Skip to main content

بھوک ہڑتال یا خود کشی اسلامی نقطہ ٴ نگاہ سے

بھوک ہڑتال یا خود کشی اسلامی نقطہ ٴ نگاہ سےدور حاضر میں مختلف افراد‘ یونینوں اور اداروں کی جانب سے اپنی ناراضگی کے اظہار اور تنقید کے لئے جو طریقہ استعمال کیا جاتا ہے اسے ”بھوک ہڑتال“ کہتے ہیں‘ یہ ایک معمول بنا ہے کہ اگر آپ کی بات نہ سنی جارہی ہو یا آپ کے مرضی کے مطابق فیصلہ نہ دیا جارہاہو )بغیر اس کے کہ آپ حق پر ہیں یا نہیں( تو اپنی بات منوانے اور فیصلے کو اپنےحق میں کرانے کے لئے انسان بھوکا رہ کر اپنے آپ کو ناراض ظاہر کرتا ہے اور احتجاج ریکارڈکراتا ہے‘ اسی سلسلے میں بسا اوقات اس کی جان تک چلے جانے کا اندیشہ رہتا ہے‘ لہذا اسلامی نقطہ نظر سے بھوک ہڑتال قطعاً جائز نہیں‘ کیونکہ زندگی کی تحفظ کے لئے اور اپنی طاقت وتوانائی کو معمول پر برقرار رکھنے کے لئے غذا کھانا واجب ہے۔علامہ سید محمد ابی السعود‘ فتح المعین میںلکھتے ہیں :”الاکل والشرب لدفع الہلاک فرض“ )۱(ترجمہ:․․․ ”دفع ہلاکت کے لئے کھانا پینا فرض ہے“۔ جبکہ فتاویٰ عالمگیری میں درج ہے :”اما الاکل فعلیٰ مراتب‘ فرض وہو ما یندفع بہ الہلاک فان ترک الاکل والشرب حتی ہلک فقد عصیٰ“۔ )۲(ترجمہ:․․․ ”کھانے کے چند درجات ہیں اتنا کھانا جس کے ذریعے جان بچ سکے فرض ہے‘ لہذا اگر کوئی کھانا پینا چھوڑ دے یہاں تک کہ مرجائے تو وہ گنہگار ہوگا“۔ایک دوسری جگہ درج ہے کہ:”ولو جاع ولم یأکل مع قدرتہ حتی مات یأثم“ )۳(ترجمہ:․․․” اگر بھوک لگے اور قدرت کے باوجود نہ کھائے یہاں تک کہ مرجائے تووہ شخص گنہگار ہوگا“۔فقہاء عظام کی مذکورہ بالا تصریحات سے یہ بات ثابت ہوئی کہ غذا پر قدرت کے باوجود اسے نہ کھانا یہاں تک کہ موت واقع ہو جائے‘ یہ گناہ اور باعث عذاب ہے‘ کیونکہ اسے ایک قسم کی خود کشی کہا جاتا ہے جبکہ احادیث میں خود کشی کی سخت وعید آئی ہے اور خود کشیکرنے والے کو اہل نار میں سے قرار دیا گیا ہے‘چنانچہ حضور ا کا ارشاد گرامی ہے کہ:”من قتل نفسہ بشئ عذب بہ یوم القیامة“ )۴(ترجمہ:․․․․”جس نے کسی چیز کے ذریعے اپنے آپ کو قتل کیا اسی چیز سے قیامت کے دن اسے عذاب دیا جائے گا“۔ایک دوسری جگہ ارشاد ہے کہ:”من تردی من جبل فتقتل نفسہ فہو فی نار جہنم یتردی فیہا خالداً مخلداً فیہا ابداً‘ ومن تحسا سما فتقل نفسہ فسمہ فی یدہ یتحساہ فی نار جہنم خالداً مخلداً فیہا ابداً‘ ومنقتل نفسہ بحدیدة فحدیدتہ فی یدہ یتوجأ بہافی نار جہنم خالداً مخلداً فیہا ابداً“۔ )۵(ترجمہ:․․․”جو شخص کسی پہاڑ سے گر کر خود کشی کرے گا وہ دوزخ کی آگ میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے گرتا رہے گا اور جو شخص زہر پی کر خود کشی کرے گا وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے دوزخ کی آگ میں زہر پیتا رہے گا اور جس شخص نے کسی ہتھیار سے خود کشی کی وہ دوزخ کی آگ میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اسی ہتھیار سے عذاب پائے گا اور اس کی کبھی رہائی نہیں“۔اسی خود کشی کرنے والےکے متعلق ابوداود شریف میں ہے کہ: ”لایصل علی قاتل النفس“ شراح فرماتے ہیں کہ امام بخاری نے اس کی تائید فرمائی ہے‘ اس طرح پر کہ وہ جہنم میں اپنے آپ کو اسی طرح قتل کرے گا‘ تو معلوم ہوا کہ مغفور نہیں اور جب مغفور نہیں تو اس پر نماز پڑھنے کی کیا ضرورت ہے۔ )۶(اس کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص خود کشی کرے وہ ہمیشہ معذب ہوتا رہتا ہے‘ لہذا اس پر نماز پڑھنا مفید نہیں ہے‘ البتہ فقہاء نے بیان کیا ہے کہ علماء اور خواص لوگ اس پر نماز جنازہ نہ پڑھیں اور عام آدمی پڑھ لیں۔ مولانا محمد عاقل فرماتے ہیں کہ جمہور علماء اور ائمہ اربعہ کے نزدیک جو شخص خود کشی کرکے مرا ہو اس کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی‘ امام مالک کی ایک روایت کراہت کی ہے اور امام احمد کی ایک روایت اہل علم وفضل کے لئے کراہت کی ہے یعنی صرف عوام کو پڑھنی چاہئے اور بعض علماء جیسے امام اوزاعی اور عمر بن عبد العزیز مطلق صلوٰة کے قائل نہیں‘ لہذا کبار ائمہ اور علماء کو نہ پڑھنی چاہئے اور حضور ا نے بھی گو بنفس نفیس اس پر نماز نہیں پڑھی لیکن دوسروں کو پڑھنےسے منع نہیں فرمایا۔ )۷(بہرحال فقہاء نے خود کشی کرنے والے کے نماز جنازہ پڑھنے کو جائز بلکہ راجح قرار دیا ہے‘ جیساکہ درمختار میں درج ہے :”من قتل نفسہ ولو عمداً یغسل ویصلی علیہ وبہ یفتیٰ“ )۸(ترجمہ:․․․”جس نے اپنے آپ کو قتل کیا‘ اگرچہ قصداً ہو‘ اسے غسل دیا جائے اور اس پر نماز جنازہ پڑھی جائے“۔لہذا مندرجہ بالا بحث سے یہ ثابت ہوا کہ اسلام بھوک ہڑتال جیسے غلو اور افراط کو ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھتا ہے‘ اسی لئے حضور ا نے ان صحابہ کرامکو بھی منع کردیا جو عبادت کیغرض سے مسلسل روزے رکھنا چاہتے تھے۔حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاص سے حضور ا نے فرمایا کبھی روزہ رکھا کرو اور کبھی افطار‘ اسی طرح رات کو نمازیں بھی پڑھا کرو اور سویا بھی کرو‘ کیونکہ تمہارے بدن کا بھی تم پر حق ہے‘ تمہاری آنکھوں کا بھی تم پر حق ہے کہ رات بھر جاگنے سے ضعیف ہوجاتی ہیں۔ )۹(جبکہ فقہاء فرماتے ہیں کہ:”ولایجوز الریاضة بتقلیل الاکل حتی ضعف عن الفرائض“ )۱۰(ترجمہ:․․․” کم کھانے کی ایسی ریاضت جائز نہیں ہے کہ فرائض کی ادائیگی سے عاجز آجائے“۔فتح المعین میں اسی سے ملتے جلتے حسب ذیل الفاظ درج ہیں کہ:”ولاتجوز الریاضة بتقلیل الاکل حتی یضعفہ عن اداء العبادة“۔ )۱۱(ترجمہ:․․․”کم کھانے کی ایسی ریاضت جائز نہیں ہے کہ عبادات کی ادائیگی سے عاجز آجائے“۔لہذا اپنے حقوق کے حصول اور اپنی باتمنوانے کے لئے ”بھوک ہڑتال“ کی بجائے تنقید واحتجاج کا جائز طریقہ اپنانا چاہئے‘ اپنے مقدمے کو عدالت میں یا مسلمانوں کے ثالثی کردار کے لئے پیش کیا جانا چاہئے اور پر امن وجائز طریقے سے اپنا حق حاصل کرنے کے لئے جد وجہد کیا جانا چاہئے۔مراجع ومصادر۱- علامہ سید محمد ابی سعود المصری الحنفی‘ فتح المعین‘ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی‘۱۴۰۳ھ‘ ج:۳‘ص:۳۸۶۲- مولانا شیخ نظام وجماعة من العلماء الہند‘ فتاویٰ عالمگیری‘ مکتبہ ماجدیہ کوئٹہ‘ ۱۴۰۳ھ‘ ج:۵‘ ص:۳۳۶۳- ایضا‘ ج:۵‘ ص:۳۳۸ ۴- الترغیب والترہیب ‘ وحیدی کتب خانہ پشاور‘ ۲۰۰۶ء‘ ج:۳‘ ص:۵۹۴ ۵-ایضا ۶- مولانا محمد زکریا مہاجر مدنی‘ تقریر بخاری شریف‘ مکتبہ الشیخ کراچی‘ ج:۲‘ ص:۷۸ ۷- مولانا محمد عاقل‘ الدر المنضود علی سنن ابی داود‘ مکتبہ الشیخ کراچی‘ ج:۵‘ ص:۲۵۶۸- در مختار علی ہامش رد المحتار‘ ج:۱‘ ص:۶۴۳‘ باب صلوٰة الجنائز۹- مولانا محمد زکریا مہاجر مدنی‘ خصائل نبوی اردو شرح شمائل ترمذی‘ مکتبہ الشیخ کراچی‘ ص:۱۸۳۱۰- بحوالہ بالا‘ فتاویٰ عالمگیری‘ ج:۵‘ ص:۱۱۳۸۶- بحوالہ بالا‘ فتح المعین‘ ج:۳‘ ص:۳۸۶

Comments

Popular posts from this blog

Yusufzai (Pashtun tribe)

The  Yūsufzai  (also  Youssofzay ,  Yousefzai ,  Yousafzai ,  Esapzey ,  Yousufi , or  Yūsufi ) (Pashto:  يوسفزی ,Persian and Urdu:  یوسف زئی ) is one of the largest Pashtun (Afghans) tribes. The majority of the Yusufzai tribe reside in parts of Western Afghanistan, Khyber Pakhtunkhwa and Provincially Administered Tribal Areas near the Afghan-Pakistan border. They are the predominant population in the districts of Konar, Ningarhar, Mardan District, Dir, Swat,Malakand, Swabi, Buner, Shangla, Haripur District [Khalabat Town Ship and Tarbela] and in Mansehra and Battagram. There is also a Yusufzai clan of Dehwar tribe in the Mastung district of Balochistan who speak Persian with some mixture of Birahvi words. The descendants of Yusuf inhabit Konar, Jalalabad, Swat, Upper Dir, Lower Dir, Malakand Swabi and Mardan...

یہودی پروٹوکولز

Online Read یہودی پروٹوکولز ============================================== Online Read E Book یہودی پروٹوکولز ============================================== Download Free یہودی پروٹوکولز ---------------------------------------------------- Download Free یہودی پروٹوکولز ----------------------------------------------------

دین اسلام میں رسول اللہ ﷺ کی اطاعت فرض ہے

بسم اللہ الرحمن الرحیم دین اسلام میں رسول اللہ ﷺ کی اطاعت فرض ہے يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ أَطِيعُوا۟ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ وَلَا تَوَلَّوْا۟ عَنْهُ وَأَنتُمْ تَسْمَعُونَ ﴿20﴾ترجمہ: اے ایمان والو الله اور اس کے رسول کا حکم مانو اور سن کر اس سے مت پھرو(سورۃ الانفال،آیت20) قُلْ أَطِيعُوا۟ ٱللَّهَ وَأَطِيعُوا۟ ٱلرَّسُولَ ۖ فَإِن تَوَلَّوْا۟ فَإِنَّمَا عَلَيْهِ مَا حُمِّلَ وَعَلَيْكُم مَّا حُمِّلْتُمْ ۖ وَإِن تُطِيعُوهُ تَهْتَدُوا۟ ۚ وَمَا عَلَى ٱلرَّسُولِ إِلَّا ٱلْبَلَٰغُ ٱلْمُبِينُ﴿56﴾ترجمہ: کہہ دو الله اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرو پھر اگر منہ پھیرو گے تو پیغمبر تو وہی ہے جس کا وہ ذمہ دار ہے اورتم پر وہ ہے جو تمہارے ذمہ لازم کیا گیا ہے اور اگر اس کی فرمانبرداری کرو گے تو ہدایت پاؤ گے اور رسول کے ذمہ صرف صاف طور پر پہنچا دینا ہے (سورۃ النور،آیت 56) مَّن يُطِعِ ٱلرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ ٱللَّهَ ۖ وَمَن تَوَلَّىٰ فَمَآ أَرْسَلْنَٰكَ عَلَيْهِمْ حَفِيظًۭا ﴿80﴾ترجمہ: جو شخص رسول کی فرمانبرداری کرے گا تو بےشک اس نے اللہ کی فرمانبرداری کی اور جو نافرمانی کرے گا تو اے ...

قرآن حکیم کے نازل ہونے کی کیا غرض ہے

سورہ آلِ عمران هَـٰذَا بَيَانٌ لِّلنَّاسِ وَهُدًى وَمَوْعِظَةٌ لِّلْمُتَّقِينَ ﴿١٣٨﴾ یہ (قرآن) لوگوں کے لیے بیان صریح اور اہلِ تقویٰ کے لیے ہدایت اور نصیحت ہے۔ سورہ المآئدۃ يَا أَهْلَ الْكِتَابِ قَدْ جَاءَكُمْ رَسُولُنَا يُبَيِّنُ لَكُمْ كَثِيرًا مِّمَّا كُنتُمْ تُخْفُونَ مِنَ الْكِتَابِ وَيَعْفُو عَن كَثِيرٍ ۚ قَدْ جَاءَكُم مِّنَ اللَّـهِ نُورٌ وَكِتَابٌ مُّبِينٌ ﴿١٥﴾هْدِي بِهِ اللَّـهُ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَهُ سُبُلَ السَّلَامِ وَيُخْرِجُهُم مِّنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ بِإِذْنِهِ وَيَهْدِيهِمْ إِلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ ﴿١٦﴾  اے اہل کتاب! تمہارے پاس ہمارے پیغمبر (آخرالزماں) آ گئے ہیں کہ جو کچھ تم کتاب (الہٰی) میں سے چھپاتے تھے وہ اس میں سے بہت کچھ تمہیں کھول کھول کر بتا دیتے ہیں اور تمہارے بہت سے قصور معاف کر دیتے ہیں بےشک تمہارے پاس خدا کی طرف سے نور اور روشن کتاب آ چکی ہے۔جس سے خدا اپنی رضا پر چلنے والوں کو نجات کے رستے دکھاتا ہے اور اپنے حکم سے اندھیرے میں سے نکال کر روشنی کی طرف لے جاتا اور ان کو سیدھے رستہ پر چلاتا ہے۔ وَكَتَبْنَا عَلَيْه...

جمع عثمانی رِوایات کے آئینے میں

نبی مکرمﷺ کی حدیث مبارکہ ’’خَیْرُ النَّاسِ قَرْنِيْ ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَھُمْ ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَھُمْ‘‘۔(صحیح البخاري: ۲۶۵۲) پر جب نظر پڑتی ہے تو سر احسان و نیازمندی کے ملے جلے تاثر ات سے جھک جاتا ہے کہ واقعتا آپﷺ، صحابہ رضی اللہ عنہم اور تابعین رحمہم اللہ کا زمانہ خیر القرون تھا، کیونکہ اس میں بنی نوع اِنسان کی راہ روی اور اسلام کی سربلندی کے لیے وہ محنتیں اور کوششیں ہوئی ہیں کہ جس کی مثال آئندہ جمیع قرون میں پیش کرنا مشکل ہے۔ یقینا وہ لوگ اس قابل تھے کہ اُنہیں یہ ذمہ داری سونپی جاتی کہ وہ دینِ الٰہی اور شرع اللہ کو اپنی مکمل تشریحات کے ساتھ آئندہ نسلوں تک منتقل کریں، بلا شبہ وہ طائفہ فائزہ اپنے اس مقصد میں بامراد ہوا ہے۔ان جملہ ذمہ داریوں میں سے اَہم ترین ذمہ داری یہ تھی کہ ہدایت سماوی کے آخری ربانی صحیفہ کو محفوظ اور غیر متبدل شکل میں ہم تک پہنچایا جائے۔ ہمارا یہ قطعی ایمان ہے کہ وہ پیام اَیزدی آج اپنی سو فیصد اَصلی اور حقیقی شکل میں ہمارے درمیان موجود ہے۔ الحمد ﷲ علی ذلک۔اِس سلسلہ میں خیرالقرون میں جو سب سے اَہم کام ہوا ہے وہ سیدنا عثمان ذوالنورین رضی ال...

ان شاءاللہ لکھنے میں غلطی کرنا

بسم اللہ الرحمن الرحیم السلام علیکم ورحمتہ اللہ آ پ لوگوں نے اکثر کتابوں میں لفظ ان شاءاللہ کو اس طرح لکھا ہوا پڑھاہوگا انشاءاللہ اور جب کہ اس طرح لکھنے سے اس کا معنی بدل جاتا ہے۔ لفظ ان شاءاللہ کے اردو میں معنی بنتا ہے اگر اللہ نے چاہا اور جب کہ انشاء عربی میں کسی چیز کو بنانے کو کہتے ہیں اس طرح انشاءاللہ کے معنی بہت غلط بن جاتے ہیں ۔ہم لوگ عربی زبان سے واقفیت نہ رکھنے کی وجہ سے ایسی غلطیاں کر جاتے ہیں اللہ ہمیں معاف فرمائے آمین۔اللہ کا ارشاد ہے کہاِنَّآ اَنْشَاْنٰهُنَّ اِنْشَاۗءً 35۝ۙہم نے ان (کی بیویوں کو) خاص طور پر بنایا ہے۔الواقعہ:۳۵قَالَ اِنَّمَا يَاْتِيْكُمْ بِهِ اللّٰهُ اِنْ شَاۗءَ وَمَآ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِيْنَ 33 ؀جواب دیا کہ اسے بھی اللہ تعالٰی ہی لائے گااگر وہ چاہے اور ہاں تم اسے ہرانے والے نہیں ہو۔ھود:۳۳فَلَمَّا دَخَلُوْا عَلٰي يُوْسُفَ اٰوٰٓى اِلَيْهِ اَبَوَيْهِ وَقَالَ ادْخُلُوْا مِصْرَ اِنْ شَاۗءَ اللّٰهُ اٰمِنِيْنَ 99؀ۭپھر جب (سب کے سب) یوسف کے پاس پہنچے تو اس نے اپنے والدین کو (عزت و احترام کے ساتھ) اپنے پاس جگہ دی اور کہا، ''کہاگر اللہ نے چاہا تو...

قراء توں کا اِختلاف اور منکرینِ حدیث

یہ ایک مسلّمہ اَمر ہے کہ قرآن مجید کی ایک سے زیادہ قراء تیں ثابت ہیں۔ لیکن اہلِ قرآن کہلانے والے منکرین حدیث ان اختلافِ قراء ات کو نہیں مانتے۔ وہ کہتے ہیں کہ قرآن کی صرف ایک ہی قراء ت ہے اور یہ کہ خود نبیﷺنے قرآن کو کتابی صورت میں مرتب اور مدوّن کیا اور اس پر اعراب و نقطے لگوائے تھے جبکہ یہ بات خلاف ِ واقعہ ہے۔جناب پرویز صاحب لکھتے ہیں:’’ہم سمجھتے ہیں کہ اس کے بعد ’اختلاف قراء ت‘ کے فتنہ کے متعلق کچھ سمجھنے کی ضرورت باقی نہیں رہتی‘‘(طلوع اسلام، ص۵۶، شمارہ جنوری ۱۹۸۲ء، لاہور)وہ مزید لکھتے ہیں :’’قرآن مجیدجس شکل میں ہمارے پاس موجود ہے اسے خود رسول اللہﷺنے اسی طرح مرتب اور مدوّن شکل میں اُمت کو دیا تھا۔‘‘(طلوع اسلام، ص۴۲، شمارہ جنوری۱۹۸۲ء، لاہور)اسی طرح ایک اور منکرِ حدیث رحمت اللہ طارق صاحب نے لکھا ہے :’’اختلاف قراء ت کا فتنہ ہی لے لیجئے جس کا مودودی صاحب جیسا شخص نہ صرف معترف اور معتقد ہے بلکہ سرگرم مبلغ اور پُرجوش ناشر ہے۔‘‘(اعجاز قرآن و اختلاف قراء ت، مرتبہ تمنا عمادی:۷۴۲) طارق صاحب نے مزید لکھا ہے :’’ لَوْ کَانَ مِنْ عِنْدِ غَیْرِ اﷲِ لَوَجَدُوْا فِیْہِ اخْتِلَافًا کَثِیْرًا ‘‘...

جمع قرآن اور اس کی تدوین

جمع قرآن اور اس کی تدوین جمع قرآن سے مراد قرآن کریم کا جمع کرنا۔ خواہ حفظ سے ہو یا کتابت سے یا تلاوت کی ریکارڈنگ سے۔ اور تدوین سے مراد اس کو کتابی صورت میں ترتیب دینا ہے۔ان سب مراحل کی ایک دل چسپ معلوماتی تاریخ ہے جسے ایک طالب علم کے لئے جاننا بہت اہم ہے۔تاکہ وہ آگاہ رہے کہ یہ مقدس کتاب کس طرح کن کن ادوار سے گذر کر محفوظ ترین صورت میں ہم تک پہنچی؟مقصد جمع قرآن: جمع قرآن کا مقصد یہی تھا کہ جس طرح قرآن مجید آپ ﷺ پر اترا ہے اور جس طرح آپ نے اسے پڑھا یا سکھایا ہے اسے لکھ کر محفوظ کرلیا جائے۔ یہ اللہ کا حکم تھا تاکہ مستقبل میں ممکنہ اختلاف جو قراءت یا اس کے الفاظ ، ترتیب اور لغت میں پیدا ہوسکتا ہے وہ نہ ہوسکے۔ اللہ تعالیٰ نے خود بھی اس کی حفاظت کی ذمہ داری لی مگر اس حفاظت کا کام صحابہ رسول اور امت کے قراء وحفاظ سے بھی لیا۔جمع قرآن کی دلیل: آپ ﷺ قرآن کی تنزیل میں سخت شدت محسوس کیا کرتے۔ اور اپنے ہونٹوں کو حرکت دیا کرتے تھے۔ جیسا کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت صحیحین میں ہے۔تو اللہ تعالیٰ نے ابتداء میں ہی یہ فرمادیا : {لَا تُحَرِّكْ بِہٖ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ...

عورت، اسلام کی نظر میں

عورت جاہلیت میں نہایت ذلیل وحقیر چیز تھی یہاں تک کہ اسلام آیا تو اس نے اسے ایسی عزت وتکریم بخشی جس کی کوئی نظیر نہیں۔ اس نے جاہلیت کے مظالم سے اسے نجات دی اور اس کے حقوق کا ضامن وکفیل ہوا۔ اس نے عورت کو بہت سی دینی واجبات اور ثواب وعقاب میں اسے مردوں کے مساوی قرار دیا۔ چنانچہ اسے اسلام میں بہت زیادہ عزت وتکریم ملی ۔ إن الحمد لله، نحمده, ونستعينه، ونستغفره، ونعوذ بالله من شرور أنفسنا وسيئات أعمالنا، من يهده الله فلا مضل له، ومن يضلل فلا هادى له، وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له، وأشهد أن محمداً عبده ورسوله،وقد قال اللہ تبارک وتعالی فی محکم تنزیلہ، أعوذ باللہ من الشیطان الرجیم: (مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّن ذَكَرٍ أَوْ أُنثَىٰ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهُ حَيَاةً طَيِّبَةً ۖ وَلَنَجْزِيَنَّهُمْ أَجْرَهُم بِأَحْسَنِ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ) (النحل: 97)"جو شخص نیک عمل کرے مرد ہو یا عورت، لیکن باایمان ہو تو ہم اسے یقیناً نہایت بہتر زندگی عطا فرمائیں گے۔ اور ان کے نیک اعمال کا بہتر بدلہ بھی انہیں ضرور ضرور دیں گے۔"وقال النبی صلی اللہ علیہ وسلم: )إنما النساء شقائ...

خیرخواہی وامانت داری

خیرخواہی وامانت داری خیر خواہی دین کی بنیاد ا ور اس کا جوہر ہے۔ دین دراصل خیر خواہی کا نام ہے۔ خیرخواہی اللہ کی، اس کے کتاب کی، اس کے رسول کی، مسلم ائمہ وحکمرانوں کی اور عامۃ المسلمین کی ہوتی ہے۔ پس جب ان تمام کے حق میں بندہ خیرخواہ ہوگا تو اس کا دین کامل ہوگا اور جس میں ان میں سے کسی کی خیرخواہی میں کمی و کوتاہی ہوگی تو اسی قدر اس کے دین میں نقص وکمی ہوگی۔ مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اپنی خیرخواہی میں امانت کو ملحوظ رکھے اور بغیر کسی مداہنت ومجاملت کے حق کو بیان کرے۔ یہی شخص اللہ کے نزدیک امین ہوگا۔ إن الحمد لله، نحمده ونستعينه ونستغفره، ونعوذ بالله من شرور أنفسنا، وسيئات أعمالنا، من يهده الله فلا مضل له، ومن يضلل فلا هادى له، وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له، وأشهد أن محمداً عبده ورسوله۔ أما بعد: فإن خیر الحدیث کتاب اللہ، وخیر الھدی ھدی محمد صلی اللہ علیہ وسلم، وشر الأمور محدثاتھا، وکل محدثۃ بدعۃ، وکل بدعۃ ضلالۃ، وکل ضلالۃ  فی النار۔  وقد قال اللہ تبارک وتعالی فی کتابہ المجید: (إِنَّ اللَّـهَ يَأْمُرُكُمْ أَن تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَىٰ أَهْلِهَا وَإِذَا حَ...