Skip to main content

قیامت کی نشانیاں



یوم آخرت پر ایمان، ایمان کےارکان میں سے ایک رکن ہے۔اور آدمی کا یوم آخرت پر ایمان اسی وقت مکمل ہوگا جب وہ قیامت کی ان نشانیوں پر ایمان رکھے جن کی خبر اللہ کے رسول نے دی ہے ۔ جب تک یہ نشانیاں واقع نہ ہوں قیامت قائم نہیں ہوسکتی۔ قیامت کی بہت سی نشانیاں ظاہر ہوچکی ہیں جو اس کے وقوع کے قریب ہونے کی خبر دیتی ہیں۔ لہذا بندوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے دین کی طرف لوٹیں اور اپنے رب کی طرف رجوع کریں۔اس وقت کسی کا ایمان لانا اس کے لیے مفید نہیں ہوگا جب تک کہ وہ پہلے ہی ایمان نہ لے آیا ہو۔ 

إن الحمد لله، نحمده، ونستعينه، ونستغفره، ونعوذ بالله من شرور أنفسنا، وسيئات أعمالنا، من يهده الله فلا مضل له، ومن يضلل فلا هادى له، وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له، وأشهد أن محمداً عبده ورسوله۔ برادران اسلام ! آج ہماری  گفتگو ایک اہم  موضوع پر ہوگی  جس کا  تعلق  غیب سے ہے۔ اور وہ ہے آثار قیامت  پر گفتگو۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:(فَهَلْ يَنظُرُونَ إِلَّا السَّاعَةَ أَن تَأْتِيَهُم بَغْتَةً ۖ فَقَدْ جَاءَ أَشْرَاطُهَا ۚ فَأَنَّىٰ لَهُمْ إِذَا جَاءَتْهُمْ ذِكْرَاهُمْ) (محمد:18)" تو کیا یہ قیامت کا انتظار کر رہے ہیں کہ وه ان کے پاس اچانک آجائے یقیناً اس کی علامتیں تو آچکی ہیں، پھر جبکہ ان کے پاس قیامت آجائے انہیں نصیحت کرنا کہاں ہوگا؟"اور مشہور حدیث  جبریل  میں ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  سے ایمان  کے بارے میں  پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:"الإیمان أن تؤمن باللہ وملائکتہ وکتبہ ورسلہ، والیوم الآخر، وتؤمن بالقدر خیرہ وشرہ""ایمان یہ ہے کہ تم اللہ پر،اس کے فرشتوں،  کتابوں، رسولوں   اور یوم آخرت  نیز تقدیر  کے خیر وشر پر ایمان لاؤ۔" اور حذیفہ بن اسید  الغفاری  سے روایت ہے ، انہوں   نے بیان  کیا کہ  ہم لوگ  ایک  کوٹھری کے سایہ تلے  بیٹھ کر باتیں    کر رہے تھے۔ چنانچہ  ہم لوگ قیامت کا ذکر کر نے لگے۔ تو ہماری   آواز بلند   ہونے لگی۔ تب ہی اللہ کے فرشتے نے رسول اللہ صلی اللہ  علیہ وسلم  کو بتایا: قیامت  تب تک نہیں واقع  نہیں ہوگی جب تک اس سے پہلے چند آیتیں (نشانیاں) سامنے نہ آجائيں۔ (أبوداود)اللہ تعالیٰ   نے فرمایا:(يَسْأَلُونَكَ عَنِ السَّاعَةِ أَيَّانَ مُرْسَاهَا ۖ قُلْ إِنَّمَا عِلْمُهَا عِندَ رَبِّي ۖ لَا يُجَلِّيهَا لِوَقْتِهَا إِلَّا هُوَ ۚ ثَقُلَتْ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ لَا تَأْتِيكُمْ إِلَّا بَغْتَةً ۗ يَسْأَلُونَكَ كَأَنَّكَ حَفِيٌّ عَنْهَا ۖ قُلْ إِنَّمَا عِلْمُهَا عِندَ اللَّـهِ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ) (الأعراف:187)"یہ لوگ آپ سے قیامت کے متعلق سوال کرتے ہیں کہ اس کا وقوع کب ہوگا؟ آپ فرما دیجئے کہ اس کا علم صرف میرے رب ہی کے پاس ہے، اس کے وقت پر اس کو سوا اللہ کے کوئی اور ﻇاہر نہ کرے گا۔ وه آسمانوں اور زمین میں بڑا بھاری (حادثہ) ہوگا وه تم پر محض اچانک آپڑے گی۔ وه آپ سے اس طرح پوچھتے ہیں جیسے گویا آپ اس کی تحقیقات کرچکے ہیں۔ آپ فرما دیجئے کہ اس کا علم خاص اللہ ہی کے پاس ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔" اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا:(يَسْأَلُكَ النَّاسُ عَنِ السَّاعَةِ ۖ قُلْ إِنَّمَا عِلْمُهَا عِندَ اللَّـهِ ۚ وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّ السَّاعَةَ تَكُونُ قَرِيباً) (الأحزاب:63)" لوگ آپ سے قیامت کے بارے میں سوال کرتے ہیں۔ آپ کہہ دیجیئے! کہ اس کا علم تو اللہ ہی کو ہے، آپ کو کیا خبر بہت ممکن ہے قیامت بالکل ہی قریب ہو۔" اور فرمایا(يَسْأَلُونَكَ عَنِ السَّاعَةِ أَيَّانَ مُرْسَاهَا فِيمَ أَنتَ مِن ذِكْرَاهَا إِلَىٰ رَبِّكَ مُنتَهَاهَا) (النازعات: 42-44)" لوگ آپ سے قیامت کے واقع ہونے کا وقت دریافت کرتے ہیں، آپ کو اس کے بیان کرنے سے کیا تعلق؟، اس کے علم کی انتہا تو اللہ کی جانب ہے۔"اور جب آپ سے وقوع قیامت   کے بارے  میں پوچھا گيا تو آپ نے فرمایا: اس کے بارے میں پوچھا جانے والاشخص، پوچھنے  والے سے زیادہ نہیں  جانتا۔" (مسلم)ابن رجب  حنبلی رحمہ اللہ  نے فرمایا: وقوع  قیامت   کے وقت سے متعلق ساری مخلوق  کا علم  یکساں  ہے۔ اور یہ اس بات کی طرف  اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے علم   کو اپنے  لیے خاص  کر لیا ہے۔اما م احمد، ابن  ماجہ اور  حاکم  نے نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم   سے مروی  ایک حدیث  بیان کی ہے، شب اسراء میں میں نے حضرت  ابراہیم  وموسیٰ  وعیسیٰ علیہم الصلاۃ والسلام سے ملاقات  کی۔ فرمایا:  کہ سبھوں   نے قیامت  کا ذکر کیا۔  پھر انہوں نے اس معا ملہ  کو حضرت  ابراہیم  کی طرف پھیر دیا۔  مگر انہوں   نے کہا کہ مجھے   اس کا علم نہیں۔ تب پھر حضرت  موسیٰ علیہ الصلاۃ والسلام  کی طرف لوٹا دیا۔  تو انہوں نے  بھی یہی  کہا کہ مجھے  اس کا علم نہیں ہے۔اس کے بعد   حضر ت عیسیٰ علیہ الصلاۃ والسلام کی طرف پلٹ   دیا۔ تو انہوں  نے جواب دیا کہ قیامت  کی حقیقت   وقوع کا پتہ صرف  اللہ کو ہے۔ اور میرے  رب کی  مجھ  سے صرف  یہ بات ہے کہ   دجال  کا خروج ہوگا۔ فرمایا:  کہ میرے  پاس  دو مسواک ہوں گی۔ چنانچہ دجال   جب مجھے  دیکھےگا تو وہ شیشہ  کی طرح پگھلنے  لگےگا  اور اللہ اسے ہلاک  وبر باد  کر دےگا۔آیات قرآنیہ  اور احادیث  نبویہ  قیامت    کی قربت  ونزدیکی  پر دال  ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:(اقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَهُمْ فِي غَفْلَةٍ مُّعْرِضُونَ) (الأنبیاء:1)"لوگوں کے حساب کا وقت قریب آگیا پھر بھی وه بے خبری میں منھ پھیرے ہوئے ہیں۔"اور فرمایا    آپ   کو کیا پتہ   کہ کہیں  قیامت  قریب   ہو:(وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّ السَّاعَةَ تَكُونُ قَرِيبً) (الأحزاب:63)اور فرمایا: "بعثت أنا والساعۃ کھاتین" (بخاری)"میری  بعثت اور  قیامت دونوں (آ پ نے اپنی انگلیوں   کو پھیلا کر  اشارہ فر مایا کہ) اس طرح ہیں۔" قیامت  کی نشانیاں صغریٰ اور کبریٰ  میں منقسم ہیں۔ چنانچہ صغریٰ   وہ  نشانیاں  ہیں جو لمبے   زمانوں  سے قیامت   کا پیش خیمہ ہیں۔ وہ معتاد  رواں  قسم  کی ہوتی  ہیں۔ ان میں بعض نشانیاں قیامت کی بڑی  نشانیوں  اور اہم امور میں سے ہیں جو قرب قیامت میں رونما ہوں گی اور وہ غیر معتاد  قسم کی ہوں گی۔ جیسے دجال  کا خروج وغیر ہ۔ علامات قیامت کی اپنے ظاہر ہو نے کی حیثیت سے تین قسمیں  ہیں:۱۔    وہ جو ظاہر ہو کر ختم ہوگئيں۔۲۔  وہ جو ظاہر  ہوتی جارہی ہیں۔۳۔    اوروہ  جو اب تک  ظاہر  نہیں ہوئی  ہیں۔حضرت سہل  بن سعد رضی اللہ عنہ  سے روایت  ہے، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:(بعثت أنا والساعۃ کھاتین)اور عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں  نے بیان  کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:"أعدد ستا بین یدی الساعۃ" (بخاری:3176)"قیامت   سے پہلے چھ چیزوں  کو  یکے بعد  ديگر ے،  شمار کرتے جاؤ۔ جیسے میری  موت۔"حضرت ابو بکر   وعمر رضی اللہ عنہما جب حضرت  ام ایمن   سے ملنے گئے   تو ان سے سوال  کے جواب میں کہا گيا: آپ کی موت کے بعد آسمان  سے وحی کا نزول رک گيا۔ اور  ابو موسیٰ اشعری  رضی اللہ عنہ  سے روایت  ہے، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت  سے پہلے  تاریک رات کے حصوں  کی طرح  فتنے  نمودار  ہوں گے۔  آدمی   صبح  کو مومن مسلمان ہوگا  اور شام ہو تے ہی  کا فر۔ اسی طرح شام  کو مومن  ہوگا  اور صبح ہوتے ہی کافر    ہو جائےگا۔ ایسی حالت  میں   کہیں پر بیٹھا  شخص کھڑے ہوئے آدمی سے بہتر ہوگا۔ کھڑا ہوا چلنے والے سے بہتر  ہوگا اور چلنے والا دوڑنے والے  سے بہتر ہوگا۔ اس لیے  اپنے  تیر وکمان   کو توڑ ڈالو   اور تلوار یں  پتھروں  پہ  مار دو۔ کوئی اگر میرے پاس  تم میں سے آئے تو وہ اچھے آدمی  جیسا  ہو۔ (أحمد، أبوداود، وابن ماجۃ وحاکم) اور حضرت   ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ   سے روایت  ہے، انہوں  نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا : قیامت اس وقت   تک برپا  نہیں  ہوگی جب تک  کہ ایک  آگ سرزمین جحاز  سے روشن  نہ ہوجائے۔  جو بصریٰ میں موجود  اونٹ کی گردنوں تک کو  روشن اور ظاہر  کر دےگی۔   یہ آگ  ساتویں صدی  ہجری  کے درمیان  654ھ  میں ظاہر ہوچکی ہے۔ جو بڑی آگ  تھی۔ علماء نے اس آگ کے بارے میں ظہور  آتش  والے زمانہ اور  مابعد کے لوگوں  کے حوالے  سے بیان کیا ہے۔ اور حضرت  ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت  ہے ، انہوں  نے بیا ن کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:(إذا ضیعت الأمانۃ فانتظر الساعۃ) (بخاری)"جب  اما نت  کو بر باد کردیا جانے لگے، تو پھر قیامت  کا انتظار  کرو۔"

إن الحمد لله، نحمده، ونستعينه، ونستغفره، ونعوذ بالله من شرور أنفسنا، وسيئات أعمالنا، من يهده الله فلا مضل له، ومن يضلل فلا هادى له، وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له، وأشهد أن محمداً عبده ورسوله، أما بعد!
 حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ  نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  سے روایت کرتے ہیں کہ آپ  نے فرمایا    یہ امت اس وقت تک  فنا نہیں  ہوگی جب تک  آدمی  اپنی بیوی  کو  اٹھا  کر نہ لے جائے اور راستے   میں  نہ  لٹادے۔  اس وقت لوگوں  میں سب   سے اچھا  وہ ہوگا جو    کہے گا  کہ اس دیوار  کے پیچھے اگر  اسے چھپا  لیتا   تو بہتر  ہوتا۔ (أبو یعلیٰ)
اور حضرت ابن مسعود  رضی اللہ عنہ   نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم   سے روایت  کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : قیامت  سے پہلے  کی  یہ نشانی ہے کہ سود عام ہوجائےگا۔ (طبرانی)
 اور حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ  سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:آخر زمانہ  میں  زمین کا دھنسنا، آسمان سے پتھروں کی بارش کا ہونا اور صورتوں کا  مسخ ہونا ہوگا۔  پوچھا گيا: اے اللہ  کے  رسول ! یہ کب ہوگا؟ تو آپ   نے فرمایا کہ جب گا نے   بجا نے کے آلات   اور گانے  بجا نے والیاں  عام   ہو نے لگیں۔" (ابن ماجہ)
اور حضرت جبرئيل   کی مشہور حدیث میں ہے کہ انہوں  نے عرض کیا  اے  اللہ کے رسول!   آپ مجھے قیامت کی  نشانیوں  کی بارے میں ہی  بتا دیجئے۔ تو آپ نے فرمایا:    یہ ہے کہ  باندی   اپنی مالکن   کو جنےگی اور  یہ کہ ننگے  پاؤں، ننگے  جسم،  محتاج ، بکری کے چرواہوں  کو عمارتوں  کے سلسلے میں باہم  فخر کرتے ہوئے دیکھو گے۔ (مسلم)
 اور حضرت  ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ  سے روایت  ہے، انہوں نے بیان کیا کہ  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا :
"لا تقوم الساعۃ حتی تظھر الفتن ویکثر  الکذب  وتتقارب  الأسواق"
"قیامت اس وقت تک قائم نہیں   ہوگی   جب تک  فتنے نہ ظاہر  ہونے لگیں، جھوٹ  نہ پھیلنے  لگے  اور بازار قریب قریب نہ ہونے  لگیں۔" (أحمد)
 اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
(حَتَّىٰ إِذَا فُتِحَتْ يَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ وَهُم مِّن كُلِّ حَدَبٍ يَنسِلُونَ) (الأنبیاء:96)
"یہاں تک کہ یاجوج اور ماجوج کھول دیئے جائیں گے اور وکپ ہر بلندی سے دوڑتے ہوئے آئیں گے۔"
اور فرمایا:
(وَإِذَا وَقَعَ الْقَوْلُ عَلَيْهِمْ أَخْرَجْنَا لَهُمْ دَابَّةً مِّنَ الْأَرْضِ تُكَلِّمُهُمْ أَنَّ النَّاسَ كَانُوا بِآيَاتِنَا لَا يُوقِنُون) (النمل:82)
"جب ان کے اوپر عذاب کا وعدہ ثابت ہو جائےگا، ہم زمین سے ان کے لیے ایک جانور نکالیں گے جو ان سے باتیں کرتا ہوگا کہ لوگ ہماری آیتوں پر یقین نہیں کرتے تھے۔"
حضرت  حذیفہ  بن اسید  رضی اللہ عنہ  سے روایت  ہے، انہوں  نے بیان  کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  تشریف  لائے۔ اس وقت ہم  لوگ قیامت   کا ذکر  کر رہے تھے۔ تو آپ  نے فرمایا: جب تک دس  نشانیاں  نہ ظاہر  ہو  جائيں ،  قیامت   قائم  نہیں ہوگی۔
پچھم  سے طلوع  آفتاب، دجال   کا خروج ،    دھواں ہونا،   زمین سے جانور کا نکلنا، یاجوج  وماجوج  کا کھول  دیاجانا، حضرت عیسیٰ علیہ السلام   کا خروج   اور  تین   مقامات  پر زمین کا دھنسایا جانا، ایک مشرق   میں ایک مغرب میں ایک  جزیرۂ عر ب میں اور آگ جو عدن  کی کھائی سے نمودار  ہوگی جو لوگوں  کو میدان  محشر  کی طرف لے جائےگی، لوگ جب  سوئیں  گے تو آگ  بھی سوئے گی اور جب  قیلولہ  کریں گے   تو  وہ بھی  قیلولہ  کرےگی۔" (ابن ماجہ)
 اللہ کے بندو!یہ ہیں کچھ  قیامت  کی نشانیاں، تو کیا ہم  نے قیامت کے لیے کوئی  تیاری   کی ہے؟ہم نے   کیا عمل  کیا ہے؟ کیا ہم نے اللہ سے توبہ واستغفار   کیا؟ اے اللہ  کے بندو! جان لیں کہ قیامت  کی   چھوٹی   نشانیاں، اس کی بڑی نشانیوں  کے نزدیک  ہونے کی دلیل  ہیں۔   وہ جب  واقع  ہوں گی   تو قیامت   بپا ہوگی۔  اس لیے اللہ کے بندو!  اللہ سے ڈرو۔   اپنے  عمل   کی اصلاح  کرو اور قیامت  کے لیے تیاری  بھی۔ نیز  جان لو  کہ بلا شبہ قیامت  آکر  رہے گی۔

