Skip to main content

توحید کی خوبی اور شرک فی العلم کی تردید


بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ الحمد للہ المحمود بنعمتہ۔ المعبود بقدرتہ۔ المطاع بسلطانہ۔ المرھوب من عذابہ وسطوتہ۔ النافذ امرہ فی سمائہ وارضہ ۔ الذی خلق الخلق بقدرتہ۔ و میزھم باحکامہ فاعزھم بدینہ۔ واکرمھم بنبیہ محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم اللّٰھم صل علی محمد وعلی اہل بیتہ کما صلیت علی ابراھیم انک حمید مجید۔ اللّٰھم صل علینا معھم۔ اللّٰھم بارک علی محمد و علی اھل بیتہ کما بارکت علی ابراھیم انک حمید مجید۔ اللّٰھم بارک علینا معھم صلوات ا للہ وصلوات المؤمنین علی محمد ن النبی الامی السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ اما بعد۔ فاعوذ باللہ من الشیطن الرجیم ط بسم اللہ الرحمن الرحیم ط وَعِنْدَہٗ مَفَاتِحُ الْغَیْبِ لَا یَعْلَمُھَا اِلَّاھُوَط (الانعام:۵۹)
تمام تعریفیں اللہ کے لیے سزا وار ہیں، جو نعمتیں عطا فرمانے کے باعث واقعی قابل تعریف ہے، وہی حقیقی معبود برحق ہے اس لیے کہ اس کی سی قدرتیں اور کسی میں نہیں ہیں، خوف و ڈر رکھنے کے لائق اسی کی ذات ہے، اس لیے کہ اس کا عذاب سخت اور اس کی سزائیں بے حد اور اس کا دبدبہ و شوکت اور سلطنت سب پر ہے وہی ہے جس کا حکم زمین و آسمان میں چلتا ہے، اسی نے اپنی قدرت سے ساری مخلوق کو پیدا کیا، اس نے انسانوں کو اپنے حکم و احکام دے کر ممتاز فرمایا اپنا دین ان میں نازل فرما کر انہیں معزز و محترم کیا، اپنا نبی ان میں بھیج کر ان کا اکرام کر کے انہیں ذی مرتبہ بنایا(فالحمدللہ) اے اللہ! رحمت نازل فرما محمد اور آپ کے اہل بیت (ﷺ) پر، جس طرح رحمت فرمائی ابراہیم علیہ السلام پر، تو حمید و مجید ہے، اے اللہ! برکت فرما محمد ﷺ پر آپ کے گھر والوں پر جس طرح برکت نازل فرمائی ابراہیم علیہ السلام پر، توستودہ صفات بزرگ ہے، اے اللہ تو ہم پر بھی ان کے ساتھ ہی رحمت و برکت نازل فرما، اللہ کی رحمتیں اور درود نازل ہوں محمد نبی امی ﷺ پر، تمہارے اوپر سلام ہو، اور اس کی رحمتیں اور اس کی برکتیں نازل ہوں، حمد و صلوٰۃ کے بعد اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے اور اللہ کے پاس تمام غیب کی کنجیاں ہیں، اس کے علاوہ کوئی ان کو نہیں جانتا۔
یعنی اللہ تعالیٰ ہر چیز کا جاننے والا ، اور دور نزدیک سے برابر دیکھنے والا اور پوشیدہ و ظاہر کا واقف کار اور ہر جگہ حاضر و ناظر رہنے والا، اور ہر ایک کی بات کو سننے والا ہے، یہ صفت صرف اللہ ہی کے ساتھ مخصوص ہے، اس آیت کریمہ میں اس نے یہ بتایا ہے، کہ غیب کی کنجیاں صرف ہمارے ہاتھ میں ہیں، اور کسی کے پاس نہیں، اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے بندوں کو ظاہری چیزیںدریافت کرنے کی ترکیبیں بتا دی ہیں، جیسے دیکھنے کو آنکھ، سننے کو کان، سونگھنے کو ناک، چکھنے کو زبان ، چھونے کو ہاتھ، سمجھنے کو عقل دی ہے کہ ضرورت کے وقت جیسا دیکھنے کو دل چاہے آنکھ کھول کر دیکھنے لگیں، اور جب چاہیں بند کر لیں، اسی طرح ا ور چیزوں کو بھی معلوم کر لیتے ہیں، تو گویا ان ظاہری چیزوں کے دریافت کرنے کی ان کو کنجیاں دی ہیں، جس کے ہاتھ میں کنجیاں ہوتی ہیں، اس کے ہاتھ میں اختیار ہوتا ہے، جب چاہے قفل کھول کر سب چیزوں کو دیکھ لے اور جب چاہے نہ کھولے، لیکن غیب کے دریافت کرنے کی کنجی کسی کو نہیں دی، بلکہ اس کو اپنے پاس ہی رکھا ہے، کسی نبی ، ولی ، شہید، جن ا ور فرشتے کو یہ طاقت نہیں، کہ بغیر اللہ کے بتائے کچھ بتا سکیں، کیونکہ ان کو غیب دانی حاصل نہیں ہے، اگر ان کو کوئی غیب دان جانے گا،تو وہ اللہ کو ان کے ساتھ شریک کرے گا ا للہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں یوں فرمایا ہے:
قُلْ لَّآ اَمْلِكُ لِنَفْسِيْ نَفْعًا وَّلَا ضَرًّا اِلَّا مَا شَاۗءَ اللہُ۝۰ۭ وَلَوْ كُنْتُ اَعْلَمُ الْغَيْبَ لَاسْـتَكْثَرْتُ مِنَ الْخَيْرِ۝۰ۚۖۛ وَمَا مَسَّنِيَ السُّوْۗءُ۝۰ۚۛ اِنْ اَنَا اِلَّا نَذِيْرٌ وَّبَشِيْرٌ لِّقَوْمٍ يُّؤْمِنُوْنَ۔ (اعراف:۱۸۸)
اے ہمارے نبی ! آپ لوگوں سے فرما دیجیے، کہ میں اپنی ذات کے نفع و نقصان کاکچھ بھی مالک و مختار نہیں ہوں مگر جو اللہ چاہے، اگر میں غیب جانتا، تو میں بہت سی خوبیاں جمع کر لیتا اور مجھے کوئی تکلیف اور برائی نہ پہنچتی، میں تو صرف نافرمانوں کو عذاب الٰہی سے ڈراتا ہوں اور ایمان والوں کو خوشی سناتا ہوں۔
یہ تو ساری اسلامی دنیا جانتی ہے، کہ ہمارے نبی کریم ﷺ سے بڑھ کر مخلوق میں کوئی نہیں ہوا، اور نہ ہوگا، بلکہ آپ ﷺ کے برابر کا بھی کوئی نہیں ہوا نہ ہوگا، پھر بھی اپنی ذات کے نفع و نقصان کا کچھ بھی اختیار نہیں رکھتے تھے، تو دوسرے کس شمار میں ہیں، اللہ تعالیٰ اپنے نبی سے فرما رہا ہے، کہ آپ ﷺ خود لوگوں میں اس کا ا علان کر دیں، کہ میں اپنی ذات کے نفع و ضرر کا مالک و مختار نہیں ہوں، تو دوسروں کو کیا نفع و نقصان پہنچا سکتا ہوں، اور نہ میں غیب جانتا ہوں، کہ بغیر اللہ تعالیٰ کے بتائے معلوم کر لوں، اگر میرے قابو میں غیب دانی ہوتی تو پہلے ہر کام کی بھلائی برائی معلوم کر لیتا، اور اس کام کے ا نجام کو سوچ لیتا، اگر اچھا ہوتا، تو کرتا اور خراب ہوتا تو نہیں کرتا، اس صورت میں کبھی بھی تکلیف نہیں پہنچتی ، اور نہ کبھی نقصان اٹھاتا، مگرتمہیں معلوم ہے، کہ مجھے تکلیف پہنچتی ہے، نقصان بھی ہوتا ہے، دیکھو حضرت عائشہؓ پر منافقوں نے تہمت لگائی ایک ماہ تک سخت پریشانی رہی، جب وحی آئی، اور اللہ تعالیٰ نے بتایا،کہ حضرت عائشہؓ سچی ، پاک دامن ہیں، تب معلوم ہوا، اس قسم کے بہت سے واقعات موجود ہیں۔
اس آیت کریمہ سے یہ بات بھی معلوم ہوئی ، کہ غیب صرف اللہ ہی جانتا ہے، اس کے علاوہ کوئی نبی، ولی، شہید، پیر، جن اور فرشتہ غیب نہیں جانتا، اگر کوئی غیب جاننے کا دعویٰ کرے، تو وہ اس آیت کا مخالف و منکر ہے، اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہے:
