Skip to main content

قیامت کی نشانیاں



یوم آخرت پر ایمان، ایمان کےارکان میں سے ایک رکن ہے۔اور آدمی کا یوم آخرت پر ایمان اسی وقت مکمل ہوگا جب وہ قیامت کی ان نشانیوں پر ایمان رکھے جن کی خبر اللہ کے رسول نے دی ہے ۔ جب تک یہ نشانیاں واقع نہ ہوں قیامت قائم نہیں ہوسکتی۔ قیامت کی بہت سی نشانیاں ظاہر ہوچکی ہیں جو اس کے وقوع کے قریب ہونے کی خبر دیتی ہیں۔ لہذا بندوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے دین کی طرف لوٹیں اور اپنے رب کی طرف رجوع کریں۔اس وقت کسی کا ایمان لانا اس کے لیے مفید نہیں ہوگا جب تک کہ وہ پہلے ہی ایمان نہ لے آیا ہو۔ 

إن الحمد لله، نحمده، ونستعينه، ونستغفره، ونعوذ بالله من شرور أنفسنا، وسيئات أعمالنا، من يهده الله فلا مضل له، ومن يضلل فلا هادى له، وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له، وأشهد أن محمداً عبده ورسوله۔ برادران اسلام ! آج ہماری  گفتگو ایک اہم  موضوع پر ہوگی  جس کا  تعلق  غیب سے ہے۔ اور وہ ہے آثار قیامت  پر گفتگو۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:(فَهَلْ يَنظُرُونَ إِلَّا السَّاعَةَ أَن تَأْتِيَهُم بَغْتَةً ۖ فَقَدْ جَاءَ أَشْرَاطُهَا ۚ فَأَنَّىٰ لَهُمْ إِذَا جَاءَتْهُمْ ذِكْرَاهُمْ) (محمد:18)" تو کیا یہ قیامت کا انتظار کر رہے ہیں کہ وه ان کے پاس اچانک آجائے یقیناً اس کی علامتیں تو آچکی ہیں، پھر جبکہ ان کے پاس قیامت آجائے انہیں نصیحت کرنا کہاں ہوگا؟"اور مشہور حدیث  جبریل  میں ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  سے ایمان  کے بارے میں  پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:"الإیمان أن تؤمن باللہ وملائکتہ وکتبہ ورسلہ، والیوم الآخر، وتؤمن بالقدر خیرہ وشرہ""ایمان یہ ہے کہ تم اللہ پر،اس کے فرشتوں،  کتابوں، رسولوں   اور یوم آخرت  نیز تقدیر  کے خیر وشر پر ایمان لاؤ۔" اور حذیفہ بن اسید  الغفاری  سے روایت ہے ، انہوں   نے بیان  کیا کہ  ہم لوگ  ایک  کوٹھری کے سایہ تلے  بیٹھ کر باتیں    کر رہے تھے۔ چنانچہ  ہم لوگ قیامت کا ذکر کر نے لگے۔ تو ہماری   آواز بلند   ہونے لگی۔ تب ہی اللہ کے فرشتے نے رسول اللہ صلی اللہ  علیہ وسلم  کو بتایا: قیامت  تب تک نہیں واقع  نہیں ہوگی جب تک اس سے پہلے چند آیتیں (نشانیاں) سامنے نہ آجائيں۔ (أبوداود)اللہ تعالیٰ   نے فرمایا:(يَسْأَلُونَكَ عَنِ السَّاعَةِ أَيَّانَ مُرْسَاهَا ۖ قُلْ إِنَّمَا عِلْمُهَا عِندَ رَبِّي ۖ لَا يُجَلِّيهَا لِوَقْتِهَا إِلَّا هُوَ ۚ ثَقُلَتْ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ لَا تَأْتِيكُمْ إِلَّا بَغْتَةً ۗ يَسْأَلُونَكَ كَأَنَّكَ حَفِيٌّ عَنْهَا ۖ قُلْ إِنَّمَا عِلْمُهَا عِندَ اللَّـهِ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ) (الأعراف:187)"یہ لوگ آپ سے قیامت کے متعلق سوال کرتے ہیں کہ اس کا وقوع کب ہوگا؟ آپ فرما دیجئے کہ اس کا علم صرف میرے رب ہی کے پاس ہے، اس کے وقت پر اس کو سوا اللہ کے کوئی اور ﻇاہر نہ کرے گا۔ وه آسمانوں اور زمین میں بڑا بھاری (حادثہ) ہوگا وه تم پر محض اچانک آپڑے گی۔ وه آپ سے اس طرح پوچھتے ہیں جیسے گویا آپ اس کی تحقیقات کرچکے ہیں۔ آپ فرما دیجئے کہ اس کا علم خاص اللہ ہی کے پاس ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔" اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا:(يَسْأَلُكَ النَّاسُ عَنِ السَّاعَةِ ۖ قُلْ إِنَّمَا عِلْمُهَا عِندَ اللَّـهِ ۚ وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّ السَّاعَةَ تَكُونُ قَرِيباً) (الأحزاب:63)" لوگ آپ سے قیامت کے بارے میں سوال کرتے ہیں۔ آپ کہہ دیجیئے! کہ اس کا علم تو اللہ ہی کو ہے، آپ کو کیا خبر بہت ممکن ہے قیامت بالکل ہی قریب ہو۔" اور فرمایا(يَسْأَلُونَكَ عَنِ السَّاعَةِ أَيَّانَ مُرْسَاهَا فِيمَ أَنتَ مِن ذِكْرَاهَا إِلَىٰ رَبِّكَ مُنتَهَاهَا) (النازعات: 42-44)" لوگ آپ سے قیامت کے واقع ہونے کا وقت دریافت کرتے ہیں، آپ کو اس کے بیان کرنے سے کیا تعلق؟، اس کے علم کی انتہا تو اللہ کی جانب ہے۔"اور جب آپ سے وقوع قیامت   کے بارے  میں پوچھا گيا تو آپ نے فرمایا: اس کے بارے میں پوچھا جانے والاشخص، پوچھنے  والے سے زیادہ نہیں  جانتا۔" (مسلم)ابن رجب  حنبلی رحمہ اللہ  نے فرمایا: وقوع  قیامت   کے وقت سے متعلق ساری مخلوق  کا علم  یکساں  ہے۔ اور یہ اس بات کی طرف  اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے علم   کو اپنے  لیے خاص  کر لیا ہے۔اما م احمد، ابن  ماجہ اور  حاکم  نے نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم   سے مروی  ایک حدیث  بیان کی ہے، شب اسراء میں میں نے حضرت  ابراہیم  وموسیٰ  وعیسیٰ علیہم الصلاۃ والسلام سے ملاقات  کی۔ فرمایا:  کہ سبھوں   نے قیامت  کا ذکر کیا۔  پھر انہوں نے اس معا ملہ  کو حضرت  ابراہیم  کی طرف پھیر دیا۔  مگر انہوں   نے کہا کہ مجھے   اس کا علم نہیں۔ تب پھر حضرت  موسیٰ علیہ الصلاۃ والسلام  کی طرف لوٹا دیا۔  تو انہوں نے  بھی یہی  کہا کہ مجھے  اس کا علم نہیں ہے۔اس کے بعد   حضر ت عیسیٰ علیہ الصلاۃ والسلام کی طرف پلٹ   دیا۔ تو انہوں  نے جواب دیا کہ قیامت  کی حقیقت   وقوع کا پتہ صرف  اللہ کو ہے۔ اور میرے  رب کی  مجھ  سے صرف  یہ بات ہے کہ   دجال  کا خروج ہوگا۔ فرمایا:  کہ میرے  پاس  دو مسواک ہوں گی۔ چنانچہ دجال   جب مجھے  دیکھےگا تو وہ شیشہ  کی طرح پگھلنے  لگےگا  اور اللہ اسے ہلاک  وبر باد  کر دےگا۔آیات قرآنیہ  اور احادیث  نبویہ  قیامت    کی قربت  ونزدیکی  پر دال  ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:(اقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَهُمْ فِي غَفْلَةٍ مُّعْرِضُونَ) (الأنبیاء:1)"لوگوں کے حساب کا وقت قریب آگیا پھر بھی وه بے خبری میں منھ پھیرے ہوئے ہیں۔"