Skip to main content

مروجہ اسلامی بینکاری کے بارے میں سری لنکا کے علماء کا خط اور اس کا جواب

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ
محترمین مکرمین حضرت مولانا ڈاکٹر عبد الرزاق اسکندر صاحب اور حضرت مولانا سلیمان بنوری اور حضرات اراکین شوریٰ، حفظہم اللہ ورعاہم۔امید ہے کہ مزاج بخیر ہوں گے اللہ پاک آپ حضرات کی عمر میں برکت نصیب فرمائیں اور تادیربخیر وعافیت وسلامت رکھیں۔میں بندہ رضوی بن ابراہیم اعدادیہ سے لے کر تخصص تک اس ادارہ کا تعلیم یافتہ طالب علم ہوں۔اللہ پاک نے اس بابرکت ادارے کے ذریعہ ہمیں صرف علم دین نہیں‘ بلکہ شفقت ومحبت‘ علو ہمتی اور بلند پایہ کے اخلاق وہمدردی اورباہمی اتفاق جو اس ادارے کی خاص صفات ہیں ان میں سے تھوڑا سا حصہ بھی ہمیں نصیب فرمایا ہے جس کی وجہ سے اس ادارہ کے مستفیدین سارے عالم کے اندر حسن اسلوبی اور باہمی محبت کے ساتھ دین کے مختلف شعبوں میں خدمت کررہے ہیں۔یہ سب ،اس ادارے کے بانی محدث العصرمولانا بنوری اور ان کے جانشین حضرت مولانامفتی احمد الرحمن ‘ مولانا حبیب اللہ مختار اور ڈاکٹر عبد الرزاق اسکندر اور دیگر اساتذہ کرام مولانا مفتی ولی حسن اور مولانا محمد یوسف لدھیانوی جیسے بزرگوں کی رہبری اور دعاؤں کی برکات ہیں‘ اللہ پاک اس بابرکت ادارہ کی ہرطرح کے شرور وآفات اور نظر بد سے حفاظت فرمائے اور تاقیامت اسی مزاج کے ساتھ قائم رکھے۔امید ہے کہ آج امت مسلمہ کا جوحال ہے اس کو حضرات اساتذہ کرام مجھ سے زیادہ احساس کررہے ہیں، اور اس کے حل کے لئے لگاتار محنت اور کوشش کررہے ہیں اللہ پاک ان کوششوں کو قبول فرماکر امت کی تمام پریشانیوں کو دور فرمائے۔بندہ کی تیس سالہ دینی خدمت کے اس عرصہ میں جو چیز مجھے محسوس ہوئی وہ یہ ہے کہ علماء کرام کا آپس میں اتفاق ومحبت کے ساتھ پیش آنا عوام کے حلقوں میں بہت ہی مؤثر ہے اس میں دورائے رکھنے والے نہیں ہوسکتے‘ فی الحال اسلامک بینکنگ کے سلسلے میں اکابر کے مابین جو اختلاف ہے اوراس کے حل کے لئے جو بھی کوششیں ہیں، اللہ پاک کے یہاں سب ہی ماجور ہیں اور سب ہی کی نظر محض دین کی حفاظت اور امت کو ربا سے بچانے کی فکر ہے‘ اس سلسلے میں مولانا امداد اللہ صاحب اورمولانا عطاء الرحمن صاحب اورمولانا عاصم زکی صاحب کی محنت قابل ذکرہے، اللہ تعالیٰ ان کو جزائے خیر عطا فرمائے۔اس سلسلے میں ہم بنوری ٹاؤن کے فضلاء میں سے کچھ پُر خلوص رفقاء ملکر یہ عرض نامہ حضرات اساتذہ کرام کی خدمت میں حالات کی نزاکت کو سامنے رکھتے ہوئے اور اس ادارہ کے عظیم الشان مرتبہ کی حفاظت کی خاطر پیش کررہے ہیں، امید ہے کہ ملاحظہ فرمائیں گے۔اسلامی بینکاری کے مسائل گویہ بہت پہلے ۱۴۱۲ھ میں مجلس تحقیق مسائل حاضرہ کے سامنے رکھے گئے لیکن کسی وجہ سے ہمارے ادارے کے مفتیان کرام شریک نہیں تھے، لیکن جہاں تک میرا علم ہے ہم نے کبھی اس کا انکارنہیں کیا بلکہ واضح الفاظ میں دارالعلوم کی طرف رجوع کرنے کی دعوت دیتے رہے، پھر بعد میں عدم اطمینان ظاہر کیا گیا لیکن اس بینکاری کے عنوان سے ہم نے کبھی مجلس میں مسئلہ نہیں اٹھایا جیسے تصویر اور منیٰ اور بہت سے دیگر مسائل میں کیا گیا۔ عالمی طور پر اس بارے میں مختلف مشورے کئے گئے، جس میں فقہ حنفی میں مہارت رکھنے والے شیخ ابوغدہ کے رشتہ دار شیخ عبد الستار ابوغدہ اور فقہ شافعی کے ماہر شیخ وہبة الزحیلی اور فقہ مالکی کے مشہور عالم شیخ صدیق ضریر اور حنبلی مذہب کے عالم مکہ کے قاضی عبد اللہ بن سلیمان اور مفتی محمد تقی صاحب، سب نے ملکر اس بینکاری کے متعلق تفصیلی بحث کی ہے اور اس کے طریقہ کار اور ضوابط قائم کئے ہیں اور اس سلسلے میں مولانامفتی محمد تقی صاحب اور دیگر علماء کی طرف سے مختلف مقالات سامنے آتے رہے اوردنیا کے معتبر علماء کے ذریعہ اسلامک بینکنگ کے سلسلے میں ”المعاییر الشرعیة“ کے نام سے جو اصول وقواعد بیس سال کے عرصہ سے وقتا فوقتا لکھے جاتے رہے ہیں، اس کا کوئی انکار یا رد ہمارے ادارے کی طرف سے یا کسی معتبر عالمی ادارے کے ذریعہ نہیں کیا گیا اور ایک اہم چیز یہ ہے کہ اسلامی بینکاری ایک عالمی مسئلہ ہے جس کے محرک مولانا مفتی محمد تقی صاحب نہیں ہیں، بلکہ انڈیا کے علماء جمعیت علماء ہنداور دوسرے علماء اور مفکرین تقریبا چالیس سال سے بلا سود بینکاری کی محنت میں لگے ہوئے ہیں ،اب وزیر اعظم ہند نے بھی اس کے لئے ایک کمیٹی قائم کی ہے اور اس طرح مالیزیا اور سوڈان جیسے مختلف ممالک میں یہ جو نظام قائم ہے جہاں تک میرا علم ہے ان میں سے کوئی بھی مفتی محمد تقی صاحب سے رجوع نہیں کرتے۔خصوصاً ہمارے ملک میں مختلف بینکوں میں اسلامی نظام رائج ہیں، صرف ایک ادارہ میں مولانا محمد تقی صاحب سرپرست ہے باقی تکافل کے تبرع سسٹم وغیرہ کا پورا تعلق عبد الستار ابوغدہ سے ہے، مولانا محمد تقی صاحب اس کے قائل نہیں ہیں۔ان حالات میں مسئلہ کی نزاکت کو سامنے رکھتے ہوئے علماء کرام کو ایک جگہ جمع کیا جائے ،مجلس تحقیق مسائل حاضرہ کو ضرور بلایاجائے اور اس میں مختلف پہلو وٴں پر مذاکرات کئے جائیں، جس سے علماء کرام کے مابین شکوک وشبہات دور ہوں ، اتفاق اور محبت کے ساتھ کوئی رائے قائم ہوسکے اور مسئلہ مدلل اور منقح ہوکر عوام کے سامنے آجائے تاکہ عوام کے لئے فتنہ کا دروازہ نہ کھلے۔اس کے ساتھ مطلقا بغیر کسی شق کی تحدید وتعین اور قید کے اس نظام کے ناجائز ہونے کا فتویٰ اس پُر وقار ادارے سے صادر ہونا، سارے عالم میں اضطراب اور انتشار کا ذریعہ بنے گا۔ امید ہے اس پر غور فرمائیں گے اور ناجائز ہونے کے فتویٰ کے ساتھ اس کا متبادل حل بھی پیش فرمائیں گے، تاکہ امت مسلمہ سود کی لعنت سے محفوظ ہو اور جواز وعدم جواز کی تمام شقوں کو تفصیلاً فتویٰ میں ذکر فرمائیں گے۔ واجرکم علی اللّٰہ۔مندرجہ ذیل احباب اسلامی بینکاری کے سلسلہ میں لکھے ہوئے خط کے بارے میں پرزور تائید کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ آپس کی محبت کے ساتھ ہم سب سے کام لے لیں۔
رئیس جامعہ کی طرف سے خط کاجواب
عزیز القدر محترم جناب مولانا مفتی رضوی ابراہیم صاحب ودیگر فضلاء جامعہ حفظکم اللہ ورعاکم وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ۔
دعاء ہے کہ آپ تمام حضرات بخیر وعافیت ہوں۔آپ کا مکتوب گرامی ہمیں موصول ہوا‘ آپ نے جامعہ سے متعلق اور زیر بحث مسئلے کے بارے میں جن جذبات کا اظہار فرمایا ہے وہ یقینا قابل قدر اور لائق غور وفکر ہیں، یہ بات بالکل بجا ہے کہ اہل فتویٰ کو فتویٰ دیتے وقت صورت مسئلہ کے تمام پہلوؤں کو سامنے رکھنا چاہئے اور اس فتویٰ کے اثرات ونتائج بھی ان کے پیش نظر ہونے چاہئیں اس کے ساتھ ساتھ اپنے اکابر کے خصوصی شعار کو بھی لازمی سمجھناچاہئے کہ کسی دینی مسئلہ کے بیان اور اظہار میں کوئی مادی مصلحت آڑے نہیں آنی چاہئے اور یہ بھی ہونا چاہئے کہ عوام الناس کے لئے دین پر عمل کرنے کو آسان سے آسان بنایا اور بتایا جائے‘ مگر شریعت کے اصل احکام میں کسی قسم کا رد وبدل نہ ہو اور ہماری کوششیں دین اسلام میں لفظی یا معنوی تحریف کی حد تک نہ پہنچیں۔بہرکیف آپ کا فکر انگیز خط میں نے دار الافتاء کے مفتی حضرات کو دیاتھا، ان حضرات نے اس کا جواب بھی لکھا ہے‘ امید ہے کہ آپ کی طرف سے اٹھائے گئے سوالات کا جواب آپ کی تسلی کے لئے کافی ہوگا۔ہم اپنے طور پر بھی اور دیگر اہل علم کی معاونت سے بھی اس امر پر پوری طرح کوشش کریں گے کہ اتفاق رائے کے لئے علماء کے درمیان علمی مذاکرہ ہو‘ اور مذاکرہ کو فائدہ مند بنانے کے لئے باہمی مشاورت سے اس کا ضابطہ کار بھی زیر غور لائیں گے۔اللہ تعالیٰ سے یہ دعاء کرتے رہنا چاہئے:
اللّٰہم الہمنا رشدنا واعذنا من شر انفسنا‘ واللّٰہم اجعلنا مفتاحاً للخیر ومغلاقاً للشر‘ اللّٰہم آمین۔وصلی اللّٰہ وسلم علی سیدنا محمد وعلی آلہ وصحبہ وبارک وسلم
فقط والسلام(ڈاکٹر) عبد الرزاق اسکندرمہتمم جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی۲۱/۱۱/۱۴۲۹ھ

Comments

Popular posts from this blog

Yusufzai (Pashtun tribe)

The  Yūsufzai  (also  Youssofzay ,  Yousefzai ,  Yousafzai ,  Esapzey ,  Yousufi , or  Yūsufi ) (Pashto:  يوسفزی ,Persian and Urdu:  یوسف زئی ) is one of the largest Pashtun (Afghans) tribes. The majority of the Yusufzai tribe reside in parts of Western Afghanistan, Khyber Pakhtunkhwa and Provincially Administered Tribal Areas near the Afghan-Pakistan border. They are the predominant population in the districts of Konar, Ningarhar, Mardan District, Dir, Swat,Malakand, Swabi, Buner, Shangla, Haripur District [Khalabat Town Ship and Tarbela] and in Mansehra and Battagram. There is also a Yusufzai clan of Dehwar tribe in the Mastung district of Balochistan who speak Persian with some mixture of Birahvi words. The descendants of Yusuf inhabit Konar, Jalalabad, Swat, Upper Dir, Lower Dir, Malakand Swabi and Mardan...

Masail -e- Ghusl By Shaykh Mufti Abdur Rauf Sakharvi

Read Online (2.1 M) By Shaykh Mufti Abdur Rauf Sakharvi

جمع عثمانی رِوایات کے آئینے میں

نبی مکرمﷺ کی حدیث مبارکہ ’’خَیْرُ النَّاسِ قَرْنِيْ ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَھُمْ ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَھُمْ‘‘۔(صحیح البخاري: ۲۶۵۲) پر جب نظر پڑتی ہے تو سر احسان و نیازمندی کے ملے جلے تاثر ات سے جھک جاتا ہے کہ واقعتا آپﷺ، صحابہ رضی اللہ عنہم اور تابعین رحمہم اللہ کا زمانہ خیر القرون تھا، کیونکہ اس میں بنی نوع اِنسان کی راہ روی اور اسلام کی سربلندی کے لیے وہ محنتیں اور کوششیں ہوئی ہیں کہ جس کی مثال آئندہ جمیع قرون میں پیش کرنا مشکل ہے۔ یقینا وہ لوگ اس قابل تھے کہ اُنہیں یہ ذمہ داری سونپی جاتی کہ وہ دینِ الٰہی اور شرع اللہ کو اپنی مکمل تشریحات کے ساتھ آئندہ نسلوں تک منتقل کریں، بلا شبہ وہ طائفہ فائزہ اپنے اس مقصد میں بامراد ہوا ہے۔ان جملہ ذمہ داریوں میں سے اَہم ترین ذمہ داری یہ تھی کہ ہدایت سماوی کے آخری ربانی صحیفہ کو محفوظ اور غیر متبدل شکل میں ہم تک پہنچایا جائے۔ ہمارا یہ قطعی ایمان ہے کہ وہ پیام اَیزدی آج اپنی سو فیصد اَصلی اور حقیقی شکل میں ہمارے درمیان موجود ہے۔ الحمد ﷲ علی ذلک۔اِس سلسلہ میں خیرالقرون میں جو سب سے اَہم کام ہوا ہے وہ سیدنا عثمان ذوالنورین رضی ال...

دین اسلام میں رسول اللہ ﷺ کی اطاعت فرض ہے

بسم اللہ الرحمن الرحیم دین اسلام میں رسول اللہ ﷺ کی اطاعت فرض ہے يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ أَطِيعُوا۟ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ وَلَا تَوَلَّوْا۟ عَنْهُ وَأَنتُمْ تَسْمَعُونَ ﴿20﴾ترجمہ: اے ایمان والو الله اور اس کے رسول کا حکم مانو اور سن کر اس سے مت پھرو(سورۃ الانفال،آیت20) قُلْ أَطِيعُوا۟ ٱللَّهَ وَأَطِيعُوا۟ ٱلرَّسُولَ ۖ فَإِن تَوَلَّوْا۟ فَإِنَّمَا عَلَيْهِ مَا حُمِّلَ وَعَلَيْكُم مَّا حُمِّلْتُمْ ۖ وَإِن تُطِيعُوهُ تَهْتَدُوا۟ ۚ وَمَا عَلَى ٱلرَّسُولِ إِلَّا ٱلْبَلَٰغُ ٱلْمُبِينُ﴿56﴾ترجمہ: کہہ دو الله اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرو پھر اگر منہ پھیرو گے تو پیغمبر تو وہی ہے جس کا وہ ذمہ دار ہے اورتم پر وہ ہے جو تمہارے ذمہ لازم کیا گیا ہے اور اگر اس کی فرمانبرداری کرو گے تو ہدایت پاؤ گے اور رسول کے ذمہ صرف صاف طور پر پہنچا دینا ہے (سورۃ النور،آیت 56) مَّن يُطِعِ ٱلرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ ٱللَّهَ ۖ وَمَن تَوَلَّىٰ فَمَآ أَرْسَلْنَٰكَ عَلَيْهِمْ حَفِيظًۭا ﴿80﴾ترجمہ: جو شخص رسول کی فرمانبرداری کرے گا تو بےشک اس نے اللہ کی فرمانبرداری کی اور جو نافرمانی کرے گا تو اے ...

قراء ات متواترہ کا ثبوت اور اس کے منکر کا حکم

قرآن حکیم اللہ تبارک وتعالیٰ کا انمٹ اورلاریب کلام ہے جس کی مثل لانے سے دنیا کا ہر فرد عاجز اور درماندہ ہے۔ بڑے بڑے فصحائے عرب اور فارسانِ بلاغت اس کی نظیر اورمثل پیش نہیں کرسکے اور نہ ہی قیامِ قیامت تک پیش کر سکتے ہیں۔ علمائے اسلام اور زعمائے ملت نے اس کی تفسیر وتوضیح اور مفاہیم ومعانی کی عقدہ کشائی کے لئے انتھک محنت اور قابل رشک جدوجہد کی ہے اور اس کا حقِ خدمت ادا کرنے کے لئے صعوبتوں اورمسافتوں سے بھرپور دور دراز بلاد و ممالک کے سفر طے کیے۔ اورہر کسی نے اپنی اپنی ہمت اوربساط کے مطابق اس کی خدمت کر کے اعلیٰ وارفع مقام حاصل کیا ۔جن میں ابن جریر طبری، ابن حاتم رازی، عبد الرزاق ، نسائی اور ابن کثیررحمہم اللہ جیسے گلستان ِ حدیث کے خوشبودار پھول، ابوحیان اندلسی اور زمخشری رحمہم اللہ جیسے فارسانِ بلاغت وادب اورنکتہ سنج۔ ابو عبد اللہ قرطبی اورابوبکر ابن العربی رحمہم اللہ جیسے فقاہت کے درخشندہ ستارے۔ رازی اوربیضاوی رحمہم اللہ جیسے فلاسفہ اورمتکلمین جہاں معانی ومفا،عثمان بن سعید ابو سعید ورش القبطی، احمد بن قالون المدنی، خلف بن ہشام البغدادی، ابو معبد عبد اللہ بن ہیم رحمہم اللہ کے گلستان ...

خیرخواہی وامانت داری

خیرخواہی وامانت داری خیر خواہی دین کی بنیاد ا ور اس کا جوہر ہے۔ دین دراصل خیر خواہی کا نام ہے۔ خیرخواہی اللہ کی، اس کے کتاب کی، اس کے رسول کی، مسلم ائمہ وحکمرانوں کی اور عامۃ المسلمین کی ہوتی ہے۔ پس جب ان تمام کے حق میں بندہ خیرخواہ ہوگا تو اس کا دین کامل ہوگا اور جس میں ان میں سے کسی کی خیرخواہی میں کمی و کوتاہی ہوگی تو اسی قدر اس کے دین میں نقص وکمی ہوگی۔ مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اپنی خیرخواہی میں امانت کو ملحوظ رکھے اور بغیر کسی مداہنت ومجاملت کے حق کو بیان کرے۔ یہی شخص اللہ کے نزدیک امین ہوگا۔ إن الحمد لله، نحمده ونستعينه ونستغفره، ونعوذ بالله من شرور أنفسنا، وسيئات أعمالنا، من يهده الله فلا مضل له، ومن يضلل فلا هادى له، وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له، وأشهد أن محمداً عبده ورسوله۔ أما بعد: فإن خیر الحدیث کتاب اللہ، وخیر الھدی ھدی محمد صلی اللہ علیہ وسلم، وشر الأمور محدثاتھا، وکل محدثۃ بدعۃ، وکل بدعۃ ضلالۃ، وکل ضلالۃ  فی النار۔  وقد قال اللہ تبارک وتعالی فی کتابہ المجید: (إِنَّ اللَّـهَ يَأْمُرُكُمْ أَن تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَىٰ أَهْلِهَا وَإِذَا حَ...

Alamaat -e- Qayamat Aur Nuzool -e- Maseeh [a.s] By Shaykh Mufti Rafi Usmani

Read Online Slideshare Download [27] ENGLISH TRANSLATION

دعا مانگنے کا ضابطہ اور اس کے آداب

ارشاد ربانی ہے:”ونادٰی نوح ربہ فقال رب ان ابنی من اہلی وان وعدک الحق وانت احکم الحاکمین‘ قال یا نوح انہ لیس من اہلک‘ انہ عمل غیر صالح‘ فلاتسئلن مالیس لک بہ علم‘ انی اعظک ان تکون من الجاہلین“۔ (۱)ترجمہ:․․․”اور نوح علیہ السلام نے اپنے رب کو پکارا اور عرض کیا کہ اے میرے رب! میرا بیٹا میرے گھروالوں میں سے ہے اور آپ کا وعدہ بالکل سچا ہے‘ اور تو سب سے بڑا حاکم ہے‘ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: کہ اے نوح! یہ شخص تمہارے گھروالوں میں نہیں‘ یہ تباہ کار ہے‘ سو مجھ سے ایسی چیز کی درخواست مت کرو جس کی تم کو خبر نہیں۔ میں تم کو نصیحت کرتا ہوں کہ تم نادانوں میں داخل نہ ہوجاؤ“۔آیات مذکورہ بالا سے فقہاء نے یہ مسئلہ اخذ کیا ہے کہ دعا کے لئے ضروری ہے کہ دعا کرنے والا پہلے یہ معلوم کرے کہ جس کام کی دعا کررہا ہے وہ جائز وحلال ہے یانہیں۔ مشتبہ حالت میں دعا کرنے سے منع فرمایا گیا ہے‘ جیساکہ قاضی بیضاوی لکھتے ہیں:”فلاتسئلن مالیس لک بہ علم“ ای مالم تعلم اصواب ہو ام لیس کذلک“ (۲)ترجمہ:․․․”سو مجھ سے ایسی چیز کی درخواست مت کرو جس کی تم کو خبر نہیں یعنی جس کے بارے میں تجھے یہ علم نہ ہو کہ یہ حق وجائز ہے یا نہیں...

قرآن مجید سے فائدہ اٹھانے کی پانچ شرائط

ایمان حاصل کرنے کا اصل ذریعہ قرآنِ کریم ہے لیکن اس مقصد کے لئے قرآن کی تلاوت کے کچھ آداب و شرائط ہیں۔ اگر ان کا خیال رکھا جائے تو تبھی قرآن سے مذکورہ فائدہ حاصل ہوتا ہے۔ لہٰذا ان آداب و شرائط کا پورا پورا اہتمام کرنا چاہئے۔ ۱ نیت کی پاکیزگی: سب سے پہلی چیز نیت کی پاکیزگی ہے۔ یعنی آدمی قرآن مجید کو صرف ہدایت حاصل کرنے کے لئے پڑھے، کوئی ذاتی غرض سامنے رکھ کر نہ پڑھے، اگر طلبِ ہدایت کے سوا آدمی کے سامنے کوئی اور غرض ہوگی تو نہ صرف یہ کہ وہ قرآن مجید کے فیض سے محروم رہے گا بلکہ اس بات کا اندیشہ بھی ہے کہ قرآن مجید سے جتنا دور وہ اب تک رہا ہے، اس سے بھی کچھ زیادہ دور ہٹ جائے گا۔ اگر آدمی قرآن مجید کو اس لئے پڑھے کہ لوگ اسے مفسر قرآن سمجھنے لگیں یا اس لئے پڑھے کہ اس کے کچھ اپنے نظریات ہوں اور وہ اپنے ان نظریات کو قرآن مجید کے رنگ کے ساتھ لوگوں کے سامنے پیش کرنے کا خواہش مند ہو تو ممکن ہے اس کے یہ ارادے کسی حد تک پورے ہوجائیں لیکن اس طرح وہ قرآن مجید سمجھنے کا دروازہ اپنے اوپر بالکل بند کرلے گا۔قرآن مجید کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت کا صحیفہ بنا کر اتارا ہے اور ہرآدمی...

The Qur’an & Modern Science -Compatible or Incompatible?

Read and Download