قُلْ لَّايَعْلَمُ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ الْغَيْبَ اِلَّا اللہُ۝۰ۭ وَمَا يَشْعُرُوْنَ اَيَّانَ يُبْعَثُوْنَ۔ (النمل :۶۵)
اے ہمارے نبی! آپ لوگوں سے فرما دیجیے، کہ زمین اور آسمان میں اللہ کے سوا کوئی غیب نہیں جانتا، (بلکہ)ان کو یہ بھی خبر نہیں، کہ کب اٹھائے جائیں گے۔
اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کوحکم دے رہا ہے، کہ آپ لوگوں میں اعلان کر دیں، کہ زمین و آسمان میں اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی جن، فرشتہ اور پیرو پیغمبر غیب نہیں جانتے ، یہ یقین ہے، کہ قیامت ضرور آئے گی، مگر ان نبیوں، ولیوں وغیرہ کو یہ پتہ نہیں ہے، کہ قیامت کب ہوگی، اور کب یہ لوگ اپنی قبروں سے اٹھائے جائیں گے، اس کے تعین کا علم صرف اللہ ہی کو حاصل ہے، قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
اِنَّ اللہَ عِنْدَہٗ عِلْمُ السَّاعَۃِ۝۰ۚ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ۝۰ۚ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْاَرْحَام۝۰ِۭ وَمَا تَدْرِيْ نَفْسٌ مَّاذَا تَكْسِبُ غَدًا۝۰ۭ وَمَا تَدْرِيْ نَفْسٌۢ بِاَيِّ اَرْضٍ تَمُوْتُ۝۰ۭ اِنَّ اللہَ عَلِيْمٌ خَبِيْرٌ۔ (لقمان :۳۴)
یقینا قیامت کے خاص وقت کی خبر اللہ ہی کو ہے اوروہی مینہ برساتا ہے، اور ماؤں کے پیٹوں میں جو کچھ ہے اس کو وہی جانتاہے، اور وہی جانتا ہے کہ فلاں جاندار کل کیا کرے گا، اس کے علاوہ کوئی نہیں جانتا،کہ فلاں جاندار کہاں مرے گا، بے شک اللہ تعالیٰ بڑا جاننے والا پوری خبر رکھنے والا ہے۔
ان سب باتوں کا جاننا صرف اللہ تعالیٰ ہی کے قبضہ میں ہے، اور کوئی ان کو نہیں جانتا، قیامت کا آنا بہت مشہور ہے، مگر اس کے آنے کی خبر کسی کو نہیں، اس کے علاوہ اور باتوں کا جاننا، جیسے آئندہ فتح اور شکست کا ہونا، یا کسی کا بیمار و تندرست ہونا وغیرہ تو قیامت کے برابر نہیں ہے، حالانکہ ان کو بھی خدا کے سوا کوئی نہیں جانتا ہے، اسی طرح مینہ برسنے کی خبر کسی کو نہیں ہے ، حالانکہ اس کا وقت مقرر ہے، ا ور موسم بندھا ہوا، ان موسموں میں بھی برستا ہے، اور سب چھوٹے بڑے، عالم، جاہل ، نبی، ولی وغیرہ سب کو اس کی ضرورت بھی رہتی ہے، لیکن کسی کو یہ خبر نہیں کہ کس دن بارش ہوگی، اس کا علم صرف اللہ تعالیٰ ہی کو حاصل ہے، کہ جن چیزوں کا موسم نہیں بندھا ہوا ہے، جیسے مرنا، جینا، پیدا ہونا، غنی ہونا، فقیر ہونا، وغیرہ وغیرہ بھی کوئی نہیں جانتا ہے، اسی طرح مادہ کے پیٹ میں کیا ہے، نر ہے یا مادہ، ایک ہے یادو ، ناقص ہے یا کامل، خوبصورت ہے یا بدصورت، کوئی نہیں جانتا ، صرف خدا ہی جانتا ہے، اسی طرح کل آئندہ کیا ہوگا وہ کیا کرے گا، اسی طرح کوئی نہیں جانتا، کہ وہ کہاں مرے گا، اور کہاں دفن ہوگا، ان سب باتوں کو خدا کے سوا اور کوئی نہیں جانتا