اور فرمایا    آپ   کو کیا پتہ   کہ کہیں  قیامت  قریب   ہو:(وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّ السَّاعَةَ تَكُونُ قَرِيبً) (الأحزاب:63)اور فرمایا: "بعثت أنا والساعۃ کھاتین" (بخاری)"میری  بعثت اور  قیامت دونوں (آ پ نے اپنی انگلیوں   کو پھیلا کر  اشارہ فر مایا کہ) اس طرح ہیں۔" قیامت  کی نشانیاں صغریٰ اور کبریٰ  میں منقسم ہیں۔ چنانچہ صغریٰ   وہ  نشانیاں  ہیں جو لمبے   زمانوں  سے قیامت   کا پیش خیمہ ہیں۔ وہ معتاد  رواں  قسم  کی ہوتی  ہیں۔ ان میں بعض نشانیاں قیامت کی بڑی  نشانیوں  اور اہم امور میں سے ہیں جو قرب قیامت میں رونما ہوں گی اور وہ غیر معتاد  قسم کی ہوں گی۔ جیسے دجال  کا خروج وغیر ہ۔ علامات قیامت کی اپنے ظاہر ہو نے کی حیثیت سے تین قسمیں  ہیں:۱۔    وہ جو ظاہر ہو کر ختم ہوگئيں۔۲۔  وہ جو ظاہر  ہوتی جارہی ہیں۔۳۔    اوروہ  جو اب تک  ظاہر  نہیں ہوئی  ہیں۔حضرت سہل  بن سعد رضی اللہ عنہ  سے روایت  ہے، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:(بعثت أنا والساعۃ کھاتین)اور عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں  نے بیان  کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:"أعدد ستا بین یدی الساعۃ" (بخاری:3176)"قیامت   سے پہلے چھ چیزوں  کو  یکے بعد  ديگر ے،  شمار کرتے جاؤ۔ جیسے میری  موت۔"حضرت ابو بکر   وعمر رضی اللہ عنہما جب حضرت  ام ایمن   سے ملنے گئے   تو ان سے سوال  کے جواب میں کہا گيا: آپ کی موت کے بعد آسمان  سے وحی کا نزول رک گيا۔ اور  ابو موسیٰ اشعری  رضی اللہ عنہ  سے روایت  ہے، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت  سے پہلے  تاریک رات کے حصوں  کی طرح  فتنے  نمودار  ہوں گے۔  آدمی   صبح  کو مومن مسلمان ہوگا  اور شام ہو تے ہی  کا فر۔ اسی طرح شام  کو مومن  ہوگا  اور صبح ہوتے ہی کافر    ہو جائےگا۔ ایسی حالت  میں   کہیں پر بیٹھا  شخص کھڑے ہوئے آدمی سے بہتر ہوگا۔ کھڑا ہوا چلنے والے سے بہتر  ہوگا اور چلنے والا دوڑنے والے  سے بہتر ہوگا۔ اس لیے  اپنے  تیر وکمان   کو توڑ ڈالو   اور تلوار یں  پتھروں  پہ  مار دو۔ کوئی اگر میرے پاس  تم میں سے آئے تو وہ اچھے آدمی  جیسا  ہو۔ (أحمد، أبوداود، وابن ماجۃ وحاکم) اور حضرت   ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ   سے روایت  ہے، انہوں  نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا : قیامت اس وقت   تک برپا  نہیں  ہوگی جب تک  کہ ایک  آگ سرزمین جحاز  سے روشن  نہ ہوجائے۔  جو بصریٰ میں موجود  اونٹ کی گردنوں تک کو  روشن اور ظاہر  کر دےگی۔   یہ آگ  ساتویں صدی  ہجری  کے درمیان  654ھ  میں ظاہر ہوچکی ہے۔ جو بڑی آگ  تھی۔ علماء نے اس آگ کے بارے میں ظہور  آتش  والے زمانہ اور  مابعد کے لوگوں  کے حوالے  سے بیان کیا ہے۔ اور حضرت  ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت  ہے ، انہوں  نے بیا ن کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:(إذا ضیعت الأمانۃ فانتظر الساعۃ) (بخاری)"جب  اما نت  کو بر باد کردیا جانے لگے، تو پھر قیامت  کا انتظار  کرو۔"

إن الحمد لله، نحمده، ونستعينه، ونستغفره، ونعوذ بالله من شرور أنفسنا، وسيئات أعمالنا، من يهده الله فلا مضل له، ومن يضلل فلا هادى له، وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له، وأشهد أن محمداً عبده ورسوله، أما بعد!
 حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ  نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  سے روایت کرتے ہیں کہ آپ  نے فرمایا    یہ امت اس وقت تک  فنا نہیں  ہوگی جب تک  آدمی  اپنی بیوی  کو  اٹھا  کر نہ لے جائے اور راستے   میں  نہ  لٹادے۔  اس وقت لوگوں  میں سب   سے اچھا  وہ ہوگا جو    کہے گا  کہ اس دیوار  کے پیچھے اگر  اسے چھپا  لیتا   تو بہتر  ہوتا۔ (أبو یعلیٰ)
اور حضرت ابن مسعود  رضی اللہ عنہ   نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم   سے روایت  کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : قیامت  سے پہلے  کی  یہ نشانی ہے کہ سود عام ہوجائےگا۔ (طبرانی)
 اور حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ  سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:آخر زمانہ  میں  زمین کا دھنسنا، آسمان سے پتھروں کی بارش کا ہونا اور صورتوں کا  مسخ ہونا ہوگا۔  پوچھا گيا: اے اللہ  کے  رسول ! یہ کب ہوگا؟ تو آپ   نے فرمایا کہ جب گا نے   بجا نے کے آلات   اور گانے  بجا نے والیاں  عام   ہو نے لگیں۔" (ابن ماجہ)
اور حضرت جبرئيل   کی مشہور حدیث میں ہے کہ انہوں  نے عرض کیا  اے  اللہ کے رسول!   آپ مجھے قیامت کی  نشانیوں  کی بارے میں ہی  بتا دیجئے۔ تو آپ نے فرمایا:    یہ ہے کہ  باندی   اپنی مالکن   کو جنےگی اور  یہ کہ ننگے  پاؤں، ننگے  جسم،  محتاج ، بکری کے چرواہوں  کو عمارتوں  کے سلسلے میں باہم  فخر کرتے ہوئے دیکھو گے۔ (مسلم)
 اور حضرت  ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ  سے روایت  ہے، انہوں نے بیان کیا کہ  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا :
"لا تقوم الساعۃ حتی تظھر الفتن ویکثر  الکذب  وتتقارب  الأسواق"
"قیامت اس وقت تک قائم نہیں   ہوگی   جب تک  فتنے نہ ظاہر  ہونے لگیں، جھوٹ  نہ پھیلنے  لگے  اور بازار قریب قریب نہ ہونے  لگیں۔" (أحمد)
 اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
(حَتَّىٰ إِذَا فُتِحَتْ يَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ وَهُم مِّن كُلِّ حَدَبٍ يَنسِلُونَ) (الأنبیاء:96)
"یہاں تک کہ یاجوج اور ماجوج کھول دیئے جائیں گے اور وکپ ہر بلندی سے دوڑتے ہوئے آئیں گے۔"
اور فرمایا:
(وَإِذَا وَقَعَ الْقَوْلُ عَلَيْهِمْ أَخْرَجْنَا لَهُمْ دَابَّةً مِّنَ الْأَرْضِ تُكَلِّمُهُمْ أَنَّ النَّاسَ كَانُوا بِآيَاتِنَا لَا يُوقِنُون) (النمل:82)
"جب ان کے اوپر عذاب کا وعدہ ثابت ہو جائےگا، ہم زمین سے ان کے لیے ایک جانور نکالیں گے جو ان سے باتیں کرتا ہوگا کہ لوگ ہماری آیتوں پر یقین نہیں کرتے تھے۔"
حضرت  حذیفہ  بن اسید  رضی اللہ عنہ  سے روایت  ہے، انہوں  نے بیان  کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  تشریف  لائے۔ اس وقت ہم  لوگ قیامت   کا ذکر  کر رہے تھے۔ تو آپ  نے فرمایا: جب تک دس  نشانیاں  نہ ظاہر  ہو  جائيں ،  قیامت   قائم  نہیں ہوگی۔
پچھم  سے طلوع  آفتاب، دجال   کا خروج ،    دھواں ہونا،   زمین سے جانور کا نکلنا، یاجوج  وماجوج  کا کھول  دیاجانا، حضرت عیسیٰ علیہ السلام   کا خروج   اور  تین   مقامات  پر زمین کا دھنسایا جانا، ایک مشرق   میں ایک مغرب میں ایک  جزیرۂ عر ب میں اور آگ جو عدن  کی کھائی سے نمودار  ہوگی جو لوگوں  کو میدان  محشر  کی طرف لے جائےگی، لوگ جب  سوئیں  گے تو آگ  بھی سوئے گی اور جب  قیلولہ  کریں گے   تو  وہ بھی  قیلولہ  کرےگی۔" (ابن ماجہ)
 اللہ کے بندو!یہ ہیں کچھ  قیامت  کی نشانیاں، تو کیا ہم  نے قیامت کے لیے کوئی  تیاری   کی ہے؟ہم نے   کیا عمل  کیا ہے؟ کیا ہم نے اللہ سے توبہ واستغفار   کیا؟ اے اللہ  کے بندو! جان لیں کہ قیامت  کی   چھوٹی   نشانیاں، اس کی بڑی نشانیوں  کے نزدیک  ہونے کی دلیل  ہیں۔   وہ جب  واقع  ہوں گی   تو قیامت   بپا ہوگی۔  اس لیے اللہ کے بندو!  اللہ سے ڈرو۔   اپنے  عمل   کی اصلاح  کرو اور قیامت  کے لیے تیاری  بھی۔ نیز  جان لو  کہ بلا شبہ قیامت  آکر  رہے گی۔

Comments

Popular posts from this blog

اللہ تعالیٰ کے حقوق

بسم اللہ الرحمن الرحیم اللہ تعالیٰ کے حقوق اللہ تعالیٰ کا حق تمام حقوق سے زیادہ ضروری ہے اور سب سے اہم ہے۔کیونکہ وہ اس کائنات کا خالق و مالک اور تمام تر امور کی تدبیر کرنے والا ہے۔وہ زندہ جاوید ہستی ہے جو تمام کائنات کا نطام سنبھالے ہوئے ہے،اس نے ہر چیز کو پیدا کیا اور اپنی حکمت بالغہ سے اس کا اندازہ کیا۔انسان کو اشرف المخلوقات بنایا ،پھر انسان کو اپنے احسانات یاد کرائے کہ اے انسان !تجھ پر اس ذات کا حق ہے جس نے نعمتوں کے ساتھ تیری پرورش کی۔تو اپنی ماں کے پیٹ میں تین طرح کے اندھیروں میں تھا۔جہاں مخلوقات میں کوئی بھی تجھے غذا یا ایسی اشیاء نہیں پہنچا سکتا تھا جو تیری افزائش اور زندگی کو قائم رکھنے والی ہوں۔اس نے ماں کی چھاتیوں میں وافر دودھ اتارا،تجھے اس کی راہ دکھلائی اور تیرے والدین کو تیرا محسن بنا دیا۔تیری امداد کی اور تجھے کامیاب کیا۔ارشاد باری تعالیٰ ہے: وَٱللَّهُ أَخْرَجَكُم مِّنۢ بُطُونِ أُمَّهَٰتِكُمْ لَا تَعْلَمُونَ شَيْا وَجَعَلَ لَكُمُ ٱلسَّمْعَ وَٱلْأَبْصَٰرَ وَٱلْأَفْدَةَ ۙ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ ﴿78﴾ ترجمہ: اور اللہ ہی نے تم کو تمہاری ماؤں کے شکم سے پیدا کیا کہ...

یہودی پروٹوکولز

Online Read یہودی پروٹوکولز ============================================== Online Read E Book یہودی پروٹوکولز ============================================== Download Free یہودی پروٹوکولز ---------------------------------------------------- Download Free یہودی پروٹوکولز ----------------------------------------------------

Kaghazee Qiyamat mazhar kaleem M.A

Download 1 Download 2

جمع عثمانی رِوایات کے آئینے میں

نبی مکرمﷺ کی حدیث مبارکہ ’’خَیْرُ النَّاسِ قَرْنِيْ ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَھُمْ ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَھُمْ‘‘۔(صحیح البخاري: ۲۶۵۲) پر جب نظر پڑتی ہے تو سر احسان و نیازمندی کے ملے جلے تاثر ات سے جھک جاتا ہے کہ واقعتا آپﷺ، صحابہ رضی اللہ عنہم اور تابعین رحمہم اللہ کا زمانہ خیر القرون تھا، کیونکہ اس میں بنی نوع اِنسان کی راہ روی اور اسلام کی سربلندی کے لیے وہ محنتیں اور کوششیں ہوئی ہیں کہ جس کی مثال آئندہ جمیع قرون میں پیش کرنا مشکل ہے۔ یقینا وہ لوگ اس قابل تھے کہ اُنہیں یہ ذمہ داری سونپی جاتی کہ وہ دینِ الٰہی اور شرع اللہ کو اپنی مکمل تشریحات کے ساتھ آئندہ نسلوں تک منتقل کریں، بلا شبہ وہ طائفہ فائزہ اپنے اس مقصد میں بامراد ہوا ہے۔ان جملہ ذمہ داریوں میں سے اَہم ترین ذمہ داری یہ تھی کہ ہدایت سماوی کے آخری ربانی صحیفہ کو محفوظ اور غیر متبدل شکل میں ہم تک پہنچایا جائے۔ ہمارا یہ قطعی ایمان ہے کہ وہ پیام اَیزدی آج اپنی سو فیصد اَصلی اور حقیقی شکل میں ہمارے درمیان موجود ہے۔ الحمد ﷲ علی ذلک۔اِس سلسلہ میں خیرالقرون میں جو سب سے اَہم کام ہوا ہے وہ سیدنا عثمان ذوالنورین رضی ال...

گستاخ رسول کی سزااورحکومت وقت کی ذمہ داری

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ: ”الہدیٰ انٹرنیشنل“ ایک دینی ادارہ کہلاتا ہے، کیا اس ادارے والے صحیح المسلک اور متبع سنت ہیں یا نہیں ؟یہاں تعلیم حاصل کرنے والی چند خواتین جوکہ قرآن کریم کی تجوید درست کرنے یا علم دین حاصل کرنے کی طلب میں ان مدارس میں گئیں‘ لیکن وہاں چند ایسے مسائل سامنے آئے کہ عجیب تذبذب اور پریشانی کا شکار ہوگئیں‘ آپ سے درخواست ہے کہ کافی شافی اور تفصیلی جواب عنایت فرمایئے اور امت مسلمہ کے تذبذب کو دور فرمایئے اور گمراہی سے بچایئے ۔ اسی طرح پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ایک شہر میں لڑکیوں کا ایک مدرسہ ہے‘ جس کی صدر مدرسہ یا منتظمہ ایک خاتون ہیں ‘یہ خاتون غیر شادی شدہ ہیں۔ نیز یہ جامعہ‘ صرف بنات کا ہے۔ یہاں کا سارا نظام موصوفہ یا یہیں کی تعلیم یافتہ چند خواتین سنبھالتی ہیں‘ یہ بھی غیر شادی شدہ ہیں۔ مقصد یہ ہے کہ یہاں کی انتظامیہ میں کسی مرد کاکوئی عمل دخل نہیں ہے اور جس طرح یہ تمام خواتین غیر شادی شدہ ہیں۔ اسی طرح یہاں کی تمام طالبات بھی غیر شادی شدہ ہیں۔ اگر کسی طالبہ کے بارے میں یہ علم ہوجائے کہ یہ شادی شدہ ہے تو اسے خارج کردیا جاتاہے او...

