پردہ
اپنی مقررہ حدود کے ساتھ ایک شرعی حکم اور دینی ہدایت ہے جس کی بنیادیں
کتاب و سنت ان کی فقہی تشریحات اور تعامل سلف میں قاءم ہیں اور وہ ان ہی
بنیادو ں پر ہر دور میں بلا انقطاع امت مرحومہ کا معمول رہتا آرہا ہے۔ وہ
کوءی فرضی یا اختراعی چیز نہیںجسے کسی فرد یا سوساءٹی نے ہنگامی مصالح کے
تحت تجیز کر لیا ہو اور اس کے رواج پذیر ہوجانے سے مسلمانوں کے ماحول میں
خواہ مخواہ شرعی حیثیت دیدی گءی ہو۔مگر ایک عرصہ سے یہ شرعی حکم افراط و
تفریط کا شکار ہو گیا ہے جس سے عوام میں اسکی شرعی حیثیت اور بنیادی حقیقت
مشتبہ ہو گءی ہے اور وہ مختلف شکوک و شبہات اور سوالات کی آماجگاہ بن کر رہ
گیا ہے۔ زیر نظر رسالہ میں مولف نے قرآنی احکام کی روشنی میں مدلل اور سیر
حاصل گفتگو کی ہے اور پردہ کس سے کرنا ہے۔اللہ سے دعا ہے کہ وہ اس رسالہ
کو مولف کے لیے توشہ آخرت اور عوام الناس کیلیے ذریعہ ہدایت بناءے ۔آمین
سورہ آلِ عمران هَـٰذَا بَيَانٌ لِّلنَّاسِ وَهُدًى وَمَوْعِظَةٌ لِّلْمُتَّقِينَ ﴿١٣٨﴾ یہ (قرآن) لوگوں کے لیے بیان صریح اور اہلِ تقویٰ کے لیے ہدایت اور نصیحت ہے۔ سورہ المآئدۃ يَا أَهْلَ الْكِتَابِ قَدْ جَاءَكُمْ رَسُولُنَا يُبَيِّنُ لَكُمْ كَثِيرًا مِّمَّا كُنتُمْ تُخْفُونَ مِنَ الْكِتَابِ وَيَعْفُو عَن كَثِيرٍ ۚ قَدْ جَاءَكُم مِّنَ اللَّـهِ نُورٌ وَكِتَابٌ مُّبِينٌ ﴿١٥﴾هْدِي بِهِ اللَّـهُ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَهُ سُبُلَ السَّلَامِ وَيُخْرِجُهُم مِّنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ بِإِذْنِهِ وَيَهْدِيهِمْ إِلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ ﴿١٦﴾ اے اہل کتاب! تمہارے پاس ہمارے پیغمبر (آخرالزماں) آ گئے ہیں کہ جو کچھ تم کتاب (الہٰی) میں سے چھپاتے تھے وہ اس میں سے بہت کچھ تمہیں کھول کھول کر بتا دیتے ہیں اور تمہارے بہت سے قصور معاف کر دیتے ہیں بےشک تمہارے پاس خدا کی طرف سے نور اور روشن کتاب آ چکی ہے۔جس سے خدا اپنی رضا پر چلنے والوں کو نجات کے رستے دکھاتا ہے اور اپنے حکم سے اندھیرے میں سے نکال کر روشنی کی طرف لے جاتا اور ان کو سیدھے رستہ پر چلاتا ہے۔ وَكَتَبْنَا عَلَيْه...
Comments
Post a Comment