Skip to main content

ایک غلط فہمی کا ازالہ

کل ایک صاحب نے ہمیں ایک میل بھیجا ۔ یہ میل لندن کے ایک خانساماں کے بارے میں تھا۔ وہ کھانا بنانے کے دوران قرآن شریف کی تلاوت کیا کرتا تھا۔ اسے قرآن پڑھتا ہوا دیکھ کر اس کے پوتے نے بھی قرآن پڑھنا شروع کر دیا۔ ایک دن بچے نے اپنے دادا سے پوچھا کہ دادا آپ کے ساتھ میں بھی قرآن پڑھتا ہوں لیکن میں قرآن نہیں سمجھتا!

بچے کے اس سوال کے جواب میں اس کے دادا نے اس کے ہاتھ میں وہ باسکٹ تھما دیا جس میں وہ کوئیلا لا یا کرتا تھا اور کہا کہ جاﺅ اس میں پانی بھر کر لاﺅ۔ بچہ گیا اور باسکٹ میں پانی بھر کے چلا آیا ۔اس نے دیکھا کہ باسکٹ کا پانی وہیں گرگیا تھا ۔بچہ اپنے دادا کو باسکٹ تھما تے ہوئے بولا ۔ دادا باسکٹ کا پانی وہیں گر گیا!۔ باسکٹ میں پانی نہیں بھرا جا سکتا۔ دا دا نے کہا ایک بار اور جاﺅ اور دیکھو اس بار جلدی کرنا ، بھاگ کر آنا۔بچہ نہ چاہتے ہوئے بھی دوبارہ گیا اور اس نے باسکٹ میں حسب معمول پانی بھرنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہا۔ اس بار بھی اس نے اپنے دادا کے ہاتھ میں خالی باسکٹ تھما دیا۔ دا دا کو مخاطب کرتے ہوئے اس نے کہا دادا آپ نے دیکھا کہ میں نے جلدی کی لیکن با سکٹ میں پانی نہیں لا سکا۔ باسکٹ میں پانی نہیں لایا جا سکتا۔ ساری محنت رائیگاں گئی!

بچے کی بات سن کر دادا نے کہا کہ باسکٹ اٹھا کر دیکھو ،کیا اس میں اب بھی کوئلے کی دھول لگی ہوئی ہے؟ بچے نے کہا نہیں یہ تو پوری طرح صاف ہے۔ دادا نے جواب دیا بیٹا قرآن تلا وت کرنے کا یہی فائدہ ہوتا ہے! بغیر سمجھے بھی تم تلا وت کرو گے تو اس سے تمہادا دل صاف ہوجائے گا۔جس طرح پانی تو نہیں آیا لیکن با سکٹ صاف ہوگیا۔

میل میں لکھا ہوا تھا کہ آپ ثواب کی نیت سے اس میل کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچا ئیں۔ لیکن اس کے برعکس میں نے اس میل کو ڈیلیٹ کردیا۔ آپ پوچھیں گے کہ میں نے ایسا کیوں کیا ؟

میں نے ایسا اس لئے کیا کیوں کہ یہ میل قرآن کو نہ سمجھ کر پڑھنے کا جھوٹا جواز فراہم کر رہا تھا۔ یہ میل اس بات کی تبلیغ کر رہا تھا کہ قرآن کو بغیر سمجھے بھی پڑھا جائے تو کوئی حرج نہیں ہے۔ حالانکہ خدا چاہتا ہے کہ اس کی کتاب کو سمجھ کر پڑھا جائے۔ قرآن شریف میں اس قسم کے الفاظ آئے ہیں ،افلا یتدبرون ، افلا یتفکرون، افلا یعقلون: یعنی کیا وہ تدبر نہیں کرتے ،کیا وہ غور و فکر نہیں کرتے ،اور کیا وہ عقل نہیں رکھتے۔ وہ بچہ جو باسکٹ میں پانی بھر کر لا رہا تھا وہ حقیقی بچہ نہیں تھا ۔وہ کہانی کار کا پیدا کیا ہوا جھوٹا بچہ تھا۔ وہ خدا کا پیدا کیا ہوا بچہ نہیں تھا ۔ خدا کی انڈسٹری سے تو با شعور بچے پیدا ہوتے ہیں۔ وہ ایک بار نا دانی کر نے کے بعد دوسری بار نادانی نہیں کرتے۔ وہ باسکٹ میں پانی نہیں بھرتے ۔ وہ باسکٹ سے کھیلتے ہیں۔

میرا ایک بچہ ہے جو ابھی ایک سال کا ہوا ہے۔ جب وہ سات آٹھ مہینے کا تھا تو میں نے اسے مسہری پربیٹھا دیا تھا ۔ وہ مسہری پر ہاتھ پاﺅں مارنے لگا اور نیچے گر گیا ۔ میں نے دوبارہ اسے مسہری پر بیٹھا دیا لیکن دوبارہ وہ اس پر سے نہیں گرا ۔اب جب بھی وہ مسہری کے کنارے آتا ہے زور سے رونے لگتا ہے ۔ وہ جانتا ہے کہ مسہری پر اس کی ایک حد ہے۔ اگر وہ اس سے آگے بڑھا تو اسے چوٹ کھانی پڑے گی۔ میرا یہ ماننا ہے کہ میرا بچہ کو ئی استثنائی حیثیت نہیں رکھتا بلکہ دنیا کے تمام بچے اسی طرح باشعور ہوتے ہیں، بشرطیکہ وہ خدا کا پیدا کیا ہوا بچہ ہووہ کہانی کار کا فرضی بچہ نہ ہو۔ بچے تو بے شعوری میں بھی شعور رکھتے ہیں۔ آپ سینکڑوں خواتین کو جمع کریں اور ان کے درمیان کسی بچے کو چھوڑ دیں وہ بچہ اپنی ماں کو اس بھیڑ میں پہچان لے گا۔ وہ اسی عورت کے پاس جائے گا جو اس کی ماں ہے۔

بہر کیف !میں یہ کہہ رہا تھا کہ وہ اسٹوری جھوٹی تھی ۔وہ صرف اس لئے بنائی گئی تھی تا کہ قرآن کو نہ سمجھ کر پڑھنے کا جواز فراہم كیا جائے۔ حالانکہ اللہ کو قرآن فہمی مطلوب ہے نہ کہ قرآن خوانی! میں یہاں قرآن کی سورہ الفرقان سے ایک مثال پیش کروں گا:

”کیاتم نے نہیں دیکھا کہ تمہارے رب نے سایہ کو کس طرح پھیلا دیا۔ اگر وہ چاہتا تو اسے روک لیتا، لیکن اس نے سورج کو اس کے اوپر دلیل بنا یا (تاکہ تم سورج اور سایہ کے درمیان فرق کو جانو)۔ پھر رفتہ رفتہ وہ اسے اپنی طرف سمیٹ لیتا ہے ۔اور اسی نے تمہارے لئے رات کو لباس بنا یا اور نیند کو راحت کا سبب اور صبح کو رزق کمانے کا ذریعہ ، تو کیا آپ کو لگتا ہے کہ وہ آدمی ہیں! نہیں، وہ تو جانور ہیں بلکہ اس سے بھی بدتر!(الفرقان) یعنی اگر وہ آدمی ہوتے تو رات، دن، سایہ، اور نیند پر غور کرتے، لیکن وہ تو جانور سے بھی بدتر ہیں کہ جانور اپنی ضرورت کی چیزوں کو ڈھونڈ نکالتا ہے۔ اس کے بر عکس انسان اپنے اوپر آسمان دیکھتا ہے لیکن وہ اس پر غور نہیں کرتا۔ وہ زمین پر چلتا پھر تا ہے لیکن وہ اس پر دھیان نہیں دیتا، وہ سورج کے نیچے رہتا ہے جو کہ آگ کا گولہ ہے لیکن اس کے بارے میں تفکر نہیں کرتا۔ وہ کائنات کی تخلیق کو اپنا کنسرن نہیں بنا تا ۔ حالانکہ خدا چاہتا ہے کہ انسان اس کی تخلیق پر غور و فکر کرے تاکہ اسے اپنے رب کی پہچان ہوجائے ۔

قرآن شریف میں ہے “یہ وہ لوگ ہیں جو کھڑے ہوکر بیٹھ کر اور لیٹ کر خدا کویاد کرتے ہیں، جو زمین و آسمان کی تخلیق پر غور وفکر کرتے ہیں اور کہتے ہیں اے ہمارے رب آپ نے ان کو یوں ہی پیدا نہیں کیا ۔ساری تعریف آپ ہی کے لئے، پس تو مجھے جہنم کے عذاب سے بچالے!”

انسان کی زبان سے اس قسم کی دعا اسی وقت نکلتی ہے جب کہ وہ خدا کی تخلیق پر غورو فکر کرے۔جب تک انسان تفکر کے عمل سے نہیں گزرے گا تب تک اسے خدا کی معرفت حاصل نہیں ہوسکتی !۔

Comments

Popular posts from this blog

Yusufzai (Pashtun tribe)

The  Yūsufzai  (also  Youssofzay ,  Yousefzai ,  Yousafzai ,  Esapzey ,  Yousufi , or  Yūsufi ) (Pashto:  يوسفزی ,Persian and Urdu:  یوسف زئی ) is one of the largest Pashtun (Afghans) tribes. The majority of the Yusufzai tribe reside in parts of Western Afghanistan, Khyber Pakhtunkhwa and Provincially Administered Tribal Areas near the Afghan-Pakistan border. They are the predominant population in the districts of Konar, Ningarhar, Mardan District, Dir, Swat,Malakand, Swabi, Buner, Shangla, Haripur District [Khalabat Town Ship and Tarbela] and in Mansehra and Battagram. There is also a Yusufzai clan of Dehwar tribe in the Mastung district of Balochistan who speak Persian with some mixture of Birahvi words. The descendants of Yusuf inhabit Konar, Jalalabad, Swat, Upper Dir, Lower Dir, Malakand Swabi and Mardan...

قرآن حکیم کے نازل ہونے کی کیا غرض ہے

سورہ آلِ عمران هَـٰذَا بَيَانٌ لِّلنَّاسِ وَهُدًى وَمَوْعِظَةٌ لِّلْمُتَّقِينَ ﴿١٣٨﴾ یہ (قرآن) لوگوں کے لیے بیان صریح اور اہلِ تقویٰ کے لیے ہدایت اور نصیحت ہے۔ سورہ المآئدۃ يَا أَهْلَ الْكِتَابِ قَدْ جَاءَكُمْ رَسُولُنَا يُبَيِّنُ لَكُمْ كَثِيرًا مِّمَّا كُنتُمْ تُخْفُونَ مِنَ الْكِتَابِ وَيَعْفُو عَن كَثِيرٍ ۚ قَدْ جَاءَكُم مِّنَ اللَّـهِ نُورٌ وَكِتَابٌ مُّبِينٌ ﴿١٥﴾هْدِي بِهِ اللَّـهُ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَهُ سُبُلَ السَّلَامِ وَيُخْرِجُهُم مِّنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ بِإِذْنِهِ وَيَهْدِيهِمْ إِلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ ﴿١٦﴾  اے اہل کتاب! تمہارے پاس ہمارے پیغمبر (آخرالزماں) آ گئے ہیں کہ جو کچھ تم کتاب (الہٰی) میں سے چھپاتے تھے وہ اس میں سے بہت کچھ تمہیں کھول کھول کر بتا دیتے ہیں اور تمہارے بہت سے قصور معاف کر دیتے ہیں بےشک تمہارے پاس خدا کی طرف سے نور اور روشن کتاب آ چکی ہے۔جس سے خدا اپنی رضا پر چلنے والوں کو نجات کے رستے دکھاتا ہے اور اپنے حکم سے اندھیرے میں سے نکال کر روشنی کی طرف لے جاتا اور ان کو سیدھے رستہ پر چلاتا ہے۔ وَكَتَبْنَا عَلَيْه...

یہودی پروٹوکولز

Online Read یہودی پروٹوکولز ============================================== Online Read E Book یہودی پروٹوکولز ============================================== Download Free یہودی پروٹوکولز ---------------------------------------------------- Download Free یہودی پروٹوکولز ----------------------------------------------------

جمع عثمانی رِوایات کے آئینے میں

نبی مکرمﷺ کی حدیث مبارکہ ’’خَیْرُ النَّاسِ قَرْنِيْ ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَھُمْ ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَھُمْ‘‘۔(صحیح البخاري: ۲۶۵۲) پر جب نظر پڑتی ہے تو سر احسان و نیازمندی کے ملے جلے تاثر ات سے جھک جاتا ہے کہ واقعتا آپﷺ، صحابہ رضی اللہ عنہم اور تابعین رحمہم اللہ کا زمانہ خیر القرون تھا، کیونکہ اس میں بنی نوع اِنسان کی راہ روی اور اسلام کی سربلندی کے لیے وہ محنتیں اور کوششیں ہوئی ہیں کہ جس کی مثال آئندہ جمیع قرون میں پیش کرنا مشکل ہے۔ یقینا وہ لوگ اس قابل تھے کہ اُنہیں یہ ذمہ داری سونپی جاتی کہ وہ دینِ الٰہی اور شرع اللہ کو اپنی مکمل تشریحات کے ساتھ آئندہ نسلوں تک منتقل کریں، بلا شبہ وہ طائفہ فائزہ اپنے اس مقصد میں بامراد ہوا ہے۔ان جملہ ذمہ داریوں میں سے اَہم ترین ذمہ داری یہ تھی کہ ہدایت سماوی کے آخری ربانی صحیفہ کو محفوظ اور غیر متبدل شکل میں ہم تک پہنچایا جائے۔ ہمارا یہ قطعی ایمان ہے کہ وہ پیام اَیزدی آج اپنی سو فیصد اَصلی اور حقیقی شکل میں ہمارے درمیان موجود ہے۔ الحمد ﷲ علی ذلک۔اِس سلسلہ میں خیرالقرون میں جو سب سے اَہم کام ہوا ہے وہ سیدنا عثمان ذوالنورین رضی ال...

ان شاءاللہ لکھنے میں غلطی کرنا

بسم اللہ الرحمن الرحیم السلام علیکم ورحمتہ اللہ آ پ لوگوں نے اکثر کتابوں میں لفظ ان شاءاللہ کو اس طرح لکھا ہوا پڑھاہوگا انشاءاللہ اور جب کہ اس طرح لکھنے سے اس کا معنی بدل جاتا ہے۔ لفظ ان شاءاللہ کے اردو میں معنی بنتا ہے اگر اللہ نے چاہا اور جب کہ انشاء عربی میں کسی چیز کو بنانے کو کہتے ہیں اس طرح انشاءاللہ کے معنی بہت غلط بن جاتے ہیں ۔ہم لوگ عربی زبان سے واقفیت نہ رکھنے کی وجہ سے ایسی غلطیاں کر جاتے ہیں اللہ ہمیں معاف فرمائے آمین۔اللہ کا ارشاد ہے کہاِنَّآ اَنْشَاْنٰهُنَّ اِنْشَاۗءً 35۝ۙہم نے ان (کی بیویوں کو) خاص طور پر بنایا ہے۔الواقعہ:۳۵قَالَ اِنَّمَا يَاْتِيْكُمْ بِهِ اللّٰهُ اِنْ شَاۗءَ وَمَآ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِيْنَ 33 ؀جواب دیا کہ اسے بھی اللہ تعالٰی ہی لائے گااگر وہ چاہے اور ہاں تم اسے ہرانے والے نہیں ہو۔ھود:۳۳فَلَمَّا دَخَلُوْا عَلٰي يُوْسُفَ اٰوٰٓى اِلَيْهِ اَبَوَيْهِ وَقَالَ ادْخُلُوْا مِصْرَ اِنْ شَاۗءَ اللّٰهُ اٰمِنِيْنَ 99؀ۭپھر جب (سب کے سب) یوسف کے پاس پہنچے تو اس نے اپنے والدین کو (عزت و احترام کے ساتھ) اپنے پاس جگہ دی اور کہا، ''کہاگر اللہ نے چاہا تو...

دین اسلام میں رسول اللہ ﷺ کی اطاعت فرض ہے

بسم اللہ الرحمن الرحیم دین اسلام میں رسول اللہ ﷺ کی اطاعت فرض ہے يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ أَطِيعُوا۟ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ وَلَا تَوَلَّوْا۟ عَنْهُ وَأَنتُمْ تَسْمَعُونَ ﴿20﴾ترجمہ: اے ایمان والو الله اور اس کے رسول کا حکم مانو اور سن کر اس سے مت پھرو(سورۃ الانفال،آیت20) قُلْ أَطِيعُوا۟ ٱللَّهَ وَأَطِيعُوا۟ ٱلرَّسُولَ ۖ فَإِن تَوَلَّوْا۟ فَإِنَّمَا عَلَيْهِ مَا حُمِّلَ وَعَلَيْكُم مَّا حُمِّلْتُمْ ۖ وَإِن تُطِيعُوهُ تَهْتَدُوا۟ ۚ وَمَا عَلَى ٱلرَّسُولِ إِلَّا ٱلْبَلَٰغُ ٱلْمُبِينُ﴿56﴾ترجمہ: کہہ دو الله اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرو پھر اگر منہ پھیرو گے تو پیغمبر تو وہی ہے جس کا وہ ذمہ دار ہے اورتم پر وہ ہے جو تمہارے ذمہ لازم کیا گیا ہے اور اگر اس کی فرمانبرداری کرو گے تو ہدایت پاؤ گے اور رسول کے ذمہ صرف صاف طور پر پہنچا دینا ہے (سورۃ النور،آیت 56) مَّن يُطِعِ ٱلرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ ٱللَّهَ ۖ وَمَن تَوَلَّىٰ فَمَآ أَرْسَلْنَٰكَ عَلَيْهِمْ حَفِيظًۭا ﴿80﴾ترجمہ: جو شخص رسول کی فرمانبرداری کرے گا تو بےشک اس نے اللہ کی فرمانبرداری کی اور جو نافرمانی کرے گا تو اے ...

اللہ تعالیٰ کے حقوق

بسم اللہ الرحمن الرحیم اللہ تعالیٰ کے حقوق اللہ تعالیٰ کا حق تمام حقوق سے زیادہ ضروری ہے اور سب سے اہم ہے۔کیونکہ وہ اس کائنات کا خالق و مالک اور تمام تر امور کی تدبیر کرنے والا ہے۔وہ زندہ جاوید ہستی ہے جو تمام کائنات کا نطام سنبھالے ہوئے ہے،اس نے ہر چیز کو پیدا کیا اور اپنی حکمت بالغہ سے اس کا اندازہ کیا۔انسان کو اشرف المخلوقات بنایا ،پھر انسان کو اپنے احسانات یاد کرائے کہ اے انسان !تجھ پر اس ذات کا حق ہے جس نے نعمتوں کے ساتھ تیری پرورش کی۔تو اپنی ماں کے پیٹ میں تین طرح کے اندھیروں میں تھا۔جہاں مخلوقات میں کوئی بھی تجھے غذا یا ایسی اشیاء نہیں پہنچا سکتا تھا جو تیری افزائش اور زندگی کو قائم رکھنے والی ہوں۔اس نے ماں کی چھاتیوں میں وافر دودھ اتارا،تجھے اس کی راہ دکھلائی اور تیرے والدین کو تیرا محسن بنا دیا۔تیری امداد کی اور تجھے کامیاب کیا۔ارشاد باری تعالیٰ ہے: وَٱللَّهُ أَخْرَجَكُم مِّنۢ بُطُونِ أُمَّهَٰتِكُمْ لَا تَعْلَمُونَ شَيْا وَجَعَلَ لَكُمُ ٱلسَّمْعَ وَٱلْأَبْصَٰرَ وَٱلْأَفْدَةَ ۙ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ ﴿78﴾ ترجمہ: اور اللہ ہی نے تم کو تمہاری ماؤں کے شکم سے پیدا کیا کہ...

جمع قرآن اور اس کی تدوین

جمع قرآن اور اس کی تدوین جمع قرآن سے مراد قرآن کریم کا جمع کرنا۔ خواہ حفظ سے ہو یا کتابت سے یا تلاوت کی ریکارڈنگ سے۔ اور تدوین سے مراد اس کو کتابی صورت میں ترتیب دینا ہے۔ان سب مراحل کی ایک دل چسپ معلوماتی تاریخ ہے جسے ایک طالب علم کے لئے جاننا بہت اہم ہے۔تاکہ وہ آگاہ رہے کہ یہ مقدس کتاب کس طرح کن کن ادوار سے گذر کر محفوظ ترین صورت میں ہم تک پہنچی؟مقصد جمع قرآن: جمع قرآن کا مقصد یہی تھا کہ جس طرح قرآن مجید آپ ﷺ پر اترا ہے اور جس طرح آپ نے اسے پڑھا یا سکھایا ہے اسے لکھ کر محفوظ کرلیا جائے۔ یہ اللہ کا حکم تھا تاکہ مستقبل میں ممکنہ اختلاف جو قراءت یا اس کے الفاظ ، ترتیب اور لغت میں پیدا ہوسکتا ہے وہ نہ ہوسکے۔ اللہ تعالیٰ نے خود بھی اس کی حفاظت کی ذمہ داری لی مگر اس حفاظت کا کام صحابہ رسول اور امت کے قراء وحفاظ سے بھی لیا۔جمع قرآن کی دلیل: آپ ﷺ قرآن کی تنزیل میں سخت شدت محسوس کیا کرتے۔ اور اپنے ہونٹوں کو حرکت دیا کرتے تھے۔ جیسا کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت صحیحین میں ہے۔تو اللہ تعالیٰ نے ابتداء میں ہی یہ فرمادیا : {لَا تُحَرِّكْ بِہٖ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ...

دعا؛ اہمیت ، آداب اور قبولیت کی شرطیں

مخلوق جلبِ منفعت اور اپنے دین ودنیا کی اصلاح کے لیے اپنے رب کی محتاج ہے۔ بندہ ان آزمائشوں سے جو اس پر نازل ہوتی ہیں اور جو اسے ہمیشہ کے لیے اپنے رب کا محتاج بناتی ہیں بچ نہیں سکتا ہے۔ اسی وجہ سے اللہ نے اس کے لیے دعا کرنے کو مشروع قرار دیا ہے۔ اور اس کے لیے آداب وشروط اور مستحب اوقات مقرر کر دیے ہیں۔ ان وقتوں میں دعا قبولیت کے زیادہ قریب ہوتی ہے۔ الحمد للہ کفی وسلام علی عبادہ الذین اصطفی أمابعد!معزز برادرانِ  اسلام!انسان جب رحم مادر میں نطفہ کی شکل میں قرار پاتا ہے اسی وقت سے وہ حاجتوں اور ضرورتوں کا غلام بن جاتا ہے اور اس کی ضرورتوں اور حاجتوں کا یہ لامتناہی سلسلہ   اس کی زندگی  کی آخری سانس تک ختم  نہیں ہوتا۔ وہ مرنے کے بعد بھی دوسروں  کا محتاج  ہوتاہے۔ اس  کی محتاجی اور ضرورت مندی  کبھی ختم  نہیں  ہوتی۔  ویسے تو انسان دنیا میں آنے کے بعد قدم قدم پر  اپنے ہی  جیسے  دوسرے  انسانوں کا بھی ضرورت مند ہوتا ہے؛ لیکن  سب سے زیادہ  ضرورت  مندوہ  اپنے خالق  حقیقی  کا ہوتا ہے۔ ...

گستاخ رسول کی سزااورحکومت وقت کی ذمہ داری

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ: ”الہدیٰ انٹرنیشنل“ ایک دینی ادارہ کہلاتا ہے، کیا اس ادارے والے صحیح المسلک اور متبع سنت ہیں یا نہیں ؟یہاں تعلیم حاصل کرنے والی چند خواتین جوکہ قرآن کریم کی تجوید درست کرنے یا علم دین حاصل کرنے کی طلب میں ان مدارس میں گئیں‘ لیکن وہاں چند ایسے مسائل سامنے آئے کہ عجیب تذبذب اور پریشانی کا شکار ہوگئیں‘ آپ سے درخواست ہے کہ کافی شافی اور تفصیلی جواب عنایت فرمایئے اور امت مسلمہ کے تذبذب کو دور فرمایئے اور گمراہی سے بچایئے ۔ اسی طرح پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ایک شہر میں لڑکیوں کا ایک مدرسہ ہے‘ جس کی صدر مدرسہ یا منتظمہ ایک خاتون ہیں ‘یہ خاتون غیر شادی شدہ ہیں۔ نیز یہ جامعہ‘ صرف بنات کا ہے۔ یہاں کا سارا نظام موصوفہ یا یہیں کی تعلیم یافتہ چند خواتین سنبھالتی ہیں‘ یہ بھی غیر شادی شدہ ہیں۔ مقصد یہ ہے کہ یہاں کی انتظامیہ میں کسی مرد کاکوئی عمل دخل نہیں ہے اور جس طرح یہ تمام خواتین غیر شادی شدہ ہیں۔ اسی طرح یہاں کی تمام طالبات بھی غیر شادی شدہ ہیں۔ اگر کسی طالبہ کے بارے میں یہ علم ہوجائے کہ یہ شادی شدہ ہے تو اسے خارج کردیا جاتاہے او...