Skip to main content

کیا قراآن سمجھ کر پڑھنا ضروری ہے؟

ہم میں سے یقینااکثر لوگ اس بات سے ناواقف ہیں کہ تلاوتِ قرآن کا صحیح معنی کیا۔کیا صرف قرآن پڑھنے کا نام ہی تلاوت ہے ؟جی نہیں۔پڑھنے کے لیے عربی زبان میں ''قرا'' وغیرہ کے الفاظ آتے ہیں ،توپھر تلاوت کے کیا معنی ہوئے ؟اس سے پہلے اس بات کو ذہن نشین کر لیں کہ تلاوت کرنے میں جو شرط قرآن نے لگائی ہے وہ یہ ہے!
(اَلَّذِینَ آَتَیْنَاہُمُ الْکِتَابَ یَتْلُونَہُ حَقَّ تِلَاوَتِہِ أُولَئِکَ یُؤْمِنُونَ بِہِ)[البقرہ:١٢١]''وہ لوگ جنہیں ہم نے کتاب دی ہے وہ اس کتاب(قرآن) کی اس طرح تلاوت کرتے ہیں جس طرح اس کی تلاوت کا حق ہے ،ایسے لوگ ہی اس پر (صحیح معنوں میں) ایمان لاتے ہیں''
اس آیت میں ومنوں کی صفت'' تلاوت قرآن''میں حَقَّ تِلَاوَتِہِ کی شرط لگائی گئی ہے۔(یعنی تلاوت اس طرح جس طرح تلاوت کا حق ہے)اگر ہم لغت کی کتابوں کی طرف مراجعت کرتے ہیں اور اس کا معنی تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو ہمیں معلوم پڑتا ہے کہ تلاوت کا معنی:
تلاوت کے معنی میں پڑھنے کے ساتھ ''عمل کرنے کی نیت سے پڑھنا'' بھی شامل ہے۔گویاتلاوت کا معنی ہوا'' پڑھنا ،عمل کرنے کی نیت سے''۔[تہذیب االغۃ:ج٥ص٢١،لسان العرب ج١٤ص١٠٢،قاموس القرآن ص١٦٩]
''عمل کرنے کی نیت سے پڑھنے '' میں سب سے پہلی قابل ذکربات ترجمہ قرآن ہے۔کیونکہ دورانِ تلاوت جب ہمیں معلوم ہی نہیں کہ ہم کیا پڑھ رہے ہیں تو عمل کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا،لہٰذا ناظرہ قرآن کے بعدجو چیز وقت کی اہم ضرورت ہے وہ قرآن کریم کا ترجمہ پڑھناہے۔بلکہ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا کہ حفظ قرآن سے پہلے ترجمہ قرآن ضروری ہے۔ممکن ہے آپ میری اس بات سے اتفاق نہ کریں ،کیونکہ عوام میں حفظ قرآن کی فضلیت ترجمہ قرآن سے زیادہ ہے۔لیکن اگرہم اس بات کو ایک مثال سے سمجھیں تو بات دل کو لگتی ہے۔سب لوگ یہ جانتے ہیں کہ نماز کی اہمیت،فرضیت ،فضیلت اورفوائدوثمرات وضو سے زیادہ ہیں ۔لیکن اگر وضو کے بغیر نماز پڑھی جائے تو نماز نہ ہوگی ۔کیونکہ نماز کے لیے وضو شرط ہے ۔جب وضو ہی نہیں تو نماز جیسی اہم عبادت بھی مقبول نہیں ۔اسی طرح تلاوت قرآن میں ''عمل''شرط ہے،جو ظاہر ہے ہم عجمیوں کے لیے بغیر فہم کے ممکن نہیں ۔توثابت ہوا کہ جو لوگ بغیر سمجھے قرآن کو پڑھتے ہیں وہ اس کی تلاوت نہیں کرتے بلکہ اسے پڑھتے ہیں ،اور اگر تلاوت کرتے ہیں تو اس طرح نہیں کرتے جس طرح تلاوت کا حق ہے۔یہاں یہ سوال پید ا ہوتاہے کہ جو لوگ قرآن کو سمجھ کر نہیں پڑھتے تو کیا ان کو اس کا ثواب نہیں ملتا؟ میں یہ تو نہیں کہتا کہ جوشخص قرآن بغیر فہم کے پڑھے گا اسے اس کا ثواب نہیں ملے گا ،لیکن یہ ضرور کہوں گا کہ اگر صرف ثواب کی نیت سے ہی پڑھنا ہے تو ہمارے لیے سارے قرآن کی بجائے قرآن کا کچھ حصہ ہی کا فی ہے۔مثلاً صحیح بخاری کی ایک حدیث ہے:ثواب ہی ثواب لیکن!
((قَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِہِ أَیَعْجِزُ أَحَدُکُمْ أَنْ یَقْرَأَ ثُلُثَ الْقُرْآنِ فِی لَیْلَۃٍ فَشَقَّ ذَلِکَ عَلَیْہِمْ وَقَالُوا أَیُّنَا یُطِیقُ ذَلِکَ یَا رَسُولَ اللَّہِ فَقَالَ اللَّہُ الْوَاحِدُ الصَّمَدُ ثُلُثُ الْقُرْآنِ))[بخاری:کتاب فضائل القرآن ، رقم الکتاب:16،باب فضل قل ہو اللہ احد،رقم الباب:13رقم الحدیث5015]''نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ سے کہا کہ کیا تم میں سے کوئی شخص اس بات سے عاجز آگیا ہے کہ (رات سونے سے پہلے)ایک تہائی قرآن (دس پارے)پڑھے،انہوں (صحابہ )نے کہا اے اللہ کے رسول! ہم میں سے کون اس کی طاقت رکھتا ہے تو آپ نے فرمایاسورۃ اخلاص ایک تہائی قرآن(کے برابر)ہے۔''
ایک شخص ایک ماہ کی محنتِ شاقہ کے بعد قرآن کی تلاوت مکمل کرتاہے اور اس کے برعکس دوسر ا شخص صرف ایک منٹ سے بھی کم وقت میں پوراقرآن پڑھنے کا ثواب حاصل کرسکتا ہے(سورۃ اخلاص تین دفعہ پڑھ کہ)تو پھر پورے قرآن کی نسبت ثواب کے معاملے میں سورۃ اخلاص زیادہ قدرومنزلت کی حامل ہے۔لیکن میری اس بات پر کوئی فرد بھی اتفاق نہیں کرے گا کہ امت مسلمہ کے لیے پورے قرآن کی نسبت صرف سورۃ اخلاص ہی کافی ہے۔لہٰذا قرآن کی تلاوت اسی وقت اپنے پایہ تکمیل تک پہنچے کی جب پڑھنے کے ساتھ ساتھ ہمیں اس کے معانی معلوم ہوں گے۔یہاں ہم استدلال کے کے لیے ایک قرآنی آیت اورحدیث رقمطراز ہیں جس سے فہم قرآن کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔اللہ کا فرمان تدبر قرآن:
(أَفَلَا یَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآَنَ أَمْ عَلَی قُلُوبٍ أَقْفَالُہَا )[محمد:٢٤]''کیا وہ لوگ قرآن پر تدبر نہیں کرتے ؟یا ان کے دلوں پر تالے لگے ہوئے ہیں۔''
گمراہ لوگوں کی تلاوت :
((یَتْلُونَ کِتَابَ اللَّہِ رَطْبًا لَا یُجَاوِزُ حَنَاجِرَہُمْ یَمْرُقُونَ مِنْ الدِّینِ کَمَا یَمْرُقُ السَّہْمُ مِنْ الرَّمِیَّۃِ))[بخاری:کتاب المغازی،رقم الکتاب:64رقم الباب:61رقم الحدیث:4351]''(ایک قوم ایسی ہوگی)وہ اللہ کی کتاب کو بڑی خوبصورت آواز میں پڑھے گے لیکن وہ(قرآن) ان کے حلقوں سے نیچے نہیں اترے گا ۔وہ دین سے ا س طرح نکل جائیں جس طرح تیر کمان سے۔''
ہمیں اس مشابہت سے اپنے آپ کو بچانا چاہیے۔کیا قرآن کا مقصد صرف محفلوں کو سجانا تھا؟کیا قرآن کا نزول صرف قسمیں اٹھانے کے لیے ہے؟کیا قرآن کوماننے والوں کا یہ حال ہوتاہے ،جو اس وقت امت مسلمہ کا ہے؟کیا قرآن صرف ایک لازاول،بے مثال،بے نظیر اور لاثانی کتاب ہی ہے؟کیا قرآن کا محفوظ ترین ہونا صرف ایک معجزہ کے لیے ؟کیا بغیر سمجھے پڑھنےقرآن کا حق ادا ہوجاتاہے؟اگر ان سوالوں کا جواب حقیقت کی زبانی دیا جائے تویقینا'' نہیں''ہے ۔میں اپنی بات کا اختتام رسول اکرمصلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث پر کرنا چاہوں گا:
((إِنَّ اللَّہَ یَرْفَعُ بِہَذَا الْکِتَابِ أَقْوَامًا وَیَضَعُ بِہِ آخَرِینَ))[صحیح مسلم:کتاب صلاۃ المسافرین،رقم الکتاب:7،رقم الباب47،رقم الحدیث:1934]
''بے شک اللہ اس کتاب (قرآن)کے ذریعےقوموں کو ترقی دیتے ہیں اوردوسروں(اس پر عمل نہ کرنے والوں) کو تنزلی کا سامنا کرنا پڑتاہے۔''
اللہ ہمیں قرآن سمجھ کر اس پر عمل کرنے کی توفیق عطافرمائے۔آمینوما توفیقی الا باللّٰہ آپ کے خیال میں کتنے فیصد لوگ قرآن مجید سمجھ کر پڑھتے ہیں؟جواب ضرور دیجیے۔

