Skip to main content

رسول اکرمﷺ بحیثیت ایک معلم



آپ ﷺ معلم قرآن تھے۔یہی آپ ﷺ کا منصب تھاجو اللہ تبارک وتعالیٰ نے آپ کو عطا فرمایا اور اسے اپنا ایک احسان عظیم فرمایا: 
{كَـمَآ اَرْسَلْنَا فِيْكُمْ رَسُوْلًا مِّنْكُمْ يَتْلُوْا عَلَيْكُمْ اٰيٰتِنَا وَيُزَكِّيْكُمْ وَيُعَلِّمُكُمُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَۃَ وَيُعَلِّمُكُمْ مَّا لَمْ تَكُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَ}۔ جیسا کہ ہم نے تم میںایک رسول بھیجا جو تم میں سے ہی ہے جو تم پر ہماری آیات کو تلاوت کرتا ہے ، تمہارا تزکیہ کرتا ہے اور تمہیں کتاب وحکمت کی تعلیم دیتا ہے اور تمہیں وہ کچھ سکھاتا ہے جو تم نہیں جانتے۔
اسی طرح 
{اَلرَّحْمٰنُ عَلَّمَ الْقُرْآنَ} (الرحمٰن:۱،۲) غور کریں توکتاب کے پہلے معلم الرحمن ہیں، پھر اسے لے کر آنے والے جبریل امین اور پھر جناب رسول اکرم ﷺ معلم ومربی ہیں۔ سورہ نحل کی آیت (۴۴) میں قرآن کریم کی وضاحت وبیان کو رسول اکرم ﷺ کی ذمہ داری قرار دیا گیا۔اللہ تعالیٰ نے اپنی مہربانیوں کا ذکر یوں فرمایا: {وَعَلَّمَکَ مَا لَمْ تَکُنْ تَعْلَمُ} (النساء:۱۱۳)۔ اللہ نے آپ ﷺ کو وہ وہ تعلیم دی اور سکھادیا جسے آپ ﷺ پہلے نہیں جانتے تھے۔اور پھر آپﷺ کو اس کی تعلیم {عَلَّمَہٗ شَدِیْدُ الْقُوٰی} (النجم:۵) بہت طاقتور فرشتے جبریل امین نے دی ۔
یہی آپ ﷺ کا منصب تھاجس کی دعا سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے کی تھی۔آپ خود فرمایا کرتے:

