Skip to main content

بریک ہونے والاپہلا بحری جہاز

جان بیٹ سن پہلا کباڑیہ تھا اور ایچ ایم ایس TEMERAIRE بریک ہونے والاپہلا بحری جہاز‘ یہ جہاز برطانوی نیوی کی ملکیت تھا‘ دنیا میں اس سے قبل ریٹائر بحری جہازوں کو سمندر میں ڈبو دیا جاتا تھا اور اس سے پہلے جب بحری جہاز لکڑی سے بنائے جاتے تھے‘ ان کو ساحلوں پر جلا دیا جاتا تھا یا پھر انہیں توڑ کر لکڑی ساحلی آبادیوں میں تقسیم کر دی جاتی تھی لیکن پھر 1838ءآ گیا‘ برطانوی نیوی نے یہ بحری جہاز بھی ڈبونے کا فیصلہ کیا‘ جان بیٹ سن نیول چیف سے ملا اور اسے جہاز آکشن کرنے کا مشورہ دے دیا‘ نیول چیف کو آئیڈیا پسند آیا‘ جہاز آکشن ہوا اور جان بیٹ سن نے یہ جہاز 5 ہزار 5 سو 30 پاﺅنڈ میں خرید لیا‘ وہ جہاز کو دریائےتھیمز میں لے گیا‘ جہاز توڑا‘ تانبا‘ لوہا‘ ایلومونیم‘ پیتل اور ربڑ الگ کیا‘ جہاز کے کیل‘ نٹ بولٹ‘ قبضےاور ہینڈل نکالے اور یہ سارا سامکان دھاتی کارخانوں کو بیچ دیا‘ اس نے بھاری منافع کمایا‘ یہ منافع شپ بریکنگ کی عظیم انڈسٹری کا آغاز ثابت ہوا‘ بحری جہازوں کو ڈبو کر ”مارنے“ کی بجائے توڑ کر بیچنا شروع کر دیاگیا‘ 1892ءتک اس انڈسٹری میں ہالینڈ‘ اٹلی‘ جرمنی اور جاپان بھی شامل ہو گئے‘ پہلی اور دوسری جنگ عظیم کے دوران یورپمیں ہنرمندوں اور مزدوروں کا قحط پڑ گیا‘ اس قحط نے شپ بریکنگ انڈسٹری کو ایشیا کی طرف دھکیل دیا‘ میں دل سے یہ سمجھتا ہوں دنیا میں اگر دو عالمی جنگیں نہ ہوتیں تو جاپان‘ چین‘ تھائی لینڈ‘ ملائیشیا اور انڈونیشیا جیسے ملکوں کو ترقی کےلئے مزید سو سال دھکے کھانے پڑتے‘ عالمی جنگیں یورپ کے ہیومین ریسورس کو نگل گئی تھیں چنانچہ ٹیکنالوجی ایشیا کا رخ کرنے پر مجبور ہو گئی اوریوں مشرق کے دن بھی پھر گئے‘ انڈسٹری کے اس ریلے میں شپ بریکنگ بھی شامل تھی‘ یہ انڈسٹری پانیوں میں ہچکولے کھاتے کھاتے کراچی پہنچ گئی‘ 1947ءمیں پہلا جہاز کراچی پہنچا‘ یہ جہاز گڈانی پہنچا دیا گیا‘ گڈانی کراچی سے پچاس کلو میٹر کے فاصلے پر بلوچستان میں واقع ہے‘ یہ پاکستان کا دوسرا خوبصورت ساحل ہے‘گڈانیکے لوگ جفاکش ہیں‘ یہ ہتھوڑے لے کر جہاز پر پل پڑے اور پورا جہاز چند دنوں میں کھول کر ساحل پر لٹا دیا‘ یہ پاکستان میں شپ بریکنگ کا آغاز تھا۔