Skip to main content

قُرآنِ کَریم حضرت مہدی کے نِظام کا ہتھیار ہے اور توّھم پرستی مُنافِق کا

دینی جماعتو ںکو مُنافِقوں سےہوشیار رہنا چاہیے کیون کہ منافق لوگ بہت خطرناک ہیں۔یہ اس لیے کہ جن منافقوں نے مسجدِ ضرار کی بنیاد رکھی تھی وہ حضور صلّی اللہ علیہ و سلّم کے مقصد سے چھٹکارا حاصِل کرنا چاہتے تھے۔ وہ، اللہ معاف کرے، حضور صلّی اللہ علیہ و سلّم کی وفات کا اِنتظار کر رہے تھے اور ان سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہتے تھے۔ یہ منافق کوشش کر رہے ہیں کہ وہ کچھ دینی امور میں دخل اندازی کریں یا اپنی کچھ ہدایات پیش کریں یا کوئی منصوبہ تیار کریں یا کوئی کھیل کھیلیں یا انہیں زہر دیں یا انہیں پھنسانے کی کوشش کریں یا کسی طریقے سے ان کی موت کا سوچیں، یہ لوگ بھوکے حقیر کُتّوں کی طرح انتظار کر رہے ہیں کہ وہ اُن کے مقاصدسےچھٹکارا حاصل کریں۔ دینی امور کو اس بارے میں بُہت مُحتاط رہنا چاہیے۔ ایسے منافق ہمیشہ اپنے شیخوں کے لیے آفات کی توقُّع رکھتے ہیں تاکہ وہ کسی دن بےاثر ہو جائیں، کسی طریقے سے۔ اللہ ایک آیة میں فرماتا ہے"اور وہ آپ پر مُصیبت کا انتظار کرتے ہیں، اُن پر ہی بُری مُصیبت آے گی"۔ اس کا کیا مطلب بنتا ہے؟، جو منافق ہیں وہ درد میں ہی مریں گے، انشاءاللہ۔ منافق وہ مخلوق ہے جو اللہ کو سب سے ناپسند ہے، وہ بُہت حقیر مخلوق ہے۔ وہ سانپ کی طرح ہیں، انہیں پہچاننا بُہت مُشکِل ہے۔ وہ ور طرح سے چھپتے ہیں، وہ ہر طرح کی شکلوں میں ہو جاتے ہیں۔ وہ بہت چالاک ہیں، بہت مکار ہیں۔ ان کے پاس ہر جگہ، ہر طرح گھسنے کی طاقت ہے۔ ایک منافق توّھم پرستی قُرآن پاک کے خلاف استعمال کرتا ہے، توھم پرستی ان کا ہتھیار ہے۔ وہ کونسا ہتھیار ہے جو حضرت مہدی کا نِظام استعمال کرتا ہے؟، قُرآینِ کريم۔ توھم پرستی منافق کا ہتھیار ہے۔ وہ قرآن کے خلاف اپنے توھمات کے ساتھ جھگڑا کرتے ہیں۔ اس وجہ سے بہت خیال رکھنا چاہیے اور محتاط رہنا چاہیے۔ بدیع الزمان فرماتے ہیں کہ "وہ شیطان کی طرح ہیں کہ ان کے خیالات جو شیطانی ہیں"۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ لوگ شیطانی خیالات پر عمل کرتے ہیں ان امور پر کہ اگلےکو ڈنگ ماریں سانپ کی طرح۔ اسی لیے منافقوں کا پتہ لگانا اور انہیں بےاثر بنانا ہر ایک کا کام نہیں۔ ہمیں مُحتاط رہنا چاہیے، اِنشاءَاللہ۔

Comments

Popular posts from this blog

Yusufzai (Pashtun tribe)

The  Yūsufzai  (also  Youssofzay ,  Yousefzai ,  Yousafzai ,  Esapzey ,  Yousufi , or  Yūsufi ) (Pashto:  يوسفزی ,Persian and Urdu:  یوسف زئی ) is one of the largest Pashtun (Afghans) tribes. The majority of the Yusufzai tribe reside in parts of Western Afghanistan, Khyber Pakhtunkhwa and Provincially Administered Tribal Areas near the Afghan-Pakistan border. They are the predominant population in the districts of Konar, Ningarhar, Mardan District, Dir, Swat,Malakand, Swabi, Buner, Shangla, Haripur District [Khalabat Town Ship and Tarbela] and in Mansehra and Battagram. There is also a Yusufzai clan of Dehwar tribe in the Mastung district of Balochistan who speak Persian with some mixture of Birahvi words. The descendants of Yusuf inhabit Konar, Jalalabad, Swat, Upper Dir, Lower Dir, Malakand Swabi and Mardan...

عہد رسالت میں کتابت قرآن

سرورکائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے مندرجہ ذیل صحابہ کو کاتب وحی مقرر فرمایا تھا: حضرت بوبکررضی اللہ تعالٰی عنہ ، عمرفاروقرضی اللہ تعالٰی عنہ، عثمانرضی اللہ تعالٰی عنہ، علیرضی اللہ تعالٰی عنہ، معاویہرضی اللہ تعالٰی عنہ ، زید بن ثابت رضی اللہ تعالٰی عنہ،ابی بن کعبرضی اللہ تعالٰی عنہ، خالد بن ولیدرضی اللہ تعالٰی عنہ،ثابت بن قیسرضی اللہ تعالٰی عنہ،۔ قرآن کا جو حصہ نازل ہوتا آپ صحابہ کو مامور فرماتے کہ اسے تحریر کرلیں یہاں تک کہ کتابت کے پہلو بہ پہلو قرآن کریم کو سینوں میں بھی محفوظ کرلیا گیا۔(مشہور مستشرق بلاشیر نے کاتبین وحی صحابہ کی تعداد چالیس بتائ ہے دیگر مستشرقین مثلاً شفالی بہل اور کازانوفاکا زاویہ نگاہ بھی یہی ہے مؤخر الذکر نے اس ضمن میں طبقا ابن سعد، طبری ، نووی اور سیرت حلبی پر اعتماد کیا ہے ۔) محدث حاکم نےمستدرک میں زید بن ثابت سے بخاری ومسلم کی شرط کے مطابق روایت کیا ہے کہ زید بن ثابت نے کہا ہم عہد رسالت میں ''رقاع''(ٹکڑوں)سے قرآن جمع کیا کرتے تھے ۔ (الاتقان،ج۱ص،۹۹نیز البرہان ،ج۱ص۲۳۷) مذکورہ صدر حدیث میں ''رقاع ''کا جو لفظ وا...

رحمت ِعالم صلی اللہ علیہ وسلم

  رحمت ِعالم صلی اللہ علیہ وسلم  قرآن مجید میں پیغمبر اسلام جناب محمد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی مختلف صفات کا ذکر آیا ہے،  یہ تمام صفات اپنی جگہ اہم ہیں اور آپ کے محاسن کو ظاہر کرتے ہیں، لیکن ان میں سب سے اہم صفت یہ ہے کہ آپ کو تمام عالم کے لئے رحمت قرار دیا گیا،  وما أرسلنٰک الا رحمۃ للعالمین (الانبیاء : ۱۰۷)  —– اس تعبیر کی و سعت اور ہمہ گیری پر غور فرمائیے کہ آپ کی رحمت مکان و مقام کی وسعت کے لحاظ سے پوری کائنات کو شامل ہے اور زمانہ و زمان کی ہمہ گیری کے اعتبار سے قیامت تک آنے والے عرصہ کو حاوی ہے، یہ کوئی معمولی دعویٰ نہیں، اور شاید ہی تاریخ کی کسی شخصیت کے بارے میں ایسا دعویٰ کیا گیا ہو، یہ دعویٰ جتنا عظیم ہے اسی قدر واقعہ کے مطابق بھی ہے،  آپ کی رحمت کا دائرہ یوں تو پوری کائنات تک وسیع ہے، زندگی کے ہر گوشہ میں آپ کا اسوہ رحمت کا نمونہ ہے، لیکن اس وقت انسانیت پر آپ کی رحمت کے چند خاص پہلوؤں پر روشنی ڈالنا مقصود ہے ۔ ان میں پہلی بات یہ ہے کہ آپ نے انسانیت کو وحدت الٰہ کا تصور دیا، خدا کو ایک ما ننا بظاہر ایک سادہ سی بات معلوم ہوتی ہے، لیکن بمقابلہ الح...