Skip to main content

رحمت ِعالم صلی اللہ علیہ وسلم

 


رحمت ِعالم صلی اللہ علیہ وسلم 

قرآن مجید میں پیغمبر اسلام جناب محمد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی مختلف صفات کا ذکر آیا ہے، 

یہ تمام صفات اپنی جگہ اہم ہیں اور آپ کے محاسن کو ظاہر کرتے ہیں، لیکن ان میں سب سے اہم صفت یہ ہے کہ آپ کو تمام عالم کے لئے رحمت قرار دیا گیا، 

وما أرسلنٰک الا رحمۃ للعالمین (الانبیاء : ۱۰۷) 

—– اس تعبیر کی و سعت اور ہمہ گیری پر غور فرمائیے کہ آپ کی رحمت مکان و مقام کی وسعت کے لحاظ سے پوری کائنات کو شامل ہے اور زمانہ و زمان کی ہمہ گیری کے اعتبار سے قیامت تک آنے والے عرصہ کو حاوی ہے، یہ کوئی معمولی دعویٰ نہیں، اور شاید ہی تاریخ کی کسی شخصیت کے بارے میں ایسا دعویٰ کیا گیا ہو، یہ دعویٰ جتنا عظیم ہے اسی قدر واقعہ کے مطابق بھی ہے، 

آپ کی رحمت کا دائرہ یوں تو پوری کائنات تک وسیع ہے، زندگی کے ہر گوشہ میں آپ کا اسوہ رحمت کا نمونہ ہے، لیکن اس وقت انسانیت پر آپ کی رحمت کے چند خاص پہلوؤں پر روشنی ڈالنا مقصود ہے ۔

ان میں پہلی بات یہ ہے کہ آپ نے انسانیت کو وحدت الٰہ کا تصور دیا، خدا کو ایک ما ننا بظاہر ایک سادہ سی بات معلوم ہوتی ہے، لیکن بمقابلہ الحاد و انکار اور شرک و مخلوق پرستی کے یہ ایک انقلابی عقیدہ ہے، خدا کا انکار انسان کو غیر ذمہ دار، گناہوں کے بارے میں جری اور مادہ پرست بنا دیتا ہے؛ کیونکہ اسے جواب دہی کا کوئی خوف نہیں ہوتا اور دنیا اس کے لئے محض عشرت کدہ ٔ حیات ہوتی ہے، 

گویا انسان خدا کی بندگی سے آزاد اور لذت و عیش کا غلام بن جاتا ہے، شرک انسانیت کی تذلیل ہے، کیونکہ مشرک ادنیٰ سے ادنیٰ شئ کے سامنے بھی پیشانی جھکانے میں کوئی حیا محسوس نہیں کرتا، مشرک خدا کے بجائے مخلوق سے نفع و نقصان کی اُمیدیں وابستہ کر لیتا ہے، اس لئے اس میں توہم پرستی پیدا ہوتی ہے، اسے قدم قدم پر نحس اور بے برکتی کے خطرات پریشان کرتے رہتے ہیں اور معمولی چیزوں کے خوف سے بھی اس کا دل بیٹھا رہتا ہے، 

ﷲ کے ایک ہونے کے تصور سے انسانیت کی تکریم اور اس کا اعزاز متعلق ہے، یہ اس بات کا اعلان ہے کہ اس کی پیشانی غیر ﷲ کے سامنے جھکنے سے ماوراء ہے اور خدا نے اس کو پوری کائنات پر فضیلت بخشی ہے، اسی لئے قرآن ہمیں بتاتا ہے کہ اﷲ نے فرشتوں سے بھی حضرت آدم کو سجدہ کرایا، اور اس طرح انسانی کرامت و شرافت کو ظاہر فرما دیا، 

