Skip to main content

مروجہ اسلامی بینکاری کے بارے میں سری لنکا کے علماء کا خط اور اس کا جواب

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ
محترمین مکرمین حضرت مولانا ڈاکٹر عبد الرزاق اسکندر صاحب اور حضرت مولانا سلیمان بنوری اور حضرات اراکین شوریٰ، حفظہم اللہ ورعاہم۔امید ہے کہ مزاج بخیر ہوں گے اللہ پاک آپ حضرات کی عمر میں برکت نصیب فرمائیں اور تادیربخیر وعافیت وسلامت رکھیں۔میں بندہ رضوی بن ابراہیم اعدادیہ سے لے کر تخصص تک اس ادارہ کا تعلیم یافتہ طالب علم ہوں۔اللہ پاک نے اس بابرکت ادارے کے ذریعہ ہمیں صرف علم دین نہیں‘ بلکہ شفقت ومحبت‘ علو ہمتی اور بلند پایہ کے اخلاق وہمدردی اورباہمی اتفاق جو اس ادارے کی خاص صفات ہیں ان میں سے تھوڑا سا حصہ بھی ہمیں نصیب فرمایا ہے جس کی وجہ سے اس ادارہ کے مستفیدین سارے عالم کے اندر حسن اسلوبی اور باہمی محبت کے ساتھ دین کے مختلف شعبوں میں خدمت کررہے ہیں۔یہ سب ،اس ادارے کے بانی محدث العصرمولانا بنوری اور ان کے جانشین حضرت مولانامفتی احمد الرحمن ‘ مولانا حبیب اللہ مختار اور ڈاکٹر عبد الرزاق اسکندر اور دیگر اساتذہ کرام مولانا مفتی ولی حسن اور مولانا محمد یوسف لدھیانوی جیسے بزرگوں کی رہبری اور دعاؤں کی برکات ہیں‘ اللہ پاک اس بابرکت ادارہ کی ہرطرح کے شرور وآفات اور نظر بد سے حفاظت فرمائے اور تاقیامت اسی مزاج کے ساتھ قائم رکھے۔امید ہے کہ آج امت مسلمہ کا جوحال ہے اس کو حضرات اساتذہ کرام مجھ سے زیادہ احساس کررہے ہیں، اور اس کے حل کے لئے لگاتار محنت اور کوشش کررہے ہیں اللہ پاک ان کوششوں کو قبول فرماکر امت کی تمام پریشانیوں کو دور فرمائے۔بندہ کی تیس سالہ دینی خدمت کے اس عرصہ میں جو چیز مجھے محسوس ہوئی وہ یہ ہے کہ علماء کرام کا آپس میں اتفاق ومحبت کے ساتھ پیش آنا عوام کے حلقوں میں بہت ہی مؤثر ہے اس میں دورائے رکھنے والے نہیں ہوسکتے‘ فی الحال اسلامک بینکنگ کے سلسلے میں اکابر کے مابین جو اختلاف ہے اوراس کے حل کے لئے جو بھی کوششیں ہیں، اللہ پاک کے یہاں سب ہی ماجور ہیں اور سب ہی کی نظر محض دین کی حفاظت اور امت کو ربا سے بچانے کی فکر ہے‘ اس سلسلے میں مولانا امداد اللہ صاحب اورمولانا عطاء الرحمن صاحب اورمولانا عاصم زکی صاحب کی محنت قابل ذکرہے، اللہ تعالیٰ ان کو جزائے خیر عطا فرمائے۔اس سلسلے میں ہم بنوری ٹاؤن کے فضلاء میں سے کچھ پُر خلوص رفقاء ملکر یہ عرض نامہ حضرات اساتذہ کرام کی خدمت میں حالات کی نزاکت کو سامنے رکھتے ہوئے اور اس ادارہ کے عظیم الشان مرتبہ کی حفاظت کی خاطر پیش کررہے ہیں، امید ہے کہ ملاحظہ فرمائیں گے۔اسلامی بینکاری کے مسائل گویہ بہت پہلے ۱۴۱۲ھ میں مجلس تحقیق مسائل حاضرہ کے سامنے رکھے گئے لیکن کسی وجہ سے ہمارے ادارے کے مفتیان کرام شریک نہیں تھے، لیکن جہاں تک میرا علم ہے ہم نے کبھی اس کا انکارنہیں کیا بلکہ واضح الفاظ میں دارالعلوم کی طرف رجوع کرنے کی دعوت دیتے رہے، پھر بعد میں عدم اطمینان ظاہر کیا گیا لیکن اس بینکاری کے عنوان سے ہم نے کبھی مجلس میں مسئلہ نہیں اٹھایا جیسے تصویر اور منیٰ اور بہت سے دیگر مسائل میں کیا گیا۔ عالمی طور پر اس بارے میں مختلف مشورے کئے گئے، جس میں فقہ حنفی میں مہارت رکھنے والے شیخ ابوغدہ کے رشتہ دار شیخ عبد الستار ابوغدہ اور فقہ شافعی کے ماہر شیخ وہبة الزحیلی اور فقہ مالکی کے مشہور عالم شیخ صدیق ضریر اور حنبلی مذہب کے عالم مکہ کے قاضی عبد اللہ بن سلیمان اور مفتی محمد تقی صاحب، سب نے ملکر اس بینکاری کے متعلق تفصیلی بحث کی ہے اور اس کے طریقہ کار اور ضوابط قائم کئے ہیں اور اس سلسلے میں مولانامفتی محمد تقی صاحب اور دیگر علماء کی طرف سے مختلف مقالات سامنے آتے رہے اوردنیا کے معتبر علماء کے ذریعہ اسلامک بینکنگ کے سلسلے میں ”المعاییر الشرعیة“ کے نام سے جو اصول وقواعد بیس سال کے عرصہ سے وقتا فوقتا لکھے جاتے رہے ہیں، اس کا کوئی انکار یا رد ہمارے ادارے کی طرف سے یا کسی معتبر عالمی ادارے کے ذریعہ نہیں کیا گیا اور ایک اہم چیز یہ ہے کہ اسلامی بینکاری ایک عالمی مسئلہ ہے جس کے محرک مولانا مفتی محمد تقی صاحب نہیں ہیں، بلکہ انڈیا کے علماء جمعیت علماء ہنداور دوسرے علماء اور مفکرین تقریبا چالیس سال سے بلا سود بینکاری کی محنت میں لگے ہوئے ہیں ،اب وزیر اعظم ہند نے بھی اس کے لئے ایک کمیٹی قائم کی ہے اور اس طرح مالیزیا اور سوڈان جیسے مختلف ممالک میں یہ جو نظام قائم ہے جہاں تک میرا علم ہے ان میں سے کوئی بھی مفتی محمد تقی صاحب سے رجوع نہیں کرتے۔خصوصاً ہمارے ملک میں مختلف بینکوں میں اسلامی نظام رائج ہیں، صرف ایک ادارہ میں مولانا محمد تقی صاحب سرپرست ہے باقی تکافل کے تبرع سسٹم وغیرہ کا پورا تعلق عبد الستار ابوغدہ سے ہے، مولانا محمد تقی صاحب اس کے قائل نہیں ہیں۔ان حالات میں مسئلہ کی نزاکت کو سامنے رکھتے ہوئے علماء کرام کو ایک جگہ جمع کیا جائے ،مجلس تحقیق مسائل حاضرہ کو ضرور بلایاجائے اور اس میں مختلف پہلو وٴں پر مذاکرات کئے جائیں، جس سے علماء کرام کے مابین شکوک وشبہات دور ہوں ، اتفاق اور محبت کے ساتھ کوئی رائے قائم ہوسکے اور مسئلہ مدلل اور منقح ہوکر عوام کے سامنے آجائے تاکہ عوام کے لئے فتنہ کا دروازہ نہ کھلے۔اس کے ساتھ مطلقا بغیر کسی شق کی تحدید وتعین اور قید کے اس نظام کے ناجائز ہونے کا فتویٰ اس پُر وقار ادارے سے صادر ہونا، سارے عالم میں اضطراب اور انتشار کا ذریعہ بنے گا۔ امید ہے اس پر غور فرمائیں گے اور ناجائز ہونے کے فتویٰ کے ساتھ اس کا متبادل حل بھی پیش فرمائیں گے، تاکہ امت مسلمہ سود کی لعنت سے محفوظ ہو اور جواز وعدم جواز کی تمام شقوں کو تفصیلاً فتویٰ میں ذکر فرمائیں گے۔ واجرکم علی اللّٰہ۔مندرجہ ذیل احباب اسلامی بینکاری کے سلسلہ میں لکھے ہوئے خط کے بارے میں پرزور تائید کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ آپس کی محبت کے ساتھ ہم سب سے کام لے لیں۔
رئیس جامعہ کی طرف سے خط کاجواب
عزیز القدر محترم جناب مولانا مفتی رضوی ابراہیم صاحب ودیگر فضلاء جامعہ حفظکم اللہ ورعاکم وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ۔
دعاء ہے کہ آپ تمام حضرات بخیر وعافیت ہوں۔آپ کا مکتوب گرامی ہمیں موصول ہوا‘ آپ نے جامعہ سے متعلق اور زیر بحث مسئلے کے بارے میں جن جذبات کا اظہار فرمایا ہے وہ یقینا قابل قدر اور لائق غور وفکر ہیں، یہ بات بالکل بجا ہے کہ اہل فتویٰ کو فتویٰ دیتے وقت صورت مسئلہ کے تمام پہلوؤں کو سامنے رکھنا چاہئے اور اس فتویٰ کے اثرات ونتائج بھی ان کے پیش نظر ہونے چاہئیں اس کے ساتھ ساتھ اپنے اکابر کے خصوصی شعار کو بھی لازمی سمجھناچاہئے کہ کسی دینی مسئلہ کے بیان اور اظہار میں کوئی مادی مصلحت آڑے نہیں آنی چاہئے اور یہ بھی ہونا چاہئے کہ عوام الناس کے لئے دین پر عمل کرنے کو آسان سے آسان بنایا اور بتایا جائے‘ مگر شریعت کے اصل احکام میں کسی قسم کا رد وبدل نہ ہو اور ہماری کوششیں دین اسلام میں لفظی یا معنوی تحریف کی حد تک نہ پہنچیں۔بہرکیف آپ کا فکر انگیز خط میں نے دار الافتاء کے مفتی حضرات کو دیاتھا، ان حضرات نے اس کا جواب بھی لکھا ہے‘ امید ہے کہ آپ کی طرف سے اٹھائے گئے سوالات کا جواب آپ کی تسلی کے لئے کافی ہوگا۔ہم اپنے طور پر بھی اور دیگر اہل علم کی معاونت سے بھی اس امر پر پوری طرح کوشش کریں گے کہ اتفاق رائے کے لئے علماء کے درمیان علمی مذاکرہ ہو‘ اور مذاکرہ کو فائدہ مند بنانے کے لئے باہمی مشاورت سے اس کا ضابطہ کار بھی زیر غور لائیں گے۔اللہ تعالیٰ سے یہ دعاء کرتے رہنا چاہئے:
اللّٰہم الہمنا رشدنا واعذنا من شر انفسنا‘ واللّٰہم اجعلنا مفتاحاً للخیر ومغلاقاً للشر‘ اللّٰہم آمین۔وصلی اللّٰہ وسلم علی سیدنا محمد وعلی آلہ وصحبہ وبارک وسلم
فقط والسلام(ڈاکٹر) عبد الرزاق اسکندرمہتمم جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی۲۱/۱۱/۱۴۲۹ھ

Comments

Popular posts from this blog

Yusufzai (Pashtun tribe)

The  Yūsufzai  (also  Youssofzay ,  Yousefzai ,  Yousafzai ,  Esapzey ,  Yousufi , or  Yūsufi ) (Pashto:  يوسفزی ,Persian and Urdu:  یوسف زئی ) is one of the largest Pashtun (Afghans) tribes. The majority of the Yusufzai tribe reside in parts of Western Afghanistan, Khyber Pakhtunkhwa and Provincially Administered Tribal Areas near the Afghan-Pakistan border. They are the predominant population in the districts of Konar, Ningarhar, Mardan District, Dir, Swat,Malakand, Swabi, Buner, Shangla, Haripur District [Khalabat Town Ship and Tarbela] and in Mansehra and Battagram. There is also a Yusufzai clan of Dehwar tribe in the Mastung district of Balochistan who speak Persian with some mixture of Birahvi words. The descendants of Yusuf inhabit Konar, Jalalabad, Swat, Upper Dir, Lower Dir, Malakand Swabi and Mardan...

یہودی پروٹوکولز

Online Read یہودی پروٹوکولز ============================================== Online Read E Book یہودی پروٹوکولز ============================================== Download Free یہودی پروٹوکولز ---------------------------------------------------- Download Free یہودی پروٹوکولز ----------------------------------------------------

دین اسلام میں رسول اللہ ﷺ کی اطاعت فرض ہے

بسم اللہ الرحمن الرحیم دین اسلام میں رسول اللہ ﷺ کی اطاعت فرض ہے يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ أَطِيعُوا۟ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ وَلَا تَوَلَّوْا۟ عَنْهُ وَأَنتُمْ تَسْمَعُونَ ﴿20﴾ترجمہ: اے ایمان والو الله اور اس کے رسول کا حکم مانو اور سن کر اس سے مت پھرو(سورۃ الانفال،آیت20) قُلْ أَطِيعُوا۟ ٱللَّهَ وَأَطِيعُوا۟ ٱلرَّسُولَ ۖ فَإِن تَوَلَّوْا۟ فَإِنَّمَا عَلَيْهِ مَا حُمِّلَ وَعَلَيْكُم مَّا حُمِّلْتُمْ ۖ وَإِن تُطِيعُوهُ تَهْتَدُوا۟ ۚ وَمَا عَلَى ٱلرَّسُولِ إِلَّا ٱلْبَلَٰغُ ٱلْمُبِينُ﴿56﴾ترجمہ: کہہ دو الله اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرو پھر اگر منہ پھیرو گے تو پیغمبر تو وہی ہے جس کا وہ ذمہ دار ہے اورتم پر وہ ہے جو تمہارے ذمہ لازم کیا گیا ہے اور اگر اس کی فرمانبرداری کرو گے تو ہدایت پاؤ گے اور رسول کے ذمہ صرف صاف طور پر پہنچا دینا ہے (سورۃ النور،آیت 56) مَّن يُطِعِ ٱلرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ ٱللَّهَ ۖ وَمَن تَوَلَّىٰ فَمَآ أَرْسَلْنَٰكَ عَلَيْهِمْ حَفِيظًۭا ﴿80﴾ترجمہ: جو شخص رسول کی فرمانبرداری کرے گا تو بےشک اس نے اللہ کی فرمانبرداری کی اور جو نافرمانی کرے گا تو اے ...

قرآن حکیم کے نازل ہونے کی کیا غرض ہے

سورہ آلِ عمران هَـٰذَا بَيَانٌ لِّلنَّاسِ وَهُدًى وَمَوْعِظَةٌ لِّلْمُتَّقِينَ ﴿١٣٨﴾ یہ (قرآن) لوگوں کے لیے بیان صریح اور اہلِ تقویٰ کے لیے ہدایت اور نصیحت ہے۔ سورہ المآئدۃ يَا أَهْلَ الْكِتَابِ قَدْ جَاءَكُمْ رَسُولُنَا يُبَيِّنُ لَكُمْ كَثِيرًا مِّمَّا كُنتُمْ تُخْفُونَ مِنَ الْكِتَابِ وَيَعْفُو عَن كَثِيرٍ ۚ قَدْ جَاءَكُم مِّنَ اللَّـهِ نُورٌ وَكِتَابٌ مُّبِينٌ ﴿١٥﴾هْدِي بِهِ اللَّـهُ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَهُ سُبُلَ السَّلَامِ وَيُخْرِجُهُم مِّنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ بِإِذْنِهِ وَيَهْدِيهِمْ إِلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ ﴿١٦﴾  اے اہل کتاب! تمہارے پاس ہمارے پیغمبر (آخرالزماں) آ گئے ہیں کہ جو کچھ تم کتاب (الہٰی) میں سے چھپاتے تھے وہ اس میں سے بہت کچھ تمہیں کھول کھول کر بتا دیتے ہیں اور تمہارے بہت سے قصور معاف کر دیتے ہیں بےشک تمہارے پاس خدا کی طرف سے نور اور روشن کتاب آ چکی ہے۔جس سے خدا اپنی رضا پر چلنے والوں کو نجات کے رستے دکھاتا ہے اور اپنے حکم سے اندھیرے میں سے نکال کر روشنی کی طرف لے جاتا اور ان کو سیدھے رستہ پر چلاتا ہے۔ وَكَتَبْنَا عَلَيْه...

جمع عثمانی رِوایات کے آئینے میں

نبی مکرمﷺ کی حدیث مبارکہ ’’خَیْرُ النَّاسِ قَرْنِيْ ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَھُمْ ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَھُمْ‘‘۔(صحیح البخاري: ۲۶۵۲) پر جب نظر پڑتی ہے تو سر احسان و نیازمندی کے ملے جلے تاثر ات سے جھک جاتا ہے کہ واقعتا آپﷺ، صحابہ رضی اللہ عنہم اور تابعین رحمہم اللہ کا زمانہ خیر القرون تھا، کیونکہ اس میں بنی نوع اِنسان کی راہ روی اور اسلام کی سربلندی کے لیے وہ محنتیں اور کوششیں ہوئی ہیں کہ جس کی مثال آئندہ جمیع قرون میں پیش کرنا مشکل ہے۔ یقینا وہ لوگ اس قابل تھے کہ اُنہیں یہ ذمہ داری سونپی جاتی کہ وہ دینِ الٰہی اور شرع اللہ کو اپنی مکمل تشریحات کے ساتھ آئندہ نسلوں تک منتقل کریں، بلا شبہ وہ طائفہ فائزہ اپنے اس مقصد میں بامراد ہوا ہے۔ان جملہ ذمہ داریوں میں سے اَہم ترین ذمہ داری یہ تھی کہ ہدایت سماوی کے آخری ربانی صحیفہ کو محفوظ اور غیر متبدل شکل میں ہم تک پہنچایا جائے۔ ہمارا یہ قطعی ایمان ہے کہ وہ پیام اَیزدی آج اپنی سو فیصد اَصلی اور حقیقی شکل میں ہمارے درمیان موجود ہے۔ الحمد ﷲ علی ذلک۔اِس سلسلہ میں خیرالقرون میں جو سب سے اَہم کام ہوا ہے وہ سیدنا عثمان ذوالنورین رضی ال...

ان شاءاللہ لکھنے میں غلطی کرنا

بسم اللہ الرحمن الرحیم السلام علیکم ورحمتہ اللہ آ پ لوگوں نے اکثر کتابوں میں لفظ ان شاءاللہ کو اس طرح لکھا ہوا پڑھاہوگا انشاءاللہ اور جب کہ اس طرح لکھنے سے اس کا معنی بدل جاتا ہے۔ لفظ ان شاءاللہ کے اردو میں معنی بنتا ہے اگر اللہ نے چاہا اور جب کہ انشاء عربی میں کسی چیز کو بنانے کو کہتے ہیں اس طرح انشاءاللہ کے معنی بہت غلط بن جاتے ہیں ۔ہم لوگ عربی زبان سے واقفیت نہ رکھنے کی وجہ سے ایسی غلطیاں کر جاتے ہیں اللہ ہمیں معاف فرمائے آمین۔اللہ کا ارشاد ہے کہاِنَّآ اَنْشَاْنٰهُنَّ اِنْشَاۗءً 35۝ۙہم نے ان (کی بیویوں کو) خاص طور پر بنایا ہے۔الواقعہ:۳۵قَالَ اِنَّمَا يَاْتِيْكُمْ بِهِ اللّٰهُ اِنْ شَاۗءَ وَمَآ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِيْنَ 33 ؀جواب دیا کہ اسے بھی اللہ تعالٰی ہی لائے گااگر وہ چاہے اور ہاں تم اسے ہرانے والے نہیں ہو۔ھود:۳۳فَلَمَّا دَخَلُوْا عَلٰي يُوْسُفَ اٰوٰٓى اِلَيْهِ اَبَوَيْهِ وَقَالَ ادْخُلُوْا مِصْرَ اِنْ شَاۗءَ اللّٰهُ اٰمِنِيْنَ 99؀ۭپھر جب (سب کے سب) یوسف کے پاس پہنچے تو اس نے اپنے والدین کو (عزت و احترام کے ساتھ) اپنے پاس جگہ دی اور کہا، ''کہاگر اللہ نے چاہا تو...

قراء توں کا اِختلاف اور منکرینِ حدیث

یہ ایک مسلّمہ اَمر ہے کہ قرآن مجید کی ایک سے زیادہ قراء تیں ثابت ہیں۔ لیکن اہلِ قرآن کہلانے والے منکرین حدیث ان اختلافِ قراء ات کو نہیں مانتے۔ وہ کہتے ہیں کہ قرآن کی صرف ایک ہی قراء ت ہے اور یہ کہ خود نبیﷺنے قرآن کو کتابی صورت میں مرتب اور مدوّن کیا اور اس پر اعراب و نقطے لگوائے تھے جبکہ یہ بات خلاف ِ واقعہ ہے۔جناب پرویز صاحب لکھتے ہیں:’’ہم سمجھتے ہیں کہ اس کے بعد ’اختلاف قراء ت‘ کے فتنہ کے متعلق کچھ سمجھنے کی ضرورت باقی نہیں رہتی‘‘(طلوع اسلام، ص۵۶، شمارہ جنوری ۱۹۸۲ء، لاہور)وہ مزید لکھتے ہیں :’’قرآن مجیدجس شکل میں ہمارے پاس موجود ہے اسے خود رسول اللہﷺنے اسی طرح مرتب اور مدوّن شکل میں اُمت کو دیا تھا۔‘‘(طلوع اسلام، ص۴۲، شمارہ جنوری۱۹۸۲ء، لاہور)اسی طرح ایک اور منکرِ حدیث رحمت اللہ طارق صاحب نے لکھا ہے :’’اختلاف قراء ت کا فتنہ ہی لے لیجئے جس کا مودودی صاحب جیسا شخص نہ صرف معترف اور معتقد ہے بلکہ سرگرم مبلغ اور پُرجوش ناشر ہے۔‘‘(اعجاز قرآن و اختلاف قراء ت، مرتبہ تمنا عمادی:۷۴۲) طارق صاحب نے مزید لکھا ہے :’’ لَوْ کَانَ مِنْ عِنْدِ غَیْرِ اﷲِ لَوَجَدُوْا فِیْہِ اخْتِلَافًا کَثِیْرًا ‘‘...

جمع قرآن اور اس کی تدوین

جمع قرآن اور اس کی تدوین جمع قرآن سے مراد قرآن کریم کا جمع کرنا۔ خواہ حفظ سے ہو یا کتابت سے یا تلاوت کی ریکارڈنگ سے۔ اور تدوین سے مراد اس کو کتابی صورت میں ترتیب دینا ہے۔ان سب مراحل کی ایک دل چسپ معلوماتی تاریخ ہے جسے ایک طالب علم کے لئے جاننا بہت اہم ہے۔تاکہ وہ آگاہ رہے کہ یہ مقدس کتاب کس طرح کن کن ادوار سے گذر کر محفوظ ترین صورت میں ہم تک پہنچی؟مقصد جمع قرآن: جمع قرآن کا مقصد یہی تھا کہ جس طرح قرآن مجید آپ ﷺ پر اترا ہے اور جس طرح آپ نے اسے پڑھا یا سکھایا ہے اسے لکھ کر محفوظ کرلیا جائے۔ یہ اللہ کا حکم تھا تاکہ مستقبل میں ممکنہ اختلاف جو قراءت یا اس کے الفاظ ، ترتیب اور لغت میں پیدا ہوسکتا ہے وہ نہ ہوسکے۔ اللہ تعالیٰ نے خود بھی اس کی حفاظت کی ذمہ داری لی مگر اس حفاظت کا کام صحابہ رسول اور امت کے قراء وحفاظ سے بھی لیا۔جمع قرآن کی دلیل: آپ ﷺ قرآن کی تنزیل میں سخت شدت محسوس کیا کرتے۔ اور اپنے ہونٹوں کو حرکت دیا کرتے تھے۔ جیسا کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت صحیحین میں ہے۔تو اللہ تعالیٰ نے ابتداء میں ہی یہ فرمادیا : {لَا تُحَرِّكْ بِہٖ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ...

عورت، اسلام کی نظر میں

عورت جاہلیت میں نہایت ذلیل وحقیر چیز تھی یہاں تک کہ اسلام آیا تو اس نے اسے ایسی عزت وتکریم بخشی جس کی کوئی نظیر نہیں۔ اس نے جاہلیت کے مظالم سے اسے نجات دی اور اس کے حقوق کا ضامن وکفیل ہوا۔ اس نے عورت کو بہت سی دینی واجبات اور ثواب وعقاب میں اسے مردوں کے مساوی قرار دیا۔ چنانچہ اسے اسلام میں بہت زیادہ عزت وتکریم ملی ۔ إن الحمد لله، نحمده, ونستعينه، ونستغفره، ونعوذ بالله من شرور أنفسنا وسيئات أعمالنا، من يهده الله فلا مضل له، ومن يضلل فلا هادى له، وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له، وأشهد أن محمداً عبده ورسوله،وقد قال اللہ تبارک وتعالی فی محکم تنزیلہ، أعوذ باللہ من الشیطان الرجیم: (مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّن ذَكَرٍ أَوْ أُنثَىٰ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهُ حَيَاةً طَيِّبَةً ۖ وَلَنَجْزِيَنَّهُمْ أَجْرَهُم بِأَحْسَنِ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ) (النحل: 97)"جو شخص نیک عمل کرے مرد ہو یا عورت، لیکن باایمان ہو تو ہم اسے یقیناً نہایت بہتر زندگی عطا فرمائیں گے۔ اور ان کے نیک اعمال کا بہتر بدلہ بھی انہیں ضرور ضرور دیں گے۔"وقال النبی صلی اللہ علیہ وسلم: )إنما النساء شقائ...

خیرخواہی وامانت داری

خیرخواہی وامانت داری خیر خواہی دین کی بنیاد ا ور اس کا جوہر ہے۔ دین دراصل خیر خواہی کا نام ہے۔ خیرخواہی اللہ کی، اس کے کتاب کی، اس کے رسول کی، مسلم ائمہ وحکمرانوں کی اور عامۃ المسلمین کی ہوتی ہے۔ پس جب ان تمام کے حق میں بندہ خیرخواہ ہوگا تو اس کا دین کامل ہوگا اور جس میں ان میں سے کسی کی خیرخواہی میں کمی و کوتاہی ہوگی تو اسی قدر اس کے دین میں نقص وکمی ہوگی۔ مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اپنی خیرخواہی میں امانت کو ملحوظ رکھے اور بغیر کسی مداہنت ومجاملت کے حق کو بیان کرے۔ یہی شخص اللہ کے نزدیک امین ہوگا۔ إن الحمد لله، نحمده ونستعينه ونستغفره، ونعوذ بالله من شرور أنفسنا، وسيئات أعمالنا، من يهده الله فلا مضل له، ومن يضلل فلا هادى له، وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له، وأشهد أن محمداً عبده ورسوله۔ أما بعد: فإن خیر الحدیث کتاب اللہ، وخیر الھدی ھدی محمد صلی اللہ علیہ وسلم، وشر الأمور محدثاتھا، وکل محدثۃ بدعۃ، وکل بدعۃ ضلالۃ، وکل ضلالۃ  فی النار۔  وقد قال اللہ تبارک وتعالی فی کتابہ المجید: (إِنَّ اللَّـهَ يَأْمُرُكُمْ أَن تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَىٰ أَهْلِهَا وَإِذَا حَ...