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
واللہ لا ادری واللہ لا ادری وانا رسول اللہ مایفعل بی ولا بکم۔ (بخاری شریف)
خدا کی قسم! میں نہیں جانتا، خدا کی قسم ! میں نہیں جانتا حالانکہ میں اللہ کا رسول ہوں، کہ میرے اور تمہارے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا، مجھے معلوم نہیں۔
یعنی اللہ تعالیٰ دنیا میں کیا کرے گا، اس کی حقیقت خدا کے سوا کوئی نہیں جانتا میں اللہ کا رسول ہونے کے باوجود نہیں جانتا ہوں، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔
ان رسول اللہ ﷺ کان یھریق الماء ویتیمم بالتراب فاقول یا رسول اللہ ان الماء قریب فیقول ما یدرینی لا ابلغہ ۔ (شرح السنۃ، مشکوۃ)
رسول اللہ ﷺ پیشاب کر کے فوراً مٹی سے تیمم کر لیتے ، میں عرض کرتا ، کہ اے اللہ کے رسول، پانی آپ کے قریب ہی ہے، آپ فرماتے کہ کیا خبر شاید میں وہاں تک نہ پہنچ سکوں۔
یعنی ممکن ہے کہ میں پانی تک نہ پہنچ سکوں، اس سے معلوم ہوتا ہے، کہ آپ غیب نہیں جانتے تھے، اسی طرح حجۃ الوداع میں آپؐ نے فرمایا:
لواستقبلت من ما استدبرت ماسقت الھدی۔ (بخاری)
جو مجھے اب معلوم ہوا ہے، اگر پہلے معلوم ہو جاتا، تو میں اپنے ساتھ قربانی کا جانور نہ لاتا۔
اس قسم کے صدہا واقعات ہیں، جن سے معلوم ہوتا ہے، کہ آپؐ بغیر اللہ کے بتائے ہوئے خود غیب کی باتیں نہیں جانتے تھے، اور اگر اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو بتایا اور اس کے بتانے پر آپ ﷺ نے کوئی بات آئندہ کے متعلق بتا دی، جیسے معجزات اور علامات قیامت وغیرہ تو یہ علم غیب نہیں ہے، کیونکہ علم غیب وہ ہے، جو بغیر کسی کے بتائے معلوم ہو، کیونکہ علم اس ملکہ(قوت) کو کہتے ہیں، جس سے جس وقت بھی چاہے اس کی جزئیات کو معلوم کرے، ایسا علم غیب کسی مخلوق کو نہیں ہے، اور نہ کبھی پہلے تھا، اور نہ آئندہ کبھی ہوگا، اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ سے فرمایا:
قُلْ لَّآ اَقُوْلُ لَكُمْ عِنْدِيْ خَزَاۗىِٕنُ اللہِ وَلَآ اَعْلَمُ الْغَيْبَ وَلَآ اَقُوْلُ لَكُمْ اِنِّىْ مَلَكٌ۝۰ۚ (الانعام:۵۰)
آپ کہہ دیجیے، کہ میں تم سے یہ نہیں کہتا، کہ میرے پاس اللہ تعالیٰ کے خزانے ہیں، اور نہ میں غیب کی باتیں جانتا ہوں، اور نہ میں تم سے یہ کہتا ہوں ، کہ میں فرشتہ ہوں۔
یہ بھی یاد رکھو، کہ علم کے معنی یقین کے ہیں، اس لیے اندازے اور ظن اور گمان کی باتیں علم غیب نہیں ہیں، کیونکہ بہت دفعہ ان باتوں کے خلاف ظہور میں آتا ہے، اور علم غیب کے خلاف ہر گز نہیں ہوسکتا، اس لیے اندازوں اور تخمینوں کی باتوں کو سچ اور غیب کی بات ماننے والا شرک فی العلم کے گناہ کا مرتکب ہوتا ہے، جادوگر، جوتشی، رمال، نجومی اور سفلی علم کی باتوں پر ایمان رکھنے سے ایمان باللہ ختم ہو جاتا ہے، ہر ایمان والے کا یہ عقیدہ ہونا چاہیے، کہ جس طرح خدا کی ذات یکتا و یگانہ ہے، اسی طرح اس کی تمام صفتیں بھی یکتا اور بے مثل ہیں، اور خدا تعالیٰ کی یہ صفت، کہ وہ حاضر و غائب اور دور و نزدیک کی تمام چیزوں کو جانتا ہے، یکتا اور بے مثل ہے، اللہ عزوجل اپنی ذات میں بھی وحدہ لاشریک ہے، اور اپنی صفات میں بھی وہ وحدہ لاشریک ہے، یہی عقیدہ قرآن مجید نے بتا یا ہے، اور اسی کا سبق رسول اللہ ﷺ نے دیا ہے، اور تمام صحابہ اور تمام سلف صالحین کا یہی عقیدہ ہے۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو شرک کی ہر بات سے بچائے ، اور ایمان کی حلاوت اور شیرینی ہمارے دلوں میں عطا فرمائے، اور صحیح عقائد کی توفیق بخشے، اور صحابہ کرام، تابعین عظام، ائمہ دین، سلف و صالحین اور بزرگان دین کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے ، آمین ثم آمین۔
بارک اللہ لی ولکم فی القراٰن العظیم ط ونفعنی وایاکم بالایت والذکر الحکیم ط انہ تعالٰی جوادکریم ملک بررءوف رحیم۔

Comments

Popular posts from this blog

Yusufzai (Pashtun tribe)

The  Yūsufzai  (also  Youssofzay ,  Yousefzai ,  Yousafzai ,  Esapzey ,  Yousufi , or  Yūsufi ) (Pashto:  يوسفزی ,Persian and Urdu:  یوسف زئی ) is one of the largest Pashtun (Afghans) tribes. The majority of the Yusufzai tribe reside in parts of Western Afghanistan, Khyber Pakhtunkhwa and Provincially Administered Tribal Areas near the Afghan-Pakistan border. They are the predominant population in the districts of Konar, Ningarhar, Mardan District, Dir, Swat,Malakand, Swabi, Buner, Shangla, Haripur District [Khalabat Town Ship and Tarbela] and in Mansehra and Battagram. There is also a Yusufzai clan of Dehwar tribe in the Mastung district of Balochistan who speak Persian with some mixture of Birahvi words. The descendants of Yusuf inhabit Konar, Jalalabad, Swat, Upper Dir, Lower Dir, Malakand Swabi and Mardan...

عہد عثمان میں تدوین قرآن

امام بخاری نے صحیح بخاری میں اپنی سند کے ساتھ ابن شھاب سے روایت کیا ہے کہ انس بن مالک نے انہیں بتایا کہ حذیفہ بن یمان حضرت عثمان کی خدمت میں حاضر ہوئے موسوف نے رمینیہ اور آذربیجان کی جنگ میں شرکت کی تھی وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ لوگ تلاوت قرآن میں بہت اختلاف کرنے لگے تھے ۔ حذیفہ نے حضرت عثمان سے کہا امیرالمؤمنین ! قبل اس کے کہ یہ امت کتاب الٰہی میں یہودیوں اور نصاریٰ کی طرح اکتلاف کرنے لگے اس کو سنبھال لیجئے یہ سن کر حضرت عثمان نے حجرت حفصہ کو کہلا بھیجا کہ آپ کے پاس قرآن کے جو صحیفے پڑے ہیں وہ ہمارے پاس بھیج دیجئے تاکہ ہم ان کو کتابی صورت میں جمع کریں پھر ہم ان کو واپس کردیں گے ۔محترمہ موصوفہ نے وہ صحیفے ارسال کردئیے۔حضرت عثمانرضی اللہ تعالٰی عنہ نے (۱) زید بن ثابترضی اللہ تعالٰی عنہ،(۲) عبداللہ بن زبیررضی اللہ تعالٰی عنہ،(۳)سعد بن العاصرضی اللہ تعالٰی عنہ،(۴)عبدالرحمان بن حارث بن ہشامرضی اللہ تعالٰی عنہکو مومورکیا کہ وہ صحیفوں سے نقل کرکے قرآن کریم کو کتابی صورت میں جمع کردیں۔ حضرت عثمانرضی اللہ تعالٰی عنہ نے تینوں قریشی صحابہ(حضرت زید بن ثابت کے علاوہ باقی تینوں صحابہ سے...

کتاب اللہ کی کون سی آیت سب سے عظیم ہے؟

آیۃ الکرسی کی فضیلت !!! آیۃ الکرسی کی کیااھمیت ہے ؟ اور کیا اس آیت کی عظمت پرکوئ دلیل وارد ہے ؟ الحمد للہ ابن کثیررحمہ اللہ تعالی سورۃ البقرۃ کی آیۃ الکرسی کی تفسیرکرتےہو‏ۓ کہتے ہیں : یہ آیۃ الکرسی ہے جس کی فضیلت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح حدیث میں ہے کہ کتاب اللہ میں یہ آیت سب سے افضل آیت ہے ۔ ابی بن کعب رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نےان سے سوال کیا کہ کتاب اللہ میں سب سے عظیم آیت کونسی ہے ؟ تو وہ کہنے لگے کہ اللہ اور اس کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم کوہی زیادہ علم ہے ، یہ سوال کئ باردھرایا اور پھر فرمانےلگے کہ وہ آیت الکرسی ہے ۔ فرمانے لگے اے ابوالمنذر علم مبارک ہو اس ذات کی قسم جس کےھاتھ میں میری جان ہے اس آیت کی زبان اور ہونٹ ہونگے عرش کے پاۓ کے ہاں اللہ تعالی کی پاکی بیان کررہی ہوگی ۔ اور غالبا مسلم نے والذی نفسی سے آگے والے الفاظ نہیں ہیں ۔ عبداللہ بن ابی بن کعب رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ ان کے والد کے پاس کھجوریں رکھنے کی جگہ تھی ، عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں میرے والد اس کاخیال رکھتے تھے تو...

عہد رسالت میں کتابت قرآن

سرورکائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے مندرجہ ذیل صحابہ کو کاتب وحی مقرر فرمایا تھا: حضرت بوبکررضی اللہ تعالٰی عنہ ، عمرفاروقرضی اللہ تعالٰی عنہ، عثمانرضی اللہ تعالٰی عنہ، علیرضی اللہ تعالٰی عنہ، معاویہرضی اللہ تعالٰی عنہ ، زید بن ثابت رضی اللہ تعالٰی عنہ،ابی بن کعبرضی اللہ تعالٰی عنہ، خالد بن ولیدرضی اللہ تعالٰی عنہ،ثابت بن قیسرضی اللہ تعالٰی عنہ،۔ قرآن کا جو حصہ نازل ہوتا آپ صحابہ کو مامور فرماتے کہ اسے تحریر کرلیں یہاں تک کہ کتابت کے پہلو بہ پہلو قرآن کریم کو سینوں میں بھی محفوظ کرلیا گیا۔(مشہور مستشرق بلاشیر نے کاتبین وحی صحابہ کی تعداد چالیس بتائ ہے دیگر مستشرقین مثلاً شفالی بہل اور کازانوفاکا زاویہ نگاہ بھی یہی ہے مؤخر الذکر نے اس ضمن میں طبقا ابن سعد، طبری ، نووی اور سیرت حلبی پر اعتماد کیا ہے ۔) محدث حاکم نےمستدرک میں زید بن ثابت سے بخاری ومسلم کی شرط کے مطابق روایت کیا ہے کہ زید بن ثابت نے کہا ہم عہد رسالت میں ''رقاع''(ٹکڑوں)سے قرآن جمع کیا کرتے تھے ۔ (الاتقان،ج۱ص،۹۹نیز البرہان ،ج۱ص۲۳۷) مذکورہ صدر حدیث میں ''رقاع ''کا جو لفظ وا...

شرک فی التصرف کا بیان

بسم اللہ الرحمن الرحیم اللّٰھم لک الحمد حمدا یوافی نعمک ویکافی مزید کرمک احمد ک بجمیع محا مدک ما علمت و ما لم اعلم علی جمیع نعمک ما علمت منھا وما لم اعلم وعلی کل حالط اللّٰھم صل علی محمد و علی ال محمد و بارک وسلم۔ اما بعد۔ فاعوذ باللہ من الشیطن الرجیم ط بسم اللہ الرحمن الرحیمط قُلِ ادْعُوا الَّذِيْنَ زَعَمْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللہِ۝۰ۚ لَا يَمْلِكُوْنَ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ فِي السَّمٰوٰتِ وَلَا فِي الْاَرْضِ وَمَا لَہُمْ فِيْہِمَا مِنْ شِرْكٍ وَّمَا لَہٗ مِنْہُمْ مِّنْ ظَہِيْرٍ۝۲۲ وَلَا تَنْفَعُ الشَّفَاعَۃُ عِنْدَہٗٓ اِلَّا لِمَنْ اَذِنَ لَہٗ۝۰ۭ حَتّٰٓي اِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوْبِہِمْ قَالُوْا مَاذَا۝۰ۙ قَالَ رَبُّكُمْ۝۰ۭ قَالُوا الْحَقَّ۝۰ۚ وَہُوَالْعَلِيُّ الْكَبِيْرُ۝۲۳ (السبا:۲۲۔۲۳) اے میرے محسن خدا! کل تعریفوں کا مستحق تو ہی ہے، میں تیری وہ تعریف کرتا ہوں جو تیری دی ہوئی نعمتوں کا بدل ہو، ا ور اس سے جو زیادہ دے، اس کا بدلہ ہو، اور پھر میں تیری جن نعمتوں کو جانتا ہوں اور جن کو نہیں جانتا سب ہی کا ا ن خوبیوں کے ساتھ شکریہ ادا کرتا ہوں، جس کا مجھ کو علم ہے اور جن کا نہیں، غرضیکہ ہر ...

حکایت

حضرت شیخ الاسلام امام غزالی نے احیاء العلوم میں ایک حاسد آدمی کی یہ حکایت فرمائی ہے کہ ایک شخص بادشاہ کے سامنے کھڑا ہوکر یہ کہا کرتا تھا کہ نیک لوگوں کے ساتھ نیکی کرو اور محسن کے احسان کا بدلہ دو کیوںکہ برائی کرنے والے کی برائی تمہاری طرف سے خود کفایت کرے گی۔ یہ شخص بادشاہ کے سامنے یہ نصیحت کیا کرتا تھا جس سے اس کی بڑی عزت تھی۔ اس کی عزت، عظمت اور مرتبہ کو دیکھ کر ایک شخص کو حسد پیدا ہوگیا۔ اس نے بادشاہ سے شکایت کی کہ یہ شخص حضور کے سامنے کھڑا ہوکر گندہ دہن بتاتا ہے۔ بادشاہ نے کہا اس کی تصدیق کیسے ہو؟ حاسد نے کہا جب وہ آپ کے پاس آئے تو آپ اسے اپنے قریب بلا لیجیے، جب وہ آپ کے بالکل قریب آجائے گا تو اپنی ناک بند کرلے گا، تاکہ آپ کے منہ کی بدبو نہ آنے پائے۔ بادشاہ نے کہا بہت اچھا، کل امتحان کریں گے۔ ادھر اس حاسد نے بادشاہ سے یہ کہا، ادھر اس نے جاکر اس ناصح و نیک آدمی کی دعوت کرکے ایسا کھانا کھلایا جس میں لہسن بہت سا تھا۔ یہ کھانا کھا کر فارغ ہی ہوا تھا کہ دربار کا وقت آگیا۔ بدستور سابق بادشاہ کے سامنے کھڑے ہوکر اس نے وہی جملہ کہا جو کہا کرتا تھا۔ بادشاہ نے اس کو اپنے پاس بلانے کا ...

Rasulullah Sallallahu Alaihi Wasallam Kay Muay Mubarak By Shaykh Mufti Umar Farooq

Read Online (400 K) AN EXTRACT FROM MONTHLY MAGAZINE OF DARUL ULOOM DEOBAND ON SOME DETAILS REGARDING THE BELOVED AND MUBARIK HAIR OF RASOOLULLAH [Sallallahu Alaihi Wasallam]. By Shaykh Mufti Umar Farooq