گڈانی 1969ءسے1983ءتک شپ بریکنگ میں دنیا میں پہلے نمبر پر رہا‘ علاقے کے 30 ہزار ہنر مند براہ راست شپ بریکنگ سے منسلک تھے‘ 5 لاکھ لوگ بلاواسطہ فائدہ اٹھا رہے تھے‘ ایسا کیوں تھا؟ اس کی چار وجوہات تھیں‘ پہلی وجہ خوف تھا‘ شپ بریکنگ دنیا کا خطرناک ترین پیشہ ہے چنانچہ ترقی یافتہ ممالک اس شعبے سے نکل گئے‘ دوسرا‘ یہ انڈسٹری ماحول دشمن ہے‘ یہ آبی حیات کو نقصان پہنچاتی ہے چنانچہ ترقی یافتہ ممالک نے 1960ءکی دہائی میں شپ بریکنگ کو اپنی حدود سے باہر نکال دیا‘ تیسری وجہ گڈانی کے لوگ تھے‘ دنیامیں بحری جہازوں کی اوسط عمر 25 سے 30 برس ہوتی ہے‘ تین دہائیوں کے بعد جہازوں کا لوہا گل جاتا ہے‘ یہ سفر کے قابل نہیں رہتے لہٰذا ان کی تدفین ضروری ہو جاتی ہے‘ گڈانی کے لوگ لوہا کوٹنے کے ماہر تھے‘ یہ ہتھوڑے سے پورا جہاز کھول دیتے تھے اور چار 1960ءکی دہائی میں پاکستان‘ بھارت اور چین میں تیزی سے سٹیل ملز لگنے لگیںجس سے خطے میں لوہے کی کھپت بڑھ گئی‘ گڈانی ان تینوں ملکوں کی گردن تھالہٰذا یہ شپ بریکنگ میں دنیا کا سب سے بڑا مرکز بن گیا‘ حکومت 1978ءمیں اس صنعت کی طرف متوجہ ہوئی‘ ٹیکس میں بھی رعایت دی گئی اور جہازوں کی آمدورفت کو بھی آسان بنا دیا گیا لیکن پھر بھارت اور بنگلہ دیش اس فیلڈ میں کود پڑے‘ بھارت نے گجرات کے ساحلی شہر ا لانگ اوربنگلہ دیش نے چٹاگانگ میں شپ بریکنگ شروع کرا دی اور یوں دیکھتے ہی دیکھتے بھارت اس شعبے میں پہلے‘ بنگلہ دیش دوسرے اور پاکستان تیسرے نمبر پر آ گیا‘ گڈانی میں سالانہ 125 جہاز توڑے جاتے ہیں‘ یہ دنیا کو 10 لاکھ ٹن لوہا سپلائی کرتا ہے‘ گڈانی کے 6 ہزار لوگ اس صنعت سے وابستہ ہیں اور تین لاکھ لوگ بلاواسطہ انڈسٹری سے فائدہ اٹھا رہے ہیں‘ شپ بریکنگ کی صنعت میں 2000ءمیں ایک اور دلچسپ موڑ آ گیا‘ یورپ اور امریکا نے انسانی حقوق کو مزید ٹائیٹ کر دیا‘ بنگلہ دیش اور بھارت کو بدلتی صورتحال کا ادراک تھا‘ انہوں نے کارکنوں کی حفاظت کا خصوصی بندوبست کر دیا‘ نئے قوانین بنائے‘ کارکنوں کوٹریننگ دی‘ انشورنس لازمیقرار دے دی اور ریٹائرمنٹ کی عمر بھی طے کر دی جبکہ پاکستانی حکومت ان معاملات سے لاتعلق رہی‘ یہ عدم توجہ بھارت اور بنگلہ دیش کی شپ بریکنگ کو مضبوط اور گڈانی کو کمزور کرتی چلی گئی‘ آج حالت یہ ہے ہمارے ورکرز پرفارمنس میں بھارت اور بنگلہ دیش سے بہت آگے ہیں‘ یہ 30 سے 45 دنوں میں پورا جہاز توڑ دیتے ہیں جبکہ بھارتی اوربنگالی ورکروں کو چھ ماہلگ جاتے ہیں لیکن اس شاندار پرفارمنس کے باوجود ہماری انڈسٹری کمزور ہو رہی ہے ‘ کیوں؟ کیونکہ بھارت اور بنگلہ دیش ورکرز کو ٹریننگ بھی دیتے ہیں‘ یونیفارم‘ ہیلمنٹ اور دستانے بھی پہناتے ہیں‘صحت کا خیال بھی رکھتے ہیں اور انشورنس بھی کراتے ہیں‘ یہ سمندروں کو ماحولیاتی آلودگی سے بھی بچا رہے ہیں چنانچہ یورپ‘ امریکا‘ کینیڈا اور جاپان اپنے جہاز چٹاگانگیا الانگ بھجواتے ہیں جبکہ دوسری اور تیسری دنیاکی کمپنیاں گڈانی کا رخ کرتی ہیں یوں یہ انڈسٹری بھی آہستہ آہستہ پاکستان کے ہاتھ سے کھسکتی جا رہی ہے‘ رہی سہی کسر یکم نومبر 2016ءکے واقعے نے پوری کر دی‘ یکم نومبر کو گڈانی میں 24 ہزار ٹن وزنی بحری جہاز کو توڑنے کا عمل شروع ہوا‘ یہ جہاز تیل بردار تھا‘ یہ اپنی طبعی عمر پوری کرنے کے بعد کریاکرم کےلئے گڈانی پہنچا‘100 مزدور جہاز پر کام کر رہےتھے‘ اچانک گیس سلنڈر میں دھماکہ ہوا اور جہاز کو آگ لگ گئی‘ 14مزدور پہلے ہلے میں جاں بحق اور59شدید زخمی ہو گئے‘ آگ خوفناک تھی‘ تحقیقات کے بعد معلوم ہوا جہاز میں دو سو ٹن خام تیل اور 11 سو ٹن خوردنی تیل بھی موجود تھا‘ اس واقعے نے ہمارا رہا سہا بھرم بھی ختم کر دیا‘ دنیا کو معلوم ہو گیا پاکستان میں سیکورٹی نام کی کوئی چیز موجود نہیں‘ کوئی بھی کمپنی کسی بھی جہاز میں دو سوٹن کیمیکل بھر کر گڈانی کے ساحلوں تک پہنچا سکتی ہے اور کسی ادارے کو اس کی کانوں کان خبر نہیں ہو گی‘ دنیا کو یہ بھی معلوم ہو گیا ہم شپ بریکنگ کے دوران کسی مزدور کو کسی قسم کی سیفٹی فراہم نہیں کرتے‘ گڈانی کے 6 ہزار مزدور یونیفارم‘ ہیلمٹ‘ دستانوں اور موٹے بوٹوں کے بغیر دنیا کا خطرناک ترین کام کرتے ہیں‘ دنیا کی تیسری بڑی شپ بریکنگ سائیٹ پر آگ بجھانے کے آلات ہیں‘ میڈیکل کی سہولت اور نہ ہی برن یونٹ‘ گڈانی میں ایمبولینس تک دستیاب نہیں ‘ قریب ترین ہسپتال 70 کلو میٹر کے فاصلے پرحب میں واقع ہے اور اس میںبھی پوری طبی سہولیات موجود نہیں ہیں‘ دنیا کو یہ بھی معلوم ہوگیا پاکستان میں مزدوروں کی انشورنس بھی نہیں کرائی جاتی اور دنیا کو یہ بھی پتہ چل گیا ملک میں 70 برس سے شپ بریکنگ ہو رہی ہے لیکن ہم نے سمندری پانی کو ماحولیاتی آلودگی سے بچانے کےلئے کوئی بندوبست نہیں کیا چنانچہ دنیا ہمیں یکم نومبرسے وحشت بھری نظروں سے دیکھ رہی ہے‘مجھے خطرہ ہے یہ واقعہ 70 سال پرانی اس انڈسٹری کا جنازہ بھی نکال دے گا چنانچہ حکومت کو سنجیدگی سے ذمہ داروں کا تعین بھی کرنا چاہیے اور مستقبل کےلئے شپ بریکنگ کی ایس اوپیز بھی بنانی چاہئیں‘ ہم اگر ٹھنڈے دل و دماغ سے سوچیں تو یہ ہمیں پانامہ اور سرل لیکس سے بڑا ایشو محسوس ہو گا لیکن افسوس ملک کی کسی سیاسی جماعت نے اس غفلت پر احتجاج کیا اور نہ ہی اس پر کوئی کمیشن بنا‘ کیوں؟ کیونکہ یہ ملکی ایشو ہے اور ملک کے کسی شریف‘ کسی بھٹو اور کسی خان کو ملکی ایشوز میں کوئی دلچسپی نہیں‘ یہ لوگ کرسیوں پر بیٹھنے اور دوسروں کو کرسیوں سے اٹھانے میں مصروف ہیں‘ 30 مزدوروں کی لاشیں ان کی ترجیحات میں شامل نہیں ہیں لیکن کیا سپریم کورٹ آف پاکستان بھیاس ایشو کو ایشو نہیں سمجھتی؟ کیا یہ بھیحکومت کو گڈانی ایشو پرکمیشن بنانے‘ ذمہ داروں کے تعین اور مستقبل کےلئے ایس او پیز بنانے کا حکم نہیں دے سکتی؟ اگر سپریم کورٹ بھی لاچار ہے تو پھر ملک کےلئے کون سوچے گا؟ ملک کےلئے کون کام کرے گا؟ کیا چیف جسٹس صاحب کے پاس اس سوال کا کوئی جواب موجود ہے؟ہم تھوڑی سی توجہ دے کر گڈانی اور شپ بریکنگ انڈسٹری کو بچا سکتے ہیں‘ اگر چیف جسٹس صاحب چاہیں تو گڈانی میںجدید ترین ہسپتال‘مزدوروں کےلئے ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ ‘ شپ بریکنگ کےلئے ایس او پیزاور ماحولیاتی آلودگی سے بچاﺅ کے انتظامات بھی ہو جائیں گے‘ہماریمعمولی سی غفلت گڈانی کو قبرستان بنا دے گی‘ میری چیف جسٹس صاحب سے درخواست ہے آپ پانامہ لیکس سے فارغ ہونے کے بعد گڈانی کو صرف ایک دن دے دیں‘ یہ ملک‘ گڈانی اور شپ بریکنگ انڈسٹری سب آپ کو دعا دیں گے۔

Comments

Popular posts from this blog

Yusufzai (Pashtun tribe)

The  Yūsufzai  (also  Youssofzay ,  Yousefzai ,  Yousafzai ,  Esapzey ,  Yousufi , or  Yūsufi ) (Pashto:  يوسفزی ,Persian and Urdu:  یوسف زئی ) is one of the largest Pashtun (Afghans) tribes. The majority of the Yusufzai tribe reside in parts of Western Afghanistan, Khyber Pakhtunkhwa and Provincially Administered Tribal Areas near the Afghan-Pakistan border. They are the predominant population in the districts of Konar, Ningarhar, Mardan District, Dir, Swat,Malakand, Swabi, Buner, Shangla, Haripur District [Khalabat Town Ship and Tarbela] and in Mansehra and Battagram. There is also a Yusufzai clan of Dehwar tribe in the Mastung district of Balochistan who speak Persian with some mixture of Birahvi words. The descendants of Yusuf inhabit Konar, Jalalabad, Swat, Upper Dir, Lower Dir, Malakand Swabi and Mardan...

Masail -e- Ghusl By Shaykh Mufti Abdur Rauf Sakharvi

Read Online (2.1 M) By Shaykh Mufti Abdur Rauf Sakharvi

جمع عثمانی رِوایات کے آئینے میں

نبی مکرمﷺ کی حدیث مبارکہ ’’خَیْرُ النَّاسِ قَرْنِيْ ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَھُمْ ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَھُمْ‘‘۔(صحیح البخاري: ۲۶۵۲) پر جب نظر پڑتی ہے تو سر احسان و نیازمندی کے ملے جلے تاثر ات سے جھک جاتا ہے کہ واقعتا آپﷺ، صحابہ رضی اللہ عنہم اور تابعین رحمہم اللہ کا زمانہ خیر القرون تھا، کیونکہ اس میں بنی نوع اِنسان کی راہ روی اور اسلام کی سربلندی کے لیے وہ محنتیں اور کوششیں ہوئی ہیں کہ جس کی مثال آئندہ جمیع قرون میں پیش کرنا مشکل ہے۔ یقینا وہ لوگ اس قابل تھے کہ اُنہیں یہ ذمہ داری سونپی جاتی کہ وہ دینِ الٰہی اور شرع اللہ کو اپنی مکمل تشریحات کے ساتھ آئندہ نسلوں تک منتقل کریں، بلا شبہ وہ طائفہ فائزہ اپنے اس مقصد میں بامراد ہوا ہے۔ان جملہ ذمہ داریوں میں سے اَہم ترین ذمہ داری یہ تھی کہ ہدایت سماوی کے آخری ربانی صحیفہ کو محفوظ اور غیر متبدل شکل میں ہم تک پہنچایا جائے۔ ہمارا یہ قطعی ایمان ہے کہ وہ پیام اَیزدی آج اپنی سو فیصد اَصلی اور حقیقی شکل میں ہمارے درمیان موجود ہے۔ الحمد ﷲ علی ذلک۔اِس سلسلہ میں خیرالقرون میں جو سب سے اَہم کام ہوا ہے وہ سیدنا عثمان ذوالنورین رضی ال...

دین اسلام میں رسول اللہ ﷺ کی اطاعت فرض ہے

بسم اللہ الرحمن الرحیم دین اسلام میں رسول اللہ ﷺ کی اطاعت فرض ہے يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ أَطِيعُوا۟ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ وَلَا تَوَلَّوْا۟ عَنْهُ وَأَنتُمْ تَسْمَعُونَ ﴿20﴾ترجمہ: اے ایمان والو الله اور اس کے رسول کا حکم مانو اور سن کر اس سے مت پھرو(سورۃ الانفال،آیت20) قُلْ أَطِيعُوا۟ ٱللَّهَ وَأَطِيعُوا۟ ٱلرَّسُولَ ۖ فَإِن تَوَلَّوْا۟ فَإِنَّمَا عَلَيْهِ مَا حُمِّلَ وَعَلَيْكُم مَّا حُمِّلْتُمْ ۖ وَإِن تُطِيعُوهُ تَهْتَدُوا۟ ۚ وَمَا عَلَى ٱلرَّسُولِ إِلَّا ٱلْبَلَٰغُ ٱلْمُبِينُ﴿56﴾ترجمہ: کہہ دو الله اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرو پھر اگر منہ پھیرو گے تو پیغمبر تو وہی ہے جس کا وہ ذمہ دار ہے اورتم پر وہ ہے جو تمہارے ذمہ لازم کیا گیا ہے اور اگر اس کی فرمانبرداری کرو گے تو ہدایت پاؤ گے اور رسول کے ذمہ صرف صاف طور پر پہنچا دینا ہے (سورۃ النور،آیت 56) مَّن يُطِعِ ٱلرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ ٱللَّهَ ۖ وَمَن تَوَلَّىٰ فَمَآ أَرْسَلْنَٰكَ عَلَيْهِمْ حَفِيظًۭا ﴿80﴾ترجمہ: جو شخص رسول کی فرمانبرداری کرے گا تو بےشک اس نے اللہ کی فرمانبرداری کی اور جو نافرمانی کرے گا تو اے ...

قراء ات متواترہ کا ثبوت اور اس کے منکر کا حکم

قرآن حکیم اللہ تبارک وتعالیٰ کا انمٹ اورلاریب کلام ہے جس کی مثل لانے سے دنیا کا ہر فرد عاجز اور درماندہ ہے۔ بڑے بڑے فصحائے عرب اور فارسانِ بلاغت اس کی نظیر اورمثل پیش نہیں کرسکے اور نہ ہی قیامِ قیامت تک پیش کر سکتے ہیں۔ علمائے اسلام اور زعمائے ملت نے اس کی تفسیر وتوضیح اور مفاہیم ومعانی کی عقدہ کشائی کے لئے انتھک محنت اور قابل رشک جدوجہد کی ہے اور اس کا حقِ خدمت ادا کرنے کے لئے صعوبتوں اورمسافتوں سے بھرپور دور دراز بلاد و ممالک کے سفر طے کیے۔ اورہر کسی نے اپنی اپنی ہمت اوربساط کے مطابق اس کی خدمت کر کے اعلیٰ وارفع مقام حاصل کیا ۔جن میں ابن جریر طبری، ابن حاتم رازی، عبد الرزاق ، نسائی اور ابن کثیررحمہم اللہ جیسے گلستان ِ حدیث کے خوشبودار پھول، ابوحیان اندلسی اور زمخشری رحمہم اللہ جیسے فارسانِ بلاغت وادب اورنکتہ سنج۔ ابو عبد اللہ قرطبی اورابوبکر ابن العربی رحمہم اللہ جیسے فقاہت کے درخشندہ ستارے۔ رازی اوربیضاوی رحمہم اللہ جیسے فلاسفہ اورمتکلمین جہاں معانی ومفا،عثمان بن سعید ابو سعید ورش القبطی، احمد بن قالون المدنی، خلف بن ہشام البغدادی، ابو معبد عبد اللہ بن ہیم رحمہم اللہ کے گلستان ...

خیرخواہی وامانت داری

خیرخواہی وامانت داری خیر خواہی دین کی بنیاد ا ور اس کا جوہر ہے۔ دین دراصل خیر خواہی کا نام ہے۔ خیرخواہی اللہ کی، اس کے کتاب کی، اس کے رسول کی، مسلم ائمہ وحکمرانوں کی اور عامۃ المسلمین کی ہوتی ہے۔ پس جب ان تمام کے حق میں بندہ خیرخواہ ہوگا تو اس کا دین کامل ہوگا اور جس میں ان میں سے کسی کی خیرخواہی میں کمی و کوتاہی ہوگی تو اسی قدر اس کے دین میں نقص وکمی ہوگی۔ مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اپنی خیرخواہی میں امانت کو ملحوظ رکھے اور بغیر کسی مداہنت ومجاملت کے حق کو بیان کرے۔ یہی شخص اللہ کے نزدیک امین ہوگا۔ إن الحمد لله، نحمده ونستعينه ونستغفره، ونعوذ بالله من شرور أنفسنا، وسيئات أعمالنا، من يهده الله فلا مضل له، ومن يضلل فلا هادى له، وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له، وأشهد أن محمداً عبده ورسوله۔ أما بعد: فإن خیر الحدیث کتاب اللہ، وخیر الھدی ھدی محمد صلی اللہ علیہ وسلم، وشر الأمور محدثاتھا، وکل محدثۃ بدعۃ، وکل بدعۃ ضلالۃ، وکل ضلالۃ  فی النار۔  وقد قال اللہ تبارک وتعالی فی کتابہ المجید: (إِنَّ اللَّـهَ يَأْمُرُكُمْ أَن تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَىٰ أَهْلِهَا وَإِذَا حَ...

Alamaat -e- Qayamat Aur Nuzool -e- Maseeh [a.s] By Shaykh Mufti Rafi Usmani

Read Online Slideshare Download [27] ENGLISH TRANSLATION

دعا مانگنے کا ضابطہ اور اس کے آداب

ارشاد ربانی ہے:”ونادٰی نوح ربہ فقال رب ان ابنی من اہلی وان وعدک الحق وانت احکم الحاکمین‘ قال یا نوح انہ لیس من اہلک‘ انہ عمل غیر صالح‘ فلاتسئلن مالیس لک بہ علم‘ انی اعظک ان تکون من الجاہلین“۔ (۱)ترجمہ:․․․”اور نوح علیہ السلام نے اپنے رب کو پکارا اور عرض کیا کہ اے میرے رب! میرا بیٹا میرے گھروالوں میں سے ہے اور آپ کا وعدہ بالکل سچا ہے‘ اور تو سب سے بڑا حاکم ہے‘ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: کہ اے نوح! یہ شخص تمہارے گھروالوں میں نہیں‘ یہ تباہ کار ہے‘ سو مجھ سے ایسی چیز کی درخواست مت کرو جس کی تم کو خبر نہیں۔ میں تم کو نصیحت کرتا ہوں کہ تم نادانوں میں داخل نہ ہوجاؤ“۔آیات مذکورہ بالا سے فقہاء نے یہ مسئلہ اخذ کیا ہے کہ دعا کے لئے ضروری ہے کہ دعا کرنے والا پہلے یہ معلوم کرے کہ جس کام کی دعا کررہا ہے وہ جائز وحلال ہے یانہیں۔ مشتبہ حالت میں دعا کرنے سے منع فرمایا گیا ہے‘ جیساکہ قاضی بیضاوی لکھتے ہیں:”فلاتسئلن مالیس لک بہ علم“ ای مالم تعلم اصواب ہو ام لیس کذلک“ (۲)ترجمہ:․․․”سو مجھ سے ایسی چیز کی درخواست مت کرو جس کی تم کو خبر نہیں یعنی جس کے بارے میں تجھے یہ علم نہ ہو کہ یہ حق وجائز ہے یا نہیں...

قرآن مجید سے فائدہ اٹھانے کی پانچ شرائط

ایمان حاصل کرنے کا اصل ذریعہ قرآنِ کریم ہے لیکن اس مقصد کے لئے قرآن کی تلاوت کے کچھ آداب و شرائط ہیں۔ اگر ان کا خیال رکھا جائے تو تبھی قرآن سے مذکورہ فائدہ حاصل ہوتا ہے۔ لہٰذا ان آداب و شرائط کا پورا پورا اہتمام کرنا چاہئے۔ ۱ نیت کی پاکیزگی: سب سے پہلی چیز نیت کی پاکیزگی ہے۔ یعنی آدمی قرآن مجید کو صرف ہدایت حاصل کرنے کے لئے پڑھے، کوئی ذاتی غرض سامنے رکھ کر نہ پڑھے، اگر طلبِ ہدایت کے سوا آدمی کے سامنے کوئی اور غرض ہوگی تو نہ صرف یہ کہ وہ قرآن مجید کے فیض سے محروم رہے گا بلکہ اس بات کا اندیشہ بھی ہے کہ قرآن مجید سے جتنا دور وہ اب تک رہا ہے، اس سے بھی کچھ زیادہ دور ہٹ جائے گا۔ اگر آدمی قرآن مجید کو اس لئے پڑھے کہ لوگ اسے مفسر قرآن سمجھنے لگیں یا اس لئے پڑھے کہ اس کے کچھ اپنے نظریات ہوں اور وہ اپنے ان نظریات کو قرآن مجید کے رنگ کے ساتھ لوگوں کے سامنے پیش کرنے کا خواہش مند ہو تو ممکن ہے اس کے یہ ارادے کسی حد تک پورے ہوجائیں لیکن اس طرح وہ قرآن مجید سمجھنے کا دروازہ اپنے اوپر بالکل بند کرلے گا۔قرآن مجید کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت کا صحیفہ بنا کر اتارا ہے اور ہرآدمی...

The Qur’an & Modern Science -Compatible or Incompatible?

Read and Download