Skip to main content

ہمدردی ایک خاص احساس ہے، اس کا ایک خاص اثر ہے روح پر سب سے پہلے یہ کہ مومنوں میں رحم دلی کا احساس ہوتا ہے۔

میرا مطلب وہ شخص ہے جو اللہ پر ایمان رکھتا ہے، اس میں رحم دلی کا احساس موجود ہے۔ پہلی بات یہ کہ رحم دلی کا احساس پہیکا نہیں پڑتا، نا ہی کم ہوتا ہے۔ جب کوئی عورت بیمار ہوتی ہے، رحم دلی کا جذبھ جو کسی کو محسوس ہوا، اونچائی پر پہنچ جاتا ہے۔ اللہ اُسے اس بات سے بچائے کہ اس کے لیے رحم دلی کا احساس ختم کر دیا جاۓ، جب وہ بوڑھی ہو جاے تب بھی وہ جذبھ رحم کا اونچائ چڑھ جاتا ہے، یہ معاملہ اور بھی بڑھ جاتا ہے، جب اُس کو ضرورت پیش آے، مثلاً کہ وہ کسی وجہ سے نیچے گِر جاے، اللہ اُسے بچاۓ، رحم دلی کا احساس بڑھ جاتا ہے، اگر اُسے طاقت نہ رہے کہ کسی چیز کے ساتھ نمٹ سکے، تب بھی رحم دلی کا احساس بڑھ جاتا ہے۔ رحم دلی ایک بہت خوشگوار احساس ہے۔ میرا مطلب یہ ہے کہ یہ ایک خاص احساس ہے چاہت کی طرح، اس کا ایک بہترین اثر ہے روح پر۔ یہ کتنا خوب صورت احساس ہے۔اور ایک خوب صورت ناقابلِ اِخراج احساس رحم دلی کا، روح میں مُسلسل غالِب رہتا ہے۔ مثلاً جب اُسے کسی چیز کے بارے میں عِلم نہیں ہوتا، اگر کوئی غیر ایمانی سوچ آجاتی ہے، ایک مُمکِن ہے کہ کوئی اُس کے خِلاف ہو جائے، وہ اس پر غُصّہ برت سکتا ہے اور اس سے ناراض بھی ہو سکتا ہے۔ لیکن اگر ایمان کے نظریہ سے دیکھیں تو، ضرور ایک شخص کی ہمدردی بڑھ جاۓ گی اُس کے لیے اگر وہ ناکام ہو جائے کُچھ جاننّے کو۔ وہ اور زیادہ محسوس کرے گا اس کی حفاظت اور اس کی دیکھ بال کے بارے میں۔ مثال کے طور پر اگر وہ کِسی کے ساتھ نمٹنے کی طاقت نہیں رکھتی، کوئی ایک ضرور اس کے لیے اور زیادہ ہمدردی اور مُحبّت محسوس کرے گا۔ لیکِن اگر کوئی ظُلم کے نظریہ سے دیکھے تو جب وہ کسی چیز سے نمٹنے کی طاقت نہ رکھنے والی ہو، اس پر غصّہ محسوس کرے گا اور نفرت کرے گا، وہ اس سے ناراض رہے گا اور بدلہ لینے کی کوشش کرے گا۔ مثال کے طور پر اگر وہ کُچھ بھول جاتی ہے، ایک ایماندار ہمدردی محسوس کرے گا اور اس سے لُطف اندوز ہو گا، حفاظت کرنے کی جلدی، اور اس کی دیکھ بال اور مضبوط ہو جاے گی، لیکن ایک شخص، ظالمانہ نظریہ والا اس کے نسیان اور بھول کو دیکھے گا اپنے غصّہ ہونے کے لیے، اس کی طرف جلجلاہٹ محسوس کرے گا۔ یہ کتنا متعدّد ہے گنتی کے لیے۔ یہ اس لیے کہ ہمدردی ایک بڑی برکت ہے، ایک خاص طاقت ہے، ایک خاص مؤمنانہ احساس ہے اللہ کی خاطِر، یہ اندرونی طاقت ہے ایمان والوں کی۔ اللہ کو یہ عمل، یہ اجلاقی رویّہ بُہت پسند ہے۔ ہمدردی خُدا کے نام کا اظہار ہے، جو بڑا مہربان، ہمدرد اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔ اور ایک ماں اپنی اولاد کے لیے ہمدردی یا رحم دلی کا اظہار کرتی ہے، اور اگر اولاد کافی عقل والی ہو، تو وہ بھی اپنی ماں کے لیے ہمدردی کا احساس کرے گا، وہ اپنی ماں کی حفاظت اور دیکھ بال کرے گا۔ مثلاً کوئی بِلّی ابنے بچّے کے ساتھ آج کسی باغ میں تھی، بچّھ تقریباً پوری بلوغت کو پُہنچ چُکا تھا۔ بچّہ تھوڑے فاصلے پر تھا، اُس کی ماں نے صرف بلّی کی سی آواز نِکالی اور وہ دوڑی دوڑی ماں کے پاس آگیا۔ فرض کیجیے اگر ہم اسے بُلاتے تو وہ ہمارے پاس نہ آتا، اور اگر اس کی ماں بُلاتی تو فوراً اس کے پاس چلا جاتا۔ اس وقت، اگلے مرحلے پر وہ واقعی اپنی ماں سے دورہوتاہے اور اس کی ماں آگے رہ جاتی ہے، ماں اسے مسلسل بلاتی ہے لیکن تب بچّہ نہیں جاتا۔ ہم کہتے "دیکھو۔ تمہاری ماں تمہارا انتظار کر رہی ہے" اور جب ہم ایک طرف ہوتے ہیں تو اس کی ماں دوڑی دوڑی بچّے کے پاس جاتی ہے۔ اس وقت جب انہوں نے ہمیں ان میں دلچسپی لیتے ہوے دیکھا تو وہ دونو قریب آگئے اور میں سمجھ گیا کہ وہ دونو بھوکے تھے، میں نے پنیر کا ٹکرا دیا، اس کی ماں کھانے لگی اور چھوٹا بچے ہوے ٹکرے کھانے کی کوشش کرنے لگا۔ فرض کیجیے انہوں نے پنیر کھا لیا، میں نے سوچا کہ پنیر نمکین تھا تو وہ پیاسے ہوں گے، میں ان کے لیے پیالہ پانی کا لے آیا اور انہیں دیا۔ وہ فوراً پانی کی طرف دیکھے اور تیزی سے پینے لگے۔ مجھے بس اتنا ہی کہنا ہے۔ مثال کے طور پر مجھے وہ بہت پسند آیا، وہ بلّی کے بچّے کی ضرورت، اس کا ماں کے ساتھ لگاو اور ماں کی نگرانی کہ اسے کچھ ہو نا جاے۔ وہ مسلسل اسکے پیچھے پیچھے آتی ہے۔ دراصل وہ پوری طرح بلوغت کو پہنچ چکا تھا مگر اس کی ماں سمجھ رہا تہی کہ وہ اس کی نگرانی کی ذمہ دار ہے۔ اور بچّہ بھی ماں کو نہیں چہوڑتا تھا۔ مثال کے طور پر، ہمدردی کے اطمینان کے اِحترام میں، یہ سب بہت خوشگوار تھا۔ میرا مطلب ان کا نظارہ کرنا بہت خوشگوار تھا۔ مثال کے طور پر جب انہوں نے پانی پیا، میں بہت خوش ہوا، مُجھے بُہت اچھا لگا۔کیونکہ یگر وہ کھا کر ہی چلے جاتے، میں فِکرمند ہو جاتا، یہ اس لیے کہ بہت ممکن تھا کہ وہ پانی نہ ڈھونڈ سکتے۔ جب وہ پانی نہ ڈھونڈتے، ان کا جگر تھک جاتا، ان کا جسم تھک جاتا اور انہیں پتہ بھی نہ چلتا کیونکہ وہ جانور ہیں، انہیں دُکھ ہوتا۔ لیکِن انہوں نے اچھی غِذا کھائی ہوئی تھی۔ مثلاً یہ ہمدردی کی ایک مِثال ہےکہ، ایک شخص درختوں کے لیے بھی رحم دلی کرے گا۔ ہو سکتا ہے کہ کسی پودے کو دھوپ پوری طرح نہ مِل رہی ہو، اس کے لیے آپ اس رکاوٹ کو دور کر دیں گے جو اس کے اور دھوپ کے درمیان ہو گی، اور یہی ہمدردی ہو گی آپ کی پودے کے لیے۔ فرض کیجیے اگر پانی مٹّی میں سوکھ جائے، آپ اس کو پانی دیں گے، اور ہمدردی اور رحم دلی ہی ہو گی۔ کیونکہ یہ ایک خوشی ہے پھولوں کا کھلنا دیکھنے کی۔ بالکُل اسی طرح، ہمدردی ہر جگہ اپنا اظہار کرتی ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