أَنَا دَعْوَۃُ إبْرَاہِیْمَ وَبُشْرٰی عِیْسَی ابْنِ مَرْیَمَ عَلَیہِمَا السَلَامُ۔ میں اپنے بزرگ سیدنا ابراہیم u کی دعا اور سیدنا عیسی بن مریم i کی بشارت ہوں(مسند احمد:۱۴۵۱۵)۔
٭…آپ ﷺ نے ایک طرف پورے قرآن مجید کی تلاوت صحابہ کرام کے سامنے کی تو دوسری طرف ان کے سامنے قرآن مجید کے مطالب ومعانی بھی بیان کئے ۔ چنانچہ تعلیم قرآن ہی کے دوران آپ ﷺ نے اَقِيْمُوا الصَّلٰوۃَ کا معنی ومفہوم واضح کیا اور حج البیت کی تفاصیل بیان کیں۔اسی تعلیم نے اٰتُوا الزَّكٰوۃَ کا معنی متعین کیا اور اسی نے صوم رمضان کی اہمیت کو اجاگر کیا۔روزمرہ کی زندگی اور معاملات میں آپ ﷺ چلتے پھر تے معلم تھے۔کیونکہ آپ ﷺ کا ہر عمل خواہ وہ گھر کی چار دیواری میں ہو یا گھر سے باہر قرآن کریم کی تعلیم کے عین مطابق تھا۔
٭…آپ ﷺ ایک کامیاب معلم تھے۔ کیاعجب تعلیمات تھیں۔عبادات، اخلاقیات ، معاملات ، معاشرت، تجارت، غزوات، دعوت دین کوئی شعبہ ایسا نہیں جس میں آپ ﷺ کی دی ہوئی تعلیم ایک راہنما اصول نہ ہو۔ کتب حدیث میں علماء محدثین کی ان کاوشوںکو بھی بغور دیکھا جاسکتا ہے جو انہوں نے احادیث رسول کو پیش کرنے سے قبل عنوانات کی صورت میں فہرست سازی کی ہے۔
٭… آپ ﷺ نے خود صحابہ کرام کوقرآنی مطالب کی بتدریج تعلیم دی جو ان کا اوڑھنا بچھونا بن گئی۔دار ارقم ہو یا اصحاب صفہ ہر نیا آنے والا حلقہ رسول میں بیٹھتا ، قرآن مجید کی عبارت کو، اس کے معنی ومفہوم کو قراءت سمیت سیکھتا اور پھر واپس جاکر دوسروں کو سکھاتا۔ ابتدائی دور میں تعلیم قرآن کے لئے خبابؓ بن الأرت اور مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہما مثلاً اس کی ایک مثال ہیں۔صحابہ کا اپنا کہنا ہے کہ جب تک ہم دس آیتیںمعنی ومفہوم کے علاوہ کب ، کہاں اور کیوں اتریں سیکھ نہ لیتے ہم اگلی آیت نہیں پڑھتے تھے۔یہ تعلیم بہت سادہ اوراس دور کے حالات کے عین مطابق تھی۔ اس تعلیم میں قرآن مجید کی تلاوت غیر معمولی اہمیت کی حامل تھی جسے نہ صرف مسلمان بلکہ غیرمسلم بھی سن کر متأثر ہوئے بغیر نہ رہتے۔ اس لئے لوگ ، قرآن کی آیات والفا ظ کو سنتے جاتے اور اس کے معنی ومفہوم کو قلب ودماغ میں اتارتے جاتے۔صحابہ اپنے محاورات کی روشنی میں اسے سمجھ لیتے۔متشابہات میں وہ پڑتے نہ تھے۔ علم الٰہی جو اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو بخشا ہوتا اس کی روشنی میں آپ ﷺ صحابہ کو تعلیم دیتے۔
٭…آپ ﷺ کی زندگی اسی تعلیم کی عکاس تھی۔اسی کا رنگ تھا جس میں رنگی ہوئی تھی۔جس نے اپنی سرگرمیوںکو بھلائی کے لئے تیز تر کردیا تھا۔چلتا پھرتا ایک متحرک ادارہ آپ ﷺ بن گئے۔جس کے فرد پر اور اس کے محسوسات پر گہرے اثرات تھے۔ مشرکوں کا محاذ ہے۔ رسم ورواج کے بوجھ ہیں۔اخلاقی دیوالیہ پن ہے۔ زندگی کا ہر شعبہ تلپٹ ہوچکا ہے۔بیمار دل بیمار سوچیں عام ہیں۔عبادات ہیں کہ خرافات، انسانی تہذیب ہے کہ درندگی۔یہ سب ماحول تھا جس کی تہہ میں کئی اورالجھنیں تھیں۔راہنما راہزن تھے۔ عباپوش سیاہ پوش تھے۔ قبائیں اپنی حرص وآز کی گواہ تھیں۔اور مذہب اپنی خرافات سمیت غیر محترم تھا۔ معلم قرآن ہادی بن کر اٹھے۔ خیر کی دعوت دی۔ امر معروف اور نہی منکر حکمت وحسن وعظ سے شروع کیا۔ اپنی ذات کو نہیں بلکہ کلام رب کو زیادہ نمایاں کیا۔اس کے فہم پر زور دیا۔انہیں سنوارا۔عمل وعقیدہ کی نوک پلک درست کی۔یوںخیر کے چاہنے والے اردگرد اکٹھا ہوتے گئے اور پھر ان کی صلاحیتوں کو استعمال کیا۔انہیں ذمہ داری دی۔اور بھرپور دی۔ جنہوں نے اس کا حق بھی ادا کیا۔ یہی تھا معلم قرآن کا کردار اور ذمہ داری جس نے رات دن ایک کرکے تیئیس سال کے عرصہ میں امت کو وہ افراد دئے جو شاید کوئی معلم تیار کرسکے۔
٭…آپ ﷺ نے تعلیم قرآن اس طرح دی کہ ہر شخص اس کے ایک ایک لفظ کا صحیح اور حقیقی ادراک کرنے لگا۔کوئی انہونی باتیں نہ آپ نے کیں اور نہ ہی قرآن کریم کی کسی آیت ولفظ کے معنی ومفہوم کو آپ نے چھپایا۔اور نہ ہی دور کی کوڑی لائے۔ فلسفیانہ رنگ تو مشرکوں میں تھا جو ہر بات ، عمل اور معاملہ میں ظاہر وباطن کے قائل تھے۔صحابہ کرام قرآن کریم جب سمجھتے توحقائق کھلتے تو سینہ بھی کھلتا۔اور رب کی عظمت کے آگے ہر شخص جھکنے پر مجبور ہوتا۔سب سے آس لگانے والا صرف ایک اللہ کا ہوجاتا۔یہی وہ تعلیم تھی جو صحابہ رسول نے بھی دی۔

Comments

Popular posts from this blog

Yusufzai (Pashtun tribe)

The  Yūsufzai  (also  Youssofzay ,  Yousefzai ,  Yousafzai ,  Esapzey ,  Yousufi , or  Yūsufi ) (Pashto:  يوسفزی ,Persian and Urdu:  یوسف زئی ) is one of the largest Pashtun (Afghans) tribes. The majority of the Yusufzai tribe reside in parts of Western Afghanistan, Khyber Pakhtunkhwa and Provincially Administered Tribal Areas near the Afghan-Pakistan border. They are the predominant population in the districts of Konar, Ningarhar, Mardan District, Dir, Swat,Malakand, Swabi, Buner, Shangla, Haripur District [Khalabat Town Ship and Tarbela] and in Mansehra and Battagram. There is also a Yusufzai clan of Dehwar tribe in the Mastung district of Balochistan who speak Persian with some mixture of Birahvi words. The descendants of Yusuf inhabit Konar, Jalalabad, Swat, Upper Dir, Lower Dir, Malakand Swabi and Mardan...

یہودی پروٹوکولز

Online Read یہودی پروٹوکولز ============================================== Online Read E Book یہودی پروٹوکولز ============================================== Download Free یہودی پروٹوکولز ---------------------------------------------------- Download Free یہودی پروٹوکولز ----------------------------------------------------

دین اسلام میں رسول اللہ ﷺ کی اطاعت فرض ہے

بسم اللہ الرحمن الرحیم دین اسلام میں رسول اللہ ﷺ کی اطاعت فرض ہے يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ أَطِيعُوا۟ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ وَلَا تَوَلَّوْا۟ عَنْهُ وَأَنتُمْ تَسْمَعُونَ ﴿20﴾ترجمہ: اے ایمان والو الله اور اس کے رسول کا حکم مانو اور سن کر اس سے مت پھرو(سورۃ الانفال،آیت20) قُلْ أَطِيعُوا۟ ٱللَّهَ وَأَطِيعُوا۟ ٱلرَّسُولَ ۖ فَإِن تَوَلَّوْا۟ فَإِنَّمَا عَلَيْهِ مَا حُمِّلَ وَعَلَيْكُم مَّا حُمِّلْتُمْ ۖ وَإِن تُطِيعُوهُ تَهْتَدُوا۟ ۚ وَمَا عَلَى ٱلرَّسُولِ إِلَّا ٱلْبَلَٰغُ ٱلْمُبِينُ﴿56﴾ترجمہ: کہہ دو الله اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرو پھر اگر منہ پھیرو گے تو پیغمبر تو وہی ہے جس کا وہ ذمہ دار ہے اورتم پر وہ ہے جو تمہارے ذمہ لازم کیا گیا ہے اور اگر اس کی فرمانبرداری کرو گے تو ہدایت پاؤ گے اور رسول کے ذمہ صرف صاف طور پر پہنچا دینا ہے (سورۃ النور،آیت 56) مَّن يُطِعِ ٱلرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ ٱللَّهَ ۖ وَمَن تَوَلَّىٰ فَمَآ أَرْسَلْنَٰكَ عَلَيْهِمْ حَفِيظًۭا ﴿80﴾ترجمہ: جو شخص رسول کی فرمانبرداری کرے گا تو بےشک اس نے اللہ کی فرمانبرداری کی اور جو نافرمانی کرے گا تو اے ...

قرآن حکیم کے نازل ہونے کی کیا غرض ہے

سورہ آلِ عمران هَـٰذَا بَيَانٌ لِّلنَّاسِ وَهُدًى وَمَوْعِظَةٌ لِّلْمُتَّقِينَ ﴿١٣٨﴾ یہ (قرآن) لوگوں کے لیے بیان صریح اور اہلِ تقویٰ کے لیے ہدایت اور نصیحت ہے۔ سورہ المآئدۃ يَا أَهْلَ الْكِتَابِ قَدْ جَاءَكُمْ رَسُولُنَا يُبَيِّنُ لَكُمْ كَثِيرًا مِّمَّا كُنتُمْ تُخْفُونَ مِنَ الْكِتَابِ وَيَعْفُو عَن كَثِيرٍ ۚ قَدْ جَاءَكُم مِّنَ اللَّـهِ نُورٌ وَكِتَابٌ مُّبِينٌ ﴿١٥﴾هْدِي بِهِ اللَّـهُ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَهُ سُبُلَ السَّلَامِ وَيُخْرِجُهُم مِّنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ بِإِذْنِهِ وَيَهْدِيهِمْ إِلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ ﴿١٦﴾  اے اہل کتاب! تمہارے پاس ہمارے پیغمبر (آخرالزماں) آ گئے ہیں کہ جو کچھ تم کتاب (الہٰی) میں سے چھپاتے تھے وہ اس میں سے بہت کچھ تمہیں کھول کھول کر بتا دیتے ہیں اور تمہارے بہت سے قصور معاف کر دیتے ہیں بےشک تمہارے پاس خدا کی طرف سے نور اور روشن کتاب آ چکی ہے۔جس سے خدا اپنی رضا پر چلنے والوں کو نجات کے رستے دکھاتا ہے اور اپنے حکم سے اندھیرے میں سے نکال کر روشنی کی طرف لے جاتا اور ان کو سیدھے رستہ پر چلاتا ہے۔ وَكَتَبْنَا عَلَيْه...

جمع عثمانی رِوایات کے آئینے میں

نبی مکرمﷺ کی حدیث مبارکہ ’’خَیْرُ النَّاسِ قَرْنِيْ ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَھُمْ ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَھُمْ‘‘۔(صحیح البخاري: ۲۶۵۲) پر جب نظر پڑتی ہے تو سر احسان و نیازمندی کے ملے جلے تاثر ات سے جھک جاتا ہے کہ واقعتا آپﷺ، صحابہ رضی اللہ عنہم اور تابعین رحمہم اللہ کا زمانہ خیر القرون تھا، کیونکہ اس میں بنی نوع اِنسان کی راہ روی اور اسلام کی سربلندی کے لیے وہ محنتیں اور کوششیں ہوئی ہیں کہ جس کی مثال آئندہ جمیع قرون میں پیش کرنا مشکل ہے۔ یقینا وہ لوگ اس قابل تھے کہ اُنہیں یہ ذمہ داری سونپی جاتی کہ وہ دینِ الٰہی اور شرع اللہ کو اپنی مکمل تشریحات کے ساتھ آئندہ نسلوں تک منتقل کریں، بلا شبہ وہ طائفہ فائزہ اپنے اس مقصد میں بامراد ہوا ہے۔ان جملہ ذمہ داریوں میں سے اَہم ترین ذمہ داری یہ تھی کہ ہدایت سماوی کے آخری ربانی صحیفہ کو محفوظ اور غیر متبدل شکل میں ہم تک پہنچایا جائے۔ ہمارا یہ قطعی ایمان ہے کہ وہ پیام اَیزدی آج اپنی سو فیصد اَصلی اور حقیقی شکل میں ہمارے درمیان موجود ہے۔ الحمد ﷲ علی ذلک۔اِس سلسلہ میں خیرالقرون میں جو سب سے اَہم کام ہوا ہے وہ سیدنا عثمان ذوالنورین رضی ال...

ان شاءاللہ لکھنے میں غلطی کرنا

بسم اللہ الرحمن الرحیم السلام علیکم ورحمتہ اللہ آ پ لوگوں نے اکثر کتابوں میں لفظ ان شاءاللہ کو اس طرح لکھا ہوا پڑھاہوگا انشاءاللہ اور جب کہ اس طرح لکھنے سے اس کا معنی بدل جاتا ہے۔ لفظ ان شاءاللہ کے اردو میں معنی بنتا ہے اگر اللہ نے چاہا اور جب کہ انشاء عربی میں کسی چیز کو بنانے کو کہتے ہیں اس طرح انشاءاللہ کے معنی بہت غلط بن جاتے ہیں ۔ہم لوگ عربی زبان سے واقفیت نہ رکھنے کی وجہ سے ایسی غلطیاں کر جاتے ہیں اللہ ہمیں معاف فرمائے آمین۔اللہ کا ارشاد ہے کہاِنَّآ اَنْشَاْنٰهُنَّ اِنْشَاۗءً 35۝ۙہم نے ان (کی بیویوں کو) خاص طور پر بنایا ہے۔الواقعہ:۳۵قَالَ اِنَّمَا يَاْتِيْكُمْ بِهِ اللّٰهُ اِنْ شَاۗءَ وَمَآ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِيْنَ 33 ؀جواب دیا کہ اسے بھی اللہ تعالٰی ہی لائے گااگر وہ چاہے اور ہاں تم اسے ہرانے والے نہیں ہو۔ھود:۳۳فَلَمَّا دَخَلُوْا عَلٰي يُوْسُفَ اٰوٰٓى اِلَيْهِ اَبَوَيْهِ وَقَالَ ادْخُلُوْا مِصْرَ اِنْ شَاۗءَ اللّٰهُ اٰمِنِيْنَ 99؀ۭپھر جب (سب کے سب) یوسف کے پاس پہنچے تو اس نے اپنے والدین کو (عزت و احترام کے ساتھ) اپنے پاس جگہ دی اور کہا، ''کہاگر اللہ نے چاہا تو...

قراء توں کا اِختلاف اور منکرینِ حدیث

یہ ایک مسلّمہ اَمر ہے کہ قرآن مجید کی ایک سے زیادہ قراء تیں ثابت ہیں۔ لیکن اہلِ قرآن کہلانے والے منکرین حدیث ان اختلافِ قراء ات کو نہیں مانتے۔ وہ کہتے ہیں کہ قرآن کی صرف ایک ہی قراء ت ہے اور یہ کہ خود نبیﷺنے قرآن کو کتابی صورت میں مرتب اور مدوّن کیا اور اس پر اعراب و نقطے لگوائے تھے جبکہ یہ بات خلاف ِ واقعہ ہے۔جناب پرویز صاحب لکھتے ہیں:’’ہم سمجھتے ہیں کہ اس کے بعد ’اختلاف قراء ت‘ کے فتنہ کے متعلق کچھ سمجھنے کی ضرورت باقی نہیں رہتی‘‘(طلوع اسلام، ص۵۶، شمارہ جنوری ۱۹۸۲ء، لاہور)وہ مزید لکھتے ہیں :’’قرآن مجیدجس شکل میں ہمارے پاس موجود ہے اسے خود رسول اللہﷺنے اسی طرح مرتب اور مدوّن شکل میں اُمت کو دیا تھا۔‘‘(طلوع اسلام، ص۴۲، شمارہ جنوری۱۹۸۲ء، لاہور)اسی طرح ایک اور منکرِ حدیث رحمت اللہ طارق صاحب نے لکھا ہے :’’اختلاف قراء ت کا فتنہ ہی لے لیجئے جس کا مودودی صاحب جیسا شخص نہ صرف معترف اور معتقد ہے بلکہ سرگرم مبلغ اور پُرجوش ناشر ہے۔‘‘(اعجاز قرآن و اختلاف قراء ت، مرتبہ تمنا عمادی:۷۴۲) طارق صاحب نے مزید لکھا ہے :’’ لَوْ کَانَ مِنْ عِنْدِ غَیْرِ اﷲِ لَوَجَدُوْا فِیْہِ اخْتِلَافًا کَثِیْرًا ‘‘...

جمع قرآن اور اس کی تدوین

جمع قرآن اور اس کی تدوین جمع قرآن سے مراد قرآن کریم کا جمع کرنا۔ خواہ حفظ سے ہو یا کتابت سے یا تلاوت کی ریکارڈنگ سے۔ اور تدوین سے مراد اس کو کتابی صورت میں ترتیب دینا ہے۔ان سب مراحل کی ایک دل چسپ معلوماتی تاریخ ہے جسے ایک طالب علم کے لئے جاننا بہت اہم ہے۔تاکہ وہ آگاہ رہے کہ یہ مقدس کتاب کس طرح کن کن ادوار سے گذر کر محفوظ ترین صورت میں ہم تک پہنچی؟مقصد جمع قرآن: جمع قرآن کا مقصد یہی تھا کہ جس طرح قرآن مجید آپ ﷺ پر اترا ہے اور جس طرح آپ نے اسے پڑھا یا سکھایا ہے اسے لکھ کر محفوظ کرلیا جائے۔ یہ اللہ کا حکم تھا تاکہ مستقبل میں ممکنہ اختلاف جو قراءت یا اس کے الفاظ ، ترتیب اور لغت میں پیدا ہوسکتا ہے وہ نہ ہوسکے۔ اللہ تعالیٰ نے خود بھی اس کی حفاظت کی ذمہ داری لی مگر اس حفاظت کا کام صحابہ رسول اور امت کے قراء وحفاظ سے بھی لیا۔جمع قرآن کی دلیل: آپ ﷺ قرآن کی تنزیل میں سخت شدت محسوس کیا کرتے۔ اور اپنے ہونٹوں کو حرکت دیا کرتے تھے۔ جیسا کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت صحیحین میں ہے۔تو اللہ تعالیٰ نے ابتداء میں ہی یہ فرمادیا : {لَا تُحَرِّكْ بِہٖ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ...

عورت، اسلام کی نظر میں

عورت جاہلیت میں نہایت ذلیل وحقیر چیز تھی یہاں تک کہ اسلام آیا تو اس نے اسے ایسی عزت وتکریم بخشی جس کی کوئی نظیر نہیں۔ اس نے جاہلیت کے مظالم سے اسے نجات دی اور اس کے حقوق کا ضامن وکفیل ہوا۔ اس نے عورت کو بہت سی دینی واجبات اور ثواب وعقاب میں اسے مردوں کے مساوی قرار دیا۔ چنانچہ اسے اسلام میں بہت زیادہ عزت وتکریم ملی ۔ إن الحمد لله، نحمده, ونستعينه، ونستغفره، ونعوذ بالله من شرور أنفسنا وسيئات أعمالنا، من يهده الله فلا مضل له، ومن يضلل فلا هادى له، وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له، وأشهد أن محمداً عبده ورسوله،وقد قال اللہ تبارک وتعالی فی محکم تنزیلہ، أعوذ باللہ من الشیطان الرجیم: (مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّن ذَكَرٍ أَوْ أُنثَىٰ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهُ حَيَاةً طَيِّبَةً ۖ وَلَنَجْزِيَنَّهُمْ أَجْرَهُم بِأَحْسَنِ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ) (النحل: 97)"جو شخص نیک عمل کرے مرد ہو یا عورت، لیکن باایمان ہو تو ہم اسے یقیناً نہایت بہتر زندگی عطا فرمائیں گے۔ اور ان کے نیک اعمال کا بہتر بدلہ بھی انہیں ضرور ضرور دیں گے۔"وقال النبی صلی اللہ علیہ وسلم: )إنما النساء شقائ...

خیرخواہی وامانت داری

خیرخواہی وامانت داری خیر خواہی دین کی بنیاد ا ور اس کا جوہر ہے۔ دین دراصل خیر خواہی کا نام ہے۔ خیرخواہی اللہ کی، اس کے کتاب کی، اس کے رسول کی، مسلم ائمہ وحکمرانوں کی اور عامۃ المسلمین کی ہوتی ہے۔ پس جب ان تمام کے حق میں بندہ خیرخواہ ہوگا تو اس کا دین کامل ہوگا اور جس میں ان میں سے کسی کی خیرخواہی میں کمی و کوتاہی ہوگی تو اسی قدر اس کے دین میں نقص وکمی ہوگی۔ مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اپنی خیرخواہی میں امانت کو ملحوظ رکھے اور بغیر کسی مداہنت ومجاملت کے حق کو بیان کرے۔ یہی شخص اللہ کے نزدیک امین ہوگا۔ إن الحمد لله، نحمده ونستعينه ونستغفره، ونعوذ بالله من شرور أنفسنا، وسيئات أعمالنا، من يهده الله فلا مضل له، ومن يضلل فلا هادى له، وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له، وأشهد أن محمداً عبده ورسوله۔ أما بعد: فإن خیر الحدیث کتاب اللہ، وخیر الھدی ھدی محمد صلی اللہ علیہ وسلم، وشر الأمور محدثاتھا، وکل محدثۃ بدعۃ، وکل بدعۃ ضلالۃ، وکل ضلالۃ  فی النار۔  وقد قال اللہ تبارک وتعالی فی کتابہ المجید: (إِنَّ اللَّـهَ يَأْمُرُكُمْ أَن تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَىٰ أَهْلِهَا وَإِذَا حَ...