Skip to main content

ﺑﻨﯽ ﺍﺳﺮﺍﺋﯿﻞ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﺗﮭﺎ

ﺑﻨﯽ ﺍﺳﺮﺍﺋﯿﻞ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﺗﮭﺎ, ﺑﮍﺍ ﻧﺎﻓﺮﻣﺎﻥ ﺗﮭﺎ ﺷﮩﺮ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺑﺎﺋﯿﮑﺎﭦ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺷﮩﺮ ﺳﮯ ﻧﮑﺎﻝ ﺩﯾﺎ۔ ﻭﮦ ﻭﯾﺮﺍﻧﮯﻣﯿﮟ ﭼﻼ ﮔﯿﺎ, ﻭﮨﺎﮞ ﮐﻮﺋﯽ ﺁﻧﮯ ﺟﺎﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ۔ ﺣﺎﻻﺕ ﮐﯽ ﺗﻨﮕﯽ ﺍﺱ ﭘﺮ ﺁُﭘﮍﮬﯽ۔ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﭘﯿﻨﮯ ﮐﻮ ﮐﭽﮫ ﻧﮧ ﺗﮭﺎ ﺍﭼﺎﻧﮏ ﺑﯿﻤﺎﺭ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ۔ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺍﮐﮍ ﻧﮧ ﭨﻮﭨﯽ۔۔ﻭﻗﺖ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺳﺎﺗﮫ ﺟﺐ ﺍُﺳﮯ ﻣﻮﺕ ﮐﮯ ﺍﺛﺮﺍﺕ ﻧﻈﺮ ﺁﻧﮯ ﻟﮕﮯ ﺗﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺳﮯ ﻣﺨﺎﻃﺐ ﮨﻮﮐﺮ ﺑﻮﻻ ! ﺍﮮ ﻣﯿﺮﮮ ﺭﺏ ﺳﺎﺭﯼ ﻉﻣﺮ ﺗﯿﺮﯼ ﻧﺎﻓﺮﻣﺎﻧﯽ ﻣﯿﮟ ﮐﭧ ﮔﺌﯽ ﺁﺝ ﺗﮏ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﭼﮭﺎ ﮐﺎﻡ ﻧﮩﯿﮟﮐﯿﺎ۔ ﺍﮮ ﻣﯿﺮﮮ ﺭﺏ ﺍﮔﺮ ﻣﺠﮭﮯ ﯾﮧ ﺑﺘﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﮐﮧ ﺗﯿﺮﮮ ﻋﺬﺍﺏ ﺩﯾﻨﮯ ﺳﮯ ﺗﯿﺮﯼ ﺳﻠﻄﻨﺖ ﻣﯿﮟ ﺍﺿﺎﻓﮧ ﮨﻮﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﺠﮭﮯ ﻣﻌﺎﻑ ﮐﺮﻧﮯﺳﮯ ﺗﯿﺮﯼ ﻃﺎﻗﺖ ﺍﻭﺭ ﺳﻠﻄﻨﺖ ﻣﯿﮟ ﮐﻤﯽ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﺗﺠﮫ ﺳﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﻧﮧ ﻣﺎﻧﮕﺘﺎ۔۔ﻣﯿﮟ ﺟﺎﻧﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﮐﮯ ﺗﯿﺮﮮ ﻋﺬﺍﺏ ﺩﯾﻨﮯ ﯾﺎ ﻧﮧ ﺩﯾﻨﮯ ﺳﮯ ﺗﯿﺮﮮ ﻣﻠﮏ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﮐﻤﯽ ﯾﺎ ﺯﯾﺎﺩﺗﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﯽ۔۔۔