Skip to main content

اسماء قرآن اور ان کا مادہ اشتقاق

اللہ نے اپنی ارسال کردہ وحی کے لئے چند جدید نام تجویز کئےہیں۔یہ نام عربی کلام کے ناموں سے اجمال و تفصیل کے اعتبار سے مختلف ہیں ۔ان القاب واسماء میں اس بات کو ملحوظ رکھاگیا ہے کہ فلاں نام کیوں رکھا گیا اور اس کا مادہ اشتقاق کیا ہے ۔ان میں سے دو لقب مشہور ہیں ،(الکتاب ،۲،القرآن)۔

۱۔الکتاب:

الکتاب کے نام سے اس جانب اشارہ کرنا مقصود ہے کہ اس کو سطور میں جمع کیا گیا ہے۔کتابت حروف کے جمع کرنے اور الفاظ کے لکھنے کو کہتے ہیں ۔القرآن کہہ کر اس کے سینہ میں محفوظ ہونے کی طرف اشارہ کیا گیا ۔،القرآن اسی طرح مصدر ہے جیسے القراءۃ قراءت سے ایک چیز یاد اور محفوظ ہوجاتی ہے ۔القرآن واضح اور روشن عربی زبان میں اترا ہے اس کی حفاظت و صیانت کا اس قدر اہتمام کیا گیا کہ یہ ہمیشہ کے لئے محفوظ ہو گیا ۔جو لوگ اس بازیچہ طفلاں بنانے کے درپے تھے اوراس میں تحریف کرنے کے خواہاں تھے وہ مایوس ہو کر رہ گئے۔اس کی وجہ یہ کہ قرآن کو نہ تو باقی کتابوں کی طرح صرف لکھ کر محفوظ کیا گیا ،اور نہ صرف حفظ کے ذریعہ اس کی حفاظت کا اہتمام ہوا ،بلکہ کتابت کے ساتھ ساتھ تواتر اسناد بھی اس کے حصہ میں آئیں ۔مزید براں اسناد متواتر کے پہلو بہ پہلو اس کی نقل وروایت میں انتہائی امانت و دیانت کو ملحوظ رکھا گیا۔

۲۔القرآن:

قرآن کریم کے یہ دونوں نام الکتاب ،القرآن ،آرامی الاصل ہیں ۔کتابت کے معنی آرامی زبان میں حروف کا لکھنا اور نقش کرنا ہے ۔قرأت آرامی زبان میں تلاوت کو کہتے ہیں ۔اس سے واضح ہوتا ہے کہ قرآن کریم کے لئے یہ دونوں نام کس لئے تجویز کئے گئے۔وحی محمدی کو جملہ مراحل وادوار میں یہ امتیاز ہمیشہ حاصل رہا کہ اس کے نصوص وتعلیم کو سینوں اورسفینوں میں جگہ دی گئی۔

مگر ان دونوں ناموں میں سے القرآن کو زیادہ شہرت حاصل ہوئی ۔اس کی حّد یہ ہے کہ کتاب ربانی کے لئے قرآن کے لفظ نے ایک شخصی حیثیت حاصل کر لی ۔لہٰذا نہایت موزوں ہے کہ وحی اور قرآن سے متعلق مباحث کو چھیڑنے سے پہلے ہم یہ دیکھیں کہ قرآن کا لفظ کس سے مشتق ہے ،کیونکہ لغات سامیہ میں چند اور الفاظ بھی اس سے ملتے جلتے ہیں نیز یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ قرآن کے دیگر اہم اسماء کیا ہیں اور ان کا لغوی مفہوم و مدلول کیا ہے ۔خواہ السنہ سامیہ اور عربی زبان میں ان سے ملتے جلتے الفاظ ہوں یا نہ ہوں۔

علماء نے لفظ قرآن کے بارےمیں مختلف افکارو آراء کا اظہار کیا ہے ۔چنانچہ بعض اس کو مہموز اور بعض غیر مہموز کہتے ہیں ۔امام شافعی الفرّاء(الفرّاء کوفہ کے مشہور نحوی اور ائمہ لغت میں سے تھے ،حوالہ ،طبقات الزبیدی،ص۱۴۳)کے نزدیک یہ غیر مہموز ہے ۔اس ضمن اختلافا ت کا خلاصہ حسب ذیل ہے ۔

۱۔امام شافعی کہتے ہیں کہ القرآن کا لفظ جس پر تعریف کا الف اور لام داخل کیا گیا ہے نہ مشتق ہے نہ مہموز ہے ۔بلکہ یہ ایک غیر مشتق لفظ ہے اور اس کو اس کلام کے نام کی حیثیت سے استعمال کیا جاتا ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر نازل ہوا ۔امام شافعی کے نزدیک یہ لفظ قراءت سے ماخوذ نہیں ۔اور اگر قرآن کا مادہ اشتقاق قراءت کا لفظ ہوتا تو پھر پڑہی جانے والی کتاب کو ''قرآن'' کہا جاتا۔(حالانکہ یہ درست نہیں )امام شافی کے نزدیک قرآن کتاب الہی کا اسی طرح نام ہے جیسے تورات اور انجیل دونوں نام ہیں۔(تاریخ بغداداز خطیب ج،۲،ص ۶ ۲)

۲۔الفرّاء کا قول ہےکہ قرآن قرائن سے مشتق ہے ،قرائن کا واحد قرینہ (نشان،علامت)ہے ۔چونکہ آیات قرآنی باہم ملتی جلتی ہیں اس لئے وہ ایک دوسرے کے لئے قرینہ کی حیثیت رکھتی ہیں ۔ظاہر ہے کہ قرآئن میں نون اصلی ہے (اس لئے قرآن ،قراءت سے مشتق نہیں ہوسکتا )۔ (الاتقان سیوطی،ج۱،ص۸۷(

۳۔امام اشعری اور ان کے متبعین کا قول ہے کہ قرآن کا لفظ ''قرن الشیءباشیء''(ایک چیز کو دوسری کے ساتھ ملا دینا)سے نکلا ہے ۔کیونکہ کہ قرآن کی آیتیں اور سورتیں باہم ملی جلی ہیں ۔(البرہان،ج۱۔ص۲۷۸)

مذکورہ صدر تینوں آراء میں القرآن کو غیر مہموز قرار دینا ہی اس بات کی دلیل ہے کہ یہ نظریہ قواعد اشتقاق کے اعتبار سے بعید از قیاس ہے ۔جو لوگ قرآن کے لفظ کو مہموز قرار دیتے ہیں ان میں زجّاج،لحیانی اور علماء کی ایک جماعت شامل ہے۔

۱۔ زجّاج کا قول ہے کہ القرآن بروزن فعلان مہموز ہے۔اس کا مادہ القراء (جمع کرنا) ہے عربی میں بولتے ہیں ۔قرء الماء فی الحوض(حوض میں پانی جمع کیا)۔قرآن کو یہ نام اس لئے دیا گیا ہے کہ اس میں سابقہ کتب کے ثمرات کو جمع کر دیا گیا ہے۔(البرھان،ج۱ص۲۷۸)

۲۔علامہ اللحیانی کا قول ہے کہ قرآن بروزن غفران مصدر مہموز ہے ۔اس کا مادہ قرء (پڑھا ) ہے۔قرآ کو یہ نام اس لئے دیا گیا ہے کہ یہ پڑھا جاتا ہے ۔گویا مصدر بمعنی اسم مفعول ہے۔(الاتقان ج،۱ص۸۷)
یہ آخری رائے زیادہ دقیق اور اجح ہے ۔تو گویا قرآن اسی طرح مصدر ہے جیسے قرأت۔دونوں کے معنی و مفہوم میں کوئی فرق نہیںپایا جاتا۔اللہ فرماتا ہے:

''ان علینا جمعہ قرانہ فاذا قرأناہ فاتبع قرأنہ''

''اس کا جمع کرنا اور پرھانا ہمارے ذمہ ہے ۔جب ہم آپ کو پڑھا چکیں تو اس کے بعد آپ پڑھیں ۔''

دور جاہلیت میں جب عرب قرأت کے لفظ سے آشنا ہوئے تو انہوں نے اس کو تلاوت کے علاوہ دوسرے معانی میں استعمال کرنا شروع کردیا ۔

بقول جی برگسٹراسر:آرمی حبشی اور فارسی زبانوں نے عربی زبان پر بڑے انمٹ نقوش ثبت کئے تھے۔ج اس کی وجہ یہ تھی کہ یہ ان اقوام کی زبانیں تھی جو بڑی متمدن تھی اور ہجرت سے قبل عرب کے قرب جوار میں آباد تھیں۔

جب ہم اس حقیقت سے آگاہ ہیں کہ آرامی طرز تلفظ بلاد فلسطین وشام دجلہ و فرات کے درمیانی علاقہ اور عراق کے بعض حصہ پر غالب تھا تو اس پر حیرت کر نے اور اس کو تسلیم نہ کرنے کی کوئی وجہ نہیں ۔ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ یہود کی مذہبی زبان آرامی تھی اور وہ عربوں کے پڑوس میں آباد تھے۔۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بہت سے آرامی زبان کے مذہبی الفاظ عربوں میں پھیل گئے۔ مشہور مستشرق کرنکو نے لفظ کتاب پر بحث کرتے ہوئے انسائیکلوپیڈیا آف اسلام میں اس طرف ازشارہ کیا ہے ۔اسی طرح مستشرق بلا شیر نے آرامی سریانی اور عربی زبانوں کے بہت سے مذہبی الفاظ کا ذکر کیا ہے جن کو عرب یہودیوںاور دیگر اہل مذاہب کی دیکھا دیکھی استعمال کرنے لگے تھے۔

مندرجہ ذیل الفاظ بھی ان میں شامل ہیں۔

قرء،کتب،تفسیر،تلمیذ،فرقان،قیوم،زندیق۔

خلاصہ کلا یہ کہ فقط قرء اپنی اصل کے اعتبار سے آرامی تھا ۔عربوں نے ظہور اسلام سے قبل اس کو تلاوت کے معنی میں استعمال کر نا شروع کردیا تھا۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ عربوں نے اس کو معرب بنا لیا تھااور اس لئے کتاب ربانی کو قرآن سے موسوم کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

۳۔فرقان:

قرآن کریم کے ناموں میں سے فرقان بھی ہے قرآن کریم میں ارشاد ہوتا ہے :

''وہ ذات با برکت ہے جس نے اپنے بندے پر فرقان نازل کیا ،تاکہ وہ سب جہانوں کے لئے ڈرانے والا ہو۔(سورۃ الفرقان،آیت۱)

فرقان کا لفظ آرامی الاصل ہے ۔اس کے مادہ میں تفرقہ کا مفہوم پایا جاتا ہے ۔فرقان کے نام سے اس جانب اشارہ کیا کہ یہ کتاب حق وباطل کے مابین حد فاصل ہے اور دونوں کو ایک دوسرے سے الگ کر دیتی ہے ۔

۴۔الذکر:

قرآن کریم کا ایک نام الذکر بھی ہے۔قرآن میں فرمایا:

''اور یہ مبارک ذکر ہے جس کو ہم نے نازل کیا ۔''(سورۃ الانبیاء،آیت ۵۰)

ذکر خالص عربی لفظ ہے اس کے معنی عظمت و شرافت کے ہیں قرآن میں فرمایا:

''ہم نے تمہاری طرف ایک کتاب نازل کی جو تمہارے لئے باعث عظمت و شرف ہے۔''(سورۃ الانبیاء،آیت ۱۰)

۵۔المجید:

قرآن کا ایک نام مجید بھی ہے ۔قرآن میں فرمایا:

''بلکہ وہ قرآن مجید ہے۔''(سورۃ البروج،آیت۲۱)

۶۔العزیز:

قرآن کریم کو عزیز بھی کہتے ہیں۔ قرآن میں فرمایا:

''یہ کتاب عزیز ہے''۔(سورۃ فصلت ،آیت ۴۱)

۷۔العربی:

قرآن کریم کا نام العربی بھی ہے ۔قرآن میں ارشاد ہوتا ہے:

''عربی قرآن کریم۔''(سورۃ الزمر،آیت ۲۸)

بعض علمائے کرام نے نوے سے زائد نام ذکر کیئے ہیں۔

قرآن کریم کی تعریف:

قرآن کو کسی نام سے یاد کیا جائے اس کی جامع ومانع تعریف یہ ہے کہ ''قرآن''وہ کلام معجزہ ہے جسے حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر نازل کیا گیا۔ جیسے صحفوں میں لکھا جاتا ہے اور جو آپ سے متواتر منقول ہے اور جس کی تلاوت عبادت کا درجہ رکھتی ہے ۔

قرآن عزیز کی مذکورہ صدرتعریف علماء اصول و عربیت اور فقہاء کے مابین تسلیم شدہ ہے اور اس میں کسی کا اختلاف نہیں ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

Yusufzai (Pashtun tribe)

The  Yūsufzai  (also  Youssofzay ,  Yousefzai ,  Yousafzai ,  Esapzey ,  Yousufi , or  Yūsufi ) (Pashto:  يوسفزی ,Persian and Urdu:  یوسف زئی ) is one of the largest Pashtun (Afghans) tribes. The majority of the Yusufzai tribe reside in parts of Western Afghanistan, Khyber Pakhtunkhwa and Provincially Administered Tribal Areas near the Afghan-Pakistan border. They are the predominant population in the districts of Konar, Ningarhar, Mardan District, Dir, Swat,Malakand, Swabi, Buner, Shangla, Haripur District [Khalabat Town Ship and Tarbela] and in Mansehra and Battagram. There is also a Yusufzai clan of Dehwar tribe in the Mastung district of Balochistan who speak Persian with some mixture of Birahvi words. The descendants of Yusuf inhabit Konar, Jalalabad, Swat, Upper Dir, Lower Dir, Malakand Swabi and Mardan...

Masail -e- Ghusl By Shaykh Mufti Abdur Rauf Sakharvi

Read Online (2.1 M) By Shaykh Mufti Abdur Rauf Sakharvi

جمع عثمانی رِوایات کے آئینے میں

نبی مکرمﷺ کی حدیث مبارکہ ’’خَیْرُ النَّاسِ قَرْنِيْ ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَھُمْ ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَھُمْ‘‘۔(صحیح البخاري: ۲۶۵۲) پر جب نظر پڑتی ہے تو سر احسان و نیازمندی کے ملے جلے تاثر ات سے جھک جاتا ہے کہ واقعتا آپﷺ، صحابہ رضی اللہ عنہم اور تابعین رحمہم اللہ کا زمانہ خیر القرون تھا، کیونکہ اس میں بنی نوع اِنسان کی راہ روی اور اسلام کی سربلندی کے لیے وہ محنتیں اور کوششیں ہوئی ہیں کہ جس کی مثال آئندہ جمیع قرون میں پیش کرنا مشکل ہے۔ یقینا وہ لوگ اس قابل تھے کہ اُنہیں یہ ذمہ داری سونپی جاتی کہ وہ دینِ الٰہی اور شرع اللہ کو اپنی مکمل تشریحات کے ساتھ آئندہ نسلوں تک منتقل کریں، بلا شبہ وہ طائفہ فائزہ اپنے اس مقصد میں بامراد ہوا ہے۔ان جملہ ذمہ داریوں میں سے اَہم ترین ذمہ داری یہ تھی کہ ہدایت سماوی کے آخری ربانی صحیفہ کو محفوظ اور غیر متبدل شکل میں ہم تک پہنچایا جائے۔ ہمارا یہ قطعی ایمان ہے کہ وہ پیام اَیزدی آج اپنی سو فیصد اَصلی اور حقیقی شکل میں ہمارے درمیان موجود ہے۔ الحمد ﷲ علی ذلک۔اِس سلسلہ میں خیرالقرون میں جو سب سے اَہم کام ہوا ہے وہ سیدنا عثمان ذوالنورین رضی ال...

دعا مانگنے کا ضابطہ اور اس کے آداب

ارشاد ربانی ہے:”ونادٰی نوح ربہ فقال رب ان ابنی من اہلی وان وعدک الحق وانت احکم الحاکمین‘ قال یا نوح انہ لیس من اہلک‘ انہ عمل غیر صالح‘ فلاتسئلن مالیس لک بہ علم‘ انی اعظک ان تکون من الجاہلین“۔ (۱)ترجمہ:․․․”اور نوح علیہ السلام نے اپنے رب کو پکارا اور عرض کیا کہ اے میرے رب! میرا بیٹا میرے گھروالوں میں سے ہے اور آپ کا وعدہ بالکل سچا ہے‘ اور تو سب سے بڑا حاکم ہے‘ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: کہ اے نوح! یہ شخص تمہارے گھروالوں میں نہیں‘ یہ تباہ کار ہے‘ سو مجھ سے ایسی چیز کی درخواست مت کرو جس کی تم کو خبر نہیں۔ میں تم کو نصیحت کرتا ہوں کہ تم نادانوں میں داخل نہ ہوجاؤ“۔آیات مذکورہ بالا سے فقہاء نے یہ مسئلہ اخذ کیا ہے کہ دعا کے لئے ضروری ہے کہ دعا کرنے والا پہلے یہ معلوم کرے کہ جس کام کی دعا کررہا ہے وہ جائز وحلال ہے یانہیں۔ مشتبہ حالت میں دعا کرنے سے منع فرمایا گیا ہے‘ جیساکہ قاضی بیضاوی لکھتے ہیں:”فلاتسئلن مالیس لک بہ علم“ ای مالم تعلم اصواب ہو ام لیس کذلک“ (۲)ترجمہ:․․․”سو مجھ سے ایسی چیز کی درخواست مت کرو جس کی تم کو خبر نہیں یعنی جس کے بارے میں تجھے یہ علم نہ ہو کہ یہ حق وجائز ہے یا نہیں...

قرآن مجید سے فائدہ اٹھانے کی پانچ شرائط

ایمان حاصل کرنے کا اصل ذریعہ قرآنِ کریم ہے لیکن اس مقصد کے لئے قرآن کی تلاوت کے کچھ آداب و شرائط ہیں۔ اگر ان کا خیال رکھا جائے تو تبھی قرآن سے مذکورہ فائدہ حاصل ہوتا ہے۔ لہٰذا ان آداب و شرائط کا پورا پورا اہتمام کرنا چاہئے۔ ۱ نیت کی پاکیزگی: سب سے پہلی چیز نیت کی پاکیزگی ہے۔ یعنی آدمی قرآن مجید کو صرف ہدایت حاصل کرنے کے لئے پڑھے، کوئی ذاتی غرض سامنے رکھ کر نہ پڑھے، اگر طلبِ ہدایت کے سوا آدمی کے سامنے کوئی اور غرض ہوگی تو نہ صرف یہ کہ وہ قرآن مجید کے فیض سے محروم رہے گا بلکہ اس بات کا اندیشہ بھی ہے کہ قرآن مجید سے جتنا دور وہ اب تک رہا ہے، اس سے بھی کچھ زیادہ دور ہٹ جائے گا۔ اگر آدمی قرآن مجید کو اس لئے پڑھے کہ لوگ اسے مفسر قرآن سمجھنے لگیں یا اس لئے پڑھے کہ اس کے کچھ اپنے نظریات ہوں اور وہ اپنے ان نظریات کو قرآن مجید کے رنگ کے ساتھ لوگوں کے سامنے پیش کرنے کا خواہش مند ہو تو ممکن ہے اس کے یہ ارادے کسی حد تک پورے ہوجائیں لیکن اس طرح وہ قرآن مجید سمجھنے کا دروازہ اپنے اوپر بالکل بند کرلے گا۔قرآن مجید کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت کا صحیفہ بنا کر اتارا ہے اور ہرآدمی...

دین اسلام میں رسول اللہ ﷺ کی اطاعت فرض ہے

بسم اللہ الرحمن الرحیم دین اسلام میں رسول اللہ ﷺ کی اطاعت فرض ہے يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ أَطِيعُوا۟ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ وَلَا تَوَلَّوْا۟ عَنْهُ وَأَنتُمْ تَسْمَعُونَ ﴿20﴾ترجمہ: اے ایمان والو الله اور اس کے رسول کا حکم مانو اور سن کر اس سے مت پھرو(سورۃ الانفال،آیت20) قُلْ أَطِيعُوا۟ ٱللَّهَ وَأَطِيعُوا۟ ٱلرَّسُولَ ۖ فَإِن تَوَلَّوْا۟ فَإِنَّمَا عَلَيْهِ مَا حُمِّلَ وَعَلَيْكُم مَّا حُمِّلْتُمْ ۖ وَإِن تُطِيعُوهُ تَهْتَدُوا۟ ۚ وَمَا عَلَى ٱلرَّسُولِ إِلَّا ٱلْبَلَٰغُ ٱلْمُبِينُ﴿56﴾ترجمہ: کہہ دو الله اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرو پھر اگر منہ پھیرو گے تو پیغمبر تو وہی ہے جس کا وہ ذمہ دار ہے اورتم پر وہ ہے جو تمہارے ذمہ لازم کیا گیا ہے اور اگر اس کی فرمانبرداری کرو گے تو ہدایت پاؤ گے اور رسول کے ذمہ صرف صاف طور پر پہنچا دینا ہے (سورۃ النور،آیت 56) مَّن يُطِعِ ٱلرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ ٱللَّهَ ۖ وَمَن تَوَلَّىٰ فَمَآ أَرْسَلْنَٰكَ عَلَيْهِمْ حَفِيظًۭا ﴿80﴾ترجمہ: جو شخص رسول کی فرمانبرداری کرے گا تو بےشک اس نے اللہ کی فرمانبرداری کی اور جو نافرمانی کرے گا تو اے ...

اللہ تعالیٰ نے بڑا عمدہ کلام نازل فرمایا ہے !!!

قرآن مجید !!! قرآن مجید کیا ہے ؟ الحمد للہ: قرآن مجید کلام اللہ ہے جسے اللہ تعالی نے اپنے نبی محمدصلی اللہ علیہ وسلم پرنازل فرمایا تاکہ وہ لوگوں کو گمراہی سے نوروھدایت کی طرف نکالے- جیسا کہ اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے : { وہ اللہ تعالی ہی ہے جو اپنے بندے پرواضح آیات اتارتا ہے تاکہ وہ تمہیں اندھیروں سے نور کی طرف لے جاۓ } الحدید ( 9 ) ۔ اللہ تبارک وتعالی نے قرآن مجید میں پہلے اور آخری لوگوں اور زمین وآسمان کی پیدائش کی خبریں دی ، اور اس میں حلال وحرام اور آداب واخلاق کے اصول ، اور عبادات و معاملات کے احکام ، انبیاء وصالحین کی سیرت ، کافروں اور مومنوں کی جزاوسزا ، مومنین کے گھر جنت کا وصف اور کافروں کے گھر جہنم کا تفصیلی بیان ہے اور اسے ہرچيز کے بیان کرنے والا بنایا ۔ اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے : { اور ہم نے آپ پریہ کتاب نازل فرمائ ہے جس میں ہرچیزکا کافی وشافی بیان ہے اور مسلمانوں کے لیے رحمت وخوشخبری ہے } النحل ( 89 ) ۔ قرآن مجید میں اللہ تعالی کے اسماء وصفات اور اس کی مخلوقات اور اللہ تعالی اس کےفرشتوں اورکتابوں اوررسولوں اورآخرت کے دن پرایمان کی د...

قراء ات متواترہ کا ثبوت اور اس کے منکر کا حکم

قرآن حکیم اللہ تبارک وتعالیٰ کا انمٹ اورلاریب کلام ہے جس کی مثل لانے سے دنیا کا ہر فرد عاجز اور درماندہ ہے۔ بڑے بڑے فصحائے عرب اور فارسانِ بلاغت اس کی نظیر اورمثل پیش نہیں کرسکے اور نہ ہی قیامِ قیامت تک پیش کر سکتے ہیں۔ علمائے اسلام اور زعمائے ملت نے اس کی تفسیر وتوضیح اور مفاہیم ومعانی کی عقدہ کشائی کے لئے انتھک محنت اور قابل رشک جدوجہد کی ہے اور اس کا حقِ خدمت ادا کرنے کے لئے صعوبتوں اورمسافتوں سے بھرپور دور دراز بلاد و ممالک کے سفر طے کیے۔ اورہر کسی نے اپنی اپنی ہمت اوربساط کے مطابق اس کی خدمت کر کے اعلیٰ وارفع مقام حاصل کیا ۔جن میں ابن جریر طبری، ابن حاتم رازی، عبد الرزاق ، نسائی اور ابن کثیررحمہم اللہ جیسے گلستان ِ حدیث کے خوشبودار پھول، ابوحیان اندلسی اور زمخشری رحمہم اللہ جیسے فارسانِ بلاغت وادب اورنکتہ سنج۔ ابو عبد اللہ قرطبی اورابوبکر ابن العربی رحمہم اللہ جیسے فقاہت کے درخشندہ ستارے۔ رازی اوربیضاوی رحمہم اللہ جیسے فلاسفہ اورمتکلمین جہاں معانی ومفا،عثمان بن سعید ابو سعید ورش القبطی، احمد بن قالون المدنی، خلف بن ہشام البغدادی، ابو معبد عبد اللہ بن ہیم رحمہم اللہ کے گلستان ...

ABRAHAM LINCOLN BY ASLAM KHOKHAR

Title : Abraham Lincoln  Author/Translator : Aslam Khokhar Format : PDF More : Abraham Lincoln Urdu Book Free Download Download Abraham Lincoln Pdf Urdu Book Download Urdu History Of Abraham Lincoln Pdf Book Free Download Link

خیرخواہی وامانت داری

خیرخواہی وامانت داری خیر خواہی دین کی بنیاد ا ور اس کا جوہر ہے۔ دین دراصل خیر خواہی کا نام ہے۔ خیرخواہی اللہ کی، اس کے کتاب کی، اس کے رسول کی، مسلم ائمہ وحکمرانوں کی اور عامۃ المسلمین کی ہوتی ہے۔ پس جب ان تمام کے حق میں بندہ خیرخواہ ہوگا تو اس کا دین کامل ہوگا اور جس میں ان میں سے کسی کی خیرخواہی میں کمی و کوتاہی ہوگی تو اسی قدر اس کے دین میں نقص وکمی ہوگی۔ مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اپنی خیرخواہی میں امانت کو ملحوظ رکھے اور بغیر کسی مداہنت ومجاملت کے حق کو بیان کرے۔ یہی شخص اللہ کے نزدیک امین ہوگا۔ إن الحمد لله، نحمده ونستعينه ونستغفره، ونعوذ بالله من شرور أنفسنا، وسيئات أعمالنا، من يهده الله فلا مضل له، ومن يضلل فلا هادى له، وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له، وأشهد أن محمداً عبده ورسوله۔ أما بعد: فإن خیر الحدیث کتاب اللہ، وخیر الھدی ھدی محمد صلی اللہ علیہ وسلم، وشر الأمور محدثاتھا، وکل محدثۃ بدعۃ، وکل بدعۃ ضلالۃ، وکل ضلالۃ  فی النار۔  وقد قال اللہ تبارک وتعالی فی کتابہ المجید: (إِنَّ اللَّـهَ يَأْمُرُكُمْ أَن تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَىٰ أَهْلِهَا وَإِذَا حَ...