Comments

Popular posts from this blog

Yusufzai (Pashtun tribe)

The  Yūsufzai  (also  Youssofzay ,  Yousefzai ,  Yousafzai ,  Esapzey ,  Yousufi , or  Yūsufi ) (Pashto:  يوسفزی ,Persian and Urdu:  یوسف زئی ) is one of the largest Pashtun (Afghans) tribes. The majority of the Yusufzai tribe reside in parts of Western Afghanistan, Khyber Pakhtunkhwa and Provincially Administered Tribal Areas near the Afghan-Pakistan border. They are the predominant population in the districts of Konar, Ningarhar, Mardan District, Dir, Swat,Malakand, Swabi, Buner, Shangla, Haripur District [Khalabat Town Ship and Tarbela] and in Mansehra and Battagram. There is also a Yusufzai clan of Dehwar tribe in the Mastung district of Balochistan who speak Persian with some mixture of Birahvi words. The descendants of Yusuf inhabit Konar, Jalalabad, Swat, Upper Dir, Lower Dir, Malakand Swabi and Mardan...

عہد عثمان میں تدوین قرآن

امام بخاری نے صحیح بخاری میں اپنی سند کے ساتھ ابن شھاب سے روایت کیا ہے کہ انس بن مالک نے انہیں بتایا کہ حذیفہ بن یمان حضرت عثمان کی خدمت میں حاضر ہوئے موسوف نے رمینیہ اور آذربیجان کی جنگ میں شرکت کی تھی وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ لوگ تلاوت قرآن میں بہت اختلاف کرنے لگے تھے ۔ حذیفہ نے حضرت عثمان سے کہا امیرالمؤمنین ! قبل اس کے کہ یہ امت کتاب الٰہی میں یہودیوں اور نصاریٰ کی طرح اکتلاف کرنے لگے اس کو سنبھال لیجئے یہ سن کر حضرت عثمان نے حجرت حفصہ کو کہلا بھیجا کہ آپ کے پاس قرآن کے جو صحیفے پڑے ہیں وہ ہمارے پاس بھیج دیجئے تاکہ ہم ان کو کتابی صورت میں جمع کریں پھر ہم ان کو واپس کردیں گے ۔محترمہ موصوفہ نے وہ صحیفے ارسال کردئیے۔حضرت عثمانرضی اللہ تعالٰی عنہ نے (۱) زید بن ثابترضی اللہ تعالٰی عنہ،(۲) عبداللہ بن زبیررضی اللہ تعالٰی عنہ،(۳)سعد بن العاصرضی اللہ تعالٰی عنہ،(۴)عبدالرحمان بن حارث بن ہشامرضی اللہ تعالٰی عنہکو مومورکیا کہ وہ صحیفوں سے نقل کرکے قرآن کریم کو کتابی صورت میں جمع کردیں۔ حضرت عثمانرضی اللہ تعالٰی عنہ نے تینوں قریشی صحابہ(حضرت زید بن ثابت کے علاوہ باقی تینوں صحابہ سے...

کتاب اللہ کی کون سی آیت سب سے عظیم ہے؟

آیۃ الکرسی کی فضیلت !!! آیۃ الکرسی کی کیااھمیت ہے ؟ اور کیا اس آیت کی عظمت پرکوئ دلیل وارد ہے ؟ الحمد للہ ابن کثیررحمہ اللہ تعالی سورۃ البقرۃ کی آیۃ الکرسی کی تفسیرکرتےہو‏ۓ کہتے ہیں : یہ آیۃ الکرسی ہے جس کی فضیلت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح حدیث میں ہے کہ کتاب اللہ میں یہ آیت سب سے افضل آیت ہے ۔ ابی بن کعب رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نےان سے سوال کیا کہ کتاب اللہ میں سب سے عظیم آیت کونسی ہے ؟ تو وہ کہنے لگے کہ اللہ اور اس کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم کوہی زیادہ علم ہے ، یہ سوال کئ باردھرایا اور پھر فرمانےلگے کہ وہ آیت الکرسی ہے ۔ فرمانے لگے اے ابوالمنذر علم مبارک ہو اس ذات کی قسم جس کےھاتھ میں میری جان ہے اس آیت کی زبان اور ہونٹ ہونگے عرش کے پاۓ کے ہاں اللہ تعالی کی پاکی بیان کررہی ہوگی ۔ اور غالبا مسلم نے والذی نفسی سے آگے والے الفاظ نہیں ہیں ۔ عبداللہ بن ابی بن کعب رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ ان کے والد کے پاس کھجوریں رکھنے کی جگہ تھی ، عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں میرے والد اس کاخیال رکھتے تھے تو...

عہد رسالت میں کتابت قرآن

سرورکائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے مندرجہ ذیل صحابہ کو کاتب وحی مقرر فرمایا تھا: حضرت بوبکررضی اللہ تعالٰی عنہ ، عمرفاروقرضی اللہ تعالٰی عنہ، عثمانرضی اللہ تعالٰی عنہ، علیرضی اللہ تعالٰی عنہ، معاویہرضی اللہ تعالٰی عنہ ، زید بن ثابت رضی اللہ تعالٰی عنہ،ابی بن کعبرضی اللہ تعالٰی عنہ، خالد بن ولیدرضی اللہ تعالٰی عنہ،ثابت بن قیسرضی اللہ تعالٰی عنہ،۔ قرآن کا جو حصہ نازل ہوتا آپ صحابہ کو مامور فرماتے کہ اسے تحریر کرلیں یہاں تک کہ کتابت کے پہلو بہ پہلو قرآن کریم کو سینوں میں بھی محفوظ کرلیا گیا۔(مشہور مستشرق بلاشیر نے کاتبین وحی صحابہ کی تعداد چالیس بتائ ہے دیگر مستشرقین مثلاً شفالی بہل اور کازانوفاکا زاویہ نگاہ بھی یہی ہے مؤخر الذکر نے اس ضمن میں طبقا ابن سعد، طبری ، نووی اور سیرت حلبی پر اعتماد کیا ہے ۔) محدث حاکم نےمستدرک میں زید بن ثابت سے بخاری ومسلم کی شرط کے مطابق روایت کیا ہے کہ زید بن ثابت نے کہا ہم عہد رسالت میں ''رقاع''(ٹکڑوں)سے قرآن جمع کیا کرتے تھے ۔ (الاتقان،ج۱ص،۹۹نیز البرہان ،ج۱ص۲۳۷) مذکورہ صدر حدیث میں ''رقاع ''کا جو لفظ وا...

شرک فی التصرف کا بیان

بسم اللہ الرحمن الرحیم اللّٰھم لک الحمد حمدا یوافی نعمک ویکافی مزید کرمک احمد ک بجمیع محا مدک ما علمت و ما لم اعلم علی جمیع نعمک ما علمت منھا وما لم اعلم وعلی کل حالط اللّٰھم صل علی محمد و علی ال محمد و بارک وسلم۔ اما بعد۔ فاعوذ باللہ من الشیطن الرجیم ط بسم اللہ الرحمن الرحیمط قُلِ ادْعُوا الَّذِيْنَ زَعَمْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللہِ۝۰ۚ لَا يَمْلِكُوْنَ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ فِي السَّمٰوٰتِ وَلَا فِي الْاَرْضِ وَمَا لَہُمْ فِيْہِمَا مِنْ شِرْكٍ وَّمَا لَہٗ مِنْہُمْ مِّنْ ظَہِيْرٍ۝۲۲ وَلَا تَنْفَعُ الشَّفَاعَۃُ عِنْدَہٗٓ اِلَّا لِمَنْ اَذِنَ لَہٗ۝۰ۭ حَتّٰٓي اِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوْبِہِمْ قَالُوْا مَاذَا۝۰ۙ قَالَ رَبُّكُمْ۝۰ۭ قَالُوا الْحَقَّ۝۰ۚ وَہُوَالْعَلِيُّ الْكَبِيْرُ۝۲۳ (السبا:۲۲۔۲۳) اے میرے محسن خدا! کل تعریفوں کا مستحق تو ہی ہے، میں تیری وہ تعریف کرتا ہوں جو تیری دی ہوئی نعمتوں کا بدل ہو، ا ور اس سے جو زیادہ دے، اس کا بدلہ ہو، اور پھر میں تیری جن نعمتوں کو جانتا ہوں اور جن کو نہیں جانتا سب ہی کا ا ن خوبیوں کے ساتھ شکریہ ادا کرتا ہوں، جس کا مجھ کو علم ہے اور جن کا نہیں، غرضیکہ ہر ...

حکایت

حضرت شیخ الاسلام امام غزالی نے احیاء العلوم میں ایک حاسد آدمی کی یہ حکایت فرمائی ہے کہ ایک شخص بادشاہ کے سامنے کھڑا ہوکر یہ کہا کرتا تھا کہ نیک لوگوں کے ساتھ نیکی کرو اور محسن کے احسان کا بدلہ دو کیوںکہ برائی کرنے والے کی برائی تمہاری طرف سے خود کفایت کرے گی۔ یہ شخص بادشاہ کے سامنے یہ نصیحت کیا کرتا تھا جس سے اس کی بڑی عزت تھی۔ اس کی عزت، عظمت اور مرتبہ کو دیکھ کر ایک شخص کو حسد پیدا ہوگیا۔ اس نے بادشاہ سے شکایت کی کہ یہ شخص حضور کے سامنے کھڑا ہوکر گندہ دہن بتاتا ہے۔ بادشاہ نے کہا اس کی تصدیق کیسے ہو؟ حاسد نے کہا جب وہ آپ کے پاس آئے تو آپ اسے اپنے قریب بلا لیجیے، جب وہ آپ کے بالکل قریب آجائے گا تو اپنی ناک بند کرلے گا، تاکہ آپ کے منہ کی بدبو نہ آنے پائے۔ بادشاہ نے کہا بہت اچھا، کل امتحان کریں گے۔ ادھر اس حاسد نے بادشاہ سے یہ کہا، ادھر اس نے جاکر اس ناصح و نیک آدمی کی دعوت کرکے ایسا کھانا کھلایا جس میں لہسن بہت سا تھا۔ یہ کھانا کھا کر فارغ ہی ہوا تھا کہ دربار کا وقت آگیا۔ بدستور سابق بادشاہ کے سامنے کھڑے ہوکر اس نے وہی جملہ کہا جو کہا کرتا تھا۔ بادشاہ نے اس کو اپنے پاس بلانے کا ...

Rasulullah Sallallahu Alaihi Wasallam Kay Muay Mubarak By Shaykh Mufti Umar Farooq

Read Online (400 K) AN EXTRACT FROM MONTHLY MAGAZINE OF DARUL ULOOM DEOBAND ON SOME DETAILS REGARDING THE BELOVED AND MUBARIK HAIR OF RASOOLULLAH [Sallallahu Alaihi Wasallam]. By Shaykh Mufti Umar Farooq

اتباع سنت کا بیان

بسم اللہ الرحمن الرحیم الحمد للہ الذی لم یزل عالماً قدیرا حیاً قیوماً سمیعاً بصیراً و اشھد ان لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ واکبرہ تکبیراً۔ واشھد ان محمداعبدہ ورسولہ و صلی اللہ علی سیدنا محمد ن الذی ارسلہ الی الناس کافۃ بشیراً ونذیرًا۔ و علی الہ و صحبہ وسلم تسلیماً کثیراکثیرا۔ اما بعد! فاعوذ باللہ من الشیطن الرجیم۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللہَ فَاتَّبِعُوْنِيْ يُحْبِبْكُمُ اللہُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ۝۰ۭ وَاللہُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ۝۳۱ قُلْ اَطِيْعُوا اللہَ وَالرَّسُوْلَ۝۰ۚ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّ اللہَ لَا يُحِبُّ الْكٰفِرِيْنَ۝۳۲ (آل عمران:۳۱۔۳۲) سب تعریف اللہ کے لیے ثابت ہے،جو ہمیشہ سے جاننے والا، قدرت والا، زندہ رکھنے والا، سنبھالنے والا، سننے والا اور دیکھنے والا ہے، اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ ایک اور یکتا ہے، جس کا کوئی شریک نہیں ہے، اور میں اس کی بڑائی بیان کرتا ہوں، اور اس بات کی گواہی دیتا ہوں ، کہ محمد ﷺ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، اللہ تعالیٰ ہمارے آقا محمد ﷺ پر رحمت کا ملہ نازل فرم...

اللہ و رسول ﷺ کی اطاعت کا بیان

بسم ا للہ الرحمن الرحیم۔ الحمد للہ رب العالمین۔ الرحمن الرحیم۔ مالک یوم الدین۔ والصلوۃ والسلام علی رسولہ المبین سیدنا محمد خاتم النبیین۔ وعلی جمیع الانبیاء والمرسلین۔ وسائر عباد اللہ الصالحین۔ اما بعد! فاعوذ باللہ من الشیطن الرجیم ط بسم اللہ الرحمن الرحیم ط يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَطِيْعُوا اللہَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ وَاُولِي الْاَمْرِ مِنْكُمْ۝۰ۚ فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِيْ شَيْءٍ فَرُدُّوْہُ اِلَى اللہِ وَالرَّسُوْلِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللہِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ۝۰ۭ ذٰلِكَ خَيْرٌ وَاَحْسَنُ تَاْوِيْلًا۔ (النساء:۵۹) سب تعریف اللہ کے لیے ہے، جو سار ے جہاں کا پالنے والا ہے، بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، بدلے کے دن (قیامت )کا مالک ہے، اور درودوسلام نازل ہوں، ا للہ تعالیٰ کے رسول پر جو احکام الٰہی کے ظاہر کرنے والے ہیں، ہمارے سردار جن کا نام نامی اسم گرامی محمد ﷺ ہے، جو سب نبیوں کے ختم کرنے والے ہیں، اور اللہ کے تمام نبیوں ا ور رسولوں پر، اور ا للہ کے تمام نیک بندوں پر، حمد و صلوۃ کے بعد، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ا ے ایمان والوفرمانبرداری کرو اللہ کی اور فرمانبر...

شرک کی مذمّت

بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ الحمدللہ الذی لم یتخذ ولداو لم یکن لہ شریک فی الملک ولم یکن لہ ولی من الذل وکبرہ تکبیرا۔ ونشھد ان لاالہ ا لااللہ وحدہ لا شریک لہ ونشھد ان محمداعبدہ ورسولہ صلی اللہ علیہ وعلی اٰلہ واصحابہ وسلم تسلیما کثیرا۔ اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم ط بسم اللہ الرحمن الرحیم بِہٖ۝۰ۭ وَمَنْ يُّشْرِكْ بِاللہِ فَكَاَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَاۗءِ فَتَخْطَفُہُ الطَّيْرُ اَوْ تَہْوِيْ بِہِ الرِّيْحُ فِيْ مَكَانٍ سَحِيْقٍ (الحج:۳۱) سب تعریف اللہ ہی کے لیے ہے، جو نہ اولاد رکھتا ہے، اور اپنی سلطنت میں کسی کو شریک بھی نہیں کرتا، اور نہ وہ ایسا حقیر ہے، کہ اس کا کوئی حمائتی ہو، تم اس کی بڑائی بیان کرو، اور ہم اس بات کی شہادت دیتے ہیں، کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے، وہ ایک ا کیلا ہے، اس کے ساتھ کوئی شریک نہیں ہے، اور ہم اس بات کی شہادت دیتے ہیں، کہ محمدﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں، اللہ تعالیٰ ان پر اور ان کے اصحابؓ پر بہت بہت درود بھیجے حمدو صلوٰۃ کے بعد عرض ہے ، کہ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں یہ فرما رہاہے، کہ اللہ کے ساتھ شرک کرنے والا گویا آسمان سے گر پڑا، تو اب اسے یا تو پرند...