ﺍﮮ ﻣﯿﺮﮮ ﺭﺏ ﻣﯿﺮﺍ ﺁﺝ ﮐﻮﺋﯽ ﺳﻨﮕﯽ ﺳﺎﺗﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﺎ, ﻣﯿﺮﺍ ﺁﺝ ﺗﯿﺮﮮ ﺳﻮﺍ ﮐﻮﺋﯽ ﺳﮩﺎﺭﺍ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﺎ۔ﺳﺐ ﻧﺎﺗﮯ ﺭﺷﺘﮯ ﭨﻮﭦ ﮔﺌﮯ۔ ﺁﺝﻣﯿﺮﮮ ﺟﺴﻢ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﻣﯿﺮﺍ ﺳﺎﺗﮫ ﭼﮭﻮﮌ ﺩﯾﺎ۔ ﺗُﻮ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﮐﯿﻼ ﻧﮧ ﭼﮭﻮﮌ۔۔ ﺗﻮ ﻣﺠﮭﮯ ﻣﻌﺎﻑ ﻓﺮﻣﺎ ﺩﮮ۔۔ﺍﮮ ﻣﯿﺮﮮ ﺭﺏ ﻣﺠﮭﮯ ﻣﻌﺎﻑ ﻓﺮﻣﺎ ﺩﮮ۔۔ﺍﺗﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﺍُﺱ ﺷﺨﺺ ﮐﯽ ﺟﺎﻥ ﻧﮑﻞ ﮔﺌﯽ۔ﻣﻮﺳﯽ ﻋﻠﯿﮧ ﺳﻼﻡ ﭘﺮ ﻭﺣﯽ ﻧﺎﺯﻝﮨﻮﮨﯽ۔ـ ﮐﮧ ﺍﮮ ﻣﻮﺳﯽ ! ﻣﯿﺮﺍ ﺍﯾﮏ ﺩﻭﺳﺖ ﻓﻼﮞ ﺟﻨﮕﻞ ﻣﯿﮟ ﻣﺮ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ ﺍﺱ ﮐﮯﻏﺴﻞ ﮐﺎ ﺍﻧﺘﻈﺎﻡ ﮐﺮﻭ۔ﺍﺱ ﮐﺎ ﺟﻨﺎﺯﮦ ﭘﮍﻭ۔ﺍﻭﺭ ﮨﺎﮞ ﺳﺐ ﮐﻮ ﺍﻋﻼﻥ ﮐﺮﺩﻭ ﺍﺝ ﺟﻮ ﺷﺨﺺ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺟﻨﺎﺯﮦ ﭘﮍﮮﮐﺎ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺑﺨﺸﺶ ﮐﺮ ﺩﯼ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ۔ﭼﻨﺎﭼﮧ ﻣﻮﺳﯽ ﻋﻠﯿﮧ ﺳﻼﻡ ﻧﮯﺍﻋﻼﻥ ﮐﺮﻭﺍﯾﺎ, ﻟﻮﮒ ﺑﮭﺎﮔﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺁﺋﮯ ﺗﺎﮐﮧ ﺑﺨﺸﺶ ﮨﻮﺟﺎﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻧﯿﮏ ﺷﺨﺺ ﮐﺎ ﺩﯾﺪﺍﺭ ﻧﺼﯿﺐ ﮨﻮ۔۔۔ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧ ﯾﮧ ﻭﮨﯽ ﺷﺨﺺ ﮨﮯ ﺟﺴﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﺷﮩﺮ ﺳﮯ ﻧﮑﺎﻝ ﺩﯾﺎ ﺗﮭﺎ۔ﻭﮦ ﻣﻮﺳﯽ ﺳﮯ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﮯ ﺍﮮ ﻣﻮﺳﯽﯾﮧ ﺗﻮ ﺑﮩﺖ ﮔﻨﺎﮦ ﮔﺎﺭ ﺷﺨﺺ ﺗﮭﺎ ﺍﺝ ﺗﮏ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﺍﮔﮯ ﺳﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﮑﺎﯾﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﻧﮧ ﮨﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﭼﮭﺎ ﮐﺎﻡ ﮐﯿﺎ ﺗﮭﺎ۔۔ ﻣﻮﺳﯽ ﻋﻠﯿﮧ ﺳﻼﻡ ﻧﮯ ﺍﻟﻠﮧ ﺳﮯ ﻣﺨﺎﻃﺐ ﮨﻮ ﮐﺮ ﮐﮩﺎ۔ ﺍﮮ ﺍﻟﻠﮧ ﯾﮧ ﺗﻮ ﮔﻨﺎﮦ ﮔﺎﺭ ﺷﺨﺺ ﺗﮭﺎ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﻧﻈﺮ ﻣﯿﮟ ﺁﺧﺮ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﺴﯽ ﮐﻮﻥ ﺳﯽ ﺑﺎﺕ ﺗﮭﯽ ﮐﮯ ﯾﮧ ﺗﯿﺮﺍ ﺩﻭﺳﺖ ﺑﻦ ﮔﯿﺎ !!ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ۔ﺍﮮ ﻣﻮﺳﯽ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺳﯽ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧ ﯾﮧ ﺯﻟﯿﻞ ﮨﻮ ﮐﺮ,ﻓﻘﯿﺮ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺗﻨﮩﺎﮨﯽ ﻣﯿﮟ ﻣﺮ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ ﺍﺝ ﺍﺱ ﮐﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﺩﻭﺳﺖ ﺍﺣﺒﺎﺏ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ۔ﮐﻮﺋﯽ ﺍﺱ ﮐﯽ ﭘﮑﺎﺭ ﺳُﻨﻨﮯ ﻭﻻ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ ﻧﮧ ﮨﯽ ﺍﺱ ﮐﯽ ﭘﮕﺎﺭ ﮐﺎ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﻨﮯ ﻭﺍﻻ۔۔ ﻟﯿﮑﻦ ﺟﺐ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﭘﮑﺎﺭﺍ ﺗﻮ ﻣﯿﺮﯼ ﺭﺣﻤﺖ ﺍﻭﺭ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﻮ ﺟﻮﺵ ﺁﯾﺎ۔ ﺍﺝ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﯽ ﭘﮑﺎﺭ ﻧﮧ ﺳُﻨﺘﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮯ ﻣﻌﺎﻑ ﻧﮧ ﮐﺮﺗﺎ ﺗﻮ ﺍﻭﺭ ﮐﻮﻥ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺘﺎ? ﻣﯿﺮﯼ ﻏﯿﺮﺕ ﮐﻮ ﺟﻮﺵ ﺁٰﯾﺎ ﮐﮯ ﺳﺐ ﺍﺳﮯ ﭼﮭﻮﮌ ﭼﮑﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﻨﺪﮮ ﮐﻮ ﮐﯿﺴﮯ ﭼﮭﻮﮌ ﺳﮑﺘﺎ ﺗﮭﺎ۔۔۔ ﻣﺠﮭﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﻋﺰﺕ ﮐﯽ ﻗﺴﻢ ! ﺍﮔﺮ ﺍﺝ ﻭﮦﭘﻮﺭﯼ ﺍﻧﺴﺎﻧﯿﺖ ﮐﯽ ﺑﺨﺸﺶ ﮐﯽ ﺩﻋﺎ ﻣﺎﻧﮕﺘﺎ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﺳﺐ ﮐﻮ ﻣﻌﺎﻑ ﻓﺮﻣﺎ ﺩﯾﺖ

Comments

Popular posts from this blog

Yusufzai (Pashtun tribe)

The  Yūsufzai  (also  Youssofzay ,  Yousefzai ,  Yousafzai ,  Esapzey ,  Yousufi , or  Yūsufi ) (Pashto:  يوسفزی ,Persian and Urdu:  یوسف زئی ) is one of the largest Pashtun (Afghans) tribes. The majority of the Yusufzai tribe reside in parts of Western Afghanistan, Khyber Pakhtunkhwa and Provincially Administered Tribal Areas near the Afghan-Pakistan border. They are the predominant population in the districts of Konar, Ningarhar, Mardan District, Dir, Swat,Malakand, Swabi, Buner, Shangla, Haripur District [Khalabat Town Ship and Tarbela] and in Mansehra and Battagram. There is also a Yusufzai clan of Dehwar tribe in the Mastung district of Balochistan who speak Persian with some mixture of Birahvi words. The descendants of Yusuf inhabit Konar, Jalalabad, Swat, Upper Dir, Lower Dir, Malakand Swabi and Mardan...

Masail -e- Ghusl By Shaykh Mufti Abdur Rauf Sakharvi

Read Online (2.1 M) By Shaykh Mufti Abdur Rauf Sakharvi

جمع عثمانی رِوایات کے آئینے میں

نبی مکرمﷺ کی حدیث مبارکہ ’’خَیْرُ النَّاسِ قَرْنِيْ ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَھُمْ ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَھُمْ‘‘۔(صحیح البخاري: ۲۶۵۲) پر جب نظر پڑتی ہے تو سر احسان و نیازمندی کے ملے جلے تاثر ات سے جھک جاتا ہے کہ واقعتا آپﷺ، صحابہ رضی اللہ عنہم اور تابعین رحمہم اللہ کا زمانہ خیر القرون تھا، کیونکہ اس میں بنی نوع اِنسان کی راہ روی اور اسلام کی سربلندی کے لیے وہ محنتیں اور کوششیں ہوئی ہیں کہ جس کی مثال آئندہ جمیع قرون میں پیش کرنا مشکل ہے۔ یقینا وہ لوگ اس قابل تھے کہ اُنہیں یہ ذمہ داری سونپی جاتی کہ وہ دینِ الٰہی اور شرع اللہ کو اپنی مکمل تشریحات کے ساتھ آئندہ نسلوں تک منتقل کریں، بلا شبہ وہ طائفہ فائزہ اپنے اس مقصد میں بامراد ہوا ہے۔ان جملہ ذمہ داریوں میں سے اَہم ترین ذمہ داری یہ تھی کہ ہدایت سماوی کے آخری ربانی صحیفہ کو محفوظ اور غیر متبدل شکل میں ہم تک پہنچایا جائے۔ ہمارا یہ قطعی ایمان ہے کہ وہ پیام اَیزدی آج اپنی سو فیصد اَصلی اور حقیقی شکل میں ہمارے درمیان موجود ہے۔ الحمد ﷲ علی ذلک۔اِس سلسلہ میں خیرالقرون میں جو سب سے اَہم کام ہوا ہے وہ سیدنا عثمان ذوالنورین رضی ال...

اللہ تعالیٰ نے بڑا عمدہ کلام نازل فرمایا ہے !!!

قرآن مجید !!! قرآن مجید کیا ہے ؟ الحمد للہ: قرآن مجید کلام اللہ ہے جسے اللہ تعالی نے اپنے نبی محمدصلی اللہ علیہ وسلم پرنازل فرمایا تاکہ وہ لوگوں کو گمراہی سے نوروھدایت کی طرف نکالے- جیسا کہ اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے : { وہ اللہ تعالی ہی ہے جو اپنے بندے پرواضح آیات اتارتا ہے تاکہ وہ تمہیں اندھیروں سے نور کی طرف لے جاۓ } الحدید ( 9 ) ۔ اللہ تبارک وتعالی نے قرآن مجید میں پہلے اور آخری لوگوں اور زمین وآسمان کی پیدائش کی خبریں دی ، اور اس میں حلال وحرام اور آداب واخلاق کے اصول ، اور عبادات و معاملات کے احکام ، انبیاء وصالحین کی سیرت ، کافروں اور مومنوں کی جزاوسزا ، مومنین کے گھر جنت کا وصف اور کافروں کے گھر جہنم کا تفصیلی بیان ہے اور اسے ہرچيز کے بیان کرنے والا بنایا ۔ اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے : { اور ہم نے آپ پریہ کتاب نازل فرمائ ہے جس میں ہرچیزکا کافی وشافی بیان ہے اور مسلمانوں کے لیے رحمت وخوشخبری ہے } النحل ( 89 ) ۔ قرآن مجید میں اللہ تعالی کے اسماء وصفات اور اس کی مخلوقات اور اللہ تعالی اس کےفرشتوں اورکتابوں اوررسولوں اورآخرت کے دن پرایمان کی د...

