Skip to main content

قیامت کی نشانیاں



یوم آخرت پر ایمان، ایمان کےارکان میں سے ایک رکن ہے۔اور آدمی کا یوم آخرت پر ایمان اسی وقت مکمل ہوگا جب وہ قیامت کی ان نشانیوں پر ایمان رکھے جن کی خبر اللہ کے رسول نے دی ہے ۔ جب تک یہ نشانیاں واقع نہ ہوں قیامت قائم نہیں ہوسکتی۔ قیامت کی بہت سی نشانیاں ظاہر ہوچکی ہیں جو اس کے وقوع کے قریب ہونے کی خبر دیتی ہیں۔ لہذا بندوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے دین کی طرف لوٹیں اور اپنے رب کی طرف رجوع کریں۔اس وقت کسی کا ایمان لانا اس کے لیے مفید نہیں ہوگا جب تک کہ وہ پہلے ہی ایمان نہ لے آیا ہو۔ 

إن الحمد لله، نحمده، ونستعينه، ونستغفره، ونعوذ بالله من شرور أنفسنا، وسيئات أعمالنا، من يهده الله فلا مضل له، ومن يضلل فلا هادى له، وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له، وأشهد أن محمداً عبده ورسوله۔ برادران اسلام ! آج ہماری  گفتگو ایک اہم  موضوع پر ہوگی  جس کا  تعلق  غیب سے ہے۔ اور وہ ہے آثار قیامت  پر گفتگو۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:(فَهَلْ يَنظُرُونَ إِلَّا السَّاعَةَ أَن تَأْتِيَهُم بَغْتَةً ۖ فَقَدْ جَاءَ أَشْرَاطُهَا ۚ فَأَنَّىٰ لَهُمْ إِذَا جَاءَتْهُمْ ذِكْرَاهُمْ) (محمد:18)" تو کیا یہ قیامت کا انتظار کر رہے ہیں کہ وه ان کے پاس اچانک آجائے یقیناً اس کی علامتیں تو آچکی ہیں، پھر جبکہ ان کے پاس قیامت آجائے انہیں نصیحت کرنا کہاں ہوگا؟"اور مشہور حدیث  جبریل  میں ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  سے ایمان  کے بارے میں  پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:"الإیمان أن تؤمن باللہ وملائکتہ وکتبہ ورسلہ، والیوم الآخر، وتؤمن بالقدر خیرہ وشرہ""ایمان یہ ہے کہ تم اللہ پر،اس کے فرشتوں،  کتابوں، رسولوں   اور یوم آخرت  نیز تقدیر  کے خیر وشر پر ایمان لاؤ۔" اور حذیفہ بن اسید  الغفاری  سے روایت ہے ، انہوں   نے بیان  کیا کہ  ہم لوگ  ایک  کوٹھری کے سایہ تلے  بیٹھ کر باتیں    کر رہے تھے۔ چنانچہ  ہم لوگ قیامت کا ذکر کر نے لگے۔ تو ہماری   آواز بلند   ہونے لگی۔ تب ہی اللہ کے فرشتے نے رسول اللہ صلی اللہ  علیہ وسلم  کو بتایا: قیامت  تب تک نہیں واقع  نہیں ہوگی جب تک اس سے پہلے چند آیتیں (نشانیاں) سامنے نہ آجائيں۔ (أبوداود)اللہ تعالیٰ   نے فرمایا:(يَسْأَلُونَكَ عَنِ السَّاعَةِ أَيَّانَ مُرْسَاهَا ۖ قُلْ إِنَّمَا عِلْمُهَا عِندَ رَبِّي ۖ لَا يُجَلِّيهَا لِوَقْتِهَا إِلَّا هُوَ ۚ ثَقُلَتْ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ لَا تَأْتِيكُمْ إِلَّا بَغْتَةً ۗ يَسْأَلُونَكَ كَأَنَّكَ حَفِيٌّ عَنْهَا ۖ قُلْ إِنَّمَا عِلْمُهَا عِندَ اللَّـهِ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ) (الأعراف:187)"یہ لوگ آپ سے قیامت کے متعلق سوال کرتے ہیں کہ اس کا وقوع کب ہوگا؟ آپ فرما دیجئے کہ اس کا علم صرف میرے رب ہی کے پاس ہے، اس کے وقت پر اس کو سوا اللہ کے کوئی اور ﻇاہر نہ کرے گا۔ وه آسمانوں اور زمین میں بڑا بھاری (حادثہ) ہوگا وه تم پر محض اچانک آپڑے گی۔ وه آپ سے اس طرح پوچھتے ہیں جیسے گویا آپ اس کی تحقیقات کرچکے ہیں۔ آپ فرما دیجئے کہ اس کا علم خاص اللہ ہی کے پاس ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔" اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا:(يَسْأَلُكَ النَّاسُ عَنِ السَّاعَةِ ۖ قُلْ إِنَّمَا عِلْمُهَا عِندَ اللَّـهِ ۚ وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّ السَّاعَةَ تَكُونُ قَرِيباً) (الأحزاب:63)" لوگ آپ سے قیامت کے بارے میں سوال کرتے ہیں۔ آپ کہہ دیجیئے! کہ اس کا علم تو اللہ ہی کو ہے، آپ کو کیا خبر بہت ممکن ہے قیامت بالکل ہی قریب ہو۔" اور فرمایا(يَسْأَلُونَكَ عَنِ السَّاعَةِ أَيَّانَ مُرْسَاهَا فِيمَ أَنتَ مِن ذِكْرَاهَا إِلَىٰ رَبِّكَ مُنتَهَاهَا) (النازعات: 42-44)" لوگ آپ سے قیامت کے واقع ہونے کا وقت دریافت کرتے ہیں، آپ کو اس کے بیان کرنے سے کیا تعلق؟، اس کے علم کی انتہا تو اللہ کی جانب ہے۔"اور جب آپ سے وقوع قیامت   کے بارے  میں پوچھا گيا تو آپ نے فرمایا: اس کے بارے میں پوچھا جانے والاشخص، پوچھنے  والے سے زیادہ نہیں  جانتا۔" (مسلم)ابن رجب  حنبلی رحمہ اللہ  نے فرمایا: وقوع  قیامت   کے وقت سے متعلق ساری مخلوق  کا علم  یکساں  ہے۔ اور یہ اس بات کی طرف  اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے علم   کو اپنے  لیے خاص  کر لیا ہے۔اما م احمد، ابن  ماجہ اور  حاکم  نے نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم   سے مروی  ایک حدیث  بیان کی ہے، شب اسراء میں میں نے حضرت  ابراہیم  وموسیٰ  وعیسیٰ علیہم الصلاۃ والسلام سے ملاقات  کی۔ فرمایا:  کہ سبھوں   نے قیامت  کا ذکر کیا۔  پھر انہوں نے اس معا ملہ  کو حضرت  ابراہیم  کی طرف پھیر دیا۔  مگر انہوں   نے کہا کہ مجھے   اس کا علم نہیں۔ تب پھر حضرت  موسیٰ علیہ الصلاۃ والسلام  کی طرف لوٹا دیا۔  تو انہوں نے  بھی یہی  کہا کہ مجھے  اس کا علم نہیں ہے۔اس کے بعد   حضر ت عیسیٰ علیہ الصلاۃ والسلام کی طرف پلٹ   دیا۔ تو انہوں  نے جواب دیا کہ قیامت  کی حقیقت   وقوع کا پتہ صرف  اللہ کو ہے۔ اور میرے  رب کی  مجھ  سے صرف  یہ بات ہے کہ   دجال  کا خروج ہوگا۔ فرمایا:  کہ میرے  پاس  دو مسواک ہوں گی۔ چنانچہ دجال   جب مجھے  دیکھےگا تو وہ شیشہ  کی طرح پگھلنے  لگےگا  اور اللہ اسے ہلاک  وبر باد  کر دےگا۔آیات قرآنیہ  اور احادیث  نبویہ  قیامت    کی قربت  ونزدیکی  پر دال  ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:(اقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَهُمْ فِي غَفْلَةٍ مُّعْرِضُونَ) (الأنبیاء:1)"لوگوں کے حساب کا وقت قریب آگیا پھر بھی وه بے خبری میں منھ پھیرے ہوئے ہیں۔"