Yusufzai (Pashtun tribe)

The  Yūsufzai  (also  Youssofzay ,  Yousefzai ,  Yousafzai ,  Esapzey ,  Yousufi , or  Yūsufi ) (Pashto:  يوسفزی ,Persian and Urdu:  یوسف زئی ) is one of the largest Pashtun (Afghans) tribes. The majority of the Yusufzai tribe reside in parts of Western Afghanistan, Khyber Pakhtunkhwa and Provincially Administered Tribal Areas near the Afghan-Pakistan border. They are the predominant population in the districts of Konar, Ningarhar, Mardan District, Dir, Swat,Malakand, Swabi, Buner, Shangla, Haripur District [Khalabat Town Ship and Tarbela] and in Mansehra and Battagram. There is also a Yusufzai clan of Dehwar tribe in the Mastung district of Balochistan who speak Persian with some mixture of Birahvi words. The descendants of Yusuf inhabit Konar, Jalalabad, Swat, Upper Dir, Lower Dir, Malakand Swabi and Mardan...

کتاب اللہ کی کون سی آیت سب سے عظیم ہے؟

آیۃ الکرسی کی فضیلت !!! آیۃ الکرسی کی کیااھمیت ہے ؟ اور کیا اس آیت کی عظمت پرکوئ دلیل وارد ہے ؟ الحمد للہ ابن کثیررحمہ اللہ تعالی سورۃ البقرۃ کی آیۃ الکرسی کی تفسیرکرتےہو‏ۓ کہتے ہیں : یہ آیۃ الکرسی ہے جس کی فضیلت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح حدیث میں ہے کہ کتاب اللہ میں یہ آیت سب سے افضل آیت ہے ۔ ابی بن کعب رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نےان سے سوال کیا کہ کتاب اللہ میں سب سے عظیم آیت کونسی ہے ؟ تو وہ کہنے لگے کہ اللہ اور اس کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم کوہی زیادہ علم ہے ، یہ سوال کئ باردھرایا اور پھر فرمانےلگے کہ وہ آیت الکرسی ہے ۔ فرمانے لگے اے ابوالمنذر علم مبارک ہو اس ذات کی قسم جس کےھاتھ میں میری جان ہے اس آیت کی زبان اور ہونٹ ہونگے عرش کے پاۓ کے ہاں اللہ تعالی کی پاکی بیان کررہی ہوگی ۔ اور غالبا مسلم نے والذی نفسی سے آگے والے الفاظ نہیں ہیں ۔ عبداللہ بن ابی بن کعب رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ ان کے والد کے پاس کھجوریں رکھنے کی جگہ تھی ، عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں میرے والد اس کاخیال رکھتے تھے تو...

شرک فی التصرف کا بیان

بسم اللہ الرحمن الرحیم اللّٰھم لک الحمد حمدا یوافی نعمک ویکافی مزید کرمک احمد ک بجمیع محا مدک ما علمت و ما لم اعلم علی جمیع نعمک ما علمت منھا وما لم اعلم وعلی کل حالط اللّٰھم صل علی محمد و علی ال محمد و بارک وسلم۔ اما بعد۔ فاعوذ باللہ من الشیطن الرجیم ط بسم اللہ الرحمن الرحیمط قُلِ ادْعُوا الَّذِيْنَ زَعَمْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللہِ۝۰ۚ لَا يَمْلِكُوْنَ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ فِي السَّمٰوٰتِ وَلَا فِي الْاَرْضِ وَمَا لَہُمْ فِيْہِمَا مِنْ شِرْكٍ وَّمَا لَہٗ مِنْہُمْ مِّنْ ظَہِيْرٍ۝۲۲ وَلَا تَنْفَعُ الشَّفَاعَۃُ عِنْدَہٗٓ اِلَّا لِمَنْ اَذِنَ لَہٗ۝۰ۭ حَتّٰٓي اِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوْبِہِمْ قَالُوْا مَاذَا۝۰ۙ قَالَ رَبُّكُمْ۝۰ۭ قَالُوا الْحَقَّ۝۰ۚ وَہُوَالْعَلِيُّ الْكَبِيْرُ۝۲۳ (السبا:۲۲۔۲۳) اے میرے محسن خدا! کل تعریفوں کا مستحق تو ہی ہے، میں تیری وہ تعریف کرتا ہوں جو تیری دی ہوئی نعمتوں کا بدل ہو، ا ور اس سے جو زیادہ دے، اس کا بدلہ ہو، اور پھر میں تیری جن نعمتوں کو جانتا ہوں اور جن کو نہیں جانتا سب ہی کا ا ن خوبیوں کے ساتھ شکریہ ادا کرتا ہوں، جس کا مجھ کو علم ہے اور جن کا نہیں، غرضیکہ ہر ...

عہد عثمان میں تدوین قرآن

امام بخاری نے صحیح بخاری میں اپنی سند کے ساتھ ابن شھاب سے روایت کیا ہے کہ انس بن مالک نے انہیں بتایا کہ حذیفہ بن یمان حضرت عثمان کی خدمت میں حاضر ہوئے موسوف نے رمینیہ اور آذربیجان کی جنگ میں شرکت کی تھی وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ لوگ تلاوت قرآن میں بہت اختلاف کرنے لگے تھے ۔ حذیفہ نے حضرت عثمان سے کہا امیرالمؤمنین ! قبل اس کے کہ یہ امت کتاب الٰہی میں یہودیوں اور نصاریٰ کی طرح اکتلاف کرنے لگے اس کو سنبھال لیجئے یہ سن کر حضرت عثمان نے حجرت حفصہ کو کہلا بھیجا کہ آپ کے پاس قرآن کے جو صحیفے پڑے ہیں وہ ہمارے پاس بھیج دیجئے تاکہ ہم ان کو کتابی صورت میں جمع کریں پھر ہم ان کو واپس کردیں گے ۔محترمہ موصوفہ نے وہ صحیفے ارسال کردئیے۔حضرت عثمانرضی اللہ تعالٰی عنہ نے (۱) زید بن ثابترضی اللہ تعالٰی عنہ،(۲) عبداللہ بن زبیررضی اللہ تعالٰی عنہ،(۳)سعد بن العاصرضی اللہ تعالٰی عنہ،(۴)عبدالرحمان بن حارث بن ہشامرضی اللہ تعالٰی عنہکو مومورکیا کہ وہ صحیفوں سے نقل کرکے قرآن کریم کو کتابی صورت میں جمع کردیں۔ حضرت عثمانرضی اللہ تعالٰی عنہ نے تینوں قریشی صحابہ(حضرت زید بن ثابت کے علاوہ باقی تینوں صحابہ سے...

حکایت

حضرت شیخ الاسلام امام غزالی نے احیاء العلوم میں ایک حاسد آدمی کی یہ حکایت فرمائی ہے کہ ایک شخص بادشاہ کے سامنے کھڑا ہوکر یہ کہا کرتا تھا کہ نیک لوگوں کے ساتھ نیکی کرو اور محسن کے احسان کا بدلہ دو کیوںکہ برائی کرنے والے کی برائی تمہاری طرف سے خود کفایت کرے گی۔ یہ شخص بادشاہ کے سامنے یہ نصیحت کیا کرتا تھا جس سے اس کی بڑی عزت تھی۔ اس کی عزت، عظمت اور مرتبہ کو دیکھ کر ایک شخص کو حسد پیدا ہوگیا۔ اس نے بادشاہ سے شکایت کی کہ یہ شخص حضور کے سامنے کھڑا ہوکر گندہ دہن بتاتا ہے۔ بادشاہ نے کہا اس کی تصدیق کیسے ہو؟ حاسد نے کہا جب وہ آپ کے پاس آئے تو آپ اسے اپنے قریب بلا لیجیے، جب وہ آپ کے بالکل قریب آجائے گا تو اپنی ناک بند کرلے گا، تاکہ آپ کے منہ کی بدبو نہ آنے پائے۔ بادشاہ نے کہا بہت اچھا، کل امتحان کریں گے۔ ادھر اس حاسد نے بادشاہ سے یہ کہا، ادھر اس نے جاکر اس ناصح و نیک آدمی کی دعوت کرکے ایسا کھانا کھلایا جس میں لہسن بہت سا تھا۔ یہ کھانا کھا کر فارغ ہی ہوا تھا کہ دربار کا وقت آگیا۔ بدستور سابق بادشاہ کے سامنے کھڑے ہوکر اس نے وہی جملہ کہا جو کہا کرتا تھا۔ بادشاہ نے اس کو اپنے پاس بلانے کا ...

عہد رسالت میں کتابت قرآن

سرورکائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے مندرجہ ذیل صحابہ کو کاتب وحی مقرر فرمایا تھا: حضرت بوبکررضی اللہ تعالٰی عنہ ، عمرفاروقرضی اللہ تعالٰی عنہ، عثمانرضی اللہ تعالٰی عنہ، علیرضی اللہ تعالٰی عنہ، معاویہرضی اللہ تعالٰی عنہ ، زید بن ثابت رضی اللہ تعالٰی عنہ،ابی بن کعبرضی اللہ تعالٰی عنہ، خالد بن ولیدرضی اللہ تعالٰی عنہ،ثابت بن قیسرضی اللہ تعالٰی عنہ،۔ قرآن کا جو حصہ نازل ہوتا آپ صحابہ کو مامور فرماتے کہ اسے تحریر کرلیں یہاں تک کہ کتابت کے پہلو بہ پہلو قرآن کریم کو سینوں میں بھی محفوظ کرلیا گیا۔(مشہور مستشرق بلاشیر نے کاتبین وحی صحابہ کی تعداد چالیس بتائ ہے دیگر مستشرقین مثلاً شفالی بہل اور کازانوفاکا زاویہ نگاہ بھی یہی ہے مؤخر الذکر نے اس ضمن میں طبقا ابن سعد، طبری ، نووی اور سیرت حلبی پر اعتماد کیا ہے ۔) محدث حاکم نےمستدرک میں زید بن ثابت سے بخاری ومسلم کی شرط کے مطابق روایت کیا ہے کہ زید بن ثابت نے کہا ہم عہد رسالت میں ''رقاع''(ٹکڑوں)سے قرآن جمع کیا کرتے تھے ۔ (الاتقان،ج۱ص،۹۹نیز البرہان ،ج۱ص۲۳۷) مذکورہ صدر حدیث میں ''رقاع ''کا جو لفظ وا...

Rasulullah Sallallahu Alaihi Wasallam Kay Muay Mubarak By Shaykh Mufti Umar Farooq

Read Online (400 K) AN EXTRACT FROM MONTHLY MAGAZINE OF DARUL ULOOM DEOBAND ON SOME DETAILS REGARDING THE BELOVED AND MUBARIK HAIR OF RASOOLULLAH [Sallallahu Alaihi Wasallam]. By Shaykh Mufti Umar Farooq

اتباع سنت کا بیان

بسم اللہ الرحمن الرحیم الحمد للہ الذی لم یزل عالماً قدیرا حیاً قیوماً سمیعاً بصیراً و اشھد ان لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ واکبرہ تکبیراً۔ واشھد ان محمداعبدہ ورسولہ و صلی اللہ علی سیدنا محمد ن الذی ارسلہ الی الناس کافۃ بشیراً ونذیرًا۔ و علی الہ و صحبہ وسلم تسلیماً کثیراکثیرا۔ اما بعد! فاعوذ باللہ من الشیطن الرجیم۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللہَ فَاتَّبِعُوْنِيْ يُحْبِبْكُمُ اللہُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ۝۰ۭ وَاللہُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ۝۳۱ قُلْ اَطِيْعُوا اللہَ وَالرَّسُوْلَ۝۰ۚ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّ اللہَ لَا يُحِبُّ الْكٰفِرِيْنَ۝۳۲ (آل عمران:۳۱۔۳۲) سب تعریف اللہ کے لیے ثابت ہے،جو ہمیشہ سے جاننے والا، قدرت والا، زندہ رکھنے والا، سنبھالنے والا، سننے والا اور دیکھنے والا ہے، اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ ایک اور یکتا ہے، جس کا کوئی شریک نہیں ہے، اور میں اس کی بڑائی بیان کرتا ہوں، اور اس بات کی گواہی دیتا ہوں ، کہ محمد ﷺ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، اللہ تعالیٰ ہمارے آقا محمد ﷺ پر رحمت کا ملہ نازل فرم...