اتباع سنت کا بیان

بسم اللہ الرحمن الرحیم الحمد للہ الذی لم یزل عالماً قدیرا حیاً قیوماً سمیعاً بصیراً و اشھد ان لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ واکبرہ تکبیراً۔ واشھد ان محمداعبدہ ورسولہ و صلی اللہ علی سیدنا محمد ن الذی ارسلہ الی الناس کافۃ بشیراً ونذیرًا۔ و علی الہ و صحبہ وسلم تسلیماً کثیراکثیرا۔ اما بعد! فاعوذ باللہ من الشیطن الرجیم۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللہَ فَاتَّبِعُوْنِيْ يُحْبِبْكُمُ اللہُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ۝۰ۭ وَاللہُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ۝۳۱ قُلْ اَطِيْعُوا اللہَ وَالرَّسُوْلَ۝۰ۚ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّ اللہَ لَا يُحِبُّ الْكٰفِرِيْنَ۝۳۲ (آل عمران:۳۱۔۳۲) سب تعریف اللہ کے لیے ثابت ہے،جو ہمیشہ سے جاننے والا، قدرت والا، زندہ رکھنے والا، سنبھالنے والا، سننے والا اور دیکھنے والا ہے، اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ ایک اور یکتا ہے، جس کا کوئی شریک نہیں ہے، اور میں اس کی بڑائی بیان کرتا ہوں، اور اس بات کی گواہی دیتا ہوں ، کہ محمد ﷺ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، اللہ تعالیٰ ہمارے آقا محمد ﷺ پر رحمت کا ملہ نازل فرم...

اللہ و رسول ﷺ کی اطاعت کا بیان

بسم ا للہ الرحمن الرحیم۔ الحمد للہ رب العالمین۔ الرحمن الرحیم۔ مالک یوم الدین۔ والصلوۃ والسلام علی رسولہ المبین سیدنا محمد خاتم النبیین۔ وعلی جمیع الانبیاء والمرسلین۔ وسائر عباد اللہ الصالحین۔ اما بعد! فاعوذ باللہ من الشیطن الرجیم ط بسم اللہ الرحمن الرحیم ط يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَطِيْعُوا اللہَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ وَاُولِي الْاَمْرِ مِنْكُمْ۝۰ۚ فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِيْ شَيْءٍ فَرُدُّوْہُ اِلَى اللہِ وَالرَّسُوْلِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللہِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ۝۰ۭ ذٰلِكَ خَيْرٌ وَاَحْسَنُ تَاْوِيْلًا۔ (النساء:۵۹) سب تعریف اللہ کے لیے ہے، جو سار ے جہاں کا پالنے والا ہے، بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، بدلے کے دن (قیامت )کا مالک ہے، اور درودوسلام نازل ہوں، ا للہ تعالیٰ کے رسول پر جو احکام الٰہی کے ظاہر کرنے والے ہیں، ہمارے سردار جن کا نام نامی اسم گرامی محمد ﷺ ہے، جو سب نبیوں کے ختم کرنے والے ہیں، اور اللہ کے تمام نبیوں ا ور رسولوں پر، اور ا للہ کے تمام نیک بندوں پر، حمد و صلوۃ کے بعد، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ا ے ایمان والوفرمانبرداری کرو اللہ کی اور فرمانبر...

شرک کی مذمّت

بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ الحمدللہ الذی لم یتخذ ولداو لم یکن لہ شریک فی الملک ولم یکن لہ ولی من الذل وکبرہ تکبیرا۔ ونشھد ان لاالہ ا لااللہ وحدہ لا شریک لہ ونشھد ان محمداعبدہ ورسولہ صلی اللہ علیہ وعلی اٰلہ واصحابہ وسلم تسلیما کثیرا۔ اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم ط بسم اللہ الرحمن الرحیم بِہٖ۝۰ۭ وَمَنْ يُّشْرِكْ بِاللہِ فَكَاَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَاۗءِ فَتَخْطَفُہُ الطَّيْرُ اَوْ تَہْوِيْ بِہِ الرِّيْحُ فِيْ مَكَانٍ سَحِيْقٍ (الحج:۳۱) سب تعریف اللہ ہی کے لیے ہے، جو نہ اولاد رکھتا ہے، اور اپنی سلطنت میں کسی کو شریک بھی نہیں کرتا، اور نہ وہ ایسا حقیر ہے، کہ اس کا کوئی حمائتی ہو، تم اس کی بڑائی بیان کرو، اور ہم اس بات کی شہادت دیتے ہیں، کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے، وہ ایک ا کیلا ہے، اس کے ساتھ کوئی شریک نہیں ہے، اور ہم اس بات کی شہادت دیتے ہیں، کہ محمدﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں، اللہ تعالیٰ ان پر اور ان کے اصحابؓ پر بہت بہت درود بھیجے حمدو صلوٰۃ کے بعد عرض ہے ، کہ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں یہ فرما رہاہے، کہ اللہ کے ساتھ شرک کرنے والا گویا آسمان سے گر پڑا، تو اب اسے یا تو پرند...