Skip to main content

دعا مانگنے کا ضابطہ اور اس کے آداب

ارشاد ربانی ہے:”ونادٰی نوح ربہ فقال رب ان ابنی من اہلی وان وعدک الحق وانت احکم الحاکمین‘ قال یا نوح انہ لیس من اہلک‘ انہ عمل غیر صالح‘ فلاتسئلن مالیس لک بہ علم‘ انی اعظک ان تکون من الجاہلین“۔ (۱)ترجمہ:․․․”اور نوح علیہ السلام نے اپنے رب کو پکارا اور عرض کیا کہ اے میرے رب! میرا بیٹا میرے گھروالوں میں سے ہے اور آپ کا وعدہ بالکل سچا ہے‘ اور تو سب سے بڑا حاکم ہے‘ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: کہ اے نوح! یہ شخص تمہارے گھروالوں میں نہیں‘ یہ تباہ کار ہے‘ سو مجھ سے ایسی چیز کی درخواست مت کرو جس کی تم کو خبر نہیں۔ میں تم کو نصیحت کرتا ہوں کہ تم نادانوں میں داخل نہ ہوجاؤ“۔آیات مذکورہ بالا سے فقہاء نے یہ مسئلہ اخذ کیا ہے کہ دعا کے لئے ضروری ہے کہ دعا کرنے والا پہلے یہ معلوم کرے کہ جس کام کی دعا کررہا ہے وہ جائز وحلال ہے یانہیں۔ مشتبہ حالت میں دعا کرنے سے منع فرمایا گیا ہے‘ جیساکہ قاضی بیضاوی لکھتے ہیں:”فلاتسئلن مالیس لک بہ علم“ ای مالم تعلم اصواب ہو ام لیس کذلک“ (۲)ترجمہ:․․․”سو مجھ سے ایسی چیز کی درخواست مت کرو جس کی تم کو خبر نہیں یعنی جس کے بارے میں تجھے یہ علم نہ ہو کہ یہ حق وجائز ہے یا نہیں“۔مولانا محمد اشرف علی لکھتے ہیں:”وعلم بہ حال ادعیة مشایخ زماننا یدعون لکل ما یطلب عنہم الدعاء لہ حلالا کان او حراما من الخصومات او المناصب وحال دعاء بعض المشتغلین بالطریق ببعض الاحوال التی لاعلم لہم بنفعہا وضرہا“۔(۳)ترجمہ:․․․”اور اس سے ہمارے زمانہ کے مشائخ کی دعاؤں کا حال معلوم ہوتا ہے کہ ان سے دعووں وجھگڑوں اور عہدوں میں سے جس امر کے لئے دعا کی درخواست کی جاوے وہ اس کے لئے دعا کرنے کو تیار ہوجاتے ہیں‘ چاہے وہ جائز ہویا ناجائز‘ اسی طرح بعض سالکین بعض احوال کی دعا کرتے ہیں‘ حالانکہ ان کا نفع ونقصان کچھ معلوم نہیں“۔مولانا مفتی محمد شفیع لکھتے ہیں:”اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آج کل کے مشائخ میں جو یہ عام رواج ہوگیا ہے کہ جو شخص کسی دعا کے لئے آیا‘ اس کے واسطے ہاتھ اٹھادیئے اور دعاکر دی‘ حالانکہ اکثر ان کو یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جس مقدمے کے لئے دعا کرارہا ہے اس میں یہ خود حق پر ہے یا ظالم ہے یا کسی ایسے مقصد کے لئے دعا کرارہا ہے جو اس کے لئے حلال نہیں‘ کوئی ایسی ملازمت اور منصب ہے جس میں یہ حرام میں مبتلا ہوگا یا کسی کی حق تلفی کرکے اپنے مقصد میں کامیاب ہوسکے گا‘ ایسی دعائیں حالت معلوم ہونے کی صورت میں تو حرام وناجائز ہی ہیں‘ اگر اشتباہ کی حالت میں بھی ہو‘ تو حقیقت حال اور معاملہ جائز ہونے کا علم حاصل کئے بغیردعا کے لئے اقدام کرنا بھی مناسب نہیں“۔ (۴)علامہ قرطبی دعا کے آداب بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:”ومن شرط المدعو فیہ ان یکون من الامور الجائزة الطلب والفعل شرعاً“۔ (۵)ترجمہ:․․․”اور یہ بھی ضروری ہے کہ دعا ان ہی چیزوں کی مانگی جائے جو عادتاً مانگی جاتی ہوں اور شرعاً مباح ہوں“۔اسی طرح نبی کریم ﷺ سے قبولیت دعا کے بارے میں یہ ارشاد منقول ہے:”ما من احد یدعوا بدعاء الا آتاہ اللہ ما سال او کف عنہ من السوء مثلہ مالم یدع باثم او قطعیة رحم“۔ (۶)ترجمہ:․․․”جو بھی شخص دعا مانگتا ہے تو اللہ تعالیٰ یا تو اسے وہ چیز عطا فرما دیتا ہے جو وہ مانگتا ہے یا اس کے عوض اس سے برائی کو روک دیتا ہے‘ جب تک وہ گناہ کی کوئی چیز یا ناتہ توڑنے کی دعا نہیں مانگتا“۔گناہ کی کوئی چیز مانگنے کا مطلب ملا علی القاری بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:”مثل ان یقول اللہم قدرنی علی قتل فلان وہو مسلم او اللہم ارزقنی الخمر او اللہم اغفر لفلان وہو مات کافراً یقینا او خلد فلاناً المؤمن فی النار“۔ (۷)ترجمہ:․․․”مثلاً کوئی شخص یوں دعا مانگنے لگے: اے اللہ۱ مجھے فلاں شخص کو جو مسلمان ہے‘ قتل کرنے کی طاقت عطا فرما‘ یا یوں کہے: اے اللہ! مجھے شراب عطا کر یا یوں کہے: اے اللہ! فلاں شخص کو بخش دے‘ حالانکہ اس کی موت یقینی طور پر کفر پر واقع ہوئی ہو یا یوں کہے: اے اللہ! فلاں مومن کو ہمیشہ عذاب جہنم میں مبتلا رکھ“۔خلاصہ یہ کہ ایک مسلمان کو اپنے یا دوسروں کے حق میں دعا مانگنے سے قبل یہ دیکھنا چاہئے کہ جن امور کے لئے وہ دعا مانگ رہا ہے وہ جائز بھی ہیں یا نہیں۔حضرت نوح علیہ السلام سے قرآن حکیم کی زبانی بعض ایسے دعائیہ کلمات بھی منقول ہیں‘ جو جائز ہونے کے ساتھ ساتھ نہایت ہی پسندیدہ دعائیہ کلمات ہیں‘ ارشاد خداوندی ہے:”رب اغفرلی ولوالدی ولمن دخل بیتی مؤمناً وللمؤمنین والمؤمنات“۔ (۸)ترجمہ:․․․”اے میرے پروردگار! تو مجھے اور میرے ماں باپ اور جو بھی ایماندار ہوکر میرے گھر میں آئے اور تمام مومن مردوں اور کل ایماندار عورتوں کو بخش دیں“۔آیت مذکورہ میں حضرت نوح علیہ السلام اپنے لئے بخشش کی طلب کرتے ہوئے عرض کرتے ہیں کہ اے میرے رب! مجھے اور میرے والدین کو بخش اور ہر مومن مردو عورت کو بخش جو میرے گھر میں آجائے‘ گھر سے مراد مسجد بھی لی گئی ہے‘ لیکن عام مراد یہی ہے پھر وہ اپنی دعا کو عام کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تمام ایماندار مردوں اور عورتوں کو بھی بخش خواہ زندہ ہوں‘ خواہ مردہ۔حافظ ابن کثیر اس مقام پر لکھتے ہیں:’ولہذا یستحب ہذا الدعاء اقتداء بنوح علیہ السلام“۔ (۹)ترجمہ:․․․․”اسی لئے مستحب ہے کہ ہر شخص اپنی دعا میں دوسرے مومنوں کو بھی شامل رکھے تاکہ حضرت نوح علیہ السلام کی اقتداء ہو“۔حافظ عبد الرحمن بن ابی بکر السیوطی لکھتے ہیں:”فیہ ادب عظیم من آداب الدعاء وہو جمع الوالدین والمؤمنین فی الدعاء والابتداء بنفسہ“۔ (۱۰)ترجمہ:․․․”آیت مذکورہ میں آداب دعا سے متعلق ایک عظیم ادب کا بیان ہوا ہے اور وہ یہ کہ دعا میں ماں باپ اور دوسرے مسلمانوں کو بھی شریک کرلینا چاہئے اور شروع اپنے نفس سے ہو“۔اسی طرح ڈاکٹر وہبة الزحیلی لکھتے ہیں:”ویستحب مثل دعا نوح اقتداء بہ لجمیع المؤمنین والمؤمنات من الاحیاء والاموات“۔(۱۱)ترجمہ:․․․․”اور حضرت نوح علیہ السلام کی اقتداء کرتے ہوئے اپنی دعا میں نوح علیہ السلام کی طرح تمام مسلمان مرد اور عورتوں کو شامل کرنا مستحب ہے‘ چاہے وہ زندہ ہوں یا مردہ“۔حوالہ جات۱- سورہ ہود‘ ۴۵‘۴۶۲- بیضاوی‘ ناصر الدین عبد اللہ بن محمد‘ تفسیر انوار التنزیل واسرار التاویل ‘ مطبع لکھنوی‘۱۲۸۲ھ‘۱:۳۷۷۳- مولانا محمد اشرف علی تھانوی‘ تفسیر بیان القرآن‘ کراچی‘ ایچ ایم سعید کمپنی‘ ۵:۴۸․۴- مفتی محمد شفیع‘ معارف القرآن‘ کراچی‘ ادارة المعارف‘ ۱۹۷۹ء‘۴:۶۳۱․۵- القرطبی‘ ابی عبد اللہ محمد بن احمد‘ الجامع لاحکام القرآن‘ قاہرہ‘ دار الکاتب العربی‘ ۱۹۶۷ء‘۲:۳۱۱․۶- سنن ترمذی‘ ابواب الدعوات‘ باب ماجاء ان دعوة المسلم مستجابة‘ حدیث نمبر:۳۸۱․۷-علامہ علی بن سلطان محمد القاری‘ مرقاة المفاتیح‘ شرح مشکوٰة المصابیح‘ المکتبة الحقانیة‘ پشاور‘ ۱۹۹۵ء‘ کتاب الدعوات‘ الفصل الاول‘ حدیث نمبر ۲۲۲۷‘۵:۸‘۹․۸-سورہ نوح‘ ۷۱:۲۸․ ۹- علامہ ابن کثیر‘ حافظ عماد الدین‘ ابو الفداء‘ اسماعیل‘ تفسیر القرآن العظیم‘ لاہور‘ سہیل اکیڈمی‘ ۱۳۹۲ھ‘۴:۴۲۸․۱۰- حافظ عبد الرحمن بن ابی بکر السیوطی‘ الاکلیل فی استنباط التنزیل‘ کوئٹہ‘ مکتبة اسلامیة‘ ۱۴۰۳ھ‘ ص:۲۱۶․۱۱- وہبة الزحیلی‘ التفسیر المنیر ‘ دمشق‘ دار الفکر‘۱۹۹۸ء‘۲۹:۱۵۲․

Comments

Popular posts from this blog

Yusufzai (Pashtun tribe)

The  Yūsufzai  (also  Youssofzay ,  Yousefzai ,  Yousafzai ,  Esapzey ,  Yousufi , or  Yūsufi ) (Pashto:  يوسفزی ,Persian and Urdu:  یوسف زئی ) is one of the largest Pashtun (Afghans) tribes. The majority of the Yusufzai tribe reside in parts of Western Afghanistan, Khyber Pakhtunkhwa and Provincially Administered Tribal Areas near the Afghan-Pakistan border. They are the predominant population in the districts of Konar, Ningarhar, Mardan District, Dir, Swat,Malakand, Swabi, Buner, Shangla, Haripur District [Khalabat Town Ship and Tarbela] and in Mansehra and Battagram. There is also a Yusufzai clan of Dehwar tribe in the Mastung district of Balochistan who speak Persian with some mixture of Birahvi words. The descendants of Yusuf inhabit Konar, Jalalabad, Swat, Upper Dir, Lower Dir, Malakand Swabi and Mardan...

یہودی پروٹوکولز

Online Read یہودی پروٹوکولز ============================================== Online Read E Book یہودی پروٹوکولز ============================================== Download Free یہودی پروٹوکولز ---------------------------------------------------- Download Free یہودی پروٹوکولز ----------------------------------------------------

دین اسلام میں رسول اللہ ﷺ کی اطاعت فرض ہے

بسم اللہ الرحمن الرحیم دین اسلام میں رسول اللہ ﷺ کی اطاعت فرض ہے يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ أَطِيعُوا۟ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ وَلَا تَوَلَّوْا۟ عَنْهُ وَأَنتُمْ تَسْمَعُونَ ﴿20﴾ترجمہ: اے ایمان والو الله اور اس کے رسول کا حکم مانو اور سن کر اس سے مت پھرو(سورۃ الانفال،آیت20) قُلْ أَطِيعُوا۟ ٱللَّهَ وَأَطِيعُوا۟ ٱلرَّسُولَ ۖ فَإِن تَوَلَّوْا۟ فَإِنَّمَا عَلَيْهِ مَا حُمِّلَ وَعَلَيْكُم مَّا حُمِّلْتُمْ ۖ وَإِن تُطِيعُوهُ تَهْتَدُوا۟ ۚ وَمَا عَلَى ٱلرَّسُولِ إِلَّا ٱلْبَلَٰغُ ٱلْمُبِينُ﴿56﴾ترجمہ: کہہ دو الله اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرو پھر اگر منہ پھیرو گے تو پیغمبر تو وہی ہے جس کا وہ ذمہ دار ہے اورتم پر وہ ہے جو تمہارے ذمہ لازم کیا گیا ہے اور اگر اس کی فرمانبرداری کرو گے تو ہدایت پاؤ گے اور رسول کے ذمہ صرف صاف طور پر پہنچا دینا ہے (سورۃ النور،آیت 56) مَّن يُطِعِ ٱلرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ ٱللَّهَ ۖ وَمَن تَوَلَّىٰ فَمَآ أَرْسَلْنَٰكَ عَلَيْهِمْ حَفِيظًۭا ﴿80﴾ترجمہ: جو شخص رسول کی فرمانبرداری کرے گا تو بےشک اس نے اللہ کی فرمانبرداری کی اور جو نافرمانی کرے گا تو اے ...

قرآن حکیم کے نازل ہونے کی کیا غرض ہے

سورہ آلِ عمران هَـٰذَا بَيَانٌ لِّلنَّاسِ وَهُدًى وَمَوْعِظَةٌ لِّلْمُتَّقِينَ ﴿١٣٨﴾ یہ (قرآن) لوگوں کے لیے بیان صریح اور اہلِ تقویٰ کے لیے ہدایت اور نصیحت ہے۔ سورہ المآئدۃ يَا أَهْلَ الْكِتَابِ قَدْ جَاءَكُمْ رَسُولُنَا يُبَيِّنُ لَكُمْ كَثِيرًا مِّمَّا كُنتُمْ تُخْفُونَ مِنَ الْكِتَابِ وَيَعْفُو عَن كَثِيرٍ ۚ قَدْ جَاءَكُم مِّنَ اللَّـهِ نُورٌ وَكِتَابٌ مُّبِينٌ ﴿١٥﴾هْدِي بِهِ اللَّـهُ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَهُ سُبُلَ السَّلَامِ وَيُخْرِجُهُم مِّنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ بِإِذْنِهِ وَيَهْدِيهِمْ إِلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ ﴿١٦﴾  اے اہل کتاب! تمہارے پاس ہمارے پیغمبر (آخرالزماں) آ گئے ہیں کہ جو کچھ تم کتاب (الہٰی) میں سے چھپاتے تھے وہ اس میں سے بہت کچھ تمہیں کھول کھول کر بتا دیتے ہیں اور تمہارے بہت سے قصور معاف کر دیتے ہیں بےشک تمہارے پاس خدا کی طرف سے نور اور روشن کتاب آ چکی ہے۔جس سے خدا اپنی رضا پر چلنے والوں کو نجات کے رستے دکھاتا ہے اور اپنے حکم سے اندھیرے میں سے نکال کر روشنی کی طرف لے جاتا اور ان کو سیدھے رستہ پر چلاتا ہے۔ وَكَتَبْنَا عَلَيْه...

