Skip to main content

صلیبی اور یہودی خبیثوں کی خباثت

ہم مسلمانوں نے اللہ کے احکامات کو نظر انداز کرتے ہوئے خبیث صلیبیوں کو جگری یار بنالیا۔ سورة مائدہ آئت نمبر51 (اے ایمان والو! یہود و نصاری کو دوست نہ بناﺅ وہ آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں۔ اور تم میں جو کوئی ان سے دوستی رکھے گاتو وہ انہیں میں سے ہے۔ بے شک اللہ بے انصافوں کو راہ نہیں دیتا)اتنے بڑے صاف اور واضح حکم پر آج کہاں عمل ہورہا ہے؟ سرور کون و مکاں ہم غلاموں کے آقا اللہ کے حبیب رحمة للعلمین ﷺ کا ارشاد پاک ہے اخرجوا الیہود والنصاری من جزیرة العرب( یہود و نصاری کو جزیرة العرب سے نکال دو) میرے آقا ﷺ کے نشہءعشق رسول سے سرشار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے صلیبیوں کے خلاف مسلسل جہاد کرکے شام ، فلسطین اور افریقہ سے بھی انکا اقتدار ختم فرمایا۔ اندلس سے آٹھ سوسالہ مسلم اقتدار یونہی ختم نہیں ہوا۔ سلطان ترکی کی فرانس سے دوستی کا نتیجہ ہے۔ صلیبی یورپ نے ہمیشہ انسانی اقدار کی دھجیاں بکھیریں۔ ان غیر مسلموں کے ہاں کوئی اخلاقی ضابطہ نہیں۔ تاریخ شاہد ہے کہ صلیبیوں نے ہمیشہ مکروفریب سے مسلمانوں کو ظلم وستم اور بربریت کا شکاربنایا۔ امریکی پادری اور اسکے ساتھی ہی توہین رسالت کے مرتکب نہیں بلکہ تمام امریکی عوام اور حکمران اس خباثت میں برابر کے شریک ہیں۔ حرامزدگی کے بعد انکے بیانات محض مسلم امہ کے حکمرانوں کے لیئے ہیں کہ وہ عشق رسول کے دیوانوں کے جذبات پر کنٹرول کرسکیں کہ یہ فعل بس ایک پادری کا ہے باقی امریکی حکمران اور عوام معصوم ہیں۔ یہی پادری خبیث اس سے قبل قرآن حکیم کی شان میں گستاخی کرچکا ہے۔ اگر امریکی حکومت کی بات میں صداقت ہے تو یہ بتائے کہ حکومت نے اسکے خلاف کیا کاروائی کی؟ اس سے قبل ناروے اور ڈنمارک کے حرامزادوں نے گستا خیاں کیں۔ مسلم ممالک کے عوام نے احتجاج کیئے مگر مسلم حکمرانوں کی غیرت ایمانی امریکی قدم بوسی کا شکاررہی۔ ارض قرآن کے حکمران اور اپنے آپ کو خادم الحرمین شریفین کہلانے والوں نے گستاخان رسول کے بارے کوئی احتجاج نہیں کیا اور آج بھی تمام دنیائے اسلام اپنے آقا کریم ﷺ کے گستاخانوں کے خلاف سر بکف ہیں ساری دنیا سے خبریں آرہی ہیں اگر نہیںکچھ ہورہا تو سعودی عرب میں کچھ نہیں ہورہا۔ ااس کی وجہ صرف امریکی یاری ہے ۔ سعودی عرب میں امریکی افواج کے اڈے ہیں۔ خلیجی ریاستوں میں شیوخ کی حکمرانی برائے نام ہے در حقیقت وہاں امریکہ کی حکومت ہے۔ اسی طرح پاکستان میں امریکی اڈے ہیں۔ جبھی تو زرداری اور اسکے حواری اپنے آقا امریکہ کے خلاف ایک لفظ تک نہیں بولے۔ امریکی سفیر تک کو طلب کرکے اپنے ایمانی جذبات سے آگاہ تک نہیں کیا۔ عوام نے مظالم برداشت کیئے، راتوں کے جگرتے برداشت کیئے،قوم دولت کی لوٹ مار برداشت کی، اپنے عوام کے قتل عام برداشت کررہے ہیں لیکن اب تو ایمان پر آپڑی ہے ، جان ایماں شہ شاہاں وجہ قرار عالمیں ﷺ کی بات آجائے تو ایک انتہائی گنہگار غلام بڑے بڑے پارساﺅں پر بازی لے جاتا ہے۔ آج لیبیا کے مسلمان مبارک باد کے مستحق ہیں کہ عالم اسلام میں عشق رسول کی تختی پر سر فہرست نام لکھوالیا۔ امریکی سفیر سمیت چند امریکیوں کو واصل جہنم کیا۔ مصر ، یمن ایران، بنگلہ دیش، بھارت اور دنیا کے مسلم ممالک نے اپنی غیرت ایمانی کی شمعیں روشن کردی ہیں۔ پاکستان کے عوام نے حکمرانوں سے مطالبہ کیا ہے کہ امریکہ سے سفارتی تعلقات ختم کیئے جائیں۔اس وقت مسلم امہ شاتمین رسول سے انتقام لینے کے لیئے بیقرار ہوچکی ہے۔ اور انتقام لے کر رہے گی۔ اگر زردار ی یا امریکی سمجھتے ہیں کہ چند احتجاجوں تک یہ معاملہ محدود رہے گا تو انہیں آنے والے دنوں میں پتہ چل جائےگا کہ مسلمان اپنی زندگی کا بہتریں مصرف اپنے پیارے رسول ﷺ پر جان نثار کرنے ہی کو سمجھتا ہے۔ کسی قاری کو اس مخمصے میں نہیں رہنا کہ ہمارے حکمران مسلمان ہیں۔ ان کا اسلام تو اقتدار میں آکر دولت لوٹنا اور صلیبیوں کے بنکوں میں جمع کرانا ہے۔ ابھی چند روز کی بات ہے کہ ایک خبیثہ رمشا کو عدالت نے ضمانت پر رہا کیا ۔ اور اسے حکومتی پروٹوکول دیا گیا ، بھاری حفاظتی فورس اور ہیلی کاپٹر بھیجا۔ میں حکمرانوں سے سوال کرتا ہوں کہ کیا یہ ہیلی کاپٹر تمہارا ذاتی ہے جو ایک خبیثہ کے لیئے تم نے استعمال کیا۔ اگر اسے جان کا خطرہ تھا تو ایسے کئی لوگ جیل سے برضمانت رہا ہوتے ہیں ، کیا کبھی اس ملک کے مسلمان شہریوں کو بھی ایسی سہولت دی گئی۔ عوام اتنے سادہ نہیں کہ اپنے حکمرانوں کی صلیبی چاپلوسی پالیسی کو نہ سمجھیں۔ یہ ہوتم مسلمان کہ تمہیں دیکھ کر پھولے نہیں سماتے یہود۔ حکمرانوں سے گستاخان رسول کے خلاف کاروائی کا مطالبہ بھینس کے آگے بین بجانا ہے۔ دنیا کے طالبوں کو شان رسالت کے بارے کیا خبر۔؟ تازہ خون رنگ لائے گا، اب تعلیمی اداروں،کالجوں ، یونیورسٹیوں کے طلبا و طالبات ، مزدورنکلیں اور امریکی سفارتخانے اور تمام قونسل خانوں کے امریکیوں کو اسی طرح جہنم رسید کریں جسطرح لیبیا والوں نے کیا اگر حکمران طاقت کا استعمال کریں تو ہم اپنے نبی ﷺ پر جانیں نثار کرکے سرخرو ہوجائیں گے۔ یہ ذات مصطفے کریم علیہ الصلوة والتسلیم ہی ہے کہ جو ہم مسلمانوں کو متحد کردیتی ہے۔ اس امر سے یہ بات عیاں ہوجاتی ہے کہ آپ ﷺ کائنات کے روح رواں ہیں، ہم مسلمانوں کے دل ایک ساتھ دھڑکتے ہیںکیونکہ نور نبوت پوری آب و تاب سے دلوں پر حاوی ہے۔ پہلی جنگ عظیم کے بعدصلیبیوں اور یہودیوں نے اسلامی مملکت کے ٹکڑے کر دیئے تھے۔ خلافت کا خاتمہ مسلم اتحاد کاخاتمہ تھا۔ صلیبیوں کو موئثر جواب دینے کے لیئے فتوحات شام اورصلاح الدین ایوبی کی تاریخ دہرائے بغیر صلیبیوں کوآرام نہیں آئے گا۔ امریکہ اور اسکے اتحادی مسلمانوں کے خلاف صلیبی جنگوں کا اعلان کرچکے ہیںلیکن مسلم حکمران امریکی غلامی کا قلادہ اپنے گلے سے اتارنے کو تیار نہیں۔حکمران مسلم عوام کے ایمانی جذبات سے سبق سیکھیں۔ متحد ہوکر امریکہ اور اسکے اتحادیوں کے خلاف اعلان جہاد کریں۔ اے اللہ ! بس ہماری عزیز جانیں تیرے محبوب ﷺ کے ناموس پر قربا ن ہوں آمین۔

Comments

Popular posts from this blog

Yusufzai (Pashtun tribe)

The  Yūsufzai  (also  Youssofzay ,  Yousefzai ,  Yousafzai ,  Esapzey ,  Yousufi , or  Yūsufi ) (Pashto:  يوسفزی ,Persian and Urdu:  یوسف زئی ) is one of the largest Pashtun (Afghans) tribes. The majority of the Yusufzai tribe reside in parts of Western Afghanistan, Khyber Pakhtunkhwa and Provincially Administered Tribal Areas near the Afghan-Pakistan border. They are the predominant population in the districts of Konar, Ningarhar, Mardan District, Dir, Swat,Malakand, Swabi, Buner, Shangla, Haripur District [Khalabat Town Ship and Tarbela] and in Mansehra and Battagram. There is also a Yusufzai clan of Dehwar tribe in the Mastung district of Balochistan who speak Persian with some mixture of Birahvi words. The descendants of Yusuf inhabit Konar, Jalalabad, Swat, Upper Dir, Lower Dir, Malakand Swabi and Mardan...

یہودی پروٹوکولز

Online Read یہودی پروٹوکولز ============================================== Online Read E Book یہودی پروٹوکولز ============================================== Download Free یہودی پروٹوکولز ---------------------------------------------------- Download Free یہودی پروٹوکولز ----------------------------------------------------

دین اسلام میں رسول اللہ ﷺ کی اطاعت فرض ہے

بسم اللہ الرحمن الرحیم دین اسلام میں رسول اللہ ﷺ کی اطاعت فرض ہے يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ أَطِيعُوا۟ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ وَلَا تَوَلَّوْا۟ عَنْهُ وَأَنتُمْ تَسْمَعُونَ ﴿20﴾ترجمہ: اے ایمان والو الله اور اس کے رسول کا حکم مانو اور سن کر اس سے مت پھرو(سورۃ الانفال،آیت20) قُلْ أَطِيعُوا۟ ٱللَّهَ وَأَطِيعُوا۟ ٱلرَّسُولَ ۖ فَإِن تَوَلَّوْا۟ فَإِنَّمَا عَلَيْهِ مَا حُمِّلَ وَعَلَيْكُم مَّا حُمِّلْتُمْ ۖ وَإِن تُطِيعُوهُ تَهْتَدُوا۟ ۚ وَمَا عَلَى ٱلرَّسُولِ إِلَّا ٱلْبَلَٰغُ ٱلْمُبِينُ﴿56﴾ترجمہ: کہہ دو الله اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرو پھر اگر منہ پھیرو گے تو پیغمبر تو وہی ہے جس کا وہ ذمہ دار ہے اورتم پر وہ ہے جو تمہارے ذمہ لازم کیا گیا ہے اور اگر اس کی فرمانبرداری کرو گے تو ہدایت پاؤ گے اور رسول کے ذمہ صرف صاف طور پر پہنچا دینا ہے (سورۃ النور،آیت 56) مَّن يُطِعِ ٱلرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ ٱللَّهَ ۖ وَمَن تَوَلَّىٰ فَمَآ أَرْسَلْنَٰكَ عَلَيْهِمْ حَفِيظًۭا ﴿80﴾ترجمہ: جو شخص رسول کی فرمانبرداری کرے گا تو بےشک اس نے اللہ کی فرمانبرداری کی اور جو نافرمانی کرے گا تو اے ...

قرآن حکیم کے نازل ہونے کی کیا غرض ہے

سورہ آلِ عمران هَـٰذَا بَيَانٌ لِّلنَّاسِ وَهُدًى وَمَوْعِظَةٌ لِّلْمُتَّقِينَ ﴿١٣٨﴾ یہ (قرآن) لوگوں کے لیے بیان صریح اور اہلِ تقویٰ کے لیے ہدایت اور نصیحت ہے۔ سورہ المآئدۃ يَا أَهْلَ الْكِتَابِ قَدْ جَاءَكُمْ رَسُولُنَا يُبَيِّنُ لَكُمْ كَثِيرًا مِّمَّا كُنتُمْ تُخْفُونَ مِنَ الْكِتَابِ وَيَعْفُو عَن كَثِيرٍ ۚ قَدْ جَاءَكُم مِّنَ اللَّـهِ نُورٌ وَكِتَابٌ مُّبِينٌ ﴿١٥﴾هْدِي بِهِ اللَّـهُ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَهُ سُبُلَ السَّلَامِ وَيُخْرِجُهُم مِّنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ بِإِذْنِهِ وَيَهْدِيهِمْ إِلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ ﴿١٦﴾  اے اہل کتاب! تمہارے پاس ہمارے پیغمبر (آخرالزماں) آ گئے ہیں کہ جو کچھ تم کتاب (الہٰی) میں سے چھپاتے تھے وہ اس میں سے بہت کچھ تمہیں کھول کھول کر بتا دیتے ہیں اور تمہارے بہت سے قصور معاف کر دیتے ہیں بےشک تمہارے پاس خدا کی طرف سے نور اور روشن کتاب آ چکی ہے۔جس سے خدا اپنی رضا پر چلنے والوں کو نجات کے رستے دکھاتا ہے اور اپنے حکم سے اندھیرے میں سے نکال کر روشنی کی طرف لے جاتا اور ان کو سیدھے رستہ پر چلاتا ہے۔ وَكَتَبْنَا عَلَيْه...

جمع عثمانی رِوایات کے آئینے میں

نبی مکرمﷺ کی حدیث مبارکہ ’’خَیْرُ النَّاسِ قَرْنِيْ ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَھُمْ ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَھُمْ‘‘۔(صحیح البخاري: ۲۶۵۲) پر جب نظر پڑتی ہے تو سر احسان و نیازمندی کے ملے جلے تاثر ات سے جھک جاتا ہے کہ واقعتا آپﷺ، صحابہ رضی اللہ عنہم اور تابعین رحمہم اللہ کا زمانہ خیر القرون تھا، کیونکہ اس میں بنی نوع اِنسان کی راہ روی اور اسلام کی سربلندی کے لیے وہ محنتیں اور کوششیں ہوئی ہیں کہ جس کی مثال آئندہ جمیع قرون میں پیش کرنا مشکل ہے۔ یقینا وہ لوگ اس قابل تھے کہ اُنہیں یہ ذمہ داری سونپی جاتی کہ وہ دینِ الٰہی اور شرع اللہ کو اپنی مکمل تشریحات کے ساتھ آئندہ نسلوں تک منتقل کریں، بلا شبہ وہ طائفہ فائزہ اپنے اس مقصد میں بامراد ہوا ہے۔ان جملہ ذمہ داریوں میں سے اَہم ترین ذمہ داری یہ تھی کہ ہدایت سماوی کے آخری ربانی صحیفہ کو محفوظ اور غیر متبدل شکل میں ہم تک پہنچایا جائے۔ ہمارا یہ قطعی ایمان ہے کہ وہ پیام اَیزدی آج اپنی سو فیصد اَصلی اور حقیقی شکل میں ہمارے درمیان موجود ہے۔ الحمد ﷲ علی ذلک۔اِس سلسلہ میں خیرالقرون میں جو سب سے اَہم کام ہوا ہے وہ سیدنا عثمان ذوالنورین رضی ال...

ان شاءاللہ لکھنے میں غلطی کرنا

بسم اللہ الرحمن الرحیم السلام علیکم ورحمتہ اللہ آ پ لوگوں نے اکثر کتابوں میں لفظ ان شاءاللہ کو اس طرح لکھا ہوا پڑھاہوگا انشاءاللہ اور جب کہ اس طرح لکھنے سے اس کا معنی بدل جاتا ہے۔ لفظ ان شاءاللہ کے اردو میں معنی بنتا ہے اگر اللہ نے چاہا اور جب کہ انشاء عربی میں کسی چیز کو بنانے کو کہتے ہیں اس طرح انشاءاللہ کے معنی بہت غلط بن جاتے ہیں ۔ہم لوگ عربی زبان سے واقفیت نہ رکھنے کی وجہ سے ایسی غلطیاں کر جاتے ہیں اللہ ہمیں معاف فرمائے آمین۔اللہ کا ارشاد ہے کہاِنَّآ اَنْشَاْنٰهُنَّ اِنْشَاۗءً 35۝ۙہم نے ان (کی بیویوں کو) خاص طور پر بنایا ہے۔الواقعہ:۳۵قَالَ اِنَّمَا يَاْتِيْكُمْ بِهِ اللّٰهُ اِنْ شَاۗءَ وَمَآ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِيْنَ 33 ؀جواب دیا کہ اسے بھی اللہ تعالٰی ہی لائے گااگر وہ چاہے اور ہاں تم اسے ہرانے والے نہیں ہو۔ھود:۳۳فَلَمَّا دَخَلُوْا عَلٰي يُوْسُفَ اٰوٰٓى اِلَيْهِ اَبَوَيْهِ وَقَالَ ادْخُلُوْا مِصْرَ اِنْ شَاۗءَ اللّٰهُ اٰمِنِيْنَ 99؀ۭپھر جب (سب کے سب) یوسف کے پاس پہنچے تو اس نے اپنے والدین کو (عزت و احترام کے ساتھ) اپنے پاس جگہ دی اور کہا، ''کہاگر اللہ نے چاہا تو...

قراء توں کا اِختلاف اور منکرینِ حدیث

یہ ایک مسلّمہ اَمر ہے کہ قرآن مجید کی ایک سے زیادہ قراء تیں ثابت ہیں۔ لیکن اہلِ قرآن کہلانے والے منکرین حدیث ان اختلافِ قراء ات کو نہیں مانتے۔ وہ کہتے ہیں کہ قرآن کی صرف ایک ہی قراء ت ہے اور یہ کہ خود نبیﷺنے قرآن کو کتابی صورت میں مرتب اور مدوّن کیا اور اس پر اعراب و نقطے لگوائے تھے جبکہ یہ بات خلاف ِ واقعہ ہے۔جناب پرویز صاحب لکھتے ہیں:’’ہم سمجھتے ہیں کہ اس کے بعد ’اختلاف قراء ت‘ کے فتنہ کے متعلق کچھ سمجھنے کی ضرورت باقی نہیں رہتی‘‘(طلوع اسلام، ص۵۶، شمارہ جنوری ۱۹۸۲ء، لاہور)وہ مزید لکھتے ہیں :’’قرآن مجیدجس شکل میں ہمارے پاس موجود ہے اسے خود رسول اللہﷺنے اسی طرح مرتب اور مدوّن شکل میں اُمت کو دیا تھا۔‘‘(طلوع اسلام، ص۴۲، شمارہ جنوری۱۹۸۲ء، لاہور)اسی طرح ایک اور منکرِ حدیث رحمت اللہ طارق صاحب نے لکھا ہے :’’اختلاف قراء ت کا فتنہ ہی لے لیجئے جس کا مودودی صاحب جیسا شخص نہ صرف معترف اور معتقد ہے بلکہ سرگرم مبلغ اور پُرجوش ناشر ہے۔‘‘(اعجاز قرآن و اختلاف قراء ت، مرتبہ تمنا عمادی:۷۴۲) طارق صاحب نے مزید لکھا ہے :’’ لَوْ کَانَ مِنْ عِنْدِ غَیْرِ اﷲِ لَوَجَدُوْا فِیْہِ اخْتِلَافًا کَثِیْرًا ‘‘...

جمع قرآن اور اس کی تدوین

جمع قرآن اور اس کی تدوین جمع قرآن سے مراد قرآن کریم کا جمع کرنا۔ خواہ حفظ سے ہو یا کتابت سے یا تلاوت کی ریکارڈنگ سے۔ اور تدوین سے مراد اس کو کتابی صورت میں ترتیب دینا ہے۔ان سب مراحل کی ایک دل چسپ معلوماتی تاریخ ہے جسے ایک طالب علم کے لئے جاننا بہت اہم ہے۔تاکہ وہ آگاہ رہے کہ یہ مقدس کتاب کس طرح کن کن ادوار سے گذر کر محفوظ ترین صورت میں ہم تک پہنچی؟مقصد جمع قرآن: جمع قرآن کا مقصد یہی تھا کہ جس طرح قرآن مجید آپ ﷺ پر اترا ہے اور جس طرح آپ نے اسے پڑھا یا سکھایا ہے اسے لکھ کر محفوظ کرلیا جائے۔ یہ اللہ کا حکم تھا تاکہ مستقبل میں ممکنہ اختلاف جو قراءت یا اس کے الفاظ ، ترتیب اور لغت میں پیدا ہوسکتا ہے وہ نہ ہوسکے۔ اللہ تعالیٰ نے خود بھی اس کی حفاظت کی ذمہ داری لی مگر اس حفاظت کا کام صحابہ رسول اور امت کے قراء وحفاظ سے بھی لیا۔جمع قرآن کی دلیل: آپ ﷺ قرآن کی تنزیل میں سخت شدت محسوس کیا کرتے۔ اور اپنے ہونٹوں کو حرکت دیا کرتے تھے۔ جیسا کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت صحیحین میں ہے۔تو اللہ تعالیٰ نے ابتداء میں ہی یہ فرمادیا : {لَا تُحَرِّكْ بِہٖ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ...

عورت، اسلام کی نظر میں

عورت جاہلیت میں نہایت ذلیل وحقیر چیز تھی یہاں تک کہ اسلام آیا تو اس نے اسے ایسی عزت وتکریم بخشی جس کی کوئی نظیر نہیں۔ اس نے جاہلیت کے مظالم سے اسے نجات دی اور اس کے حقوق کا ضامن وکفیل ہوا۔ اس نے عورت کو بہت سی دینی واجبات اور ثواب وعقاب میں اسے مردوں کے مساوی قرار دیا۔ چنانچہ اسے اسلام میں بہت زیادہ عزت وتکریم ملی ۔ إن الحمد لله، نحمده, ونستعينه، ونستغفره، ونعوذ بالله من شرور أنفسنا وسيئات أعمالنا، من يهده الله فلا مضل له، ومن يضلل فلا هادى له، وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له، وأشهد أن محمداً عبده ورسوله،وقد قال اللہ تبارک وتعالی فی محکم تنزیلہ، أعوذ باللہ من الشیطان الرجیم: (مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّن ذَكَرٍ أَوْ أُنثَىٰ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهُ حَيَاةً طَيِّبَةً ۖ وَلَنَجْزِيَنَّهُمْ أَجْرَهُم بِأَحْسَنِ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ) (النحل: 97)"جو شخص نیک عمل کرے مرد ہو یا عورت، لیکن باایمان ہو تو ہم اسے یقیناً نہایت بہتر زندگی عطا فرمائیں گے۔ اور ان کے نیک اعمال کا بہتر بدلہ بھی انہیں ضرور ضرور دیں گے۔"وقال النبی صلی اللہ علیہ وسلم: )إنما النساء شقائ...

خیرخواہی وامانت داری

خیرخواہی وامانت داری خیر خواہی دین کی بنیاد ا ور اس کا جوہر ہے۔ دین دراصل خیر خواہی کا نام ہے۔ خیرخواہی اللہ کی، اس کے کتاب کی، اس کے رسول کی، مسلم ائمہ وحکمرانوں کی اور عامۃ المسلمین کی ہوتی ہے۔ پس جب ان تمام کے حق میں بندہ خیرخواہ ہوگا تو اس کا دین کامل ہوگا اور جس میں ان میں سے کسی کی خیرخواہی میں کمی و کوتاہی ہوگی تو اسی قدر اس کے دین میں نقص وکمی ہوگی۔ مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اپنی خیرخواہی میں امانت کو ملحوظ رکھے اور بغیر کسی مداہنت ومجاملت کے حق کو بیان کرے۔ یہی شخص اللہ کے نزدیک امین ہوگا۔ إن الحمد لله، نحمده ونستعينه ونستغفره، ونعوذ بالله من شرور أنفسنا، وسيئات أعمالنا، من يهده الله فلا مضل له، ومن يضلل فلا هادى له، وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له، وأشهد أن محمداً عبده ورسوله۔ أما بعد: فإن خیر الحدیث کتاب اللہ، وخیر الھدی ھدی محمد صلی اللہ علیہ وسلم، وشر الأمور محدثاتھا، وکل محدثۃ بدعۃ، وکل بدعۃ ضلالۃ، وکل ضلالۃ  فی النار۔  وقد قال اللہ تبارک وتعالی فی کتابہ المجید: (إِنَّ اللَّـهَ يَأْمُرُكُمْ أَن تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَىٰ أَهْلِهَا وَإِذَا حَ...