Skip to main content

یہودی پروٹوکولز


Online Read یہودی پروٹوکولز
==============================================
Online Read E Book یہودی پروٹوکولز
==============================================
Download Free یہودی پروٹوکولز
----------------------------------------------------
Download Free یہودی پروٹوکولز
----------------------------------------------------

Comments

  1. اسلام علیکم
    آج ایک دستاویز پڑھنے کا موقع ملا جس میں صہونیوں نے اپنا گریٹر اسرائیل کا پلان بتایا گیا ہے کہ وہ کس طرح دنیا پر قابض ہوں گے اور کس طرح حکومت کریں گے ۔ کس طرح انہوں نے دنیا کو بے وقوف بنایا ہوا ہے آزادی صحافت ، آزادی رائے جیسی جو خرافات انہوں نے ہم میں پیدا کی ہیں اس سے وہ کس طرح اپنا مقصد حاصل کر رہے ہیں۔ اور آخر میں انہوں نے بتایا ہوا ہے کہ وہ کس طرح حکومت کریں گے آزادی رائے کا پرچار کرنے والے کس طرح اپنے خلاف اٹھنے والی ہر آواز دبا دیں گے اور سٹاک مارکیٹ جیسے تصوارت جو ان لوگوں نے پیدا کیے ھوئے ہیں جو وہ چاہتے ہیں کہ بعد میں ختم کردیں گے ۔ کس طرح انہوں نے دوسرے ممالک کو قرضوں جیسی لعنت میں پھنسایا ھوا ہے۔ آخر میں انہوں نے چند پروٹوکول لکھے ہیں کہ وہ جب حکومت کریں گے تو کس طرح کریں گے۔

    ReplyDelete

  2. یہودیوں نے اپنے مذہب کو اعلی و ارفع ثابت کرنے اور مثالی یہودی حکومت کے قیام کے لیے پروٹوکولز تیار کیا ہے جن کا تعلق زندگی کے سبھی شعبہٴ حیات سے ہے جس میں اس کے اغراض ومقاصد کے ساتھ ساتھ ان کے طریقہٴ نفاذ پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے پروٹوکول نمبر14 جو مذاہب وزبانوں کے بارے میں ہے جس کا عنوان ہے ”دنیا کے سارے مذاہب کے خلاف جنگ اور فحش ادب کا فروغ“۔
    مذاہب کے بارے میں پروٹوکول14 میں کہا گیا ہے ” ہمارے فلاسفر غیر یہودیوں کے مختلف اعتقادات کی تمام خامیوں کو زیرِ بحث لائیں گے، ان کا مذاق اڑائیں گے، اور ان کے پیروکاروں کو اعتقادات ومذاہب سے بدظن کریں گے تاکہ لوگ مذہب سے بیزار ہو کر ان کے راستہ پر چل پڑیں۔
    اسی پروٹوکول کی ایک شق ہے ”فحش لٹریچر کا فروغ“ اس میں درج ہے ”ہم عوام کی تقریروں اور تفریحی پروگراموں کے ذریعہ مخربِ اخلاق ادب کی حوصلہ افزائی کرتے رہیں گے، ہمارے دانشور جنہیں غیر یہود کی قیادت سنبھالنے کی تربیت دی جائے گی، ایسی تقاریر ومضامین تیار کریں گے جن کا ذہن فوراً اثر قبول کریں گے تاکہ نئی نسل ہماری متعین کردہ راہوں پر گامزن ہوسکیں،،۔
    اس پروٹوکول کو عملی جامہ پہنانے کے لیے یہودیوں نے دنیا کے ہر گوشہ میں اپنے ایجنٹ مقرر کررکھے ہیں جو زرخرید غلاموں کی طرح ان کے اشاروں پر رقص کرتے ہیں، ان کے افکار ونظریات کی تبلیغ کرتے ہیں، اپنی تقریروں وتحریروں سے سادہ لوح عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں، کبھی مختلف لسانی تحریکوں کے سہارے فحش لٹریچر کی نشرواشاعت کرکے، کبھی مذہب مخالف افکار و نظریات کا پرچار کرکے اور کبھی دین پسند ومذہبی لوگوں کو بے وقوف ونادان ثابت کرکے۔

    ReplyDelete

  3. پاکستان اور انڈیا میں، اردو زبان میں لکھنے والے ایسے زر خرید غلاموں کی ایک بڑی ٹیم ہے جو اپنے آقا کے اشاروں کے مطابق ہی کام کرتی ہے۔ چونکہ ان کے آقا کے خاص نشانے پر ہے ؛مذہب ِاسلام اور مذہبی مسلمان۔ اس لیے یہودی پروٹوکول کے مطابق، یہ زر خرید غلام اپنی تحریروں و تقریروں سے اسلام کے بنیادی عقائد کو نشانہ بناتے ہیں، اپنی خودساختہ عقلی دلیلوں سے مبادیٴ اسلام کا انکار کرتے ہیں اور اپنے فلسفیانہ وعقلی ومنطقی دلائل سے اپنے قارئین کو یہ باور کرانے کی کوشش کرتے ہیں کہ مبادیٴ اسلام واسلامی عقائد ہی ان کی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے، اسلام ہی نے ان کی قوتِ فکر کو مفلوج کردیا ہے۔ اس طرح وہ اپنے قارئین کی ذہنوں میں دین کے بارے میں شک کا بیج بونے میں کامیاب ہوجاتے ہیں اور پھر اس کی مسلسل آبیاری کرتے رہتے ہیں جب تک کہ وہ الحاد وزندیقیت کا ایک تناور درخت نہیں بن جاتااور جس کی بیخ کنی تقریباً ناممکن ہو۔
    یہ خود ساختہ دانشورانِ اردو مذہبی مسلمانوں کو، یہودی پروٹوکول کے مطابق، اپنی لعن و طعن کا نشانہ بھی بناتے ہیں، ان کے مختلف مذہبی اعتقادات کا مذاق اڑاتے ہیں، ان کے مذہبی حرکات وسکنات پر قہقہے لگاتے ہیں اور الٹے سیدھے اخباری بیانات کے ذریعہ ان کو ذہنی اذیت پہنچاتے ہیں۔
    قوم یہود کی پالیسیوں کے مطابق، اردو کے ان نام نہاد مصنفوں اور خودساختہ دانشوروں نے پاکستان اور انڈیا میں ایک گھناوٴنا ادبی و ثقافتی ماحول تیار کیا ہے جسکی اساس ہے مے نوشی، عریانیت وفحاشیت اور جنسی ہوس پرستی۔ یہ خود شراب کے نشہ میں دھت رہتے ہیں اور اپنی تحریروں سے اپنے قارئین کو بھی اسکی طرف راغب کرنے کی کوشش کرتے ہیں، یہ فحش کاری کے بدترین جرائم کا ارتکاب کرتے ہیں اور اس پر نادم وشرمندہ ہونے کے بجائے، نہ صرف اس کا اظہار اپنے ندیموں کی محفل میں کرتے ہیں بلکہ ان سیاہ کارناموں کو نمک مرچ لگا کر اپنے تحریروں کے ذریعہ قارئین تک پہنچاتے ہیں تاکہ انہیں صراطِ مستقیم سے نکال کر اس راستہ پر چلنے کے چھوڑ دیں جس راستے میں قدم قدم پر دلدل ہے تاکہ وہ اس میں دھنستا رہے یہاں تک کہ اس کا وجود ختم ہوجائے۔

    ReplyDelete

  4. ان خودساختہ دانشوروں نے اس یہودی طرزِ تحریر کو اتنا جاذب و دلکش بنا دیا ہے کہ اردو زبان کا ہر رنگ روٹ کاسی فکرواسلوب کو اپنانے کی کوشش کرتا ہے۔ اب اردوزبان کی یہ عام روایت بن گئی ہے کہ ا س زبان میں جو شخض اسلام کے خلاف جو نازیبا کلمات ادا کرے، مسلمانوں کو گالیاں دے، ان کو دہشت گرد ثابت کرے اور اسلام کو دہشت گردی کا مذہب قرار دے، زیادہ فحش وعریاں لٹریچر لکھے، شراب پئے اور اپنے آپ کو جتنا بڑا شرابی ثابت کرلے جائے وہ اتنے ہی بڑے انعام واکرام اور ایوارڈ کا مستحق ہوتا ہے۔ ایسے خود ساختہ دانشوروں کی خوب پذیرائی ہوتی ہے ان پر انعام واکرام کی بارش کی جاتی ہے، انہیں ایوارڈس سے نوازا جاتا ہے،اندرون وبیرون ملک کے سفر کرائے جاتے ہیں اور اردو اخبارات ورسائل میں یہ تشہیر کیا جاتا ہے کہ یہی حضرات ہیں اصلی وحقیقی دانشور، یہی ہیں خادمِ اردو، اور اردو کی فروغ وترقی کے لیے یہ حضرات ہمیشہ کوشاں رہتے ہیں۔ انہیں حضرات کی کوششوں سے اردو اب تک نہ صرف زندہ ہے بلکہ اردو کا فروغ ہورہا ہے اور مسلسل ترقی کے مراحل طے کررہی ہے۔
    ذرا کوئی ان خود ساختہ دانشوروں سے پوچھے کہ کیا دو چار فحش افسانے اور غزلیں لکھ دینے سے کیا کوئی خادمِ اردو ہوجاتا ہے؟
    اردو کے سچے اور مخلص خادم ہیں مدارسِ اسلامیہ اور ان کے اساتذہ وطلباء۔ یہ وہ حضرات ہیں جن کا اوڑھنا بچھونا اردو ہے، اردو ہی بولتے اور لکھتے ہیں، اردو میں ہی مختلف سماجی و دینی مسائل پر مضامین لکھتے ہیں، اردو جرائد ومجلات نکالتے ہیں، اردو میں ہی سیرت، مغازی، تاریخ، تفسیر و حدیث کی ضخیم کتابیں تصنیف کرتے ہیں نیز ان کا اسلوب نگارش نیز فکرو خیال ان خودساختہ دانشوران اردو سے کہیں ارفع واعلی ہوتا ہے۔ اسے مصنفین کی ایک طویل فہرست ہے جیسے عبدالماجد دریابادی، سلیمان سلمان منصوپوری، علامہ شبلی نعمانی، سید سلیمان ندوی، مولانا ابوالحسن ندوی، قاضی اطہر مبارکپوری، شیخ صفی الرحمن مبارکپوری ، عبدالمعید مدنی وغیرہ۔
    ان مخلص دانشوروں نے ہمیشہ سماجی فلاح وبہبود، اصلاحِ معاشرہ، اسلامی ثقافت، برگزیدہ شخصیات، جیسے اہم موضوعات کو اپنی تحریروں کا موضوع بنایانیز ہر اس فکر کی مخالفت کی جو کسی بھی مہذب معاشرہ کے لیے نقصان دہ ہو۔ ان کا اسلوبِ نگارِش بھی معیاری ہے جس میں پختگی و سادگی ہے لیکن ایسے جلیل القدر مصنفین کو کبھی نہیں سراہا گیا، ان کے اوپر کبھی انعام واکرام و ایوارڈس کی بارش کی گئی۔ اس کی واحد وجہ یہ ہے کہ ان محترم شخصیات نے کبھی بھی تخریبی ادب تخلیق نہیں کیا جو یہودی پروٹوکولز کے عین مطابق ہو۔ اگر یہ حضرات بھی وہی کرتے جو اس پروٹوکولز کا تقاضہ ہے تو ان پر بھی انعام و اکرام کی بارش کی جاتی۔
    مسلمانو! جوش سے نہیں ہوش سے کام لو، رطب ویابس، تعمیری اور تخریبی ادب کو پہچانو، تعمیری ادب کو دل سے لگاوٴ اور تخریبی ادب کا بائیکاٹ کرو، بہروپئے اور سنجیدہ مصنفین و ادباء کو کے درمیان فرق کو سمجھو، سنجیدہ، شریف اور صاف گو جرائدومجلات و مصنفین وادباء کا دامے درمے قدمے سخنے ساتھ دو۔ فحاشی و عریانیت کو عام کرنے والے یہودی ایجنٹوں کو دھتکارو، اپنے افرادِ خانہ کو تعمیری ادب پڑھنے کی تلقین کرو اور تخریبی ادب سے باز رکھو۔ یہودی ایجنٹوں کے حربہ کو پہچانو جو مسلم معاشرہ میں مشاعروں، ادبی محفلوں اور فحش لٹریچر کے ذریعہ عریانیت و فحش کاری کو عام کرنا چاہتے ہیں جو ادب برائے اصلاحِ معاشرہ نہیں بلکہ ادب برائے ذہنی عیاشی ہے۔


    اس دستاویز کو ضرور پڑھیے ۔
    http://fundamentalsofislam.blogspot.com/2012/08/yahoodi-protocols.html
    -------------------------------------------------------------------------
    http://en.wikipedia.org/wiki/The_Protocols_of_the_Elders_of_Zion

    ReplyDelete

  5. تقسیم فلسطین کے وقت مسلمانوں کو فلسطین کا خطہ ۵۳ فیصد دیا گیا اور اسرائیل کے یہودیوں کو فلسطین کا ۴۷فیصد حصہ دیا گیا لیکن تقسیم فلسطین کے اعلان کے بعد یہودیوں نے جارحیت کے ذریعے فلسطین کے ۷۰فیصد خطے پر برطانیہ اور امریکہ کی سرپرستی میں قبضہ کرلیا بالکل اسی طرح جس طرح تقسیم ہند کے وقت بھارت نے کشمیر کے ۷۰ فیصد علاقے پر زبردستی قبضہ کیا تھا۔

    یہود کے بزرگوں کی صدیوں پرانی خواہش ہے اس مقصد کیلئے یہود کے اکابرین صدیوں سے سازشیں کرتے چلے آ رہے ہیں۔ اس بات کا انکشاف کینیڈا میں ۱۹۹۳ء میں چھپنے والی کتاب پاؤن اِن دی گیم" میں اس کے مصنف بحریہ کے کمانڈر ولیم نے کیا۔ مصنف مذکور نے تحریری شہادتوں کے حوالے سے لکھا ہے تمام عالمی جنگوں اور بغاوتوں کے پیچھے یہودی ہاتھ صاف نظر آتا ہے۔ یہودی ساری دنیا پر اور خصوصاً عالم اسلام پر جس طرح قبضہ کرنا چاہتا ہے وہ پلان اس نے اس کتاب میں بے نقاب کئے ہیں۔ وسیع تر اسرائیل کا یہودی پلان اس منصوبے کا اہم حصہ ہے امریکہ اور اس کے حواری یہود کے اس پلان کی تکمیل کیلئے اسرائیل کیلئے کام کر رہے ہیں۔ دنیا پر صیہونی تسلط کیلئے ۱۸۹۷ء میں یہودیوں کی تنظیم فری میسن کے اعلیٰ درجے کے اکابرین نے کئی برسوں کے صلاح مشوروں کے بعد "پروٹوکولز" کے نام سے ایک دستاویز تیار کی، پروٹوکولز کا نام پانے والی دستاویزات کی کل تعداد ۲۴ہے۔ ۱۹۰۵ء میں روس کے ایک چرچ کے پادری پروفیسر سرجائی اے نائلس نے ان دستاویزات کو ایک کتابچے کی شکل میں روسی زبان میں شائع کر دیا۔ ۱۹۱۹ء اور ۱۹۲۰ء اس کے انگریزی ترجمے امریکہ اور برطانیہ میں شائع ہوئے۔ نائلس کو اس کتابچے کی ایک نقل اس کے ایک دوست کے ذریعے ملی جو کہ اصل مسودے کا صحیح ترجمہ تھا۔ یہ مسودہ انتہائی خفیہ اجلاس کی کارروائی پر مشتمل تھا جو ایک عورت چرانے میں کامیاب ہو گئی جو کہ فرانس میں منعقد ہوا جس کا آغاز فرانس سے ہوا تھا اس خفیہ اجلاس کا نام تھا۔ MASONIC CONSPIRACY The nest of Jewish
    (یہودی خفیہ تنظیم کی سازشوں کا آشیانہ) اس کتابچے کا نام "Protocols of the meeting of the Zions elders." ہے۔
    پاکستان میں پہلی بار مصباح السلام فاروقی نے "جی وِش کنسپائریسی" کے نام سے پروٹوکولز کا انگریزی ترجمہ شائع کیا۔ یہودی اس کے نسخے خرید کر تلف کرتے رہے۔ پروٹوکولزکے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ دنیا میں رونما ہونے والے بیشتر اہم واقعات، انقلابات، حکومتوں کی تبدیلیاں وغیرہ صیہونی منصوبوں کے مطابق ہوتی ہیں۔ ۱۹۱۷ء کا روس کا کمیونسٹ انقلاب بھی اسی منصوبے کا حصہ تھا مارکس اور لینن دونوں یہودی تھے، ملاحظہ ہو پروٹوکولز کا مندرجہ ذیل پیراگراف ”ترجمہ… ماضی کے واقعات نے یہ ثابت کردیا ہے کہ دنیا میں رونما ہونے والے بڑے بڑے واقعات یہودی بزرگوں کے مرتب کردہ خفیہ دستاویزات کے عین مطابق رونما ہو رہے ہیں۔ پوری دنیا میں جنگ وجدل، انقلابات، قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ، مستقل بے چینی دراصل چور دروازوں سے پوری دنیا کو زیرنگیں کرنے کے حربے ہیں۔
    پروفیسر نائلس کو روس کی کمیونسٹ حکومت سے پروٹوکولز کا انکشاف کرنے پر قید کی سزا ملی اور وہ قید میں ہی اذیتیں پا کر جنوری ۱۹۲۹ء کو انتقال پاگیا۔ پروفیسر نائلس کی کتاب پر پابندی لگادی گئی اور کتاب اپنے پاس رکھنے پر سزائے موت کا اعلان کیا گیا۔اس کتاب میں بینجمن ڈزرائلی (اصل نام اسرائیلی) نے ۱۸۴۸ء میں کہا تھا۔ ترجمہ ”کوئی سوچ بھی نہیں سکتا کہ دنیا کے جو حکمران نظر آ رہے ہیں ان کے پیچھے حکومت کرنے والے ہاتھ اور ہوتے ہیں اس نے کہا کہ درپردہ لوگ تمام کے تمام یہودی ہوتے ہیں“۔

    ReplyDelete
  6. https://www.facebook.com/photo.php?fbid=338528869500461&set=a.338528589500489.86976.180842661935750&type=1&theater

    ReplyDelete

  7. اس قسم کی کتاب کی تشہیر تو کیا اس کا ذکر بھی امریکہ ، جرمنی اور دوسرے مغربی ممالک میں خودکشی کے مترادف ہوتا ہے - اس لیے ان " جمہوری" ممالک کے عوام کے لیے ان میں لکھیں باتیں انہونی اور بالکل ناممکن معلوم ہوتی ہیں -

    ReplyDelete

  8. ایک مشہور پروٹوکول کے مطابق ایسے افراد کو قومی حکمرانی سونپی جائے گی جنکا ماضی کالا ہو، تاکہ وہ اپنے پوشیدہ "راز" افشاں ہونے کے خوف سے رہتی حکومت تک صیہونی ایجنڈے کی غلامی کریں۔ غالبا کلنٹن نے انکے کسی حکم کی منافی کی ہوگی، جسکی بنا پر اسکا اسکینڈل بنوا کر ذلیل و رسوا کیا گیا۔

    ReplyDelete

  9. ہودیوں کی سازشیں اپنی جگہ، لیکن یہ یہودی دنیا والوں پر اپنی مزعوم قدرت اور دنیاوی نظام پر اپنی تصوراتی گرفت کے اظہار کے لئے دنیا کے ہر قوم ومذہب کے عوام کو یہ باور کراتے رہتے ہیں کہ ہمارا درپردہ کتنا اختیار ہے، تمہارے نظاموں پر۔ تاکہ بے دنیا کی اکثریت کے حامل بے سروسامان نا سمجھ لوگ انہی کو کل طاقت کا دیوتا سمجھ کران سے پینگیں بڑھائیں۔

    ReplyDelete

  10. جمہوریت ایک باطل نظامِ حکومت ہے جو کفار نے اسلام کے نظامِ سیاست خلافت کے مقابلے پر بنایا ہوا ہے، ہم کبھی بھی فلاح نہیں حاصل کرسکتے جب تک اس باطل نظام کی جگہ اسلام کا نظام حکومت خلافت قائم نہیں کریں گے۔
    اس پر ایک تحریر کا مطالعہ فرمائیں ڈاؤنلوڈ لنک یہ ہے۔
    http://www.4shared.com/document/KqHfPTfu/___online.html

    ReplyDelete

  11. یہودیوں کا انجام انشاءاللہ قریب ہے۔ اس بات کا پتہ قران کریم کی سورہ بنی اسرائیل سے ملتا ہے۔ جس میں اللہ تعالی نے واضع طور پر اس بات کی خبر دی تھی کہ یہودیوں کو بیت المقدس کا قبضہ دوبارہ دیا جائے گا۔ اور اس قرآنی پیشگوئی کو پورا ہوتے تو ہم سب نے دیکھ لیا ہے کہ قریبا 60 برس قبل ایک سازش کے تحت یہودیوں کو دوبارہ بیت المقدس میں جمع کیا گیا۔ اس کے آگے اللہ تعالی نے اسی سورہ میں یہ بیان کیا ہے کہ پھر اگر تم اپنی شرارتوں سے باز نہ آئےتو تمہیں نشان عبرت بنا دیا جائے گا۔ جس طرح اس قرآنی پیشگوئی کا پہلا حصہ نہایت صفائی سے پورا ہوچکا ہے اس طرح یہ بھی ہمارے سامنے ہے کہ وہ اپنی شرارتوں سے باز نہیں آرہے۔ لہذا اس کا دوسرا حصہ کہ اگر وہ باز نہ آئے تو انہیں نشان عبرت بنا دیا جائے گا اب اس کے پورا ہونے کا انتظار ہے ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ مسلمان اعمال صالح بجا لائیں تاکہ اللہ تعالی کا یہ وعدہ جلد پورا ہوتے ہوئے ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں۔

    ReplyDelete

  12. مسلمان تو کیا ، دنیا کی “اکثریت“ جو کہ جمہوریت پر یقین رکھتی ہے، وہ انسے نا علم ہے ۔ جمہوریت کی آڑ میں جیسے گھناؤنے جرم و ظلم یہ صیہونی افراد کر چکے ہیں۔ ان سے پردہ فاش کرنا ضروری ہے۔

    ReplyDelete

  13. ناظرین محفل کو پر مسرت اطلاع یہ دینی ہے کہ مشہور ترین مگر خفیہ اور ہمیشہ جھٹلائے جانے والے The Protocols of the Elders of Zion (صیہونی و یہودی پروٹوکولز) کا اردو ترجمہ اب ایک ای بک کی شکل میں دستیاب ہے:
    http://docs.google.com/fileview...
    اس کتاب کے مطالعہ کے بعد آپکو دنیا میں موجود پیشتر مسائل:
    غربت، بے روزگاری، نفسا نفسی، مادہ پرستی، بے اسکونی، جنگ و دجل ، مقروض عوام، جرائم اور فحاشی جیسے تمام مسائل کی موجودگی کی اصل وجہ معلوم ہو جائے گی۔ یاد رہے کہ یہ کتاب آپ انکو ’’اسلامی حل‘‘ نہیں بلکہ صرف وجوہات بیان کرتی ہے۔
    یہ صیہونی پروٹوکولز متعدد اعلیٰ پایہ کے تاریخ دان جھٹلا چکے ہیں کہ ہماری تاریخ کا حصہ نہیں ہیں۔ جبکہ موجودہ حالات سو فیصد انکی موجودگی کا اقرار کرتے ہیں، جو کہ آج سے ۱۰۰ سال قبل لکھے گئے:
    http://en.wikipedia.org/.../The_Protocols_of_the_Elders...

    ReplyDelete

Post a Comment

Popular posts from this blog

Yusufzai (Pashtun tribe)

The  Yūsufzai  (also  Youssofzay ,  Yousefzai ,  Yousafzai ,  Esapzey ,  Yousufi , or  Yūsufi ) (Pashto:  يوسفزی ,Persian and Urdu:  یوسف زئی ) is one of the largest Pashtun (Afghans) tribes. The majority of the Yusufzai tribe reside in parts of Western Afghanistan, Khyber Pakhtunkhwa and Provincially Administered Tribal Areas near the Afghan-Pakistan border. They are the predominant population in the districts of Konar, Ningarhar, Mardan District, Dir, Swat,Malakand, Swabi, Buner, Shangla, Haripur District [Khalabat Town Ship and Tarbela] and in Mansehra and Battagram. There is also a Yusufzai clan of Dehwar tribe in the Mastung district of Balochistan who speak Persian with some mixture of Birahvi words. The descendants of Yusuf inhabit Konar, Jalalabad, Swat, Upper Dir, Lower Dir, Malakand Swabi and Mardan...

اسلامی عقیدہ کا اہم پہلو الوَلاء والبراء

وَلاء کے معنی بیان کرتے ہوئے امام راغبؒ نے فرمایاہے کہ ’ولائ‘ کے اصل معنی ’’دو یا دو سے زیادہ چیزوں کااس طرح یکے بعد دیگرے آنا کہ ان کے درمیان کوئی ایسی چیز نہ آئے جو ان میں سے نہ ہو۔ پھر یہ لفظ استعارہ کے طور پر قرب کے معنی میں استعمال ہونے لگا ہے، خواہ وہ قرب بلحاظ مکان ہو یا بلحاظِ نسب، یا بلحاظِ دین اور دوستی و نصرت کے ہو، یا بلحاظِ اعتقاد کے۔ ‘‘ (المفردات،ص۵۵۵) اسی سے لفظ ’ولی‘ ہے جس کی ضد ’عدوّ‘ (دشمن) ہے اور اسی سے ’الموالات‘ اور ’المواسات‘ ہے جس کے معنی میں تقرب، دوستی، تعاون، مدد، صلح، اور غم خواری کا مفہوم پایا جاتاہے۔ وَلاء کے مقابلے میں بَراء ہے جس کے اصل معنی:کسی ناپسندیدہ اور مکروہ امر سے نجات حاصل کرنا کے ہیں۔ اسی لئے کہا جاتاہے: براء تُ من المرض’’میں تندرست ہوگیا، میں نے بیماری سے نجات پائی۔‘‘ اوریوں بھی کہا جاتا ہے: براء تُ من فلان یعنی ’’میں فلاں سے بیزارہوں۔‘‘ گویا’ولائ‘ میں موالات ہے اور ’برائ‘ میں انقطاع اور بیزاری مراد ہے اور یہ دونوں حقیقۃً ’محبت‘ اور’بُغض‘کے تابع ہیں اور یہی دونوں ایمان کی بنیادی صفات ہیں۔ رسول اللہﷺ کاارشاد ہے : ’’من أ...

HUMPHREY KE AITRAFAT URDU PDF BOOK

Title : Humphrey Key Aitrafat Format : PDF Password : iloveislam More : Humphrey Key Aitrafat Urdu Pdf Book Download , Download Humphrey K Aitrafat Free , Free Download Humphrey Kay Aitrafat Urdu Book , Read Online Humphrey Key Aitrafat Urdu Pdf Book Free Download Online Read and Download Online Read

Muslim Christian Dialogue

Title: Muslim Christian Dialogue Author: H. M. Baagil, M.D. Category: Introduction to Islam Filetype: pdf Filesize: 556 KB Description: Download

Dajjal Part 1, 2, 3. Kon? Kahan? Kab? Mufti Abu Lubaba Shah Mansoor

All Parts Download Download 1 Download 2 Download 3

Parliament se bazar e husn tak پارلیمنٹ سے بازارحسن تک

Ziddu Download 4shared Download Mediafire Download Download Online Read

Mustanad Majmua -e- Aurad -o- Wazaif

Read Online [77.8 M]

Islamiat Notes in Urdu For Class 11th And 12th

  Read Online

JAVED NAMA BY DR. IQBAL URDU TRANSLATION PDF

Title : Javed Nama Author : Dr Allama Iqbal Format : PDF Size : 2.37 Mb More :   Allama Iqbal  and  Allama Asad , two great scholars of 20th century predicted and recognized the ‘era of deception/dajjal’, some  80  years ago by looking at the immoral faithless civilization and irreligious education system of the West. The excerpts posted below from Books  ‘Javed Nama by Allama Iqbal’  and  ‘Road to Mecca by Muhammad Asad’  are eye-opener for Muslims. Urdu translation of some pages from 'Book: Road to Mecca', Chapter ‘Dajjal’ are added to explain it for Urdu readers.  Download Online Read Online Read in English Version