Comments

Popular posts from this blog

Yusufzai (Pashtun tribe)

The  Yūsufzai  (also  Youssofzay ,  Yousefzai ,  Yousafzai ,  Esapzey ,  Yousufi , or  Yūsufi ) (Pashto:  يوسفزی ,Persian and Urdu:  یوسف زئی ) is one of the largest Pashtun (Afghans) tribes. The majority of the Yusufzai tribe reside in parts of Western Afghanistan, Khyber Pakhtunkhwa and Provincially Administered Tribal Areas near the Afghan-Pakistan border. They are the predominant population in the districts of Konar, Ningarhar, Mardan District, Dir, Swat,Malakand, Swabi, Buner, Shangla, Haripur District [Khalabat Town Ship and Tarbela] and in Mansehra and Battagram. There is also a Yusufzai clan of Dehwar tribe in the Mastung district of Balochistan who speak Persian with some mixture of Birahvi words. The descendants of Yusuf inhabit Konar, Jalalabad, Swat, Upper Dir, Lower Dir, Malakand Swabi and Mardan...

قرآن حکیم کے نازل ہونے کی کیا غرض ہے

سورہ آلِ عمران هَـٰذَا بَيَانٌ لِّلنَّاسِ وَهُدًى وَمَوْعِظَةٌ لِّلْمُتَّقِينَ ﴿١٣٨﴾ یہ (قرآن) لوگوں کے لیے بیان صریح اور اہلِ تقویٰ کے لیے ہدایت اور نصیحت ہے۔ سورہ المآئدۃ يَا أَهْلَ الْكِتَابِ قَدْ جَاءَكُمْ رَسُولُنَا يُبَيِّنُ لَكُمْ كَثِيرًا مِّمَّا كُنتُمْ تُخْفُونَ مِنَ الْكِتَابِ وَيَعْفُو عَن كَثِيرٍ ۚ قَدْ جَاءَكُم مِّنَ اللَّـهِ نُورٌ وَكِتَابٌ مُّبِينٌ ﴿١٥﴾هْدِي بِهِ اللَّـهُ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَهُ سُبُلَ السَّلَامِ وَيُخْرِجُهُم مِّنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ بِإِذْنِهِ وَيَهْدِيهِمْ إِلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ ﴿١٦﴾  اے اہل کتاب! تمہارے پاس ہمارے پیغمبر (آخرالزماں) آ گئے ہیں کہ جو کچھ تم کتاب (الہٰی) میں سے چھپاتے تھے وہ اس میں سے بہت کچھ تمہیں کھول کھول کر بتا دیتے ہیں اور تمہارے بہت سے قصور معاف کر دیتے ہیں بےشک تمہارے پاس خدا کی طرف سے نور اور روشن کتاب آ چکی ہے۔جس سے خدا اپنی رضا پر چلنے والوں کو نجات کے رستے دکھاتا ہے اور اپنے حکم سے اندھیرے میں سے نکال کر روشنی کی طرف لے جاتا اور ان کو سیدھے رستہ پر چلاتا ہے۔ وَكَتَبْنَا عَلَيْه...

یہودی پروٹوکولز

Online Read یہودی پروٹوکولز ============================================== Online Read E Book یہودی پروٹوکولز ============================================== Download Free یہودی پروٹوکولز ---------------------------------------------------- Download Free یہودی پروٹوکولز ----------------------------------------------------

جمع عثمانی رِوایات کے آئینے میں

نبی مکرمﷺ کی حدیث مبارکہ ’’خَیْرُ النَّاسِ قَرْنِيْ ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَھُمْ ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَھُمْ‘‘۔(صحیح البخاري: ۲۶۵۲) پر جب نظر پڑتی ہے تو سر احسان و نیازمندی کے ملے جلے تاثر ات سے جھک جاتا ہے کہ واقعتا آپﷺ، صحابہ رضی اللہ عنہم اور تابعین رحمہم اللہ کا زمانہ خیر القرون تھا، کیونکہ اس میں بنی نوع اِنسان کی راہ روی اور اسلام کی سربلندی کے لیے وہ محنتیں اور کوششیں ہوئی ہیں کہ جس کی مثال آئندہ جمیع قرون میں پیش کرنا مشکل ہے۔ یقینا وہ لوگ اس قابل تھے کہ اُنہیں یہ ذمہ داری سونپی جاتی کہ وہ دینِ الٰہی اور شرع اللہ کو اپنی مکمل تشریحات کے ساتھ آئندہ نسلوں تک منتقل کریں، بلا شبہ وہ طائفہ فائزہ اپنے اس مقصد میں بامراد ہوا ہے۔ان جملہ ذمہ داریوں میں سے اَہم ترین ذمہ داری یہ تھی کہ ہدایت سماوی کے آخری ربانی صحیفہ کو محفوظ اور غیر متبدل شکل میں ہم تک پہنچایا جائے۔ ہمارا یہ قطعی ایمان ہے کہ وہ پیام اَیزدی آج اپنی سو فیصد اَصلی اور حقیقی شکل میں ہمارے درمیان موجود ہے۔ الحمد ﷲ علی ذلک۔اِس سلسلہ میں خیرالقرون میں جو سب سے اَہم کام ہوا ہے وہ سیدنا عثمان ذوالنورین رضی ال...

ان شاءاللہ لکھنے میں غلطی کرنا

بسم اللہ الرحمن الرحیم السلام علیکم ورحمتہ اللہ آ پ لوگوں نے اکثر کتابوں میں لفظ ان شاءاللہ کو اس طرح لکھا ہوا پڑھاہوگا انشاءاللہ اور جب کہ اس طرح لکھنے سے اس کا معنی بدل جاتا ہے۔ لفظ ان شاءاللہ کے اردو میں معنی بنتا ہے اگر اللہ نے چاہا اور جب کہ انشاء عربی میں کسی چیز کو بنانے کو کہتے ہیں اس طرح انشاءاللہ کے معنی بہت غلط بن جاتے ہیں ۔ہم لوگ عربی زبان سے واقفیت نہ رکھنے کی وجہ سے ایسی غلطیاں کر جاتے ہیں اللہ ہمیں معاف فرمائے آمین۔اللہ کا ارشاد ہے کہاِنَّآ اَنْشَاْنٰهُنَّ اِنْشَاۗءً 35۝ۙہم نے ان (کی بیویوں کو) خاص طور پر بنایا ہے۔الواقعہ:۳۵قَالَ اِنَّمَا يَاْتِيْكُمْ بِهِ اللّٰهُ اِنْ شَاۗءَ وَمَآ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِيْنَ 33 ؀جواب دیا کہ اسے بھی اللہ تعالٰی ہی لائے گااگر وہ چاہے اور ہاں تم اسے ہرانے والے نہیں ہو۔ھود:۳۳فَلَمَّا دَخَلُوْا عَلٰي يُوْسُفَ اٰوٰٓى اِلَيْهِ اَبَوَيْهِ وَقَالَ ادْخُلُوْا مِصْرَ اِنْ شَاۗءَ اللّٰهُ اٰمِنِيْنَ 99؀ۭپھر جب (سب کے سب) یوسف کے پاس پہنچے تو اس نے اپنے والدین کو (عزت و احترام کے ساتھ) اپنے پاس جگہ دی اور کہا، ''کہاگر اللہ نے چاہا تو...

دین اسلام میں رسول اللہ ﷺ کی اطاعت فرض ہے

بسم اللہ الرحمن الرحیم دین اسلام میں رسول اللہ ﷺ کی اطاعت فرض ہے يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ أَطِيعُوا۟ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ وَلَا تَوَلَّوْا۟ عَنْهُ وَأَنتُمْ تَسْمَعُونَ ﴿20﴾ترجمہ: اے ایمان والو الله اور اس کے رسول کا حکم مانو اور سن کر اس سے مت پھرو(سورۃ الانفال،آیت20) قُلْ أَطِيعُوا۟ ٱللَّهَ وَأَطِيعُوا۟ ٱلرَّسُولَ ۖ فَإِن تَوَلَّوْا۟ فَإِنَّمَا عَلَيْهِ مَا حُمِّلَ وَعَلَيْكُم مَّا حُمِّلْتُمْ ۖ وَإِن تُطِيعُوهُ تَهْتَدُوا۟ ۚ وَمَا عَلَى ٱلرَّسُولِ إِلَّا ٱلْبَلَٰغُ ٱلْمُبِينُ﴿56﴾ترجمہ: کہہ دو الله اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرو پھر اگر منہ پھیرو گے تو پیغمبر تو وہی ہے جس کا وہ ذمہ دار ہے اورتم پر وہ ہے جو تمہارے ذمہ لازم کیا گیا ہے اور اگر اس کی فرمانبرداری کرو گے تو ہدایت پاؤ گے اور رسول کے ذمہ صرف صاف طور پر پہنچا دینا ہے (سورۃ النور،آیت 56) مَّن يُطِعِ ٱلرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ ٱللَّهَ ۖ وَمَن تَوَلَّىٰ فَمَآ أَرْسَلْنَٰكَ عَلَيْهِمْ حَفِيظًۭا ﴿80﴾ترجمہ: جو شخص رسول کی فرمانبرداری کرے گا تو بےشک اس نے اللہ کی فرمانبرداری کی اور جو نافرمانی کرے گا تو اے ...

اللہ تعالیٰ کے حقوق

بسم اللہ الرحمن الرحیم اللہ تعالیٰ کے حقوق اللہ تعالیٰ کا حق تمام حقوق سے زیادہ ضروری ہے اور سب سے اہم ہے۔کیونکہ وہ اس کائنات کا خالق و مالک اور تمام تر امور کی تدبیر کرنے والا ہے۔وہ زندہ جاوید ہستی ہے جو تمام کائنات کا نطام سنبھالے ہوئے ہے،اس نے ہر چیز کو پیدا کیا اور اپنی حکمت بالغہ سے اس کا اندازہ کیا۔انسان کو اشرف المخلوقات بنایا ،پھر انسان کو اپنے احسانات یاد کرائے کہ اے انسان !تجھ پر اس ذات کا حق ہے جس نے نعمتوں کے ساتھ تیری پرورش کی۔تو اپنی ماں کے پیٹ میں تین طرح کے اندھیروں میں تھا۔جہاں مخلوقات میں کوئی بھی تجھے غذا یا ایسی اشیاء نہیں پہنچا سکتا تھا جو تیری افزائش اور زندگی کو قائم رکھنے والی ہوں۔اس نے ماں کی چھاتیوں میں وافر دودھ اتارا،تجھے اس کی راہ دکھلائی اور تیرے والدین کو تیرا محسن بنا دیا۔تیری امداد کی اور تجھے کامیاب کیا۔ارشاد باری تعالیٰ ہے: وَٱللَّهُ أَخْرَجَكُم مِّنۢ بُطُونِ أُمَّهَٰتِكُمْ لَا تَعْلَمُونَ شَيْا وَجَعَلَ لَكُمُ ٱلسَّمْعَ وَٱلْأَبْصَٰرَ وَٱلْأَفْدَةَ ۙ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ ﴿78﴾ ترجمہ: اور اللہ ہی نے تم کو تمہاری ماؤں کے شکم سے پیدا کیا کہ...

جمع قرآن اور اس کی تدوین

جمع قرآن اور اس کی تدوین جمع قرآن سے مراد قرآن کریم کا جمع کرنا۔ خواہ حفظ سے ہو یا کتابت سے یا تلاوت کی ریکارڈنگ سے۔ اور تدوین سے مراد اس کو کتابی صورت میں ترتیب دینا ہے۔ان سب مراحل کی ایک دل چسپ معلوماتی تاریخ ہے جسے ایک طالب علم کے لئے جاننا بہت اہم ہے۔تاکہ وہ آگاہ رہے کہ یہ مقدس کتاب کس طرح کن کن ادوار سے گذر کر محفوظ ترین صورت میں ہم تک پہنچی؟مقصد جمع قرآن: جمع قرآن کا مقصد یہی تھا کہ جس طرح قرآن مجید آپ ﷺ پر اترا ہے اور جس طرح آپ نے اسے پڑھا یا سکھایا ہے اسے لکھ کر محفوظ کرلیا جائے۔ یہ اللہ کا حکم تھا تاکہ مستقبل میں ممکنہ اختلاف جو قراءت یا اس کے الفاظ ، ترتیب اور لغت میں پیدا ہوسکتا ہے وہ نہ ہوسکے۔ اللہ تعالیٰ نے خود بھی اس کی حفاظت کی ذمہ داری لی مگر اس حفاظت کا کام صحابہ رسول اور امت کے قراء وحفاظ سے بھی لیا۔جمع قرآن کی دلیل: آپ ﷺ قرآن کی تنزیل میں سخت شدت محسوس کیا کرتے۔ اور اپنے ہونٹوں کو حرکت دیا کرتے تھے۔ جیسا کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت صحیحین میں ہے۔تو اللہ تعالیٰ نے ابتداء میں ہی یہ فرمادیا : {لَا تُحَرِّكْ بِہٖ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ...

