Skip to main content

آپ فن لینڈ کا ماڈل ملاحظہ کیجئے

آپ فن لینڈ کا ماڈل ملاحظہ کیجئے‘ فن لینڈ یورپ کے شمال میں چھوٹا سا ملک ہے‘ رقبہ تین لاکھ 38ہزار مربع کلو میٹر اور آبادی 55 لاکھ ہے‘ یہ سکینڈے نیویا کا حصہ ہے‘ موسم شدید سرد ہے‘موسم سرما میں درجہ حرارت منفی 45 ڈگری تک گر جاتا ہے‘ لوگ مہذب‘ صلح جو اور نرم خو ہیں‘ جرائم نہ ہونے کے برابر ہیں‘ یہ ملک ٹریفک قوانین میں باقی دنیا سے مختلف ہے‘ پوری دنیا میں آپ کی آمدنی میں جوں جوں اضافہ ہوتا جاتا ہے آپ میںٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کا رجحان بڑھتا جاتا ہے‘ کیوں؟ کیونکہ آپ قانون شکنی کو جرمانے میں تولنے لگتے ہیں‘ غلط پارکنگ کا جرمانہ پچاس ڈالر‘ کوئی بات نہیں‘ اشارہ ٹوٹ گیا جرمانہ دو سو ڈالر‘ نو پرابلم‘ گاڑی لگ گئی کوئی مسئلہ نہیں انشورنس کمپنی پے کر دے گی اور سپیڈ زیادہ ہوگئی‘ او کوئی ایشو نہیں میرا دفتر جرمانہ ادا کر دے گا وغیرہ وغیرہ چنانچہ آپ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرتے چلے جاتےہیں لیکن فن لینڈ میں ایسا نہیں ہوتا‘ آپ اس ملک میں جوں جوں امیر ہوتے جاتے ہیں آپ ٹریفک قوانین کے معاملے میں اتنے ہی محتاط اور شریف ہوتے چلےجاتے ہیں یہاں تک کہ آپ اگر ارب پتی ہیں تو آپ ذاتی کار چلانا بند کر دیتے ہیں اور آپ ٹیکسی‘بس‘ ٹرین اور ہوائی جہاز استعمال کرتے ہیں‘ یہ دنیا کا واحد ملک ہے جس میں امراءگاڑی چلانا بند کر دیتے ہیں اور یہ گاڑیاں خریدنا بھی چھوڑ دیتے ہیں‘ کیوں؟ کیونکہ فن لینڈ میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر آپ کا جرم نہیں دیکھا جاتا‘ آپ کی آمدنی دیکھی جاتی ہے‘ آپاگر مڈل کلاس سے تعلق رکھتے ہیں تو آپ کو”اوور سپیڈنگ“ پر زیادہ سےزیادہ پانچ سو یوروجرمانہ ہو گا لیکن آپ اگر خوش حال‘ امیر یا رئیس ہیں تو آپ کو دس ہزار‘ پچاس ہزاراور ایک لاکھ تین ہزاریورو جرمانہ ہو جائے گا‘ فن لینڈ میں ایسے کیس بھیسامنے آئے جن میں گاڑی چلانے والا سپیڈ لمٹ سے صرف پندرہ کلو میٹر فی گھنٹہ اوپر گیا اور اسے ایکلاکھ تین ہزار یورو جرمانہ ہو گیا جبکہ پچاس ہزاریورو اور دس ہزار یوروجرمانے کی سینکڑوں مثالیں موجود ہیں‘ ملک میں جس شخص کو پچاس ہزاریا لاکھ یورو جرمانہ ہوجاتا ہے وہ گاڑیاں چلانا بند کر دیتا ہے اور وہ باقی زندگی نہایت شریفانہ گزارتا ہے‘ ایسا کیوں ہوتا ہے؟ اس کی وجہ ذرائع آمدنی ہے‘ فن لینڈ کی حکومت نے 1920ءکی دہائی میں اندازہ لگایا تھا‘ ایک شخص ماہانہ پانچ سو مارکہ کماتا ہے‘ یہ جرم کرتا ہے‘ عدالت اسے پانچ سو مارکہ جرمانہ کر دیتی ہے‘ یہ رقم اس کےلئے بہت بڑی ہے‘ یہ پانچ سو مارکہ حکومت کو دے کر باقی مہینہ شدید مسائل کا شکار رہے گا جبکہ دوسریطرف ایک شخص گھنٹے میں پانچ سو مارکہ کماتا ہے‘ عدالت اسے پانچ ہزار مارکہ جرمانہ کر دے تو بھی اسے کوئی فرق نہیں پڑے گا‘ یہ جرمانہ ادا کرے گا اور بھول جائے گا لیکن اگر اسے پانچ لاکھ مارکہ جرمانہ کردیا جائے تو یہ مستقبل میں یہ غلطی نہیں دہرائے گا چنانچہ حکومت نے قانون بنا دیا جو شخص سڑک پر ٹریفک رولز کی خلاف ورزی کرے اسے جرم کی نوعیت پر جرمانہ نہیں ہو گا‘ وہ اپنی آمدنی کے مطابق سزا بھگتے گا‘ آج پولیس کے پاس تمام شہریوں کا ڈیٹا موجود ہوتا ہے‘ یہ چند سیکنڈ میں شہری کےذرائع آمدنی دیکھتے ہیں‘ اسکی ٹیکس ریٹرنز‘ پراپرٹیز اور بینک اکاﺅنٹس دیکھتے ہیں اور اسے اس کے مطابق جرمانہ”ٹھوک“ دیتے ہیں‘ ملزم اعتراض کرے تو پولیس اہلکاروں کے پاس خصوصی اختیارات ہیں‘ یہ اکاﺅنٹ سے رقم نکال لیتے ہیں یا پھر اس کی کوئی جائیداد جرمانے کے ساتھ منسلک کر دیتے ہیں‘ وہ شخص جب تک جرمانہ ادا نہ کرے‘ وہ اس وقت تکاپنی پراپرٹی بیچ نہیں سکتا اور اگر اس نے وہ پراپرٹی کرائے پر دے رکھی ہے تو وہ اس کا کرایہ وصول نہیں کر سکے گا‘ حکومت پہلے کرائے سے اپنا جرمانہ وصول کرے گی اور اس کےبعد اسے کرایہ وصول کرنے کی اجازت دے گی چنانچہ یہ اس قانون کا کمال ہے‘ آپ فن لینڈ میں جتنا ترقی کرتے جاتے ہیں آپ اتنا ہی محتاط ہوتے جاتےہیں‘ آپ اتنا ہی قانون کی پابندی کرتے ہیں‘ آپ جانتے ہیں آپ کی غلطی آپ کی پوری زندگی کی محنت اکارت کر دے گی اور یہ قانون کا وہ خوف ہے جس کی وجہ سے فن لینڈ کے امراءگاڑی چلانے کا رسک نہیں لیتے اور یہ ٹیکسیوں‘ پبلک ٹرانسپورٹ اور ٹرینوں میں سفر کرتے ہیں۔آپ فن لینڈ سے اب پاکستان میں آئیے‘ ہمارے ملک میں سڑکیں انتہائی غیر محفوظ ہیں‘ آپ اسلام آباد‘ لاہور اور کراچی کی سڑکوں پر نکل جائیں‘ آپ جی ٹی روڈ اور موٹر وے پر سفر کر کے دیکھ لیں‘ آپ کے دائیں بائیں سے گاڑیاں ساں ساں کر کے گزریں گی‘ آپ کو کوئی شخص سپیڈ لمٹ کا خیال رکھتا نظر نہیں آئے گا‘ کیوں؟ کیونکہ پاکستان میں جرمانے انتہائی کم ہیں‘ آپ سپیڈ لمٹ سے خواہ پچاس کلو میٹر اوپر چلے جائیں آپ کو اڑھائیسو سے ساڑھے سات سو روپے جرمانہ ہو گا ‘ یہ رقم قانون شکنیوں کےلئے مونگ پھلی سےزیادہ اہمیت نہیں رکھتی‘ میں نے موٹر وے پر ایسے مناظر بھی دیکھے ہیں جب ایک شخص قانون توڑتا جا رہا ہے اور اس کےپیچھے موجود اس کی اضافی گاڑیاں اس کے جرمانے ادا کرتی جا رہی ہیں یہاں تک کہ وہ دو گھنٹے میں اسلام آباد سےلاہور پہنچ گیا‘ میں نے یہ بھی دیکھا موٹروے پولیس نے گاڑی کو زبردستی روکا‘ ڈرائیور چالان کروانے میں مصروف ہو گیا‘ صاحب اترے‘ دوسری گاڑی میں سوار ہوئے اور آگے روانہ ہو گئے‘ آپ کسی روز رات کے وقت اسلام آباد کے سیونتھ ایونیو‘ نائنتھ ایونیو اور مارگلہ روڈ پر سفر کر کےدیکھیں‘ آپ کو لوگ نشےمیں دھت اوور سپیڈنگ کرتے دکھائی دیں گے‘ آپ کو بچے ویلنگ کرتے بھی ملیں گے اور ریس لگاتے بھی‘ ایسا کیوں ہوتا ہے؟ یہ اس لئے ہوتا ہے کہ ملک میں جرمانہ جرم پر کیا جاتا ہے‘ مجرم کی پوزیشن پر نہیں‘ موٹروے پر دو سو روپے سے لے کر ساڑھے سات سو روپے جرمانہ ہے‘ یہ رقم ہر معمولی خوش حال شخص آسانی سے ادا کر سکتا ہے لہٰذا پھریہ اوور سپیڈنگ کیوں نہ کرے؟ یہ قانون کیوں نہ توڑے؟ملک میںویلنگ اور ریس بھی بڑے جرائم نہیں ہیں‘ نوجوان معمولی جرمانہ ادا کرتے ہیں یا گڑگڑا کر جان چھڑا لیتے ہیں لہٰذا یہ سلسلہ دراز ہوتا جا رہا ہے‘ پنجاب 20 دن سموگ کا شکار رہا‘ یہ سموگ پچاس جانیں لے گئی مگرگاڑیوں پر فوگ لائیٹس نہیں لگیں‘ کیوں؟ کیونکہ یہ سرے سے جرم ہی نہیں‘یہ درست ہے ہم غریب ملک ہیں‘ ہماری اکانومی بھی ریکارڈ میں نہیں آئی اور ہم فن لینڈ نہیں بن سکتے لیکن ہم بڑی آسانی سے جرمانوں کو گاڑیوں کی مالیت سے تو نتھی کر سکتے ہیں‘ آپ سائیکل اور موٹر سائیکل سوار سے ساڑھے سات سو روپے جرمانہ وصول کریں لیکن آپ مرسیڈیز‘ بی ایم ڈبلیو‘ لینڈ کروزر‘ اڈوی اورپراڈو کے مالک کو لاکھ روپے جرمانہ کریں‘ ہم دیکھتے ہیں یہ لوگ اس کے بعد کیسے اوور سپیڈنگ کرتے ہیں‘ یہ کیسے اشارہ توڑتےہیں اور یہ کیسے غلط لائین سے اوورٹیک کرتے ہیں‘ آپ اسی طرح لائسنس کے بغیر ڈرائیو کرنےوالوں کی گاڑیاں ضبط کرلیں‘ آپ یقین کریں ملک میں جس دن دو گاڑیاں آکشن ہوجائیں گی‘ لوگ لائنوں میں لگ کر لائسنس حاصل کریں گے‘ آپ اسی طرح ریس اور ویلنگ کرنے والے نوجوانوں کی فلم بنائیں اور ان کی گاڑیاں اور موٹر سائیکل بھی ضبط کر لیں‘ آپ اگلے دن نتیجہ دیکھ لیجئے اور آپ اسی طرح قانون بنا دیں جو گاڑی پندرہ اکتوبر سے 15 اپریل تک فوگ لائیٹس کے بغیر روڈ پر چڑھے گی اسے لاکھ روپے جرمانہ ادا کرنا پڑے گا‘ آپ اس کے بعد رزلٹ دیکھ لیجئے گا‘ آپ اسی طرح انشورنس اور مینٹیننس کو بھی قانون بنا دیں‘آپ اعلان کریں ملک میں کوئی گاڑی انشورنس اور مینٹیننس کے بغیر سڑکپر نہیں آ ئے گی اور اگر آئی تو اسے ضبط کر لیا جائے گا‘ آپ چند ماہ میں اس کا نتیجہ بھی دیکھ لیجئے گا‘ ہماری سڑکیں اور سفر دونوں محفوظ ہو جائیں گے۔خدا کی پناہ ہمارے ملک میں ہر سال سڑکوں پر اتنے لوگ ہلاک ہو جاتے ہیں جتنے دس برسوں میں دہشت گردی سے مارے گئے ‘ ہم من حیث القوم اس قتال کے ذمہ دار ہیں‘کیوں؟کیونکہ ہم نے آج تک ٹریفک کے مسائل سے نبٹنے کےلئے کوئی قانون ہی نہیں بنایا اور اگر قانون ہے تو یہ بہتکمزور اور بہت غریب ہے‘

