Skip to main content

ﺑﻨﯽ ﺍﺳﺮﺍﺋﯿﻞ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﺗﮭﺎ

ﺑﻨﯽ ﺍﺳﺮﺍﺋﯿﻞ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﺗﮭﺎ, ﺑﮍﺍ ﻧﺎﻓﺮﻣﺎﻥ ﺗﮭﺎ ﺷﮩﺮ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺑﺎﺋﯿﮑﺎﭦ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺷﮩﺮ ﺳﮯ ﻧﮑﺎﻝ ﺩﯾﺎ۔ ﻭﮦ ﻭﯾﺮﺍﻧﮯﻣﯿﮟ ﭼﻼ ﮔﯿﺎ, ﻭﮨﺎﮞ ﮐﻮﺋﯽ ﺁﻧﮯ ﺟﺎﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ۔ ﺣﺎﻻﺕ ﮐﯽ ﺗﻨﮕﯽ ﺍﺱ ﭘﺮ ﺁُﭘﮍﮬﯽ۔ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﭘﯿﻨﮯ ﮐﻮ ﮐﭽﮫ ﻧﮧ ﺗﮭﺎ ﺍﭼﺎﻧﮏ ﺑﯿﻤﺎﺭ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ۔ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺍﮐﮍ ﻧﮧ ﭨﻮﭨﯽ۔۔ﻭﻗﺖ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺳﺎﺗﮫ ﺟﺐ ﺍُﺳﮯ ﻣﻮﺕ ﮐﮯ ﺍﺛﺮﺍﺕ ﻧﻈﺮ ﺁﻧﮯ ﻟﮕﮯ ﺗﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺳﮯ ﻣﺨﺎﻃﺐ ﮨﻮﮐﺮ ﺑﻮﻻ ! ﺍﮮ ﻣﯿﺮﮮ ﺭﺏ ﺳﺎﺭﯼ ﻉﻣﺮ ﺗﯿﺮﯼ ﻧﺎﻓﺮﻣﺎﻧﯽ ﻣﯿﮟ ﮐﭧ ﮔﺌﯽ ﺁﺝ ﺗﮏ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﭼﮭﺎ ﮐﺎﻡ ﻧﮩﯿﮟﮐﯿﺎ۔ ﺍﮮ ﻣﯿﺮﮮ ﺭﺏ ﺍﮔﺮ ﻣﺠﮭﮯ ﯾﮧ ﺑﺘﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﮐﮧ ﺗﯿﺮﮮ ﻋﺬﺍﺏ ﺩﯾﻨﮯ ﺳﮯ ﺗﯿﺮﯼ ﺳﻠﻄﻨﺖ ﻣﯿﮟ ﺍﺿﺎﻓﮧ ﮨﻮﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﺠﮭﮯ ﻣﻌﺎﻑ ﮐﺮﻧﮯﺳﮯ ﺗﯿﺮﯼ ﻃﺎﻗﺖ ﺍﻭﺭ ﺳﻠﻄﻨﺖ ﻣﯿﮟ ﮐﻤﯽ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﺗﺠﮫ ﺳﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﻧﮧ ﻣﺎﻧﮕﺘﺎ۔۔ﻣﯿﮟ ﺟﺎﻧﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﮐﮯ ﺗﯿﺮﮮ ﻋﺬﺍﺏ ﺩﯾﻨﮯ ﯾﺎ ﻧﮧ ﺩﯾﻨﮯ ﺳﮯ ﺗﯿﺮﮮ ﻣﻠﮏ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﮐﻤﯽ ﯾﺎ ﺯﯾﺎﺩﺗﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﯽ۔۔۔ﺍﮮ ﻣﯿﺮﮮ ﺭﺏ ﻣﯿﺮﺍ ﺁﺝ ﮐﻮﺋﯽ ﺳﻨﮕﯽ ﺳﺎﺗﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﺎ, ﻣﯿﺮﺍ ﺁﺝ ﺗﯿﺮﮮ ﺳﻮﺍ ﮐﻮﺋﯽ ﺳﮩﺎﺭﺍ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﺎ۔ﺳﺐ ﻧﺎﺗﮯ ﺭﺷﺘﮯ ﭨﻮﭦ ﮔﺌﮯ۔ ﺁﺝﻣﯿﺮﮮ ﺟﺴﻢ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﻣﯿﺮﺍ ﺳﺎﺗﮫ ﭼﮭﻮﮌ ﺩﯾﺎ۔ ﺗُﻮ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﮐﯿﻼ ﻧﮧ ﭼﮭﻮﮌ۔۔ ﺗﻮ ﻣﺠﮭﮯ ﻣﻌﺎﻑ ﻓﺮﻣﺎ ﺩﮮ۔۔ﺍﮮ ﻣﯿﺮﮮ ﺭﺏ ﻣﺠﮭﮯ ﻣﻌﺎﻑ ﻓﺮﻣﺎ ﺩﮮ۔۔ﺍﺗﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﺍُﺱ ﺷﺨﺺ ﮐﯽ ﺟﺎﻥ ﻧﮑﻞ ﮔﺌﯽ۔ﻣﻮﺳﯽ ﻋﻠﯿﮧ ﺳﻼﻡ ﭘﺮ ﻭﺣﯽ ﻧﺎﺯﻝﮨﻮﮨﯽ۔ـ ﮐﮧ ﺍﮮ ﻣﻮﺳﯽ ! ﻣﯿﺮﺍ ﺍﯾﮏ ﺩﻭﺳﺖ ﻓﻼﮞ ﺟﻨﮕﻞ ﻣﯿﮟ ﻣﺮ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ ﺍﺱ ﮐﮯﻏﺴﻞ ﮐﺎ ﺍﻧﺘﻈﺎﻡ ﮐﺮﻭ۔ﺍﺱ ﮐﺎ ﺟﻨﺎﺯﮦ ﭘﮍﻭ۔ﺍﻭﺭ ﮨﺎﮞ ﺳﺐ ﮐﻮ ﺍﻋﻼﻥ ﮐﺮﺩﻭ ﺍﺝ ﺟﻮ ﺷﺨﺺ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺟﻨﺎﺯﮦ ﭘﮍﮮﮐﺎ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺑﺨﺸﺶ ﮐﺮ ﺩﯼ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ۔ﭼﻨﺎﭼﮧ ﻣﻮﺳﯽ ﻋﻠﯿﮧ ﺳﻼﻡ ﻧﮯﺍﻋﻼﻥ ﮐﺮﻭﺍﯾﺎ, ﻟﻮﮒ ﺑﮭﺎﮔﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺁﺋﮯ ﺗﺎﮐﮧ ﺑﺨﺸﺶ ﮨﻮﺟﺎﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻧﯿﮏ ﺷﺨﺺ ﮐﺎ ﺩﯾﺪﺍﺭ ﻧﺼﯿﺐ ﮨﻮ۔۔۔ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧ ﯾﮧ ﻭﮨﯽ ﺷﺨﺺ ﮨﮯ ﺟﺴﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﺷﮩﺮ ﺳﮯ ﻧﮑﺎﻝ ﺩﯾﺎ ﺗﮭﺎ۔ﻭﮦ ﻣﻮﺳﯽ ﺳﮯ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﮯ ﺍﮮ ﻣﻮﺳﯽﯾﮧ ﺗﻮ ﺑﮩﺖ ﮔﻨﺎﮦ ﮔﺎﺭ ﺷﺨﺺ ﺗﮭﺎ ﺍﺝ ﺗﮏ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﺍﮔﮯ ﺳﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﮑﺎﯾﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﻧﮧ ﮨﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﭼﮭﺎ ﮐﺎﻡ ﮐﯿﺎ ﺗﮭﺎ۔۔ ﻣﻮﺳﯽ ﻋﻠﯿﮧ ﺳﻼﻡ ﻧﮯ ﺍﻟﻠﮧ ﺳﮯ ﻣﺨﺎﻃﺐ ﮨﻮ ﮐﺮ ﮐﮩﺎ۔ ﺍﮮ ﺍﻟﻠﮧ ﯾﮧ ﺗﻮ ﮔﻨﺎﮦ ﮔﺎﺭ ﺷﺨﺺ ﺗﮭﺎ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﻧﻈﺮ ﻣﯿﮟ ﺁﺧﺮ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﺴﯽ ﮐﻮﻥ ﺳﯽ ﺑﺎﺕ ﺗﮭﯽ ﮐﮯ ﯾﮧ ﺗﯿﺮﺍ ﺩﻭﺳﺖ ﺑﻦ ﮔﯿﺎ !!ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ۔ﺍﮮ ﻣﻮﺳﯽ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺳﯽ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧ ﯾﮧ ﺯﻟﯿﻞ ﮨﻮ ﮐﺮ,ﻓﻘﯿﺮ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺗﻨﮩﺎﮨﯽ ﻣﯿﮟ ﻣﺮ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ ﺍﺝ ﺍﺱ ﮐﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﺩﻭﺳﺖ ﺍﺣﺒﺎﺏ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ۔ﮐﻮﺋﯽ ﺍﺱ ﮐﯽ ﭘﮑﺎﺭ ﺳُﻨﻨﮯ ﻭﻻ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ ﻧﮧ ﮨﯽ ﺍﺱ ﮐﯽ ﭘﮕﺎﺭ ﮐﺎ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﻨﮯ ﻭﺍﻻ۔۔ ﻟﯿﮑﻦ ﺟﺐ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﭘﮑﺎﺭﺍ ﺗﻮ ﻣﯿﺮﯼ ﺭﺣﻤﺖ ﺍﻭﺭ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﻮ ﺟﻮﺵ ﺁﯾﺎ۔ ﺍﺝ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﯽ ﭘﮑﺎﺭ ﻧﮧ ﺳُﻨﺘﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮯ ﻣﻌﺎﻑ ﻧﮧ ﮐﺮﺗﺎ ﺗﻮ ﺍﻭﺭ ﮐﻮﻥ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺘﺎ? ﻣﯿﺮﯼ ﻏﯿﺮﺕ ﮐﻮ ﺟﻮﺵ ﺁٰﯾﺎ ﮐﮯ ﺳﺐ ﺍﺳﮯ ﭼﮭﻮﮌ ﭼﮑﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﻨﺪﮮ ﮐﻮ ﮐﯿﺴﮯ ﭼﮭﻮﮌ ﺳﮑﺘﺎ ﺗﮭﺎ۔۔۔ ﻣﺠﮭﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﻋﺰﺕ ﮐﯽ ﻗﺴﻢ ! ﺍﮔﺮ ﺍﺝ ﻭﮦﭘﻮﺭﯼ ﺍﻧﺴﺎﻧﯿﺖ ﮐﯽ ﺑﺨﺸﺶ ﮐﯽ ﺩﻋﺎ ﻣﺎﻧﮕﺘﺎ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﺳﺐ ﮐﻮ ﻣﻌﺎﻑ ﻓﺮﻣﺎ ﺩﯾﺖ

Comments

Popular posts from this blog

اللہ تعالیٰ کے حقوق

بسم اللہ الرحمن الرحیم اللہ تعالیٰ کے حقوق اللہ تعالیٰ کا حق تمام حقوق سے زیادہ ضروری ہے اور سب سے اہم ہے۔کیونکہ وہ اس کائنات کا خالق و مالک اور تمام تر امور کی تدبیر کرنے والا ہے۔وہ زندہ جاوید ہستی ہے جو تمام کائنات کا نطام سنبھالے ہوئے ہے،اس نے ہر چیز کو پیدا کیا اور اپنی حکمت بالغہ سے اس کا اندازہ کیا۔انسان کو اشرف المخلوقات بنایا ،پھر انسان کو اپنے احسانات یاد کرائے کہ اے انسان !تجھ پر اس ذات کا حق ہے جس نے نعمتوں کے ساتھ تیری پرورش کی۔تو اپنی ماں کے پیٹ میں تین طرح کے اندھیروں میں تھا۔جہاں مخلوقات میں کوئی بھی تجھے غذا یا ایسی اشیاء نہیں پہنچا سکتا تھا جو تیری افزائش اور زندگی کو قائم رکھنے والی ہوں۔اس نے ماں کی چھاتیوں میں وافر دودھ اتارا،تجھے اس کی راہ دکھلائی اور تیرے والدین کو تیرا محسن بنا دیا۔تیری امداد کی اور تجھے کامیاب کیا۔ارشاد باری تعالیٰ ہے: وَٱللَّهُ أَخْرَجَكُم مِّنۢ بُطُونِ أُمَّهَٰتِكُمْ لَا تَعْلَمُونَ شَيْا وَجَعَلَ لَكُمُ ٱلسَّمْعَ وَٱلْأَبْصَٰرَ وَٱلْأَفْدَةَ ۙ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ ﴿78﴾ ترجمہ: اور اللہ ہی نے تم کو تمہاری ماؤں کے شکم سے پیدا کیا کہ...

یہودی پروٹوکولز

Online Read یہودی پروٹوکولز ============================================== Online Read E Book یہودی پروٹوکولز ============================================== Download Free یہودی پروٹوکولز ---------------------------------------------------- Download Free یہودی پروٹوکولز ----------------------------------------------------

قرآن حکیم کے نازل ہونے کی کیا غرض ہے

سورہ آلِ عمران هَـٰذَا بَيَانٌ لِّلنَّاسِ وَهُدًى وَمَوْعِظَةٌ لِّلْمُتَّقِينَ ﴿١٣٨﴾ یہ (قرآن) لوگوں کے لیے بیان صریح اور اہلِ تقویٰ کے لیے ہدایت اور نصیحت ہے۔ سورہ المآئدۃ يَا أَهْلَ الْكِتَابِ قَدْ جَاءَكُمْ رَسُولُنَا يُبَيِّنُ لَكُمْ كَثِيرًا مِّمَّا كُنتُمْ تُخْفُونَ مِنَ الْكِتَابِ وَيَعْفُو عَن كَثِيرٍ ۚ قَدْ جَاءَكُم مِّنَ اللَّـهِ نُورٌ وَكِتَابٌ مُّبِينٌ ﴿١٥﴾هْدِي بِهِ اللَّـهُ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَهُ سُبُلَ السَّلَامِ وَيُخْرِجُهُم مِّنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ بِإِذْنِهِ وَيَهْدِيهِمْ إِلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ ﴿١٦﴾  اے اہل کتاب! تمہارے پاس ہمارے پیغمبر (آخرالزماں) آ گئے ہیں کہ جو کچھ تم کتاب (الہٰی) میں سے چھپاتے تھے وہ اس میں سے بہت کچھ تمہیں کھول کھول کر بتا دیتے ہیں اور تمہارے بہت سے قصور معاف کر دیتے ہیں بےشک تمہارے پاس خدا کی طرف سے نور اور روشن کتاب آ چکی ہے۔جس سے خدا اپنی رضا پر چلنے والوں کو نجات کے رستے دکھاتا ہے اور اپنے حکم سے اندھیرے میں سے نکال کر روشنی کی طرف لے جاتا اور ان کو سیدھے رستہ پر چلاتا ہے۔ وَكَتَبْنَا عَلَيْه...

جمع عثمانی رِوایات کے آئینے میں

نبی مکرمﷺ کی حدیث مبارکہ ’’خَیْرُ النَّاسِ قَرْنِيْ ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَھُمْ ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَھُمْ‘‘۔(صحیح البخاري: ۲۶۵۲) پر جب نظر پڑتی ہے تو سر احسان و نیازمندی کے ملے جلے تاثر ات سے جھک جاتا ہے کہ واقعتا آپﷺ، صحابہ رضی اللہ عنہم اور تابعین رحمہم اللہ کا زمانہ خیر القرون تھا، کیونکہ اس میں بنی نوع اِنسان کی راہ روی اور اسلام کی سربلندی کے لیے وہ محنتیں اور کوششیں ہوئی ہیں کہ جس کی مثال آئندہ جمیع قرون میں پیش کرنا مشکل ہے۔ یقینا وہ لوگ اس قابل تھے کہ اُنہیں یہ ذمہ داری سونپی جاتی کہ وہ دینِ الٰہی اور شرع اللہ کو اپنی مکمل تشریحات کے ساتھ آئندہ نسلوں تک منتقل کریں، بلا شبہ وہ طائفہ فائزہ اپنے اس مقصد میں بامراد ہوا ہے۔ان جملہ ذمہ داریوں میں سے اَہم ترین ذمہ داری یہ تھی کہ ہدایت سماوی کے آخری ربانی صحیفہ کو محفوظ اور غیر متبدل شکل میں ہم تک پہنچایا جائے۔ ہمارا یہ قطعی ایمان ہے کہ وہ پیام اَیزدی آج اپنی سو فیصد اَصلی اور حقیقی شکل میں ہمارے درمیان موجود ہے۔ الحمد ﷲ علی ذلک۔اِس سلسلہ میں خیرالقرون میں جو سب سے اَہم کام ہوا ہے وہ سیدنا عثمان ذوالنورین رضی ال...

ان شاءاللہ لکھنے میں غلطی کرنا

بسم اللہ الرحمن الرحیم السلام علیکم ورحمتہ اللہ آ پ لوگوں نے اکثر کتابوں میں لفظ ان شاءاللہ کو اس طرح لکھا ہوا پڑھاہوگا انشاءاللہ اور جب کہ اس طرح لکھنے سے اس کا معنی بدل جاتا ہے۔ لفظ ان شاءاللہ کے اردو میں معنی بنتا ہے اگر اللہ نے چاہا اور جب کہ انشاء عربی میں کسی چیز کو بنانے کو کہتے ہیں اس طرح انشاءاللہ کے معنی بہت غلط بن جاتے ہیں ۔ہم لوگ عربی زبان سے واقفیت نہ رکھنے کی وجہ سے ایسی غلطیاں کر جاتے ہیں اللہ ہمیں معاف فرمائے آمین۔اللہ کا ارشاد ہے کہاِنَّآ اَنْشَاْنٰهُنَّ اِنْشَاۗءً 35۝ۙہم نے ان (کی بیویوں کو) خاص طور پر بنایا ہے۔الواقعہ:۳۵قَالَ اِنَّمَا يَاْتِيْكُمْ بِهِ اللّٰهُ اِنْ شَاۗءَ وَمَآ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِيْنَ 33 ؀جواب دیا کہ اسے بھی اللہ تعالٰی ہی لائے گااگر وہ چاہے اور ہاں تم اسے ہرانے والے نہیں ہو۔ھود:۳۳فَلَمَّا دَخَلُوْا عَلٰي يُوْسُفَ اٰوٰٓى اِلَيْهِ اَبَوَيْهِ وَقَالَ ادْخُلُوْا مِصْرَ اِنْ شَاۗءَ اللّٰهُ اٰمِنِيْنَ 99؀ۭپھر جب (سب کے سب) یوسف کے پاس پہنچے تو اس نے اپنے والدین کو (عزت و احترام کے ساتھ) اپنے پاس جگہ دی اور کہا، ''کہاگر اللہ نے چاہا تو...

دین اسلام میں رسول اللہ ﷺ کی اطاعت فرض ہے

بسم اللہ الرحمن الرحیم دین اسلام میں رسول اللہ ﷺ کی اطاعت فرض ہے يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ أَطِيعُوا۟ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ وَلَا تَوَلَّوْا۟ عَنْهُ وَأَنتُمْ تَسْمَعُونَ ﴿20﴾ترجمہ: اے ایمان والو الله اور اس کے رسول کا حکم مانو اور سن کر اس سے مت پھرو(سورۃ الانفال،آیت20) قُلْ أَطِيعُوا۟ ٱللَّهَ وَأَطِيعُوا۟ ٱلرَّسُولَ ۖ فَإِن تَوَلَّوْا۟ فَإِنَّمَا عَلَيْهِ مَا حُمِّلَ وَعَلَيْكُم مَّا حُمِّلْتُمْ ۖ وَإِن تُطِيعُوهُ تَهْتَدُوا۟ ۚ وَمَا عَلَى ٱلرَّسُولِ إِلَّا ٱلْبَلَٰغُ ٱلْمُبِينُ﴿56﴾ترجمہ: کہہ دو الله اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرو پھر اگر منہ پھیرو گے تو پیغمبر تو وہی ہے جس کا وہ ذمہ دار ہے اورتم پر وہ ہے جو تمہارے ذمہ لازم کیا گیا ہے اور اگر اس کی فرمانبرداری کرو گے تو ہدایت پاؤ گے اور رسول کے ذمہ صرف صاف طور پر پہنچا دینا ہے (سورۃ النور،آیت 56) مَّن يُطِعِ ٱلرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ ٱللَّهَ ۖ وَمَن تَوَلَّىٰ فَمَآ أَرْسَلْنَٰكَ عَلَيْهِمْ حَفِيظًۭا ﴿80﴾ترجمہ: جو شخص رسول کی فرمانبرداری کرے گا تو بےشک اس نے اللہ کی فرمانبرداری کی اور جو نافرمانی کرے گا تو اے ...

Mashaikh E Naqshbandia Mujadidia

  Download

سنو تم ستارے ہو علی شیرازی Suno Tum Sitare Ho By Ali Sheerazi Novel

  Download

خواتین اسلام کو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی نصیحتیں

فرمانِ الہٰی ہے :۔ 1(اے نبی صلی اللہ علیہ و سلم ) مومن عورتوں سے کہہ دیجئے کہ وہ اپنی نظر یں نیچی رکھیں ، اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں ۔ (النور24:آیت31) 2 اپنی زیب وزینت کا اظہار نہ ہونے دیں۔(النور24:آیت31) 3 اپنی اوڑھنیاں اپنے سینوں پر ڈالے رہیں۔(النور24:آیت31) 4 ( غیر محرموں سے) نرم لہجہ میں بات نہ کرو ۔(الاحزاب33:آیت32) 5 نماز کی پابندی کرو، زکوٰۃ کی ادائیگی کرو۔(الاحزاب33:آیت32) 6 اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو۔(الاحزاب33:آیت32) رسول اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا :۔ 1 ایسے راستوں پر نہ چلیں جہاں مردوں کی ریل پیل ہوبلکہ کنارے کنارہ چلتے ہوئے راستہ طے کریں۔(ابوداؤد) 2 غیر محرم مردوں سے تنہائی میں نہ ملیں اس لئے کہ اس وقت تیسرا شیطان ہوتا ہے۔(جو برائی کروانے کی بھرپور کوشش کرتا ہے)۔(ابوداؤد) 3 دیور ، جیٹھ وغیرہ سے بھی تنہائی میں نہ ملیں۔(بخاری) 4 غیر محرم کے ساتھ سفر سے اجتناب کریں۔(بخاری) 5 بازار بد ترین جگہ ہے (بلا ضرورت بازار نہ جائیں)۔(مسلم) 6 خوشبو لگا کر اور باریک لباس پہن کر گھر سے نہ نکلیں اس لئے کہ یہ عریانی اور د...

کیا میڈیا کے حوالے سے ہم یونہی سوئے رہیں گے ؟

یوسف علیہ السلام پر ایرانی ڈرامہ سیریل کیا ہم انہیں اسلام کا ترجمان بنا رہنے دیں؟ ’حزب اللہ‘ لبنان کی ایک مشہور رافضی جماعت ہے، جس کا سربراہ حسن نصر اللہ نام کی ایک شخصیت ہیں۔ لبنان میں اِس تنظیم کا ایک ٹی وی چینل ہے جو ”المنار“ کے نام سے کام کرتا ہے اور ایک عشرے سے زائد عرصہ کام کرنے کے بعد بڑا نام کما چکا ہے۔ حسن نصر اللہ فخر سے سر عام کہتے ہیں کہ وہ اور انکی یہ تنظیم ’قم کی ولایت فقیہ‘ کے تابع ہیں۔گزشتہ رمضان میں حزب اللہ کے اِس ٹی وی چینل سے ایک ڈرامہ سیریل چلائی گئی جسکا عنوان تھا: ”یوسف الصدیق“۔ یہ اِس قدر ایک دلچسپ ڈرامہ سیریل تھی کہ عالم عرب کی ایک کثیر تعداد اِس کی نئی قسط کا انتظار کر رہی ہوتی تھی، خصوصاً خواتین اور نوجوان۔ اس کا انتظار کرنے والے بالعموم وہ ’دینی ذہن‘ رکھنے والے طبقے ہوتے تھے جو میڈیا میں اسلامی پروگراموں کی کمی محسوس کرتے ہیں! اِس ڈرامہ سیریل کے ختم ہونے کے بعد میں پورے دو ماہ تک انتظار کرتا رہا کہ اِس پر اہل سنت حلقوں کی طرف سے کوئی رد آئے، تاکہ میں کچھ لکھوں تو سنی حلقوں کے اِس رد عمل ہی کے حوالے سے لکھوں، مگر میں کسی زوردار رد عمل کو دیکھنے ...