Skip to main content

قرآن مجید سے فائدہ اٹھانے کی پانچ شرائط


ایمان حاصل کرنے کا اصل ذریعہ قرآنِ کریم ہے لیکن اس مقصد کے لئے قرآن کی تلاوت کے کچھ آداب و شرائط ہیں۔ اگر ان کا خیال رکھا جائے تو تبھی قرآن سے مذکورہ فائدہ حاصل ہوتا ہے۔ لہٰذا ان آداب و شرائط کا پورا پورا اہتمام کرنا چاہئے۔

۱ نیت کی پاکیزگی:

سب سے پہلی چیز نیت کی پاکیزگی ہے۔ یعنی آدمی قرآن مجید کو صرف ہدایت حاصل کرنے کے لئے پڑھے، کوئی ذاتی غرض سامنے رکھ کر نہ پڑھے، اگر طلبِ ہدایت کے سوا آدمی کے سامنے کوئی اور غرض ہوگی تو نہ صرف یہ کہ وہ قرآن مجید کے فیض سے محروم رہے گا بلکہ اس بات کا اندیشہ بھی ہے کہ قرآن مجید سے جتنا دور وہ اب تک رہا ہے، اس سے بھی کچھ زیادہ دور ہٹ جائے گا۔ اگر آدمی قرآن مجید کو اس لئے پڑھے کہ لوگ اسے مفسر قرآن سمجھنے لگیں یا اس لئے پڑھے کہ اس کے کچھ اپنے نظریات ہوں اور وہ اپنے ان نظریات کو قرآن مجید کے رنگ کے ساتھ لوگوں کے سامنے پیش کرنے کا خواہش مند ہو تو ممکن ہے اس کے یہ ارادے کسی حد تک پورے ہوجائیں لیکن اس طرح وہ قرآن مجید سمجھنے کا دروازہ اپنے اوپر بالکل بند کرلے گا۔قرآن مجید کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت کا صحیفہ بنا کر اتارا ہے اور ہرآدمی کے اندر ہدایت کی طلب رکھ دی ہے، اگر اسی طلب کے تحت آدمی قرآن مجید کی طرف متوجہ ہوتا ہے تو اس سے اپنی کوشش اور اللہ کی توفیق کے مطابق فیض پاتا ہے ، لیکن اگر وہ کسی اور خواہش کے تحت قرآن مجید کو استعمال کرنا چاہتا ہے تو وہ وہی چیز پاتا ہے جس کا وہ طلب گار ہوتا ہے۔قرآن مجید کی اسی خصوصیت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اس کی تعریف یہ فرمائی ہے کہ اس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ بہت سے لوگوں کو گمراہ کرتا ہے اور بہت سے لوگوںکو ہدایت دیتا ہے۔اور یہ اصول بیان فرمانے کے ساتھ ہی یہ بات واضح کردی کہ گمراہ ان لوگوں کو کرتا ہے جو فاسق ہوتے ہیں۔ یعنی جو لوگ اپنی اَغراض کے ایسے بندے ہوتے ہیں کہ وہ ہدایت سے بھی گمراہی ہی حاصل کرنا چاہتے ہیں ۔ ایسے لوگوں کو اللہ تعالیٰ وہی چیز دیتا ہے جس کے وہ بھوکے ہوتے ہیں۔ جو لوگ نیت اور ارادہ درست کرکے ہدایت کے حصول کے لئے اس کی طرف بڑھتے ہیں قرآن مجید فوراً ایسے لوگوں کا ہاتھ پکڑ کر ان کو اپنی تربیت میں لیتا ہے۔

۲ قرآن مجید کو ایک برتر کلام مانا جائے:

دوسری چیز یہ ہے کہ قرآن مجید کو ایک اعلیٰ اور بر تر کلام مان کر اسی حیثیت سے اس کو سمجھنے کی کوشش کی جائے۔ اگر دل میں قرآن کریم کی پوری عظمت و اہمیت نہ ہو تو آدمی اس کو سمجھنے اور اس کے حقائق و معارف کے دریافت کرنے پر وہ محنت نہیں کرسکتا جو اس کے خزانۂ حکمت سے فائدہ اٹھانے کے لئے ضروری ہے۔ قرآن مجید اپنے پیچھے ایک عظیم تاریخ رکھتا ہے، ذہنوں اور دماغوں کی تبدیلی میں اس کتاب نے جو معجزہ دکھا یا ہے آج تک کسی بھی کتاب نے یہ معجزہ نہیں دکھایا ہے۔ آدمی اس کو سمجھنے کا حق اسی وقت ادا کرسکتا ہے، جب اس کی یہ عظمت واہمیت اس کے پیش نظر ہو۔ اگر کسی رقبۂ زمین کے متعلق یہ علم ہو کہ کسی زمانے میں وہاں سے کافی سونا نکلا ہے تو توقع یہی کی جاتی ہے کہ اگر کھدائی کی جائے تو وہاں سے سونا ہی نکلے گا اور پھر اس کی اسی حیثیت کو پیش نظر رکھ کر اس سے فائدہ اٹھانے کا سامان کیا جاتا ہے اور اس پر محنت کی جاتی ہے لیکن اگر ایک جگہ کے متعلق یہ سمجھ لیا جائے کہ اگر محنت کی جائے تو زیادہ سے زیادہ یہاں سے کوئلہ یا چونا فراہم ہوگا تو اس پر یا تو کوئی سرے سے اپنا وقت ہی ضائع نہیں کرے گا یا اگر کوئی ارادہ کرلے تو صرف اتنا جس سے اس کو کوئی فائدہ پہنچنے کی توقع ہوگی۔یہ تنبیہ اس لئے ضروری ہے کیونکہ بہت سے لوگ قرآن کو محض حلال و حرام بتانے کا ایک ضابطہ سمجھتے ہیں اور فقہ کے احکام علیحدہ مرتب ہوجانے کے بعد ان کی نگاہوں میں اگر اس کی کوئی اہمیت باقی رہ گئی ہے تو وہ صرف تبرک کے نکتۂ نظر سے ہی ہے۔ اربابِ تصوف اس کو محض ظاہر کا صحیفہ سمجھتے ہیں۔ علم باطن کے اسرار و حقائق ان کے نزدیک کشف سے حاصل ہوتے ہیں۔ بہت سے لوگ اس کو بس اچھی اچھی نصیحتوں کا ایک مجموعہ سمجھتے ہیں، وہ اس کے اندر کسی گہری حکمت یا کسی بلند فلسفہ کی کوئی توقع نہیں رکھتے۔اس طرح کی غلط فہمیوں میں پڑے ہوئے مسلمانوں کے لئے ناممکن ہے کہ وہ قرآن سے وہ فائدہ اٹھاسکیں جس کے لئے وہ در اصل نازل ہوا ہے ۔ وہ اس کو انہی حقیر اغراض کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ جن کے لئے ان کے خیال میں یہ اتر رہا ہے۔ ان لوگوں کی مثال ایسی ہے کہ کسی شخص کو توپ دی جائے کہ وہ اس کے ذریعہ دشمنوں کے قلعہ کو مسمار کردے لیکن وہ اس کو مچھر مارنے کی ایک مشین سمجھ بیٹھے اور اسی حقیر مقصد کے لئے اس کو استعمال کرنا شروع کردے۔۳ قرآن مجید کے تقاضوں کے مطابق بدلنے کا عزم:قرآن حکیم سے حقیقی فائدہ اٹھانے کے لئے تیسری ضروری چیز یہ ہے کہ آدمی کے اندر قرآن مجید کے تقاضوں کے مطابق اپنے ظاہر و باطن کو بدلنے کا مضبوط ارادہ موجود ہو۔ ایک شخص جب قرآنِ مجید کو گہری نگاہ سے پڑھتا ہے تو وہ ہر قدم پر یہ محسوس کرتا ہے کہ قرآن کریم کے تقاضے اور مطالبے اس کی اپنی خواہشوں اور چاہتوں سے بالکل مختلف ہیں، وہ دیکھتا ہے کہ اس کے تصورات و نظریات، معاملات و تعلقات، ظاہر و باطن سبھی قرآن مجید کی مقرر کردہ حدود سے بالکل ہٹے ہوئے ہیں، اس فرق و اختلاف کو محسوس کرکے ایک حق طلب آدمی تو یہ فیصلہ کرتا ہے کہ خواہ کچھ ہو میں اپنے آپ کو قرآن مجید کے تقاضوں کے مطابق بنا کر رہوں گا اور وہ ہر قسم کی قربانیاں دےکر، ہر طرح کے مصائب جھیل کر اپنے آپ کو قرآن مجید کے مطابق بنانے کی کوشش کرتا ہے اور اپنے آپ کو قرآن مجید کے سانچے میں ڈھال ہی لیتا ہے لیکن جو شخص صاحبِ عزم نہیں ہوتا یا اس کے اندر حق شناسی اور حق طلبی کا سچا جذبہ نہیں ہوتا اور وہ اس خلیج کو پاٹنے کی ہمت نہیں کرسکتا جو وہ اپنے اور قرآن مجید کے درمیان حائل پاتا ہے۔ وہ یہ محسوس کرتا ہے کہ اگر میں اپنے عقائد و اعمال کو قرآن مجید کے مطابق بنانے کی کوشش کرونگاتو مجھے فکری اور عملی حیثیت سے نیا جنم لینا پڑے گا۔ میرا ماحول میرے لئے بالکل اجنبی بن کر رہ جائے گا۔ وہ یہ دیکھتا ہے کہ اگر میں اپنے وسائلِ معاش کو قرآن مجید کے ضابطۂ حلال و حرام کی کسوٹی پر پرکھوں تو آج جو عیش مجھے حاصل ہے اس سے محروم ہوکر شاید اپنی دال روٹی کیلئے بھی فکرمند ہونا پڑے۔ان خطروں کے مقابلے میں ڈٹ جانا اور ان سے مقابلہ کرنے کے لئے کمرِ ہمت باندھ لینا ہر شخص کا کام نہیں ہے، صرف مردانِ کار ہی ان گھاٹیوں کو پار کرسکتے ہیں۔ معمولی ہمت و ارادہ کے لوگ یہیں سے اپنا رُخ بدل لیتے ہیں۔ بعض اکھڑ قسم کے لوگ جو اپنی کمزوریوں پر پردہ ڈالنے کے زیادہ خواہش مند نہیں ہوتے وہ تو یہ کہتے ہوئے اپنے نفس کی خواہشوں کے پیچھے چل کھڑے ہوتے ہیں کہ قرآن مجید کا راستہ تو بالکل صحیح !۔۔۔ لیکن ہمارے لئے اس پر چلنا نہایت مشکل ہے !۔۔۔۔ اس لئے ہم اسی راہ پر چلیں گے جس پر ہمارا نفس لئے جارہا ہے۔ لیکن جو لوگ اپنی کمزوریوں کو عزیمت اور اپنے نفاق کو ایمان کے روپ میں پیش کرنے کا جذبه رکھتے ہیں وہ اپنا یہ شوق مختلف تدبیروں سے پورا کرتے ہیں۔ ۔۔۔بعض مجبوریوں کے بہانوں سے اپنے لئے ناجائز کو جائز اور حرام کو حلال بناتے ہیں۔۔۔۔ بعض لایعنی تاویلات کے ذریعے باطل پر حق کا مُلمع چڑھاتے ہیں۔۔۔۔ بعض وقت کے تقاضوں اور مصلحتوں کی آڑ تلاش کرکے ان کے پیچھے چھپتے ہیں۔۔۔۔ بعض قرآن مجید میں اس قسم کی تبدیلیاں کرنے کی کوشش کرتے ہیں جس قسم کی تحریفات یہود نے تورات میں کی تھیں۔ بعض قرآن مجید کے جس حصہ کو اپنی خواہشوں کے مطابق پاتے ہیں اسے قبول کرلیتے ہیں اور جس حصہ کو اپنی خواہشات کے مطابق نہیں پاتے اس کو نظر انداز کردیتے ہیں۔یہ ساری راہیں شیطان کی نکالی ہوئی ہیں اور ان میں سے جس راہ کو بھی آدمی اختیار کرے گا وہ اس کو سیدھی ہلاکت کے گڑھے کی طرف لے جاتے هيں آدمی اپنے آپ کو مضبوط ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے تو پھر اس کے لئے سعادت کی راہیں کھلنا شروع ہوجاتی ہیں۔ اگر ایک دروازہ بند ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے دوسرا دروازہ کھول دیتا ہے۔ اس حقیقت کی طرف قرآن حکیم نے ان الفاظ میں ارشاد فرمایا ہے:وَالَّذِيْنَ جَاهَدُوْا فِيْنَا لَـنَهْدِيَنَّهُمْ سُـبُلَنَا ۭ وَاِنَّ اللّٰهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِيْنَ ؀اور جو لوگ ہماری راہ میں مشقتیں برداشت کرتے ہیں ہم انہیں اپنی راہیں ضرور دکھا دیں گےیقیناً اللہ نیکوکاروں کا ساتھی ہے ۔(العنکبوت:69)

۴ تدبر:

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ اِلَيْكَ مُبٰرَكٌ لِّيَدَّبَّرُوْٓا اٰيٰتِهٖ وَلِيَتَذَكَّرَ اُولُوا الْاَلْبَابِ ؀(ص:29)یہ بابرکت کتاب ہے جسے ہم نے آپ کی طرف اس لئے نازل فرمایا ہے کہ لوگ اس کی آیتوں پر غور و فکر کریں اور عقلمند اس سے نصیحت حاصل کریں۔محض تبرک کے طور پر الفاظ کی تلاوت کرلینا اور قرآن کے معانی کی طرف دھیان نہ کرنا قرآن پڑھنے کا طریقہ نہیں ہے۔یہ طریقہ تو اس وقت سے رائج ہوا ہے جب لوگوں نے قرآن مجید کو ایک کتاب ہدایت و معرفت اور ایک خزانہ علم و حکمت سمجھنے کی بجائے محض حصول برکت کی ایک کتاب سمجھنا شروع کردیا۔ جب زندگی کے مسائل سے قرآن کا تعلق صرف اس قدر رہ گیا کہ موت کے بعد اس کے ذریعے جان کنی کی سختیوں کو آسان کیا جائے اور مرنے کے بعد اس کے ذریعے میت کو ایصال ثواب کیا جائے۔ جب زندگی کے نشیب و فراز میں راہنما ہونے کے بجائے اس کا استعمال صرف یہ رہ گیا کہ ہم جس گمراہی کا بھی ارتکاب کریں، اس کے ذریعے سے اس کا افتتاح کریں تاکہ یہ برکت دے کر اس گمراہی کو ہدایت بنادیا کرے۔دنیا کی شاید ہی کوئی کتاب ہو جس نے قرآن سے زیادہ اس بات پر زور دیا ہو کہ اس کا حقیقی فائدہ صرف تب حاصل کیا جاسکتا ہے کہ اس کو پورے غور و تدبر کے ساتھ پڑھا جائے لیکن یہ بھی ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ دنیا میں یہی کتاب ہے جو ہمیشہ آنکھیں بند کرکے پڑھی جاتی ہے۔ معمولی سی چیز بھی آدمی پڑھتا ہے تو اس کے لئے پہلے اپنے دماغ کو حاضر کرنے کی کوشش کرتا ہے تاکہ اس کو سمجھ سکے لیکن قرآن کے ساتھ لوگوں کا یہ عجیب معاملہ ہے کہ اس کو پڑھنے سے پہلے اپنے دل و دماغ پر پٹی باندھ لیتے ہیں کہ کہیں اس کے کسی لفظ کا مفہوم دماغ کو چھو نہ جائے۔تاہم تدبر کا طریقہ یہی نہیں کہ انسان عربی کے چند الفاظ جان لینے کے بعد قرآن مجید سے نئے نئے مطالب نکالنا شروع کردے۔ تفاسیر کا ذخیرہ امت کے بہترین دماغوں کی کاوشوں کا نتیجہ ہے، جو صدیوں سے قرآن مجید کو سمجھنے میں وہ کرتے چلے آرہے ہیں، ان کو چھوڑ کر قرآن مجید کا مطالعہ کرنا بالکل ایسا ہے جیسے کوئی شخص کہے کہ پچھلی صدیوں میں سائنس نے جو کچھ دریافتیں کی ہیں ان سب کو چھوڑ کر میں نئے سرے سے کائنات پر غور کرونگا۔ اس لئے ضروری ہے کہ ہم قرآن مجید کے مطالعہ کے لئے تفسیر اور روایات کے ذخیرے سے مدد لیں۔ عام آدمی کے لئے تو لازم ہے کہ وہ مستند علماء کے ترجمہ و تفسیر کی روشنی میں ہی غور و فکر کرے۔

۵ اللہ کے حوالے کرنا:

قرآن مجید سے صحیح فائدہ اٹھانے کے لئے پانچویں شرط یہ ہے کہ اس راہ میں جو مشکلات پیش آئیں آدمی ان سے بد دل اور مایوس ہونے یا ان کے سبب سے قرآن مجید سے بدگمان یا اس پر اعتراض کرنے کی بجائے اپنی الجھن کو اللہ کے سامنے پیش کرے اور اس سے مدد اور راہنمائی طلب کرے۔ قرآن مجید میں بعض اوقات ایسی علمی و عقلی مشکلیں پیش آجاتی ہیں جن کا حل کچھ سمجھ نہیں آتا اور اس سے دین کے معاملے میں شکوک وشبہات پیدا ہونے لگتے ہیں یا کسی حکم پر عمل کرنا دشوار محسوس ہوتا ہے۔ اس طرح کی علمی و عملی مشکلوں سے نکلنے کا صحیح اور آزمودہ راستہ یہ ہے کہ آدمی اپنی مشکل اپنے ربّ کے سامنے پیش کرے اور اسی سے ہدایت کا طالب ہو۔ ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ سے برابر دعا اور قرآن مجید پر برابر غور کرتا رہے۔ اگر قرآن یاد ہو تو رات کی نمازوں میں قرآن ٹھہر ٹھہر کر پڑھے۔ ان شاء اللہ اس کی ساری الجھنیں دور اور ساری مشکلیں حل ہوجائیں گئ اور ان مشکلوں کے حل ہونے سے اس پر عمل و حکمت کے جو دروازے کھلیں گے وہ دروازے کسی اور طرح اس پر ہرگز نہ کھلتے۔ شرط یہ ہے کہ آدمی صبر کے ساتھ اپنے رب سے مدد مانگے۔ مندرجہ ذیل دعا بھی اس طرح کے حالات میں پڑھتے رہنا نہایت مفید ہے۔ نبی ﷺ نے اس دعا کو سیکھنے اور یاد کرنے کی تلقین فرمائی ہے اور فکر و غم دور کرنے کا ذریعہ بتا یا ہے:اَللّٰهُمَّ إِنِّي عَبْدُكَ ابْنُ عَبْدِكَ ابْنُ أَمَتِكَ، نَاصِيَتِي بِيَدِكَ، مَاضٍ فِيَّ حُكْمُكَ، عَدْلٌ فِيَّ قَضَآؤُكَ، أَسْأَلُكَ بِكُلِّ اسْمٍ هُوَ لَكَ، سَمَّيْتَ بِهِ نَفْسَكَ، أَوْ أَنْزَلْتَهٗ فِي كِتَابِكَ، أَوْ عَلَّمْتَهُ أَحَدًا مِنْ خَلْقِكَ، أَوِ اسْتَأْثَرْتَ بِهِ فِي عِلْمِ الْغَيْبِ عِنْدَكَ، أَنْ تَجْعَلَ الْقُرْآنَ رَبِيْعَ قَلْبِي، وَنُورَ صَدْرِيْ، وَجَلَآءَ حُزْنِي، وَذَهَابَ هَمِّي،ترجمہ:اے اللہ ! میں تیرا بندہ، تیرے بندے کا بیٹا اور تیری بندی کا بیٹا ہوں۔ میری پیشانی تیری مٹھی میں ہے، مجھ پر تیرا حکم جاری ہے۔ میرے بارے میں تیرا فیصلہ حق ہے، میں تجھ سے تیرے ہر اس نام کے واسطہ سے جو تیرا ہے، جس سے تونے اپنے آپ کو پکارا ہے یا جس کو تونے اپنی کتاب میں اتارا ہے، یا جس کو تو نے اپنی مخلوق میں سے کسی کو سکھایا ہے یا تو نے اپنے پاس اپنے خزانۂ غیب میں اسے پوشیدہ ہی رہنے دیا ہے یہ درخواست کرتا ہوں کہ تو قرآن کو میرے دل کی بہار، میرے سینے کا نور، میرے غم کا مداوا اور میری فکر و پریشانی کا علاج بنادے۔(مسند احمد)ان شرائط پر عمل کے بعد بھی کسی شخص کو بہت توقع نہیں رکھنی چاہئے کہ وہ پورا قرآن سمجھ لے گا۔ اس معاملہ کا تمام تر انحصار صرف اللہ کی توفیق و ہدایت پر ہے اور وہی راہیں کھولتا اور مشکلات میں راہنمائی کرتا ہے۔ پس طالبِ قرآن مجید کا دل ہمیشہ اسی کے سامنے جھکا رہنا چاہئے جو کچھ مل جائے اس کے لئے شکر گزار ہو اور جو نہ ملے اس کے لئے امیدوار رہے۔ نہ تو فخر کرے، نہ کبھی مایوس ہو اور تجارت اور حصولِ شہرت کا ذریعہ تو قرآن مجید کو ہرگز نہ بنائے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں عمل کی توفیق دے۔ آمین۔

Comments

Popular posts from this blog

Yusufzai (Pashtun tribe)

The  Yūsufzai  (also  Youssofzay ,  Yousefzai ,  Yousafzai ,  Esapzey ,  Yousufi , or  Yūsufi ) (Pashto:  يوسفزی ,Persian and Urdu:  یوسف زئی ) is one of the largest Pashtun (Afghans) tribes. The majority of the Yusufzai tribe reside in parts of Western Afghanistan, Khyber Pakhtunkhwa and Provincially Administered Tribal Areas near the Afghan-Pakistan border. They are the predominant population in the districts of Konar, Ningarhar, Mardan District, Dir, Swat,Malakand, Swabi, Buner, Shangla, Haripur District [Khalabat Town Ship and Tarbela] and in Mansehra and Battagram. There is also a Yusufzai clan of Dehwar tribe in the Mastung district of Balochistan who speak Persian with some mixture of Birahvi words. The descendants of Yusuf inhabit Konar, Jalalabad, Swat, Upper Dir, Lower Dir, Malakand Swabi and Mardan...

عہد عثمان میں تدوین قرآن

امام بخاری نے صحیح بخاری میں اپنی سند کے ساتھ ابن شھاب سے روایت کیا ہے کہ انس بن مالک نے انہیں بتایا کہ حذیفہ بن یمان حضرت عثمان کی خدمت میں حاضر ہوئے موسوف نے رمینیہ اور آذربیجان کی جنگ میں شرکت کی تھی وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ لوگ تلاوت قرآن میں بہت اختلاف کرنے لگے تھے ۔ حذیفہ نے حضرت عثمان سے کہا امیرالمؤمنین ! قبل اس کے کہ یہ امت کتاب الٰہی میں یہودیوں اور نصاریٰ کی طرح اکتلاف کرنے لگے اس کو سنبھال لیجئے یہ سن کر حضرت عثمان نے حجرت حفصہ کو کہلا بھیجا کہ آپ کے پاس قرآن کے جو صحیفے پڑے ہیں وہ ہمارے پاس بھیج دیجئے تاکہ ہم ان کو کتابی صورت میں جمع کریں پھر ہم ان کو واپس کردیں گے ۔محترمہ موصوفہ نے وہ صحیفے ارسال کردئیے۔حضرت عثمانرضی اللہ تعالٰی عنہ نے (۱) زید بن ثابترضی اللہ تعالٰی عنہ،(۲) عبداللہ بن زبیررضی اللہ تعالٰی عنہ،(۳)سعد بن العاصرضی اللہ تعالٰی عنہ،(۴)عبدالرحمان بن حارث بن ہشامرضی اللہ تعالٰی عنہکو مومورکیا کہ وہ صحیفوں سے نقل کرکے قرآن کریم کو کتابی صورت میں جمع کردیں۔ حضرت عثمانرضی اللہ تعالٰی عنہ نے تینوں قریشی صحابہ(حضرت زید بن ثابت کے علاوہ باقی تینوں صحابہ سے...

کتاب اللہ کی کون سی آیت سب سے عظیم ہے؟

آیۃ الکرسی کی فضیلت !!! آیۃ الکرسی کی کیااھمیت ہے ؟ اور کیا اس آیت کی عظمت پرکوئ دلیل وارد ہے ؟ الحمد للہ ابن کثیررحمہ اللہ تعالی سورۃ البقرۃ کی آیۃ الکرسی کی تفسیرکرتےہو‏ۓ کہتے ہیں : یہ آیۃ الکرسی ہے جس کی فضیلت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح حدیث میں ہے کہ کتاب اللہ میں یہ آیت سب سے افضل آیت ہے ۔ ابی بن کعب رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نےان سے سوال کیا کہ کتاب اللہ میں سب سے عظیم آیت کونسی ہے ؟ تو وہ کہنے لگے کہ اللہ اور اس کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم کوہی زیادہ علم ہے ، یہ سوال کئ باردھرایا اور پھر فرمانےلگے کہ وہ آیت الکرسی ہے ۔ فرمانے لگے اے ابوالمنذر علم مبارک ہو اس ذات کی قسم جس کےھاتھ میں میری جان ہے اس آیت کی زبان اور ہونٹ ہونگے عرش کے پاۓ کے ہاں اللہ تعالی کی پاکی بیان کررہی ہوگی ۔ اور غالبا مسلم نے والذی نفسی سے آگے والے الفاظ نہیں ہیں ۔ عبداللہ بن ابی بن کعب رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ ان کے والد کے پاس کھجوریں رکھنے کی جگہ تھی ، عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں میرے والد اس کاخیال رکھتے تھے تو...

عہد رسالت میں کتابت قرآن

سرورکائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے مندرجہ ذیل صحابہ کو کاتب وحی مقرر فرمایا تھا: حضرت بوبکررضی اللہ تعالٰی عنہ ، عمرفاروقرضی اللہ تعالٰی عنہ، عثمانرضی اللہ تعالٰی عنہ، علیرضی اللہ تعالٰی عنہ، معاویہرضی اللہ تعالٰی عنہ ، زید بن ثابت رضی اللہ تعالٰی عنہ،ابی بن کعبرضی اللہ تعالٰی عنہ، خالد بن ولیدرضی اللہ تعالٰی عنہ،ثابت بن قیسرضی اللہ تعالٰی عنہ،۔ قرآن کا جو حصہ نازل ہوتا آپ صحابہ کو مامور فرماتے کہ اسے تحریر کرلیں یہاں تک کہ کتابت کے پہلو بہ پہلو قرآن کریم کو سینوں میں بھی محفوظ کرلیا گیا۔(مشہور مستشرق بلاشیر نے کاتبین وحی صحابہ کی تعداد چالیس بتائ ہے دیگر مستشرقین مثلاً شفالی بہل اور کازانوفاکا زاویہ نگاہ بھی یہی ہے مؤخر الذکر نے اس ضمن میں طبقا ابن سعد، طبری ، نووی اور سیرت حلبی پر اعتماد کیا ہے ۔) محدث حاکم نےمستدرک میں زید بن ثابت سے بخاری ومسلم کی شرط کے مطابق روایت کیا ہے کہ زید بن ثابت نے کہا ہم عہد رسالت میں ''رقاع''(ٹکڑوں)سے قرآن جمع کیا کرتے تھے ۔ (الاتقان،ج۱ص،۹۹نیز البرہان ،ج۱ص۲۳۷) مذکورہ صدر حدیث میں ''رقاع ''کا جو لفظ وا...

شرک فی التصرف کا بیان

بسم اللہ الرحمن الرحیم اللّٰھم لک الحمد حمدا یوافی نعمک ویکافی مزید کرمک احمد ک بجمیع محا مدک ما علمت و ما لم اعلم علی جمیع نعمک ما علمت منھا وما لم اعلم وعلی کل حالط اللّٰھم صل علی محمد و علی ال محمد و بارک وسلم۔ اما بعد۔ فاعوذ باللہ من الشیطن الرجیم ط بسم اللہ الرحمن الرحیمط قُلِ ادْعُوا الَّذِيْنَ زَعَمْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللہِ۝۰ۚ لَا يَمْلِكُوْنَ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ فِي السَّمٰوٰتِ وَلَا فِي الْاَرْضِ وَمَا لَہُمْ فِيْہِمَا مِنْ شِرْكٍ وَّمَا لَہٗ مِنْہُمْ مِّنْ ظَہِيْرٍ۝۲۲ وَلَا تَنْفَعُ الشَّفَاعَۃُ عِنْدَہٗٓ اِلَّا لِمَنْ اَذِنَ لَہٗ۝۰ۭ حَتّٰٓي اِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوْبِہِمْ قَالُوْا مَاذَا۝۰ۙ قَالَ رَبُّكُمْ۝۰ۭ قَالُوا الْحَقَّ۝۰ۚ وَہُوَالْعَلِيُّ الْكَبِيْرُ۝۲۳ (السبا:۲۲۔۲۳) اے میرے محسن خدا! کل تعریفوں کا مستحق تو ہی ہے، میں تیری وہ تعریف کرتا ہوں جو تیری دی ہوئی نعمتوں کا بدل ہو، ا ور اس سے جو زیادہ دے، اس کا بدلہ ہو، اور پھر میں تیری جن نعمتوں کو جانتا ہوں اور جن کو نہیں جانتا سب ہی کا ا ن خوبیوں کے ساتھ شکریہ ادا کرتا ہوں، جس کا مجھ کو علم ہے اور جن کا نہیں، غرضیکہ ہر ...

حکایت

حضرت شیخ الاسلام امام غزالی نے احیاء العلوم میں ایک حاسد آدمی کی یہ حکایت فرمائی ہے کہ ایک شخص بادشاہ کے سامنے کھڑا ہوکر یہ کہا کرتا تھا کہ نیک لوگوں کے ساتھ نیکی کرو اور محسن کے احسان کا بدلہ دو کیوںکہ برائی کرنے والے کی برائی تمہاری طرف سے خود کفایت کرے گی۔ یہ شخص بادشاہ کے سامنے یہ نصیحت کیا کرتا تھا جس سے اس کی بڑی عزت تھی۔ اس کی عزت، عظمت اور مرتبہ کو دیکھ کر ایک شخص کو حسد پیدا ہوگیا۔ اس نے بادشاہ سے شکایت کی کہ یہ شخص حضور کے سامنے کھڑا ہوکر گندہ دہن بتاتا ہے۔ بادشاہ نے کہا اس کی تصدیق کیسے ہو؟ حاسد نے کہا جب وہ آپ کے پاس آئے تو آپ اسے اپنے قریب بلا لیجیے، جب وہ آپ کے بالکل قریب آجائے گا تو اپنی ناک بند کرلے گا، تاکہ آپ کے منہ کی بدبو نہ آنے پائے۔ بادشاہ نے کہا بہت اچھا، کل امتحان کریں گے۔ ادھر اس حاسد نے بادشاہ سے یہ کہا، ادھر اس نے جاکر اس ناصح و نیک آدمی کی دعوت کرکے ایسا کھانا کھلایا جس میں لہسن بہت سا تھا۔ یہ کھانا کھا کر فارغ ہی ہوا تھا کہ دربار کا وقت آگیا۔ بدستور سابق بادشاہ کے سامنے کھڑے ہوکر اس نے وہی جملہ کہا جو کہا کرتا تھا۔ بادشاہ نے اس کو اپنے پاس بلانے کا ...

Rasulullah Sallallahu Alaihi Wasallam Kay Muay Mubarak By Shaykh Mufti Umar Farooq

Read Online (400 K) AN EXTRACT FROM MONTHLY MAGAZINE OF DARUL ULOOM DEOBAND ON SOME DETAILS REGARDING THE BELOVED AND MUBARIK HAIR OF RASOOLULLAH [Sallallahu Alaihi Wasallam]. By Shaykh Mufti Umar Farooq

اتباع سنت کا بیان

بسم اللہ الرحمن الرحیم الحمد للہ الذی لم یزل عالماً قدیرا حیاً قیوماً سمیعاً بصیراً و اشھد ان لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ واکبرہ تکبیراً۔ واشھد ان محمداعبدہ ورسولہ و صلی اللہ علی سیدنا محمد ن الذی ارسلہ الی الناس کافۃ بشیراً ونذیرًا۔ و علی الہ و صحبہ وسلم تسلیماً کثیراکثیرا۔ اما بعد! فاعوذ باللہ من الشیطن الرجیم۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللہَ فَاتَّبِعُوْنِيْ يُحْبِبْكُمُ اللہُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ۝۰ۭ وَاللہُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ۝۳۱ قُلْ اَطِيْعُوا اللہَ وَالرَّسُوْلَ۝۰ۚ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّ اللہَ لَا يُحِبُّ الْكٰفِرِيْنَ۝۳۲ (آل عمران:۳۱۔۳۲) سب تعریف اللہ کے لیے ثابت ہے،جو ہمیشہ سے جاننے والا، قدرت والا، زندہ رکھنے والا، سنبھالنے والا، سننے والا اور دیکھنے والا ہے، اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ ایک اور یکتا ہے، جس کا کوئی شریک نہیں ہے، اور میں اس کی بڑائی بیان کرتا ہوں، اور اس بات کی گواہی دیتا ہوں ، کہ محمد ﷺ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، اللہ تعالیٰ ہمارے آقا محمد ﷺ پر رحمت کا ملہ نازل فرم...

اللہ و رسول ﷺ کی اطاعت کا بیان

بسم ا للہ الرحمن الرحیم۔ الحمد للہ رب العالمین۔ الرحمن الرحیم۔ مالک یوم الدین۔ والصلوۃ والسلام علی رسولہ المبین سیدنا محمد خاتم النبیین۔ وعلی جمیع الانبیاء والمرسلین۔ وسائر عباد اللہ الصالحین۔ اما بعد! فاعوذ باللہ من الشیطن الرجیم ط بسم اللہ الرحمن الرحیم ط يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَطِيْعُوا اللہَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ وَاُولِي الْاَمْرِ مِنْكُمْ۝۰ۚ فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِيْ شَيْءٍ فَرُدُّوْہُ اِلَى اللہِ وَالرَّسُوْلِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللہِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ۝۰ۭ ذٰلِكَ خَيْرٌ وَاَحْسَنُ تَاْوِيْلًا۔ (النساء:۵۹) سب تعریف اللہ کے لیے ہے، جو سار ے جہاں کا پالنے والا ہے، بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، بدلے کے دن (قیامت )کا مالک ہے، اور درودوسلام نازل ہوں، ا للہ تعالیٰ کے رسول پر جو احکام الٰہی کے ظاہر کرنے والے ہیں، ہمارے سردار جن کا نام نامی اسم گرامی محمد ﷺ ہے، جو سب نبیوں کے ختم کرنے والے ہیں، اور اللہ کے تمام نبیوں ا ور رسولوں پر، اور ا للہ کے تمام نیک بندوں پر، حمد و صلوۃ کے بعد، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ا ے ایمان والوفرمانبرداری کرو اللہ کی اور فرمانبر...

شرک کی مذمّت

بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ الحمدللہ الذی لم یتخذ ولداو لم یکن لہ شریک فی الملک ولم یکن لہ ولی من الذل وکبرہ تکبیرا۔ ونشھد ان لاالہ ا لااللہ وحدہ لا شریک لہ ونشھد ان محمداعبدہ ورسولہ صلی اللہ علیہ وعلی اٰلہ واصحابہ وسلم تسلیما کثیرا۔ اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم ط بسم اللہ الرحمن الرحیم بِہٖ۝۰ۭ وَمَنْ يُّشْرِكْ بِاللہِ فَكَاَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَاۗءِ فَتَخْطَفُہُ الطَّيْرُ اَوْ تَہْوِيْ بِہِ الرِّيْحُ فِيْ مَكَانٍ سَحِيْقٍ (الحج:۳۱) سب تعریف اللہ ہی کے لیے ہے، جو نہ اولاد رکھتا ہے، اور اپنی سلطنت میں کسی کو شریک بھی نہیں کرتا، اور نہ وہ ایسا حقیر ہے، کہ اس کا کوئی حمائتی ہو، تم اس کی بڑائی بیان کرو، اور ہم اس بات کی شہادت دیتے ہیں، کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے، وہ ایک ا کیلا ہے، اس کے ساتھ کوئی شریک نہیں ہے، اور ہم اس بات کی شہادت دیتے ہیں، کہ محمدﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں، اللہ تعالیٰ ان پر اور ان کے اصحابؓ پر بہت بہت درود بھیجے حمدو صلوٰۃ کے بعد عرض ہے ، کہ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں یہ فرما رہاہے، کہ اللہ کے ساتھ شرک کرنے والا گویا آسمان سے گر پڑا، تو اب اسے یا تو پرند...