Skip to main content

کیا قراآن سمجھ کر پڑھنا ضروری ہے؟

ہم میں سے یقینااکثر لوگ اس بات سے ناواقف ہیں کہ تلاوتِ قرآن کا صحیح معنی کیا۔کیا صرف قرآن پڑھنے کا نام ہی تلاوت ہے ؟جی نہیں۔پڑھنے کے لیے عربی زبان میں ''قرا'' وغیرہ کے الفاظ آتے ہیں ،توپھر تلاوت کے کیا معنی ہوئے ؟اس سے پہلے اس بات کو ذہن نشین کر لیں کہ تلاوت کرنے میں جو شرط قرآن نے لگائی ہے وہ یہ ہے!
(اَلَّذِینَ آَتَیْنَاہُمُ الْکِتَابَ یَتْلُونَہُ حَقَّ تِلَاوَتِہِ أُولَئِکَ یُؤْمِنُونَ بِہِ)[البقرہ:١٢١]''وہ لوگ جنہیں ہم نے کتاب دی ہے وہ اس کتاب(قرآن) کی اس طرح تلاوت کرتے ہیں جس طرح اس کی تلاوت کا حق ہے ،ایسے لوگ ہی اس پر (صحیح معنوں میں) ایمان لاتے ہیں''
اس آیت میں ومنوں کی صفت'' تلاوت قرآن''میں حَقَّ تِلَاوَتِہِ کی شرط لگائی گئی ہے۔(یعنی تلاوت اس طرح جس طرح تلاوت کا حق ہے)اگر ہم لغت کی کتابوں کی طرف مراجعت کرتے ہیں اور اس کا معنی تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو ہمیں معلوم پڑتا ہے کہ تلاوت کا معنی:
تلاوت کے معنی میں پڑھنے کے ساتھ ''عمل کرنے کی نیت سے پڑھنا'' بھی شامل ہے۔گویاتلاوت کا معنی ہوا'' پڑھنا ،عمل کرنے کی نیت سے''۔[تہذیب االغۃ:ج٥ص٢١،لسان العرب ج١٤ص١٠٢،قاموس القرآن ص١٦٩]
''عمل کرنے کی نیت سے پڑھنے '' میں سب سے پہلی قابل ذکربات ترجمہ قرآن ہے۔کیونکہ دورانِ تلاوت جب ہمیں معلوم ہی نہیں کہ ہم کیا پڑھ رہے ہیں تو عمل کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا،لہٰذا ناظرہ قرآن کے بعدجو چیز وقت کی اہم ضرورت ہے وہ قرآن کریم کا ترجمہ پڑھناہے۔بلکہ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا کہ حفظ قرآن سے پہلے ترجمہ قرآن ضروری ہے۔ممکن ہے آپ میری اس بات سے اتفاق نہ کریں ،کیونکہ عوام میں حفظ قرآن کی فضلیت ترجمہ قرآن سے زیادہ ہے۔لیکن اگرہم اس بات کو ایک مثال سے سمجھیں تو بات دل کو لگتی ہے۔سب لوگ یہ جانتے ہیں کہ نماز کی اہمیت،فرضیت ،فضیلت اورفوائدوثمرات وضو سے زیادہ ہیں ۔لیکن اگر وضو کے بغیر نماز پڑھی جائے تو نماز نہ ہوگی ۔کیونکہ نماز کے لیے وضو شرط ہے ۔جب وضو ہی نہیں تو نماز جیسی اہم عبادت بھی مقبول نہیں ۔اسی طرح تلاوت قرآن میں ''عمل''شرط ہے،جو ظاہر ہے ہم عجمیوں کے لیے بغیر فہم کے ممکن نہیں ۔توثابت ہوا کہ جو لوگ بغیر سمجھے قرآن کو پڑھتے ہیں وہ اس کی تلاوت نہیں کرتے بلکہ اسے پڑھتے ہیں ،اور اگر تلاوت کرتے ہیں تو اس طرح نہیں کرتے جس طرح تلاوت کا حق ہے۔یہاں یہ سوال پید ا ہوتاہے کہ جو لوگ قرآن کو سمجھ کر نہیں پڑھتے تو کیا ان کو اس کا ثواب نہیں ملتا؟ میں یہ تو نہیں کہتا کہ جوشخص قرآن بغیر فہم کے پڑھے گا اسے اس کا ثواب نہیں ملے گا ،لیکن یہ ضرور کہوں گا کہ اگر صرف ثواب کی نیت سے ہی پڑھنا ہے تو ہمارے لیے سارے قرآن کی بجائے قرآن کا کچھ حصہ ہی کا فی ہے۔مثلاً صحیح بخاری کی ایک حدیث ہے:ثواب ہی ثواب لیکن!
((قَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِہِ أَیَعْجِزُ أَحَدُکُمْ أَنْ یَقْرَأَ ثُلُثَ الْقُرْآنِ فِی لَیْلَۃٍ فَشَقَّ ذَلِکَ عَلَیْہِمْ وَقَالُوا أَیُّنَا یُطِیقُ ذَلِکَ یَا رَسُولَ اللَّہِ فَقَالَ اللَّہُ الْوَاحِدُ الصَّمَدُ ثُلُثُ الْقُرْآنِ))[بخاری:کتاب فضائل القرآن ، رقم الکتاب:16،باب فضل قل ہو اللہ احد،رقم الباب:13رقم الحدیث5015]''نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ سے کہا کہ کیا تم میں سے کوئی شخص اس بات سے عاجز آگیا ہے کہ (رات سونے سے پہلے)ایک تہائی قرآن (دس پارے)پڑھے،انہوں (صحابہ )نے کہا اے اللہ کے رسول! ہم میں سے کون اس کی طاقت رکھتا ہے تو آپ نے فرمایاسورۃ اخلاص ایک تہائی قرآن(کے برابر)ہے۔''
ایک شخص ایک ماہ کی محنتِ شاقہ کے بعد قرآن کی تلاوت مکمل کرتاہے اور اس کے برعکس دوسر ا شخص صرف ایک منٹ سے بھی کم وقت میں پوراقرآن پڑھنے کا ثواب حاصل کرسکتا ہے(سورۃ اخلاص تین دفعہ پڑھ کہ)تو پھر پورے قرآن کی نسبت ثواب کے معاملے میں سورۃ اخلاص زیادہ قدرومنزلت کی حامل ہے۔لیکن میری اس بات پر کوئی فرد بھی اتفاق نہیں کرے گا کہ امت مسلمہ کے لیے پورے قرآن کی نسبت صرف سورۃ اخلاص ہی کافی ہے۔لہٰذا قرآن کی تلاوت اسی وقت اپنے پایہ تکمیل تک پہنچے کی جب پڑھنے کے ساتھ ساتھ ہمیں اس کے معانی معلوم ہوں گے۔یہاں ہم استدلال کے کے لیے ایک قرآنی آیت اورحدیث رقمطراز ہیں جس سے فہم قرآن کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔اللہ کا فرمان تدبر قرآن:
(أَفَلَا یَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآَنَ أَمْ عَلَی قُلُوبٍ أَقْفَالُہَا )[محمد:٢٤]''کیا وہ لوگ قرآن پر تدبر نہیں کرتے ؟یا ان کے دلوں پر تالے لگے ہوئے ہیں۔''
گمراہ لوگوں کی تلاوت :
((یَتْلُونَ کِتَابَ اللَّہِ رَطْبًا لَا یُجَاوِزُ حَنَاجِرَہُمْ یَمْرُقُونَ مِنْ الدِّینِ کَمَا یَمْرُقُ السَّہْمُ مِنْ الرَّمِیَّۃِ))[بخاری:کتاب المغازی،رقم الکتاب:64رقم الباب:61رقم الحدیث:4351]''(ایک قوم ایسی ہوگی)وہ اللہ کی کتاب کو بڑی خوبصورت آواز میں پڑھے گے لیکن وہ(قرآن) ان کے حلقوں سے نیچے نہیں اترے گا ۔وہ دین سے ا س طرح نکل جائیں جس طرح تیر کمان سے۔''
ہمیں اس مشابہت سے اپنے آپ کو بچانا چاہیے۔کیا قرآن کا مقصد صرف محفلوں کو سجانا تھا؟کیا قرآن کا نزول صرف قسمیں اٹھانے کے لیے ہے؟کیا قرآن کوماننے والوں کا یہ حال ہوتاہے ،جو اس وقت امت مسلمہ کا ہے؟کیا قرآن صرف ایک لازاول،بے مثال،بے نظیر اور لاثانی کتاب ہی ہے؟کیا قرآن کا محفوظ ترین ہونا صرف ایک معجزہ کے لیے ؟کیا بغیر سمجھے پڑھنےقرآن کا حق ادا ہوجاتاہے؟اگر ان سوالوں کا جواب حقیقت کی زبانی دیا جائے تویقینا'' نہیں''ہے ۔میں اپنی بات کا اختتام رسول اکرمصلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث پر کرنا چاہوں گا:
((إِنَّ اللَّہَ یَرْفَعُ بِہَذَا الْکِتَابِ أَقْوَامًا وَیَضَعُ بِہِ آخَرِینَ))[صحیح مسلم:کتاب صلاۃ المسافرین،رقم الکتاب:7،رقم الباب47،رقم الحدیث:1934]
''بے شک اللہ اس کتاب (قرآن)کے ذریعےقوموں کو ترقی دیتے ہیں اوردوسروں(اس پر عمل نہ کرنے والوں) کو تنزلی کا سامنا کرنا پڑتاہے۔''
اللہ ہمیں قرآن سمجھ کر اس پر عمل کرنے کی توفیق عطافرمائے۔آمینوما توفیقی الا باللّٰہ آپ کے خیال میں کتنے فیصد لوگ قرآن مجید سمجھ کر پڑھتے ہیں؟جواب ضرور دیجیے۔