قرآن حکیم کے نازل ہونے کی کیا غرض ہے

سورہ آلِ عمران هَـٰذَا بَيَانٌ لِّلنَّاسِ وَهُدًى وَمَوْعِظَةٌ لِّلْمُتَّقِينَ ﴿١٣٨﴾ یہ (قرآن) لوگوں کے لیے بیان صریح اور اہلِ تقویٰ کے لیے ہدایت اور نصیحت ہے۔ سورہ المآئدۃ يَا أَهْلَ الْكِتَابِ قَدْ جَاءَكُمْ رَسُولُنَا يُبَيِّنُ لَكُمْ كَثِيرًا مِّمَّا كُنتُمْ تُخْفُونَ مِنَ الْكِتَابِ وَيَعْفُو عَن كَثِيرٍ ۚ قَدْ جَاءَكُم مِّنَ اللَّـهِ نُورٌ وَكِتَابٌ مُّبِينٌ ﴿١٥﴾هْدِي بِهِ اللَّـهُ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَهُ سُبُلَ السَّلَامِ وَيُخْرِجُهُم مِّنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ بِإِذْنِهِ وَيَهْدِيهِمْ إِلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ ﴿١٦﴾  اے اہل کتاب! تمہارے پاس ہمارے پیغمبر (آخرالزماں) آ گئے ہیں کہ جو کچھ تم کتاب (الہٰی) میں سے چھپاتے تھے وہ اس میں سے بہت کچھ تمہیں کھول کھول کر بتا دیتے ہیں اور تمہارے بہت سے قصور معاف کر دیتے ہیں بےشک تمہارے پاس خدا کی طرف سے نور اور روشن کتاب آ چکی ہے۔جس سے خدا اپنی رضا پر چلنے والوں کو نجات کے رستے دکھاتا ہے اور اپنے حکم سے اندھیرے میں سے نکال کر روشنی کی طرف لے جاتا اور ان کو سیدھے رستہ پر چلاتا ہے۔ وَكَتَبْنَا عَلَيْه...

The Case of Hudood Ordinances By Shaykh Mufti Taqi Usmani

Read Online [0.4] Urdu Translation

Yusufzai (Pashtun tribe)

The  Yūsufzai  (also  Youssofzay ,  Yousefzai ,  Yousafzai ,  Esapzey ,  Yousufi , or  Yūsufi ) (Pashto:  يوسفزی ,Persian and Urdu:  یوسف زئی ) is one of the largest Pashtun (Afghans) tribes. The majority of the Yusufzai tribe reside in parts of Western Afghanistan, Khyber Pakhtunkhwa and Provincially Administered Tribal Areas near the Afghan-Pakistan border. They are the predominant population in the districts of Konar, Ningarhar, Mardan District, Dir, Swat,Malakand, Swabi, Buner, Shangla, Haripur District [Khalabat Town Ship and Tarbela] and in Mansehra and Battagram. There is also a Yusufzai clan of Dehwar tribe in the Mastung district of Balochistan who speak Persian with some mixture of Birahvi words. The descendants of Yusuf inhabit Konar, Jalalabad, Swat, Upper Dir, Lower Dir, Malakand Swabi and Mardan...

ان شاءاللہ لکھنے میں غلطی کرنا

بسم اللہ الرحمن الرحیم السلام علیکم ورحمتہ اللہ آ پ لوگوں نے اکثر کتابوں میں لفظ ان شاءاللہ کو اس طرح لکھا ہوا پڑھاہوگا انشاءاللہ اور جب کہ اس طرح لکھنے سے اس کا معنی بدل جاتا ہے۔ لفظ ان شاءاللہ کے اردو میں معنی بنتا ہے اگر اللہ نے چاہا اور جب کہ انشاء عربی میں کسی چیز کو بنانے کو کہتے ہیں اس طرح انشاءاللہ کے معنی بہت غلط بن جاتے ہیں ۔ہم لوگ عربی زبان سے واقفیت نہ رکھنے کی وجہ سے ایسی غلطیاں کر جاتے ہیں اللہ ہمیں معاف فرمائے آمین۔اللہ کا ارشاد ہے کہاِنَّآ اَنْشَاْنٰهُنَّ اِنْشَاۗءً 35۝ۙہم نے ان (کی بیویوں کو) خاص طور پر بنایا ہے۔الواقعہ:۳۵قَالَ اِنَّمَا يَاْتِيْكُمْ بِهِ اللّٰهُ اِنْ شَاۗءَ وَمَآ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِيْنَ 33 ؀جواب دیا کہ اسے بھی اللہ تعالٰی ہی لائے گااگر وہ چاہے اور ہاں تم اسے ہرانے والے نہیں ہو۔ھود:۳۳فَلَمَّا دَخَلُوْا عَلٰي يُوْسُفَ اٰوٰٓى اِلَيْهِ اَبَوَيْهِ وَقَالَ ادْخُلُوْا مِصْرَ اِنْ شَاۗءَ اللّٰهُ اٰمِنِيْنَ 99؀ۭپھر جب (سب کے سب) یوسف کے پاس پہنچے تو اس نے اپنے والدین کو (عزت و احترام کے ساتھ) اپنے پاس جگہ دی اور کہا، ''کہاگر اللہ نے چاہا تو...

خواتین اسلام کو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی نصیحتیں

فرمانِ الہٰی ہے :۔ 1(اے نبی صلی اللہ علیہ و سلم ) مومن عورتوں سے کہہ دیجئے کہ وہ اپنی نظر یں نیچی رکھیں ، اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں ۔ (النور24:آیت31) 2 اپنی زیب وزینت کا اظہار نہ ہونے دیں۔(النور24:آیت31) 3 اپنی اوڑھنیاں اپنے سینوں پر ڈالے رہیں۔(النور24:آیت31) 4 ( غیر محرموں سے) نرم لہجہ میں بات نہ کرو ۔(الاحزاب33:آیت32) 5 نماز کی پابندی کرو، زکوٰۃ کی ادائیگی کرو۔(الاحزاب33:آیت32) 6 اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو۔(الاحزاب33:آیت32) رسول اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا :۔ 1 ایسے راستوں پر نہ چلیں جہاں مردوں کی ریل پیل ہوبلکہ کنارے کنارہ چلتے ہوئے راستہ طے کریں۔(ابوداؤد) 2 غیر محرم مردوں سے تنہائی میں نہ ملیں اس لئے کہ اس وقت تیسرا شیطان ہوتا ہے۔(جو برائی کروانے کی بھرپور کوشش کرتا ہے)۔(ابوداؤد) 3 دیور ، جیٹھ وغیرہ سے بھی تنہائی میں نہ ملیں۔(بخاری) 4 غیر محرم کے ساتھ سفر سے اجتناب کریں۔(بخاری) 5 بازار بد ترین جگہ ہے (بلا ضرورت بازار نہ جائیں)۔(مسلم) 6 خوشبو لگا کر اور باریک لباس پہن کر گھر سے نہ نکلیں اس لئے کہ یہ عریانی اور د...