Skip to main content

محنت‘ مشقت اور ابتلائیں کامیابی کا ذریعہ ہیں

انہی پتھروں پہ چل کر اگر آسکو تو آؤ میرے گھر کے راستے میں کوئی کہکشاں نہیں ہےدنیا دار المحن ہے اور آخرت دار النعم‘ دنیا میں محنت و مشقت اگر درست رخ پر کرلی گئی تو آخرت میں عیش وآرام ہے۔ حضرت آدم علیہ السلام وارد زمین ہوئے‘ انہیں سالہا سال تک مشقت ہی اٹھانا پڑی‘ وہ اللہ کی رضا والی جنت میں رہتے تھے‘ تھوڑا سا چوک ہوگئی‘ آزمائش کا دور شروع ہوگیا۔ زمین پر اتارے گئے‘ اماں حوا سے جدائی ہوگئی‘ کتنی ہی گریہ وزاری کے بعد عرفات کے میدان میں دونوں کی ملاقات ہوئی‘ رو رو کر دعا مانگی تو قبول ہوئی‘ پھر انہی کی اولاد سے زمین کو آباد کیا گیا اور اعلان کردیا گیا: ”لقد خلقنا الانسان فی کبد“ (انسان کو بیشک ہم نے محنت ومشقت اٹھانے کے لئے پیدا کیا ہے) حضرت نوح علیہ السلام آئے‘ الٰہی احکام پہنچانے کی ذمہ داری اٹھائی‘ ۵۰/ کم ہزار سال تبلیغ ودعوت کا فریضہ انجام دیا‘ خوش نصیب لوگوں کو ایمان اور عمل نصیب ہوا‘ نبی کی پیروی کی سعادت نصیب ہوئی‘ حضرت نوح علیہ السلام ہی کا بیان ہے کہ انہوں نے رات دن انسانوں کو بھلائی کی دعوت دی‘ مگر انہوں نے راہ فرارہی اختیار کی ،بالآخر حضرت نوح علیہ السلام کی ماننے والے کشتی میں سوار ہوکر نجات پاگئے اور اللہ اور رسول کے نافرمان اپنے انجام کو پہنچ گئے ۔ان کے مال ودولت‘ ان کے عزت ووقار‘ ان کے وسائل واقتدار اور سارا پرو ٹوکول ان کو نہ بچاسکا۔ پہاڑوں کی چوٹیوں پر بھی پانی چڑھ دوڑا اور نبی کی رشتے داری بیٹے اور بیوی ہونے نے بھی ان کو نہ بچایا‘ جی ہاں فرمان فیض نشان سید الانس والجان ا : ” من بطأ بہ عملہ لم یسرع بہ نسبہ “ (جس کے اعمال نے اسے پیچھے دھکیلا اس کی عالی نسبی اسے آگے نہیں لے جا سکتی ۔محنت تو ڈوبنے والوں کی بھی لگی اور نجات پانے والوں نے بھی مشقت اٹھائی‘ مگر نجات درست رخ والوں کو ملی‘ انجام انہی کا اچھا ہوا جنہوں نے نبی کی مانی۔سیدنا ابراہیم علیہ الصلوٰة والسلام نے بھی مشقتیں برداشت کیں، بلکہ بعض روایات کے مطابق پیدائش سے بھی پہلے محنت ومشقت ان کے کھاتے میں لکھ دی گئی ‘ کہیں غاروں میں جاکر ماں نے جنم دیا‘ وہیں پلے بڑھے مگر بچپن ہی میں جب والد کے گھر پہنچے تو تبلیغ کا علم اٹھالیا‘ والد محترم ہی کو سب سے پہلے تبلیغ کئے جانے کا حق دار پایا‘ پھر قوم کو سیدھی راہ کی دعوت دی مگر حق کی راہ میں مخمل کا فرش تو نہ تھا‘ چھوٹوں ،بڑوں کو‘ ہمسروں کو پھر شاہ وقت کو سمجھانے پہنچے‘ مگر کسی نے مان کے نہ دیا۔ سمجھانے کا ایک انداز یہ بھی تھا کہ ”جن پتھروں کو خود گھڑ کر تم معبود ومسجود سمجھتے ہو‘ میں ان سے نمٹ لوں گا“ بے خطر ایک کلہاڑا لے کر سب اصنام کو برابر کردیا اور ہاں ان پتھروں کو بھی دعوت کے بغیر نشانہ نہیں بنایا‘ فرمارہے تھے ”تم کھاتے کیوں نہیں ہو‘ نوع بہ نوع کھانے تمہارے سامنے رکھے ہیں اور تم بت بنے بیٹھے ہو‘ ارے تم بولتے کیوں نہیں ہو؟ پھر قوم سے مخاطب ہوئے ”تف ہے تمہارے اوپر اور تمہارے ان مجبور ومقہور معبود وں پر“ مکالمے ہوتے رہے مگر باطل پرست‘ روشن خیال‘ اپنی اصل اعتدال پسندی پر آگئے‘ کہنے لگے: ارے ہمارے پاس سفید فاسفورس بم بھی تو ہیں‘ لاؤ ناں! اکیلے خدا کی دعوت دینے والے کو مزا چکھائیں : ”حرقوہ وانصروا اٰلہتکم “ فاسورس کی آگ بھڑکاؤ‘ اسے اٹھاکر اس میں پھینکو‘ یہ مانتا ہی نہیں‘ ہمارے خداؤوں کی توہین کئے چلا جارہاہے (اگرچہ وہ اس بات کو تسلیم کرچکے تھے کہ یہ اصنام واوثان ہیں تو معبودان باطل‘ کر توکچھ نہیں سکتے‘ بچا تو اپنے کو بھی نہیں سکے‘ مگر ہم اپنے باپ دادا کے رسم ورواج اوران کے طور اطوار کیوں چھوڑیں)دوسری طرف موحد اعظم‘ مبلغ اعظم‘ جد الانبیاء‘ جد خاتم النبیین سیدنا ابراہیم علیہ الصلاة والسلام اپنے مقام پر ڈٹے ہوئے تھے۔ ان کے پاس تو جو کلہاڑا تھا وہ بھی معبود ان باطل کے بڑے کے حوالے کر آئے تھے‘ مقابلہ تو کچھ بھی نہ تھا مگر ایمان وایقان اتنا طاقتور تھا کہ آگ میں گرنے سے بے خوف مالک لم یزل پر نظریں جمائے نتیجے سے بے پروا کھڑے تھے‘ پھر کیا وہی آگ گلزار جنت کا نظارہ نہیں دے رہی تھی؟ اب یہ اس بے نیاز مالک کی مرضی ہے‘ کبھی تو اپنے نام پر زنیرہ‘ سمیہ اورحضرت حمزہ رضی اللہ عنہم کی قربانیاں وصول کرنا پسند کرتا ہے‘ کبھی تو جامعہ حفصہ اور لال مسجد کی معصوم ہزاروں طالبات اور سینکڑوں طلباء کی جان کی قربانیاں لے کر خوش ہوتا ہے‘ کبھی آسیہ کی زبان سے دعائیں سنتا مگر بے تکلف شہادت قبول کرلیتا ہے‘ کبھی تو ستر ہزار جادو گروں کے اسلام کو قبول کرتا مگر ہاتھوں پاؤں کے کٹنے اور کھجوروں کے تنوں پر ان کے سولی دئے جانے کا منظر دیکھتا ہے‘ وہ بے نیاز مالک کبھی تو دیوبند اور دہلی سے پشاور تک کی جی ٹی روڈ کے اطراف میں لگے درختوں پر ہزاروں فرزندان حق کی سولی دئے جانے کے مناظر پر خوش ہوکر جنت کے اعلیٰ منازل ومساکن کا ان کے لئے فیصلہ کرتاہے‘ اس لئے کہ جیسے دو نقطوں کے درمیان کم ترین فاصلے کو خط مستقیم کہا جاتا ہے‘ اللہ اور بندے کے درمیان کم سے کم فاصلے کو جہد وجہاد اور صراط مستقیم کہا جاتا ہے‘ کٹ جانے والے اپنی خوش نصیبی پر نازاں‘ جنات عدن کو زیارت محبوب جل مجدہ کے لئے روانہ ہوجاتے ہیں اور پیچھے والے بھی ان کے ساتھی نعرہ زن ہوتے ہیں‘ سچی خبریں دینے والا خبر دیتا ہے: ”فمنہم من قضی نحبہ ومنہم ینتظر ،وما بدلوا تبدیلا“ ان خوش نصیب عالی بختوں میں سے بہت سے جو سچی لو لگا کر وعدہ پورا کرچکے اور بہت سے ایسے ہیں جو اس عالی مقام کے حصول کے منتظر ہیں‘ ڈٹے ہوئے ہیں (اب یہ مالک کی مرضی ہے کہ کس کو کب تک زندہ رکھ کر باطل قوتوں کو تگنی کا ناچ نچاتا ہے اور کس کو کب شہادت کا شہد سے میٹھا پیالہ پلاکر شراب وصل سے سرفراز کرتا ہے ،یہ تو اس کی مرضی ہے) طالبان تو ڈٹے ہوئے ہیں‘ یہ اس بے نیاز مالک کی مرضی ”ان الحکم الا لله“ فیصلے تو اللہ کے نافذ العمل ہوتے ہیں ،جب بھی کسی کی مدت پوری ہوتی ہے پھر ایک گھڑی تاخیر نہیں ہوتی اور ہاں ایک گھڑی پہلے بھی موت نہیں آسکتی‘ پھر ان سعادتمند مردوں عورتوں کو بتا بھی دیا جاتا ہے کہ : ”ان موعدکم الجنة“ دیکھو اے آل یاسر! اے میرے غیور قربانی دینے والے صحابہ! وعدہ تم سے جنت کا ہے (اور وہ بہت بڑی کامیابی تمہیں مل کررہے گی)وہ بے نیاز مالک کبھی مال ومنال نہ دے کر‘ کبھی دے کر پھر چھین کر آزما تاہے ۔ جیسے سیدنا حضرت ایوب علیہ السلام کو آزمایا‘ کبھی جان عزیز‘ وطن عزیز‘ کبھی اولاد وازواج کی قربانی لے کر آزماتا ہے‘ پھر کہتا ہے: تم بھی اعلان کردو ناں : ”انا لله وانا الیہ راجعون“ مولا!ہم تو جو کچھ ہیں‘ آپ ہی کے ہیں اور واپس آپ ہی کی عالی بارگاہ میں حاضر ہونا ہے۔ اگر جامعہ حفصہ کی یتیم ومسکین بے سہارا بچیوں کو اور طلبائے دین کو لال مسجد کے اندر اور باہر شہادت دے کر ان کی جان عزیز کو قبول کرنا اسے پسند ہوتا ہے تو اس سے پہلے اپنے محبوب انبیاء کرام علیہم السلام سے بھی قربانیاں لی ہیں‘ کبھی ابراہیم علیہ السلام کو سیدہ ہاجرہ اور ننھے حضرت اسماعیل علیہ السلام سے جدائی کا حکم ملتا ہے ‘ کبھی حضرت اسماعیل