Skip to main content

تعلیم قرآن



تعلیم: علم الصرف میںلفظ تعلیم ، تفعیل کے وزن پر ہے۔ جس کی خصوصیت میں تصییر(ہوجانا، بنانا) کا معنی ہوتا ہے۔ جیسے: وَتَّرَ القَوْسَ۔ اس نے کمان کو زرہ دار بنایا۔اسی طرح تعلیم کا معنی ہوگا کہ بتدریج مگر تسلسل کے ساتھ کسی کو علم کی روشنی سے منور کرنا۔ تاکہ وہ تاریکیوں میں نہ بھٹکے۔ عربی میں لفظ تعلیم میں علم دینے کے ساتھ دینی، اخلاقی اور عملی تربیت و صحیح راہنمائی کا پہلو بھی ہے۔اس لئے تعلیم القرآن کا مطلب کسی ناواقف کو بتدریج قرآنی علم سے آراستہ کرکے اسے عملی اور اخلاقی اعتبار سے صاحب قرآن بنانا۔ اسے ایسے علم سے مزین کرنا جو قرآن کے الفاظ وعبارات کو اور ان کے مفاہیم کو رسوخ سے پہچان پائے اور عالم ربانی کہلائے۔ظاہر ہے یہ تعلیم، قرآن کو ایک بار پڑھنے سے نہیں بلکہ بار بار پڑھنے اور غورو فکر سے حاصل ہوتی ہے۔
اس کی اہمیت وضرورت : قرآن کریم کتاب ہدایت ہے۔ اس کے بے شمار ایسے پہلو ہیں جن کا جاننا ضروری ہے۔ اس کی اپنی لغت ہے ضرب الامثال ہیں،غریب، مشکل، مترادف الفاظ ہیں مثلاً: قلب، فؤاد اور صدر میں کیا فرق ہے۔، اور متباین کلمات ہیں، یَشْرِیْ، المَولٰی وغیرہ یا اضداد میں سے ہیںجیسے لفظ ظن اور زعم وغیرہ ہیں۔ بعض کلمات ہیں ان کا لفظی مطلب کچھ اور بنتا ہے مگر اس سے مراد کیا ہے۔جیسے رَیْبَ الْمَنُونِ وغیرہ۔ ان سب کو جاننے کے لئے فقہ اللغہ کا علم ضروری ہے۔
٭… قرآن مجید ہر دور کے لئے نئی کتاب ہے۔یہ ایک Living Book زندہ کتاب ہے ۔ اس کی تعلیم وتعلم کے لئے ہر دور کے عصری علوم کا جاننا انتہائی ضروری ہے تاکہ دلوں کے تالے کھلیں،تدبر وتفکر کی عادت طلبہ میں پیدا ہو۔ سورج کی روشنی کی طرح قرآن اپنا نور وعلم پھیلاتاجائے۔ جتنی کھلی اور بڑی کھڑکی ہوگی اتنی سورج کی روشنی زیادہ پہنچے گی ۔قرآن کریم کو سمجھنے کے لئے بھی جتنا بڑا ظرف ہوگا اتنا ہی فائدہ ہو گا۔
٭…دور حاضر الیکٹرانک میڈیا کا دورہے۔ اس کی جنگ نے نظریاتی سرحدیں برائے نام کردی ہیں۔اس جنگ میں جھوٹ، فحاشی اور استحصال عام ہے۔تعلیم قرآن ہی اس جنگ کا مقابلہ کرسکتی ہے ۔ہماری شکست وریخت کا مداوا اسی کی تعلیم میں ہے۔اگر اللہ کے اس کلام پر ہمارا ایمان ہو تو ہمیںدوست ودشمن کی صحیح تمیز ہوسکتی ہے۔اس میں بہت سی تنبیہات ہیں جن کے اسباق ہمیں بار بار یاد کرائے گئے ہیں جو ہمارے مشکل حالات میں راہنمائی کردیں۔ عباد الرحمن بننا ہمارا کام ہے اور رحمن الدنیا بننا اس کا۔
٭…اس میں پیشین گوئیاں ہیں۔تاریخ ہے جس کی تحدید کرنا بہت مشکل ہے۔ مثلاً: 
{اِذْ قَالُوْا لِنَبِىٍّ لَّہُمُ ابْعَثْ لَنَا مَلِكًا}۔ موسیٰ علیہ السلام کے بعد یہ کون سے نبی تھے؟ اس کا تعین اسرائیلیات کا گہرا مطالعہ چاہتا ہے۔ پھرذرا آگے {وَقَدْ اُخْرِجْنَا مِنْ دِيَارِنَا} سے کیا مراد ہے کس نے انہیں ان کے علاقوں سے نکالا تھا؟ اور بیت المقدس اگر اس سے مراد ہے تو پھر کون سا وہ بادشاہ تھا جس نے غلبہ پاکر انہیں بے دیس کیا۔اسی طرح{ لَتُفْسِدُنَّ فِي الْاَرْضِ مَرَّتَيْنِ} میں مَرَّتَيْنِسے کیا مراد ہے؟ کیا یہ ہوچکا یا کچھ باقی ہے؟ اس کا تعین خاصا تاریخی مطالعہ چاہتا ہے۔
٭…کائنات کی بے شمار نشانیاں ہیں جن کے لئے بے پناہ عصری علوم کی ضرورت ہے۔جن کا حاصل کرنا بہت ضروری ہے۔
٭…مختلف مذاہب کے غلط عقائد ونظریات سے قرآن نے آگاہ کیا ہے ؟ انہیں سمجھنے کے لئے ایسے مذاہب کی اصل زبان کا علم ہونا تاکہ اصل مصادر سمجھے جاسکیں،پھر ان کا تقابلی مطالعہ کرنا ایک طالب علم کے لئے بہت ضروری ہے۔
٭…قرآن، عقیدہ توحید کی کتاب ہے جس کی دعوت ہی یہی ہے۔اس میں بیان شدہ شریعت، راہنما شریعت ہے۔اس کے مقابل میں بے شمار نظریات، اور ازم اٹھے، قانون بنے جو وقتی سیاسی غلبہ حاصل کرنے کے بعد مغلوب ہوگئے۔ مگر کیا یہی قوانین انسانوں میں مساوات یا متوازن زندگی کی ضمانت دے سکے؟۔قرآن نے اپنے بہی خواہوں کو تاریخ کی ایک مثال دے کر ضمانت دے دی کہ خلفاء راشدین کے عہد میں ایسا ممکن ہوسکا ہے۔ اس لئے ا س کی تعلیمات سمجھنا اور تسلیم کرنا ضروری ہے۔
٭…تاریخ یہود اور آغاز مسیحت ، دونوں مسخ شدہ ہیں۔اور مشرکانہ مذاہب کا سر پیر نہیں۔ قرآن کریم کے مطابق ، ان کی تاریخ دجل وفریب اور دہشت وبربریت کی تاریخ ہے۔انسانی خون کی ہولی کھیلنے والے کیا انسانیت کے راہنما بن سکتے ہیں۔یہ سب مذاہب جھوٹ کے سہارے چل رہے ہیں۔انٹر نیٹ پر ان کے گھر کے بے شمار بھیدی لنکا ڈھارہے ہیں۔قرآن کریم نے اسی جھوٹ کا انکشاف پندرہ سوسال پہلے کردیا تھا۔اس لئے ایک مومن یہی ایمان رکھتا ہے کہ دونوں نے علمی، روحانی اور اصلاحی بددیانتی کی ہے اور یہی ملزم ہیں۔قرآن کریم پہلی کتب کا مُہَیْمِن یعنی نگران یا ناسخ ہے۔دنیا بھر میں پھیلی مشرکوں کی بین الاقوامی منڈی اور ان کی متنوع مشرکانہ سرگرمیاں اور رسم ورواج کے ہر اہم پہلو پر قرآن نے روشنی ڈال دی ہے کیا مزید کچھ وضاحت کی ضرورت ہے۔ اس گنداور کیچڑ سے لت پت اس دنیا کو صرف قرآن کا طالب علم ہی صاف ستھرا اور امن کا گہوارہ بنا سکتا ہے۔اور سبھی کی گردنیں تبھی ایک ہی رب کی چوکھٹ پر جھکیں گی۔
٭… ابن خلدون اپنے مقدمہ میں لکھتے ہیں: عرب محض اہل زبان ہونے کی بناء پر قرآن کے اجمال وتفصیل سے کما حقہ آگاہ ہوجاتے تھے اور اس کے معنی ومفہوم کی تہہ تک پہنچ جاتے تھے۔(مقدمہ: ۴۸۰)
حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی زبان میں لکھی ہوئی علمی تالیف محض اس زبان کے جاننے سے نہیں سمجھی جاسکتی بلکہ اس تالیف کو سمجھنے اور پڑھنے کے لئے زبان (********) کی معرفت کے ساتھ ساتھ ذہنی وعقلی استعداد کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ اہل علم صحابہ میں سے بعض حضرات قرآن مجید کے بعض کلمات کے مفہوم وادراک سے عاجز رہے۔ أباً کیا معنی رکھتا ہے ؟ سیدنا عمر t نے لاعلمی کا اعتراف کیا۔ { أو یأخذہم علی تخوف} میں تَخَوُّفٍ کا معنی کیا ہے برسر منبر صحابہ کرام سے سیدنا عمرؓ فاروق نے اس کا سوال کیا۔ایک ہذلی نے کھڑے ہوکر جواب دیا کہ اس کا معنی تَنَقُّصٍ ہے یعنی اتنی کمی کرنا کہ خوف آنے لگے۔ اور دلیل میں یہ شعر پڑھا:

تَخَوَّفَ الرَّحْلُ مِنْہَا تَامِکًا قَرَدًا کَمَا تَخَوَّفَ عُوْدَ النَّبْعَۃِ السَّفَنُ
اس کی پالان سکڑ کر ایسے کم پڑ گئی جیسے کھردری کھال تیروں کی لکڑی کو کم پڑ جاتی ہے۔(الموافقات:۴۰)
سیدنا ابن عباسؓ فرماتے ہیں: {فاطر السموات} کا صحیح مفہوم میرے ذہن میں نہیں آرہا تھا حتی کہ دو اعرابی ایک کنویں کے متعلق نزاع میرے پاس لے آئے۔ ان میں سے ایک نے اپنے حق ملکیت کے ثبوت میں کہا: أنَا فَطَرْتُہَا: میں نے ہی پہلی مرتبہ اس کنویں کو کھودا ہے۔ یہ کلمہ سنتے ہی مجھے اس مشکل کا جواب مل گیا کہ فَاطِرَالسَّمٰوٰتِ کا کیا مطلب ہے۔
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے خیط أبیض اور خیط اسود کا جو مفہوم لیا وہ بھی اس خیال کو رد کرنے کے لئے کافی ہے کہ بعض صحابہ قرآن کے معنی ومفہوم کی تہ تک پہنچ جاتے تھے۔آپ ﷺ نے ہی ان کی اصلاح فرماتے ہوئے فرمایا:

إِنَّکَ لَعَرِیْضُ الْقَفَا، إِنَّمَا ہِیَ سَوَادُ اللَّیْلِ وَبَیَاضُ النَّہَارِ۔ تم چوڑی گدی والے ہو یعنی تم خوب موٹے ہو۔ اس سے مراد رات کی سیاہی اور صبح کی روشنی ہے۔
٭…یہ بھی ضروری نہیں کہ صحابہ کرام نے سارے قرآن کو سمجھا ہو۔کیونکہ انہیں سوال کرنے سے منع کردیا گیا تھا۔ دوسرا یہ کہ وہ اپنے دور کی ذہنی رسائی کے مطابق سوچ کر فیصلہ کرلیتے تھے۔ مثلاً فرعون کی لاش کے بارے میں آیت کے یہ الفاظ 
{فَالْيَوْمَ نُنَجِّيْكَ بِبَدَنِكَ لِتَكُوْنَ لِمَنْ خَلْفَكَ اٰيَۃً}۔ صحابہ نے یہ سوال نہیں کیا کہ فرعون کی لاش کہاں ہے؟ بلکہ انہوں نے اپنے فہم کے مطابق یہ سمجھ لیا کہ اس دور کے لوگوں کے سامنے اس کی لاش کو اللہ تعالیٰ نے پیش کیا ہوگا اس لئے یہی ان کے لئے ایک بڑی نشانی یا عبرت تھی۔اسی طرح {وَيَخْلُقُ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ}۔ ان سواریوں کو اللہ تعالیٰ پیدا کرے گا یاکرتا رہے گا جنہیں تم نہیں جانتے۔گدھے، خچر، گھوڑے اور اونٹ کے علاوہ کون سی ایسی سواریاں ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ پیدا کرتا رہے گا؟ صحابہ کرام نے ایسے سوال نہیں کئے بلکہ ان آیات سے سبق یہی لیا کہ جو ہستی انہیں پیدا کرسکتی ہے وہ بعد بھی قادر مطلق ہے کہ جو چاہے پیدا کرے۔اس لئے زمانہ حال کی سواریاں ہمارا ذہنی کمال ہے اور جس کا خالق اللہ تعالیٰ ہی ہے۔
٭… عربی زبان کو جوپختگی اور دوام حاصل ہے اس کی وجہ اس کی فصاحت وبلاغت اور الفاظ کا وسیع ذخیرہ (Vocabulary) ہونا ہے۔ایک خاندانی سسٹم کی طرح اس کا نظام ہے۔ماضی، مضارع، حاضر ومستقبل اور امر ونہی، اسم ظرف وافعل التفعیل کے ہمراہ مبالغے کے صیغے ہیں، مثلاً: اسم فاعل کا مبالغہ فَعَّال ہے۔ انسان زندگی میں ایک آدھ بار جھوٹ بولے تو اسے کاذِب کہتے ہیں۔ اور اگر ہر لفظ یا ہر بار جھوٹ بولے تو اسے کَذَّابٌ کہہ دیتے ہیں۔چڑیوں کی چونچ کو 
زَقْزَقَۃُ الْعَصَافِیْر کہتے ہیں اس لئے کہ اس کے حروف میں زَقْزَقَہ ہوتا ہے۔جو عَسْعَسَ کے بالکل مناسب ہے جو فعل ثنائی ہے۔ جس میں مضعف یا تکرار کا معنی ملتا ہے جیسے: اللَّیْلُ یُعَسْعِسُ۔ رات بتدریج آتی اور بتدریج چلی جاتی ہے۔ اس کی اپنی رموز (Abriviations) ہیں۔ اس میں مترادفات واضداد ہیں۔لسان العرب میں ۸۰ ہزار مادے ہیں۔ ہر مادے کے پچاس یا ساٹھ فعل یا اسم ہیں۔ جبکہ آج کل کی رائج زبانوں میں زیادہ سے زیادہ ۲۵ ہزار الفاظ ہیں۔ان مادوںکے اعراب ہیں اور بڑے دقیق معانی اپنے اندر پوشیدہ رکھتے ہیں۔کبھی ایک ہی حرکت معنی کو بدل دیتی ہے۔ جیسے: قدَم، یعنی سَبَقَہُ بِقَدَمِہِ، قدِمَ بمعنی حَضَرَ، اور قدُم بمعنی قدیم ہوگیا۔حتی کہ حروف کی بھی الفاظ میں مناسبت ہوتی ہے مثلاً: حرف سین جس لفظ میںہوگا وہ داخلی شے ہوگی۔ جیسے: نَفْس، نَفَس، حِسّ، أُنْس، لَمْس، ہَمْس، وَسْوَسَہ، سِرّ۔ جس میں غین ہو نظر سے دور شے کے معنی اس میں ہوتے ہیں جیسے: غائب، غِشّ، غِیبت، غَلاء۔ جس کلمہ میں راء ہو اس میں تتالی یعنی پے در پے اور تکرار فعل کے معنی ہوں گے جیسے: جَرّ، مَرّ، کَرّ، فَرّ۔ قاف جس میں ہو وہ ایک دوسرے کو مارنے یا مزاحمت کرنا کے ہوں گے جیسے: طَرَقَ، بَصَقَ ، لَصِقَ، غَرِقَ۔ یہ محاسن دیگر بدلتی زبانوں میں کہاں ہیں؟ اپنے مدعا کو مختصر اور جامع انداز میں بیان کرنا اس کا شیوہ ہے۔اس میں نرمی وشدت اور شعور وجذبات سے مکمل وابستگی کا عنصر غالب ہے۔ دوسری زبانوں میں ایساقطعاً نہیں۔ بلکہ اس کا عربی صوتی آہنگ دوسری مقدس کتابوں کی آواز کو نگل لیتا ہے۔
٭…اگر دنیاوی منفعت کے لئے دیگر زبانیں سیکھی جاسکتی ہیں تو عربی زبان کیوں نہیں سیکھی جاسکتی۔ عربی زبان کی برکت ہے کہ وہ دنیا کی معیاری اور دائمی ادبی زبان بن گئی ہے ۔ مسلمان بھی بلارنگ ونسل آپس میں اس زبان کی برکت ومحبت کی وجہ سے جڑے ہوئے ہیں۔سپین میں عربی زبان کے رواج نے یورپین زبانوں کو بے شمارعربی الفاظ بخشے جو آج بھی ان زبانوں میںبخوبی جانے جا سکتے ہیں۔
٭…اسلاف امت اس فرض کو جانتے اور نبھاتے تھے۔ وہ قرآن کریم کے الفاظ ومعانی سیکھتے سکھاتے تھے۔یہی ذریعہ تھا جس سے وہ اللہ تعالیٰ کی مراد سمجھ سکتے تھے۔اس لئے تو یہ کتاب ان کی روح اور خون میں رچ بس گئی تھی۔مشہور تابعی ابو عبد الرحمن السلمی کہتے ہیں ہمیں سیدنا عثمان غنی اور عبد اللہ بن مسعود وغیرہ رضی اللہ عنہم نے بتایا۔۔ جن سے ہم نے قرآن پڑھنا سیکھا۔ جب تک ہم رسول اکرم ﷺ سے دس آیات کی تلاوت کرنا اور ان پر عمل کرنا نہ سیکھ لیتے ہم آگے نہ بڑھتے تھے ۔ وہ کہا کرتے : ہم نے قرآن پڑھنا سیکھا، اس کا صحیح ادراک کیا اور اس پر عمل کیسے کرنا ہے وہ بھی جانا۔
٭…یہ صحابہ تاجر بھی تھے، مزدور بھی، کسان بھی تھے اور بڑھئی بھی، دانشور بھی تھے اور مدبر بھی۔ دیہاتی بھی تھے اور شہری بھی۔ روزگار و پیشے یا دیگر مصروفیات کی بناء پر انہوں نے تعلیم قرآن کو فراموش نہیں کیا۔بلکہ اسے ہر لحاظ سے مفید وبابرکت پاکر سیکھا۔ ہمیں بھی آج ایسا ہی کرنے کی ضرورت ہے۔یہ قرآن سبھی کے لئے اترا تھا ۔اور ہرایک کے لئے تھا اور اسے ہر دل میں اتارنے کا کہا گیا تھا۔ اس لئے اسے کسی کی پراپرٹی نہیں کہاگیا۔
٭…قرآن کا علم انتہائی محترم اور ارفع واعلی علم ہے۔ یہی وہ کورس ہے جو بندہ مومن کو شہادہ عالیہ بخشتا ہے۔اسے رب کے ہاں عزت دیتا اور فرشتوں کے ہاں معزز بناتا ہے۔اسے ہی عام کرنے اور امت کی دینی ودنیاوی تعلیم و تربیت دینے کے لئے رسول اللہ ﷺ کو یہ کام سونپا گیا۔اس کے مقابلہ میں سبھی علم ہیچ ہیں۔یا اس کی معرفت کے بغیردینی معرفت کا دعوی بے کار ہے۔مسلمان سے مطلوب یہی علم ہے۔ اگر وہ دین کے اس اہم مصدر سے ناواقف ہے تو پھر فخر کس بات پر؟ اس لئے ضرورت ہے کہ اسے کتاب اللہ اورعربیت کے صحیح ذوق رکھنے والے عالم ہی سے سیکھا جائے۔تاکہ قرآن فہمی ہو اور جذبہ خدمت قرآن بھی ماند نہ پڑے۔اس کورس کے موضوعات چار ہیں:

{يَتْلُوْا عَلَيْہِمْ اٰيٰتِہٖ وَيُزَكِّيْہِمْ وَيُعَلِّمُہُمُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَۃَ۝۰ۤ ۔۔۔} ( الجمعہ : ۲ ) وہ انہیں قرآن پڑھ سناتا ہے اور ان کا تزکیہ بھی کرتا ہے اور انہیں تعلیم کتاب وحکمت دیتا ہے ۔

Comments

Popular posts from this blog

Yusufzai (Pashtun tribe)

The  Yūsufzai  (also  Youssofzay ,  Yousefzai ,  Yousafzai ,  Esapzey ,  Yousufi , or  Yūsufi ) (Pashto:  يوسفزی ,Persian and Urdu:  یوسف زئی ) is one of the largest Pashtun (Afghans) tribes. The majority of the Yusufzai tribe reside in parts of Western Afghanistan, Khyber Pakhtunkhwa and Provincially Administered Tribal Areas near the Afghan-Pakistan border. They are the predominant population in the districts of Konar, Ningarhar, Mardan District, Dir, Swat,Malakand, Swabi, Buner, Shangla, Haripur District [Khalabat Town Ship and Tarbela] and in Mansehra and Battagram. There is also a Yusufzai clan of Dehwar tribe in the Mastung district of Balochistan who speak Persian with some mixture of Birahvi words. The descendants of Yusuf inhabit Konar, Jalalabad, Swat, Upper Dir, Lower Dir, Malakand Swabi and Mardan...

عہد عثمان میں تدوین قرآن

امام بخاری نے صحیح بخاری میں اپنی سند کے ساتھ ابن شھاب سے روایت کیا ہے کہ انس بن مالک نے انہیں بتایا کہ حذیفہ بن یمان حضرت عثمان کی خدمت میں حاضر ہوئے موسوف نے رمینیہ اور آذربیجان کی جنگ میں شرکت کی تھی وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ لوگ تلاوت قرآن میں بہت اختلاف کرنے لگے تھے ۔ حذیفہ نے حضرت عثمان سے کہا امیرالمؤمنین ! قبل اس کے کہ یہ امت کتاب الٰہی میں یہودیوں اور نصاریٰ کی طرح اکتلاف کرنے لگے اس کو سنبھال لیجئے یہ سن کر حضرت عثمان نے حجرت حفصہ کو کہلا بھیجا کہ آپ کے پاس قرآن کے جو صحیفے پڑے ہیں وہ ہمارے پاس بھیج دیجئے تاکہ ہم ان کو کتابی صورت میں جمع کریں پھر ہم ان کو واپس کردیں گے ۔محترمہ موصوفہ نے وہ صحیفے ارسال کردئیے۔حضرت عثمانرضی اللہ تعالٰی عنہ نے (۱) زید بن ثابترضی اللہ تعالٰی عنہ،(۲) عبداللہ بن زبیررضی اللہ تعالٰی عنہ،(۳)سعد بن العاصرضی اللہ تعالٰی عنہ،(۴)عبدالرحمان بن حارث بن ہشامرضی اللہ تعالٰی عنہکو مومورکیا کہ وہ صحیفوں سے نقل کرکے قرآن کریم کو کتابی صورت میں جمع کردیں۔ حضرت عثمانرضی اللہ تعالٰی عنہ نے تینوں قریشی صحابہ(حضرت زید بن ثابت کے علاوہ باقی تینوں صحابہ سے...

کتاب اللہ کی کون سی آیت سب سے عظیم ہے؟

آیۃ الکرسی کی فضیلت !!! آیۃ الکرسی کی کیااھمیت ہے ؟ اور کیا اس آیت کی عظمت پرکوئ دلیل وارد ہے ؟ الحمد للہ ابن کثیررحمہ اللہ تعالی سورۃ البقرۃ کی آیۃ الکرسی کی تفسیرکرتےہو‏ۓ کہتے ہیں : یہ آیۃ الکرسی ہے جس کی فضیلت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح حدیث میں ہے کہ کتاب اللہ میں یہ آیت سب سے افضل آیت ہے ۔ ابی بن کعب رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نےان سے سوال کیا کہ کتاب اللہ میں سب سے عظیم آیت کونسی ہے ؟ تو وہ کہنے لگے کہ اللہ اور اس کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم کوہی زیادہ علم ہے ، یہ سوال کئ باردھرایا اور پھر فرمانےلگے کہ وہ آیت الکرسی ہے ۔ فرمانے لگے اے ابوالمنذر علم مبارک ہو اس ذات کی قسم جس کےھاتھ میں میری جان ہے اس آیت کی زبان اور ہونٹ ہونگے عرش کے پاۓ کے ہاں اللہ تعالی کی پاکی بیان کررہی ہوگی ۔ اور غالبا مسلم نے والذی نفسی سے آگے والے الفاظ نہیں ہیں ۔ عبداللہ بن ابی بن کعب رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ ان کے والد کے پاس کھجوریں رکھنے کی جگہ تھی ، عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں میرے والد اس کاخیال رکھتے تھے تو...

عہد رسالت میں کتابت قرآن

سرورکائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے مندرجہ ذیل صحابہ کو کاتب وحی مقرر فرمایا تھا: حضرت بوبکررضی اللہ تعالٰی عنہ ، عمرفاروقرضی اللہ تعالٰی عنہ، عثمانرضی اللہ تعالٰی عنہ، علیرضی اللہ تعالٰی عنہ، معاویہرضی اللہ تعالٰی عنہ ، زید بن ثابت رضی اللہ تعالٰی عنہ،ابی بن کعبرضی اللہ تعالٰی عنہ، خالد بن ولیدرضی اللہ تعالٰی عنہ،ثابت بن قیسرضی اللہ تعالٰی عنہ،۔ قرآن کا جو حصہ نازل ہوتا آپ صحابہ کو مامور فرماتے کہ اسے تحریر کرلیں یہاں تک کہ کتابت کے پہلو بہ پہلو قرآن کریم کو سینوں میں بھی محفوظ کرلیا گیا۔(مشہور مستشرق بلاشیر نے کاتبین وحی صحابہ کی تعداد چالیس بتائ ہے دیگر مستشرقین مثلاً شفالی بہل اور کازانوفاکا زاویہ نگاہ بھی یہی ہے مؤخر الذکر نے اس ضمن میں طبقا ابن سعد، طبری ، نووی اور سیرت حلبی پر اعتماد کیا ہے ۔) محدث حاکم نےمستدرک میں زید بن ثابت سے بخاری ومسلم کی شرط کے مطابق روایت کیا ہے کہ زید بن ثابت نے کہا ہم عہد رسالت میں ''رقاع''(ٹکڑوں)سے قرآن جمع کیا کرتے تھے ۔ (الاتقان،ج۱ص،۹۹نیز البرہان ،ج۱ص۲۳۷) مذکورہ صدر حدیث میں ''رقاع ''کا جو لفظ وا...

