ہوتا ہے۔

میرا مطلب وہ شخص ہے جو اللہ پر ایمان رکھتا ہے، اس میں رحم دلی کا احساس موجود ہے۔ پہلی بات یہ کہ رحم دلی کا احساس پہیکا نہیں پڑتا، نا ہی کم ہوتا ہے۔ جب کوئی عورت بیمار ہوتی ہے، رحم دلی کا جذبھ جو کسی کو محسوس ہوا، اونچائی پر پہنچ جاتا ہے۔ اللہ اُسے اس بات سے بچائے کہ اس کے لیے رحم دلی کا احساس ختم کر دیا جاۓ، جب وہ بوڑھی ہو جاے تب بھی وہ جذبھ رحم کا اونچائ چڑھ جاتا ہے، یہ معاملہ اور بھی بڑھ جاتا ہے، جب اُس کو ضرورت پیش آے، مثلاً کہ وہ کسی وجہ سے نیچے گِر جاے، اللہ اُسے بچاۓ، رحم دلی کا احساس بڑھ جاتا ہے، اگر اُسے طاقت نہ رہے کہ کسی چیز کے ساتھ نمٹ سکے، تب بھی رحم دلی کا احساس بڑھ جاتا ہے۔ رحم دلی ایک بہت خوشگوار احساس ہے۔ میرا مطلب یہ ہے کہ یہ ایک خاص احساس ہے چاہت کی طرح، اس کا ایک بہترین اثر ہے روح پر۔ یہ کتنا خوب صورت احساس ہے۔اور ایک خوب صورت ناقابلِ اِخراج احساس رحم دلی کا، روح میں مُسلسل غالِب رہتا ہے۔ مثلاً جب اُسے کسی چیز کے بارے میں عِلم نہیں ہوتا، اگر کوئی غیر ایمانی سوچ آجاتی ہے، ایک مُمکِن ہے کہ کوئی اُس کے خِلاف ہو جائے، وہ اس پر غُصّہ برت سکتا ہے اور اس سے ناراض بھی ہو سکتا ہے۔ لیکن اگر ایمان کے نظریہ سے دیکھیں تو، ضرور ایک شخص کی ہمدردی بڑھ جاۓ گی اُس کے لیے اگر وہ ناکام ہو جائے کُچھ جاننّے کو۔ وہ اور زیادہ محسوس کرے گا اس کی حفاظت اور اس کی دیکھ بال کے بارے میں۔ مثال کے طور پر اگر وہ کِسی کے ساتھ نمٹنے کی طاقت نہیں رکھتی، کوئی ایک ضرور اس کے لیے اور زیادہ ہمدردی اور مُحبّت محسوس کرے گا۔ لیکِن اگر کوئی ظُلم کے نظریہ سے دیکھے تو جب وہ کسی چیز سے نمٹنے کی طاقت نہ رکھنے والی ہو، اس پر غصّہ محسوس کرے گا اور نفرت کرے گا، وہ اس سے ناراض رہے گا اور بدلہ لینے کی کوشش کرے گا۔ مثال کے طور پر اگر وہ کُچھ بھول جاتی ہے، ایک ایماندار ہمدردی محسوس کرے گا اور اس سے لُطف اندوز ہو گا، حفاظت کرنے کی جلدی، اور اس کی دیکھ بال اور مضبوط ہو جاے گی، لیکن ایک شخص، ظالمانہ نظریہ والا اس کے نسیان اور بھول کو دیکھے گا اپنے غصّہ ہونے کے لیے، اس کی طرف جلجلاہٹ محسوس کرے گا۔ یہ کتنا متعدّد ہے گنتی کے لیے۔ یہ اس لیے کہ ہمدردی ایک بڑی برکت ہے، ایک خاص طاقت ہے، ایک خاص مؤمنانہ احساس ہے اللہ کی خاطِر، یہ اندرونی طاقت ہے ایمان والوں کی۔ اللہ کو یہ عمل، یہ اجلاقی رویّہ بُہت پسند ہے۔ ہمدردی خُدا کے نام کا اظہار ہے، جو بڑا مہربان، ہمدرد اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔ اور ایک ماں اپنی اولاد کے لیے ہمدردی یا رحم دلی کا اظہار کرتی ہے، اور اگر اولاد کافی عقل والی ہو، تو وہ بھی اپنی ماں کے لیے ہمدردی کا احساس کرے گا، وہ اپنی ماں کی حفاظت اور دیکھ بال کرے گا۔ مثلاً کوئی بِلّی ابنے بچّے کے ساتھ آج کسی باغ میں تھی، بچّھ تقریباً پوری بلوغت کو پُہنچ چُکا تھا۔ بچّہ تھوڑے فاصلے پر تھا، اُس کی ماں نے صرف بلّی کی سی آواز نِکالی اور وہ دوڑی دوڑی ماں کے پاس آگیا۔ فرض کیجیے اگر ہم اسے بُلاتے تو وہ ہمارے پاس نہ آتا، اور اگر اس کی ماں بُلاتی تو فوراً اس کے پاس چلا جاتا۔ اس وقت، اگلے مرحلے پر وہ واقعی اپنی ماں سے دورہوتاہے اور اس کی ماں آگے رہ جاتی ہے، ماں اسے مسلسل بلاتی ہے لیکن تب بچّہ نہیں جاتا۔ ہم کہتے "دیکھو۔ تمہاری ماں تمہارا انتظار کر رہی ہے" اور جب ہم ایک طرف ہوتے ہیں تو اس کی ماں دوڑی دوڑی بچّے کے پاس جاتی ہے۔ اس وقت جب انہوں نے ہمیں ان میں دلچسپی لیتے ہوے دیکھا تو وہ دونو قریب آگئے اور میں سمجھ گیا کہ وہ دونو بھوکے تھے، میں نے پنیر کا ٹکرا دیا، اس کی ماں کھانے لگی اور چھوٹا بچے ہوے ٹکرے کھانے کی کوشش کرنے لگا۔ فرض کیجیے انہوں نے پنیر کھا لیا، میں نے سوچا کہ پنیر نمکین تھا تو وہ پیاسے ہوں گے، میں ان کے لیے پیالہ پانی کا لے آیا اور انہیں دیا۔ وہ فوراً پانی کی طرف دیکھے اور تیزی سے پینے لگے۔ مجھے بس اتنا ہی کہنا ہے۔ مثال کے طور پر مجھے وہ بہت پسند آیا، وہ بلّی کے بچّے کی ضرورت، اس کا ماں کے ساتھ لگاو اور ماں کی نگرانی کہ اسے کچھ ہو نا جاے۔ وہ مسلسل اسکے پیچھے پیچھے آتی ہے۔ دراصل وہ پوری طرح بلوغت کو پہنچ چکا تھا مگر اس کی ماں سمجھ رہا تہی کہ وہ اس کی نگرانی کی ذمہ دار ہے۔ اور بچّہ بھی ماں کو نہیں چہوڑتا تھا۔ مثال کے طور پر، ہمدردی کے اطمینان کے اِحترام میں، یہ سب بہت خوشگوار تھا۔ میرا مطلب ان کا نظارہ کرنا بہت خوشگوار تھا۔ مثال کے طور پر جب انہوں نے پانی پیا، میں بہت خوش ہوا، مُجھے بُہت اچھا لگا۔کیونکہ یگر وہ کھا کر ہی چلے جاتے، میں فِکرمند ہو جاتا، یہ اس لیے کہ بہت ممکن تھا کہ وہ پانی نہ ڈھونڈ سکتے۔ جب وہ پانی نہ ڈھونڈتے، ان کا جگر تھک جاتا، ان کا جسم تھک جاتا اور انہیں پتہ بھی نہ چلتا کیونکہ وہ جانور ہیں، انہیں دُکھ ہوتا۔ لیکِن انہوں نے اچھی غِذا کھائی ہوئی تھی۔ مثلاً یہ ہمدردی کی ایک مِثال ہےکہ، ایک شخص درختوں کے لیے بھی رحم دلی کرے گا۔ ہو سکتا ہے کہ کسی پودے کو دھوپ پوری طرح نہ مِل رہی ہو، اس کے لیے آپ اس رکاوٹ کو دور کر دیں گے جو اس کے اور دھوپ کے درمیان ہو گی، اور یہی ہمدردی ہو گی آپ کی پودے کے لیے۔ فرض کیجیے اگر پانی مٹّی میں سوکھ جائے، آپ اس کو پانی دیں گے، اور ہمدردی اور رحم دلی ہی ہو گی۔ کیونکہ یہ ایک خوشی ہے پھولوں کا کھلنا دیکھنے کی۔ بالکُل اسی طرح، ہمدردی ہر جگہ اپنا اظہار کرتی ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

