Skip to main content

قیامت کی نشانیاں



یوم آخرت پر ایمان، ایمان کےارکان میں سے ایک رکن ہے۔اور آدمی کا یوم آخرت پر ایمان اسی وقت مکمل ہوگا جب وہ قیامت کی ان نشانیوں پر ایمان رکھے جن کی خبر اللہ کے رسول نے دی ہے ۔ جب تک یہ نشانیاں واقع نہ ہوں قیامت قائم نہیں ہوسکتی۔ قیامت کی بہت سی نشانیاں ظاہر ہوچکی ہیں جو اس کے وقوع کے قریب ہونے کی خبر دیتی ہیں۔ لہذا بندوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے دین کی طرف لوٹیں اور اپنے رب کی طرف رجوع کریں۔اس وقت کسی کا ایمان لانا اس کے لیے مفید نہیں ہوگا جب تک کہ وہ پہلے ہی ایمان نہ لے آیا ہو۔ 

إن الحمد لله، نحمده، ونستعينه، ونستغفره، ونعوذ بالله من شرور أنفسنا، وسيئات أعمالنا، من يهده الله فلا مضل له، ومن يضلل فلا هادى له، وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له، وأشهد أن محمداً عبده ورسوله۔ برادران اسلام ! آج ہماری  گفتگو ایک اہم  موضوع پر ہوگی  جس کا  تعلق  غیب سے ہے۔ اور وہ ہے آثار قیامت  پر گفتگو۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:(فَهَلْ يَنظُرُونَ إِلَّا السَّاعَةَ أَن تَأْتِيَهُم بَغْتَةً ۖ فَقَدْ جَاءَ أَشْرَاطُهَا ۚ فَأَنَّىٰ لَهُمْ إِذَا جَاءَتْهُمْ ذِكْرَاهُمْ) (محمد:18)" تو کیا یہ قیامت کا انتظار کر رہے ہیں کہ وه ان کے پاس اچانک آجائے یقیناً اس کی علامتیں تو آچکی ہیں، پھر جبکہ ان کے پاس قیامت آجائے انہیں نصیحت کرنا کہاں ہوگا؟"اور مشہور حدیث  جبریل  میں ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  سے ایمان  کے بارے میں  پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:"الإیمان أن تؤمن باللہ وملائکتہ وکتبہ ورسلہ، والیوم الآخر، وتؤمن بالقدر خیرہ وشرہ""ایمان یہ ہے کہ تم اللہ پر،اس کے فرشتوں،  کتابوں، رسولوں   اور یوم آخرت  نیز تقدیر  کے خیر وشر پر ایمان لاؤ۔" اور حذیفہ بن اسید  الغفاری  سے روایت ہے ، انہوں   نے بیان  کیا کہ  ہم لوگ  ایک  کوٹھری کے سایہ تلے  بیٹھ کر باتیں    کر رہے تھے۔ چنانچہ  ہم لوگ قیامت کا ذکر کر نے لگے۔ تو ہماری   آواز بلند   ہونے لگی۔ تب ہی اللہ کے فرشتے نے رسول اللہ صلی اللہ  علیہ وسلم  کو بتایا: قیامت  تب تک نہیں واقع  نہیں ہوگی جب تک اس سے پہلے چند آیتیں (نشانیاں) سامنے نہ آجائيں۔ (أبوداود)اللہ تعالیٰ   نے فرمایا:(يَسْأَلُونَكَ عَنِ السَّاعَةِ أَيَّانَ مُرْسَاهَا ۖ قُلْ إِنَّمَا عِلْمُهَا عِندَ رَبِّي ۖ لَا يُجَلِّيهَا لِوَقْتِهَا إِلَّا هُوَ ۚ ثَقُلَتْ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ لَا تَأْتِيكُمْ إِلَّا بَغْتَةً ۗ يَسْأَلُونَكَ كَأَنَّكَ حَفِيٌّ عَنْهَا ۖ قُلْ إِنَّمَا عِلْمُهَا عِندَ اللَّـهِ وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ) (الأعراف:187)"یہ لوگ آپ سے قیامت کے متعلق سوال کرتے ہیں کہ اس کا وقوع کب ہوگا؟ آپ فرما دیجئے کہ اس کا علم صرف میرے رب ہی کے پاس ہے، اس کے وقت پر اس کو سوا اللہ کے کوئی اور ﻇاہر نہ کرے گا۔ وه آسمانوں اور زمین میں بڑا بھاری (حادثہ) ہوگا وه تم پر محض اچانک آپڑے گی۔ وه آپ سے اس طرح پوچھتے ہیں جیسے گویا آپ اس کی تحقیقات کرچکے ہیں۔ آپ فرما دیجئے کہ اس کا علم خاص اللہ ہی کے پاس ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔" اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا:(يَسْأَلُكَ النَّاسُ عَنِ السَّاعَةِ ۖ قُلْ إِنَّمَا عِلْمُهَا عِندَ اللَّـهِ ۚ وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّ السَّاعَةَ تَكُونُ قَرِيباً) (الأحزاب:63)" لوگ آپ سے قیامت کے بارے میں سوال کرتے ہیں۔ آپ کہہ دیجیئے! کہ اس کا علم تو اللہ ہی کو ہے، آپ کو کیا خبر بہت ممکن ہے قیامت بالکل ہی قریب ہو۔" اور فرمایا(يَسْأَلُونَكَ عَنِ السَّاعَةِ أَيَّانَ مُرْسَاهَا فِيمَ أَنتَ مِن ذِكْرَاهَا إِلَىٰ رَبِّكَ مُنتَهَاهَا) (النازعات: 42-44)" لوگ آپ سے قیامت کے واقع ہونے کا وقت دریافت کرتے ہیں، آپ کو اس کے بیان کرنے سے کیا تعلق؟، اس کے علم کی انتہا تو اللہ کی جانب ہے۔"اور جب آپ سے وقوع قیامت   کے بارے  میں پوچھا گيا تو آپ نے فرمایا: اس کے بارے میں پوچھا جانے والاشخص، پوچھنے  والے سے زیادہ نہیں  جانتا۔" (مسلم)ابن رجب  حنبلی رحمہ اللہ  نے فرمایا: وقوع  قیامت   کے وقت سے متعلق ساری مخلوق  کا علم  یکساں  ہے۔ اور یہ اس بات کی طرف  اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے علم   کو اپنے  لیے خاص  کر لیا ہے۔اما م احمد، ابن  ماجہ اور  حاکم  نے نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم   سے مروی  ایک حدیث  بیان کی ہے، شب اسراء میں میں نے حضرت  ابراہیم  وموسیٰ  وعیسیٰ علیہم الصلاۃ والسلام سے ملاقات  کی۔ فرمایا:  کہ سبھوں   نے قیامت  کا ذکر کیا۔  پھر انہوں نے اس معا ملہ  کو حضرت  ابراہیم  کی طرف پھیر دیا۔  مگر انہوں   نے کہا کہ مجھے   اس کا علم نہیں۔ تب پھر حضرت  موسیٰ علیہ الصلاۃ والسلام  کی طرف لوٹا دیا۔  تو انہوں نے  بھی یہی  کہا کہ مجھے  اس کا علم نہیں ہے۔اس کے بعد   حضر ت عیسیٰ علیہ الصلاۃ والسلام کی طرف پلٹ   دیا۔ تو انہوں  نے جواب دیا کہ قیامت  کی حقیقت   وقوع کا پتہ صرف  اللہ کو ہے۔ اور میرے  رب کی  مجھ  سے صرف  یہ بات ہے کہ   دجال  کا خروج ہوگا۔ فرمایا:  کہ میرے  پاس  دو مسواک ہوں گی۔ چنانچہ دجال   جب مجھے  دیکھےگا تو وہ شیشہ  کی طرح پگھلنے  لگےگا  اور اللہ اسے ہلاک  وبر باد  کر دےگا۔آیات قرآنیہ  اور احادیث  نبویہ  قیامت    کی قربت  ونزدیکی  پر دال  ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:(اقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَهُمْ فِي غَفْلَةٍ مُّعْرِضُونَ) (الأنبیاء:1)"لوگوں کے حساب کا وقت قریب آگیا پھر بھی وه بے خبری میں منھ پھیرے ہوئے ہیں۔"اور فرمایا    آپ   کو کیا پتہ   کہ کہیں  قیامت  قریب   ہو:(وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّ السَّاعَةَ تَكُونُ قَرِيبً) (الأحزاب:63)اور فرمایا: "بعثت أنا والساعۃ کھاتین" (بخاری)"میری  بعثت اور  قیامت دونوں (آ پ نے اپنی انگلیوں   کو پھیلا کر  اشارہ فر مایا کہ) اس طرح ہیں۔" قیامت  کی نشانیاں صغریٰ اور کبریٰ  میں منقسم ہیں۔ چنانچہ صغریٰ   وہ  نشانیاں  ہیں جو لمبے   زمانوں  سے قیامت   کا پیش خیمہ ہیں۔ وہ معتاد  رواں  قسم  کی ہوتی  ہیں۔ ان میں بعض نشانیاں قیامت کی بڑی  نشانیوں  اور اہم امور میں سے ہیں جو قرب قیامت میں رونما ہوں گی اور وہ غیر معتاد  قسم کی ہوں گی۔ جیسے دجال  کا خروج وغیر ہ۔ علامات قیامت کی اپنے ظاہر ہو نے کی حیثیت سے تین قسمیں  ہیں:۱۔    وہ جو ظاہر ہو کر ختم ہوگئيں۔۲۔  وہ جو ظاہر  ہوتی جارہی ہیں۔۳۔    اوروہ  جو اب تک  ظاہر  نہیں ہوئی  ہیں۔حضرت سہل  بن سعد رضی اللہ عنہ  سے روایت  ہے، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:(بعثت أنا والساعۃ کھاتین)اور عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں  نے بیان  کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:"أعدد ستا بین یدی الساعۃ" (بخاری:3176)"قیامت   سے پہلے چھ چیزوں  کو  یکے بعد  ديگر ے،  شمار کرتے جاؤ۔ جیسے میری  موت۔"حضرت ابو بکر   وعمر رضی اللہ عنہما جب حضرت  ام ایمن   سے ملنے گئے   تو ان سے سوال  کے جواب میں کہا گيا: آپ کی موت کے بعد آسمان  سے وحی کا نزول رک گيا۔ اور  ابو موسیٰ اشعری  رضی اللہ عنہ  سے روایت  ہے، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت  سے پہلے  تاریک رات کے حصوں  کی طرح  فتنے  نمودار  ہوں گے۔  آدمی   صبح  کو مومن مسلمان ہوگا  اور شام ہو تے ہی  کا فر۔ اسی طرح شام  کو مومن  ہوگا  اور صبح ہوتے ہی کافر    ہو جائےگا۔ ایسی حالت  میں   کہیں پر بیٹھا  شخص کھڑے ہوئے آدمی سے بہتر ہوگا۔ کھڑا ہوا چلنے والے سے بہتر  ہوگا اور چلنے والا دوڑنے والے  سے بہتر ہوگا۔ اس لیے  اپنے  تیر وکمان   کو توڑ ڈالو   اور تلوار یں  پتھروں  پہ  مار دو۔ کوئی اگر میرے پاس  تم میں سے آئے تو وہ اچھے آدمی  جیسا  ہو۔ (أحمد، أبوداود، وابن ماجۃ وحاکم) اور حضرت   ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ   سے روایت  ہے، انہوں  نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا : قیامت اس وقت   تک برپا  نہیں  ہوگی جب تک  کہ ایک  آگ سرزمین جحاز  سے روشن  نہ ہوجائے۔  جو بصریٰ میں موجود  اونٹ کی گردنوں تک کو  روشن اور ظاہر  کر دےگی۔   یہ آگ  ساتویں صدی  ہجری  کے درمیان  654ھ  میں ظاہر ہوچکی ہے۔ جو بڑی آگ  تھی۔ علماء نے اس آگ کے بارے میں ظہور  آتش  والے زمانہ اور  مابعد کے لوگوں  کے حوالے  سے بیان کیا ہے۔ اور حضرت  ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت  ہے ، انہوں  نے بیا ن کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:(إذا ضیعت الأمانۃ فانتظر الساعۃ) (بخاری)"جب  اما نت  کو بر باد کردیا جانے لگے، تو پھر قیامت  کا انتظار  کرو۔"

إن الحمد لله، نحمده، ونستعينه، ونستغفره، ونعوذ بالله من شرور أنفسنا، وسيئات أعمالنا، من يهده الله فلا مضل له، ومن يضلل فلا هادى له، وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له، وأشهد أن محمداً عبده ورسوله، أما بعد!
 حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ  نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  سے روایت کرتے ہیں کہ آپ  نے فرمایا    یہ امت اس وقت تک  فنا نہیں  ہوگی جب تک  آدمی  اپنی بیوی  کو  اٹھا  کر نہ لے جائے اور راستے   میں  نہ  لٹادے۔  اس وقت لوگوں  میں سب   سے اچھا  وہ ہوگا جو    کہے گا  کہ اس دیوار  کے پیچھے اگر  اسے چھپا  لیتا   تو بہتر  ہوتا۔ (أبو یعلیٰ)
اور حضرت ابن مسعود  رضی اللہ عنہ   نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم   سے روایت  کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : قیامت  سے پہلے  کی  یہ نشانی ہے کہ سود عام ہوجائےگا۔ (طبرانی)
 اور حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ  سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:آخر زمانہ  میں  زمین کا دھنسنا، آسمان سے پتھروں کی بارش کا ہونا اور صورتوں کا  مسخ ہونا ہوگا۔  پوچھا گيا: اے اللہ  کے  رسول ! یہ کب ہوگا؟ تو آپ   نے فرمایا کہ جب گا نے   بجا نے کے آلات   اور گانے  بجا نے والیاں  عام   ہو نے لگیں۔" (ابن ماجہ)
اور حضرت جبرئيل   کی مشہور حدیث میں ہے کہ انہوں  نے عرض کیا  اے  اللہ کے رسول!   آپ مجھے قیامت کی  نشانیوں  کی بارے میں ہی  بتا دیجئے۔ تو آپ نے فرمایا:    یہ ہے کہ  باندی   اپنی مالکن   کو جنےگی اور  یہ کہ ننگے  پاؤں، ننگے  جسم،  محتاج ، بکری کے چرواہوں  کو عمارتوں  کے سلسلے میں باہم  فخر کرتے ہوئے دیکھو گے۔ (مسلم)
 اور حضرت  ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ  سے روایت  ہے، انہوں نے بیان کیا کہ  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا :
"لا تقوم الساعۃ حتی تظھر الفتن ویکثر  الکذب  وتتقارب  الأسواق"
"قیامت اس وقت تک قائم نہیں   ہوگی   جب تک  فتنے نہ ظاہر  ہونے لگیں، جھوٹ  نہ پھیلنے  لگے  اور بازار قریب قریب نہ ہونے  لگیں۔" (أحمد)
 اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
(حَتَّىٰ إِذَا فُتِحَتْ يَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ وَهُم مِّن كُلِّ حَدَبٍ يَنسِلُونَ) (الأنبیاء:96)
"یہاں تک کہ یاجوج اور ماجوج کھول دیئے جائیں گے اور وکپ ہر بلندی سے دوڑتے ہوئے آئیں گے۔"
اور فرمایا:
(وَإِذَا وَقَعَ الْقَوْلُ عَلَيْهِمْ أَخْرَجْنَا لَهُمْ دَابَّةً مِّنَ الْأَرْضِ تُكَلِّمُهُمْ أَنَّ النَّاسَ كَانُوا بِآيَاتِنَا لَا يُوقِنُون) (النمل:82)
"جب ان کے اوپر عذاب کا وعدہ ثابت ہو جائےگا، ہم زمین سے ان کے لیے ایک جانور نکالیں گے جو ان سے باتیں کرتا ہوگا کہ لوگ ہماری آیتوں پر یقین نہیں کرتے تھے۔"
حضرت  حذیفہ  بن اسید  رضی اللہ عنہ  سے روایت  ہے، انہوں  نے بیان  کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  تشریف  لائے۔ اس وقت ہم  لوگ قیامت   کا ذکر  کر رہے تھے۔ تو آپ  نے فرمایا: جب تک دس  نشانیاں  نہ ظاہر  ہو  جائيں ،  قیامت   قائم  نہیں ہوگی۔
پچھم  سے طلوع  آفتاب، دجال   کا خروج ،    دھواں ہونا،   زمین سے جانور کا نکلنا، یاجوج  وماجوج  کا کھول  دیاجانا، حضرت عیسیٰ علیہ السلام   کا خروج   اور  تین   مقامات  پر زمین کا دھنسایا جانا، ایک مشرق   میں ایک مغرب میں ایک  جزیرۂ عر ب میں اور آگ جو عدن  کی کھائی سے نمودار  ہوگی جو لوگوں  کو میدان  محشر  کی طرف لے جائےگی، لوگ جب  سوئیں  گے تو آگ  بھی سوئے گی اور جب  قیلولہ  کریں گے   تو  وہ بھی  قیلولہ  کرےگی۔" (ابن ماجہ)
 اللہ کے بندو!یہ ہیں کچھ  قیامت  کی نشانیاں، تو کیا ہم  نے قیامت کے لیے کوئی  تیاری   کی ہے؟ہم نے   کیا عمل  کیا ہے؟ کیا ہم نے اللہ سے توبہ واستغفار   کیا؟ اے اللہ  کے بندو! جان لیں کہ قیامت  کی   چھوٹی   نشانیاں، اس کی بڑی نشانیوں  کے نزدیک  ہونے کی دلیل  ہیں۔   وہ جب  واقع  ہوں گی   تو قیامت   بپا ہوگی۔  اس لیے اللہ کے بندو!  اللہ سے ڈرو۔   اپنے  عمل   کی اصلاح  کرو اور قیامت  کے لیے تیاری  بھی۔ نیز  جان لو  کہ بلا شبہ قیامت  آکر  رہے گی۔

Comments

Popular posts from this blog

Yusufzai (Pashtun tribe)

The  Yūsufzai  (also  Youssofzay ,  Yousefzai ,  Yousafzai ,  Esapzey ,  Yousufi , or  Yūsufi ) (Pashto:  يوسفزی ,Persian and Urdu:  یوسف زئی ) is one of the largest Pashtun (Afghans) tribes. The majority of the Yusufzai tribe reside in parts of Western Afghanistan, Khyber Pakhtunkhwa and Provincially Administered Tribal Areas near the Afghan-Pakistan border. They are the predominant population in the districts of Konar, Ningarhar, Mardan District, Dir, Swat,Malakand, Swabi, Buner, Shangla, Haripur District [Khalabat Town Ship and Tarbela] and in Mansehra and Battagram. There is also a Yusufzai clan of Dehwar tribe in the Mastung district of Balochistan who speak Persian with some mixture of Birahvi words. The descendants of Yusuf inhabit Konar, Jalalabad, Swat, Upper Dir, Lower Dir, Malakand Swabi and Mardan...

یہودی پروٹوکولز

Online Read یہودی پروٹوکولز ============================================== Online Read E Book یہودی پروٹوکولز ============================================== Download Free یہودی پروٹوکولز ---------------------------------------------------- Download Free یہودی پروٹوکولز ----------------------------------------------------

دین اسلام میں رسول اللہ ﷺ کی اطاعت فرض ہے

بسم اللہ الرحمن الرحیم دین اسلام میں رسول اللہ ﷺ کی اطاعت فرض ہے يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ أَطِيعُوا۟ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ وَلَا تَوَلَّوْا۟ عَنْهُ وَأَنتُمْ تَسْمَعُونَ ﴿20﴾ترجمہ: اے ایمان والو الله اور اس کے رسول کا حکم مانو اور سن کر اس سے مت پھرو(سورۃ الانفال،آیت20) قُلْ أَطِيعُوا۟ ٱللَّهَ وَأَطِيعُوا۟ ٱلرَّسُولَ ۖ فَإِن تَوَلَّوْا۟ فَإِنَّمَا عَلَيْهِ مَا حُمِّلَ وَعَلَيْكُم مَّا حُمِّلْتُمْ ۖ وَإِن تُطِيعُوهُ تَهْتَدُوا۟ ۚ وَمَا عَلَى ٱلرَّسُولِ إِلَّا ٱلْبَلَٰغُ ٱلْمُبِينُ﴿56﴾ترجمہ: کہہ دو الله اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرو پھر اگر منہ پھیرو گے تو پیغمبر تو وہی ہے جس کا وہ ذمہ دار ہے اورتم پر وہ ہے جو تمہارے ذمہ لازم کیا گیا ہے اور اگر اس کی فرمانبرداری کرو گے تو ہدایت پاؤ گے اور رسول کے ذمہ صرف صاف طور پر پہنچا دینا ہے (سورۃ النور،آیت 56) مَّن يُطِعِ ٱلرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ ٱللَّهَ ۖ وَمَن تَوَلَّىٰ فَمَآ أَرْسَلْنَٰكَ عَلَيْهِمْ حَفِيظًۭا ﴿80﴾ترجمہ: جو شخص رسول کی فرمانبرداری کرے گا تو بےشک اس نے اللہ کی فرمانبرداری کی اور جو نافرمانی کرے گا تو اے ...

قرآن حکیم کے نازل ہونے کی کیا غرض ہے

سورہ آلِ عمران هَـٰذَا بَيَانٌ لِّلنَّاسِ وَهُدًى وَمَوْعِظَةٌ لِّلْمُتَّقِينَ ﴿١٣٨﴾ یہ (قرآن) لوگوں کے لیے بیان صریح اور اہلِ تقویٰ کے لیے ہدایت اور نصیحت ہے۔ سورہ المآئدۃ يَا أَهْلَ الْكِتَابِ قَدْ جَاءَكُمْ رَسُولُنَا يُبَيِّنُ لَكُمْ كَثِيرًا مِّمَّا كُنتُمْ تُخْفُونَ مِنَ الْكِتَابِ وَيَعْفُو عَن كَثِيرٍ ۚ قَدْ جَاءَكُم مِّنَ اللَّـهِ نُورٌ وَكِتَابٌ مُّبِينٌ ﴿١٥﴾هْدِي بِهِ اللَّـهُ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَهُ سُبُلَ السَّلَامِ وَيُخْرِجُهُم مِّنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ بِإِذْنِهِ وَيَهْدِيهِمْ إِلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ ﴿١٦﴾  اے اہل کتاب! تمہارے پاس ہمارے پیغمبر (آخرالزماں) آ گئے ہیں کہ جو کچھ تم کتاب (الہٰی) میں سے چھپاتے تھے وہ اس میں سے بہت کچھ تمہیں کھول کھول کر بتا دیتے ہیں اور تمہارے بہت سے قصور معاف کر دیتے ہیں بےشک تمہارے پاس خدا کی طرف سے نور اور روشن کتاب آ چکی ہے۔جس سے خدا اپنی رضا پر چلنے والوں کو نجات کے رستے دکھاتا ہے اور اپنے حکم سے اندھیرے میں سے نکال کر روشنی کی طرف لے جاتا اور ان کو سیدھے رستہ پر چلاتا ہے۔ وَكَتَبْنَا عَلَيْه...

جمع عثمانی رِوایات کے آئینے میں

نبی مکرمﷺ کی حدیث مبارکہ ’’خَیْرُ النَّاسِ قَرْنِيْ ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَھُمْ ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَھُمْ‘‘۔(صحیح البخاري: ۲۶۵۲) پر جب نظر پڑتی ہے تو سر احسان و نیازمندی کے ملے جلے تاثر ات سے جھک جاتا ہے کہ واقعتا آپﷺ، صحابہ رضی اللہ عنہم اور تابعین رحمہم اللہ کا زمانہ خیر القرون تھا، کیونکہ اس میں بنی نوع اِنسان کی راہ روی اور اسلام کی سربلندی کے لیے وہ محنتیں اور کوششیں ہوئی ہیں کہ جس کی مثال آئندہ جمیع قرون میں پیش کرنا مشکل ہے۔ یقینا وہ لوگ اس قابل تھے کہ اُنہیں یہ ذمہ داری سونپی جاتی کہ وہ دینِ الٰہی اور شرع اللہ کو اپنی مکمل تشریحات کے ساتھ آئندہ نسلوں تک منتقل کریں، بلا شبہ وہ طائفہ فائزہ اپنے اس مقصد میں بامراد ہوا ہے۔ان جملہ ذمہ داریوں میں سے اَہم ترین ذمہ داری یہ تھی کہ ہدایت سماوی کے آخری ربانی صحیفہ کو محفوظ اور غیر متبدل شکل میں ہم تک پہنچایا جائے۔ ہمارا یہ قطعی ایمان ہے کہ وہ پیام اَیزدی آج اپنی سو فیصد اَصلی اور حقیقی شکل میں ہمارے درمیان موجود ہے۔ الحمد ﷲ علی ذلک۔اِس سلسلہ میں خیرالقرون میں جو سب سے اَہم کام ہوا ہے وہ سیدنا عثمان ذوالنورین رضی ال...

ان شاءاللہ لکھنے میں غلطی کرنا

بسم اللہ الرحمن الرحیم السلام علیکم ورحمتہ اللہ آ پ لوگوں نے اکثر کتابوں میں لفظ ان شاءاللہ کو اس طرح لکھا ہوا پڑھاہوگا انشاءاللہ اور جب کہ اس طرح لکھنے سے اس کا معنی بدل جاتا ہے۔ لفظ ان شاءاللہ کے اردو میں معنی بنتا ہے اگر اللہ نے چاہا اور جب کہ انشاء عربی میں کسی چیز کو بنانے کو کہتے ہیں اس طرح انشاءاللہ کے معنی بہت غلط بن جاتے ہیں ۔ہم لوگ عربی زبان سے واقفیت نہ رکھنے کی وجہ سے ایسی غلطیاں کر جاتے ہیں اللہ ہمیں معاف فرمائے آمین۔اللہ کا ارشاد ہے کہاِنَّآ اَنْشَاْنٰهُنَّ اِنْشَاۗءً 35۝ۙہم نے ان (کی بیویوں کو) خاص طور پر بنایا ہے۔الواقعہ:۳۵قَالَ اِنَّمَا يَاْتِيْكُمْ بِهِ اللّٰهُ اِنْ شَاۗءَ وَمَآ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِيْنَ 33 ؀جواب دیا کہ اسے بھی اللہ تعالٰی ہی لائے گااگر وہ چاہے اور ہاں تم اسے ہرانے والے نہیں ہو۔ھود:۳۳فَلَمَّا دَخَلُوْا عَلٰي يُوْسُفَ اٰوٰٓى اِلَيْهِ اَبَوَيْهِ وَقَالَ ادْخُلُوْا مِصْرَ اِنْ شَاۗءَ اللّٰهُ اٰمِنِيْنَ 99؀ۭپھر جب (سب کے سب) یوسف کے پاس پہنچے تو اس نے اپنے والدین کو (عزت و احترام کے ساتھ) اپنے پاس جگہ دی اور کہا، ''کہاگر اللہ نے چاہا تو...

قراء توں کا اِختلاف اور منکرینِ حدیث

یہ ایک مسلّمہ اَمر ہے کہ قرآن مجید کی ایک سے زیادہ قراء تیں ثابت ہیں۔ لیکن اہلِ قرآن کہلانے والے منکرین حدیث ان اختلافِ قراء ات کو نہیں مانتے۔ وہ کہتے ہیں کہ قرآن کی صرف ایک ہی قراء ت ہے اور یہ کہ خود نبیﷺنے قرآن کو کتابی صورت میں مرتب اور مدوّن کیا اور اس پر اعراب و نقطے لگوائے تھے جبکہ یہ بات خلاف ِ واقعہ ہے۔جناب پرویز صاحب لکھتے ہیں:’’ہم سمجھتے ہیں کہ اس کے بعد ’اختلاف قراء ت‘ کے فتنہ کے متعلق کچھ سمجھنے کی ضرورت باقی نہیں رہتی‘‘(طلوع اسلام، ص۵۶، شمارہ جنوری ۱۹۸۲ء، لاہور)وہ مزید لکھتے ہیں :’’قرآن مجیدجس شکل میں ہمارے پاس موجود ہے اسے خود رسول اللہﷺنے اسی طرح مرتب اور مدوّن شکل میں اُمت کو دیا تھا۔‘‘(طلوع اسلام، ص۴۲، شمارہ جنوری۱۹۸۲ء، لاہور)اسی طرح ایک اور منکرِ حدیث رحمت اللہ طارق صاحب نے لکھا ہے :’’اختلاف قراء ت کا فتنہ ہی لے لیجئے جس کا مودودی صاحب جیسا شخص نہ صرف معترف اور معتقد ہے بلکہ سرگرم مبلغ اور پُرجوش ناشر ہے۔‘‘(اعجاز قرآن و اختلاف قراء ت، مرتبہ تمنا عمادی:۷۴۲) طارق صاحب نے مزید لکھا ہے :’’ لَوْ کَانَ مِنْ عِنْدِ غَیْرِ اﷲِ لَوَجَدُوْا فِیْہِ اخْتِلَافًا کَثِیْرًا ‘‘...

جمع قرآن اور اس کی تدوین

جمع قرآن اور اس کی تدوین جمع قرآن سے مراد قرآن کریم کا جمع کرنا۔ خواہ حفظ سے ہو یا کتابت سے یا تلاوت کی ریکارڈنگ سے۔ اور تدوین سے مراد اس کو کتابی صورت میں ترتیب دینا ہے۔ان سب مراحل کی ایک دل چسپ معلوماتی تاریخ ہے جسے ایک طالب علم کے لئے جاننا بہت اہم ہے۔تاکہ وہ آگاہ رہے کہ یہ مقدس کتاب کس طرح کن کن ادوار سے گذر کر محفوظ ترین صورت میں ہم تک پہنچی؟مقصد جمع قرآن: جمع قرآن کا مقصد یہی تھا کہ جس طرح قرآن مجید آپ ﷺ پر اترا ہے اور جس طرح آپ نے اسے پڑھا یا سکھایا ہے اسے لکھ کر محفوظ کرلیا جائے۔ یہ اللہ کا حکم تھا تاکہ مستقبل میں ممکنہ اختلاف جو قراءت یا اس کے الفاظ ، ترتیب اور لغت میں پیدا ہوسکتا ہے وہ نہ ہوسکے۔ اللہ تعالیٰ نے خود بھی اس کی حفاظت کی ذمہ داری لی مگر اس حفاظت کا کام صحابہ رسول اور امت کے قراء وحفاظ سے بھی لیا۔جمع قرآن کی دلیل: آپ ﷺ قرآن کی تنزیل میں سخت شدت محسوس کیا کرتے۔ اور اپنے ہونٹوں کو حرکت دیا کرتے تھے۔ جیسا کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت صحیحین میں ہے۔تو اللہ تعالیٰ نے ابتداء میں ہی یہ فرمادیا : {لَا تُحَرِّكْ بِہٖ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ...

عورت، اسلام کی نظر میں

عورت جاہلیت میں نہایت ذلیل وحقیر چیز تھی یہاں تک کہ اسلام آیا تو اس نے اسے ایسی عزت وتکریم بخشی جس کی کوئی نظیر نہیں۔ اس نے جاہلیت کے مظالم سے اسے نجات دی اور اس کے حقوق کا ضامن وکفیل ہوا۔ اس نے عورت کو بہت سی دینی واجبات اور ثواب وعقاب میں اسے مردوں کے مساوی قرار دیا۔ چنانچہ اسے اسلام میں بہت زیادہ عزت وتکریم ملی ۔ إن الحمد لله، نحمده, ونستعينه، ونستغفره، ونعوذ بالله من شرور أنفسنا وسيئات أعمالنا، من يهده الله فلا مضل له، ومن يضلل فلا هادى له، وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له، وأشهد أن محمداً عبده ورسوله،وقد قال اللہ تبارک وتعالی فی محکم تنزیلہ، أعوذ باللہ من الشیطان الرجیم: (مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّن ذَكَرٍ أَوْ أُنثَىٰ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهُ حَيَاةً طَيِّبَةً ۖ وَلَنَجْزِيَنَّهُمْ أَجْرَهُم بِأَحْسَنِ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ) (النحل: 97)"جو شخص نیک عمل کرے مرد ہو یا عورت، لیکن باایمان ہو تو ہم اسے یقیناً نہایت بہتر زندگی عطا فرمائیں گے۔ اور ان کے نیک اعمال کا بہتر بدلہ بھی انہیں ضرور ضرور دیں گے۔"وقال النبی صلی اللہ علیہ وسلم: )إنما النساء شقائ...

خیرخواہی وامانت داری

خیرخواہی وامانت داری خیر خواہی دین کی بنیاد ا ور اس کا جوہر ہے۔ دین دراصل خیر خواہی کا نام ہے۔ خیرخواہی اللہ کی، اس کے کتاب کی، اس کے رسول کی، مسلم ائمہ وحکمرانوں کی اور عامۃ المسلمین کی ہوتی ہے۔ پس جب ان تمام کے حق میں بندہ خیرخواہ ہوگا تو اس کا دین کامل ہوگا اور جس میں ان میں سے کسی کی خیرخواہی میں کمی و کوتاہی ہوگی تو اسی قدر اس کے دین میں نقص وکمی ہوگی۔ مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اپنی خیرخواہی میں امانت کو ملحوظ رکھے اور بغیر کسی مداہنت ومجاملت کے حق کو بیان کرے۔ یہی شخص اللہ کے نزدیک امین ہوگا۔ إن الحمد لله، نحمده ونستعينه ونستغفره، ونعوذ بالله من شرور أنفسنا، وسيئات أعمالنا، من يهده الله فلا مضل له، ومن يضلل فلا هادى له، وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له، وأشهد أن محمداً عبده ورسوله۔ أما بعد: فإن خیر الحدیث کتاب اللہ، وخیر الھدی ھدی محمد صلی اللہ علیہ وسلم، وشر الأمور محدثاتھا، وکل محدثۃ بدعۃ، وکل بدعۃ ضلالۃ، وکل ضلالۃ  فی النار۔  وقد قال اللہ تبارک وتعالی فی کتابہ المجید: (إِنَّ اللَّـهَ يَأْمُرُكُمْ أَن تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَىٰ أَهْلِهَا وَإِذَا حَ...