عقیدہ توحید نے انسانیت کو اوہام پرستی سے نجات دلایا؛ کیوںکہ توحید پر ایمان رکھنے والا اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ مخلوق اسے نفع و نقصان پہنچانے سے عاجز ہے، توحید کا عقیدہ انسان کے اندر خدا کی محبت اور خدا کا خوف پیدا کرتا ہے اور یہ خشیت اور خدا کے راضی کرنے کا جذبہ فرائض کی ادائیگی اور ذمہ داری کا احساس پیدا کرتی ہے اور وہ دنیا کو قصر عشرت سمجھنے کے بجائے محل امتحان سمجھ کر پھونک پھونک کر قدم رکھتا ہے، اس لئے توحید کا عقیدہ انسانیت کے لئے بہت بڑی نعمت اور سامان رحمت ہے، جو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے ذریعہ انسانیت کو حاصل ہوا ۔

گو حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے بھی انبیاء نے توحید کی تعلیم دی اور بہت سے مصلحین نے بھی شرک کی تردید و انکار کا فریضہ انجام دیا، لیکن حضرت نوح ؑ سے لے کر رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی بعثت تک ہمیشہ انسانیت پر مشرکانہ فکر کا غلبہ رہا، یہاں تک کہ جو مذاہب توحید کا علم لے کر اُٹھے وہ خود بھی شرک کے رنگ میں رنگ گئے، 

یہودی اصلاً موحد تھے، لیکن یہود کے بعض فرقوں نے حضرت عزیر کو خدا کا شریک قرار دیا، 

عیسائیوں نے تو حضرت مسیح کی الوہیت کو اپنے عقیدہ کا بنیادی جزو ہی بنالیا، 

ہندو مذہب میں بھی توحید کا عنصر موجود ہے، مگر انھوں نے خود اپنے لاتعداد خدا تخلیق کر لئے، 

بودھ مذہب کی بنیاد مذہب کے شارحین کے خیال کے مطابق خدا کے انکار پر ہے، لیکن بودھ مذہب کے متبعین نے خود بودھ کی پرستش شروع کردی، 

رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے توحید کی فکر کو اس طرح غالب فرمایا کہ وہ قیامت تک کے لئے ایک غالب فکر بن گئی، یہاں تک کہ جن مذاہب کی اساس شرک پر تھی ان میں بھی ایسی تحریکات اٹھیں جو توحید کی داعی تھیں ۔

رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی صفت ِ رحمت کا دوسرا مظہر ’’ انسانی وحدت ‘‘ کا تصور ہے، آپ کی بعثت سے پہلے قریب قریب دنیا کی تمام تہذیبوں اور مذاہب میں انسان اور انسان کے درمیان تفریق اور کچھ لوگوں کے پیدائشی طور پر معزز اور کچھ لوگوں کے حقیر ہونے کا تصور موجود تھا، 

یہودی اسرائیلی اور غیر اسرائیلی میں تفریق کرتے تھے اور جو لوگ حضرت یعقوب علیہ السلام کی نسل سے ہوں ان کو پیدائشی طور پر افضل و برتر جانتے تھے، 

ایران کے لوگوں کا خیال تھا کہ جو لوگ بادشاہ کی نسل سے ہوں وہ خدا کے خاص اور مقرب بندے ہیں بلکہ خدا کا کنبہ ہیں، 

ہندوستان کا حال تو شاید سب سے خراب تھا کہ انسانیت کو مستقل طور پر چار طبقوں میں تقسیم کر دیا گیا تھا، کچھ لوگوں کے بارے میں تصور تھا کہ وہ خدا کے سر سے پیدا کئے گئے ہیں، کچھ لوگ خدا کے بازو سے، کچھ کی پیدائش خدا کے ران سے ہوئی ہے اور کچھ کی پاؤں سے، یہ برہمن، ویش، کھتری اور شودر کہلاتے تھے، 