اور فرمایا    آپ   کو کیا پتہ   کہ کہیں  قیامت  قریب   ہو:(وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّ السَّاعَةَ تَكُونُ قَرِيبً) (الأحزاب:63)اور فرمایا: "بعثت أنا والساعۃ کھاتین" (بخاری)"میری  بعثت اور  قیامت دونوں (آ پ نے اپنی انگلیوں   کو پھیلا کر  اشارہ فر مایا کہ) اس طرح ہیں۔" قیامت  کی نشانیاں صغریٰ اور کبریٰ  میں منقسم ہیں۔ چنانچہ صغریٰ   وہ  نشانیاں  ہیں جو لمبے   زمانوں  سے قیامت   کا پیش خیمہ ہیں۔ وہ معتاد  رواں  قسم  کی ہوتی  ہیں۔ ان میں بعض نشانیاں قیامت کی بڑی  نشانیوں  اور اہم امور میں سے ہیں جو قرب قیامت میں رونما ہوں گی اور وہ غیر معتاد  قسم کی ہوں گی۔ جیسے دجال  کا خروج وغیر ہ۔ علامات قیامت کی اپنے ظاہر ہو نے کی حیثیت سے تین قسمیں  ہیں:۱۔    وہ جو ظاہر ہو کر ختم ہوگئيں۔۲۔  وہ جو ظاہر  ہوتی جارہی ہیں۔۳۔    اوروہ  جو اب تک  ظاہر  نہیں ہوئی  ہیں۔حضرت سہل  بن سعد رضی اللہ عنہ  سے روایت  ہے، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:(بعثت أنا والساعۃ کھاتین)اور عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں  نے بیان  کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:"أعدد ستا بین یدی الساعۃ" (بخاری:3176)"قیامت   سے پہلے چھ چیزوں  کو  یکے بعد  ديگر ے،  شمار کرتے جاؤ۔ جیسے میری  موت۔"حضرت ابو بکر   وعمر رضی اللہ عنہما جب حضرت  ام ایمن   سے ملنے گئے   تو ان سے سوال  کے جواب میں کہا گيا: آپ کی موت کے بعد آسمان  سے وحی کا نزول رک گيا۔ اور  ابو موسیٰ اشعری  رضی اللہ عنہ  سے روایت  ہے، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت  سے پہلے  تاریک رات کے حصوں  کی طرح  فتنے  نمودار  ہوں گے۔  آدمی   صبح  کو مومن مسلمان ہوگا  اور شام ہو تے ہی  کا فر۔ اسی طرح شام  کو مومن  ہوگا  اور صبح ہوتے ہی کافر    ہو جائےگا۔ ایسی حالت  میں   کہیں پر بیٹھا  شخص کھڑے ہوئے آدمی سے بہتر ہوگا۔ کھڑا ہوا چلنے والے سے بہتر  ہوگا اور چلنے والا دوڑنے والے  سے بہتر ہوگا۔ اس لیے  اپنے  تیر وکمان   کو توڑ ڈالو   اور تلوار یں  پتھروں  پہ  مار دو۔ کوئی اگر میرے پاس  تم میں سے آئے تو وہ اچھے آدمی  جیسا  ہو۔ (أحمد، أبوداود، وابن ماجۃ وحاکم) اور حضرت   ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ   سے روایت  ہے، انہوں  نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا : قیامت اس وقت   تک برپا  نہیں  ہوگی جب تک  کہ ایک  آگ سرزمین جحاز  سے روشن  نہ ہوجائے۔  جو بصریٰ میں موجود  اونٹ کی گردنوں تک کو  روشن اور ظاہر  کر دےگی۔   یہ آگ  ساتویں صدی  ہجری  کے درمیان  654ھ  میں ظاہر ہوچکی ہے۔ جو بڑی آگ  تھی۔ علماء نے اس آگ کے بارے میں ظہور  آتش  والے زمانہ اور  مابعد کے لوگوں  کے حوالے  سے بیان کیا ہے۔ اور حضرت  ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت  ہے ، انہوں  نے بیا ن کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:(إذا ضیعت الأمانۃ فانتظر الساعۃ) (بخاری)"جب  اما نت  کو بر باد کردیا جانے لگے، تو پھر قیامت  کا انتظار  کرو۔"

إن الحمد لله، نحمده، ونستعينه، ونستغفره، ونعوذ بالله من شرور أنفسنا، وسيئات أعمالنا، من يهده الله فلا مضل له، ومن يضلل فلا هادى له، وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له، وأشهد أن محمداً عبده ورسوله، أما بعد!
 حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ  نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  سے روایت کرتے ہیں کہ آپ  نے فرمایا    یہ امت اس وقت تک  فنا نہیں  ہوگی جب تک  آدمی  اپنی بیوی  کو  اٹھا  کر نہ لے جائے اور راستے   میں  نہ  لٹادے۔  اس وقت لوگوں  میں سب   سے اچھا  وہ ہوگا جو    کہے گا  کہ اس دیوار  کے پیچھے اگر  اسے چھپا  لیتا   تو بہتر  ہوتا۔ (أبو یعلیٰ)
اور حضرت ابن مسعود  رضی اللہ عنہ   نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم   سے روایت  کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : قیامت  سے پہلے  کی  یہ نشانی ہے کہ سود عام ہوجائےگا۔ (طبرانی)
 اور حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ  سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:آخر زمانہ  میں  زمین کا دھنسنا، آسمان سے پتھروں کی بارش کا ہونا اور صورتوں کا  مسخ ہونا ہوگا۔  پوچھا گيا: اے اللہ  کے  رسول ! یہ کب ہوگا؟ تو آپ   نے فرمایا کہ جب گا نے   بجا نے کے آلات   اور گانے  بجا نے والیاں  عام   ہو نے لگیں۔" (ابن ماجہ)
اور حضرت جبرئيل   کی مشہور حدیث میں ہے کہ انہوں  نے عرض کیا  اے  اللہ کے رسول!   آپ مجھے قیامت کی  نشانیوں  کی بارے میں ہی  بتا دیجئے۔ تو آپ نے فرمایا:    یہ ہے کہ  باندی   اپنی مالکن   کو جنےگی اور  یہ کہ ننگے  پاؤں، ننگے  جسم،  محتاج ، بکری کے چرواہوں  کو عمارتوں  کے سلسلے میں باہم  فخر کرتے ہوئے دیکھو گے۔ (مسلم)
 اور حضرت  ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ  سے روایت  ہے، انہوں نے بیان کیا کہ  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا :
"لا تقوم الساعۃ حتی تظھر الفتن ویکثر  الکذب  وتتقارب  الأسواق"
"قیامت اس وقت تک قائم نہیں   ہوگی   جب تک  فتنے نہ ظاہر  ہونے لگیں، جھوٹ  نہ پھیلنے  لگے  اور بازار قریب قریب نہ ہونے  لگیں۔" (أحمد)
 اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
(حَتَّىٰ إِذَا فُتِحَتْ يَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ وَهُم مِّن كُلِّ حَدَبٍ يَنسِلُونَ) (الأنبیاء:96)
"یہاں تک کہ یاجوج اور ماجوج کھول دیئے جائیں گے اور وکپ ہر بلندی سے دوڑتے ہوئے آئیں گے۔"
اور فرمایا:
(وَإِذَا وَقَعَ الْقَوْلُ عَلَيْهِمْ أَخْرَجْنَا لَهُمْ دَابَّةً مِّنَ الْأَرْضِ تُكَلِّمُهُمْ أَنَّ النَّاسَ كَانُوا بِآيَاتِنَا لَا يُوقِنُون) (النمل:82)
"جب ان کے اوپر عذاب کا وعدہ ثابت ہو جائےگا، ہم زمین سے ان کے لیے ایک جانور نکالیں گے جو ان سے باتیں کرتا ہوگا کہ لوگ ہماری آیتوں پر یقین نہیں کرتے تھے۔"
حضرت  حذیفہ  بن اسید  رضی اللہ عنہ  سے روایت  ہے، انہوں  نے بیان  کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  تشریف  لائے۔ اس وقت ہم  لوگ قیامت   کا ذکر  کر رہے تھے۔ تو آپ  نے فرمایا: جب تک دس  نشانیاں  نہ ظاہر  ہو  جائيں ،  قیامت   قائم  نہیں ہوگی۔
پچھم  سے طلوع  آفتاب، دجال   کا خروج ،    دھواں ہونا،   زمین سے جانور کا نکلنا، یاجوج  وماجوج  کا کھول  دیاجانا، حضرت عیسیٰ علیہ السلام   کا خروج   اور  تین   مقامات  پر زمین کا دھنسایا جانا، ایک مشرق   میں ایک مغرب میں ایک  جزیرۂ عر ب میں اور آگ جو عدن  کی کھائی سے نمودار  ہوگی جو لوگوں  کو میدان  محشر  کی طرف لے جائےگی، لوگ جب  سوئیں  گے تو آگ  بھی سوئے گی اور جب  قیلولہ  کریں گے   تو  وہ بھی  قیلولہ  کرےگی۔" (ابن ماجہ)
 اللہ کے بندو!یہ ہیں کچھ  قیامت  کی نشانیاں، تو کیا ہم  نے قیامت کے لیے کوئی  تیاری   کی ہے؟ہم نے   کیا عمل  کیا ہے؟ کیا ہم نے اللہ سے توبہ واستغفار   کیا؟ اے اللہ  کے بندو! جان لیں کہ قیامت  کی   چھوٹی   نشانیاں، اس کی بڑی نشانیوں  کے نزدیک  ہونے کی دلیل  ہیں۔   وہ جب  واقع  ہوں گی   تو قیامت   بپا ہوگی۔  اس لیے اللہ کے بندو!  اللہ سے ڈرو۔   اپنے  عمل   کی اصلاح  کرو اور قیامت  کے لیے تیاری  بھی۔ نیز  جان لو  کہ بلا شبہ قیامت  آکر  رہے گی۔

Comments

Popular posts from this blog

Yusufzai (Pashtun tribe)

The  Yūsufzai  (also  Youssofzay ,  Yousefzai ,  Yousafzai ,  Esapzey ,  Yousufi , or  Yūsufi ) (Pashto:  يوسفزی ,Persian and Urdu:  یوسف زئی ) is one of the largest Pashtun (Afghans) tribes. The majority of the Yusufzai tribe reside in parts of Western Afghanistan, Khyber Pakhtunkhwa and Provincially Administered Tribal Areas near the Afghan-Pakistan border. They are the predominant population in the districts of Konar, Ningarhar, Mardan District, Dir, Swat,Malakand, Swabi, Buner, Shangla, Haripur District [Khalabat Town Ship and Tarbela] and in Mansehra and Battagram. There is also a Yusufzai clan of Dehwar tribe in the Mastung district of Balochistan who speak Persian with some mixture of Birahvi words. The descendants of Yusuf inhabit Konar, Jalalabad, Swat, Upper Dir, Lower Dir, Malakand Swabi and Mardan...

Masail -e- Ghusl By Shaykh Mufti Abdur Rauf Sakharvi

Read Online (2.1 M) By Shaykh Mufti Abdur Rauf Sakharvi

جمع عثمانی رِوایات کے آئینے میں

نبی مکرمﷺ کی حدیث مبارکہ ’’خَیْرُ النَّاسِ قَرْنِيْ ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَھُمْ ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَھُمْ‘‘۔(صحیح البخاري: ۲۶۵۲) پر جب نظر پڑتی ہے تو سر احسان و نیازمندی کے ملے جلے تاثر ات سے جھک جاتا ہے کہ واقعتا آپﷺ، صحابہ رضی اللہ عنہم اور تابعین رحمہم اللہ کا زمانہ خیر القرون تھا، کیونکہ اس میں بنی نوع اِنسان کی راہ روی اور اسلام کی سربلندی کے لیے وہ محنتیں اور کوششیں ہوئی ہیں کہ جس کی مثال آئندہ جمیع قرون میں پیش کرنا مشکل ہے۔ یقینا وہ لوگ اس قابل تھے کہ اُنہیں یہ ذمہ داری سونپی جاتی کہ وہ دینِ الٰہی اور شرع اللہ کو اپنی مکمل تشریحات کے ساتھ آئندہ نسلوں تک منتقل کریں، بلا شبہ وہ طائفہ فائزہ اپنے اس مقصد میں بامراد ہوا ہے۔ان جملہ ذمہ داریوں میں سے اَہم ترین ذمہ داری یہ تھی کہ ہدایت سماوی کے آخری ربانی صحیفہ کو محفوظ اور غیر متبدل شکل میں ہم تک پہنچایا جائے۔ ہمارا یہ قطعی ایمان ہے کہ وہ پیام اَیزدی آج اپنی سو فیصد اَصلی اور حقیقی شکل میں ہمارے درمیان موجود ہے۔ الحمد ﷲ علی ذلک۔اِس سلسلہ میں خیرالقرون میں جو سب سے اَہم کام ہوا ہے وہ سیدنا عثمان ذوالنورین رضی ال...

دین اسلام میں رسول اللہ ﷺ کی اطاعت فرض ہے

بسم اللہ الرحمن الرحیم دین اسلام میں رسول اللہ ﷺ کی اطاعت فرض ہے يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ أَطِيعُوا۟ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ وَلَا تَوَلَّوْا۟ عَنْهُ وَأَنتُمْ تَسْمَعُونَ ﴿20﴾ترجمہ: اے ایمان والو الله اور اس کے رسول کا حکم مانو اور سن کر اس سے مت پھرو(سورۃ الانفال،آیت20) قُلْ أَطِيعُوا۟ ٱللَّهَ وَأَطِيعُوا۟ ٱلرَّسُولَ ۖ فَإِن تَوَلَّوْا۟ فَإِنَّمَا عَلَيْهِ مَا حُمِّلَ وَعَلَيْكُم مَّا حُمِّلْتُمْ ۖ وَإِن تُطِيعُوهُ تَهْتَدُوا۟ ۚ وَمَا عَلَى ٱلرَّسُولِ إِلَّا ٱلْبَلَٰغُ ٱلْمُبِينُ﴿56﴾ترجمہ: کہہ دو الله اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرو پھر اگر منہ پھیرو گے تو پیغمبر تو وہی ہے جس کا وہ ذمہ دار ہے اورتم پر وہ ہے جو تمہارے ذمہ لازم کیا گیا ہے اور اگر اس کی فرمانبرداری کرو گے تو ہدایت پاؤ گے اور رسول کے ذمہ صرف صاف طور پر پہنچا دینا ہے (سورۃ النور،آیت 56) مَّن يُطِعِ ٱلرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ ٱللَّهَ ۖ وَمَن تَوَلَّىٰ فَمَآ أَرْسَلْنَٰكَ عَلَيْهِمْ حَفِيظًۭا ﴿80﴾ترجمہ: جو شخص رسول کی فرمانبرداری کرے گا تو بےشک اس نے اللہ کی فرمانبرداری کی اور جو نافرمانی کرے گا تو اے ...

قراء ات متواترہ کا ثبوت اور اس کے منکر کا حکم

قرآن حکیم اللہ تبارک وتعالیٰ کا انمٹ اورلاریب کلام ہے جس کی مثل لانے سے دنیا کا ہر فرد عاجز اور درماندہ ہے۔ بڑے بڑے فصحائے عرب اور فارسانِ بلاغت اس کی نظیر اورمثل پیش نہیں کرسکے اور نہ ہی قیامِ قیامت تک پیش کر سکتے ہیں۔ علمائے اسلام اور زعمائے ملت نے اس کی تفسیر وتوضیح اور مفاہیم ومعانی کی عقدہ کشائی کے لئے انتھک محنت اور قابل رشک جدوجہد کی ہے اور اس کا حقِ خدمت ادا کرنے کے لئے صعوبتوں اورمسافتوں سے بھرپور دور دراز بلاد و ممالک کے سفر طے کیے۔ اورہر کسی نے اپنی اپنی ہمت اوربساط کے مطابق اس کی خدمت کر کے اعلیٰ وارفع مقام حاصل کیا ۔جن میں ابن جریر طبری، ابن حاتم رازی، عبد الرزاق ، نسائی اور ابن کثیررحمہم اللہ جیسے گلستان ِ حدیث کے خوشبودار پھول، ابوحیان اندلسی اور زمخشری رحمہم اللہ جیسے فارسانِ بلاغت وادب اورنکتہ سنج۔ ابو عبد اللہ قرطبی اورابوبکر ابن العربی رحمہم اللہ جیسے فقاہت کے درخشندہ ستارے۔ رازی اوربیضاوی رحمہم اللہ جیسے فلاسفہ اورمتکلمین جہاں معانی ومفا،عثمان بن سعید ابو سعید ورش القبطی، احمد بن قالون المدنی، خلف بن ہشام البغدادی، ابو معبد عبد اللہ بن ہیم رحمہم اللہ کے گلستان ...

خیرخواہی وامانت داری

خیرخواہی وامانت داری خیر خواہی دین کی بنیاد ا ور اس کا جوہر ہے۔ دین دراصل خیر خواہی کا نام ہے۔ خیرخواہی اللہ کی، اس کے کتاب کی، اس کے رسول کی، مسلم ائمہ وحکمرانوں کی اور عامۃ المسلمین کی ہوتی ہے۔ پس جب ان تمام کے حق میں بندہ خیرخواہ ہوگا تو اس کا دین کامل ہوگا اور جس میں ان میں سے کسی کی خیرخواہی میں کمی و کوتاہی ہوگی تو اسی قدر اس کے دین میں نقص وکمی ہوگی۔ مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اپنی خیرخواہی میں امانت کو ملحوظ رکھے اور بغیر کسی مداہنت ومجاملت کے حق کو بیان کرے۔ یہی شخص اللہ کے نزدیک امین ہوگا۔ إن الحمد لله، نحمده ونستعينه ونستغفره، ونعوذ بالله من شرور أنفسنا، وسيئات أعمالنا، من يهده الله فلا مضل له، ومن يضلل فلا هادى له، وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له، وأشهد أن محمداً عبده ورسوله۔ أما بعد: فإن خیر الحدیث کتاب اللہ، وخیر الھدی ھدی محمد صلی اللہ علیہ وسلم، وشر الأمور محدثاتھا، وکل محدثۃ بدعۃ، وکل بدعۃ ضلالۃ، وکل ضلالۃ  فی النار۔  وقد قال اللہ تبارک وتعالی فی کتابہ المجید: (إِنَّ اللَّـهَ يَأْمُرُكُمْ أَن تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَىٰ أَهْلِهَا وَإِذَا حَ...

Alamaat -e- Qayamat Aur Nuzool -e- Maseeh [a.s] By Shaykh Mufti Rafi Usmani

Read Online Slideshare Download [27] ENGLISH TRANSLATION

دعا مانگنے کا ضابطہ اور اس کے آداب

ارشاد ربانی ہے:”ونادٰی نوح ربہ فقال رب ان ابنی من اہلی وان وعدک الحق وانت احکم الحاکمین‘ قال یا نوح انہ لیس من اہلک‘ انہ عمل غیر صالح‘ فلاتسئلن مالیس لک بہ علم‘ انی اعظک ان تکون من الجاہلین“۔ (۱)ترجمہ:․․․”اور نوح علیہ السلام نے اپنے رب کو پکارا اور عرض کیا کہ اے میرے رب! میرا بیٹا میرے گھروالوں میں سے ہے اور آپ کا وعدہ بالکل سچا ہے‘ اور تو سب سے بڑا حاکم ہے‘ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: کہ اے نوح! یہ شخص تمہارے گھروالوں میں نہیں‘ یہ تباہ کار ہے‘ سو مجھ سے ایسی چیز کی درخواست مت کرو جس کی تم کو خبر نہیں۔ میں تم کو نصیحت کرتا ہوں کہ تم نادانوں میں داخل نہ ہوجاؤ“۔آیات مذکورہ بالا سے فقہاء نے یہ مسئلہ اخذ کیا ہے کہ دعا کے لئے ضروری ہے کہ دعا کرنے والا پہلے یہ معلوم کرے کہ جس کام کی دعا کررہا ہے وہ جائز وحلال ہے یانہیں۔ مشتبہ حالت میں دعا کرنے سے منع فرمایا گیا ہے‘ جیساکہ قاضی بیضاوی لکھتے ہیں:”فلاتسئلن مالیس لک بہ علم“ ای مالم تعلم اصواب ہو ام لیس کذلک“ (۲)ترجمہ:․․․”سو مجھ سے ایسی چیز کی درخواست مت کرو جس کی تم کو خبر نہیں یعنی جس کے بارے میں تجھے یہ علم نہ ہو کہ یہ حق وجائز ہے یا نہیں...

قرآن مجید سے فائدہ اٹھانے کی پانچ شرائط

ایمان حاصل کرنے کا اصل ذریعہ قرآنِ کریم ہے لیکن اس مقصد کے لئے قرآن کی تلاوت کے کچھ آداب و شرائط ہیں۔ اگر ان کا خیال رکھا جائے تو تبھی قرآن سے مذکورہ فائدہ حاصل ہوتا ہے۔ لہٰذا ان آداب و شرائط کا پورا پورا اہتمام کرنا چاہئے۔ ۱ نیت کی پاکیزگی: سب سے پہلی چیز نیت کی پاکیزگی ہے۔ یعنی آدمی قرآن مجید کو صرف ہدایت حاصل کرنے کے لئے پڑھے، کوئی ذاتی غرض سامنے رکھ کر نہ پڑھے، اگر طلبِ ہدایت کے سوا آدمی کے سامنے کوئی اور غرض ہوگی تو نہ صرف یہ کہ وہ قرآن مجید کے فیض سے محروم رہے گا بلکہ اس بات کا اندیشہ بھی ہے کہ قرآن مجید سے جتنا دور وہ اب تک رہا ہے، اس سے بھی کچھ زیادہ دور ہٹ جائے گا۔ اگر آدمی قرآن مجید کو اس لئے پڑھے کہ لوگ اسے مفسر قرآن سمجھنے لگیں یا اس لئے پڑھے کہ اس کے کچھ اپنے نظریات ہوں اور وہ اپنے ان نظریات کو قرآن مجید کے رنگ کے ساتھ لوگوں کے سامنے پیش کرنے کا خواہش مند ہو تو ممکن ہے اس کے یہ ارادے کسی حد تک پورے ہوجائیں لیکن اس طرح وہ قرآن مجید سمجھنے کا دروازہ اپنے اوپر بالکل بند کرلے گا۔قرآن مجید کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت کا صحیفہ بنا کر اتارا ہے اور ہرآدمی...

اللہ تعالیٰ نے بڑا عمدہ کلام نازل فرمایا ہے !!!

قرآن مجید !!! قرآن مجید کیا ہے ؟ الحمد للہ: قرآن مجید کلام اللہ ہے جسے اللہ تعالی نے اپنے نبی محمدصلی اللہ علیہ وسلم پرنازل فرمایا تاکہ وہ لوگوں کو گمراہی سے نوروھدایت کی طرف نکالے- جیسا کہ اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے : { وہ اللہ تعالی ہی ہے جو اپنے بندے پرواضح آیات اتارتا ہے تاکہ وہ تمہیں اندھیروں سے نور کی طرف لے جاۓ } الحدید ( 9 ) ۔ اللہ تبارک وتعالی نے قرآن مجید میں پہلے اور آخری لوگوں اور زمین وآسمان کی پیدائش کی خبریں دی ، اور اس میں حلال وحرام اور آداب واخلاق کے اصول ، اور عبادات و معاملات کے احکام ، انبیاء وصالحین کی سیرت ، کافروں اور مومنوں کی جزاوسزا ، مومنین کے گھر جنت کا وصف اور کافروں کے گھر جہنم کا تفصیلی بیان ہے اور اسے ہرچيز کے بیان کرنے والا بنایا ۔ اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے : { اور ہم نے آپ پریہ کتاب نازل فرمائ ہے جس میں ہرچیزکا کافی وشافی بیان ہے اور مسلمانوں کے لیے رحمت وخوشخبری ہے } النحل ( 89 ) ۔ قرآن مجید میں اللہ تعالی کے اسماء وصفات اور اس کی مخلوقات اور اللہ تعالی اس کےفرشتوں اورکتابوں اوررسولوں اورآخرت کے دن پرایمان کی د...