Yusufzai (Pashtun tribe)

The  Yūsufzai  (also  Youssofzay ,  Yousefzai ,  Yousafzai ,  Esapzey ,  Yousufi , or  Yūsufi ) (Pashto:  يوسفزی ,Persian and Urdu:  یوسف زئی ) is one of the largest Pashtun (Afghans) tribes. The majority of the Yusufzai tribe reside in parts of Western Afghanistan, Khyber Pakhtunkhwa and Provincially Administered Tribal Areas near the Afghan-Pakistan border. They are the predominant population in the districts of Konar, Ningarhar, Mardan District, Dir, Swat,Malakand, Swabi, Buner, Shangla, Haripur District [Khalabat Town Ship and Tarbela] and in Mansehra and Battagram. There is also a Yusufzai clan of Dehwar tribe in the Mastung district of Balochistan who speak Persian with some mixture of Birahvi words. The descendants of Yusuf inhabit Konar, Jalalabad, Swat, Upper Dir, Lower Dir, Malakand Swabi and Mardan...

دین اسلام میں رسول اللہ ﷺ کی اطاعت فرض ہے

بسم اللہ الرحمن الرحیم دین اسلام میں رسول اللہ ﷺ کی اطاعت فرض ہے يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ أَطِيعُوا۟ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ وَلَا تَوَلَّوْا۟ عَنْهُ وَأَنتُمْ تَسْمَعُونَ ﴿20﴾ترجمہ: اے ایمان والو الله اور اس کے رسول کا حکم مانو اور سن کر اس سے مت پھرو(سورۃ الانفال،آیت20) قُلْ أَطِيعُوا۟ ٱللَّهَ وَأَطِيعُوا۟ ٱلرَّسُولَ ۖ فَإِن تَوَلَّوْا۟ فَإِنَّمَا عَلَيْهِ مَا حُمِّلَ وَعَلَيْكُم مَّا حُمِّلْتُمْ ۖ وَإِن تُطِيعُوهُ تَهْتَدُوا۟ ۚ وَمَا عَلَى ٱلرَّسُولِ إِلَّا ٱلْبَلَٰغُ ٱلْمُبِينُ﴿56﴾ترجمہ: کہہ دو الله اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرو پھر اگر منہ پھیرو گے تو پیغمبر تو وہی ہے جس کا وہ ذمہ دار ہے اورتم پر وہ ہے جو تمہارے ذمہ لازم کیا گیا ہے اور اگر اس کی فرمانبرداری کرو گے تو ہدایت پاؤ گے اور رسول کے ذمہ صرف صاف طور پر پہنچا دینا ہے (سورۃ النور،آیت 56) مَّن يُطِعِ ٱلرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ ٱللَّهَ ۖ وَمَن تَوَلَّىٰ فَمَآ أَرْسَلْنَٰكَ عَلَيْهِمْ حَفِيظًۭا ﴿80﴾ترجمہ: جو شخص رسول کی فرمانبرداری کرے گا تو بےشک اس نے اللہ کی فرمانبرداری کی اور جو نافرمانی کرے گا تو اے ...

