Skip to main content

اسلام میں پردے کی اہمیت

اسلام اور اسلامی نظام ِ حیات‘ ایک پاک وصاف معاشرے کی تعمیر اور انسانی اخلاق وعادات کی تہذیب کرتا ہے۔ اسلام نے جہالت کے رسم ورواج اور اخلاق وعادات کو جو ہرقسم کے فتنہ وفساد سے لبریز تھے‘ یکسر بدل کر ایک مہذب معاشرے اور تہذیب کی داغ بیل ڈالی‘ جس سے عام انسان کی زندگی میں امن ‘ چین اور سکون ہی سکون درآیا۔ اسلام اپنے ماننے والوں کی تہذیب اور پُرامن معاشرے کے قیام کے لئے جو پہلی تدبیر اختیار کرتا ہے‘ وہ ہے: انسانی جذبات کو ہرقسم کے ہیجان سے بچانا‘ وہ مرد اور عورت کے اندر پائے جانے والے فطری میلانات کو اپنی جگہ باقی رکھتے ہوئے انہیں فطری انداز کے مطابق محفوظ اور تعمیری انداز دیتاہے‘ قرآن حکیم میں سورہ نور میں بڑی وضاحت سے ایک ایک بات کو کھول کھول کر بیان کردیا گیا ہے‘ ہرعمل کی تہذیب کردی گئی ہے‘ اس سورہ کی آیت نمبر: ۳۱ میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:”وقل للموٴمنات یغضضن من ابصارھن ویحفظن فروجھن ولایبدین زینتھن الاماظھر منھاولیضربن بخمرھن علیٰ جیوبھن ولایبدین زینتھن۔“ترجمہ۔”اور مسلمان عورتوں سے کہہ دیجئے کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں اور اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں‘ مگر جو اس میں سے کھلا رہتا ہے اور اپنے دوپٹے اپنے سینوں پر ڈالیں اور اپنی زینت کو ظاہر نہ ہونے دیں“۔سورہ احزاب :۹۵میں ارشاد ہے:”یاایھا النبی قل لازواجک وبناتک ونساء الموٴمنین یدنین علیھن من جلابیبھن ،ذلک ادنی ان یعرفن فلایوٴذین ،وکان اللہ غفوراََرحیماََ“ ترجمہ:۔”اے نبی! ا اپنی بیویوں اور بیٹیوں اور اہل ایمان کی عورتوں سے کہہ دو کہ وہ اپنے اوپر چادروں کے پلو لٹکا لیا کریں‘ یہ زیادہ مناسب طریقہ ہے‘ تاکہ وہ پہچان لی جائیں اور نہ ستائی جائیں‘ اللہ تعالیٰ غفور ورحیم ہے“۔انسانی تاریخ شاہد ہے کہ ہر زمانے میں عورتوں میں زیب وزینت ‘ بناؤ سنگھار اور بننا سنورنا رائج رہا ہے‘ یہ اس کی فطرت اور جبلت بھی کہی جاسکتی ہے‘ ہرعورت کی یہ فطری خواہش ہوتی ہے کہ وہ بہت خوبصورت نظر آئے۔ہرزمانے میں بناؤ سنگھار کے معیار بدلتے رہتے ہیں‘ لیکن زینت کا داعیہ چونکہ فطرت میں موجود ہوتا ہے‘اس لئے عورت اپنے آپ کو خوبصورت سے خوبصورت بنانے کے تمام جتن اور حربے استعمال کرتی ہے‘ اسلام عورت کی اس فطرت پر کسی قسم کی پابندی نہیں لگاتا ‘ بلکہ اس کی اس خواہش اور فطرت کو تسلیم کرتا ہے‘ ہاں اس کی تنظیم وتہذیب کرتے ہوئے ضابطہ بندی ضرور کرتا ہے۔ اسلام یہ چاہتا ہے کہ عورت کا تمام ترحسن وجمال‘ اس کی تمام زیب وزینت اور آرائش وسنگھار میں اس کے ساتھ صرف اس کا شوہر شریک ہو‘ کوئی دوسرا شریک نہ ہو‘ عورت اپنی آرائش اور جمال صرف اپنے مرد کے لئے کرے۔اگر دیکھا جائے تو عورت درحقیقت تمام تر سنگھار وآرائش مرد کو اپنی طرف متوجہ کرنے اور اس کی خصوصی توجہ کے حصول کے لئے ہی کرتی ہے‘ اسلام ایسا دین ہے جو انسان کی زندگی کے ایک ایک لمحے کی تہذیب کرتا ہے‘ ان کے لئے پاکیزہ طریقہ وضع کرتا ہے‘ تاکہ کوئی مسلمان اور اہل ایمان کسی طریقے سے کسی برائی میں مبتلا نہ ہو اور ان کے میلانات جائز طریقوں تک محدود رہیں‘ اللہ ہی ہے جو تمام احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا حکم دیتا ہے‘ جس سے انسانی فطرت کی نفسیاتی تعلیم وتربیت ہوتی ہے۔ عورت کے حسن وجمال کو اس کی زیب وزینت کو اللہ تعالیٰ نے اس کے شوہر کی دل بستگی اور توجہ کے لئے محدود کردیا ہے‘ تاکہ وہ اپنی ساری توجہ اپنی بیوی کی طرف مرکوز رکھے اور اس کی عورت غیروں کی ہوس ناک نظروں سے محفوظ ومامون رہے۔اللہ تعالیٰ نے شوہر اور بیوی کو ایک دوسرے کا لباس قرار دیا ہے۔ یہ ان کی قربت اور ہم نفسی کی علامت ہے‘ اسلام جب پردے کی تاکید کرتا ہے تو اس سے مراد ایک نہایت پاک وصاف سوسائٹی کا قیام ہے۔اگر ہم اپنے چاروں اطراف نظر ڈالیں تو بخوبی اندازہ کر سکتے ہیں کہ احکام الٰہی سے اعراض اور روگردانی کے کیسے کیسے بھیانک اور عبرت ناک مناظر سامنے آرہے ہیں۔مغربی دنیا خصوصاً یورپ اور امریکی معاشرے میں جہاں کسی قسم کے پردے اور حجاب کا گزر نہیں‘ جہاں ہرطرف لطف اندوزی‘ ہیجان خیزی ‘ شہوت پرستی اور گوشت پوست کی لذت اندوزی کا سامان ہورہا ہے ‘ ایسے ایسے اقدامات اٹھائے جارہے ہیں جن سے ہر وقت جنسی ہیجان پیدا کیا جارہا ہے‘ جس کے نتیجے میں جنسی پیاس بڑھتی جارہی ہے جو کسی طرح بجھتی ہی نہیں‘ انسان کی خوابیدہ حیوانیت کو جگادیا گیا ہے اور انسان بے قید شہوت رانی کا شکار ہوگیا ہے‘ اس کے اعصاب اور نفسیات کے اندر ہیجان خیز امراض پیدا ہورہے ہیں۔مرد اور عورت میں ایک دوسرے کے لئے کشش ایک فطری امر ہے اور یہ انسان میں تخلیقی طور پر ودیعت کی گئی ہے‘ کیونکہ انسان کو اس زمین پر اپنے منصبِ خلافت کی ذمہ داریوں کو پورا کرنا ہے‘ اس زندگی کا بڑا اور اہم حصہ زمین پر زندگی کے تسلسل کو قائم رکھنا ہے‘ اس لئے یہ کشش دائمی ہے۔ یہ کشش ہی انسان کو ایک دوسرے کے قریب لاتی ہے‘ عورت اور مرد کے ملاپ سے ایک خاندان ایک گھر انہ وجود پاتا ہے اور دونوں ایک دوسرے کے ذریعہ فطری تسکین پاتے ہیں اور افزائش نسل کے ذریعے ایک خاندان کی تشکیل کا ذریعہ بنتے ہیں اور اگر کہیں دونوں فریقوں کے درمیان نا آسودگی رہے‘ اپنے فطری تقاضوں کی تسکین نہ کر سکیں تو پھر بے چینی اور بے قراری جنم لیتی ہے جو اعصاب پر اثر انداز ہوتی ہے اور انسان کو برائی کی طرف ابھارتی ہے۔ امریکہ اور یورپ کا معاشرہ ہمارے سامنے ہے‘ جہاں ہر طرف ہرقسم کی جنسی آزادی عام ہے‘ مرد عورتوں سے مطمئن نہیں‘ عورتیں مردوں سے نا آسودہ ہیں‘ جنسی تسکین وآسودگی کے لئے تمام غیر فطری طریقے استعمال کرنے کے باوجود نا آسودگی سے دو چار ہیں‘ مرد مردوں سے‘ عورت عورتوں سے اور حیوانات تک سے اختلاط وملاپ کے باوجود ایک ہیبت ناک نا آسودگی کا شکار ہیں۔ وہاں کھلے عام ہرقسم کی بے پردگی‘ فحاشی‘ عریانی اور تمام غیر فطری طریقوں کے باوجود جوبے چینی اور بے کلی‘ عام پائی جاتی ہے‘ اسلام اپنے ماننے والوں کو ان تمام خرابیوں سے بچاتا ہے اور بچائے رکھتا ہے۔ایسے تمام ممالک جہاں ہرقسم کا جسمانی ملاپ عریانی اور جنسی بے راہ روی عام ہے‘ ہرقسم کی قید وبند سے وہ آزادہیں‘ان کے نزدیک تمام ممکن شکلیں جائز ہیں‘ لیکن اس کے باوجود ان کی جنسی پیاس جنون کی حد تک بڑھ گئی ہے اوران کی تسکین کا نام ونشان تک مٹ گیا ہے‘ جس کے باعث وہاں جنسی اور نفسیاتی بیماریوں کا ایک طوفان امڈ آیا ہے‘ ایسے تمام مسائل سے وہ معاشرے دوچار ہیں جو جنسی محرومی‘ نا آسودگی سے پیدا ہوتے ہیں‘ اس کے باوجود وہاں جنسی تعلقات اور ملاپ مویشیوں اورحیوانات کی طرح راستوں پر عام دیکھا جاسکتا ہے‘ جب کہ اسلام جو انسان کے ہرجذبے کی نا صرف تطہیر کرتا ہے‘ بلکہ انہیں پاک صاف کرتا ہے‘ انہیں تہذیب وشائستگی سے ہم کنار کرتا ہے اور اپنے ماننے والوں کو ایک آسودہ اور پُر سکون زندگی بسر کرنے میں بھی مدد فراہم کرتا ہے۔عورتوں کا بے پردہ ہونا‘ بے حجاب ہونا ‘ فیشن کو اپنانا‘ بن سنور کر غیرمردوں کے سامنے آنا‘ انہیں دعوت نظارہ دینا‘ بے پردگی اور بے حجابی کے نام پر شعائر اسلامی کو پامال کرنا‘ یہ سب اسلامی نہیں ‘ مغربی اور غیر اسلامی معاشرت اور روایات ہیں جن کے بھیانک نتائج ہمارے سامنے ہیں۔اسلام نے اسلامی معاشرے کا ذوق ہی بدل دیا ہے‘ لوگوں کے جمالی احساسات کو بدل دیا ہے‘ اسلام کے ماننے والوں کے لئے حسن وجمال کی تمام حیوانی ادائیں مطلوب ومستحسن نہیں رہیں‘ بلکہ اسلام حسن وجمال کا ایک مہذب رنگ ڈھنگ اور معیار قائم کرتا ہے‘ جس میں ہرطرح کی عریانی سے بچاجاتا ہے اور سنجیدگی‘ وقار اور پاکیزہ جمال کا ذوق پیدا کرتا ہے جو انسان کے اور ایک اہل ایمان کے لائق ہوتا ہے۔اسلام ایک سچی مومنہ عورت کی تربیت اس انداز سے کرتاہے کہ وہ نا صرف اپنے حسن وجمال کا درست طریقے سے استعمال کرسکے اور اپنی تمام معاشی‘ معاشرتی ضرورتوں کے ساتھ ساتھ اپنی فطری جبلی ضرورتوں اور تقاضوں کو بھی فطرت کے عین مطابق پورا کرسکے۔آج دور جدید کی بظاہر ترقی یافتہ خواتین دو مردوں کے شانہ بشانہ ہم قدم ہوکر چلنا پسند کرتی ہیں اور بے حجابی وبے پردگی کی علمبردار ہیں۔ اگر وہ اپنی دیانتداری سے خود اپنا جائزہ لیں اور اپنی نگاہ میں ایک دقیانوسی با پردہ‘ باشرع خاتون کا جائزہ لیں تو انہیں بخوبی اندازہ ہو جائے گا کہ معاشرے میں مردوں کے شانہ بشانہ چلنے میں انہیں کیسی کیسی ٹھوکریں کھانا پڑتی ہیں‘ کیسی کیسی مشکلات سے دو چار ہونا پڑتا ہے اور دن بھر کی بک بک‘ جھک جھک کے بعد رات اپنے شوہر کی قربت میں بسر کرتی ہیں تو کیا وہ دونوں جسمانی وروحانی طور پر جنسی ونفسانی طور پر اس قدر آسودہ ومطمئن ہوپاتے ہیں جس قدرایک پردہ نشین وخانہ دار خاتون اپنے خلوص سے آسودگی اور طمانینت حاصل کرتی ہے؟ اس کی یہ آسودگی‘ یہ طمانینت واطمینان اسلامی شعائر پر عمل پیراہونے کے باعث ہوتی ہے‘ وہ اپنے گھر تک محدود ہوکر اللہ اور اس کے رسول ا کے بتائے ہوئے طریقوں پر عمل پیرا ہوکر خود کو اپنے گھر تک محفوظ ومامون رکھ کر اپنے گھر‘ اپنے بچوں کی تہذیب وتربیت کرکے جس آرام وسکون کو حاصل کرلیتی ہے‘ وہ کبھی بھی کسی بھی طرح ایک بے پردہ‘ بے حجاب خاتون جو دربدر پھرتی ہے‘ حاصل نہیں کرسکتی۔ پردے کے اسلامی احکام کا مقصد ومطلب ہی یہ ہے کہ وہ اپنے ماننے والوں کو بے راہ وروی‘ فحاشی‘ بے حیائی اور شہوانی فتنہ انگیزی سے بچائے اور وہ خفیہ شہوانی جذبات نہ بھڑ کنے پائیں جو عورت کے بے پردہ ہونے سے بھڑک سکتے ہیں۔اگر اللہ تعالیٰ توفیق دے توہرمرد اور عورت کو سورت نورکاترجمہ اور تفسیر  سیکھنا چاہئے

Comments

Popular posts from this blog

Yusufzai (Pashtun tribe)

The  Yūsufzai  (also  Youssofzay ,  Yousefzai ,  Yousafzai ,  Esapzey ,  Yousufi , or  Yūsufi ) (Pashto:  يوسفزی ,Persian and Urdu:  یوسف زئی ) is one of the largest Pashtun (Afghans) tribes. The majority of the Yusufzai tribe reside in parts of Western Afghanistan, Khyber Pakhtunkhwa and Provincially Administered Tribal Areas near the Afghan-Pakistan border. They are the predominant population in the districts of Konar, Ningarhar, Mardan District, Dir, Swat,Malakand, Swabi, Buner, Shangla, Haripur District [Khalabat Town Ship and Tarbela] and in Mansehra and Battagram. There is also a Yusufzai clan of Dehwar tribe in the Mastung district of Balochistan who speak Persian with some mixture of Birahvi words. The descendants of Yusuf inhabit Konar, Jalalabad, Swat, Upper Dir, Lower Dir, Malakand Swabi and Mardan...

Masail -e- Ghusl By Shaykh Mufti Abdur Rauf Sakharvi

Read Online (2.1 M) By Shaykh Mufti Abdur Rauf Sakharvi

جمع عثمانی رِوایات کے آئینے میں

نبی مکرمﷺ کی حدیث مبارکہ ’’خَیْرُ النَّاسِ قَرْنِيْ ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَھُمْ ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَھُمْ‘‘۔(صحیح البخاري: ۲۶۵۲) پر جب نظر پڑتی ہے تو سر احسان و نیازمندی کے ملے جلے تاثر ات سے جھک جاتا ہے کہ واقعتا آپﷺ، صحابہ رضی اللہ عنہم اور تابعین رحمہم اللہ کا زمانہ خیر القرون تھا، کیونکہ اس میں بنی نوع اِنسان کی راہ روی اور اسلام کی سربلندی کے لیے وہ محنتیں اور کوششیں ہوئی ہیں کہ جس کی مثال آئندہ جمیع قرون میں پیش کرنا مشکل ہے۔ یقینا وہ لوگ اس قابل تھے کہ اُنہیں یہ ذمہ داری سونپی جاتی کہ وہ دینِ الٰہی اور شرع اللہ کو اپنی مکمل تشریحات کے ساتھ آئندہ نسلوں تک منتقل کریں، بلا شبہ وہ طائفہ فائزہ اپنے اس مقصد میں بامراد ہوا ہے۔ان جملہ ذمہ داریوں میں سے اَہم ترین ذمہ داری یہ تھی کہ ہدایت سماوی کے آخری ربانی صحیفہ کو محفوظ اور غیر متبدل شکل میں ہم تک پہنچایا جائے۔ ہمارا یہ قطعی ایمان ہے کہ وہ پیام اَیزدی آج اپنی سو فیصد اَصلی اور حقیقی شکل میں ہمارے درمیان موجود ہے۔ الحمد ﷲ علی ذلک۔اِس سلسلہ میں خیرالقرون میں جو سب سے اَہم کام ہوا ہے وہ سیدنا عثمان ذوالنورین رضی ال...

دین اسلام میں رسول اللہ ﷺ کی اطاعت فرض ہے

بسم اللہ الرحمن الرحیم دین اسلام میں رسول اللہ ﷺ کی اطاعت فرض ہے يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ أَطِيعُوا۟ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ وَلَا تَوَلَّوْا۟ عَنْهُ وَأَنتُمْ تَسْمَعُونَ ﴿20﴾ترجمہ: اے ایمان والو الله اور اس کے رسول کا حکم مانو اور سن کر اس سے مت پھرو(سورۃ الانفال،آیت20) قُلْ أَطِيعُوا۟ ٱللَّهَ وَأَطِيعُوا۟ ٱلرَّسُولَ ۖ فَإِن تَوَلَّوْا۟ فَإِنَّمَا عَلَيْهِ مَا حُمِّلَ وَعَلَيْكُم مَّا حُمِّلْتُمْ ۖ وَإِن تُطِيعُوهُ تَهْتَدُوا۟ ۚ وَمَا عَلَى ٱلرَّسُولِ إِلَّا ٱلْبَلَٰغُ ٱلْمُبِينُ﴿56﴾ترجمہ: کہہ دو الله اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرو پھر اگر منہ پھیرو گے تو پیغمبر تو وہی ہے جس کا وہ ذمہ دار ہے اورتم پر وہ ہے جو تمہارے ذمہ لازم کیا گیا ہے اور اگر اس کی فرمانبرداری کرو گے تو ہدایت پاؤ گے اور رسول کے ذمہ صرف صاف طور پر پہنچا دینا ہے (سورۃ النور،آیت 56) مَّن يُطِعِ ٱلرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ ٱللَّهَ ۖ وَمَن تَوَلَّىٰ فَمَآ أَرْسَلْنَٰكَ عَلَيْهِمْ حَفِيظًۭا ﴿80﴾ترجمہ: جو شخص رسول کی فرمانبرداری کرے گا تو بےشک اس نے اللہ کی فرمانبرداری کی اور جو نافرمانی کرے گا تو اے ...

قراء ات متواترہ کا ثبوت اور اس کے منکر کا حکم

قرآن حکیم اللہ تبارک وتعالیٰ کا انمٹ اورلاریب کلام ہے جس کی مثل لانے سے دنیا کا ہر فرد عاجز اور درماندہ ہے۔ بڑے بڑے فصحائے عرب اور فارسانِ بلاغت اس کی نظیر اورمثل پیش نہیں کرسکے اور نہ ہی قیامِ قیامت تک پیش کر سکتے ہیں۔ علمائے اسلام اور زعمائے ملت نے اس کی تفسیر وتوضیح اور مفاہیم ومعانی کی عقدہ کشائی کے لئے انتھک محنت اور قابل رشک جدوجہد کی ہے اور اس کا حقِ خدمت ادا کرنے کے لئے صعوبتوں اورمسافتوں سے بھرپور دور دراز بلاد و ممالک کے سفر طے کیے۔ اورہر کسی نے اپنی اپنی ہمت اوربساط کے مطابق اس کی خدمت کر کے اعلیٰ وارفع مقام حاصل کیا ۔جن میں ابن جریر طبری، ابن حاتم رازی، عبد الرزاق ، نسائی اور ابن کثیررحمہم اللہ جیسے گلستان ِ حدیث کے خوشبودار پھول، ابوحیان اندلسی اور زمخشری رحمہم اللہ جیسے فارسانِ بلاغت وادب اورنکتہ سنج۔ ابو عبد اللہ قرطبی اورابوبکر ابن العربی رحمہم اللہ جیسے فقاہت کے درخشندہ ستارے۔ رازی اوربیضاوی رحمہم اللہ جیسے فلاسفہ اورمتکلمین جہاں معانی ومفا،عثمان بن سعید ابو سعید ورش القبطی، احمد بن قالون المدنی، خلف بن ہشام البغدادی، ابو معبد عبد اللہ بن ہیم رحمہم اللہ کے گلستان ...

خیرخواہی وامانت داری

خیرخواہی وامانت داری خیر خواہی دین کی بنیاد ا ور اس کا جوہر ہے۔ دین دراصل خیر خواہی کا نام ہے۔ خیرخواہی اللہ کی، اس کے کتاب کی، اس کے رسول کی، مسلم ائمہ وحکمرانوں کی اور عامۃ المسلمین کی ہوتی ہے۔ پس جب ان تمام کے حق میں بندہ خیرخواہ ہوگا تو اس کا دین کامل ہوگا اور جس میں ان میں سے کسی کی خیرخواہی میں کمی و کوتاہی ہوگی تو اسی قدر اس کے دین میں نقص وکمی ہوگی۔ مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اپنی خیرخواہی میں امانت کو ملحوظ رکھے اور بغیر کسی مداہنت ومجاملت کے حق کو بیان کرے۔ یہی شخص اللہ کے نزدیک امین ہوگا۔ إن الحمد لله، نحمده ونستعينه ونستغفره، ونعوذ بالله من شرور أنفسنا، وسيئات أعمالنا، من يهده الله فلا مضل له، ومن يضلل فلا هادى له، وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له، وأشهد أن محمداً عبده ورسوله۔ أما بعد: فإن خیر الحدیث کتاب اللہ، وخیر الھدی ھدی محمد صلی اللہ علیہ وسلم، وشر الأمور محدثاتھا، وکل محدثۃ بدعۃ، وکل بدعۃ ضلالۃ، وکل ضلالۃ  فی النار۔  وقد قال اللہ تبارک وتعالی فی کتابہ المجید: (إِنَّ اللَّـهَ يَأْمُرُكُمْ أَن تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَىٰ أَهْلِهَا وَإِذَا حَ...

Alamaat -e- Qayamat Aur Nuzool -e- Maseeh [a.s] By Shaykh Mufti Rafi Usmani

Read Online Slideshare Download [27] ENGLISH TRANSLATION

دعا مانگنے کا ضابطہ اور اس کے آداب

ارشاد ربانی ہے:”ونادٰی نوح ربہ فقال رب ان ابنی من اہلی وان وعدک الحق وانت احکم الحاکمین‘ قال یا نوح انہ لیس من اہلک‘ انہ عمل غیر صالح‘ فلاتسئلن مالیس لک بہ علم‘ انی اعظک ان تکون من الجاہلین“۔ (۱)ترجمہ:․․․”اور نوح علیہ السلام نے اپنے رب کو پکارا اور عرض کیا کہ اے میرے رب! میرا بیٹا میرے گھروالوں میں سے ہے اور آپ کا وعدہ بالکل سچا ہے‘ اور تو سب سے بڑا حاکم ہے‘ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: کہ اے نوح! یہ شخص تمہارے گھروالوں میں نہیں‘ یہ تباہ کار ہے‘ سو مجھ سے ایسی چیز کی درخواست مت کرو جس کی تم کو خبر نہیں۔ میں تم کو نصیحت کرتا ہوں کہ تم نادانوں میں داخل نہ ہوجاؤ“۔آیات مذکورہ بالا سے فقہاء نے یہ مسئلہ اخذ کیا ہے کہ دعا کے لئے ضروری ہے کہ دعا کرنے والا پہلے یہ معلوم کرے کہ جس کام کی دعا کررہا ہے وہ جائز وحلال ہے یانہیں۔ مشتبہ حالت میں دعا کرنے سے منع فرمایا گیا ہے‘ جیساکہ قاضی بیضاوی لکھتے ہیں:”فلاتسئلن مالیس لک بہ علم“ ای مالم تعلم اصواب ہو ام لیس کذلک“ (۲)ترجمہ:․․․”سو مجھ سے ایسی چیز کی درخواست مت کرو جس کی تم کو خبر نہیں یعنی جس کے بارے میں تجھے یہ علم نہ ہو کہ یہ حق وجائز ہے یا نہیں...

قرآن مجید سے فائدہ اٹھانے کی پانچ شرائط

ایمان حاصل کرنے کا اصل ذریعہ قرآنِ کریم ہے لیکن اس مقصد کے لئے قرآن کی تلاوت کے کچھ آداب و شرائط ہیں۔ اگر ان کا خیال رکھا جائے تو تبھی قرآن سے مذکورہ فائدہ حاصل ہوتا ہے۔ لہٰذا ان آداب و شرائط کا پورا پورا اہتمام کرنا چاہئے۔ ۱ نیت کی پاکیزگی: سب سے پہلی چیز نیت کی پاکیزگی ہے۔ یعنی آدمی قرآن مجید کو صرف ہدایت حاصل کرنے کے لئے پڑھے، کوئی ذاتی غرض سامنے رکھ کر نہ پڑھے، اگر طلبِ ہدایت کے سوا آدمی کے سامنے کوئی اور غرض ہوگی تو نہ صرف یہ کہ وہ قرآن مجید کے فیض سے محروم رہے گا بلکہ اس بات کا اندیشہ بھی ہے کہ قرآن مجید سے جتنا دور وہ اب تک رہا ہے، اس سے بھی کچھ زیادہ دور ہٹ جائے گا۔ اگر آدمی قرآن مجید کو اس لئے پڑھے کہ لوگ اسے مفسر قرآن سمجھنے لگیں یا اس لئے پڑھے کہ اس کے کچھ اپنے نظریات ہوں اور وہ اپنے ان نظریات کو قرآن مجید کے رنگ کے ساتھ لوگوں کے سامنے پیش کرنے کا خواہش مند ہو تو ممکن ہے اس کے یہ ارادے کسی حد تک پورے ہوجائیں لیکن اس طرح وہ قرآن مجید سمجھنے کا دروازہ اپنے اوپر بالکل بند کرلے گا۔قرآن مجید کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت کا صحیفہ بنا کر اتارا ہے اور ہرآدمی...

The Qur’an & Modern Science -Compatible or Incompatible?

Read and Download