Skip to main content

قرآن کریم کی خصوصیات



کلام اللہ: قرآن میں صرف اللہ تعالیٰ کا کلام ہے۔ کسی انسان، جن یافرشتے کا کلام اس میں شامل نہیں۔ اسے اللہ تعالیٰ نے خود ہی کلام اللہ یا آیات اللہ فرمایا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
{۔۔ حَتّٰي يَسْمَعَ كَلٰمَ اللہِ} (التوبۃ:۶) ....تاکہ وہ کلام اللہ کو سن لے۔
{۔۔۔یَتْلُوْنَ آیَاتِ اللہِ}( آل عمران: ۱۱۳) وہ اللہ کی آیات کی تلاوت کرتے ہیں۔
غیر مخلوق: قرآن اللہ تعالیٰ کا کلام ہے اور کلام کرنا اللہ تعالیٰ کی صفت ہے اس لئے یہ بھی اللہ تعالیٰ کی ذات کی طرح غیر مخلوق ہے۔گوہم اس صفت کی حقیقت نہیں جانتے اور نہ ہی اسے مخلوق کی طرح سمجھتے ہیں۔ بس اتنا جانتے ہیں کہ {لَيْسَ كَمِثْلِہٖ شَيْءٌ}۔ اس جیسا کوئی ہے ہی نہیں۔ دو فرقے اس بارے میں گمراہ ہوگئے۔ ایک قدریہ معتزلہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی صفات کے ظاہری معنی کو چھوڑ کر تاویلیں کرتا ہے۔ تاویل سے صفات کی تخفیف وانکار لازم آتا ہے جو انتہائی کفر ہے۔ دوسرا فرقہ مشبہہ مجسمہ ہے وہ اس صفت کو مخلوق کے مشابہ بتاتا ہے یہ بھی پہلے سے کم گمراہ نہیں۔ مناسب یہی ہے کہ جو اللہ تعالیٰ کی صفات قرآن کریم اور حدیث رسول میں آئی ہیں ان کے لفظی معنی معلوم ہونے کے بعد پھر کیفیت کی کھدیڑ نہ کی جائے۔جب اصل حقیقت کا علم نہیں تو اسے مخلوق کے مشابہ قرار دینا کون سی دانش مندی ہے۔یہ ازلی صفات کا اقرار ہے اور تاویل کا انکار۔
زائد از ضرورت :یعنی قرآن مجید کا کوئی لفظ زائد نہیں بلکہ اس کے فوائد ہیں۔ یہ مختصر، جامع، تعمیری، اور واقعیت پسندی کے ساتھ اپنے معانی و اہداف کو بیان کرتے ہیں ۔ مثلاً طہ، ألم ، عسق وغیرہ۔ انہیں ہم زائد نہیں کہتے مگر اس کے فوائدعرب بہتر جانتے ہیں کیونکہ ان کے خطباء کے ہاں ان کی زبردست اہمیت ہے۔ ان کی مراد اللہ تعالیٰ ہی بہترجانتے ہیں۔امام حسن بصری رحمہ اللہ کے حلقہ میں کچھ لوگ کہا کرتے کہ یہ الفاظ زائد اور بے فائدہ ہیں۔جس پر انہوں نے فرمایا:
 خُذُوْا ہٰؤُلَائِ، وَجَنِّبُوْہُمْ فِیْ حَشَا الْحَلْقَۃِ۔ انہیں پکڑو اور انہیں ہمارے حلقے سے الگ کرکے اس کے حاشئے میں بٹھادو۔ اس لئے انہیں حشویہ کہا گیا۔
ظاہری معنی ہی مراد ہوگا: اس کے باطنی معنی لینے کی کوئی دلیل ہے اور نہ ہی ہم اس کے مکلف ہیں۔ایسے دعوے دراصل قرآن کریم کو اپنے من پسند عقائد ونظریات میں ڈھالنے کی دعوت ہے۔مگر جو معنی ومفہوم اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو بتائے، صحابہ کرام نے جن پر عمل کیا انہیں قابل اعتناء نہ سمجھا جائے یہ کون سی قرآن دانی ہے؟۔باطنیہ کہا کرتے: قرآن کے الفاظ کا ظاہری مفہوم مراد نہیں لیا جاسکتا اور اس کے باطن کا مفہوم ہر کوئی نہیں جانتا۔اسے صرف ہمارے باطنی ائمہ ہی جانتے ہیں۔ باطنی معنی میں اشاری معنی بھی آجاتا ہے ۔ مثلاً کوئی یہ کہے کہ اس لفظ کے معنی ومفہوم کا مجھے اشارہ ہوا ہے۔ یہ اشارے اگر اللہ کے رسول کے کہے یا مراد کے مطابق ہوں تو درست ورنہ یہ شیطانی اشارے بھی ہو سکتے ہیں۔یہ دونوں انداز فکر رسول اللہ ﷺ سے اور امت کے اجماع سے جان چھڑانے اور اپنی الگ شریعت سازی کے مترادف ہیں۔
عاجز کردینے والا : المُعْجِز کا مطلب ہے عاجز کر دینے والا۔ قرآن مجید نے ثابت کر دیا کہ عرب فصحاء ہی نہیں بلکہ دنیا کے سارے انسان اس جیسی کتاب پیش کرنے سے عاجز و قاصر ہیں۔ اس میں غیب کی خبریں اور امم سابقہ کے حالات ہیں۔ زمان ومکان کی مناسبت سے معاشی اور معاشرتی ضرورت کو دیکھ کر اس میں محکم قانون سازی کی گئی ہے۔ عقل انسانی دنگ اور بے بس ہے کہ اس جیسی کوئی چیز مقابلہ کے طور پرلاسکے۔ خود قرآن نے بنی نوع انسان کو متعدد بار یہ چیلنج دیا کہ وہ اس جیسی کوئی چیز لے آئیں۔ باوجود اس بات کے کہ یہ چیلنج ہمتوں کو ابھارنے والا اور مقابلہ کے لیے آمادہ کرنے والا تھا۔ محرک بھی موجود تھا مگر پھر بھی وہ اس کے مقابلہ سے عاجز رہے۔مثلا ارشاد باری تعالیٰ ہے:

{قُلْ لَّىِٕنِ اجْتَمَعَتِ الْاِنْسُ وَالْجِنُّ عَلٰٓي اَنْ يَّاْتُوْا بِمِثْلِ ہٰذَا الْقُرْاٰنِ لَا يَاْتُوْنَ بِمِثْلِہٖ وَلَوْ كَانَ بَعْضُہُمْ لِبَعْضٍ ظَہِيْرًا۝۸۸ } (الاسراء : ۸۸) کہہ دیجئے کہ اگر انسان اور جن سب جمع ہو کر اس قرآن کی مانند ایک کتاب لانا چاہیں تو نہ لا سکیں گے۔خواہ وہ سب ایک دوسرے کے مددگار ہی کیوں نہ ہوں۔
اسی چیلنج کو ایک اور جگہ ذرا کمی کرکے ان الفاظ میں دہرایا گیا:

{اَمْ يَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىہُ۝۰ۭ قُلْ فَاْتُوْا بِعَشْرِ سُوَرٍ مِّثْلِہٖ مُفْتَرَيٰتٍ وَّادْعُوْا مَنِ اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللہِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ۝۱۳ } (ہود :۱۳) کیا یہ کہتے ہیں کہ اسے رسول نے گھڑا ہے۔ کہہ دیجئے کہ اس جیسی دس گھڑی ہوئی سورتیں لے آؤ اور اللہ کے سوا جس کو بلانا چاہوبلا لو اگر تم سچے ہو۔
جب اس سے بھی عاجز رہے تو ایک آدھ چھوٹی سورت کا کہہ دیا۔

{وَاِنْ كُنْتُمْ فِىْ رَيْبٍ مِّـمَّا نَزَّلْنَا عَلٰي عَبْدِنَا فَاْتُوْا بِسُوْرَۃٍ مِّنْ مِّثْلِہٖ۝۰۠ وَادْعُوْا شُہَدَاۗءَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللہِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ۝۲۳ } (البقرہ:۲۳) اگر اس چیز کے بارے میں تمہیں کوئی شک ہو جو ہم نے اپنے بندے پر نازل کی ہے تو اس جیسی ایک سورت ہی بنا لاؤ اللہ کے سوا اپنے تمام مددگار بلا لو اگر تم سچے ہو۔
اس چیلنج کا اولین مقصد یہی تھا کہ نبی امی جناب محمد بن عبد اللہ ﷺ کی رسالت ونبوت ثابت کی جاسکے۔ رسول اکرم ﷺ کا اُمی ہونا آپ ﷺ کے حق میں معجزہ ہے مگر امت کا امی ہونا امت کے حق میں معجزہ نہیں۔ قرآن مجید کو نازل ہوئے آج پندرہ سو سال گزرگئے ہیں یہ بھی اس کا معجزہ ہے جس نے افراد امت کا تعلق نہ صرف اللہ سے جوڑا بلکہ آپ ﷺ کی سیرت طیبہ سے بھی منسلک کردیا۔اس کے علاوہ بے شمار پہلو ایسے ہیں جو معجزہیں جن کا ذکر ہم آگے کریں گے۔
نازل کیا گیا : المُنَزَّلُ کا مطلب ہے بتدریج نازل کردہ۔یعنی صرف وہ کلام ، قرآن یا کلام اللہ ہے جو آپ ﷺ پر بذریعہ وحی اترا۔ صحف ابراہیم وموسی، تورات، زبور ، انجیل وغیرہ کلام الٰہی ہونے کے باوجود قرآن میں شامل نہیں کیونکہ وہ دوسرے انبیاء پر نازل ہوئیں۔ مُنَزَّل کہنے سے یہ نکات بھی معلوم ہوئے کہ غیر اللہ یعنی کسی انسان، نبی، فرشتہ کا کلام اس میں شامل نہیں۔ خواہ وہ حدیث قدسی ہی کیوں نہ ہو۔ نیز قرآن مجید عربی میں ہے اورلفظ و معنی دونوں کا نام ہے ۔ اس بناء پر احادیث قرآن میں شامل نہیں کیونکہ ان کے الفاظ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں اگرچہ ان کے مضامین و مطالب اللہ تعالیٰ کی طرف سے بذریعہ وحیِ خفی آپﷺ پر نازل ہوئے ہیں۔ اسی طرح تفسیرقرآن بھی اس میں داخل نہیں خواہ وہ عربی میں ہی کیوں نہ ہو۔ ایسے ہی عربی سے دوسری زبانوں میں قرآن مجید کا ترجمہ بھی قرآن نہیں اور نہ یہ ترجمہ قرآن میں شامل ہے۔
بذریعہ جبرائیل: قرآن مجید، سیدنا جبرئیل علیہ السلام کے واسطے سے آپ ﷺ کے قلب اطہر پر نازل ہواہے کیونکہ وہی حفظ ویادداشت کا مرکز ہے۔ قرآن مجید میں ہے: 

{وَاِنَّہٗ لَتَنْزِيْلُ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ۝۱۹۲ۭ نَزَلَ بِہِ الرُّوْحُ الْاَمِيْنُ۝۱۹۳ۙ عَلٰي قَلْبِكَ لِتَكُوْنَ مِنَ الْمُنْذِرِيْنَ۝۱۹۴ۙ بِلِسَانٍ عَرَبِيٍّ مُّبِيْنٍ۝۱۹۵ۭ} (الشعراء : ۱۹۲۔ ۱۹۵)اور بلا شبہ یہ قرآن رب العالمین کی طرف سے نازل کردہ ہے جسے روح الامین لے کر اترے ہیں اسے آپﷺ کے قلب اطہر پر اتارا ہے تاکہ آپ انذار کرنے والوں میں سے ہو جائیں۔ صاف ، واضح عربی زبان میں ہے ۔
اس طرح قرآن کی عظمت، ملائکہ اور اہل ایمان دونوں پر واضح کردی گئی اور آپ ﷺ کو بھی یقین ہوگیا کہ یہ شیطانی کلام نہیں بلکہ جبریل امین ہی اسے میرے پاس لائے ہیں جو فرشتوں کے مطاع ہیں۔ باقی قائمۃ الکروبین، اہل المراتب والتمکین جیسے فرشتے یا نون فرشتہ اور قلم فرشتہ سب اختراعات ہیں جو عوام کو قرآنی عقیدہ سے ہٹانے والی باتیں ہیں۔
لسان عربی : ابن فارس نے لکھا ہے:{خلق الإنسان علمہ البیان} اللہ تعالیٰ نے بیان کو دیگر مخلوقات مثلاً: شمس وقمر، نجوم وشجر کے ذکر سے قبل بیان کی۔جس کاسکھا دینا بہت بڑی عنایت ربانی ہے دوسرے اس سے محروم ہیں۔پھر یہ بیان عربی زبان میں ہے کیونکہ دیگر زبانوں میں یہ وسعت نہیں اسی بناء پر عربی زبان کا انتخاب اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔باقی وحی کا کسی زبان میں اترنا بڑا مسئلہ نہیں ۔اگروحی عبرانی یا سریانی زبان میں اترسکتی ہے تو خالص عربی میں کیوں نہیں؟ لسان عربی سے مراد یہ نہیں کہ قرآن مجید سابقہ الہامی کتب کے مثل ایک کتاب ہے بلکہ بنیادی طور پر دوسری کتب کے مقابلے میں قرآن مجید کو اپنا منفرد مقام حاصل ہے۔
کتابی شکل: المکتوب کا مطلب ہے لکھا ہوا ۔اور المصاحف جمع ہے مصحف کی، یعنی یہ لوح محفوظ میں لکھا ہواہے نیز آیات کے نزول کے بعد آپ ﷺ بھی اسے لکھوالیتے۔مگرکتابت سے پہلے بھی یہ قرآن، قرآن کہلاتا تھا ۔ معلوم ہوا کہ قرآن محض زبانی الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ یہ کتابی شکل میں بھی ہے ارشاد باری تعالیٰ ہے:

{وَالطُّوْرِ۝۱ۙ وَكِتٰبٍ مَّسْطُوْرٍ۝۲ۙ فِيْ رَقٍّ مَّنْشُوْرٍ۝۳ۙ } (الطور:۱۔۳) قسم ہے طور کی ، اور لکھی ہوئی کتاب کی، پھیلے ہوئے صفحات میں۔
اس کی قراء ت عبادت ہے :یعنی اس کتاب کی تلاوت کو عبادت کا درجہ حاصل ہے تاکہ مومن رب کی قربت حاصل کرے۔ اسے اقامت صلوٰۃ اور انفاق فی سبیل اللہ کے ساتھ رکھا گیا ہے اور اس پر نہ ضائع ہونے والی تجارت کی بشارت دی گئی ہے۔

{اِنَّ الَّذِيْنَ يَتْلُوْنَ كِتٰبَ اللہِ وَاَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَاَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰہُمْ سِرًّا وَّعَلَانِيَۃً يَّرْجُوْنَ تِجَارَۃً لَّنْ تَـبُوْرَ۝۲۹ۙ} (فاطر :۲۹) بے شک وہ لوگ جو اللہ کی کتاب پڑھتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں اور ہم نے انہیں رزق دیا اس میں سے پوشیدہ اور علانیہ خرچ کرتے ہیں وہ ایسی تجارت کی امید رکھتے ہیں جو ہرگز ضائع نہیں ہوگی۔
آپ ﷺ نے تلاوت قرآن پر ثواب کی بشارت یوں ارشاد فرمائی:
جو شخص قرآن مجید کے ایک حرف کی تلاوت کرے گا۔ اسے دس نیکیوں کا ثواب ملے گا۔ میں یہ نہیں کہتا کہ الم ایک حرف ہے۔ بلکہ الف ایک حرف ہے لام ایک حرف ہے۔ اور میم ایک حرف ہے۔
غیرمنقطع متواتر روایت : اس سے مراد یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ سے صحابہ کرام نے قرآن مجید لیا پھر ان سے لے کر آج تک قرآن مجید ایک سے دوسری نسل میں منتقل ہوتا آیا ہے اور کسی بھی مرحلے میںیہ سلسلہ منقطع نہیں ہوا۔جس کی ایک متواترسند یہ ہے: رسول اللہ ﷺ سے سیدتنا ام سلمہؓ نے ان سے حسن بصری نے، ان سے یحیی بن یعمر نے اور ان سے ابو عمر بن العلاء البصری نے اور پھر ان کے بے شمار شاگردوں نے حاصل کیا۔ سچ تو یہ ہے کہ جس کا محافظ اللہ تعالیٰ ہو، جس کی سند متصل ہو ، جسے صرف مطہرون ہی چھوتے ہوںاور جسے حفظ کیا جاتا ہو۔ جو بغیر نقاط اور اعراب کے تھا اور جس کی تلاوت میں یا فہم میں بکثرت غلطیاں ہوسکتی تھیں ۔ اس میں آسانی کے لئے نقاط اور اعراب ڈالے گئے ہوں اور جو ابھی تک بے شمارمحاسن لے کر نشر ہوتا ہے۔ایسی خوبیاں آخر کون سی کتاب میں ملیں گی؟ اس عنوان سے ایک اور نکتہ یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ قرآن مجید کی وہ قراء تیں جو تواتر سے ہٹ کے ہیں وہ بھی معتبر نہیں ۔ کیونکہ انہیں تواتر کی حیثیت حاصل نہیں۔

Comments

Popular posts from this blog

Yusufzai (Pashtun tribe)

The  Yūsufzai  (also  Youssofzay ,  Yousefzai ,  Yousafzai ,  Esapzey ,  Yousufi , or  Yūsufi ) (Pashto:  يوسفزی ,Persian and Urdu:  یوسف زئی ) is one of the largest Pashtun (Afghans) tribes. The majority of the Yusufzai tribe reside in parts of Western Afghanistan, Khyber Pakhtunkhwa and Provincially Administered Tribal Areas near the Afghan-Pakistan border. They are the predominant population in the districts of Konar, Ningarhar, Mardan District, Dir, Swat,Malakand, Swabi, Buner, Shangla, Haripur District [Khalabat Town Ship and Tarbela] and in Mansehra and Battagram. There is also a Yusufzai clan of Dehwar tribe in the Mastung district of Balochistan who speak Persian with some mixture of Birahvi words. The descendants of Yusuf inhabit Konar, Jalalabad, Swat, Upper Dir, Lower Dir, Malakand Swabi and Mardan...

اسلامی عقیدہ کا اہم پہلو الوَلاء والبراء

وَلاء کے معنی بیان کرتے ہوئے امام راغبؒ نے فرمایاہے کہ ’ولائ‘ کے اصل معنی ’’دو یا دو سے زیادہ چیزوں کااس طرح یکے بعد دیگرے آنا کہ ان کے درمیان کوئی ایسی چیز نہ آئے جو ان میں سے نہ ہو۔ پھر یہ لفظ استعارہ کے طور پر قرب کے معنی میں استعمال ہونے لگا ہے، خواہ وہ قرب بلحاظ مکان ہو یا بلحاظِ نسب، یا بلحاظِ دین اور دوستی و نصرت کے ہو، یا بلحاظِ اعتقاد کے۔ ‘‘ (المفردات،ص۵۵۵) اسی سے لفظ ’ولی‘ ہے جس کی ضد ’عدوّ‘ (دشمن) ہے اور اسی سے ’الموالات‘ اور ’المواسات‘ ہے جس کے معنی میں تقرب، دوستی، تعاون، مدد، صلح، اور غم خواری کا مفہوم پایا جاتاہے۔ وَلاء کے مقابلے میں بَراء ہے جس کے اصل معنی:کسی ناپسندیدہ اور مکروہ امر سے نجات حاصل کرنا کے ہیں۔ اسی لئے کہا جاتاہے: براء تُ من المرض’’میں تندرست ہوگیا، میں نے بیماری سے نجات پائی۔‘‘ اوریوں بھی کہا جاتا ہے: براء تُ من فلان یعنی ’’میں فلاں سے بیزارہوں۔‘‘ گویا’ولائ‘ میں موالات ہے اور ’برائ‘ میں انقطاع اور بیزاری مراد ہے اور یہ دونوں حقیقۃً ’محبت‘ اور’بُغض‘کے تابع ہیں اور یہی دونوں ایمان کی بنیادی صفات ہیں۔ رسول اللہﷺ کاارشاد ہے : ’’من أ...

عہد رسالت میں کتابت قرآن

سرورکائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے مندرجہ ذیل صحابہ کو کاتب وحی مقرر فرمایا تھا: حضرت بوبکررضی اللہ تعالٰی عنہ ، عمرفاروقرضی اللہ تعالٰی عنہ، عثمانرضی اللہ تعالٰی عنہ، علیرضی اللہ تعالٰی عنہ، معاویہرضی اللہ تعالٰی عنہ ، زید بن ثابت رضی اللہ تعالٰی عنہ،ابی بن کعبرضی اللہ تعالٰی عنہ، خالد بن ولیدرضی اللہ تعالٰی عنہ،ثابت بن قیسرضی اللہ تعالٰی عنہ،۔ قرآن کا جو حصہ نازل ہوتا آپ صحابہ کو مامور فرماتے کہ اسے تحریر کرلیں یہاں تک کہ کتابت کے پہلو بہ پہلو قرآن کریم کو سینوں میں بھی محفوظ کرلیا گیا۔(مشہور مستشرق بلاشیر نے کاتبین وحی صحابہ کی تعداد چالیس بتائ ہے دیگر مستشرقین مثلاً شفالی بہل اور کازانوفاکا زاویہ نگاہ بھی یہی ہے مؤخر الذکر نے اس ضمن میں طبقا ابن سعد، طبری ، نووی اور سیرت حلبی پر اعتماد کیا ہے ۔) محدث حاکم نےمستدرک میں زید بن ثابت سے بخاری ومسلم کی شرط کے مطابق روایت کیا ہے کہ زید بن ثابت نے کہا ہم عہد رسالت میں ''رقاع''(ٹکڑوں)سے قرآن جمع کیا کرتے تھے ۔ (الاتقان،ج۱ص،۹۹نیز البرہان ،ج۱ص۲۳۷) مذکورہ صدر حدیث میں ''رقاع ''کا جو لفظ وا...

شرک فی التصرف کا بیان

بسم اللہ الرحمن الرحیم اللّٰھم لک الحمد حمدا یوافی نعمک ویکافی مزید کرمک احمد ک بجمیع محا مدک ما علمت و ما لم اعلم علی جمیع نعمک ما علمت منھا وما لم اعلم وعلی کل حالط اللّٰھم صل علی محمد و علی ال محمد و بارک وسلم۔ اما بعد۔ فاعوذ باللہ من الشیطن الرجیم ط بسم اللہ الرحمن الرحیمط قُلِ ادْعُوا الَّذِيْنَ زَعَمْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللہِ۝۰ۚ لَا يَمْلِكُوْنَ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ فِي السَّمٰوٰتِ وَلَا فِي الْاَرْضِ وَمَا لَہُمْ فِيْہِمَا مِنْ شِرْكٍ وَّمَا لَہٗ مِنْہُمْ مِّنْ ظَہِيْرٍ۝۲۲ وَلَا تَنْفَعُ الشَّفَاعَۃُ عِنْدَہٗٓ اِلَّا لِمَنْ اَذِنَ لَہٗ۝۰ۭ حَتّٰٓي اِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوْبِہِمْ قَالُوْا مَاذَا۝۰ۙ قَالَ رَبُّكُمْ۝۰ۭ قَالُوا الْحَقَّ۝۰ۚ وَہُوَالْعَلِيُّ الْكَبِيْرُ۝۲۳ (السبا:۲۲۔۲۳) اے میرے محسن خدا! کل تعریفوں کا مستحق تو ہی ہے، میں تیری وہ تعریف کرتا ہوں جو تیری دی ہوئی نعمتوں کا بدل ہو، ا ور اس سے جو زیادہ دے، اس کا بدلہ ہو، اور پھر میں تیری جن نعمتوں کو جانتا ہوں اور جن کو نہیں جانتا سب ہی کا ا ن خوبیوں کے ساتھ شکریہ ادا کرتا ہوں، جس کا مجھ کو علم ہے اور جن کا نہیں، غرضیکہ ہر ...

کتاب اللہ کی کون سی آیت سب سے عظیم ہے؟

آیۃ الکرسی کی فضیلت !!! آیۃ الکرسی کی کیااھمیت ہے ؟ اور کیا اس آیت کی عظمت پرکوئ دلیل وارد ہے ؟ الحمد للہ ابن کثیررحمہ اللہ تعالی سورۃ البقرۃ کی آیۃ الکرسی کی تفسیرکرتےہو‏ۓ کہتے ہیں : یہ آیۃ الکرسی ہے جس کی فضیلت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح حدیث میں ہے کہ کتاب اللہ میں یہ آیت سب سے افضل آیت ہے ۔ ابی بن کعب رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نےان سے سوال کیا کہ کتاب اللہ میں سب سے عظیم آیت کونسی ہے ؟ تو وہ کہنے لگے کہ اللہ اور اس کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم کوہی زیادہ علم ہے ، یہ سوال کئ باردھرایا اور پھر فرمانےلگے کہ وہ آیت الکرسی ہے ۔ فرمانے لگے اے ابوالمنذر علم مبارک ہو اس ذات کی قسم جس کےھاتھ میں میری جان ہے اس آیت کی زبان اور ہونٹ ہونگے عرش کے پاۓ کے ہاں اللہ تعالی کی پاکی بیان کررہی ہوگی ۔ اور غالبا مسلم نے والذی نفسی سے آگے والے الفاظ نہیں ہیں ۔ عبداللہ بن ابی بن کعب رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ ان کے والد کے پاس کھجوریں رکھنے کی جگہ تھی ، عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں میرے والد اس کاخیال رکھتے تھے تو...

حکایت

حضرت شیخ الاسلام امام غزالی نے احیاء العلوم میں ایک حاسد آدمی کی یہ حکایت فرمائی ہے کہ ایک شخص بادشاہ کے سامنے کھڑا ہوکر یہ کہا کرتا تھا کہ نیک لوگوں کے ساتھ نیکی کرو اور محسن کے احسان کا بدلہ دو کیوںکہ برائی کرنے والے کی برائی تمہاری طرف سے خود کفایت کرے گی۔ یہ شخص بادشاہ کے سامنے یہ نصیحت کیا کرتا تھا جس سے اس کی بڑی عزت تھی۔ اس کی عزت، عظمت اور مرتبہ کو دیکھ کر ایک شخص کو حسد پیدا ہوگیا۔ اس نے بادشاہ سے شکایت کی کہ یہ شخص حضور کے سامنے کھڑا ہوکر گندہ دہن بتاتا ہے۔ بادشاہ نے کہا اس کی تصدیق کیسے ہو؟ حاسد نے کہا جب وہ آپ کے پاس آئے تو آپ اسے اپنے قریب بلا لیجیے، جب وہ آپ کے بالکل قریب آجائے گا تو اپنی ناک بند کرلے گا، تاکہ آپ کے منہ کی بدبو نہ آنے پائے۔ بادشاہ نے کہا بہت اچھا، کل امتحان کریں گے۔ ادھر اس حاسد نے بادشاہ سے یہ کہا، ادھر اس نے جاکر اس ناصح و نیک آدمی کی دعوت کرکے ایسا کھانا کھلایا جس میں لہسن بہت سا تھا۔ یہ کھانا کھا کر فارغ ہی ہوا تھا کہ دربار کا وقت آگیا۔ بدستور سابق بادشاہ کے سامنے کھڑے ہوکر اس نے وہی جملہ کہا جو کہا کرتا تھا۔ بادشاہ نے اس کو اپنے پاس بلانے کا ...

Muslim Christian Dialogue

Title: Muslim Christian Dialogue Author: H. M. Baagil, M.D. Category: Introduction to Islam Filetype: pdf Filesize: 556 KB Description: Download

مدرّسینِ قرآن کے لیے خصوصی ہدایات کتاب وسنت کی روشنی میں

پچھلی دو تین دہائیوں سے فہم قرآن کی جو تحریک پاکستان کے بڑے بڑے شہروں میں بالعموم اور شہر لاہور میں بالخصوص جس تیزی سے پھیل رہی ہے و ہ واقعتا ایک بہت ہی مستحسن امر ہے۔اوریہ کہنے میں بھی کوئی مبالغہ نہیں ہے کہ اس تحریک نے ایک بہت بڑے تعلیم یافتہ طبقے کومتأثر کیا ہے اور ہزاروں افراد کی زندگیوں کے رُخ کویکسر تبدیل کر دیا ہے ۔یہ اسی درسِ قرآن اور ترجمۂ قرآن کی کلاسز کے ہی ثمرات ہیں کہ آج ہر طرف فہم قرآن کے ادارے نظر آتے ہیں اورقرآن کے درس وتدریس کا رجحان بہت تیزی سے بڑھ رہا ہے ۔ہم فہم قرآن کی اس تحریک کے حق میں ہیں اور اس کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں،لیکن چونکہ اس تحریک کے اکثر افراد نہ تو دینی مدارس کے فارغ طلبہ یاعلماء ہیں اور نہ ہی انہوں نے ٹھوس علمی بنیادوں پر دین یعنی قرآن وحدیث کاباقاعدہ علم حاصل کیا ہوتا ہے بلکہ یہ عموما دینی اسلامی تحریکوں کے متحرک کارکنان ہوتے ہیں،اس لیے اپنی کم علمی کی وجہ سے یہ حضرات بعض اوقات لا شعوری طور پر درسِ قرآن کے اصل مقصد سے ہٹ کر ایک ایسی راہ پر چلنا شروع کر دیتے ہیں جس سے خیر کم وجود میں آتا ہے اور فتنہ پیدا ہونے کا امکان بڑھ جاتا ہے ۔ایسے مدرسین،اپ...

اتباع سنت کا بیان

بسم اللہ الرحمن الرحیم الحمد للہ الذی لم یزل عالماً قدیرا حیاً قیوماً سمیعاً بصیراً و اشھد ان لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ واکبرہ تکبیراً۔ واشھد ان محمداعبدہ ورسولہ و صلی اللہ علی سیدنا محمد ن الذی ارسلہ الی الناس کافۃ بشیراً ونذیرًا۔ و علی الہ و صحبہ وسلم تسلیماً کثیراکثیرا۔ اما بعد! فاعوذ باللہ من الشیطن الرجیم۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللہَ فَاتَّبِعُوْنِيْ يُحْبِبْكُمُ اللہُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ۝۰ۭ وَاللہُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ۝۳۱ قُلْ اَطِيْعُوا اللہَ وَالرَّسُوْلَ۝۰ۚ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّ اللہَ لَا يُحِبُّ الْكٰفِرِيْنَ۝۳۲ (آل عمران:۳۱۔۳۲) سب تعریف اللہ کے لیے ثابت ہے،جو ہمیشہ سے جاننے والا، قدرت والا، زندہ رکھنے والا، سنبھالنے والا، سننے والا اور دیکھنے والا ہے، اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ ایک اور یکتا ہے، جس کا کوئی شریک نہیں ہے، اور میں اس کی بڑائی بیان کرتا ہوں، اور اس بات کی گواہی دیتا ہوں ، کہ محمد ﷺ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، اللہ تعالیٰ ہمارے آقا محمد ﷺ پر رحمت کا ملہ نازل فرم...

اللہ و رسول ﷺ کی اطاعت کا بیان

بسم ا للہ الرحمن الرحیم۔ الحمد للہ رب العالمین۔ الرحمن الرحیم۔ مالک یوم الدین۔ والصلوۃ والسلام علی رسولہ المبین سیدنا محمد خاتم النبیین۔ وعلی جمیع الانبیاء والمرسلین۔ وسائر عباد اللہ الصالحین۔ اما بعد! فاعوذ باللہ من الشیطن الرجیم ط بسم اللہ الرحمن الرحیم ط يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَطِيْعُوا اللہَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ وَاُولِي الْاَمْرِ مِنْكُمْ۝۰ۚ فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِيْ شَيْءٍ فَرُدُّوْہُ اِلَى اللہِ وَالرَّسُوْلِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللہِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ۝۰ۭ ذٰلِكَ خَيْرٌ وَاَحْسَنُ تَاْوِيْلًا۔ (النساء:۵۹) سب تعریف اللہ کے لیے ہے، جو سار ے جہاں کا پالنے والا ہے، بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، بدلے کے دن (قیامت )کا مالک ہے، اور درودوسلام نازل ہوں، ا للہ تعالیٰ کے رسول پر جو احکام الٰہی کے ظاہر کرنے والے ہیں، ہمارے سردار جن کا نام نامی اسم گرامی محمد ﷺ ہے، جو سب نبیوں کے ختم کرنے والے ہیں، اور اللہ کے تمام نبیوں ا ور رسولوں پر، اور ا للہ کے تمام نیک بندوں پر، حمد و صلوۃ کے بعد، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ا ے ایمان والوفرمانبرداری کرو اللہ کی اور فرمانبر...