پردہ
اپنی مقررہ حدود کے ساتھ ایک شرعی حکم اور دینی ہدایت ہے جس کی بنیادیں
کتاب و سنت ان کی فقہی تشریحات اور تعامل سلف میں قاءم ہیں اور وہ ان ہی
بنیادو ں پر ہر دور میں بلا انقطاع امت مرحومہ کا معمول رہتا آرہا ہے۔ وہ
کوءی فرضی یا اختراعی چیز نہیںجسے کسی فرد یا سوساءٹی نے ہنگامی مصالح کے
تحت تجیز کر لیا ہو اور اس کے رواج پذیر ہوجانے سے مسلمانوں کے ماحول میں
خواہ مخواہ شرعی حیثیت دیدی گءی ہو۔مگر ایک عرصہ سے یہ شرعی حکم افراط و
تفریط کا شکار ہو گیا ہے جس سے عوام میں اسکی شرعی حیثیت اور بنیادی حقیقت
مشتبہ ہو گءی ہے اور وہ مختلف شکوک و شبہات اور سوالات کی آماجگاہ بن کر رہ
گیا ہے۔ زیر نظر رسالہ میں مولف نے قرآنی احکام کی روشنی میں مدلل اور سیر
حاصل گفتگو کی ہے اور پردہ کس سے کرنا ہے۔اللہ سے دعا ہے کہ وہ اس رسالہ
کو مولف کے لیے توشہ آخرت اور عوام الناس کیلیے ذریعہ ہدایت بناءے ۔آمین
بسم اللہ الرحمن الرحیم اللہ تعالیٰ کے حقوق اللہ تعالیٰ کا حق تمام حقوق سے زیادہ ضروری ہے اور سب سے اہم ہے۔کیونکہ وہ اس کائنات کا خالق و مالک اور تمام تر امور کی تدبیر کرنے والا ہے۔وہ زندہ جاوید ہستی ہے جو تمام کائنات کا نطام سنبھالے ہوئے ہے،اس نے ہر چیز کو پیدا کیا اور اپنی حکمت بالغہ سے اس کا اندازہ کیا۔انسان کو اشرف المخلوقات بنایا ،پھر انسان کو اپنے احسانات یاد کرائے کہ اے انسان !تجھ پر اس ذات کا حق ہے جس نے نعمتوں کے ساتھ تیری پرورش کی۔تو اپنی ماں کے پیٹ میں تین طرح کے اندھیروں میں تھا۔جہاں مخلوقات میں کوئی بھی تجھے غذا یا ایسی اشیاء نہیں پہنچا سکتا تھا جو تیری افزائش اور زندگی کو قائم رکھنے والی ہوں۔اس نے ماں کی چھاتیوں میں وافر دودھ اتارا،تجھے اس کی راہ دکھلائی اور تیرے والدین کو تیرا محسن بنا دیا۔تیری امداد کی اور تجھے کامیاب کیا۔ارشاد باری تعالیٰ ہے: وَٱللَّهُ أَخْرَجَكُم مِّنۢ بُطُونِ أُمَّهَٰتِكُمْ لَا تَعْلَمُونَ شَيْا وَجَعَلَ لَكُمُ ٱلسَّمْعَ وَٱلْأَبْصَٰرَ وَٱلْأَفْدَةَ ۙ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ ﴿78﴾ ترجمہ: اور اللہ ہی نے تم کو تمہاری ماؤں کے شکم سے پیدا کیا کہ...
Comments
Post a Comment