Comments

Popular posts from this blog

اللہ تعالیٰ کے حقوق

بسم اللہ الرحمن الرحیم اللہ تعالیٰ کے حقوق اللہ تعالیٰ کا حق تمام حقوق سے زیادہ ضروری ہے اور سب سے اہم ہے۔کیونکہ وہ اس کائنات کا خالق و مالک اور تمام تر امور کی تدبیر کرنے والا ہے۔وہ زندہ جاوید ہستی ہے جو تمام کائنات کا نطام سنبھالے ہوئے ہے،اس نے ہر چیز کو پیدا کیا اور اپنی حکمت بالغہ سے اس کا اندازہ کیا۔انسان کو اشرف المخلوقات بنایا ،پھر انسان کو اپنے احسانات یاد کرائے کہ اے انسان !تجھ پر اس ذات کا حق ہے جس نے نعمتوں کے ساتھ تیری پرورش کی۔تو اپنی ماں کے پیٹ میں تین طرح کے اندھیروں میں تھا۔جہاں مخلوقات میں کوئی بھی تجھے غذا یا ایسی اشیاء نہیں پہنچا سکتا تھا جو تیری افزائش اور زندگی کو قائم رکھنے والی ہوں۔اس نے ماں کی چھاتیوں میں وافر دودھ اتارا،تجھے اس کی راہ دکھلائی اور تیرے والدین کو تیرا محسن بنا دیا۔تیری امداد کی اور تجھے کامیاب کیا۔ارشاد باری تعالیٰ ہے: وَٱللَّهُ أَخْرَجَكُم مِّنۢ بُطُونِ أُمَّهَٰتِكُمْ لَا تَعْلَمُونَ شَيْا وَجَعَلَ لَكُمُ ٱلسَّمْعَ وَٱلْأَبْصَٰرَ وَٱلْأَفْدَةَ ۙ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ ﴿78﴾ ترجمہ: اور اللہ ہی نے تم کو تمہاری ماؤں کے شکم سے پیدا کیا کہ...

یہودی پروٹوکولز

Online Read یہودی پروٹوکولز ============================================== Online Read E Book یہودی پروٹوکولز ============================================== Download Free یہودی پروٹوکولز ---------------------------------------------------- Download Free یہودی پروٹوکولز ----------------------------------------------------

Kaghazee Qiyamat mazhar kaleem M.A

Download 1 Download 2

جمع عثمانی رِوایات کے آئینے میں

نبی مکرمﷺ کی حدیث مبارکہ ’’خَیْرُ النَّاسِ قَرْنِيْ ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَھُمْ ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَھُمْ‘‘۔(صحیح البخاري: ۲۶۵۲) پر جب نظر پڑتی ہے تو سر احسان و نیازمندی کے ملے جلے تاثر ات سے جھک جاتا ہے کہ واقعتا آپﷺ، صحابہ رضی اللہ عنہم اور تابعین رحمہم اللہ کا زمانہ خیر القرون تھا، کیونکہ اس میں بنی نوع اِنسان کی راہ روی اور اسلام کی سربلندی کے لیے وہ محنتیں اور کوششیں ہوئی ہیں کہ جس کی مثال آئندہ جمیع قرون میں پیش کرنا مشکل ہے۔ یقینا وہ لوگ اس قابل تھے کہ اُنہیں یہ ذمہ داری سونپی جاتی کہ وہ دینِ الٰہی اور شرع اللہ کو اپنی مکمل تشریحات کے ساتھ آئندہ نسلوں تک منتقل کریں، بلا شبہ وہ طائفہ فائزہ اپنے اس مقصد میں بامراد ہوا ہے۔ان جملہ ذمہ داریوں میں سے اَہم ترین ذمہ داری یہ تھی کہ ہدایت سماوی کے آخری ربانی صحیفہ کو محفوظ اور غیر متبدل شکل میں ہم تک پہنچایا جائے۔ ہمارا یہ قطعی ایمان ہے کہ وہ پیام اَیزدی آج اپنی سو فیصد اَصلی اور حقیقی شکل میں ہمارے درمیان موجود ہے۔ الحمد ﷲ علی ذلک۔اِس سلسلہ میں خیرالقرون میں جو سب سے اَہم کام ہوا ہے وہ سیدنا عثمان ذوالنورین رضی ال...

گستاخ رسول کی سزااورحکومت وقت کی ذمہ داری

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ: ”الہدیٰ انٹرنیشنل“ ایک دینی ادارہ کہلاتا ہے، کیا اس ادارے والے صحیح المسلک اور متبع سنت ہیں یا نہیں ؟یہاں تعلیم حاصل کرنے والی چند خواتین جوکہ قرآن کریم کی تجوید درست کرنے یا علم دین حاصل کرنے کی طلب میں ان مدارس میں گئیں‘ لیکن وہاں چند ایسے مسائل سامنے آئے کہ عجیب تذبذب اور پریشانی کا شکار ہوگئیں‘ آپ سے درخواست ہے کہ کافی شافی اور تفصیلی جواب عنایت فرمایئے اور امت مسلمہ کے تذبذب کو دور فرمایئے اور گمراہی سے بچایئے ۔ اسی طرح پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ایک شہر میں لڑکیوں کا ایک مدرسہ ہے‘ جس کی صدر مدرسہ یا منتظمہ ایک خاتون ہیں ‘یہ خاتون غیر شادی شدہ ہیں۔ نیز یہ جامعہ‘ صرف بنات کا ہے۔ یہاں کا سارا نظام موصوفہ یا یہیں کی تعلیم یافتہ چند خواتین سنبھالتی ہیں‘ یہ بھی غیر شادی شدہ ہیں۔ مقصد یہ ہے کہ یہاں کی انتظامیہ میں کسی مرد کاکوئی عمل دخل نہیں ہے اور جس طرح یہ تمام خواتین غیر شادی شدہ ہیں۔ اسی طرح یہاں کی تمام طالبات بھی غیر شادی شدہ ہیں۔ اگر کسی طالبہ کے بارے میں یہ علم ہوجائے کہ یہ شادی شدہ ہے تو اسے خارج کردیا جاتاہے او...

قرآن حکیم کے نازل ہونے کی کیا غرض ہے

سورہ آلِ عمران هَـٰذَا بَيَانٌ لِّلنَّاسِ وَهُدًى وَمَوْعِظَةٌ لِّلْمُتَّقِينَ ﴿١٣٨﴾ یہ (قرآن) لوگوں کے لیے بیان صریح اور اہلِ تقویٰ کے لیے ہدایت اور نصیحت ہے۔ سورہ المآئدۃ يَا أَهْلَ الْكِتَابِ قَدْ جَاءَكُمْ رَسُولُنَا يُبَيِّنُ لَكُمْ كَثِيرًا مِّمَّا كُنتُمْ تُخْفُونَ مِنَ الْكِتَابِ وَيَعْفُو عَن كَثِيرٍ ۚ قَدْ جَاءَكُم مِّنَ اللَّـهِ نُورٌ وَكِتَابٌ مُّبِينٌ ﴿١٥﴾هْدِي بِهِ اللَّـهُ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَهُ سُبُلَ السَّلَامِ وَيُخْرِجُهُم مِّنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ بِإِذْنِهِ وَيَهْدِيهِمْ إِلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ ﴿١٦﴾  اے اہل کتاب! تمہارے پاس ہمارے پیغمبر (آخرالزماں) آ گئے ہیں کہ جو کچھ تم کتاب (الہٰی) میں سے چھپاتے تھے وہ اس میں سے بہت کچھ تمہیں کھول کھول کر بتا دیتے ہیں اور تمہارے بہت سے قصور معاف کر دیتے ہیں بےشک تمہارے پاس خدا کی طرف سے نور اور روشن کتاب آ چکی ہے۔جس سے خدا اپنی رضا پر چلنے والوں کو نجات کے رستے دکھاتا ہے اور اپنے حکم سے اندھیرے میں سے نکال کر روشنی کی طرف لے جاتا اور ان کو سیدھے رستہ پر چلاتا ہے۔ وَكَتَبْنَا عَلَيْه...

The Case of Hudood Ordinances By Shaykh Mufti Taqi Usmani

Read Online [0.4] Urdu Translation

Yusufzai (Pashtun tribe)

The  Yūsufzai  (also  Youssofzay ,  Yousefzai ,  Yousafzai ,  Esapzey ,  Yousufi , or  Yūsufi ) (Pashto:  يوسفزی ,Persian and Urdu:  یوسف زئی ) is one of the largest Pashtun (Afghans) tribes. The majority of the Yusufzai tribe reside in parts of Western Afghanistan, Khyber Pakhtunkhwa and Provincially Administered Tribal Areas near the Afghan-Pakistan border. They are the predominant population in the districts of Konar, Ningarhar, Mardan District, Dir, Swat,Malakand, Swabi, Buner, Shangla, Haripur District [Khalabat Town Ship and Tarbela] and in Mansehra and Battagram. There is also a Yusufzai clan of Dehwar tribe in the Mastung district of Balochistan who speak Persian with some mixture of Birahvi words. The descendants of Yusuf inhabit Konar, Jalalabad, Swat, Upper Dir, Lower Dir, Malakand Swabi and Mardan...

ان شاءاللہ لکھنے میں غلطی کرنا

بسم اللہ الرحمن الرحیم السلام علیکم ورحمتہ اللہ آ پ لوگوں نے اکثر کتابوں میں لفظ ان شاءاللہ کو اس طرح لکھا ہوا پڑھاہوگا انشاءاللہ اور جب کہ اس طرح لکھنے سے اس کا معنی بدل جاتا ہے۔ لفظ ان شاءاللہ کے اردو میں معنی بنتا ہے اگر اللہ نے چاہا اور جب کہ انشاء عربی میں کسی چیز کو بنانے کو کہتے ہیں اس طرح انشاءاللہ کے معنی بہت غلط بن جاتے ہیں ۔ہم لوگ عربی زبان سے واقفیت نہ رکھنے کی وجہ سے ایسی غلطیاں کر جاتے ہیں اللہ ہمیں معاف فرمائے آمین۔اللہ کا ارشاد ہے کہاِنَّآ اَنْشَاْنٰهُنَّ اِنْشَاۗءً 35۝ۙہم نے ان (کی بیویوں کو) خاص طور پر بنایا ہے۔الواقعہ:۳۵قَالَ اِنَّمَا يَاْتِيْكُمْ بِهِ اللّٰهُ اِنْ شَاۗءَ وَمَآ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِيْنَ 33 ؀جواب دیا کہ اسے بھی اللہ تعالٰی ہی لائے گااگر وہ چاہے اور ہاں تم اسے ہرانے والے نہیں ہو۔ھود:۳۳فَلَمَّا دَخَلُوْا عَلٰي يُوْسُفَ اٰوٰٓى اِلَيْهِ اَبَوَيْهِ وَقَالَ ادْخُلُوْا مِصْرَ اِنْ شَاۗءَ اللّٰهُ اٰمِنِيْنَ 99؀ۭپھر جب (سب کے سب) یوسف کے پاس پہنچے تو اس نے اپنے والدین کو (عزت و احترام کے ساتھ) اپنے پاس جگہ دی اور کہا، ''کہاگر اللہ نے چاہا تو...

خواتین اسلام کو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی نصیحتیں

فرمانِ الہٰی ہے :۔ 1(اے نبی صلی اللہ علیہ و سلم ) مومن عورتوں سے کہہ دیجئے کہ وہ اپنی نظر یں نیچی رکھیں ، اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں ۔ (النور24:آیت31) 2 اپنی زیب وزینت کا اظہار نہ ہونے دیں۔(النور24:آیت31) 3 اپنی اوڑھنیاں اپنے سینوں پر ڈالے رہیں۔(النور24:آیت31) 4 ( غیر محرموں سے) نرم لہجہ میں بات نہ کرو ۔(الاحزاب33:آیت32) 5 نماز کی پابندی کرو، زکوٰۃ کی ادائیگی کرو۔(الاحزاب33:آیت32) 6 اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو۔(الاحزاب33:آیت32) رسول اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا :۔ 1 ایسے راستوں پر نہ چلیں جہاں مردوں کی ریل پیل ہوبلکہ کنارے کنارہ چلتے ہوئے راستہ طے کریں۔(ابوداؤد) 2 غیر محرم مردوں سے تنہائی میں نہ ملیں اس لئے کہ اس وقت تیسرا شیطان ہوتا ہے۔(جو برائی کروانے کی بھرپور کوشش کرتا ہے)۔(ابوداؤد) 3 دیور ، جیٹھ وغیرہ سے بھی تنہائی میں نہ ملیں۔(بخاری) 4 غیر محرم کے ساتھ سفر سے اجتناب کریں۔(بخاری) 5 بازار بد ترین جگہ ہے (بلا ضرورت بازار نہ جائیں)۔(مسلم) 6 خوشبو لگا کر اور باریک لباس پہن کر گھر سے نہ نکلیں اس لئے کہ یہ عریانی اور د...