شودر اتنا بدقسمت گروہ تھا کہ تاریخ عالم میں شاید ہی ایسی اجتماعی اور قومی مظلومیت کی مثال مل سکے، ان پر تعلیم کا دروازہ بند تھا، ان کے لئے کچھ ذلیل سمجھنے جانے والے پیشے مخصوص تھے اور وہ اونچی ذاتوں کے لئے پیدائشی غلام سمجھے جاتے تھے، کم و بیش یہی حال دنیا کے مختلف علاقوں اور مختلف قوموں میں تھا ۔

رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے انسانی وحدت کا تصور پیش کیا اور پیدائشی طور پر افضل و برتر اور حقیر و کہتر ہونے کے تصور کو رد فرما دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صاف اعلان کیا کہ کسی عربی کو کسی عجمی پر اور کسی گورے کو کسی کالے پر محض رنگ و نسل کی وجہ سے کوئی فضیلت نہیں؛ بلکہ فضیلت کا معیار انسان کا تقویٰ اور اس کا عمل ہے، اس اعلان نے عرب کے معزز قبائل اور حبش و روم کے بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ  و صہیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ایک صف میں کھڑا کر دیا، بلکہ یہ عجمی نژاد غلام جو کبھی حقارت کی نظر سے دیکھے جاتے تھے، زعماء عرب کے لئے وجہ رشک بن گئے اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ جیسے فرمانروا بھی انھیں اپنے ’’ سردار ‘‘ کے لفظ سے مخاطب کرتے تھے، 

یہ آپ ہی کی تعلیمات کا نتیجہ ہے کہ اسلام کے پھیلنے کے ساتھ ہی تفریق و امتیاز کی زنجیریں کٹنے لگیں، انسانی مساوات کے نعرے ہرسو بلند ہوئے اور دنیا کی مظلوم و مقہور قوموں کو پیدائشی غلامی سے آزادی نصیب ہوئی اور اگر کہیں کسی انسان گروہ نے اپنی شقاوت اور جور و جفا سے اس ظلم کے سلسلہ کو جاری بھی رکھا تو ان کو ہر طرف سے طعن و تشنیع کے الزام سننے پڑے اور مظلوموں کو ان کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرنے کا موقعہ فراہم ہوا، یہ آپ کی رحمت عامہ کا ایسا پہلو ہے کہ کوئی صاحب بصیرت اسے نظر انداز نہیں کرسکتا ۔

اس وحدت انسانی کے تصور نے زندگی کی تمام شعبوں پر اپنا اثر ڈالا، تمام لوگوں کے لئے ہر طرح کے پیشہ کا دروازہ کھل گیا اور پیشوں کی تحقیر و تذلیل کا تصور ختم ہوا، علم کی روشنی عام ہوئی اور ہر ایک کے لئے تعلیم کا دروازہ کھلا، سماجی زندگی میں ہر ایک کے لئے باعزت طریقہ پر زندگی بسر کرنے کا موقع فراہم ہوا، جرم و سزا کے باب میں انصاف کا قائم کرنا ممکن ہوا اور ہر ایک کے لئے اپنی تہذیب اور اپنی روایات کا تحفظ ممکن ہوسکا، لیکن اس انسانی وحدت کے تصور نے سب سے زیادہ اثر سیاسی نظام پر ڈالا، اسلام سے پہلے پوری دنیا کے سیاسی اُفق پر ملوکیت کا تصور چھایا ہوا تھا اور اس کے مقابلہ میں کوئی اور نظام سیاست عملاً موجود نہیں تھا، ظہور اسلام کے وقت جتنی معلوم طاقتیں تھیں وہ سب ملوکیت کی نمائندہ تھیں، روم میں بادشاہت تھی، ایران میں بادشاہت تھی، حبش میں بادشاہت تھی، یمن میں بادشاہت تھی، ہندو چین کے علاقوں میں بھی چھوٹے بڑے راجا تھے، غرض پوری دنیا بادشاہت کے آمرانہ نظام اور پنجہ استبداد کے تحت تھی، یہاں تک کہ یونان کے فلاسفہ نے جس جمہوریت کا نقشہ پیش کیا تھا، اس میں بھی ’’ اشراف ‘‘ کی حکومت کا تصور تھا اور عام لوگوں کے اقتدار میں شرکت کی کوئی گنجائش نہیں تھی ۔

اسلام نے انسانی وحدت اور مساوات کا جو تصور پیش کیا اس نے محض خاندانی بنیاد پر حکومت و اقتدار کے ارتکاز اور فرمانروائی کے تصور کو پاش پاش کر دیا اور جمہوریت کے تصور نے غلبہ حاصل کیا، 

چنانچہ آج صورت حال یہ ہے کہ پوری دنیا میں جمہوری نظام قائم ہے جو اسلام کے تصور خلافت سے مستعار اور اپنی بعض خامیوں کے باوجود انسانی وحدت و مساوات کا علمبردار ہے، یہاں تک کہ آج یا تو بادشاہت کا وجود ہی نہیں یا ہے تو محض دستوری اور علامتی بادشاہت ہے اور اگر کہیں جبراً آمرانہ ملوکیت باقی ہے تو وہ پوری دنیا کی نگاہ میں قابل تحقیر اور لائق ملامت ہے ۔

رحمت نبوی کا تیسرا اہم پہلو علم کی حوصلہ افزائی ہے، آپ جس سماج میں تشریف لائے وہاں لوگ اس بات کو سرمایہ ٔ افتخار سمجھتے تھے کہ وہ پڑھنا لکھنا نہیں جانتے، وہ بہت ہی فخر کے ساتھ اپنے ’’ اُمّی ‘‘ ہونے کی بات کہتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تعلیم و تعلم کی حوصلہ افزائی فرمائی اور علم کو بلا امتیاز و تفریق ہر طبقہ کے لئے عام فرمایا، پھر آپ نے علم کے معاملہ میں دین اور دنیا کی کوئی تقسیم نہیں کی، بلکہ ہر وہ علم جو انسانیت کے لئے نفع بخش ہو خدا سے اس کے لئے دُعاء فرمائی اور فرمایا کہ علم و حکمت کی جو بات جہاں سے مل جائے اس کی طرف ایسا لپکنا چاہئے جیسے انسان اپنی گم شدہ چیز کے لئے لپکتا ہے، 

الحکمۃ ضالۃ المؤمن (ترمذی : ابواب العلم، حدیث نمبر : ۲۶۸) 

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کے بچوں کو بدر کے مشرک قیدیوں سے تعلیم دلائی اور مدینہ میں یہودیوں کی درس گاہ ’’ بیت المدراس ‘‘ میں تشریف لے گئے، جس سے علم کے باب میں آپ کی فراخ قلبی اور کشادہ چشمی کا اندازہ ہوتا ہے۔

اس سے نہ صرف یہ کہ علم کا دور دورہ ہوا، بلکہ غیر سائنٹفک کی جگہ سائنٹفک فکر کا غلبہ ہوا اور توہمات کی زنجیریں کٹیں، شرک چونکہ مخلوقات کو معبود کا درجہ دیتا ہے اور جو معبود ہو اس کی عظمت اور اس کا احترام تحقیق و تجسس میں مانع بن جاتا ہے؛ اس لئے وہ علمی ترقی اور تحقیق وسائنس کے ارتقاء میں رکاوٹ بن جاتی ہے، توحید چونکہ مخلوقات کے معبود ہونے کی نفی کرتی ہے، اس لئے کائنات کی تما م اشیاء پر غور و فکر، بحث و تحقیق اور تفحص و تجسس کا راستہ کھلتا ہے اور انسان علم میں جتنا آگے بڑھتا جائے اور کائنات کے حقائق پر جو پردے پڑے ہوئے ہیں ان کو جس قدر اٹھاتا جائے وہ اسی قدر توہمات سے آزاد ہوتا جاتا ہے ۔

پس اسلام نے علم و تحقیق کی راہ کھولی، مخلوق کی مبالغہ آمیز عظمت دلوں سے نکالی اور اوہام کا پردہ چاک کیا، 

اسلام سے پہلے لوگ عورتوں کو، جانوروں میں گدھے کو، پرندوں میں اُلّو کو، مہینوں میں شوال اور صفر کو، دنوں میں چہارشنبہ کو منحوس تصور کرتے تھے اور خود اپنے لکھے ہوئے پانسوں پر کامیابی اور ناکامی کی اُمیدیں قائم کرتے تھے، نحس کے سلسلہ میں اور بھی بہت سے تصورات تھے، جو عربوں میں پائے جاتے تھے، ہندوستان وغیرہ میں آج بھی یہ تصور اچھے خاصے پڑھے لکھے لوگوں پر بھی مسلط رہتا ہے، بلکہ خود یورپ میں بھی عام لوگ توہمات میں مبتلا ہیں، پیغمبر اسلام صلی اﷲ علیہ وسلم نے اس توہم پرستی کی تردید فرمائی، اُصولی طور پر اس بات کو واضح فرمایا کہ نفع و نقصان کسی مخلوق سے متعلق نہیں؛ بلکہ یہ خالق کے ہاتھ میں ہے، اور جن جن باتوں کے بارے میں نحس و بے برکتی کا تصور تھا صراحت کے ساتھ ان کی تردید فرمائی، یہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی رحمت عامہ کا ایک اہم پہلو ہے، جس نے انسانیت کو توہمات کی بیڑیوں سے نکال کر علم و تحقیق کی دنیا میں پہنچایا اور اس تحقیق نے نئی نئی ایجادات و اختراعات کی تحریک کی، جس کے مظاہر اور جس کے فوائد آج ہمارے سامنے ہیں ۔

اسلام سے پہلے اہل مذاہب نے دین اور دنیا کا بٹوارہ کر رکھا تھا اور دین و دنیا کی اس تقسیم نے قانون فطرت کے خلاف بغاوت کر رکھی تھی، نکاح کو بری بات سمجھا جاتا تھا، قرب خداوندی کے لئے تجرد کی زندگی ضروری سمجھی جاتی تھی اور مرد و عورت کے فطرت تعلق کو بہر صورت گناہ باور کیا جاتا تھا، کسب معاش کی محنتوں کو دین الٰہی اور رضائے خداوندی کے خلاف گمان کیا جاتا تھا، یہاں تک کہ رہبانیت کے غلبہ کا عیسائیت میں ایک ایسا دور بھی گذرا ہے کہ لوگ نہانے، دھونے، صاف ستھرے کپڑے پہننے اور خوشبو استعمال کرنے کو بھی للہیت کے خلاف سمجھتے تھے اور دسیوں سال غسل سے مجتنب رہتے تھے، رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی رحمت کا ایک اہم بات رہبانیت کے اس تصور کا خاتمہ ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تعلیم دی کہ اﷲ تعالیٰ کے احکام کے حدود میں رہتے ہوئے دنیا سے نفع اُٹھانا بھی دین کا ایک حصہ ہے، ’ دین ‘ دنیا سے نفع اُٹھانے میں حلال و حرام کی تمیز کا نام ہے نہ کہ دنیا کو ترک کر دینے کا، 

چنانچہ آپ نے نکاح کرنے کا حکم دیا اس کو اپنی اور انبیاء کی سنت قرار دیا اور تجرد کی زندگی کو ناپسند فرمایا، کسب معاش کو ایک اہم فریضہ قرار دیا اور اس کی حوصلہ افزائی فرمائی، صفائی ستھرائی کی تعلیم دی اور کوئی ایسا حکم نہیں دیا جو انسانی فطرت سے متصادم ہو؛ بلکہ انسانی فطرت میں جو تقاضے اور داعیے رکھے گئے ہیں ان سب کو جائز رکھا گیا اور کوئی ایسا حکم نہیں دیا گیا جو فطرت انسانی کے خلاف ہو ۔

یہ رسول ﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی رحمت عامہ کے وہ پہلو ہیں، جنھوں نے انسانی تاریخ پر گہرے اور دور رس اثرات ڈالے ہیں، جن کے ذریعہ انسانی کرامت و شرافت بحال ہوئی، جن کی وجہ سے انسانیت عدل و مساوات اور اخوت و بھائی چارگی کی نعمت سے سرفراز ہوئی اور تفریق کی مصنوعی دیواریں جن کی وجہ سے زمین بوس ہوئیں، جن کے باعث انسان نے اوہام کے بجائے عقل و خرد سے کام لینا سیکھا، اور ان میں علم و تحقیق کا حوصلہ پیدا ہوا جس نے انسان کو معتدل، متوازن، قانونِ فطرت سے ہم آہنگ اور تمام انسانی ضروریات کو پوری کرنے والا نظام حیات عطا کیا، 

انسانیت قیامت تک اس کے لئے رحمت عالم صلی اﷲ علیہ وسلم کی احسان مند رہے گی اور ’’ وماأرسلناک الا رحمۃ للعالمین‘‘ کے مژدۂ خداوندی اور شہادت الٰہی کا اعتراف کرتی رہے گی، 

و صلی اﷲ علی خیر خلقہ محمد واٰلہ واصحابہ اجمعین ۔

Comments

Popular posts from this blog

Yusufzai (Pashtun tribe)

The  Yūsufzai  (also  Youssofzay ,  Yousefzai ,  Yousafzai ,  Esapzey ,  Yousufi , or  Yūsufi ) (Pashto:  يوسفزی ,Persian and Urdu:  یوسف زئی ) is one of the largest Pashtun (Afghans) tribes. The majority of the Yusufzai tribe reside in parts of Western Afghanistan, Khyber Pakhtunkhwa and Provincially Administered Tribal Areas near the Afghan-Pakistan border. They are the predominant population in the districts of Konar, Ningarhar, Mardan District, Dir, Swat,Malakand, Swabi, Buner, Shangla, Haripur District [Khalabat Town Ship and Tarbela] and in Mansehra and Battagram. There is also a Yusufzai clan of Dehwar tribe in the Mastung district of Balochistan who speak Persian with some mixture of Birahvi words. The descendants of Yusuf inhabit Konar, Jalalabad, Swat, Upper Dir, Lower Dir, Malakand Swabi and Mardan...

"Dalda ka Dastarkhwan January 2012

    Click Here To Download

Titliyan Phool aur Khushboo by Rahat Jabeen

Click Here To Download Titliyan Phool aur Khushboo

یہودی پروٹوکولز

Online Read یہودی پروٹوکولز ============================================== Online Read E Book یہودی پروٹوکولز ============================================== Download Free یہودی پروٹوکولز ---------------------------------------------------- Download Free یہودی پروٹوکولز ----------------------------------------------------

Mawlana Muhammad Sarfraz Khan Safdar (r.a) by Abu Asim Badrul Islam

Read Online (0.6 M) SMALL BIOGRAPHY OF SHAYKH SARFRAZ KHAN SAFDAR (R.A) IN ENGLISH. By Abu Asim Badrul Islam

وہ ہم میں سے نہیں

بسم اللہ الرحمن الرحیم آج میں آپ سب ساتھیوں کے لیئے وہ احادیث پیش کرنے جا رہا ہوں جن میں نبیﷺ کا ارشاد مبارک ہے کہ ایسا ایسا کام کرنے والے ہم میں سے نہیں ہیں، اس فقرے کی مراد مختلف علماء اور محدثین نے مختلف پیش کی ہے بعض نے کہا کہ اس سے مراد یہ ہے کہ وہ ہم اہل بیت میں سے نہیں ہیں، بعض نے کہا اس سے مراد مسلمانوں میں سے نہیں ہے، بعض نے کہا کہ ہمارے طریقے پر نہیں ہے اور بعض نے کہا کہ وہ ہماری جماعت میں سے نہیں ہے، اب ان مفاہیم میں سے کوئی بھی فہم لیا جائے تو بھی بہت خطرناک معاملہ بنتا ہے اس لیئے بھائیو اور بہنو اپنی اپنی اصلاح کی طرف توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے کہ ان سبھی برُے کاموں میں سے کوئی ایک کام بھی ہمارے اعمال میں موجود نہیں رہنا چاہیئے کہ کہیں اس ارشادِ نبویﷺ کی زَد میں ہماری ذات نہ آ جائے کہ وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ ویسے جہاں تک میں اس کو سمجھا ہوں وہ یہ ہے کہ ہر موقعہ پر اس کا معنی اور مفہوم بدل جاتا ہے یعنی جہاں معاملہ سنگین ہو وہاں اس کا معنی بھی سنگین ہوگا یعنی وہ ہم مسلمانوں میں سے نہیں ہے اور جہاں معاملہ ہلکی نوعیت کا ہوگا وہاں معنی بھی ہلکا ہوگا یعنی وہ ہمار...

Mystery Digest January 2012

Click Here To Download Mystery Digest January 2012

EXPLAINING THE FUNDAMENTALS OF FAITH

Hajj Guide Free 1 double sided page

Title: Hajj Guide Free 1 double sided page Author: The Islamic Bulletin Category: Hajj (Pilgrimage) ‘The Islamic Bulletin’ Resources Filetype: pdf Filesize: 266 KB Description: This guide fits on one page so it is possible to fold and fit in a wallet or purse and take to the Hajj. It is available in Arabic, English, Farsi , French, German, Indonesian, Italian, Spanish, Turkish, and Urdu.     

جمع قرآن اور اس کی تدوین

جمع قرآن اور اس کی تدوین جمع قرآن سے مراد قرآن کریم کا جمع کرنا۔ خواہ حفظ سے ہو یا کتابت سے یا تلاوت کی ریکارڈنگ سے۔ اور تدوین سے مراد اس کو کتابی صورت میں ترتیب دینا ہے۔ان سب مراحل کی ایک دل چسپ معلوماتی تاریخ ہے جسے ایک طالب علم کے لئے جاننا بہت اہم ہے۔تاکہ وہ آگاہ رہے کہ یہ مقدس کتاب کس طرح کن کن ادوار سے گذر کر محفوظ ترین صورت میں ہم تک پہنچی؟مقصد جمع قرآن: جمع قرآن کا مقصد یہی تھا کہ جس طرح قرآن مجید آپ ﷺ پر اترا ہے اور جس طرح آپ نے اسے پڑھا یا سکھایا ہے اسے لکھ کر محفوظ کرلیا جائے۔ یہ اللہ کا حکم تھا تاکہ مستقبل میں ممکنہ اختلاف جو قراءت یا اس کے الفاظ ، ترتیب اور لغت میں پیدا ہوسکتا ہے وہ نہ ہوسکے۔ اللہ تعالیٰ نے خود بھی اس کی حفاظت کی ذمہ داری لی مگر اس حفاظت کا کام صحابہ رسول اور امت کے قراء وحفاظ سے بھی لیا۔جمع قرآن کی دلیل: آپ ﷺ قرآن کی تنزیل میں سخت شدت محسوس کیا کرتے۔ اور اپنے ہونٹوں کو حرکت دیا کرتے تھے۔ جیسا کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت صحیحین میں ہے۔تو اللہ تعالیٰ نے ابتداء میں ہی یہ فرمادیا : {لَا تُحَرِّكْ بِہٖ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ...