پردہ
اپنی مقررہ حدود کے ساتھ ایک شرعی حکم اور دینی ہدایت ہے جس کی بنیادیں
کتاب و سنت ان کی فقہی تشریحات اور تعامل سلف میں قاءم ہیں اور وہ ان ہی
بنیادو ں پر ہر دور میں بلا انقطاع امت مرحومہ کا معمول رہتا آرہا ہے۔ وہ
کوءی فرضی یا اختراعی چیز نہیںجسے کسی فرد یا سوساءٹی نے ہنگامی مصالح کے
تحت تجیز کر لیا ہو اور اس کے رواج پذیر ہوجانے سے مسلمانوں کے ماحول میں
خواہ مخواہ شرعی حیثیت دیدی گءی ہو۔مگر ایک عرصہ سے یہ شرعی حکم افراط و
تفریط کا شکار ہو گیا ہے جس سے عوام میں اسکی شرعی حیثیت اور بنیادی حقیقت
مشتبہ ہو گءی ہے اور وہ مختلف شکوک و شبہات اور سوالات کی آماجگاہ بن کر رہ
گیا ہے۔ زیر نظر رسالہ میں مولف نے قرآنی احکام کی روشنی میں مدلل اور سیر
حاصل گفتگو کی ہے اور پردہ کس سے کرنا ہے۔اللہ سے دعا ہے کہ وہ اس رسالہ
کو مولف کے لیے توشہ آخرت اور عوام الناس کیلیے ذریعہ ہدایت بناءے ۔آمین
Title : Ghazwa-e-Hind Nabi Karim Saw ne bazat khud jis jang main shirkat ki ho ise Ghazwa ka naam diya jata hai.Lekin Rasool Allah Saw ki zuban Uqdas se aise Qawaneen bhi jari huwe jin main Aap Saw ne apni key bad hone wali jango aur Marko ko bhi Gazwa ka naam diya in me se aik gazwa hind se mutalik nabwi peshan goi hai. Gazwa Hind kitaab main musanif ne gazwa hind se mutalik nabwi peshan goi ko Mozoo behas bnaya hai . Download Link Try Mirror
Comments
Post a Comment