Skip to main content

دعا مانگنے کا ضابطہ اور اس کے آداب

ارشاد ربانی ہے:”ونادٰی نوح ربہ فقال رب ان ابنی من اہلی وان وعدک الحق وانت احکم الحاکمین‘ قال یا نوح انہ لیس من اہلک‘ انہ عمل غیر صالح‘ فلاتسئلن مالیس لک بہ علم‘ انی اعظک ان تکون من الجاہلین“۔ (۱)ترجمہ:․․․”اور نوح علیہ السلام نے اپنے رب کو پکارا اور عرض کیا کہ اے میرے رب! میرا بیٹا میرے گھروالوں میں سے ہے اور آپ کا وعدہ بالکل سچا ہے‘ اور تو سب سے بڑا حاکم ہے‘ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: کہ اے نوح! یہ شخص تمہارے گھروالوں میں نہیں‘ یہ تباہ کار ہے‘ سو مجھ سے ایسی چیز کی درخواست مت کرو جس کی تم کو خبر نہیں۔ میں تم کو نصیحت کرتا ہوں کہ تم نادانوں میں داخل نہ ہوجاؤ“۔آیات مذکورہ بالا سے فقہاء نے یہ مسئلہ اخذ کیا ہے کہ دعا کے لئے ضروری ہے کہ دعا کرنے والا پہلے یہ معلوم کرے کہ جس کام کی دعا کررہا ہے وہ جائز وحلال ہے یانہیں۔ مشتبہ حالت میں دعا کرنے سے منع فرمایا گیا ہے‘ جیساکہ قاضی بیضاوی لکھتے ہیں:”فلاتسئلن مالیس لک بہ علم“ ای مالم تعلم اصواب ہو ام لیس کذلک“ (۲)ترجمہ:․․․”سو مجھ سے ایسی چیز کی درخواست مت کرو جس کی تم کو خبر نہیں یعنی جس کے بارے میں تجھے یہ علم نہ ہو کہ یہ حق وجائز ہے یا نہیں“۔مولانا محمد اشرف علی لکھتے ہیں:”وعلم بہ حال ادعیة مشایخ زماننا یدعون لکل ما یطلب عنہم الدعاء لہ حلالا کان او حراما من الخصومات او المناصب وحال دعاء بعض المشتغلین بالطریق ببعض الاحوال التی لاعلم لہم بنفعہا وضرہا“۔(۳)ترجمہ:․․․”اور اس سے ہمارے زمانہ کے مشائخ کی دعاؤں کا حال معلوم ہوتا ہے کہ ان سے دعووں وجھگڑوں اور عہدوں میں سے جس امر کے لئے دعا کی درخواست کی جاوے وہ اس کے لئے دعا کرنے کو تیار ہوجاتے ہیں‘ چاہے وہ جائز ہویا ناجائز‘ اسی طرح بعض سالکین بعض احوال کی دعا کرتے ہیں‘ حالانکہ ان کا نفع ونقصان کچھ معلوم نہیں“۔مولانا مفتی محمد شفیع لکھتے ہیں:”اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آج کل کے مشائخ میں جو یہ عام رواج ہوگیا ہے کہ جو شخص کسی دعا کے لئے آیا‘ اس کے واسطے ہاتھ اٹھادیئے اور دعاکر دی‘ حالانکہ اکثر ان کو یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جس مقدمے کے لئے دعا کرارہا ہے اس میں یہ خود حق پر ہے یا ظالم ہے یا کسی ایسے مقصد کے لئے دعا کرارہا ہے جو اس کے لئے حلال نہیں‘ کوئی ایسی ملازمت اور منصب ہے جس میں یہ حرام میں مبتلا ہوگا یا کسی کی حق تلفی کرکے اپنے مقصد میں کامیاب ہوسکے گا‘ ایسی دعائیں حالت معلوم ہونے کی صورت میں تو حرام وناجائز ہی ہیں‘ اگر اشتباہ کی حالت میں بھی ہو‘ تو حقیقت حال اور معاملہ جائز ہونے کا علم حاصل کئے بغیردعا کے لئے اقدام کرنا بھی مناسب نہیں“۔ (۴)علامہ قرطبی دعا کے آداب بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:”ومن شرط المدعو فیہ ان یکون من الامور الجائزة الطلب والفعل شرعاً“۔ (۵)ترجمہ:․․․”اور یہ بھی ضروری ہے کہ دعا ان ہی چیزوں کی مانگی جائے جو عادتاً مانگی جاتی ہوں اور شرعاً مباح ہوں“۔اسی طرح نبی کریم ﷺ سے قبولیت دعا کے بارے میں یہ ارشاد منقول ہے:”ما من احد یدعوا بدعاء الا آتاہ اللہ ما سال او کف عنہ من السوء مثلہ مالم یدع باثم او قطعیة رحم“۔ (۶)ترجمہ:․․․”جو بھی شخص دعا مانگتا ہے تو اللہ تعالیٰ یا تو اسے وہ چیز عطا فرما دیتا ہے جو وہ مانگتا ہے یا اس کے عوض اس سے برائی کو روک دیتا ہے‘ جب تک وہ گناہ کی کوئی چیز یا ناتہ توڑنے کی دعا نہیں مانگتا“۔گناہ کی کوئی چیز مانگنے کا مطلب ملا علی القاری بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:”مثل ان یقول اللہم قدرنی علی قتل فلان وہو مسلم او اللہم ارزقنی الخمر او اللہم اغفر لفلان وہو مات کافراً یقینا او خلد فلاناً المؤمن فی النار“۔ (۷)ترجمہ:․․․”مثلاً کوئی شخص یوں دعا مانگنے لگے: اے اللہ۱ مجھے فلاں شخص کو جو مسلمان ہے‘ قتل کرنے کی طاقت عطا فرما‘ یا یوں کہے: اے اللہ! مجھے شراب عطا کر یا یوں کہے: اے اللہ! فلاں شخص کو بخش دے‘ حالانکہ اس کی موت یقینی طور پر کفر پر واقع ہوئی ہو یا یوں کہے: اے اللہ! فلاں مومن کو ہمیشہ عذاب جہنم میں مبتلا رکھ“۔خلاصہ یہ کہ ایک مسلمان کو اپنے یا دوسروں کے حق میں دعا مانگنے سے قبل یہ دیکھنا چاہئے کہ جن امور کے لئے وہ دعا مانگ رہا ہے وہ جائز بھی ہیں یا نہیں۔حضرت نوح علیہ السلام سے قرآن حکیم کی زبانی بعض ایسے دعائیہ کلمات بھی منقول ہیں‘ جو جائز ہونے کے ساتھ ساتھ نہایت ہی پسندیدہ دعائیہ کلمات ہیں‘ ارشاد خداوندی ہے:”رب اغفرلی ولوالدی ولمن دخل بیتی مؤمناً وللمؤمنین والمؤمنات“۔ (۸)ترجمہ:․․․”اے میرے پروردگار! تو مجھے اور میرے ماں باپ اور جو بھی ایماندار ہوکر میرے گھر میں آئے اور تمام مومن مردوں اور کل ایماندار عورتوں کو بخش دیں“۔آیت مذکورہ میں حضرت نوح علیہ السلام اپنے لئے بخشش کی طلب کرتے ہوئے عرض کرتے ہیں کہ اے میرے رب! مجھے اور میرے والدین کو بخش اور ہر مومن مردو عورت کو بخش جو میرے گھر میں آجائے‘ گھر سے مراد مسجد بھی لی گئی ہے‘ لیکن عام مراد یہی ہے پھر وہ اپنی دعا کو عام کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تمام ایماندار مردوں اور عورتوں کو بھی بخش خواہ زندہ ہوں‘ خواہ مردہ۔حافظ ابن کثیر اس مقام پر لکھتے ہیں:’ولہذا یستحب ہذا الدعاء اقتداء بنوح علیہ السلام“۔ (۹)ترجمہ:․․․․”اسی لئے مستحب ہے کہ ہر شخص اپنی دعا میں دوسرے مومنوں کو بھی شامل رکھے تاکہ حضرت نوح علیہ السلام کی اقتداء ہو“۔حافظ عبد الرحمن بن ابی بکر السیوطی لکھتے ہیں:”فیہ ادب عظیم من آداب الدعاء وہو جمع الوالدین والمؤمنین فی الدعاء والابتداء بنفسہ“۔ (۱۰)ترجمہ:․․․”آیت مذکورہ میں آداب دعا سے متعلق ایک عظیم ادب کا بیان ہوا ہے اور وہ یہ کہ دعا میں ماں باپ اور دوسرے مسلمانوں کو بھی شریک کرلینا چاہئے اور شروع اپنے نفس سے ہو“۔اسی طرح ڈاکٹر وہبة الزحیلی لکھتے ہیں:”ویستحب مثل دعا نوح اقتداء بہ لجمیع المؤمنین والمؤمنات من الاحیاء والاموات“۔(۱۱)ترجمہ:․․․․”اور حضرت نوح علیہ السلام کی اقتداء کرتے ہوئے اپنی دعا میں نوح علیہ السلام کی طرح تمام مسلمان مرد اور عورتوں کو شامل کرنا مستحب ہے‘ چاہے وہ زندہ ہوں یا مردہ“۔حوالہ جات۱- سورہ ہود‘ ۴۵‘۴۶۲- بیضاوی‘ ناصر الدین عبد اللہ بن محمد‘ تفسیر انوار التنزیل واسرار التاویل ‘ مطبع لکھنوی‘۱۲۸۲ھ‘۱:۳۷۷۳- مولانا محمد اشرف علی تھانوی‘ تفسیر بیان القرآن‘ کراچی‘ ایچ ایم سعید کمپنی‘ ۵:۴۸․۴- مفتی محمد شفیع‘ معارف القرآن‘ کراچی‘ ادارة المعارف‘ ۱۹۷۹ء‘۴:۶۳۱․۵- القرطبی‘ ابی عبد اللہ محمد بن احمد‘ الجامع لاحکام القرآن‘ قاہرہ‘ دار الکاتب العربی‘ ۱۹۶۷ء‘۲:۳۱۱․۶- سنن ترمذی‘ ابواب الدعوات‘ باب ماجاء ان دعوة المسلم مستجابة‘ حدیث نمبر:۳۸۱․۷-علامہ علی بن سلطان محمد القاری‘ مرقاة المفاتیح‘ شرح مشکوٰة المصابیح‘ المکتبة الحقانیة‘ پشاور‘ ۱۹۹۵ء‘ کتاب الدعوات‘ الفصل الاول‘ حدیث نمبر ۲۲۲۷‘۵:۸‘۹․۸-سورہ نوح‘ ۷۱:۲۸․ ۹- علامہ ابن کثیر‘ حافظ عماد الدین‘ ابو الفداء‘ اسماعیل‘ تفسیر القرآن العظیم‘ لاہور‘ سہیل اکیڈمی‘ ۱۳۹۲ھ‘۴:۴۲۸․۱۰- حافظ عبد الرحمن بن ابی بکر السیوطی‘ الاکلیل فی استنباط التنزیل‘ کوئٹہ‘ مکتبة اسلامیة‘ ۱۴۰۳ھ‘ ص:۲۱۶․۱۱- وہبة الزحیلی‘ التفسیر المنیر ‘ دمشق‘ دار الفکر‘۱۹۹۸ء‘۲۹:۱۵۲․

Comments

Popular posts from this blog

اللہ تعالیٰ کے حقوق

بسم اللہ الرحمن الرحیم اللہ تعالیٰ کے حقوق اللہ تعالیٰ کا حق تمام حقوق سے زیادہ ضروری ہے اور سب سے اہم ہے۔کیونکہ وہ اس کائنات کا خالق و مالک اور تمام تر امور کی تدبیر کرنے والا ہے۔وہ زندہ جاوید ہستی ہے جو تمام کائنات کا نطام سنبھالے ہوئے ہے،اس نے ہر چیز کو پیدا کیا اور اپنی حکمت بالغہ سے اس کا اندازہ کیا۔انسان کو اشرف المخلوقات بنایا ،پھر انسان کو اپنے احسانات یاد کرائے کہ اے انسان !تجھ پر اس ذات کا حق ہے جس نے نعمتوں کے ساتھ تیری پرورش کی۔تو اپنی ماں کے پیٹ میں تین طرح کے اندھیروں میں تھا۔جہاں مخلوقات میں کوئی بھی تجھے غذا یا ایسی اشیاء نہیں پہنچا سکتا تھا جو تیری افزائش اور زندگی کو قائم رکھنے والی ہوں۔اس نے ماں کی چھاتیوں میں وافر دودھ اتارا،تجھے اس کی راہ دکھلائی اور تیرے والدین کو تیرا محسن بنا دیا۔تیری امداد کی اور تجھے کامیاب کیا۔ارشاد باری تعالیٰ ہے: وَٱللَّهُ أَخْرَجَكُم مِّنۢ بُطُونِ أُمَّهَٰتِكُمْ لَا تَعْلَمُونَ شَيْا وَجَعَلَ لَكُمُ ٱلسَّمْعَ وَٱلْأَبْصَٰرَ وَٱلْأَفْدَةَ ۙ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ ﴿78﴾ ترجمہ: اور اللہ ہی نے تم کو تمہاری ماؤں کے شکم سے پیدا کیا کہ...

یہودی پروٹوکولز

Online Read یہودی پروٹوکولز ============================================== Online Read E Book یہودی پروٹوکولز ============================================== Download Free یہودی پروٹوکولز ---------------------------------------------------- Download Free یہودی پروٹوکولز ----------------------------------------------------

Kaghazee Qiyamat mazhar kaleem M.A

Download 1 Download 2

جمع عثمانی رِوایات کے آئینے میں

نبی مکرمﷺ کی حدیث مبارکہ ’’خَیْرُ النَّاسِ قَرْنِيْ ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَھُمْ ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَھُمْ‘‘۔(صحیح البخاري: ۲۶۵۲) پر جب نظر پڑتی ہے تو سر احسان و نیازمندی کے ملے جلے تاثر ات سے جھک جاتا ہے کہ واقعتا آپﷺ، صحابہ رضی اللہ عنہم اور تابعین رحمہم اللہ کا زمانہ خیر القرون تھا، کیونکہ اس میں بنی نوع اِنسان کی راہ روی اور اسلام کی سربلندی کے لیے وہ محنتیں اور کوششیں ہوئی ہیں کہ جس کی مثال آئندہ جمیع قرون میں پیش کرنا مشکل ہے۔ یقینا وہ لوگ اس قابل تھے کہ اُنہیں یہ ذمہ داری سونپی جاتی کہ وہ دینِ الٰہی اور شرع اللہ کو اپنی مکمل تشریحات کے ساتھ آئندہ نسلوں تک منتقل کریں، بلا شبہ وہ طائفہ فائزہ اپنے اس مقصد میں بامراد ہوا ہے۔ان جملہ ذمہ داریوں میں سے اَہم ترین ذمہ داری یہ تھی کہ ہدایت سماوی کے آخری ربانی صحیفہ کو محفوظ اور غیر متبدل شکل میں ہم تک پہنچایا جائے۔ ہمارا یہ قطعی ایمان ہے کہ وہ پیام اَیزدی آج اپنی سو فیصد اَصلی اور حقیقی شکل میں ہمارے درمیان موجود ہے۔ الحمد ﷲ علی ذلک۔اِس سلسلہ میں خیرالقرون میں جو سب سے اَہم کام ہوا ہے وہ سیدنا عثمان ذوالنورین رضی ال...

گستاخ رسول کی سزااورحکومت وقت کی ذمہ داری

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ: ”الہدیٰ انٹرنیشنل“ ایک دینی ادارہ کہلاتا ہے، کیا اس ادارے والے صحیح المسلک اور متبع سنت ہیں یا نہیں ؟یہاں تعلیم حاصل کرنے والی چند خواتین جوکہ قرآن کریم کی تجوید درست کرنے یا علم دین حاصل کرنے کی طلب میں ان مدارس میں گئیں‘ لیکن وہاں چند ایسے مسائل سامنے آئے کہ عجیب تذبذب اور پریشانی کا شکار ہوگئیں‘ آپ سے درخواست ہے کہ کافی شافی اور تفصیلی جواب عنایت فرمایئے اور امت مسلمہ کے تذبذب کو دور فرمایئے اور گمراہی سے بچایئے ۔ اسی طرح پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ایک شہر میں لڑکیوں کا ایک مدرسہ ہے‘ جس کی صدر مدرسہ یا منتظمہ ایک خاتون ہیں ‘یہ خاتون غیر شادی شدہ ہیں۔ نیز یہ جامعہ‘ صرف بنات کا ہے۔ یہاں کا سارا نظام موصوفہ یا یہیں کی تعلیم یافتہ چند خواتین سنبھالتی ہیں‘ یہ بھی غیر شادی شدہ ہیں۔ مقصد یہ ہے کہ یہاں کی انتظامیہ میں کسی مرد کاکوئی عمل دخل نہیں ہے اور جس طرح یہ تمام خواتین غیر شادی شدہ ہیں۔ اسی طرح یہاں کی تمام طالبات بھی غیر شادی شدہ ہیں۔ اگر کسی طالبہ کے بارے میں یہ علم ہوجائے کہ یہ شادی شدہ ہے تو اسے خارج کردیا جاتاہے او...

قرآن حکیم کے نازل ہونے کی کیا غرض ہے

سورہ آلِ عمران هَـٰذَا بَيَانٌ لِّلنَّاسِ وَهُدًى وَمَوْعِظَةٌ لِّلْمُتَّقِينَ ﴿١٣٨﴾ یہ (قرآن) لوگوں کے لیے بیان صریح اور اہلِ تقویٰ کے لیے ہدایت اور نصیحت ہے۔ سورہ المآئدۃ يَا أَهْلَ الْكِتَابِ قَدْ جَاءَكُمْ رَسُولُنَا يُبَيِّنُ لَكُمْ كَثِيرًا مِّمَّا كُنتُمْ تُخْفُونَ مِنَ الْكِتَابِ وَيَعْفُو عَن كَثِيرٍ ۚ قَدْ جَاءَكُم مِّنَ اللَّـهِ نُورٌ وَكِتَابٌ مُّبِينٌ ﴿١٥﴾هْدِي بِهِ اللَّـهُ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَهُ سُبُلَ السَّلَامِ وَيُخْرِجُهُم مِّنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ بِإِذْنِهِ وَيَهْدِيهِمْ إِلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ ﴿١٦﴾  اے اہل کتاب! تمہارے پاس ہمارے پیغمبر (آخرالزماں) آ گئے ہیں کہ جو کچھ تم کتاب (الہٰی) میں سے چھپاتے تھے وہ اس میں سے بہت کچھ تمہیں کھول کھول کر بتا دیتے ہیں اور تمہارے بہت سے قصور معاف کر دیتے ہیں بےشک تمہارے پاس خدا کی طرف سے نور اور روشن کتاب آ چکی ہے۔جس سے خدا اپنی رضا پر چلنے والوں کو نجات کے رستے دکھاتا ہے اور اپنے حکم سے اندھیرے میں سے نکال کر روشنی کی طرف لے جاتا اور ان کو سیدھے رستہ پر چلاتا ہے۔ وَكَتَبْنَا عَلَيْه...

The Case of Hudood Ordinances By Shaykh Mufti Taqi Usmani

Read Online [0.4] Urdu Translation

Yusufzai (Pashtun tribe)

The  Yūsufzai  (also  Youssofzay ,  Yousefzai ,  Yousafzai ,  Esapzey ,  Yousufi , or  Yūsufi ) (Pashto:  يوسفزی ,Persian and Urdu:  یوسف زئی ) is one of the largest Pashtun (Afghans) tribes. The majority of the Yusufzai tribe reside in parts of Western Afghanistan, Khyber Pakhtunkhwa and Provincially Administered Tribal Areas near the Afghan-Pakistan border. They are the predominant population in the districts of Konar, Ningarhar, Mardan District, Dir, Swat,Malakand, Swabi, Buner, Shangla, Haripur District [Khalabat Town Ship and Tarbela] and in Mansehra and Battagram. There is also a Yusufzai clan of Dehwar tribe in the Mastung district of Balochistan who speak Persian with some mixture of Birahvi words. The descendants of Yusuf inhabit Konar, Jalalabad, Swat, Upper Dir, Lower Dir, Malakand Swabi and Mardan...

ان شاءاللہ لکھنے میں غلطی کرنا

بسم اللہ الرحمن الرحیم السلام علیکم ورحمتہ اللہ آ پ لوگوں نے اکثر کتابوں میں لفظ ان شاءاللہ کو اس طرح لکھا ہوا پڑھاہوگا انشاءاللہ اور جب کہ اس طرح لکھنے سے اس کا معنی بدل جاتا ہے۔ لفظ ان شاءاللہ کے اردو میں معنی بنتا ہے اگر اللہ نے چاہا اور جب کہ انشاء عربی میں کسی چیز کو بنانے کو کہتے ہیں اس طرح انشاءاللہ کے معنی بہت غلط بن جاتے ہیں ۔ہم لوگ عربی زبان سے واقفیت نہ رکھنے کی وجہ سے ایسی غلطیاں کر جاتے ہیں اللہ ہمیں معاف فرمائے آمین۔اللہ کا ارشاد ہے کہاِنَّآ اَنْشَاْنٰهُنَّ اِنْشَاۗءً 35۝ۙہم نے ان (کی بیویوں کو) خاص طور پر بنایا ہے۔الواقعہ:۳۵قَالَ اِنَّمَا يَاْتِيْكُمْ بِهِ اللّٰهُ اِنْ شَاۗءَ وَمَآ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِيْنَ 33 ؀جواب دیا کہ اسے بھی اللہ تعالٰی ہی لائے گااگر وہ چاہے اور ہاں تم اسے ہرانے والے نہیں ہو۔ھود:۳۳فَلَمَّا دَخَلُوْا عَلٰي يُوْسُفَ اٰوٰٓى اِلَيْهِ اَبَوَيْهِ وَقَالَ ادْخُلُوْا مِصْرَ اِنْ شَاۗءَ اللّٰهُ اٰمِنِيْنَ 99؀ۭپھر جب (سب کے سب) یوسف کے پاس پہنچے تو اس نے اپنے والدین کو (عزت و احترام کے ساتھ) اپنے پاس جگہ دی اور کہا، ''کہاگر اللہ نے چاہا تو...

خواتین اسلام کو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی نصیحتیں

فرمانِ الہٰی ہے :۔ 1(اے نبی صلی اللہ علیہ و سلم ) مومن عورتوں سے کہہ دیجئے کہ وہ اپنی نظر یں نیچی رکھیں ، اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں ۔ (النور24:آیت31) 2 اپنی زیب وزینت کا اظہار نہ ہونے دیں۔(النور24:آیت31) 3 اپنی اوڑھنیاں اپنے سینوں پر ڈالے رہیں۔(النور24:آیت31) 4 ( غیر محرموں سے) نرم لہجہ میں بات نہ کرو ۔(الاحزاب33:آیت32) 5 نماز کی پابندی کرو، زکوٰۃ کی ادائیگی کرو۔(الاحزاب33:آیت32) 6 اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو۔(الاحزاب33:آیت32) رسول اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا :۔ 1 ایسے راستوں پر نہ چلیں جہاں مردوں کی ریل پیل ہوبلکہ کنارے کنارہ چلتے ہوئے راستہ طے کریں۔(ابوداؤد) 2 غیر محرم مردوں سے تنہائی میں نہ ملیں اس لئے کہ اس وقت تیسرا شیطان ہوتا ہے۔(جو برائی کروانے کی بھرپور کوشش کرتا ہے)۔(ابوداؤد) 3 دیور ، جیٹھ وغیرہ سے بھی تنہائی میں نہ ملیں۔(بخاری) 4 غیر محرم کے ساتھ سفر سے اجتناب کریں۔(بخاری) 5 بازار بد ترین جگہ ہے (بلا ضرورت بازار نہ جائیں)۔(مسلم) 6 خوشبو لگا کر اور باریک لباس پہن کر گھر سے نہ نکلیں اس لئے کہ یہ عریانی اور د...