جمع عثمانی رِوایات کے آئینے میں

نبی مکرمﷺ کی حدیث مبارکہ ’’خَیْرُ النَّاسِ قَرْنِيْ ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَھُمْ ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَھُمْ‘‘۔(صحیح البخاري: ۲۶۵۲) پر جب نظر پڑتی ہے تو سر احسان و نیازمندی کے ملے جلے تاثر ات سے جھک جاتا ہے کہ واقعتا آپﷺ، صحابہ رضی اللہ عنہم اور تابعین رحمہم اللہ کا زمانہ خیر القرون تھا، کیونکہ اس میں بنی نوع اِنسان کی راہ روی اور اسلام کی سربلندی کے لیے وہ محنتیں اور کوششیں ہوئی ہیں کہ جس کی مثال آئندہ جمیع قرون میں پیش کرنا مشکل ہے۔ یقینا وہ لوگ اس قابل تھے کہ اُنہیں یہ ذمہ داری سونپی جاتی کہ وہ دینِ الٰہی اور شرع اللہ کو اپنی مکمل تشریحات کے ساتھ آئندہ نسلوں تک منتقل کریں، بلا شبہ وہ طائفہ فائزہ اپنے اس مقصد میں بامراد ہوا ہے۔ان جملہ ذمہ داریوں میں سے اَہم ترین ذمہ داری یہ تھی کہ ہدایت سماوی کے آخری ربانی صحیفہ کو محفوظ اور غیر متبدل شکل میں ہم تک پہنچایا جائے۔ ہمارا یہ قطعی ایمان ہے کہ وہ پیام اَیزدی آج اپنی سو فیصد اَصلی اور حقیقی شکل میں ہمارے درمیان موجود ہے۔ الحمد ﷲ علی ذلک۔اِس سلسلہ میں خیرالقرون میں جو سب سے اَہم کام ہوا ہے وہ سیدنا عثمان ذوالنورین رضی ال...

Masail -e- Ghusl By Shaykh Mufti Abdur Rauf Sakharvi

Read Online (2.1 M) By Shaykh Mufti Abdur Rauf Sakharvi

قرآن حکیم کے نازل ہونے کی کیا غرض ہے

سورہ آلِ عمران هَـٰذَا بَيَانٌ لِّلنَّاسِ وَهُدًى وَمَوْعِظَةٌ لِّلْمُتَّقِينَ ﴿١٣٨﴾ یہ (قرآن) لوگوں کے لیے بیان صریح اور اہلِ تقویٰ کے لیے ہدایت اور نصیحت ہے۔ سورہ المآئدۃ يَا أَهْلَ الْكِتَابِ قَدْ جَاءَكُمْ رَسُولُنَا يُبَيِّنُ لَكُمْ كَثِيرًا مِّمَّا كُنتُمْ تُخْفُونَ مِنَ الْكِتَابِ وَيَعْفُو عَن كَثِيرٍ ۚ قَدْ جَاءَكُم مِّنَ اللَّـهِ نُورٌ وَكِتَابٌ مُّبِينٌ ﴿١٥﴾هْدِي بِهِ اللَّـهُ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَهُ سُبُلَ السَّلَامِ وَيُخْرِجُهُم مِّنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ بِإِذْنِهِ وَيَهْدِيهِمْ إِلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ ﴿١٦﴾  اے اہل کتاب! تمہارے پاس ہمارے پیغمبر (آخرالزماں) آ گئے ہیں کہ جو کچھ تم کتاب (الہٰی) میں سے چھپاتے تھے وہ اس میں سے بہت کچھ تمہیں کھول کھول کر بتا دیتے ہیں اور تمہارے بہت سے قصور معاف کر دیتے ہیں بےشک تمہارے پاس خدا کی طرف سے نور اور روشن کتاب آ چکی ہے۔جس سے خدا اپنی رضا پر چلنے والوں کو نجات کے رستے دکھاتا ہے اور اپنے حکم سے اندھیرے میں سے نکال کر روشنی کی طرف لے جاتا اور ان کو سیدھے رستہ پر چلاتا ہے۔ وَكَتَبْنَا عَلَيْه...

دعا؛ اہمیت ، آداب اور قبولیت کی شرطیں

مخلوق جلبِ منفعت اور اپنے دین ودنیا کی اصلاح کے لیے اپنے رب کی محتاج ہے۔ بندہ ان آزمائشوں سے جو اس پر نازل ہوتی ہیں اور جو اسے ہمیشہ کے لیے اپنے رب کا محتاج بناتی ہیں بچ نہیں سکتا ہے۔ اسی وجہ سے اللہ نے اس کے لیے دعا کرنے کو مشروع قرار دیا ہے۔ اور اس کے لیے آداب وشروط اور مستحب اوقات مقرر کر دیے ہیں۔ ان وقتوں میں دعا قبولیت کے زیادہ قریب ہوتی ہے۔ الحمد للہ کفی وسلام علی عبادہ الذین اصطفی أمابعد!معزز برادرانِ  اسلام!انسان جب رحم مادر میں نطفہ کی شکل میں قرار پاتا ہے اسی وقت سے وہ حاجتوں اور ضرورتوں کا غلام بن جاتا ہے اور اس کی ضرورتوں اور حاجتوں کا یہ لامتناہی سلسلہ   اس کی زندگی  کی آخری سانس تک ختم  نہیں ہوتا۔ وہ مرنے کے بعد بھی دوسروں  کا محتاج  ہوتاہے۔ اس  کی محتاجی اور ضرورت مندی  کبھی ختم  نہیں  ہوتی۔  ویسے تو انسان دنیا میں آنے کے بعد قدم قدم پر  اپنے ہی  جیسے  دوسرے  انسانوں کا بھی ضرورت مند ہوتا ہے؛ لیکن  سب سے زیادہ  ضرورت  مندوہ  اپنے خالق  حقیقی  کا ہوتا ہے۔ ...

خیرخواہی وامانت داری

خیرخواہی وامانت داری خیر خواہی دین کی بنیاد ا ور اس کا جوہر ہے۔ دین دراصل خیر خواہی کا نام ہے۔ خیرخواہی اللہ کی، اس کے کتاب کی، اس کے رسول کی، مسلم ائمہ وحکمرانوں کی اور عامۃ المسلمین کی ہوتی ہے۔ پس جب ان تمام کے حق میں بندہ خیرخواہ ہوگا تو اس کا دین کامل ہوگا اور جس میں ان میں سے کسی کی خیرخواہی میں کمی و کوتاہی ہوگی تو اسی قدر اس کے دین میں نقص وکمی ہوگی۔ مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اپنی خیرخواہی میں امانت کو ملحوظ رکھے اور بغیر کسی مداہنت ومجاملت کے حق کو بیان کرے۔ یہی شخص اللہ کے نزدیک امین ہوگا۔ إن الحمد لله، نحمده ونستعينه ونستغفره، ونعوذ بالله من شرور أنفسنا، وسيئات أعمالنا، من يهده الله فلا مضل له، ومن يضلل فلا هادى له، وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له، وأشهد أن محمداً عبده ورسوله۔ أما بعد: فإن خیر الحدیث کتاب اللہ، وخیر الھدی ھدی محمد صلی اللہ علیہ وسلم، وشر الأمور محدثاتھا، وکل محدثۃ بدعۃ، وکل بدعۃ ضلالۃ، وکل ضلالۃ  فی النار۔  وقد قال اللہ تبارک وتعالی فی کتابہ المجید: (إِنَّ اللَّـهَ يَأْمُرُكُمْ أَن تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَىٰ أَهْلِهَا وَإِذَا حَ...

دعا مانگنے کا ضابطہ اور اس کے آداب

ارشاد ربانی ہے:”ونادٰی نوح ربہ فقال رب ان ابنی من اہلی وان وعدک الحق وانت احکم الحاکمین‘ قال یا نوح انہ لیس من اہلک‘ انہ عمل غیر صالح‘ فلاتسئلن مالیس لک بہ علم‘ انی اعظک ان تکون من الجاہلین“۔ (۱)ترجمہ:․․․”اور نوح علیہ السلام نے اپنے رب کو پکارا اور عرض کیا کہ اے میرے رب! میرا بیٹا میرے گھروالوں میں سے ہے اور آپ کا وعدہ بالکل سچا ہے‘ اور تو سب سے بڑا حاکم ہے‘ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: کہ اے نوح! یہ شخص تمہارے گھروالوں میں نہیں‘ یہ تباہ کار ہے‘ سو مجھ سے ایسی چیز کی درخواست مت کرو جس کی تم کو خبر نہیں۔ میں تم کو نصیحت کرتا ہوں کہ تم نادانوں میں داخل نہ ہوجاؤ“۔آیات مذکورہ بالا سے فقہاء نے یہ مسئلہ اخذ کیا ہے کہ دعا کے لئے ضروری ہے کہ دعا کرنے والا پہلے یہ معلوم کرے کہ جس کام کی دعا کررہا ہے وہ جائز وحلال ہے یانہیں۔ مشتبہ حالت میں دعا کرنے سے منع فرمایا گیا ہے‘ جیساکہ قاضی بیضاوی لکھتے ہیں:”فلاتسئلن مالیس لک بہ علم“ ای مالم تعلم اصواب ہو ام لیس کذلک“ (۲)ترجمہ:․․․”سو مجھ سے ایسی چیز کی درخواست مت کرو جس کی تم کو خبر نہیں یعنی جس کے بارے میں تجھے یہ علم نہ ہو کہ یہ حق وجائز ہے یا نہیں...

قراء توں کا اِختلاف اور منکرینِ حدیث

یہ ایک مسلّمہ اَمر ہے کہ قرآن مجید کی ایک سے زیادہ قراء تیں ثابت ہیں۔ لیکن اہلِ قرآن کہلانے والے منکرین حدیث ان اختلافِ قراء ات کو نہیں مانتے۔ وہ کہتے ہیں کہ قرآن کی صرف ایک ہی قراء ت ہے اور یہ کہ خود نبیﷺنے قرآن کو کتابی صورت میں مرتب اور مدوّن کیا اور اس پر اعراب و نقطے لگوائے تھے جبکہ یہ بات خلاف ِ واقعہ ہے۔جناب پرویز صاحب لکھتے ہیں:’’ہم سمجھتے ہیں کہ اس کے بعد ’اختلاف قراء ت‘ کے فتنہ کے متعلق کچھ سمجھنے کی ضرورت باقی نہیں رہتی‘‘(طلوع اسلام، ص۵۶، شمارہ جنوری ۱۹۸۲ء، لاہور)وہ مزید لکھتے ہیں :’’قرآن مجیدجس شکل میں ہمارے پاس موجود ہے اسے خود رسول اللہﷺنے اسی طرح مرتب اور مدوّن شکل میں اُمت کو دیا تھا۔‘‘(طلوع اسلام، ص۴۲، شمارہ جنوری۱۹۸۲ء، لاہور)اسی طرح ایک اور منکرِ حدیث رحمت اللہ طارق صاحب نے لکھا ہے :’’اختلاف قراء ت کا فتنہ ہی لے لیجئے جس کا مودودی صاحب جیسا شخص نہ صرف معترف اور معتقد ہے بلکہ سرگرم مبلغ اور پُرجوش ناشر ہے۔‘‘(اعجاز قرآن و اختلاف قراء ت، مرتبہ تمنا عمادی:۷۴۲) طارق صاحب نے مزید لکھا ہے :’’ لَوْ کَانَ مِنْ عِنْدِ غَیْرِ اﷲِ لَوَجَدُوْا فِیْہِ اخْتِلَافًا کَثِیْرًا ‘‘...

جمع قرآن اور اس کی تدوین

جمع قرآن اور اس کی تدوین جمع قرآن سے مراد قرآن کریم کا جمع کرنا۔ خواہ حفظ سے ہو یا کتابت سے یا تلاوت کی ریکارڈنگ سے۔ اور تدوین سے مراد اس کو کتابی صورت میں ترتیب دینا ہے۔ان سب مراحل کی ایک دل چسپ معلوماتی تاریخ ہے جسے ایک طالب علم کے لئے جاننا بہت اہم ہے۔تاکہ وہ آگاہ رہے کہ یہ مقدس کتاب کس طرح کن کن ادوار سے گذر کر محفوظ ترین صورت میں ہم تک پہنچی؟مقصد جمع قرآن: جمع قرآن کا مقصد یہی تھا کہ جس طرح قرآن مجید آپ ﷺ پر اترا ہے اور جس طرح آپ نے اسے پڑھا یا سکھایا ہے اسے لکھ کر محفوظ کرلیا جائے۔ یہ اللہ کا حکم تھا تاکہ مستقبل میں ممکنہ اختلاف جو قراءت یا اس کے الفاظ ، ترتیب اور لغت میں پیدا ہوسکتا ہے وہ نہ ہوسکے۔ اللہ تعالیٰ نے خود بھی اس کی حفاظت کی ذمہ داری لی مگر اس حفاظت کا کام صحابہ رسول اور امت کے قراء وحفاظ سے بھی لیا۔جمع قرآن کی دلیل: آپ ﷺ قرآن کی تنزیل میں سخت شدت محسوس کیا کرتے۔ اور اپنے ہونٹوں کو حرکت دیا کرتے تھے۔ جیسا کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت صحیحین میں ہے۔تو اللہ تعالیٰ نے ابتداء میں ہی یہ فرمادیا : {لَا تُحَرِّكْ بِہٖ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ...