Skip to main content

ایک غلط فہمی کا ازالہ

کل ایک صاحب نے ہمیں ایک میل بھیجا ۔ یہ میل لندن کے ایک خانساماں کے بارے میں تھا۔ وہ کھانا بنانے کے دوران قرآن شریف کی تلاوت کیا کرتا تھا۔ اسے قرآن پڑھتا ہوا دیکھ کر اس کے پوتے نے بھی قرآن پڑھنا شروع کر دیا۔ ایک دن بچے نے اپنے دادا سے پوچھا کہ دادا آپ کے ساتھ میں بھی قرآن پڑھتا ہوں لیکن میں قرآن نہیں سمجھتا!

بچے کے اس سوال کے جواب میں اس کے دادا نے اس کے ہاتھ میں وہ باسکٹ تھما دیا جس میں وہ کوئیلا لا یا کرتا تھا اور کہا کہ جاﺅ اس میں پانی بھر کر لاﺅ۔ بچہ گیا اور باسکٹ میں پانی بھر کے چلا آیا ۔اس نے دیکھا کہ باسکٹ کا پانی وہیں گرگیا تھا ۔بچہ اپنے دادا کو باسکٹ تھما تے ہوئے بولا ۔ دادا باسکٹ کا پانی وہیں گر گیا!۔ باسکٹ میں پانی نہیں بھرا جا سکتا۔ دا دا نے کہا ایک بار اور جاﺅ اور دیکھو اس بار جلدی کرنا ، بھاگ کر آنا۔بچہ نہ چاہتے ہوئے بھی دوبارہ گیا اور اس نے باسکٹ میں حسب معمول پانی بھرنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہا۔ اس بار بھی اس نے اپنے دادا کے ہاتھ میں خالی باسکٹ تھما دیا۔ دا دا کو مخاطب کرتے ہوئے اس نے کہا دادا آپ نے دیکھا کہ میں نے جلدی کی لیکن با سکٹ میں پانی نہیں لا سکا۔ باسکٹ میں پانی نہیں لایا جا سکتا۔ ساری محنت رائیگاں گئی!

بچے کی بات سن کر دادا نے کہا کہ باسکٹ اٹھا کر دیکھو ،کیا اس میں اب بھی کوئلے کی دھول لگی ہوئی ہے؟ بچے نے کہا نہیں یہ تو پوری طرح صاف ہے۔ دادا نے جواب دیا بیٹا قرآن تلا وت کرنے کا یہی فائدہ ہوتا ہے! بغیر سمجھے بھی تم تلا وت کرو گے تو اس سے تمہادا دل صاف ہوجائے گا۔جس طرح پانی تو نہیں آیا لیکن با سکٹ صاف ہوگیا۔

میل میں لکھا ہوا تھا کہ آپ ثواب کی نیت سے اس میل کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچا ئیں۔ لیکن اس کے برعکس میں نے اس میل کو ڈیلیٹ کردیا۔ آپ پوچھیں گے کہ میں نے ایسا کیوں کیا ؟

میں نے ایسا اس لئے کیا کیوں کہ یہ میل قرآن کو نہ سمجھ کر پڑھنے کا جھوٹا جواز فراہم کر رہا تھا۔ یہ میل اس بات کی تبلیغ کر رہا تھا کہ قرآن کو بغیر سمجھے بھی پڑھا جائے تو کوئی حرج نہیں ہے۔ حالانکہ خدا چاہتا ہے کہ اس کی کتاب کو سمجھ کر پڑھا جائے۔ قرآن شریف میں اس قسم کے الفاظ آئے ہیں ،افلا یتدبرون ، افلا یتفکرون، افلا یعقلون: یعنی کیا وہ تدبر نہیں کرتے ،کیا وہ غور و فکر نہیں کرتے ،اور کیا وہ عقل نہیں رکھتے۔ وہ بچہ جو باسکٹ میں پانی بھر کر لا رہا تھا وہ حقیقی بچہ نہیں تھا ۔وہ کہانی کار کا پیدا کیا ہوا جھوٹا بچہ تھا۔ وہ خدا کا پیدا کیا ہوا بچہ نہیں تھا ۔ خدا کی انڈسٹری سے تو با شعور بچے پیدا ہوتے ہیں۔ وہ ایک بار نا دانی کر نے کے بعد دوسری بار نادانی نہیں کرتے۔ وہ باسکٹ میں پانی نہیں بھرتے ۔ وہ باسکٹ سے کھیلتے ہیں۔

میرا ایک بچہ ہے جو ابھی ایک سال کا ہوا ہے۔ جب وہ سات آٹھ مہینے کا تھا تو میں نے اسے مسہری پربیٹھا دیا تھا ۔ وہ مسہری پر ہاتھ پاﺅں مارنے لگا اور نیچے گر گیا ۔ میں نے دوبارہ اسے مسہری پر بیٹھا دیا لیکن دوبارہ وہ اس پر سے نہیں گرا ۔اب جب بھی وہ مسہری کے کنارے آتا ہے زور سے رونے لگتا ہے ۔ وہ جانتا ہے کہ مسہری پر اس کی ایک حد ہے۔ اگر وہ اس سے آگے بڑھا تو اسے چوٹ کھانی پڑے گی۔ میرا یہ ماننا ہے کہ میرا بچہ کو ئی استثنائی حیثیت نہیں رکھتا بلکہ دنیا کے تمام بچے اسی طرح باشعور ہوتے ہیں، بشرطیکہ وہ خدا کا پیدا کیا ہوا بچہ ہووہ کہانی کار کا فرضی بچہ نہ ہو۔ بچے تو بے شعوری میں بھی شعور رکھتے ہیں۔ آپ سینکڑوں خواتین کو جمع کریں اور ان کے درمیان کسی بچے کو چھوڑ دیں وہ بچہ اپنی ماں کو اس بھیڑ میں پہچان لے گا۔ وہ اسی عورت کے پاس جائے گا جو اس کی ماں ہے۔

بہر کیف !میں یہ کہہ رہا تھا کہ وہ اسٹوری جھوٹی تھی ۔وہ صرف اس لئے بنائی گئی تھی تا کہ قرآن کو نہ سمجھ کر پڑھنے کا جواز فراہم كیا جائے۔ حالانکہ اللہ کو قرآن فہمی مطلوب ہے نہ کہ قرآن خوانی! میں یہاں قرآن کی سورہ الفرقان سے ایک مثال پیش کروں گا:

”کیاتم نے نہیں دیکھا کہ تمہارے رب نے سایہ کو کس طرح پھیلا دیا۔ اگر وہ چاہتا تو اسے روک لیتا، لیکن اس نے سورج کو اس کے اوپر دلیل بنا یا (تاکہ تم سورج اور سایہ کے درمیان فرق کو جانو)۔ پھر رفتہ رفتہ وہ اسے اپنی طرف سمیٹ لیتا ہے ۔اور اسی نے تمہارے لئے رات کو لباس بنا یا اور نیند کو راحت کا سبب اور صبح کو رزق کمانے کا ذریعہ ، تو کیا آپ کو لگتا ہے کہ وہ آدمی ہیں! نہیں، وہ تو جانور ہیں بلکہ اس سے بھی بدتر!(الفرقان) یعنی اگر وہ آدمی ہوتے تو رات، دن، سایہ، اور نیند پر غور کرتے، لیکن وہ تو جانور سے بھی بدتر ہیں کہ جانور اپنی ضرورت کی چیزوں کو ڈھونڈ نکالتا ہے۔ اس کے بر عکس انسان اپنے اوپر آسمان دیکھتا ہے لیکن وہ اس پر غور نہیں کرتا۔ وہ زمین پر چلتا پھر تا ہے لیکن وہ اس پر دھیان نہیں دیتا، وہ سورج کے نیچے رہتا ہے جو کہ آگ کا گولہ ہے لیکن اس کے بارے میں تفکر نہیں کرتا۔ وہ کائنات کی تخلیق کو اپنا کنسرن نہیں بنا تا ۔ حالانکہ خدا چاہتا ہے کہ انسان اس کی تخلیق پر غور و فکر کرے تاکہ اسے اپنے رب کی پہچان ہوجائے ۔

قرآن شریف میں ہے “یہ وہ لوگ ہیں جو کھڑے ہوکر بیٹھ کر اور لیٹ کر خدا کویاد کرتے ہیں، جو زمین و آسمان کی تخلیق پر غور وفکر کرتے ہیں اور کہتے ہیں اے ہمارے رب آپ نے ان کو یوں ہی پیدا نہیں کیا ۔ساری تعریف آپ ہی کے لئے، پس تو مجھے جہنم کے عذاب سے بچالے!”

انسان کی زبان سے اس قسم کی دعا اسی وقت نکلتی ہے جب کہ وہ خدا کی تخلیق پر غورو فکر کرے۔جب تک انسان تفکر کے عمل سے نہیں گزرے گا تب تک اسے خدا کی معرفت حاصل نہیں ہوسکتی !۔

Comments

Popular posts from this blog

Yusufzai (Pashtun tribe)

The  Yūsufzai  (also  Youssofzay ,  Yousefzai ,  Yousafzai ,  Esapzey ,  Yousufi , or  Yūsufi ) (Pashto:  يوسفزی ,Persian and Urdu:  یوسف زئی ) is one of the largest Pashtun (Afghans) tribes. The majority of the Yusufzai tribe reside in parts of Western Afghanistan, Khyber Pakhtunkhwa and Provincially Administered Tribal Areas near the Afghan-Pakistan border. They are the predominant population in the districts of Konar, Ningarhar, Mardan District, Dir, Swat,Malakand, Swabi, Buner, Shangla, Haripur District [Khalabat Town Ship and Tarbela] and in Mansehra and Battagram. There is also a Yusufzai clan of Dehwar tribe in the Mastung district of Balochistan who speak Persian with some mixture of Birahvi words. The descendants of Yusuf inhabit Konar, Jalalabad, Swat, Upper Dir, Lower Dir, Malakand Swabi and Mardan...

عہد عثمان میں تدوین قرآن

امام بخاری نے صحیح بخاری میں اپنی سند کے ساتھ ابن شھاب سے روایت کیا ہے کہ انس بن مالک نے انہیں بتایا کہ حذیفہ بن یمان حضرت عثمان کی خدمت میں حاضر ہوئے موسوف نے رمینیہ اور آذربیجان کی جنگ میں شرکت کی تھی وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ لوگ تلاوت قرآن میں بہت اختلاف کرنے لگے تھے ۔ حذیفہ نے حضرت عثمان سے کہا امیرالمؤمنین ! قبل اس کے کہ یہ امت کتاب الٰہی میں یہودیوں اور نصاریٰ کی طرح اکتلاف کرنے لگے اس کو سنبھال لیجئے یہ سن کر حضرت عثمان نے حجرت حفصہ کو کہلا بھیجا کہ آپ کے پاس قرآن کے جو صحیفے پڑے ہیں وہ ہمارے پاس بھیج دیجئے تاکہ ہم ان کو کتابی صورت میں جمع کریں پھر ہم ان کو واپس کردیں گے ۔محترمہ موصوفہ نے وہ صحیفے ارسال کردئیے۔حضرت عثمانرضی اللہ تعالٰی عنہ نے (۱) زید بن ثابترضی اللہ تعالٰی عنہ،(۲) عبداللہ بن زبیررضی اللہ تعالٰی عنہ،(۳)سعد بن العاصرضی اللہ تعالٰی عنہ،(۴)عبدالرحمان بن حارث بن ہشامرضی اللہ تعالٰی عنہکو مومورکیا کہ وہ صحیفوں سے نقل کرکے قرآن کریم کو کتابی صورت میں جمع کردیں۔ حضرت عثمانرضی اللہ تعالٰی عنہ نے تینوں قریشی صحابہ(حضرت زید بن ثابت کے علاوہ باقی تینوں صحابہ سے...

کتاب اللہ کی کون سی آیت سب سے عظیم ہے؟

آیۃ الکرسی کی فضیلت !!! آیۃ الکرسی کی کیااھمیت ہے ؟ اور کیا اس آیت کی عظمت پرکوئ دلیل وارد ہے ؟ الحمد للہ ابن کثیررحمہ اللہ تعالی سورۃ البقرۃ کی آیۃ الکرسی کی تفسیرکرتےہو‏ۓ کہتے ہیں : یہ آیۃ الکرسی ہے جس کی فضیلت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح حدیث میں ہے کہ کتاب اللہ میں یہ آیت سب سے افضل آیت ہے ۔ ابی بن کعب رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نےان سے سوال کیا کہ کتاب اللہ میں سب سے عظیم آیت کونسی ہے ؟ تو وہ کہنے لگے کہ اللہ اور اس کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم کوہی زیادہ علم ہے ، یہ سوال کئ باردھرایا اور پھر فرمانےلگے کہ وہ آیت الکرسی ہے ۔ فرمانے لگے اے ابوالمنذر علم مبارک ہو اس ذات کی قسم جس کےھاتھ میں میری جان ہے اس آیت کی زبان اور ہونٹ ہونگے عرش کے پاۓ کے ہاں اللہ تعالی کی پاکی بیان کررہی ہوگی ۔ اور غالبا مسلم نے والذی نفسی سے آگے والے الفاظ نہیں ہیں ۔ عبداللہ بن ابی بن کعب رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ ان کے والد کے پاس کھجوریں رکھنے کی جگہ تھی ، عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں میرے والد اس کاخیال رکھتے تھے تو...

عہد رسالت میں کتابت قرآن

سرورکائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے مندرجہ ذیل صحابہ کو کاتب وحی مقرر فرمایا تھا: حضرت بوبکررضی اللہ تعالٰی عنہ ، عمرفاروقرضی اللہ تعالٰی عنہ، عثمانرضی اللہ تعالٰی عنہ، علیرضی اللہ تعالٰی عنہ، معاویہرضی اللہ تعالٰی عنہ ، زید بن ثابت رضی اللہ تعالٰی عنہ،ابی بن کعبرضی اللہ تعالٰی عنہ، خالد بن ولیدرضی اللہ تعالٰی عنہ،ثابت بن قیسرضی اللہ تعالٰی عنہ،۔ قرآن کا جو حصہ نازل ہوتا آپ صحابہ کو مامور فرماتے کہ اسے تحریر کرلیں یہاں تک کہ کتابت کے پہلو بہ پہلو قرآن کریم کو سینوں میں بھی محفوظ کرلیا گیا۔(مشہور مستشرق بلاشیر نے کاتبین وحی صحابہ کی تعداد چالیس بتائ ہے دیگر مستشرقین مثلاً شفالی بہل اور کازانوفاکا زاویہ نگاہ بھی یہی ہے مؤخر الذکر نے اس ضمن میں طبقا ابن سعد، طبری ، نووی اور سیرت حلبی پر اعتماد کیا ہے ۔) محدث حاکم نےمستدرک میں زید بن ثابت سے بخاری ومسلم کی شرط کے مطابق روایت کیا ہے کہ زید بن ثابت نے کہا ہم عہد رسالت میں ''رقاع''(ٹکڑوں)سے قرآن جمع کیا کرتے تھے ۔ (الاتقان،ج۱ص،۹۹نیز البرہان ،ج۱ص۲۳۷) مذکورہ صدر حدیث میں ''رقاع ''کا جو لفظ وا...

شرک فی التصرف کا بیان

بسم اللہ الرحمن الرحیم اللّٰھم لک الحمد حمدا یوافی نعمک ویکافی مزید کرمک احمد ک بجمیع محا مدک ما علمت و ما لم اعلم علی جمیع نعمک ما علمت منھا وما لم اعلم وعلی کل حالط اللّٰھم صل علی محمد و علی ال محمد و بارک وسلم۔ اما بعد۔ فاعوذ باللہ من الشیطن الرجیم ط بسم اللہ الرحمن الرحیمط قُلِ ادْعُوا الَّذِيْنَ زَعَمْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللہِ۝۰ۚ لَا يَمْلِكُوْنَ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ فِي السَّمٰوٰتِ وَلَا فِي الْاَرْضِ وَمَا لَہُمْ فِيْہِمَا مِنْ شِرْكٍ وَّمَا لَہٗ مِنْہُمْ مِّنْ ظَہِيْرٍ۝۲۲ وَلَا تَنْفَعُ الشَّفَاعَۃُ عِنْدَہٗٓ اِلَّا لِمَنْ اَذِنَ لَہٗ۝۰ۭ حَتّٰٓي اِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوْبِہِمْ قَالُوْا مَاذَا۝۰ۙ قَالَ رَبُّكُمْ۝۰ۭ قَالُوا الْحَقَّ۝۰ۚ وَہُوَالْعَلِيُّ الْكَبِيْرُ۝۲۳ (السبا:۲۲۔۲۳) اے میرے محسن خدا! کل تعریفوں کا مستحق تو ہی ہے، میں تیری وہ تعریف کرتا ہوں جو تیری دی ہوئی نعمتوں کا بدل ہو، ا ور اس سے جو زیادہ دے، اس کا بدلہ ہو، اور پھر میں تیری جن نعمتوں کو جانتا ہوں اور جن کو نہیں جانتا سب ہی کا ا ن خوبیوں کے ساتھ شکریہ ادا کرتا ہوں، جس کا مجھ کو علم ہے اور جن کا نہیں، غرضیکہ ہر ...

حکایت

حضرت شیخ الاسلام امام غزالی نے احیاء العلوم میں ایک حاسد آدمی کی یہ حکایت فرمائی ہے کہ ایک شخص بادشاہ کے سامنے کھڑا ہوکر یہ کہا کرتا تھا کہ نیک لوگوں کے ساتھ نیکی کرو اور محسن کے احسان کا بدلہ دو کیوںکہ برائی کرنے والے کی برائی تمہاری طرف سے خود کفایت کرے گی۔ یہ شخص بادشاہ کے سامنے یہ نصیحت کیا کرتا تھا جس سے اس کی بڑی عزت تھی۔ اس کی عزت، عظمت اور مرتبہ کو دیکھ کر ایک شخص کو حسد پیدا ہوگیا۔ اس نے بادشاہ سے شکایت کی کہ یہ شخص حضور کے سامنے کھڑا ہوکر گندہ دہن بتاتا ہے۔ بادشاہ نے کہا اس کی تصدیق کیسے ہو؟ حاسد نے کہا جب وہ آپ کے پاس آئے تو آپ اسے اپنے قریب بلا لیجیے، جب وہ آپ کے بالکل قریب آجائے گا تو اپنی ناک بند کرلے گا، تاکہ آپ کے منہ کی بدبو نہ آنے پائے۔ بادشاہ نے کہا بہت اچھا، کل امتحان کریں گے۔ ادھر اس حاسد نے بادشاہ سے یہ کہا، ادھر اس نے جاکر اس ناصح و نیک آدمی کی دعوت کرکے ایسا کھانا کھلایا جس میں لہسن بہت سا تھا۔ یہ کھانا کھا کر فارغ ہی ہوا تھا کہ دربار کا وقت آگیا۔ بدستور سابق بادشاہ کے سامنے کھڑے ہوکر اس نے وہی جملہ کہا جو کہا کرتا تھا۔ بادشاہ نے اس کو اپنے پاس بلانے کا ...

Rasulullah Sallallahu Alaihi Wasallam Kay Muay Mubarak By Shaykh Mufti Umar Farooq

Read Online (400 K) AN EXTRACT FROM MONTHLY MAGAZINE OF DARUL ULOOM DEOBAND ON SOME DETAILS REGARDING THE BELOVED AND MUBARIK HAIR OF RASOOLULLAH [Sallallahu Alaihi Wasallam]. By Shaykh Mufti Umar Farooq

اتباع سنت کا بیان

بسم اللہ الرحمن الرحیم الحمد للہ الذی لم یزل عالماً قدیرا حیاً قیوماً سمیعاً بصیراً و اشھد ان لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ واکبرہ تکبیراً۔ واشھد ان محمداعبدہ ورسولہ و صلی اللہ علی سیدنا محمد ن الذی ارسلہ الی الناس کافۃ بشیراً ونذیرًا۔ و علی الہ و صحبہ وسلم تسلیماً کثیراکثیرا۔ اما بعد! فاعوذ باللہ من الشیطن الرجیم۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللہَ فَاتَّبِعُوْنِيْ يُحْبِبْكُمُ اللہُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ۝۰ۭ وَاللہُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ۝۳۱ قُلْ اَطِيْعُوا اللہَ وَالرَّسُوْلَ۝۰ۚ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّ اللہَ لَا يُحِبُّ الْكٰفِرِيْنَ۝۳۲ (آل عمران:۳۱۔۳۲) سب تعریف اللہ کے لیے ثابت ہے،جو ہمیشہ سے جاننے والا، قدرت والا، زندہ رکھنے والا، سنبھالنے والا، سننے والا اور دیکھنے والا ہے، اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ ایک اور یکتا ہے، جس کا کوئی شریک نہیں ہے، اور میں اس کی بڑائی بیان کرتا ہوں، اور اس بات کی گواہی دیتا ہوں ، کہ محمد ﷺ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، اللہ تعالیٰ ہمارے آقا محمد ﷺ پر رحمت کا ملہ نازل فرم...

اللہ و رسول ﷺ کی اطاعت کا بیان

بسم ا للہ الرحمن الرحیم۔ الحمد للہ رب العالمین۔ الرحمن الرحیم۔ مالک یوم الدین۔ والصلوۃ والسلام علی رسولہ المبین سیدنا محمد خاتم النبیین۔ وعلی جمیع الانبیاء والمرسلین۔ وسائر عباد اللہ الصالحین۔ اما بعد! فاعوذ باللہ من الشیطن الرجیم ط بسم اللہ الرحمن الرحیم ط يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَطِيْعُوا اللہَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ وَاُولِي الْاَمْرِ مِنْكُمْ۝۰ۚ فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِيْ شَيْءٍ فَرُدُّوْہُ اِلَى اللہِ وَالرَّسُوْلِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللہِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ۝۰ۭ ذٰلِكَ خَيْرٌ وَاَحْسَنُ تَاْوِيْلًا۔ (النساء:۵۹) سب تعریف اللہ کے لیے ہے، جو سار ے جہاں کا پالنے والا ہے، بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، بدلے کے دن (قیامت )کا مالک ہے، اور درودوسلام نازل ہوں، ا للہ تعالیٰ کے رسول پر جو احکام الٰہی کے ظاہر کرنے والے ہیں، ہمارے سردار جن کا نام نامی اسم گرامی محمد ﷺ ہے، جو سب نبیوں کے ختم کرنے والے ہیں، اور اللہ کے تمام نبیوں ا ور رسولوں پر، اور ا للہ کے تمام نیک بندوں پر، حمد و صلوۃ کے بعد، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ا ے ایمان والوفرمانبرداری کرو اللہ کی اور فرمانبر...

شرک کی مذمّت

بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ الحمدللہ الذی لم یتخذ ولداو لم یکن لہ شریک فی الملک ولم یکن لہ ولی من الذل وکبرہ تکبیرا۔ ونشھد ان لاالہ ا لااللہ وحدہ لا شریک لہ ونشھد ان محمداعبدہ ورسولہ صلی اللہ علیہ وعلی اٰلہ واصحابہ وسلم تسلیما کثیرا۔ اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم ط بسم اللہ الرحمن الرحیم بِہٖ۝۰ۭ وَمَنْ يُّشْرِكْ بِاللہِ فَكَاَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَاۗءِ فَتَخْطَفُہُ الطَّيْرُ اَوْ تَہْوِيْ بِہِ الرِّيْحُ فِيْ مَكَانٍ سَحِيْقٍ (الحج:۳۱) سب تعریف اللہ ہی کے لیے ہے، جو نہ اولاد رکھتا ہے، اور اپنی سلطنت میں کسی کو شریک بھی نہیں کرتا، اور نہ وہ ایسا حقیر ہے، کہ اس کا کوئی حمائتی ہو، تم اس کی بڑائی بیان کرو، اور ہم اس بات کی شہادت دیتے ہیں، کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے، وہ ایک ا کیلا ہے، اس کے ساتھ کوئی شریک نہیں ہے، اور ہم اس بات کی شہادت دیتے ہیں، کہ محمدﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں، اللہ تعالیٰ ان پر اور ان کے اصحابؓ پر بہت بہت درود بھیجے حمدو صلوٰۃ کے بعد عرض ہے ، کہ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں یہ فرما رہاہے، کہ اللہ کے ساتھ شرک کرنے والا گویا آسمان سے گر پڑا، تو اب اسے یا تو پرند...