پردہ
اپنی مقررہ حدود کے ساتھ ایک شرعی حکم اور دینی ہدایت ہے جس کی بنیادیں
کتاب و سنت ان کی فقہی تشریحات اور تعامل سلف میں قاءم ہیں اور وہ ان ہی
بنیادو ں پر ہر دور میں بلا انقطاع امت مرحومہ کا معمول رہتا آرہا ہے۔ وہ
کوءی فرضی یا اختراعی چیز نہیںجسے کسی فرد یا سوساءٹی نے ہنگامی مصالح کے
تحت تجیز کر لیا ہو اور اس کے رواج پذیر ہوجانے سے مسلمانوں کے ماحول میں
خواہ مخواہ شرعی حیثیت دیدی گءی ہو۔مگر ایک عرصہ سے یہ شرعی حکم افراط و
تفریط کا شکار ہو گیا ہے جس سے عوام میں اسکی شرعی حیثیت اور بنیادی حقیقت
مشتبہ ہو گءی ہے اور وہ مختلف شکوک و شبہات اور سوالات کی آماجگاہ بن کر رہ
گیا ہے۔ زیر نظر رسالہ میں مولف نے قرآنی احکام کی روشنی میں مدلل اور سیر
حاصل گفتگو کی ہے اور پردہ کس سے کرنا ہے۔اللہ سے دعا ہے کہ وہ اس رسالہ
کو مولف کے لیے توشہ آخرت اور عوام الناس کیلیے ذریعہ ہدایت بناءے ۔آمین
وَلاء کے معنی بیان کرتے ہوئے امام راغبؒ نے فرمایاہے کہ ’ولائ‘ کے اصل معنی ’’دو یا دو سے زیادہ چیزوں کااس طرح یکے بعد دیگرے آنا کہ ان کے درمیان کوئی ایسی چیز نہ آئے جو ان میں سے نہ ہو۔ پھر یہ لفظ استعارہ کے طور پر قرب کے معنی میں استعمال ہونے لگا ہے، خواہ وہ قرب بلحاظ مکان ہو یا بلحاظِ نسب، یا بلحاظِ دین اور دوستی و نصرت کے ہو، یا بلحاظِ اعتقاد کے۔ ‘‘ (المفردات،ص۵۵۵) اسی سے لفظ ’ولی‘ ہے جس کی ضد ’عدوّ‘ (دشمن) ہے اور اسی سے ’الموالات‘ اور ’المواسات‘ ہے جس کے معنی میں تقرب، دوستی، تعاون، مدد، صلح، اور غم خواری کا مفہوم پایا جاتاہے۔ وَلاء کے مقابلے میں بَراء ہے جس کے اصل معنی:کسی ناپسندیدہ اور مکروہ امر سے نجات حاصل کرنا کے ہیں۔ اسی لئے کہا جاتاہے: براء تُ من المرض’’میں تندرست ہوگیا، میں نے بیماری سے نجات پائی۔‘‘ اوریوں بھی کہا جاتا ہے: براء تُ من فلان یعنی ’’میں فلاں سے بیزارہوں۔‘‘ گویا’ولائ‘ میں موالات ہے اور ’برائ‘ میں انقطاع اور بیزاری مراد ہے اور یہ دونوں حقیقۃً ’محبت‘ اور’بُغض‘کے تابع ہیں اور یہی دونوں ایمان کی بنیادی صفات ہیں۔ رسول اللہﷺ کاارشاد ہے : ’’من أ...
Comments
Post a Comment