عصر
حاضر میں بعض تجدد پسند اصحاب نے اسلام میں عورت کے درجے کے بارے میں نہ
صرف بعض غلط دعوے کیے ہیں بلکہ اسلامی قانون کی بھی غلط تشریح و توجیہہ
کرتے ہوءے اجتہاد کے ذریعہ اس میں بعض تبدیلیاں کرنے کی بھی وکالت کی ہے۔
نیز عورت کی تمدنی حیثیت ؛ عورت اور مرد کے درمیان مساوات؛ عورت کی تعلیم؛
پردہ؛ طلاق اور تعدد ازدواج وغیرہ مساءل کے بارے میں اسلام کے صحیح نقطہ
نظر پر نکتہ چینیاں کرتے ہوءے مسلمانوں کے موجودہ عمل کو دقیانوسی بتایا
گیا ہے۔علماء کے لیے ایک نیا چیلنج اس غلط ذہنیت کا توڑ کرنا ہے۔ اس کے لیے
علماء نءے انداز میں اسلامی احکام پر عقلی نقطہ نظر سے کتابیں لکھیں اور
اسلامی احکام کی خوبیوں اور ان کی حکمتوں کو وضاحت کریں جس کے باعث اس قسم
کے رکیک شبہات و اعتراضات کا قلع قمع ہو سکے۔اسی ضرورت کے پیش نظر مولف
رسالہ نے عورتوں کی معاشی و تمدنی سرگرمیوں؛ طلاق؛ تعدد ازدواج اور آزادانہ
سیر و سیاحت پر بحث کی ہے۔ امید ہے کہ یہ شبہات کے ازالہ میں معاون ثابت
ہوگی۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم اللہ تعالیٰ کے حقوق اللہ تعالیٰ کا حق تمام حقوق سے زیادہ ضروری ہے اور سب سے اہم ہے۔کیونکہ وہ اس کائنات کا خالق و مالک اور تمام تر امور کی تدبیر کرنے والا ہے۔وہ زندہ جاوید ہستی ہے جو تمام کائنات کا نطام سنبھالے ہوئے ہے،اس نے ہر چیز کو پیدا کیا اور اپنی حکمت بالغہ سے اس کا اندازہ کیا۔انسان کو اشرف المخلوقات بنایا ،پھر انسان کو اپنے احسانات یاد کرائے کہ اے انسان !تجھ پر اس ذات کا حق ہے جس نے نعمتوں کے ساتھ تیری پرورش کی۔تو اپنی ماں کے پیٹ میں تین طرح کے اندھیروں میں تھا۔جہاں مخلوقات میں کوئی بھی تجھے غذا یا ایسی اشیاء نہیں پہنچا سکتا تھا جو تیری افزائش اور زندگی کو قائم رکھنے والی ہوں۔اس نے ماں کی چھاتیوں میں وافر دودھ اتارا،تجھے اس کی راہ دکھلائی اور تیرے والدین کو تیرا محسن بنا دیا۔تیری امداد کی اور تجھے کامیاب کیا۔ارشاد باری تعالیٰ ہے: وَٱللَّهُ أَخْرَجَكُم مِّنۢ بُطُونِ أُمَّهَٰتِكُمْ لَا تَعْلَمُونَ شَيْا وَجَعَلَ لَكُمُ ٱلسَّمْعَ وَٱلْأَبْصَٰرَ وَٱلْأَفْدَةَ ۙ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ ﴿78﴾ ترجمہ: اور اللہ ہی نے تم کو تمہاری ماؤں کے شکم سے پیدا کیا کہ...
Comments
Post a Comment