Comments

Popular posts from this blog

Yusufzai (Pashtun tribe)

The  Yūsufzai  (also  Youssofzay ,  Yousefzai ,  Yousafzai ,  Esapzey ,  Yousufi , or  Yūsufi ) (Pashto:  يوسفزی ,Persian and Urdu:  یوسف زئی ) is one of the largest Pashtun (Afghans) tribes. The majority of the Yusufzai tribe reside in parts of Western Afghanistan, Khyber Pakhtunkhwa and Provincially Administered Tribal Areas near the Afghan-Pakistan border. They are the predominant population in the districts of Konar, Ningarhar, Mardan District, Dir, Swat,Malakand, Swabi, Buner, Shangla, Haripur District [Khalabat Town Ship and Tarbela] and in Mansehra and Battagram. There is also a Yusufzai clan of Dehwar tribe in the Mastung district of Balochistan who speak Persian with some mixture of Birahvi words. The descendants of Yusuf inhabit Konar, Jalalabad, Swat, Upper Dir, Lower Dir, Malakand Swabi and Mardan...

"Dalda ka Dastarkhwan January 2012

    Click Here To Download

یہودی پروٹوکولز

Online Read یہودی پروٹوکولز ============================================== Online Read E Book یہودی پروٹوکولز ============================================== Download Free یہودی پروٹوکولز ---------------------------------------------------- Download Free یہودی پروٹوکولز ----------------------------------------------------

Titliyan Phool aur Khushboo by Rahat Jabeen

Click Here To Download Titliyan Phool aur Khushboo

Mawlana Muhammad Sarfraz Khan Safdar (r.a) by Abu Asim Badrul Islam

Read Online (0.6 M) SMALL BIOGRAPHY OF SHAYKH SARFRAZ KHAN SAFDAR (R.A) IN ENGLISH. By Abu Asim Badrul Islam

وہ ہم میں سے نہیں

بسم اللہ الرحمن الرحیم آج میں آپ سب ساتھیوں کے لیئے وہ احادیث پیش کرنے جا رہا ہوں جن میں نبیﷺ کا ارشاد مبارک ہے کہ ایسا ایسا کام کرنے والے ہم میں سے نہیں ہیں، اس فقرے کی مراد مختلف علماء اور محدثین نے مختلف پیش کی ہے بعض نے کہا کہ اس سے مراد یہ ہے کہ وہ ہم اہل بیت میں سے نہیں ہیں، بعض نے کہا اس سے مراد مسلمانوں میں سے نہیں ہے، بعض نے کہا کہ ہمارے طریقے پر نہیں ہے اور بعض نے کہا کہ وہ ہماری جماعت میں سے نہیں ہے، اب ان مفاہیم میں سے کوئی بھی فہم لیا جائے تو بھی بہت خطرناک معاملہ بنتا ہے اس لیئے بھائیو اور بہنو اپنی اپنی اصلاح کی طرف توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے کہ ان سبھی برُے کاموں میں سے کوئی ایک کام بھی ہمارے اعمال میں موجود نہیں رہنا چاہیئے کہ کہیں اس ارشادِ نبویﷺ کی زَد میں ہماری ذات نہ آ جائے کہ وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ ویسے جہاں تک میں اس کو سمجھا ہوں وہ یہ ہے کہ ہر موقعہ پر اس کا معنی اور مفہوم بدل جاتا ہے یعنی جہاں معاملہ سنگین ہو وہاں اس کا معنی بھی سنگین ہوگا یعنی وہ ہم مسلمانوں میں سے نہیں ہے اور جہاں معاملہ ہلکی نوعیت کا ہوگا وہاں معنی بھی ہلکا ہوگا یعنی وہ ہمار...

EXPLAINING THE FUNDAMENTALS OF FAITH

Mystery Digest January 2012

Click Here To Download Mystery Digest January 2012

Hajj Guide Free 1 double sided page

Title: Hajj Guide Free 1 double sided page Author: The Islamic Bulletin Category: Hajj (Pilgrimage) ‘The Islamic Bulletin’ Resources Filetype: pdf Filesize: 266 KB Description: This guide fits on one page so it is possible to fold and fit in a wallet or purse and take to the Hajj. It is available in Arabic, English, Farsi , French, German, Indonesian, Italian, Spanish, Turkish, and Urdu.     

جمع قرآن اور اس کی تدوین

جمع قرآن اور اس کی تدوین جمع قرآن سے مراد قرآن کریم کا جمع کرنا۔ خواہ حفظ سے ہو یا کتابت سے یا تلاوت کی ریکارڈنگ سے۔ اور تدوین سے مراد اس کو کتابی صورت میں ترتیب دینا ہے۔ان سب مراحل کی ایک دل چسپ معلوماتی تاریخ ہے جسے ایک طالب علم کے لئے جاننا بہت اہم ہے۔تاکہ وہ آگاہ رہے کہ یہ مقدس کتاب کس طرح کن کن ادوار سے گذر کر محفوظ ترین صورت میں ہم تک پہنچی؟مقصد جمع قرآن: جمع قرآن کا مقصد یہی تھا کہ جس طرح قرآن مجید آپ ﷺ پر اترا ہے اور جس طرح آپ نے اسے پڑھا یا سکھایا ہے اسے لکھ کر محفوظ کرلیا جائے۔ یہ اللہ کا حکم تھا تاکہ مستقبل میں ممکنہ اختلاف جو قراءت یا اس کے الفاظ ، ترتیب اور لغت میں پیدا ہوسکتا ہے وہ نہ ہوسکے۔ اللہ تعالیٰ نے خود بھی اس کی حفاظت کی ذمہ داری لی مگر اس حفاظت کا کام صحابہ رسول اور امت کے قراء وحفاظ سے بھی لیا۔جمع قرآن کی دلیل: آپ ﷺ قرآن کی تنزیل میں سخت شدت محسوس کیا کرتے۔ اور اپنے ہونٹوں کو حرکت دیا کرتے تھے۔ جیسا کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت صحیحین میں ہے۔تو اللہ تعالیٰ نے ابتداء میں ہی یہ فرمادیا : {لَا تُحَرِّكْ بِہٖ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ...