Skip to main content

ایک غلط فہمی کا ازالہ

کل ایک صاحب نے ہمیں ایک میل بھیجا ۔ یہ میل لندن کے ایک خانساماں کے بارے میں تھا۔ وہ کھانا بنانے کے دوران قرآن شریف کی تلاوت کیا کرتا تھا۔ اسے قرآن پڑھتا ہوا دیکھ کر اس کے پوتے نے بھی قرآن پڑھنا شروع کر دیا۔ ایک دن بچے نے اپنے دادا سے پوچھا کہ دادا آپ کے ساتھ میں بھی قرآن پڑھتا ہوں لیکن میں قرآن نہیں سمجھتا!

بچے کے اس سوال کے جواب میں اس کے دادا نے اس کے ہاتھ میں وہ باسکٹ تھما دیا جس میں وہ کوئیلا لا یا کرتا تھا اور کہا کہ جاﺅ اس میں پانی بھر کر لاﺅ۔ بچہ گیا اور باسکٹ میں پانی بھر کے چلا آیا ۔اس نے دیکھا کہ باسکٹ کا پانی وہیں گرگیا تھا ۔بچہ اپنے دادا کو باسکٹ تھما تے ہوئے بولا ۔ دادا باسکٹ کا پانی وہیں گر گیا!۔ باسکٹ میں پانی نہیں بھرا جا سکتا۔ دا دا نے کہا ایک بار اور جاﺅ اور دیکھو اس بار جلدی کرنا ، بھاگ کر آنا۔بچہ نہ چاہتے ہوئے بھی دوبارہ گیا اور اس نے باسکٹ میں حسب معمول پانی بھرنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہا۔ اس بار بھی اس نے اپنے دادا کے ہاتھ میں خالی باسکٹ تھما دیا۔ دا دا کو مخاطب کرتے ہوئے اس نے کہا دادا آپ نے دیکھا کہ میں نے جلدی کی لیکن با سکٹ میں پانی نہیں لا سکا۔ باسکٹ میں پانی نہیں لایا جا سکتا۔ ساری محنت رائیگاں گئی!

بچے کی بات سن کر دادا نے کہا کہ باسکٹ اٹھا کر دیکھو ،کیا اس میں اب بھی کوئلے کی دھول لگی ہوئی ہے؟ بچے نے کہا نہیں یہ تو پوری طرح صاف ہے۔ دادا نے جواب دیا بیٹا قرآن تلا وت کرنے کا یہی فائدہ ہوتا ہے! بغیر سمجھے بھی تم تلا وت کرو گے تو اس سے تمہادا دل صاف ہوجائے گا۔جس طرح پانی تو نہیں آیا لیکن با سکٹ صاف ہوگیا۔

میل میں لکھا ہوا تھا کہ آپ ثواب کی نیت سے اس میل کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچا ئیں۔ لیکن اس کے برعکس میں نے اس میل کو ڈیلیٹ کردیا۔ آپ پوچھیں گے کہ میں نے ایسا کیوں کیا ؟

میں نے ایسا اس لئے کیا کیوں کہ یہ میل قرآن کو نہ سمجھ کر پڑھنے کا جھوٹا جواز فراہم کر رہا تھا۔ یہ میل اس بات کی تبلیغ کر رہا تھا کہ قرآن کو بغیر سمجھے بھی پڑھا جائے تو کوئی حرج نہیں ہے۔ حالانکہ خدا چاہتا ہے کہ اس کی کتاب کو سمجھ کر پڑھا جائے۔ قرآن شریف میں اس قسم کے الفاظ آئے ہیں ،افلا یتدبرون ، افلا یتفکرون، افلا یعقلون: یعنی کیا وہ تدبر نہیں کرتے ،کیا وہ غور و فکر نہیں کرتے ،اور کیا وہ عقل نہیں رکھتے۔ وہ بچہ جو باسکٹ میں پانی بھر کر لا رہا تھا وہ حقیقی بچہ نہیں تھا ۔وہ کہانی کار کا پیدا کیا ہوا جھوٹا بچہ تھا۔ وہ خدا کا پیدا کیا ہوا بچہ نہیں تھا ۔ خدا کی انڈسٹری سے تو با شعور بچے پیدا ہوتے ہیں۔ وہ ایک بار نا دانی کر نے کے بعد دوسری بار نادانی نہیں کرتے۔ وہ باسکٹ میں پانی نہیں بھرتے ۔ وہ باسکٹ سے کھیلتے ہیں۔

میرا ایک بچہ ہے جو ابھی ایک سال کا ہوا ہے۔ جب وہ سات آٹھ مہینے کا تھا تو میں نے اسے مسہری پربیٹھا دیا تھا ۔ وہ مسہری پر ہاتھ پاﺅں مارنے لگا اور نیچے گر گیا ۔ میں نے دوبارہ اسے مسہری پر بیٹھا دیا لیکن دوبارہ وہ اس پر سے نہیں گرا ۔اب جب بھی وہ مسہری کے کنارے آتا ہے زور سے رونے لگتا ہے ۔ وہ جانتا ہے کہ مسہری پر اس کی ایک حد ہے۔ اگر وہ اس سے آگے بڑھا تو اسے چوٹ کھانی پڑے گی۔ میرا یہ ماننا ہے کہ میرا بچہ کو ئی استثنائی حیثیت نہیں رکھتا بلکہ دنیا کے تمام بچے اسی طرح باشعور ہوتے ہیں، بشرطیکہ وہ خدا کا پیدا کیا ہوا بچہ ہووہ کہانی کار کا فرضی بچہ نہ ہو۔ بچے تو بے شعوری میں بھی شعور رکھتے ہیں۔ آپ سینکڑوں خواتین کو جمع کریں اور ان کے درمیان کسی بچے کو چھوڑ دیں وہ بچہ اپنی ماں کو اس بھیڑ میں پہچان لے گا۔ وہ اسی عورت کے پاس جائے گا جو اس کی ماں ہے۔

بہر کیف !میں یہ کہہ رہا تھا کہ وہ اسٹوری جھوٹی تھی ۔وہ صرف اس لئے بنائی گئی تھی تا کہ قرآن کو نہ سمجھ کر پڑھنے کا جواز فراہم كیا جائے۔ حالانکہ اللہ کو قرآن فہمی مطلوب ہے نہ کہ قرآن خوانی! میں یہاں قرآن کی سورہ الفرقان سے ایک مثال پیش کروں گا:

”کیاتم نے نہیں دیکھا کہ تمہارے رب نے سایہ کو کس طرح پھیلا دیا۔ اگر وہ چاہتا تو اسے روک لیتا، لیکن اس نے سورج کو اس کے اوپر دلیل بنا یا (تاکہ تم سورج اور سایہ کے درمیان فرق کو جانو)۔ پھر رفتہ رفتہ وہ اسے اپنی طرف سمیٹ لیتا ہے ۔اور اسی نے تمہارے لئے رات کو لباس بنا یا اور نیند کو راحت کا سبب اور صبح کو رزق کمانے کا ذریعہ ، تو کیا آپ کو لگتا ہے کہ وہ آدمی ہیں! نہیں، وہ تو جانور ہیں بلکہ اس سے بھی بدتر!(الفرقان) یعنی اگر وہ آدمی ہوتے تو رات، دن، سایہ، اور نیند پر غور کرتے، لیکن وہ تو جانور سے بھی بدتر ہیں کہ جانور اپنی ضرورت کی چیزوں کو ڈھونڈ نکالتا ہے۔ اس کے بر عکس انسان اپنے اوپر آسمان دیکھتا ہے لیکن وہ اس پر غور نہیں کرتا۔ وہ زمین پر چلتا پھر تا ہے لیکن وہ اس پر دھیان نہیں دیتا، وہ سورج کے نیچے رہتا ہے جو کہ آگ کا گولہ ہے لیکن اس کے بارے میں تفکر نہیں کرتا۔ وہ کائنات کی تخلیق کو اپنا کنسرن نہیں بنا تا ۔ حالانکہ خدا چاہتا ہے کہ انسان اس کی تخلیق پر غور و فکر کرے تاکہ اسے اپنے رب کی پہچان ہوجائے ۔

قرآن شریف میں ہے “یہ وہ لوگ ہیں جو کھڑے ہوکر بیٹھ کر اور لیٹ کر خدا کویاد کرتے ہیں، جو زمین و آسمان کی تخلیق پر غور وفکر کرتے ہیں اور کہتے ہیں اے ہمارے رب آپ نے ان کو یوں ہی پیدا نہیں کیا ۔ساری تعریف آپ ہی کے لئے، پس تو مجھے جہنم کے عذاب سے بچالے!”

انسان کی زبان سے اس قسم کی دعا اسی وقت نکلتی ہے جب کہ وہ خدا کی تخلیق پر غورو فکر کرے۔جب تک انسان تفکر کے عمل سے نہیں گزرے گا تب تک اسے خدا کی معرفت حاصل نہیں ہوسکتی !۔

Comments

Popular posts from this blog

Yusufzai (Pashtun tribe)

The  Yūsufzai  (also  Youssofzay ,  Yousefzai ,  Yousafzai ,  Esapzey ,  Yousufi , or  Yūsufi ) (Pashto:  يوسفزی ,Persian and Urdu:  یوسف زئی ) is one of the largest Pashtun (Afghans) tribes. The majority of the Yusufzai tribe reside in parts of Western Afghanistan, Khyber Pakhtunkhwa and Provincially Administered Tribal Areas near the Afghan-Pakistan border. They are the predominant population in the districts of Konar, Ningarhar, Mardan District, Dir, Swat,Malakand, Swabi, Buner, Shangla, Haripur District [Khalabat Town Ship and Tarbela] and in Mansehra and Battagram. There is also a Yusufzai clan of Dehwar tribe in the Mastung district of Balochistan who speak Persian with some mixture of Birahvi words. The descendants of Yusuf inhabit Konar, Jalalabad, Swat, Upper Dir, Lower Dir, Malakand Swabi and Mardan...

اسلامی عقیدہ کا اہم پہلو الوَلاء والبراء

وَلاء کے معنی بیان کرتے ہوئے امام راغبؒ نے فرمایاہے کہ ’ولائ‘ کے اصل معنی ’’دو یا دو سے زیادہ چیزوں کااس طرح یکے بعد دیگرے آنا کہ ان کے درمیان کوئی ایسی چیز نہ آئے جو ان میں سے نہ ہو۔ پھر یہ لفظ استعارہ کے طور پر قرب کے معنی میں استعمال ہونے لگا ہے، خواہ وہ قرب بلحاظ مکان ہو یا بلحاظِ نسب، یا بلحاظِ دین اور دوستی و نصرت کے ہو، یا بلحاظِ اعتقاد کے۔ ‘‘ (المفردات،ص۵۵۵) اسی سے لفظ ’ولی‘ ہے جس کی ضد ’عدوّ‘ (دشمن) ہے اور اسی سے ’الموالات‘ اور ’المواسات‘ ہے جس کے معنی میں تقرب، دوستی، تعاون، مدد، صلح، اور غم خواری کا مفہوم پایا جاتاہے۔ وَلاء کے مقابلے میں بَراء ہے جس کے اصل معنی:کسی ناپسندیدہ اور مکروہ امر سے نجات حاصل کرنا کے ہیں۔ اسی لئے کہا جاتاہے: براء تُ من المرض’’میں تندرست ہوگیا، میں نے بیماری سے نجات پائی۔‘‘ اوریوں بھی کہا جاتا ہے: براء تُ من فلان یعنی ’’میں فلاں سے بیزارہوں۔‘‘ گویا’ولائ‘ میں موالات ہے اور ’برائ‘ میں انقطاع اور بیزاری مراد ہے اور یہ دونوں حقیقۃً ’محبت‘ اور’بُغض‘کے تابع ہیں اور یہی دونوں ایمان کی بنیادی صفات ہیں۔ رسول اللہﷺ کاارشاد ہے : ’’من أ...

HUMPHREY KE AITRAFAT URDU PDF BOOK

Title : Humphrey Key Aitrafat Format : PDF Password : iloveislam More : Humphrey Key Aitrafat Urdu Pdf Book Download , Download Humphrey K Aitrafat Free , Free Download Humphrey Kay Aitrafat Urdu Book , Read Online Humphrey Key Aitrafat Urdu Pdf Book Free Download Online Read and Download Online Read

Dajjal Part 1, 2, 3. Kon? Kahan? Kab? Mufti Abu Lubaba Shah Mansoor

All Parts Download Download 1 Download 2 Download 3

یہودی پروٹوکولز

Online Read یہودی پروٹوکولز ============================================== Online Read E Book یہودی پروٹوکولز ============================================== Download Free یہودی پروٹوکولز ---------------------------------------------------- Download Free یہودی پروٹوکولز ----------------------------------------------------

Muslim Christian Dialogue

Title: Muslim Christian Dialogue Author: H. M. Baagil, M.D. Category: Introduction to Islam Filetype: pdf Filesize: 556 KB Description: Download

Mustanad Majmua -e- Aurad -o- Wazaif

Read Online [77.8 M]

Islamiat Notes in Urdu For Class 11th And 12th

  Read Online

مدرّسینِ قرآن کے لیے خصوصی ہدایات کتاب وسنت کی روشنی میں

پچھلی دو تین دہائیوں سے فہم قرآن کی جو تحریک پاکستان کے بڑے بڑے شہروں میں بالعموم اور شہر لاہور میں بالخصوص جس تیزی سے پھیل رہی ہے و ہ واقعتا ایک بہت ہی مستحسن امر ہے۔اوریہ کہنے میں بھی کوئی مبالغہ نہیں ہے کہ اس تحریک نے ایک بہت بڑے تعلیم یافتہ طبقے کومتأثر کیا ہے اور ہزاروں افراد کی زندگیوں کے رُخ کویکسر تبدیل کر دیا ہے ۔یہ اسی درسِ قرآن اور ترجمۂ قرآن کی کلاسز کے ہی ثمرات ہیں کہ آج ہر طرف فہم قرآن کے ادارے نظر آتے ہیں اورقرآن کے درس وتدریس کا رجحان بہت تیزی سے بڑھ رہا ہے ۔ہم فہم قرآن کی اس تحریک کے حق میں ہیں اور اس کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں،لیکن چونکہ اس تحریک کے اکثر افراد نہ تو دینی مدارس کے فارغ طلبہ یاعلماء ہیں اور نہ ہی انہوں نے ٹھوس علمی بنیادوں پر دین یعنی قرآن وحدیث کاباقاعدہ علم حاصل کیا ہوتا ہے بلکہ یہ عموما دینی اسلامی تحریکوں کے متحرک کارکنان ہوتے ہیں،اس لیے اپنی کم علمی کی وجہ سے یہ حضرات بعض اوقات لا شعوری طور پر درسِ قرآن کے اصل مقصد سے ہٹ کر ایک ایسی راہ پر چلنا شروع کر دیتے ہیں جس سے خیر کم وجود میں آتا ہے اور فتنہ پیدا ہونے کا امکان بڑھ جاتا ہے ۔ایسے مدرسین،اپ...

LALKAR BY TAHIR JAVED MUGHAL COMPLETE PARTS

Title : Lalkar  Author : Tahir Javed Mughal Parts : Complete 8 Parts Format : RAR/PDF Size : 176 Mb More : Lalkar Urdu Pdf , Free Download Lalkar Tahir Javed Mughal Complete Novel , Urdu Novel Lalkar Pdf Free Complete Download , Download Tahir Javed Mughal Novel Lalkar Complete Pdf Free Urdu BOX DOWLOAD AND ONLINE READ 1 BOX DOWNLOAD AND ONLINE READ 2 BOX DOWNLOAD AND ONLINE READ 3 BOX DOWNLOAD AND ONLINE READ 4 BOX DOWNLOAD AND ONLINE READ 5 BOX DOWNLOAD AND ONLINE READ 6 BOX DOWNLOAD AND ONLINE READ 7 BOX DOWNLOAD AND ONLINE READ 8 MEDIAFIRE DOWNLOAD AND ONLINE READ 1 MEDIAFIRE DOWNLOAD AND ONLINE READ 2 MEDIAFIRE DOWNLOAD AND ONLINE READ 3 MEDIAFIRE DOWNLOAD AND ONLINE READ 4 MEDIAFIRE DOWNLOAD AND ONLINE READ 5 MEDIAFIRE DOWNLOAD AND ONLINE READ 6 MEDIAFIRE DOWNLOAD AND ONLINE READ 7 MEDIAFIRE DOWNLOAD AND ONLINE READ 8