دعا؛ اہمیت ، آداب اور قبولیت کی شرطیں

مخلوق جلبِ منفعت اور اپنے دین ودنیا کی اصلاح کے لیے اپنے رب کی محتاج ہے۔ بندہ ان آزمائشوں سے جو اس پر نازل ہوتی ہیں اور جو اسے ہمیشہ کے لیے اپنے رب کا محتاج بناتی ہیں بچ نہیں سکتا ہے۔ اسی وجہ سے اللہ نے اس کے لیے دعا کرنے کو مشروع قرار دیا ہے۔ اور اس کے لیے آداب وشروط اور مستحب اوقات مقرر کر دیے ہیں۔ ان وقتوں میں دعا قبولیت کے زیادہ قریب ہوتی ہے۔ الحمد للہ کفی وسلام علی عبادہ الذین اصطفی أمابعد!معزز برادرانِ  اسلام!انسان جب رحم مادر میں نطفہ کی شکل میں قرار پاتا ہے اسی وقت سے وہ حاجتوں اور ضرورتوں کا غلام بن جاتا ہے اور اس کی ضرورتوں اور حاجتوں کا یہ لامتناہی سلسلہ   اس کی زندگی  کی آخری سانس تک ختم  نہیں ہوتا۔ وہ مرنے کے بعد بھی دوسروں  کا محتاج  ہوتاہے۔ اس  کی محتاجی اور ضرورت مندی  کبھی ختم  نہیں  ہوتی۔  ویسے تو انسان دنیا میں آنے کے بعد قدم قدم پر  اپنے ہی  جیسے  دوسرے  انسانوں کا بھی ضرورت مند ہوتا ہے؛ لیکن  سب سے زیادہ  ضرورت  مندوہ  اپنے خالق  حقیقی  کا ہوتا ہے۔ ...

گستاخ رسول کی سزااورحکومت وقت کی ذمہ داری

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ: ”الہدیٰ انٹرنیشنل“ ایک دینی ادارہ کہلاتا ہے، کیا اس ادارے والے صحیح المسلک اور متبع سنت ہیں یا نہیں ؟یہاں تعلیم حاصل کرنے والی چند خواتین جوکہ قرآن کریم کی تجوید درست کرنے یا علم دین حاصل کرنے کی طلب میں ان مدارس میں گئیں‘ لیکن وہاں چند ایسے مسائل سامنے آئے کہ عجیب تذبذب اور پریشانی کا شکار ہوگئیں‘ آپ سے درخواست ہے کہ کافی شافی اور تفصیلی جواب عنایت فرمایئے اور امت مسلمہ کے تذبذب کو دور فرمایئے اور گمراہی سے بچایئے ۔ اسی طرح پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ایک شہر میں لڑکیوں کا ایک مدرسہ ہے‘ جس کی صدر مدرسہ یا منتظمہ ایک خاتون ہیں ‘یہ خاتون غیر شادی شدہ ہیں۔ نیز یہ جامعہ‘ صرف بنات کا ہے۔ یہاں کا سارا نظام موصوفہ یا یہیں کی تعلیم یافتہ چند خواتین سنبھالتی ہیں‘ یہ بھی غیر شادی شدہ ہیں۔ مقصد یہ ہے کہ یہاں کی انتظامیہ میں کسی مرد کاکوئی عمل دخل نہیں ہے اور جس طرح یہ تمام خواتین غیر شادی شدہ ہیں۔ اسی طرح یہاں کی تمام طالبات بھی غیر شادی شدہ ہیں۔ اگر کسی طالبہ کے بارے میں یہ علم ہوجائے کہ یہ شادی شدہ ہے تو اسے خارج کردیا جاتاہے او...