دعا مانگنے کا ضابطہ اور اس کے آداب

ارشاد ربانی ہے:”ونادٰی نوح ربہ فقال رب ان ابنی من اہلی وان وعدک الحق وانت احکم الحاکمین‘ قال یا نوح انہ لیس من اہلک‘ انہ عمل غیر صالح‘ فلاتسئلن مالیس لک بہ علم‘ انی اعظک ان تکون من الجاہلین“۔ (۱)ترجمہ:․․․”اور نوح علیہ السلام نے اپنے رب کو پکارا اور عرض کیا کہ اے میرے رب! میرا بیٹا میرے گھروالوں میں سے ہے اور آپ کا وعدہ بالکل سچا ہے‘ اور تو سب سے بڑا حاکم ہے‘ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: کہ اے نوح! یہ شخص تمہارے گھروالوں میں نہیں‘ یہ تباہ کار ہے‘ سو مجھ سے ایسی چیز کی درخواست مت کرو جس کی تم کو خبر نہیں۔ میں تم کو نصیحت کرتا ہوں کہ تم نادانوں میں داخل نہ ہوجاؤ“۔آیات مذکورہ بالا سے فقہاء نے یہ مسئلہ اخذ کیا ہے کہ دعا کے لئے ضروری ہے کہ دعا کرنے والا پہلے یہ معلوم کرے کہ جس کام کی دعا کررہا ہے وہ جائز وحلال ہے یانہیں۔ مشتبہ حالت میں دعا کرنے سے منع فرمایا گیا ہے‘ جیساکہ قاضی بیضاوی لکھتے ہیں:”فلاتسئلن مالیس لک بہ علم“ ای مالم تعلم اصواب ہو ام لیس کذلک“ (۲)ترجمہ:․․․”سو مجھ سے ایسی چیز کی درخواست مت کرو جس کی تم کو خبر نہیں یعنی جس کے بارے میں تجھے یہ علم نہ ہو کہ یہ حق وجائز ہے یا نہیں...

قراء ات متواترہ کا ثبوت اور اس کے منکر کا حکم

قرآن حکیم اللہ تبارک وتعالیٰ کا انمٹ اورلاریب کلام ہے جس کی مثل لانے سے دنیا کا ہر فرد عاجز اور درماندہ ہے۔ بڑے بڑے فصحائے عرب اور فارسانِ بلاغت اس کی نظیر اورمثل پیش نہیں کرسکے اور نہ ہی قیامِ قیامت تک پیش کر سکتے ہیں۔ علمائے اسلام اور زعمائے ملت نے اس کی تفسیر وتوضیح اور مفاہیم ومعانی کی عقدہ کشائی کے لئے انتھک محنت اور قابل رشک جدوجہد کی ہے اور اس کا حقِ خدمت ادا کرنے کے لئے صعوبتوں اورمسافتوں سے بھرپور دور دراز بلاد و ممالک کے سفر طے کیے۔ اورہر کسی نے اپنی اپنی ہمت اوربساط کے مطابق اس کی خدمت کر کے اعلیٰ وارفع مقام حاصل کیا ۔جن میں ابن جریر طبری، ابن حاتم رازی، عبد الرزاق ، نسائی اور ابن کثیررحمہم اللہ جیسے گلستان ِ حدیث کے خوشبودار پھول، ابوحیان اندلسی اور زمخشری رحمہم اللہ جیسے فارسانِ بلاغت وادب اورنکتہ سنج۔ ابو عبد اللہ قرطبی اورابوبکر ابن العربی رحمہم اللہ جیسے فقاہت کے درخشندہ ستارے۔ رازی اوربیضاوی رحمہم اللہ جیسے فلاسفہ اورمتکلمین جہاں معانی ومفا،عثمان بن سعید ابو سعید ورش القبطی، احمد بن قالون المدنی، خلف بن ہشام البغدادی، ابو معبد عبد اللہ بن ہیم رحمہم اللہ کے گلستان ...

ABRAHAM LINCOLN BY ASLAM KHOKHAR

Title : Abraham Lincoln  Author/Translator : Aslam Khokhar Format : PDF More : Abraham Lincoln Urdu Book Free Download Download Abraham Lincoln Pdf Urdu Book Download Urdu History Of Abraham Lincoln Pdf Book Free Download Link

خیرخواہی وامانت داری

خیرخواہی وامانت داری خیر خواہی دین کی بنیاد ا ور اس کا جوہر ہے۔ دین دراصل خیر خواہی کا نام ہے۔ خیرخواہی اللہ کی، اس کے کتاب کی، اس کے رسول کی، مسلم ائمہ وحکمرانوں کی اور عامۃ المسلمین کی ہوتی ہے۔ پس جب ان تمام کے حق میں بندہ خیرخواہ ہوگا تو اس کا دین کامل ہوگا اور جس میں ان میں سے کسی کی خیرخواہی میں کمی و کوتاہی ہوگی تو اسی قدر اس کے دین میں نقص وکمی ہوگی۔ مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اپنی خیرخواہی میں امانت کو ملحوظ رکھے اور بغیر کسی مداہنت ومجاملت کے حق کو بیان کرے۔ یہی شخص اللہ کے نزدیک امین ہوگا۔ إن الحمد لله، نحمده ونستعينه ونستغفره، ونعوذ بالله من شرور أنفسنا، وسيئات أعمالنا، من يهده الله فلا مضل له، ومن يضلل فلا هادى له، وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له، وأشهد أن محمداً عبده ورسوله۔ أما بعد: فإن خیر الحدیث کتاب اللہ، وخیر الھدی ھدی محمد صلی اللہ علیہ وسلم، وشر الأمور محدثاتھا، وکل محدثۃ بدعۃ، وکل بدعۃ ضلالۃ، وکل ضلالۃ  فی النار۔  وقد قال اللہ تبارک وتعالی فی کتابہ المجید: (إِنَّ اللَّـهَ يَأْمُرُكُمْ أَن تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَىٰ أَهْلِهَا وَإِذَا حَ...

Alamaat -e- Qayamat Aur Nuzool -e- Maseeh [a.s] By Shaykh Mufti Rafi Usmani

Read Online Slideshare Download [27] ENGLISH TRANSLATION

قراء توں کا اِختلاف اور منکرینِ حدیث

یہ ایک مسلّمہ اَمر ہے کہ قرآن مجید کی ایک سے زیادہ قراء تیں ثابت ہیں۔ لیکن اہلِ قرآن کہلانے والے منکرین حدیث ان اختلافِ قراء ات کو نہیں مانتے۔ وہ کہتے ہیں کہ قرآن کی صرف ایک ہی قراء ت ہے اور یہ کہ خود نبیﷺنے قرآن کو کتابی صورت میں مرتب اور مدوّن کیا اور اس پر اعراب و نقطے لگوائے تھے جبکہ یہ بات خلاف ِ واقعہ ہے۔جناب پرویز صاحب لکھتے ہیں:’’ہم سمجھتے ہیں کہ اس کے بعد ’اختلاف قراء ت‘ کے فتنہ کے متعلق کچھ سمجھنے کی ضرورت باقی نہیں رہتی‘‘(طلوع اسلام، ص۵۶، شمارہ جنوری ۱۹۸۲ء، لاہور)وہ مزید لکھتے ہیں :’’قرآن مجیدجس شکل میں ہمارے پاس موجود ہے اسے خود رسول اللہﷺنے اسی طرح مرتب اور مدوّن شکل میں اُمت کو دیا تھا۔‘‘(طلوع اسلام، ص۴۲، شمارہ جنوری۱۹۸۲ء، لاہور)اسی طرح ایک اور منکرِ حدیث رحمت اللہ طارق صاحب نے لکھا ہے :’’اختلاف قراء ت کا فتنہ ہی لے لیجئے جس کا مودودی صاحب جیسا شخص نہ صرف معترف اور معتقد ہے بلکہ سرگرم مبلغ اور پُرجوش ناشر ہے۔‘‘(اعجاز قرآن و اختلاف قراء ت، مرتبہ تمنا عمادی:۷۴۲) طارق صاحب نے مزید لکھا ہے :’’ لَوْ کَانَ مِنْ عِنْدِ غَیْرِ اﷲِ لَوَجَدُوْا فِیْہِ اخْتِلَافًا کَثِیْرًا ‘‘...