علیہ السلام کی ننھی جان کو پیاس سے تڑپایا جاتا اور سیدہ ہاجرہ کو صفا ومروہ میں سرگرداں دوڑ ایا جاتا ہے ‘ پھر انعام بھی بڑا کہ ہمیشہ ہمیشہ تاقیامت زمزم کا پاکیزہ پانی‘ خراب نہ ہونے والا چشمہ ․․․․ یہ تو اس بے نیاز مالک کی مشیت ہے کہ کس سے کیا کام لینا ہے‘ محنت ومشقت تو سب نے کرنی ہے مگر سعادت ان کی ہے جن کا رخ درست ہو۔ وہ مالک بے نیاز کبھی حضرت داود علیہ السلام جیسے نوجوان مجاہد سے طاقتور ہمہ مقتدر قوتوں والے جالوت کو مرواتا ہے‘ کبھی ننھے معاذ اور معوذ سے طاقت کے نشے میں چور مغرور ابوجہل کو گھائل بہ جہنم مائل کروادیتا ہے پھر ظاہراً کمزور اور غیر خاندانی سیدنا عبد اللہ بن مسعود کے ہاتھوں اسے جہنم داخل کروا دیتا ہے۔ وہ مالک کبھی سیدنا سلیمان علیہ السلام کو تخت دے کر آزماتا ہے اور کبھی تخت شاہی چھین بھی لیتا ہے‘ پھر بعد از ابتلاء جن وانس اور ہواؤں کو اس کے حکم کا پابند کردیتا ہے‘ تخت ان کے حکم پر آجکل کے خصوصی فوجی ہوائی جہازوں سے تیز تر رواں دواں ہوتا ہے‘ تخت بلقیس ان کے پلک جھپکنے میں سامنے حاضری پر مجبور ہوتا ہے‘ وہ مالک بے نیاز جب چاہتاہے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ڈنڈے کوہی ان کی عطایافتہ قوتوں کے اظہار کا ذریعہ بنا دیتا ہے‘ یہی ڈنڈا کہیں اژدہا بن کر ستر ہزار جادو گروں کی ہدایت کا ذریعہ مگر فرعون کے روشن خیال دین پر اپنے باطل نظریے پر ڈھٹائی کا ذریعہ بنتا ہے۔ یہی عصائے موسوی کہیں بارہ سڑکیں بناتا اور کہیں بارہ چشمے جاری کرتا نظر آتا ہے اور یہی عصائے موسوی فرعون اور اس کے لشکروں اور ننھے معصوم بچوں کو (ہاں بچیوں کو نہیں) ذبح کرنے والے قوة قاہرہ کے مالک فرعون اور اس کے مشیروں کے غرق نیل ہونے کا ذریعہ بنتا ہے۔ ہاں! اس لئے کہ بنی اسرائیل نے نبی کی مان کر ان کے ساتھ چلنے کا صحیح رخ اختیار کیا تھا۔ پھر جب تک انہوں نے نبی کی مانی‘ انہیں بغیر محنت منّ وسلویٰ کھلایا۔ مگر جب انہی بنی اسرائیل نے بچھڑا پوجا تو نجات کا ایک ہی راستہ بتایا کہ پوجنے والے نہ پوجنے والوں کے ہاتھوں قتل کئے جائیں اور وہ بہ رضا ورغبت قتل ہوں تو معافی دیجا سکتی ہے‘ پھر انہی بنی اسرائیل نے اپنی کتابوں اور نبیوں کی دی گئی نشانیوں پر آخری نبی‘ آخری ہادی ومہدی حضرت محمدا کی انتظار میں مدینے کا رخ کیا تو ان کو مدینے اور خیبر کے نخلستانوں کا مالک بنایا مگر ان میں سے اکثر کو نفس وشیطان نے ورغلایا کہ جب خاتم المعصومین اتشریف لائے تو (ضد وسرکشی کی بناپر ان پر ایمان لانے سے) انکار کردیا۔مالک بڑا بے نیاز ہے‘ اصحاب رسول اہتھیلی پر جان لئے پھرتے تھے ،پھر نتیجہ کیا تھا کہ:تھمتا نہ تھا کسی سے سیل رواں ہمارامحنت تو کرنا ہی پڑتی ہے‘ قربانیاں تو دینا ہی پڑتی ہیں‘ مگر کامیابی حق والوں‘ صحیح رخ والوں کو ملتی ہے۔ ایک وقت تھا کہ اس درست رخ کی محنت کی وجہ سے یورپ (اندلس‘ فرانس وغیرہ) عیسائی قوم عدل وانصاف ڈھونڈنے افریقہ کی غریب لیکن حق پرست مجاہد قوم بربر کے سپوتوں کے آگے داد رسی کے لئے جھولی پھیلاتی تھی اور وہ مجاہد حضرت طارق بن زیاد‘بربر قوم کے سپوت‘ لائق صد فخر فرزند‘ اسلام کی زیر سرکردگی سمندروں ‘ پہاڑوں کو عبور کرتے اسلام کا عدل اور امن وسلامتی کا نظام وہاں نافذ کردیتے تھے (خیال رہے کہ بربریت عدل وسلامتی کے معنی میں تھا‘ مگر کافرانہ سازش کے پراپیگنڈاکا کمال ہے کہ آج ہمارے پڑھے لکھے بلکہ کئی متدین حلقے بھی اور عقیل وفہیم صحافی بھی بربریت بمعنی ظلم وستم لینے لگے ہیں‘ حالانکہ ظلم وستم کے لئے درست اصطلاح تو امریکیت‘ چنگیزیت‘ سبائیت اور قرمطیت وغیرہ ہے) بہرحال یہ درست رخ کی محنت کا کمال تھا اور اس کا نتیجہ دنیا میں ظاہر نظر آئے یا نہ‘ برزخ اور آخرت میں تو اتنا لاجواب ہے کہ اس کا ذکر لایزل کتاب حق قرآن مجید میں کر دیا کہ وہ وقت بہت قریب ہے جب غلط اور باطل نظریات کی غلط رخ کی محنت کرنے والے پکاریں گے: ” اے ہمارے رب! ہم نے دل کی آنکھوں سے دیکھ لیا اور دل کے کانوں سے سن لیا‘ تو ہمیں واپس لوٹا دے‘ اب ہم (درست رخ پر) نیک اعمال ہی کریں گے‘ ہمیں یقین حاصل ہوچکا ہے“ مگر کیا واپسی ہوسکے گی؟ واضح بات ہے کہ نہیں ہوگی۔اسی لئے تو قرآن مبین میں وہاں کے احسن دن کے مناظر آج سامنے رکھ دئے گئے ہیں‘ خوش نصیب ہیں وہ جو اس مختصر زندگی میں یقین کی دولت حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ دنیا میں چھوٹے بڑے امتحانات بھی اسی کی طرف سے آتے ہیں ،ان میں کامیابی کی دعا بھی اسی سے کی جاتی ہے۔ترجمہ:․․․”کیا لوگوں نے گمان کرلیا ہے کہ ان کے دعویٰ ایمان کے بعدان کو آزمایا نہیں جائے گا اور انہیں ایسے ہی چھوڑ دیا جائے گا“ ۔(القرآن)انہی پتھروں پہ چل کر اگر آسکو تو آؤ۔ 

Comments

Popular posts from this blog

Yusufzai (Pashtun tribe)

The  Yūsufzai  (also  Youssofzay ,  Yousefzai ,  Yousafzai ,  Esapzey ,  Yousufi , or  Yūsufi ) (Pashto:  يوسفزی ,Persian and Urdu:  یوسف زئی ) is one of the largest Pashtun (Afghans) tribes. The majority of the Yusufzai tribe reside in parts of Western Afghanistan, Khyber Pakhtunkhwa and Provincially Administered Tribal Areas near the Afghan-Pakistan border. They are the predominant population in the districts of Konar, Ningarhar, Mardan District, Dir, Swat,Malakand, Swabi, Buner, Shangla, Haripur District [Khalabat Town Ship and Tarbela] and in Mansehra and Battagram. There is also a Yusufzai clan of Dehwar tribe in the Mastung district of Balochistan who speak Persian with some mixture of Birahvi words. The descendants of Yusuf inhabit Konar, Jalalabad, Swat, Upper Dir, Lower Dir, Malakand Swabi and Mardan...

Masail -e- Ghusl By Shaykh Mufti Abdur Rauf Sakharvi

Read Online (2.1 M) By Shaykh Mufti Abdur Rauf Sakharvi

جمع عثمانی رِوایات کے آئینے میں

نبی مکرمﷺ کی حدیث مبارکہ ’’خَیْرُ النَّاسِ قَرْنِيْ ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَھُمْ ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَھُمْ‘‘۔(صحیح البخاري: ۲۶۵۲) پر جب نظر پڑتی ہے تو سر احسان و نیازمندی کے ملے جلے تاثر ات سے جھک جاتا ہے کہ واقعتا آپﷺ، صحابہ رضی اللہ عنہم اور تابعین رحمہم اللہ کا زمانہ خیر القرون تھا، کیونکہ اس میں بنی نوع اِنسان کی راہ روی اور اسلام کی سربلندی کے لیے وہ محنتیں اور کوششیں ہوئی ہیں کہ جس کی مثال آئندہ جمیع قرون میں پیش کرنا مشکل ہے۔ یقینا وہ لوگ اس قابل تھے کہ اُنہیں یہ ذمہ داری سونپی جاتی کہ وہ دینِ الٰہی اور شرع اللہ کو اپنی مکمل تشریحات کے ساتھ آئندہ نسلوں تک منتقل کریں، بلا شبہ وہ طائفہ فائزہ اپنے اس مقصد میں بامراد ہوا ہے۔ان جملہ ذمہ داریوں میں سے اَہم ترین ذمہ داری یہ تھی کہ ہدایت سماوی کے آخری ربانی صحیفہ کو محفوظ اور غیر متبدل شکل میں ہم تک پہنچایا جائے۔ ہمارا یہ قطعی ایمان ہے کہ وہ پیام اَیزدی آج اپنی سو فیصد اَصلی اور حقیقی شکل میں ہمارے درمیان موجود ہے۔ الحمد ﷲ علی ذلک۔اِس سلسلہ میں خیرالقرون میں جو سب سے اَہم کام ہوا ہے وہ سیدنا عثمان ذوالنورین رضی ال...

دین اسلام میں رسول اللہ ﷺ کی اطاعت فرض ہے

بسم اللہ الرحمن الرحیم دین اسلام میں رسول اللہ ﷺ کی اطاعت فرض ہے يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ أَطِيعُوا۟ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ وَلَا تَوَلَّوْا۟ عَنْهُ وَأَنتُمْ تَسْمَعُونَ ﴿20﴾ترجمہ: اے ایمان والو الله اور اس کے رسول کا حکم مانو اور سن کر اس سے مت پھرو(سورۃ الانفال،آیت20) قُلْ أَطِيعُوا۟ ٱللَّهَ وَأَطِيعُوا۟ ٱلرَّسُولَ ۖ فَإِن تَوَلَّوْا۟ فَإِنَّمَا عَلَيْهِ مَا حُمِّلَ وَعَلَيْكُم مَّا حُمِّلْتُمْ ۖ وَإِن تُطِيعُوهُ تَهْتَدُوا۟ ۚ وَمَا عَلَى ٱلرَّسُولِ إِلَّا ٱلْبَلَٰغُ ٱلْمُبِينُ﴿56﴾ترجمہ: کہہ دو الله اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرو پھر اگر منہ پھیرو گے تو پیغمبر تو وہی ہے جس کا وہ ذمہ دار ہے اورتم پر وہ ہے جو تمہارے ذمہ لازم کیا گیا ہے اور اگر اس کی فرمانبرداری کرو گے تو ہدایت پاؤ گے اور رسول کے ذمہ صرف صاف طور پر پہنچا دینا ہے (سورۃ النور،آیت 56) مَّن يُطِعِ ٱلرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ ٱللَّهَ ۖ وَمَن تَوَلَّىٰ فَمَآ أَرْسَلْنَٰكَ عَلَيْهِمْ حَفِيظًۭا ﴿80﴾ترجمہ: جو شخص رسول کی فرمانبرداری کرے گا تو بےشک اس نے اللہ کی فرمانبرداری کی اور جو نافرمانی کرے گا تو اے ...

قراء ات متواترہ کا ثبوت اور اس کے منکر کا حکم

قرآن حکیم اللہ تبارک وتعالیٰ کا انمٹ اورلاریب کلام ہے جس کی مثل لانے سے دنیا کا ہر فرد عاجز اور درماندہ ہے۔ بڑے بڑے فصحائے عرب اور فارسانِ بلاغت اس کی نظیر اورمثل پیش نہیں کرسکے اور نہ ہی قیامِ قیامت تک پیش کر سکتے ہیں۔ علمائے اسلام اور زعمائے ملت نے اس کی تفسیر وتوضیح اور مفاہیم ومعانی کی عقدہ کشائی کے لئے انتھک محنت اور قابل رشک جدوجہد کی ہے اور اس کا حقِ خدمت ادا کرنے کے لئے صعوبتوں اورمسافتوں سے بھرپور دور دراز بلاد و ممالک کے سفر طے کیے۔ اورہر کسی نے اپنی اپنی ہمت اوربساط کے مطابق اس کی خدمت کر کے اعلیٰ وارفع مقام حاصل کیا ۔جن میں ابن جریر طبری، ابن حاتم رازی، عبد الرزاق ، نسائی اور ابن کثیررحمہم اللہ جیسے گلستان ِ حدیث کے خوشبودار پھول، ابوحیان اندلسی اور زمخشری رحمہم اللہ جیسے فارسانِ بلاغت وادب اورنکتہ سنج۔ ابو عبد اللہ قرطبی اورابوبکر ابن العربی رحمہم اللہ جیسے فقاہت کے درخشندہ ستارے۔ رازی اوربیضاوی رحمہم اللہ جیسے فلاسفہ اورمتکلمین جہاں معانی ومفا،عثمان بن سعید ابو سعید ورش القبطی، احمد بن قالون المدنی، خلف بن ہشام البغدادی، ابو معبد عبد اللہ بن ہیم رحمہم اللہ کے گلستان ...

خیرخواہی وامانت داری

خیرخواہی وامانت داری خیر خواہی دین کی بنیاد ا ور اس کا جوہر ہے۔ دین دراصل خیر خواہی کا نام ہے۔ خیرخواہی اللہ کی، اس کے کتاب کی، اس کے رسول کی، مسلم ائمہ وحکمرانوں کی اور عامۃ المسلمین کی ہوتی ہے۔ پس جب ان تمام کے حق میں بندہ خیرخواہ ہوگا تو اس کا دین کامل ہوگا اور جس میں ان میں سے کسی کی خیرخواہی میں کمی و کوتاہی ہوگی تو اسی قدر اس کے دین میں نقص وکمی ہوگی۔ مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اپنی خیرخواہی میں امانت کو ملحوظ رکھے اور بغیر کسی مداہنت ومجاملت کے حق کو بیان کرے۔ یہی شخص اللہ کے نزدیک امین ہوگا۔ إن الحمد لله، نحمده ونستعينه ونستغفره، ونعوذ بالله من شرور أنفسنا، وسيئات أعمالنا، من يهده الله فلا مضل له، ومن يضلل فلا هادى له، وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له، وأشهد أن محمداً عبده ورسوله۔ أما بعد: فإن خیر الحدیث کتاب اللہ، وخیر الھدی ھدی محمد صلی اللہ علیہ وسلم، وشر الأمور محدثاتھا، وکل محدثۃ بدعۃ، وکل بدعۃ ضلالۃ، وکل ضلالۃ  فی النار۔  وقد قال اللہ تبارک وتعالی فی کتابہ المجید: (إِنَّ اللَّـهَ يَأْمُرُكُمْ أَن تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَىٰ أَهْلِهَا وَإِذَا حَ...

Alamaat -e- Qayamat Aur Nuzool -e- Maseeh [a.s] By Shaykh Mufti Rafi Usmani

Read Online Slideshare Download [27] ENGLISH TRANSLATION

دعا مانگنے کا ضابطہ اور اس کے آداب

ارشاد ربانی ہے:”ونادٰی نوح ربہ فقال رب ان ابنی من اہلی وان وعدک الحق وانت احکم الحاکمین‘ قال یا نوح انہ لیس من اہلک‘ انہ عمل غیر صالح‘ فلاتسئلن مالیس لک بہ علم‘ انی اعظک ان تکون من الجاہلین“۔ (۱)ترجمہ:․․․”اور نوح علیہ السلام نے اپنے رب کو پکارا اور عرض کیا کہ اے میرے رب! میرا بیٹا میرے گھروالوں میں سے ہے اور آپ کا وعدہ بالکل سچا ہے‘ اور تو سب سے بڑا حاکم ہے‘ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: کہ اے نوح! یہ شخص تمہارے گھروالوں میں نہیں‘ یہ تباہ کار ہے‘ سو مجھ سے ایسی چیز کی درخواست مت کرو جس کی تم کو خبر نہیں۔ میں تم کو نصیحت کرتا ہوں کہ تم نادانوں میں داخل نہ ہوجاؤ“۔آیات مذکورہ بالا سے فقہاء نے یہ مسئلہ اخذ کیا ہے کہ دعا کے لئے ضروری ہے کہ دعا کرنے والا پہلے یہ معلوم کرے کہ جس کام کی دعا کررہا ہے وہ جائز وحلال ہے یانہیں۔ مشتبہ حالت میں دعا کرنے سے منع فرمایا گیا ہے‘ جیساکہ قاضی بیضاوی لکھتے ہیں:”فلاتسئلن مالیس لک بہ علم“ ای مالم تعلم اصواب ہو ام لیس کذلک“ (۲)ترجمہ:․․․”سو مجھ سے ایسی چیز کی درخواست مت کرو جس کی تم کو خبر نہیں یعنی جس کے بارے میں تجھے یہ علم نہ ہو کہ یہ حق وجائز ہے یا نہیں...

قرآن مجید سے فائدہ اٹھانے کی پانچ شرائط

ایمان حاصل کرنے کا اصل ذریعہ قرآنِ کریم ہے لیکن اس مقصد کے لئے قرآن کی تلاوت کے کچھ آداب و شرائط ہیں۔ اگر ان کا خیال رکھا جائے تو تبھی قرآن سے مذکورہ فائدہ حاصل ہوتا ہے۔ لہٰذا ان آداب و شرائط کا پورا پورا اہتمام کرنا چاہئے۔ ۱ نیت کی پاکیزگی: سب سے پہلی چیز نیت کی پاکیزگی ہے۔ یعنی آدمی قرآن مجید کو صرف ہدایت حاصل کرنے کے لئے پڑھے، کوئی ذاتی غرض سامنے رکھ کر نہ پڑھے، اگر طلبِ ہدایت کے سوا آدمی کے سامنے کوئی اور غرض ہوگی تو نہ صرف یہ کہ وہ قرآن مجید کے فیض سے محروم رہے گا بلکہ اس بات کا اندیشہ بھی ہے کہ قرآن مجید سے جتنا دور وہ اب تک رہا ہے، اس سے بھی کچھ زیادہ دور ہٹ جائے گا۔ اگر آدمی قرآن مجید کو اس لئے پڑھے کہ لوگ اسے مفسر قرآن سمجھنے لگیں یا اس لئے پڑھے کہ اس کے کچھ اپنے نظریات ہوں اور وہ اپنے ان نظریات کو قرآن مجید کے رنگ کے ساتھ لوگوں کے سامنے پیش کرنے کا خواہش مند ہو تو ممکن ہے اس کے یہ ارادے کسی حد تک پورے ہوجائیں لیکن اس طرح وہ قرآن مجید سمجھنے کا دروازہ اپنے اوپر بالکل بند کرلے گا۔قرآن مجید کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت کا صحیفہ بنا کر اتارا ہے اور ہرآدمی...

The Qur’an & Modern Science -Compatible or Incompatible?

Read and Download