شرک فی التصرف کا بیان

بسم اللہ الرحمن الرحیم اللّٰھم لک الحمد حمدا یوافی نعمک ویکافی مزید کرمک احمد ک بجمیع محا مدک ما علمت و ما لم اعلم علی جمیع نعمک ما علمت منھا وما لم اعلم وعلی کل حالط اللّٰھم صل علی محمد و علی ال محمد و بارک وسلم۔ اما بعد۔ فاعوذ باللہ من الشیطن الرجیم ط بسم اللہ الرحمن الرحیمط قُلِ ادْعُوا الَّذِيْنَ زَعَمْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللہِ۝۰ۚ لَا يَمْلِكُوْنَ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ فِي السَّمٰوٰتِ وَلَا فِي الْاَرْضِ وَمَا لَہُمْ فِيْہِمَا مِنْ شِرْكٍ وَّمَا لَہٗ مِنْہُمْ مِّنْ ظَہِيْرٍ۝۲۲ وَلَا تَنْفَعُ الشَّفَاعَۃُ عِنْدَہٗٓ اِلَّا لِمَنْ اَذِنَ لَہٗ۝۰ۭ حَتّٰٓي اِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوْبِہِمْ قَالُوْا مَاذَا۝۰ۙ قَالَ رَبُّكُمْ۝۰ۭ قَالُوا الْحَقَّ۝۰ۚ وَہُوَالْعَلِيُّ الْكَبِيْرُ۝۲۳ (السبا:۲۲۔۲۳) اے میرے محسن خدا! کل تعریفوں کا مستحق تو ہی ہے، میں تیری وہ تعریف کرتا ہوں جو تیری دی ہوئی نعمتوں کا بدل ہو، ا ور اس سے جو زیادہ دے، اس کا بدلہ ہو، اور پھر میں تیری جن نعمتوں کو جانتا ہوں اور جن کو نہیں جانتا سب ہی کا ا ن خوبیوں کے ساتھ شکریہ ادا کرتا ہوں، جس کا مجھ کو علم ہے اور جن کا نہیں، غرضیکہ ہر ...

حکایت

حضرت شیخ الاسلام امام غزالی نے احیاء العلوم میں ایک حاسد آدمی کی یہ حکایت فرمائی ہے کہ ایک شخص بادشاہ کے سامنے کھڑا ہوکر یہ کہا کرتا تھا کہ نیک لوگوں کے ساتھ نیکی کرو اور محسن کے احسان کا بدلہ دو کیوںکہ برائی کرنے والے کی برائی تمہاری طرف سے خود کفایت کرے گی۔ یہ شخص بادشاہ کے سامنے یہ نصیحت کیا کرتا تھا جس سے اس کی بڑی عزت تھی۔ اس کی عزت، عظمت اور مرتبہ کو دیکھ کر ایک شخص کو حسد پیدا ہوگیا۔ اس نے بادشاہ سے شکایت کی کہ یہ شخص حضور کے سامنے کھڑا ہوکر گندہ دہن بتاتا ہے۔ بادشاہ نے کہا اس کی تصدیق کیسے ہو؟ حاسد نے کہا جب وہ آپ کے پاس آئے تو آپ اسے اپنے قریب بلا لیجیے، جب وہ آپ کے بالکل قریب آجائے گا تو اپنی ناک بند کرلے گا، تاکہ آپ کے منہ کی بدبو نہ آنے پائے۔ بادشاہ نے کہا بہت اچھا، کل امتحان کریں گے۔ ادھر اس حاسد نے بادشاہ سے یہ کہا، ادھر اس نے جاکر اس ناصح و نیک آدمی کی دعوت کرکے ایسا کھانا کھلایا جس میں لہسن بہت سا تھا۔ یہ کھانا کھا کر فارغ ہی ہوا تھا کہ دربار کا وقت آگیا۔ بدستور سابق بادشاہ کے سامنے کھڑے ہوکر اس نے وہی جملہ کہا جو کہا کرتا تھا۔ بادشاہ نے اس کو اپنے پاس بلانے کا ...

Rasulullah Sallallahu Alaihi Wasallam Kay Muay Mubarak By Shaykh Mufti Umar Farooq

Read Online (400 K) AN EXTRACT FROM MONTHLY MAGAZINE OF DARUL ULOOM DEOBAND ON SOME DETAILS REGARDING THE BELOVED AND MUBARIK HAIR OF RASOOLULLAH [Sallallahu Alaihi Wasallam]. By Shaykh Mufti Umar Farooq

اتباع سنت کا بیان

بسم اللہ الرحمن الرحیم الحمد للہ الذی لم یزل عالماً قدیرا حیاً قیوماً سمیعاً بصیراً و اشھد ان لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ واکبرہ تکبیراً۔ واشھد ان محمداعبدہ ورسولہ و صلی اللہ علی سیدنا محمد ن الذی ارسلہ الی الناس کافۃ بشیراً ونذیرًا۔ و علی الہ و صحبہ وسلم تسلیماً کثیراکثیرا۔ اما بعد! فاعوذ باللہ من الشیطن الرجیم۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللہَ فَاتَّبِعُوْنِيْ يُحْبِبْكُمُ اللہُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ۝۰ۭ وَاللہُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ۝۳۱ قُلْ اَطِيْعُوا اللہَ وَالرَّسُوْلَ۝۰ۚ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّ اللہَ لَا يُحِبُّ الْكٰفِرِيْنَ۝۳۲ (آل عمران:۳۱۔۳۲) سب تعریف اللہ کے لیے ثابت ہے،جو ہمیشہ سے جاننے والا، قدرت والا، زندہ رکھنے والا، سنبھالنے والا، سننے والا اور دیکھنے والا ہے، اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ ایک اور یکتا ہے، جس کا کوئی شریک نہیں ہے، اور میں اس کی بڑائی بیان کرتا ہوں، اور اس بات کی گواہی دیتا ہوں ، کہ محمد ﷺ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، اللہ تعالیٰ ہمارے آقا محمد ﷺ پر رحمت کا ملہ نازل فرم...

اللہ و رسول ﷺ کی اطاعت کا بیان

بسم ا للہ الرحمن الرحیم۔ الحمد للہ رب العالمین۔ الرحمن الرحیم۔ مالک یوم الدین۔ والصلوۃ والسلام علی رسولہ المبین سیدنا محمد خاتم النبیین۔ وعلی جمیع الانبیاء والمرسلین۔ وسائر عباد اللہ الصالحین۔ اما بعد! فاعوذ باللہ من الشیطن الرجیم ط بسم اللہ الرحمن الرحیم ط يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَطِيْعُوا اللہَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ وَاُولِي الْاَمْرِ مِنْكُمْ۝۰ۚ فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِيْ شَيْءٍ فَرُدُّوْہُ اِلَى اللہِ وَالرَّسُوْلِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللہِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ۝۰ۭ ذٰلِكَ خَيْرٌ وَاَحْسَنُ تَاْوِيْلًا۔ (النساء:۵۹) سب تعریف اللہ کے لیے ہے، جو سار ے جہاں کا پالنے والا ہے، بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، بدلے کے دن (قیامت )کا مالک ہے، اور درودوسلام نازل ہوں، ا للہ تعالیٰ کے رسول پر جو احکام الٰہی کے ظاہر کرنے والے ہیں، ہمارے سردار جن کا نام نامی اسم گرامی محمد ﷺ ہے، جو سب نبیوں کے ختم کرنے والے ہیں، اور اللہ کے تمام نبیوں ا ور رسولوں پر، اور ا للہ کے تمام نیک بندوں پر، حمد و صلوۃ کے بعد، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ا ے ایمان والوفرمانبرداری کرو اللہ کی اور فرمانبر...

شرک کی مذمّت

بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ الحمدللہ الذی لم یتخذ ولداو لم یکن لہ شریک فی الملک ولم یکن لہ ولی من الذل وکبرہ تکبیرا۔ ونشھد ان لاالہ ا لااللہ وحدہ لا شریک لہ ونشھد ان محمداعبدہ ورسولہ صلی اللہ علیہ وعلی اٰلہ واصحابہ وسلم تسلیما کثیرا۔ اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم ط بسم اللہ الرحمن الرحیم بِہٖ۝۰ۭ وَمَنْ يُّشْرِكْ بِاللہِ فَكَاَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَاۗءِ فَتَخْطَفُہُ الطَّيْرُ اَوْ تَہْوِيْ بِہِ الرِّيْحُ فِيْ مَكَانٍ سَحِيْقٍ (الحج:۳۱) سب تعریف اللہ ہی کے لیے ہے، جو نہ اولاد رکھتا ہے، اور اپنی سلطنت میں کسی کو شریک بھی نہیں کرتا، اور نہ وہ ایسا حقیر ہے، کہ اس کا کوئی حمائتی ہو، تم اس کی بڑائی بیان کرو، اور ہم اس بات کی شہادت دیتے ہیں، کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے، وہ ایک ا کیلا ہے، اس کے ساتھ کوئی شریک نہیں ہے، اور ہم اس بات کی شہادت دیتے ہیں، کہ محمدﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں، اللہ تعالیٰ ان پر اور ان کے اصحابؓ پر بہت بہت درود بھیجے حمدو صلوٰۃ کے بعد عرض ہے ، کہ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں یہ فرما رہاہے، کہ اللہ کے ساتھ شرک کرنے والا گویا آسمان سے گر پڑا، تو اب اسے یا تو پرند...