اللہ و رسول ﷺ کی اطاعت کا بیان

بسم ا للہ الرحمن الرحیم۔ الحمد للہ رب العالمین۔ الرحمن الرحیم۔ مالک یوم الدین۔ والصلوۃ والسلام علی رسولہ المبین سیدنا محمد خاتم النبیین۔ وعلی جمیع الانبیاء والمرسلین۔ وسائر عباد اللہ الصالحین۔ اما بعد! فاعوذ باللہ من الشیطن الرجیم ط بسم اللہ الرحمن الرحیم ط يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَطِيْعُوا اللہَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ وَاُولِي الْاَمْرِ مِنْكُمْ۝۰ۚ فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِيْ شَيْءٍ فَرُدُّوْہُ اِلَى اللہِ وَالرَّسُوْلِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللہِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ۝۰ۭ ذٰلِكَ خَيْرٌ وَاَحْسَنُ تَاْوِيْلًا۔ (النساء:۵۹) سب تعریف اللہ کے لیے ہے، جو سار ے جہاں کا پالنے والا ہے، بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، بدلے کے دن (قیامت )کا مالک ہے، اور درودوسلام نازل ہوں، ا للہ تعالیٰ کے رسول پر جو احکام الٰہی کے ظاہر کرنے والے ہیں، ہمارے سردار جن کا نام نامی اسم گرامی محمد ﷺ ہے، جو سب نبیوں کے ختم کرنے والے ہیں، اور اللہ کے تمام نبیوں ا ور رسولوں پر، اور ا للہ کے تمام نیک بندوں پر، حمد و صلوۃ کے بعد، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ا ے ایمان والوفرمانبرداری کرو اللہ کی اور فرمانبر...

خیرخواہی وامانت داری

خیرخواہی وامانت داری خیر خواہی دین کی بنیاد ا ور اس کا جوہر ہے۔ دین دراصل خیر خواہی کا نام ہے۔ خیرخواہی اللہ کی، اس کے کتاب کی، اس کے رسول کی، مسلم ائمہ وحکمرانوں کی اور عامۃ المسلمین کی ہوتی ہے۔ پس جب ان تمام کے حق میں بندہ خیرخواہ ہوگا تو اس کا دین کامل ہوگا اور جس میں ان میں سے کسی کی خیرخواہی میں کمی و کوتاہی ہوگی تو اسی قدر اس کے دین میں نقص وکمی ہوگی۔ مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اپنی خیرخواہی میں امانت کو ملحوظ رکھے اور بغیر کسی مداہنت ومجاملت کے حق کو بیان کرے۔ یہی شخص اللہ کے نزدیک امین ہوگا۔ إن الحمد لله، نحمده ونستعينه ونستغفره، ونعوذ بالله من شرور أنفسنا، وسيئات أعمالنا، من يهده الله فلا مضل له، ومن يضلل فلا هادى له، وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له، وأشهد أن محمداً عبده ورسوله۔ أما بعد: فإن خیر الحدیث کتاب اللہ، وخیر الھدی ھدی محمد صلی اللہ علیہ وسلم، وشر الأمور محدثاتھا، وکل محدثۃ بدعۃ، وکل بدعۃ ضلالۃ، وکل ضلالۃ  فی النار۔  وقد قال اللہ تبارک وتعالی فی کتابہ المجید: (إِنَّ اللَّـهَ يَأْمُرُكُمْ أَن تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَىٰ أَهْلِهَا وَإِذَا حَ...