Skip to main content

اسماء قرآن اور ان کا مادہ اشتقاق

اللہ نے اپنی ارسال کردہ وحی کے لئے چند جدید نام تجویز کئےہیں۔یہ نام عربی کلام کے ناموں سے اجمال و تفصیل کے اعتبار سے مختلف ہیں ۔ان القاب واسماء میں اس بات کو ملحوظ رکھاگیا ہے کہ فلاں نام کیوں رکھا گیا اور اس کا مادہ اشتقاق کیا ہے ۔ان میں سے دو لقب مشہور ہیں ،(الکتاب ،۲،القرآن)۔

۱۔الکتاب:

الکتاب کے نام سے اس جانب اشارہ کرنا مقصود ہے کہ اس کو سطور میں جمع کیا گیا ہے۔کتابت حروف کے جمع کرنے اور الفاظ کے لکھنے کو کہتے ہیں ۔القرآن کہہ کر اس کے سینہ میں محفوظ ہونے کی طرف اشارہ کیا گیا ۔،القرآن اسی طرح مصدر ہے جیسے القراءۃ قراءت سے ایک چیز یاد اور محفوظ ہوجاتی ہے ۔القرآن واضح اور روشن عربی زبان میں اترا ہے اس کی حفاظت و صیانت کا اس قدر اہتمام کیا گیا کہ یہ ہمیشہ کے لئے محفوظ ہو گیا ۔جو لوگ اس بازیچہ طفلاں بنانے کے درپے تھے اوراس میں تحریف کرنے کے خواہاں تھے وہ مایوس ہو کر رہ گئے۔اس کی وجہ یہ کہ قرآن کو نہ تو باقی کتابوں کی طرح صرف لکھ کر محفوظ کیا گیا ،اور نہ صرف حفظ کے ذریعہ اس کی حفاظت کا اہتمام ہوا ،بلکہ کتابت کے ساتھ ساتھ تواتر اسناد بھی اس کے حصہ میں آئیں ۔مزید براں اسناد متواتر کے پہلو بہ پہلو اس کی نقل وروایت میں انتہائی امانت و دیانت کو ملحوظ رکھا گیا۔

۲۔القرآن:

قرآن کریم کے یہ دونوں نام الکتاب ،القرآن ،آرامی الاصل ہیں ۔کتابت کے معنی آرامی زبان میں حروف کا لکھنا اور نقش کرنا ہے ۔قرأت آرامی زبان میں تلاوت کو کہتے ہیں ۔اس سے واضح ہوتا ہے کہ قرآن کریم کے لئے یہ دونوں نام کس لئے تجویز کئے گئے۔وحی محمدی کو جملہ مراحل وادوار میں یہ امتیاز ہمیشہ حاصل رہا کہ اس کے نصوص وتعلیم کو سینوں اورسفینوں میں جگہ دی گئی۔

مگر ان دونوں ناموں میں سے القرآن کو زیادہ شہرت حاصل ہوئی ۔اس کی حّد یہ ہے کہ کتاب ربانی کے لئے قرآن کے لفظ نے ایک شخصی حیثیت حاصل کر لی ۔لہٰذا نہایت موزوں ہے کہ وحی اور قرآن سے متعلق مباحث کو چھیڑنے سے پہلے ہم یہ دیکھیں کہ قرآن کا لفظ کس سے مشتق ہے ،کیونکہ لغات سامیہ میں چند اور الفاظ بھی اس سے ملتے جلتے ہیں نیز یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ قرآن کے دیگر اہم اسماء کیا ہیں اور ان کا لغوی مفہوم و مدلول کیا ہے ۔خواہ السنہ سامیہ اور عربی زبان میں ان سے ملتے جلتے الفاظ ہوں یا نہ ہوں۔

علماء نے لفظ قرآن کے بارےمیں مختلف افکارو آراء کا اظہار کیا ہے ۔چنانچہ بعض اس کو مہموز اور بعض غیر مہموز کہتے ہیں ۔امام شافعی الفرّاء(الفرّاء کوفہ کے مشہور نحوی اور ائمہ لغت میں سے تھے ،حوالہ ،طبقات الزبیدی،ص۱۴۳)کے نزدیک یہ غیر مہموز ہے ۔اس ضمن اختلافا ت کا خلاصہ حسب ذیل ہے ۔

۱۔امام شافعی کہتے ہیں کہ القرآن کا لفظ جس پر تعریف کا الف اور لام داخل کیا گیا ہے نہ مشتق ہے نہ مہموز ہے ۔بلکہ یہ ایک غیر مشتق لفظ ہے اور اس کو اس کلام کے نام کی حیثیت سے استعمال کیا جاتا ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر نازل ہوا ۔امام شافعی کے نزدیک یہ لفظ قراءت سے ماخوذ نہیں ۔اور اگر قرآن کا مادہ اشتقاق قراءت کا لفظ ہوتا تو پھر پڑہی جانے والی کتاب کو ''قرآن'' کہا جاتا۔(حالانکہ یہ درست نہیں )امام شافی کے نزدیک قرآن کتاب الہی کا اسی طرح نام ہے جیسے تورات اور انجیل دونوں نام ہیں۔(تاریخ بغداداز خطیب ج،۲،ص ۶ ۲)

۲۔الفرّاء کا قول ہےکہ قرآن قرائن سے مشتق ہے ،قرائن کا واحد قرینہ (نشان،علامت)ہے ۔چونکہ آیات قرآنی باہم ملتی جلتی ہیں اس لئے وہ ایک دوسرے کے لئے قرینہ کی حیثیت رکھتی ہیں ۔ظاہر ہے کہ قرآئن میں نون اصلی ہے (اس لئے قرآن ،قراءت سے مشتق نہیں ہوسکتا )۔ (الاتقان سیوطی،ج۱،ص۸۷(

۳۔امام اشعری اور ان کے متبعین کا قول ہے کہ قرآن کا لفظ ''قرن الشیءباشیء''(ایک چیز کو دوسری کے ساتھ ملا دینا)سے نکلا ہے ۔کیونکہ کہ قرآن کی آیتیں اور سورتیں باہم ملی جلی ہیں ۔(البرہان،ج۱۔ص۲۷۸)

مذکورہ صدر تینوں آراء میں القرآن کو غیر مہموز قرار دینا ہی اس بات کی دلیل ہے کہ یہ نظریہ قواعد اشتقاق کے اعتبار سے بعید از قیاس ہے ۔جو لوگ قرآن کے لفظ کو مہموز قرار دیتے ہیں ان میں زجّاج،لحیانی اور علماء کی ایک جماعت شامل ہے۔

۱۔ زجّاج کا قول ہے کہ القرآن بروزن فعلان مہموز ہے۔اس کا مادہ القراء (جمع کرنا) ہے عربی میں بولتے ہیں ۔قرء الماء فی الحوض(حوض میں پانی جمع کیا)۔قرآن کو یہ نام اس لئے دیا گیا ہے کہ اس میں سابقہ کتب کے ثمرات کو جمع کر دیا گیا ہے۔(البرھان،ج۱ص۲۷۸)

۲۔علامہ اللحیانی کا قول ہے کہ قرآن بروزن غفران مصدر مہموز ہے ۔اس کا مادہ قرء (پڑھا ) ہے۔قرآ کو یہ نام اس لئے دیا گیا ہے کہ یہ پڑھا جاتا ہے ۔گویا مصدر بمعنی اسم مفعول ہے۔(الاتقان ج،۱ص۸۷)
یہ آخری رائے زیادہ دقیق اور اجح ہے ۔تو گویا قرآن اسی طرح مصدر ہے جیسے قرأت۔دونوں کے معنی و مفہوم میں کوئی فرق نہیںپایا جاتا۔اللہ فرماتا ہے:

''ان علینا جمعہ قرانہ فاذا قرأناہ فاتبع قرأنہ''

''اس کا جمع کرنا اور پرھانا ہمارے ذمہ ہے ۔جب ہم آپ کو پڑھا چکیں تو اس کے بعد آپ پڑھیں ۔''

دور جاہلیت میں جب عرب قرأت کے لفظ سے آشنا ہوئے تو انہوں نے اس کو تلاوت کے علاوہ دوسرے معانی میں استعمال کرنا شروع کردیا ۔

بقول جی برگسٹراسر:آرمی حبشی اور فارسی زبانوں نے عربی زبان پر بڑے انمٹ نقوش ثبت کئے تھے۔ج اس کی وجہ یہ تھی کہ یہ ان اقوام کی زبانیں تھی جو بڑی متمدن تھی اور ہجرت سے قبل عرب کے قرب جوار میں آباد تھیں۔

جب ہم اس حقیقت سے آگاہ ہیں کہ آرامی طرز تلفظ بلاد فلسطین وشام دجلہ و فرات کے درمیانی علاقہ اور عراق کے بعض حصہ پر غالب تھا تو اس پر حیرت کر نے اور اس کو تسلیم نہ کرنے کی کوئی وجہ نہیں ۔ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ یہود کی مذہبی زبان آرامی تھی اور وہ عربوں کے پڑوس میں آباد تھے۔۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بہت سے آرامی زبان کے مذہبی الفاظ عربوں میں پھیل گئے۔ مشہور مستشرق کرنکو نے لفظ کتاب پر بحث کرتے ہوئے انسائیکلوپیڈیا آف اسلام میں اس طرف ازشارہ کیا ہے ۔اسی طرح مستشرق بلا شیر نے آرامی سریانی اور عربی زبانوں کے بہت سے مذہبی الفاظ کا ذکر کیا ہے جن کو عرب یہودیوںاور دیگر اہل مذاہب کی دیکھا دیکھی استعمال کرنے لگے تھے۔

مندرجہ ذیل الفاظ بھی ان میں شامل ہیں۔

قرء،کتب،تفسیر،تلمیذ،فرقان،قیوم،زندیق۔

خلاصہ کلا یہ کہ فقط قرء اپنی اصل کے اعتبار سے آرامی تھا ۔عربوں نے ظہور اسلام سے قبل اس کو تلاوت کے معنی میں استعمال کر نا شروع کردیا تھا۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ عربوں نے اس کو معرب بنا لیا تھااور اس لئے کتاب ربانی کو قرآن سے موسوم کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

۳۔فرقان:

قرآن کریم کے ناموں میں سے فرقان بھی ہے قرآن کریم میں ارشاد ہوتا ہے :

''وہ ذات با برکت ہے جس نے اپنے بندے پر فرقان نازل کیا ،تاکہ وہ سب جہانوں کے لئے ڈرانے والا ہو۔(سورۃ الفرقان،آیت۱)

فرقان کا لفظ آرامی الاصل ہے ۔اس کے مادہ میں تفرقہ کا مفہوم پایا جاتا ہے ۔فرقان کے نام سے اس جانب اشارہ کیا کہ یہ کتاب حق وباطل کے مابین حد فاصل ہے اور دونوں کو ایک دوسرے سے الگ کر دیتی ہے ۔

۴۔الذکر:

قرآن کریم کا ایک نام الذکر بھی ہے۔قرآن میں فرمایا:

''اور یہ مبارک ذکر ہے جس کو ہم نے نازل کیا ۔''(سورۃ الانبیاء،آیت ۵۰)

ذکر خالص عربی لفظ ہے اس کے معنی عظمت و شرافت کے ہیں قرآن میں فرمایا:

''ہم نے تمہاری طرف ایک کتاب نازل کی جو تمہارے لئے باعث عظمت و شرف ہے۔''(سورۃ الانبیاء،آیت ۱۰)

۵۔المجید:

قرآن کا ایک نام مجید بھی ہے ۔قرآن میں فرمایا:

''بلکہ وہ قرآن مجید ہے۔''(سورۃ البروج،آیت۲۱)

۶۔العزیز:

قرآن کریم کو عزیز بھی کہتے ہیں۔ قرآن میں فرمایا:

''یہ کتاب عزیز ہے''۔(سورۃ فصلت ،آیت ۴۱)

۷۔العربی:

قرآن کریم کا نام العربی بھی ہے ۔قرآن میں ارشاد ہوتا ہے:

''عربی قرآن کریم۔''(سورۃ الزمر،آیت ۲۸)

بعض علمائے کرام نے نوے سے زائد نام ذکر کیئے ہیں۔

قرآن کریم کی تعریف:

قرآن کو کسی نام سے یاد کیا جائے اس کی جامع ومانع تعریف یہ ہے کہ ''قرآن''وہ کلام معجزہ ہے جسے حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر نازل کیا گیا۔ جیسے صحفوں میں لکھا جاتا ہے اور جو آپ سے متواتر منقول ہے اور جس کی تلاوت عبادت کا درجہ رکھتی ہے ۔

قرآن عزیز کی مذکورہ صدرتعریف علماء اصول و عربیت اور فقہاء کے مابین تسلیم شدہ ہے اور اس میں کسی کا اختلاف نہیں ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

Yusufzai (Pashtun tribe)

The  Yūsufzai  (also  Youssofzay ,  Yousefzai ,  Yousafzai ,  Esapzey ,  Yousufi , or  Yūsufi ) (Pashto:  يوسفزی ,Persian and Urdu:  یوسف زئی ) is one of the largest Pashtun (Afghans) tribes. The majority of the Yusufzai tribe reside in parts of Western Afghanistan, Khyber Pakhtunkhwa and Provincially Administered Tribal Areas near the Afghan-Pakistan border. They are the predominant population in the districts of Konar, Ningarhar, Mardan District, Dir, Swat,Malakand, Swabi, Buner, Shangla, Haripur District [Khalabat Town Ship and Tarbela] and in Mansehra and Battagram. There is also a Yusufzai clan of Dehwar tribe in the Mastung district of Balochistan who speak Persian with some mixture of Birahvi words. The descendants of Yusuf inhabit Konar, Jalalabad, Swat, Upper Dir, Lower Dir, Malakand Swabi and Mardan...

یہودی پروٹوکولز

Online Read یہودی پروٹوکولز ============================================== Online Read E Book یہودی پروٹوکولز ============================================== Download Free یہودی پروٹوکولز ---------------------------------------------------- Download Free یہودی پروٹوکولز ----------------------------------------------------

دین اسلام میں رسول اللہ ﷺ کی اطاعت فرض ہے

بسم اللہ الرحمن الرحیم دین اسلام میں رسول اللہ ﷺ کی اطاعت فرض ہے يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ أَطِيعُوا۟ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ وَلَا تَوَلَّوْا۟ عَنْهُ وَأَنتُمْ تَسْمَعُونَ ﴿20﴾ترجمہ: اے ایمان والو الله اور اس کے رسول کا حکم مانو اور سن کر اس سے مت پھرو(سورۃ الانفال،آیت20) قُلْ أَطِيعُوا۟ ٱللَّهَ وَأَطِيعُوا۟ ٱلرَّسُولَ ۖ فَإِن تَوَلَّوْا۟ فَإِنَّمَا عَلَيْهِ مَا حُمِّلَ وَعَلَيْكُم مَّا حُمِّلْتُمْ ۖ وَإِن تُطِيعُوهُ تَهْتَدُوا۟ ۚ وَمَا عَلَى ٱلرَّسُولِ إِلَّا ٱلْبَلَٰغُ ٱلْمُبِينُ﴿56﴾ترجمہ: کہہ دو الله اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرو پھر اگر منہ پھیرو گے تو پیغمبر تو وہی ہے جس کا وہ ذمہ دار ہے اورتم پر وہ ہے جو تمہارے ذمہ لازم کیا گیا ہے اور اگر اس کی فرمانبرداری کرو گے تو ہدایت پاؤ گے اور رسول کے ذمہ صرف صاف طور پر پہنچا دینا ہے (سورۃ النور،آیت 56) مَّن يُطِعِ ٱلرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ ٱللَّهَ ۖ وَمَن تَوَلَّىٰ فَمَآ أَرْسَلْنَٰكَ عَلَيْهِمْ حَفِيظًۭا ﴿80﴾ترجمہ: جو شخص رسول کی فرمانبرداری کرے گا تو بےشک اس نے اللہ کی فرمانبرداری کی اور جو نافرمانی کرے گا تو اے ...

جمع عثمانی رِوایات کے آئینے میں

نبی مکرمﷺ کی حدیث مبارکہ ’’خَیْرُ النَّاسِ قَرْنِيْ ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَھُمْ ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَھُمْ‘‘۔(صحیح البخاري: ۲۶۵۲) پر جب نظر پڑتی ہے تو سر احسان و نیازمندی کے ملے جلے تاثر ات سے جھک جاتا ہے کہ واقعتا آپﷺ، صحابہ رضی اللہ عنہم اور تابعین رحمہم اللہ کا زمانہ خیر القرون تھا، کیونکہ اس میں بنی نوع اِنسان کی راہ روی اور اسلام کی سربلندی کے لیے وہ محنتیں اور کوششیں ہوئی ہیں کہ جس کی مثال آئندہ جمیع قرون میں پیش کرنا مشکل ہے۔ یقینا وہ لوگ اس قابل تھے کہ اُنہیں یہ ذمہ داری سونپی جاتی کہ وہ دینِ الٰہی اور شرع اللہ کو اپنی مکمل تشریحات کے ساتھ آئندہ نسلوں تک منتقل کریں، بلا شبہ وہ طائفہ فائزہ اپنے اس مقصد میں بامراد ہوا ہے۔ان جملہ ذمہ داریوں میں سے اَہم ترین ذمہ داری یہ تھی کہ ہدایت سماوی کے آخری ربانی صحیفہ کو محفوظ اور غیر متبدل شکل میں ہم تک پہنچایا جائے۔ ہمارا یہ قطعی ایمان ہے کہ وہ پیام اَیزدی آج اپنی سو فیصد اَصلی اور حقیقی شکل میں ہمارے درمیان موجود ہے۔ الحمد ﷲ علی ذلک۔اِس سلسلہ میں خیرالقرون میں جو سب سے اَہم کام ہوا ہے وہ سیدنا عثمان ذوالنورین رضی ال...

قرآن حکیم کے نازل ہونے کی کیا غرض ہے

سورہ آلِ عمران هَـٰذَا بَيَانٌ لِّلنَّاسِ وَهُدًى وَمَوْعِظَةٌ لِّلْمُتَّقِينَ ﴿١٣٨﴾ یہ (قرآن) لوگوں کے لیے بیان صریح اور اہلِ تقویٰ کے لیے ہدایت اور نصیحت ہے۔ سورہ المآئدۃ يَا أَهْلَ الْكِتَابِ قَدْ جَاءَكُمْ رَسُولُنَا يُبَيِّنُ لَكُمْ كَثِيرًا مِّمَّا كُنتُمْ تُخْفُونَ مِنَ الْكِتَابِ وَيَعْفُو عَن كَثِيرٍ ۚ قَدْ جَاءَكُم مِّنَ اللَّـهِ نُورٌ وَكِتَابٌ مُّبِينٌ ﴿١٥﴾هْدِي بِهِ اللَّـهُ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَهُ سُبُلَ السَّلَامِ وَيُخْرِجُهُم مِّنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ بِإِذْنِهِ وَيَهْدِيهِمْ إِلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ ﴿١٦﴾  اے اہل کتاب! تمہارے پاس ہمارے پیغمبر (آخرالزماں) آ گئے ہیں کہ جو کچھ تم کتاب (الہٰی) میں سے چھپاتے تھے وہ اس میں سے بہت کچھ تمہیں کھول کھول کر بتا دیتے ہیں اور تمہارے بہت سے قصور معاف کر دیتے ہیں بےشک تمہارے پاس خدا کی طرف سے نور اور روشن کتاب آ چکی ہے۔جس سے خدا اپنی رضا پر چلنے والوں کو نجات کے رستے دکھاتا ہے اور اپنے حکم سے اندھیرے میں سے نکال کر روشنی کی طرف لے جاتا اور ان کو سیدھے رستہ پر چلاتا ہے۔ وَكَتَبْنَا عَلَيْه...

قراء توں کا اِختلاف اور منکرینِ حدیث

یہ ایک مسلّمہ اَمر ہے کہ قرآن مجید کی ایک سے زیادہ قراء تیں ثابت ہیں۔ لیکن اہلِ قرآن کہلانے والے منکرین حدیث ان اختلافِ قراء ات کو نہیں مانتے۔ وہ کہتے ہیں کہ قرآن کی صرف ایک ہی قراء ت ہے اور یہ کہ خود نبیﷺنے قرآن کو کتابی صورت میں مرتب اور مدوّن کیا اور اس پر اعراب و نقطے لگوائے تھے جبکہ یہ بات خلاف ِ واقعہ ہے۔جناب پرویز صاحب لکھتے ہیں:’’ہم سمجھتے ہیں کہ اس کے بعد ’اختلاف قراء ت‘ کے فتنہ کے متعلق کچھ سمجھنے کی ضرورت باقی نہیں رہتی‘‘(طلوع اسلام، ص۵۶، شمارہ جنوری ۱۹۸۲ء، لاہور)وہ مزید لکھتے ہیں :’’قرآن مجیدجس شکل میں ہمارے پاس موجود ہے اسے خود رسول اللہﷺنے اسی طرح مرتب اور مدوّن شکل میں اُمت کو دیا تھا۔‘‘(طلوع اسلام، ص۴۲، شمارہ جنوری۱۹۸۲ء، لاہور)اسی طرح ایک اور منکرِ حدیث رحمت اللہ طارق صاحب نے لکھا ہے :’’اختلاف قراء ت کا فتنہ ہی لے لیجئے جس کا مودودی صاحب جیسا شخص نہ صرف معترف اور معتقد ہے بلکہ سرگرم مبلغ اور پُرجوش ناشر ہے۔‘‘(اعجاز قرآن و اختلاف قراء ت، مرتبہ تمنا عمادی:۷۴۲) طارق صاحب نے مزید لکھا ہے :’’ لَوْ کَانَ مِنْ عِنْدِ غَیْرِ اﷲِ لَوَجَدُوْا فِیْہِ اخْتِلَافًا کَثِیْرًا ‘‘...

ان شاءاللہ لکھنے میں غلطی کرنا

بسم اللہ الرحمن الرحیم السلام علیکم ورحمتہ اللہ آ پ لوگوں نے اکثر کتابوں میں لفظ ان شاءاللہ کو اس طرح لکھا ہوا پڑھاہوگا انشاءاللہ اور جب کہ اس طرح لکھنے سے اس کا معنی بدل جاتا ہے۔ لفظ ان شاءاللہ کے اردو میں معنی بنتا ہے اگر اللہ نے چاہا اور جب کہ انشاء عربی میں کسی چیز کو بنانے کو کہتے ہیں اس طرح انشاءاللہ کے معنی بہت غلط بن جاتے ہیں ۔ہم لوگ عربی زبان سے واقفیت نہ رکھنے کی وجہ سے ایسی غلطیاں کر جاتے ہیں اللہ ہمیں معاف فرمائے آمین۔اللہ کا ارشاد ہے کہاِنَّآ اَنْشَاْنٰهُنَّ اِنْشَاۗءً 35۝ۙہم نے ان (کی بیویوں کو) خاص طور پر بنایا ہے۔الواقعہ:۳۵قَالَ اِنَّمَا يَاْتِيْكُمْ بِهِ اللّٰهُ اِنْ شَاۗءَ وَمَآ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِيْنَ 33 ؀جواب دیا کہ اسے بھی اللہ تعالٰی ہی لائے گااگر وہ چاہے اور ہاں تم اسے ہرانے والے نہیں ہو۔ھود:۳۳فَلَمَّا دَخَلُوْا عَلٰي يُوْسُفَ اٰوٰٓى اِلَيْهِ اَبَوَيْهِ وَقَالَ ادْخُلُوْا مِصْرَ اِنْ شَاۗءَ اللّٰهُ اٰمِنِيْنَ 99؀ۭپھر جب (سب کے سب) یوسف کے پاس پہنچے تو اس نے اپنے والدین کو (عزت و احترام کے ساتھ) اپنے پاس جگہ دی اور کہا، ''کہاگر اللہ نے چاہا تو...

جمع قرآن اور اس کی تدوین

جمع قرآن اور اس کی تدوین جمع قرآن سے مراد قرآن کریم کا جمع کرنا۔ خواہ حفظ سے ہو یا کتابت سے یا تلاوت کی ریکارڈنگ سے۔ اور تدوین سے مراد اس کو کتابی صورت میں ترتیب دینا ہے۔ان سب مراحل کی ایک دل چسپ معلوماتی تاریخ ہے جسے ایک طالب علم کے لئے جاننا بہت اہم ہے۔تاکہ وہ آگاہ رہے کہ یہ مقدس کتاب کس طرح کن کن ادوار سے گذر کر محفوظ ترین صورت میں ہم تک پہنچی؟مقصد جمع قرآن: جمع قرآن کا مقصد یہی تھا کہ جس طرح قرآن مجید آپ ﷺ پر اترا ہے اور جس طرح آپ نے اسے پڑھا یا سکھایا ہے اسے لکھ کر محفوظ کرلیا جائے۔ یہ اللہ کا حکم تھا تاکہ مستقبل میں ممکنہ اختلاف جو قراءت یا اس کے الفاظ ، ترتیب اور لغت میں پیدا ہوسکتا ہے وہ نہ ہوسکے۔ اللہ تعالیٰ نے خود بھی اس کی حفاظت کی ذمہ داری لی مگر اس حفاظت کا کام صحابہ رسول اور امت کے قراء وحفاظ سے بھی لیا۔جمع قرآن کی دلیل: آپ ﷺ قرآن کی تنزیل میں سخت شدت محسوس کیا کرتے۔ اور اپنے ہونٹوں کو حرکت دیا کرتے تھے۔ جیسا کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت صحیحین میں ہے۔تو اللہ تعالیٰ نے ابتداء میں ہی یہ فرمادیا : {لَا تُحَرِّكْ بِہٖ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ...

کیا میڈیا کے حوالے سے ہم یونہی سوئے رہیں گے ؟

یوسف علیہ السلام پر ایرانی ڈرامہ سیریل کیا ہم انہیں اسلام کا ترجمان بنا رہنے دیں؟ ’حزب اللہ‘ لبنان کی ایک مشہور رافضی جماعت ہے، جس کا سربراہ حسن نصر اللہ نام کی ایک شخصیت ہیں۔ لبنان میں اِس تنظیم کا ایک ٹی وی چینل ہے جو ”المنار“ کے نام سے کام کرتا ہے اور ایک عشرے سے زائد عرصہ کام کرنے کے بعد بڑا نام کما چکا ہے۔ حسن نصر اللہ فخر سے سر عام کہتے ہیں کہ وہ اور انکی یہ تنظیم ’قم کی ولایت فقیہ‘ کے تابع ہیں۔گزشتہ رمضان میں حزب اللہ کے اِس ٹی وی چینل سے ایک ڈرامہ سیریل چلائی گئی جسکا عنوان تھا: ”یوسف الصدیق“۔ یہ اِس قدر ایک دلچسپ ڈرامہ سیریل تھی کہ عالم عرب کی ایک کثیر تعداد اِس کی نئی قسط کا انتظار کر رہی ہوتی تھی، خصوصاً خواتین اور نوجوان۔ اس کا انتظار کرنے والے بالعموم وہ ’دینی ذہن‘ رکھنے والے طبقے ہوتے تھے جو میڈیا میں اسلامی پروگراموں کی کمی محسوس کرتے ہیں! اِس ڈرامہ سیریل کے ختم ہونے کے بعد میں پورے دو ماہ تک انتظار کرتا رہا کہ اِس پر اہل سنت حلقوں کی طرف سے کوئی رد آئے، تاکہ میں کچھ لکھوں تو سنی حلقوں کے اِس رد عمل ہی کے حوالے سے لکھوں، مگر میں کسی زوردار رد عمل کو دیکھنے ...

گستاخ رسول کی سزااورحکومت وقت کی ذمہ داری

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ: ”الہدیٰ انٹرنیشنل“ ایک دینی ادارہ کہلاتا ہے، کیا اس ادارے والے صحیح المسلک اور متبع سنت ہیں یا نہیں ؟یہاں تعلیم حاصل کرنے والی چند خواتین جوکہ قرآن کریم کی تجوید درست کرنے یا علم دین حاصل کرنے کی طلب میں ان مدارس میں گئیں‘ لیکن وہاں چند ایسے مسائل سامنے آئے کہ عجیب تذبذب اور پریشانی کا شکار ہوگئیں‘ آپ سے درخواست ہے کہ کافی شافی اور تفصیلی جواب عنایت فرمایئے اور امت مسلمہ کے تذبذب کو دور فرمایئے اور گمراہی سے بچایئے ۔ اسی طرح پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ایک شہر میں لڑکیوں کا ایک مدرسہ ہے‘ جس کی صدر مدرسہ یا منتظمہ ایک خاتون ہیں ‘یہ خاتون غیر شادی شدہ ہیں۔ نیز یہ جامعہ‘ صرف بنات کا ہے۔ یہاں کا سارا نظام موصوفہ یا یہیں کی تعلیم یافتہ چند خواتین سنبھالتی ہیں‘ یہ بھی غیر شادی شدہ ہیں۔ مقصد یہ ہے کہ یہاں کی انتظامیہ میں کسی مرد کاکوئی عمل دخل نہیں ہے اور جس طرح یہ تمام خواتین غیر شادی شدہ ہیں۔ اسی طرح یہاں کی تمام طالبات بھی غیر شادی شدہ ہیں۔ اگر کسی طالبہ کے بارے میں یہ علم ہوجائے کہ یہ شادی شدہ ہے تو اسے خارج کردیا جاتاہے او...