جمع عثمانی رِوایات کے آئینے میں

نبی مکرمﷺ کی حدیث مبارکہ ’’خَیْرُ النَّاسِ قَرْنِيْ ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَھُمْ ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَھُمْ‘‘۔(صحیح البخاري: ۲۶۵۲) پر جب نظر پڑتی ہے تو سر احسان و نیازمندی کے ملے جلے تاثر ات سے جھک جاتا ہے کہ واقعتا آپﷺ، صحابہ رضی اللہ عنہم اور تابعین رحمہم اللہ کا زمانہ خیر القرون تھا، کیونکہ اس میں بنی نوع اِنسان کی راہ روی اور اسلام کی سربلندی کے لیے وہ محنتیں اور کوششیں ہوئی ہیں کہ جس کی مثال آئندہ جمیع قرون میں پیش کرنا مشکل ہے۔ یقینا وہ لوگ اس قابل تھے کہ اُنہیں یہ ذمہ داری سونپی جاتی کہ وہ دینِ الٰہی اور شرع اللہ کو اپنی مکمل تشریحات کے ساتھ آئندہ نسلوں تک منتقل کریں، بلا شبہ وہ طائفہ فائزہ اپنے اس مقصد میں بامراد ہوا ہے۔ان جملہ ذمہ داریوں میں سے اَہم ترین ذمہ داری یہ تھی کہ ہدایت سماوی کے آخری ربانی صحیفہ کو محفوظ اور غیر متبدل شکل میں ہم تک پہنچایا جائے۔ ہمارا یہ قطعی ایمان ہے کہ وہ پیام اَیزدی آج اپنی سو فیصد اَصلی اور حقیقی شکل میں ہمارے درمیان موجود ہے۔ الحمد ﷲ علی ذلک۔اِس سلسلہ میں خیرالقرون میں جو سب سے اَہم کام ہوا ہے وہ سیدنا عثمان ذوالنورین رضی ال...

ان شاءاللہ لکھنے میں غلطی کرنا

بسم اللہ الرحمن الرحیم السلام علیکم ورحمتہ اللہ آ پ لوگوں نے اکثر کتابوں میں لفظ ان شاءاللہ کو اس طرح لکھا ہوا پڑھاہوگا انشاءاللہ اور جب کہ اس طرح لکھنے سے اس کا معنی بدل جاتا ہے۔ لفظ ان شاءاللہ کے اردو میں معنی بنتا ہے اگر اللہ نے چاہا اور جب کہ انشاء عربی میں کسی چیز کو بنانے کو کہتے ہیں اس طرح انشاءاللہ کے معنی بہت غلط بن جاتے ہیں ۔ہم لوگ عربی زبان سے واقفیت نہ رکھنے کی وجہ سے ایسی غلطیاں کر جاتے ہیں اللہ ہمیں معاف فرمائے آمین۔اللہ کا ارشاد ہے کہاِنَّآ اَنْشَاْنٰهُنَّ اِنْشَاۗءً 35۝ۙہم نے ان (کی بیویوں کو) خاص طور پر بنایا ہے۔الواقعہ:۳۵قَالَ اِنَّمَا يَاْتِيْكُمْ بِهِ اللّٰهُ اِنْ شَاۗءَ وَمَآ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِيْنَ 33 ؀جواب دیا کہ اسے بھی اللہ تعالٰی ہی لائے گااگر وہ چاہے اور ہاں تم اسے ہرانے والے نہیں ہو۔ھود:۳۳فَلَمَّا دَخَلُوْا عَلٰي يُوْسُفَ اٰوٰٓى اِلَيْهِ اَبَوَيْهِ وَقَالَ ادْخُلُوْا مِصْرَ اِنْ شَاۗءَ اللّٰهُ اٰمِنِيْنَ 99؀ۭپھر جب (سب کے سب) یوسف کے پاس پہنچے تو اس نے اپنے والدین کو (عزت و احترام کے ساتھ) اپنے پاس جگہ دی اور کہا، ''کہاگر اللہ نے چاہا تو...

قراء توں کا اِختلاف اور منکرینِ حدیث

یہ ایک مسلّمہ اَمر ہے کہ قرآن مجید کی ایک سے زیادہ قراء تیں ثابت ہیں۔ لیکن اہلِ قرآن کہلانے والے منکرین حدیث ان اختلافِ قراء ات کو نہیں مانتے۔ وہ کہتے ہیں کہ قرآن کی صرف ایک ہی قراء ت ہے اور یہ کہ خود نبیﷺنے قرآن کو کتابی صورت میں مرتب اور مدوّن کیا اور اس پر اعراب و نقطے لگوائے تھے جبکہ یہ بات خلاف ِ واقعہ ہے۔جناب پرویز صاحب لکھتے ہیں:’’ہم سمجھتے ہیں کہ اس کے بعد ’اختلاف قراء ت‘ کے فتنہ کے متعلق کچھ سمجھنے کی ضرورت باقی نہیں رہتی‘‘(طلوع اسلام، ص۵۶، شمارہ جنوری ۱۹۸۲ء، لاہور)وہ مزید لکھتے ہیں :’’قرآن مجیدجس شکل میں ہمارے پاس موجود ہے اسے خود رسول اللہﷺنے اسی طرح مرتب اور مدوّن شکل میں اُمت کو دیا تھا۔‘‘(طلوع اسلام، ص۴۲، شمارہ جنوری۱۹۸۲ء، لاہور)اسی طرح ایک اور منکرِ حدیث رحمت اللہ طارق صاحب نے لکھا ہے :’’اختلاف قراء ت کا فتنہ ہی لے لیجئے جس کا مودودی صاحب جیسا شخص نہ صرف معترف اور معتقد ہے بلکہ سرگرم مبلغ اور پُرجوش ناشر ہے۔‘‘(اعجاز قرآن و اختلاف قراء ت، مرتبہ تمنا عمادی:۷۴۲) طارق صاحب نے مزید لکھا ہے :’’ لَوْ کَانَ مِنْ عِنْدِ غَیْرِ اﷲِ لَوَجَدُوْا فِیْہِ اخْتِلَافًا کَثِیْرًا ‘‘...

جمع قرآن اور اس کی تدوین

جمع قرآن اور اس کی تدوین جمع قرآن سے مراد قرآن کریم کا جمع کرنا۔ خواہ حفظ سے ہو یا کتابت سے یا تلاوت کی ریکارڈنگ سے۔ اور تدوین سے مراد اس کو کتابی صورت میں ترتیب دینا ہے۔ان سب مراحل کی ایک دل چسپ معلوماتی تاریخ ہے جسے ایک طالب علم کے لئے جاننا بہت اہم ہے۔تاکہ وہ آگاہ رہے کہ یہ مقدس کتاب کس طرح کن کن ادوار سے گذر کر محفوظ ترین صورت میں ہم تک پہنچی؟مقصد جمع قرآن: جمع قرآن کا مقصد یہی تھا کہ جس طرح قرآن مجید آپ ﷺ پر اترا ہے اور جس طرح آپ نے اسے پڑھا یا سکھایا ہے اسے لکھ کر محفوظ کرلیا جائے۔ یہ اللہ کا حکم تھا تاکہ مستقبل میں ممکنہ اختلاف جو قراءت یا اس کے الفاظ ، ترتیب اور لغت میں پیدا ہوسکتا ہے وہ نہ ہوسکے۔ اللہ تعالیٰ نے خود بھی اس کی حفاظت کی ذمہ داری لی مگر اس حفاظت کا کام صحابہ رسول اور امت کے قراء وحفاظ سے بھی لیا۔جمع قرآن کی دلیل: آپ ﷺ قرآن کی تنزیل میں سخت شدت محسوس کیا کرتے۔ اور اپنے ہونٹوں کو حرکت دیا کرتے تھے۔ جیسا کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت صحیحین میں ہے۔تو اللہ تعالیٰ نے ابتداء میں ہی یہ فرمادیا : {لَا تُحَرِّكْ بِہٖ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ...

عورت، اسلام کی نظر میں

عورت جاہلیت میں نہایت ذلیل وحقیر چیز تھی یہاں تک کہ اسلام آیا تو اس نے اسے ایسی عزت وتکریم بخشی جس کی کوئی نظیر نہیں۔ اس نے جاہلیت کے مظالم سے اسے نجات دی اور اس کے حقوق کا ضامن وکفیل ہوا۔ اس نے عورت کو بہت سی دینی واجبات اور ثواب وعقاب میں اسے مردوں کے مساوی قرار دیا۔ چنانچہ اسے اسلام میں بہت زیادہ عزت وتکریم ملی ۔ إن الحمد لله، نحمده, ونستعينه، ونستغفره، ونعوذ بالله من شرور أنفسنا وسيئات أعمالنا، من يهده الله فلا مضل له، ومن يضلل فلا هادى له، وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له، وأشهد أن محمداً عبده ورسوله،وقد قال اللہ تبارک وتعالی فی محکم تنزیلہ، أعوذ باللہ من الشیطان الرجیم: (مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّن ذَكَرٍ أَوْ أُنثَىٰ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهُ حَيَاةً طَيِّبَةً ۖ وَلَنَجْزِيَنَّهُمْ أَجْرَهُم بِأَحْسَنِ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ) (النحل: 97)"جو شخص نیک عمل کرے مرد ہو یا عورت، لیکن باایمان ہو تو ہم اسے یقیناً نہایت بہتر زندگی عطا فرمائیں گے۔ اور ان کے نیک اعمال کا بہتر بدلہ بھی انہیں ضرور ضرور دیں گے۔"وقال النبی صلی اللہ علیہ وسلم: )إنما النساء شقائ...

خیرخواہی وامانت داری

خیرخواہی وامانت داری خیر خواہی دین کی بنیاد ا ور اس کا جوہر ہے۔ دین دراصل خیر خواہی کا نام ہے۔ خیرخواہی اللہ کی، اس کے کتاب کی، اس کے رسول کی، مسلم ائمہ وحکمرانوں کی اور عامۃ المسلمین کی ہوتی ہے۔ پس جب ان تمام کے حق میں بندہ خیرخواہ ہوگا تو اس کا دین کامل ہوگا اور جس میں ان میں سے کسی کی خیرخواہی میں کمی و کوتاہی ہوگی تو اسی قدر اس کے دین میں نقص وکمی ہوگی۔ مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اپنی خیرخواہی میں امانت کو ملحوظ رکھے اور بغیر کسی مداہنت ومجاملت کے حق کو بیان کرے۔ یہی شخص اللہ کے نزدیک امین ہوگا۔ إن الحمد لله، نحمده ونستعينه ونستغفره، ونعوذ بالله من شرور أنفسنا، وسيئات أعمالنا، من يهده الله فلا مضل له، ومن يضلل فلا هادى له، وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له، وأشهد أن محمداً عبده ورسوله۔ أما بعد: فإن خیر الحدیث کتاب اللہ، وخیر الھدی ھدی محمد صلی اللہ علیہ وسلم، وشر الأمور محدثاتھا، وکل محدثۃ بدعۃ، وکل بدعۃ ضلالۃ، وکل ضلالۃ  فی النار۔  وقد قال اللہ تبارک وتعالی فی کتابہ المجید: (إِنَّ اللَّـهَ يَأْمُرُكُمْ أَن تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَىٰ أَهْلِهَا وَإِذَا حَ...