Skip to main content

ایدھی جیل کی وہ جوان لڑکی اور اس کا تعاقب کرتا خیال

ایدھی جیل کی وہ جوان لڑکی اور اس کا تعاقب کرتا خیالکسی کے بھی خلاف صرف فیشن کے طور پر جانا کسی بھی سمارٹ انسان کوزیب نہیں دیتا. کسی بھی ایسی بات کو کہنا جس پر اپ خود ہی نا یقین کرتے ہوں، کسی معیارئ آدمی یا عورت کا کام نہیں. مگر کسی بھیڑ چال میں صرف خوف کے مارے چپ رہنا بہت لوگ کرتے ہیں. مگر میں نے نہیں کبھی نہی کیا. ایدھی صاحب کی وفات کے بعد میں وہی لکھ سکتی ہوں جو میں اس فاؤنڈیشن کے بارے میں جانتی ہوں . پاکستانیوں کی جذباتیت ان کیبری عادت ہے. زیادہ سوچنے سمجھنے کا رواج نہیں.میں آج یہ بتانا چاہوں گی کہ میری نظر میں ایدھی فاؤنڈیشن کا امیج کب خرابہوا. کسی بھی دوسری تنظیم کو اتنے اعتماد سے پیسے نہیں دیے جاتے جتنا ایدھی فاؤنڈیشن کو. عورتیں اپنا زیور اتار کر دے دیتی تھیں سنا ہے. جانتے ہیں زیور کتنیمشکل سے بنتا ہے؟ شاید ہی کبھی کسی نے دوبارہ سوچا ہو کہ ایدھی کو پیسے کیوں دیے. ایدھی تو غریب آدمی تھا. اس نے اپنا تو ایک پیسا کسی پر نہیں لگایا. بس لوگوں سے لے کر لگایا. کہتے ہیں کہ اربوں روپے دے چکے ہیں لوگ.اربوں روپے. غریب لوگوں کے. غریب لوگوں پر ہی لگے.میں نے جو ایدھی فاؤنڈیشن کا کام دیکھا، میرا تو اس پر دل ٹوٹ گیا. میں نہیں جانتی ان کی ایمبولینس، ایدھی کے لبرل خیالات اور اچھی حس مزاح . میں ایدھی کو نہیں جانتی.میں جانتی ہوں کہ ایک عورتوں کا شیلٹر کیسا ہونا چاہیے. اور ایک عورتوں کی جیل کیسے ہوتی ہے. میں اپ کو یہ بتا رہی ہوں کہ ایدھی کے شیلٹر جیل ہیں.میں لاہور میں واقعہ ایک شیلٹر میں گیئ . بہت بڑا کمپاؤنڈ تھا، کپڑے اور کھلونے بوریوں کی بوریاں کمروں میں پڑی تھیں. اس شیلٹر میں بچیوں کی تعداد تیس چالیس ہو گی. سب سے کم عمر بچی چھے مہینے کی تھی. سب سے بڑی بیس کی ہوگی.زیادہ لوگ پسے دے کر خدا حافظ کہہ جاتے ہیں. کمپاؤنڈ میں جا کر لڑکیوں سے ملنے کا نہیں کہتے. میں نے نگران خاتون کو بتایا کہ میں امریکا سے آیی ہوں، اور میں بچیوں سے ملنا چاہتی ہوں. مجھے تو یہی لگا کہ ہر کوئی یہ خواہش نہیں کرتا. خاص کر مرد جو چندہ دینے جاتے ہوں گے. خیر دن کے دو تین بجے ہوں گے.خاتون ہمیں کمپاؤنڈ کے اندر لے کر گئی تو انہوں نے کمپا ونڈ کے دروازے کو باہر سے لگا تالا کھولا. جیسا کہ اپ نے جیلوں کے باہر دیکھا ہے فلمون میں.بچیاں کمپاؤنڈ کو شیشے کی طرح صاف رکھتی ہیں. کھانا بھی بچیاں پکاتی ہیں. کچن کی کی ڈیوٹی بھی بچیاں باری باری دیتی ہیں. میں سب سے مل کر بہت خوش ہوئی. بیس سال کی بچی ہمیں سارا کمپاؤنڈ دکھا رہی تھی. ماحول میں ظاہر ہے کہ زندگی نہیں تھی. یہ بچیاں ان کھلونوں سے نہیں کھیلتیں . ٹیلی ویژن کا ریموٹ نہیں. صرف ایک چینل لگتا ہے وہ بھی رات کو ایک خاص وقت پر. بہت ساری باتیں جیل جیسی ہیں. مگر سب سے ہولناک بات آخر میں سننے کو ملی.تقریبا باہر نکلنے سے پہلے میں نے پوچھا کہ بچیاں باہر اس وین میں جاتی ہیں جو باہر کھڑی ہے. تو نگران کہنے لگیں کہ بچیاں باہر نہیں جاتیں. میں پہلے تو سمجھی نہیں. مگر کچھ گفتگو کے بعد یہ پتا لگا. ایدھی سینٹر کا اصول ہے کہ بچیوں کو لاک کر دیتے ہیں. یہ بچیاں ایک چار دیواری ، جس میں ایک صحن اور بہت سارے ارد گرد کمرے ہیں میں رہتی ہیں. اب یہ وہاں کب تک رہتی ہیں؟ جب تک ان کے "وارث" ان کو لینے نہیں آ جاتے. اب جس کے وارث پہلے ہی چھوڑ گیے، وہ لینے کیوں آییں گے؟ وارث کون ہوتا ہے ایک بیس بائیس سال کی لڑکی کا؟جب مجھے یہ بات پتا چلی تو میں نے بار بار اسی پر سوال کرنے شورح کر دیے. میں نے نگران سے کہا کہ اپ یہ کیسے کر سکتے ہیںکہ بچیوں کو چار دیواری میں بند کر لیں؟ اپ ان کو کبھی وین میں بازار لے جایا کریں. وہ کہنے لگی کہ آٹھ سال سے کم عمر بچیوں کو کبھی کبھی وین میں آوٹنگ کے لئے لے جاتے ہیں ، مگر اس سے بڑی بچی نہیں جاتی باہر.میں نے پوچھا کہ کیا یہ اسکول نہیں جاتیں؟ نگران کہنے لگی ایک ٹیچر کمپاؤنڈ میں اتی ہے ہر روز، جو ہر عمر کی بچی کو پڑھا دیتی ہے. اس نے مجھے ایککمرہ دیکھایا جس کو "اسکول" کہا،میں نے اونچی چار دیواری کو دیکھا اور اس بیس سال کی بچیسے کہا، "تو اپ اس چار دیواری سے نہیں نکلی، جب سے یہیں آیہیں؟" وہ اتنی اداس تھی کہ بیان سے باہر ہے. بڑے سارے دوپٹے کو لپیٹا ہوا تھا. وہ کہنے لگی کہ باہر نہیں نکلی جب سے آیی ہے. میں نے پوچھا، "اپ کب آی یہاں؟" کہنے لگی کہ "ایک سال سے اوپر ہو گیا ہے. " میں نے ایک دم نگران سے کہا کہ یہ تو زیادتی ہے، یہ تب تک یہاں قید رہے کی جب تک وارث ناں آ جایئں؟زندگی میں بہت کم دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ کسی کی آنکھوں کا لکھا ہوا اپ کو سمجھ آ جاے. مجھے اس بیس سال کی لڑکی کی آنکھوں میں لکھا صاف سمجھ آیا. اس کیآنکھوں میں امید تھی کہ میں کوئ سوشل ورکر ھون۔ وہاں سے نکلوں گی اور اس کو رہا کروانے کی کوششی کروں گی.جیسا کہ کوئی وکیل عورتیں ہیں یا سوشل ورکر کہ ان کو پتا چل جاے تو وہ مظلوم کی رہائی کی کوشش کرتی ہیں.اس لڑکی کی آنکھوں میں امیدکے ساتھ آنسو بھی تھے.بعد میں میں نے بہت لوگوں سے پوچھا. مجھے پتا لگا کہ لڑکیاں باہرلے کر جاؤ تو بھاگ جاتی ہیں، اس لئے ان کو تالے میں رکھا جاتا ہے.اگر مجھے بھی تالے میں رکھا جاے تو میں بھی بھاگ جاؤں گی.سب سے گھٹیا جواب جو مجھے دوستوں سے سننے کو ملا وہ یہ تھا کہ یہ لڑکیاں باہر جایں تو حاملہ ہو جائیں گی. یہ کہنے والے وہی بیغیرٹ مرد اور عورتین تھے جو خود اپنے کئی کئی چکروں کے قصے سناتے ہیں. یہ لوگ خود کو انسان کیسے کہتے ہیں؟ ان کا کہنا کہ جیل میں بغیر کسی قصور کے ڈال دو اگر تمہیں ڈر ہو کہ بچیاں سیکس کر لے گی. یہ ووہی لوگ ہیں جو خود کزن، مامی ، چچی ہر کسی کے ساتھ قصے بنا کر بیٹھے ہوتے ہیں. کسی نے تو یہاں تک لکھ دیا کہ یہ عورتیں طوائفیں بن جائیں اگر ان کو نکلنے دیں. یہ لوگ جانتے ہیں کہ پاکستان میں لاکھوں طوائفیبن ہیں اور وہ آزاد عورتیں ہیں. چھوٹے لڑکے سڑکوں پر دن رات استعمال ہوتے ہیں سیکس کے لئے، ان سےپوچھو کہ کیا وہ سڑک کی بجاےجیل میں رہنا پسند کریں گے؟ اس سینٹر کا نام بلقیس ایدھی سینٹر تھا کیا بلقیس ایدھی کو نہیں پتا کہ لڑکیوں کو تحفظ کے نام پر جیل میں ڈالنا ظلم ہے؟ کیا یہ انسانیت کے لبادے میں لپٹے ظالم لوگ ہیں؟ کیا پاکستان کے لوگ بلکل ہی اندھے اور بیغرت ہیں. اربوں روپیہ دینے کے بعد کیا پوچھنا ان اندھے آور بیغیر ت لوگوں کا حق نہیں؟؟ کیا سارے لاہور میں جوان لڑکیاں وین میں اسکول نہیں جاتی آور پھر گھر واپس نہیں اتی؟ کیاعام لڑکیاں بازار نہیں جاتی وین اور رکشے میں؟ کیا اربوں روپے میں جیل تعمیر کرنے کا وعدہ کیا تھا ایدھی نے؟ کیا ہوسٹلوں میں لڑکیاں قید ہیں یا آزاد؟ ہر کوئی پاکستاب میں سوشل ورک کی فوٹو بنا نے کے چکر میں ہے اور کوئی پوچھتا بھی نہیں کہ اب بچیون کو کیسے رکھا جا رہا ہے.لیکن سب سے زیادہ پیچھا کرنے والی اس لڑکی کی آنکھوں کی امید تھی. میں نے سوال کر کہ اس موزوہ پر، اس کو یہ غلطی سے محسوس کرایا کہ میںاس کے لئے کچھ کروں گی بھی. اب بھی سوچ کر دم گھٹ رہا ہے کہ وہ لڑکی ایک سال سے جیل میں تھی آور اس نے مجھ سے امید لگائی. ہر روز اس کی امید کیسے ٹوٹی ہوگی؟؟ ہرروز اس نے کیسے انتظار کیا ہوگا اس سوشل ورکر کے واپس انے کا.ایک جوان لڑکی کی زندگی ایدھی جیل کی سلاخوں کے پیچھے گزر رہی ہے. کیا لڑکیاں نوکری کرنے ہوسٹلوں سے نکلیں تو بھاگ جاتی ہیں؟ لوگ بھاگتے تو صرف جیل سے ہیں

Comments

Popular posts from this blog

Yusufzai (Pashtun tribe)

The  Yūsufzai  (also  Youssofzay ,  Yousefzai ,  Yousafzai ,  Esapzey ,  Yousufi , or  Yūsufi ) (Pashto:  يوسفزی ,Persian and Urdu:  یوسف زئی ) is one of the largest Pashtun (Afghans) tribes. The majority of the Yusufzai tribe reside in parts of Western Afghanistan, Khyber Pakhtunkhwa and Provincially Administered Tribal Areas near the Afghan-Pakistan border. They are the predominant population in the districts of Konar, Ningarhar, Mardan District, Dir, Swat,Malakand, Swabi, Buner, Shangla, Haripur District [Khalabat Town Ship and Tarbela] and in Mansehra and Battagram. There is also a Yusufzai clan of Dehwar tribe in the Mastung district of Balochistan who speak Persian with some mixture of Birahvi words. The descendants of Yusuf inhabit Konar, Jalalabad, Swat, Upper Dir, Lower Dir, Malakand Swabi and Mardan...

"Dalda ka Dastarkhwan January 2012

    Click Here To Download

یہودی پروٹوکولز

Online Read یہودی پروٹوکولز ============================================== Online Read E Book یہودی پروٹوکولز ============================================== Download Free یہودی پروٹوکولز ---------------------------------------------------- Download Free یہودی پروٹوکولز ----------------------------------------------------

Titliyan Phool aur Khushboo by Rahat Jabeen

Click Here To Download Titliyan Phool aur Khushboo

Mawlana Muhammad Sarfraz Khan Safdar (r.a) by Abu Asim Badrul Islam

Read Online (0.6 M) SMALL BIOGRAPHY OF SHAYKH SARFRAZ KHAN SAFDAR (R.A) IN ENGLISH. By Abu Asim Badrul Islam

وہ ہم میں سے نہیں

بسم اللہ الرحمن الرحیم آج میں آپ سب ساتھیوں کے لیئے وہ احادیث پیش کرنے جا رہا ہوں جن میں نبیﷺ کا ارشاد مبارک ہے کہ ایسا ایسا کام کرنے والے ہم میں سے نہیں ہیں، اس فقرے کی مراد مختلف علماء اور محدثین نے مختلف پیش کی ہے بعض نے کہا کہ اس سے مراد یہ ہے کہ وہ ہم اہل بیت میں سے نہیں ہیں، بعض نے کہا اس سے مراد مسلمانوں میں سے نہیں ہے، بعض نے کہا کہ ہمارے طریقے پر نہیں ہے اور بعض نے کہا کہ وہ ہماری جماعت میں سے نہیں ہے، اب ان مفاہیم میں سے کوئی بھی فہم لیا جائے تو بھی بہت خطرناک معاملہ بنتا ہے اس لیئے بھائیو اور بہنو اپنی اپنی اصلاح کی طرف توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے کہ ان سبھی برُے کاموں میں سے کوئی ایک کام بھی ہمارے اعمال میں موجود نہیں رہنا چاہیئے کہ کہیں اس ارشادِ نبویﷺ کی زَد میں ہماری ذات نہ آ جائے کہ وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ ویسے جہاں تک میں اس کو سمجھا ہوں وہ یہ ہے کہ ہر موقعہ پر اس کا معنی اور مفہوم بدل جاتا ہے یعنی جہاں معاملہ سنگین ہو وہاں اس کا معنی بھی سنگین ہوگا یعنی وہ ہم مسلمانوں میں سے نہیں ہے اور جہاں معاملہ ہلکی نوعیت کا ہوگا وہاں معنی بھی ہلکا ہوگا یعنی وہ ہمار...

EXPLAINING THE FUNDAMENTALS OF FAITH

Mystery Digest January 2012

Click Here To Download Mystery Digest January 2012

Hajj Guide Free 1 double sided page

Title: Hajj Guide Free 1 double sided page Author: The Islamic Bulletin Category: Hajj (Pilgrimage) ‘The Islamic Bulletin’ Resources Filetype: pdf Filesize: 266 KB Description: This guide fits on one page so it is possible to fold and fit in a wallet or purse and take to the Hajj. It is available in Arabic, English, Farsi , French, German, Indonesian, Italian, Spanish, Turkish, and Urdu.     

جمع قرآن اور اس کی تدوین

جمع قرآن اور اس کی تدوین جمع قرآن سے مراد قرآن کریم کا جمع کرنا۔ خواہ حفظ سے ہو یا کتابت سے یا تلاوت کی ریکارڈنگ سے۔ اور تدوین سے مراد اس کو کتابی صورت میں ترتیب دینا ہے۔ان سب مراحل کی ایک دل چسپ معلوماتی تاریخ ہے جسے ایک طالب علم کے لئے جاننا بہت اہم ہے۔تاکہ وہ آگاہ رہے کہ یہ مقدس کتاب کس طرح کن کن ادوار سے گذر کر محفوظ ترین صورت میں ہم تک پہنچی؟مقصد جمع قرآن: جمع قرآن کا مقصد یہی تھا کہ جس طرح قرآن مجید آپ ﷺ پر اترا ہے اور جس طرح آپ نے اسے پڑھا یا سکھایا ہے اسے لکھ کر محفوظ کرلیا جائے۔ یہ اللہ کا حکم تھا تاکہ مستقبل میں ممکنہ اختلاف جو قراءت یا اس کے الفاظ ، ترتیب اور لغت میں پیدا ہوسکتا ہے وہ نہ ہوسکے۔ اللہ تعالیٰ نے خود بھی اس کی حفاظت کی ذمہ داری لی مگر اس حفاظت کا کام صحابہ رسول اور امت کے قراء وحفاظ سے بھی لیا۔جمع قرآن کی دلیل: آپ ﷺ قرآن کی تنزیل میں سخت شدت محسوس کیا کرتے۔ اور اپنے ہونٹوں کو حرکت دیا کرتے تھے۔ جیسا کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت صحیحین میں ہے۔تو اللہ تعالیٰ نے ابتداء میں ہی یہ فرمادیا : {لَا تُحَرِّكْ بِہٖ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ...