Skip to main content

توحید کی خوبی اور شرک فی العلم کی تردید


بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ الحمد للہ المحمود بنعمتہ۔ المعبود بقدرتہ۔ المطاع بسلطانہ۔ المرھوب من عذابہ وسطوتہ۔ النافذ امرہ فی سمائہ وارضہ ۔ الذی خلق الخلق بقدرتہ۔ و میزھم باحکامہ فاعزھم بدینہ۔ واکرمھم بنبیہ محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم اللّٰھم صل علی محمد وعلی اہل بیتہ کما صلیت علی ابراھیم انک حمید مجید۔ اللّٰھم صل علینا معھم۔ اللّٰھم بارک علی محمد و علی اھل بیتہ کما بارکت علی ابراھیم انک حمید مجید۔ اللّٰھم بارک علینا معھم صلوات ا للہ وصلوات المؤمنین علی محمد ن النبی الامی السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ اما بعد۔ فاعوذ باللہ من الشیطن الرجیم ط بسم اللہ الرحمن الرحیم ط وَعِنْدَہٗ مَفَاتِحُ الْغَیْبِ لَا یَعْلَمُھَا اِلَّاھُوَط (الانعام:۵۹)
تمام تعریفیں اللہ کے لیے سزا وار ہیں، جو نعمتیں عطا فرمانے کے باعث واقعی قابل تعریف ہے، وہی حقیقی معبود برحق ہے اس لیے کہ اس کی سی قدرتیں اور کسی میں نہیں ہیں، خوف و ڈر رکھنے کے لائق اسی کی ذات ہے، اس لیے کہ اس کا عذاب سخت اور اس کی سزائیں بے حد اور اس کا دبدبہ و شوکت اور سلطنت سب پر ہے وہی ہے جس کا حکم زمین و آسمان میں چلتا ہے، اسی نے اپنی قدرت سے ساری مخلوق کو پیدا کیا، اس نے انسانوں کو اپنے حکم و احکام دے کر ممتاز فرمایا اپنا دین ان میں نازل فرما کر انہیں معزز و محترم کیا، اپنا نبی ان میں بھیج کر ان کا اکرام کر کے انہیں ذی مرتبہ بنایا(فالحمدللہ) اے اللہ! رحمت نازل فرما محمد اور آپ کے اہل بیت (ﷺ) پر، جس طرح رحمت فرمائی ابراہیم علیہ السلام پر، تو حمید و مجید ہے، اے اللہ! برکت فرما محمد ﷺ پر آپ کے گھر والوں پر جس طرح برکت نازل فرمائی ابراہیم علیہ السلام پر، توستودہ صفات بزرگ ہے، اے اللہ تو ہم پر بھی ان کے ساتھ ہی رحمت و برکت نازل فرما، اللہ کی رحمتیں اور درود نازل ہوں محمد نبی امی ﷺ پر، تمہارے اوپر سلام ہو، اور اس کی رحمتیں اور اس کی برکتیں نازل ہوں، حمد و صلوٰۃ کے بعد اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے اور اللہ کے پاس تمام غیب کی کنجیاں ہیں، اس کے علاوہ کوئی ان کو نہیں جانتا۔
یعنی اللہ تعالیٰ ہر چیز کا جاننے والا ، اور دور نزدیک سے برابر دیکھنے والا اور پوشیدہ و ظاہر کا واقف کار اور ہر جگہ حاضر و ناظر رہنے والا، اور ہر ایک کی بات کو سننے والا ہے، یہ صفت صرف اللہ ہی کے ساتھ مخصوص ہے، اس آیت کریمہ میں اس نے یہ بتایا ہے، کہ غیب کی کنجیاں صرف ہمارے ہاتھ میں ہیں، اور کسی کے پاس نہیں، اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے بندوں کو ظاہری چیزیںدریافت کرنے کی ترکیبیں بتا دی ہیں، جیسے دیکھنے کو آنکھ، سننے کو کان، سونگھنے کو ناک، چکھنے کو زبان ، چھونے کو ہاتھ، سمجھنے کو عقل دی ہے کہ ضرورت کے وقت جیسا دیکھنے کو دل چاہے آنکھ کھول کر دیکھنے لگیں، اور جب چاہیں بند کر لیں، اسی طرح ا ور چیزوں کو بھی معلوم کر لیتے ہیں، تو گویا ان ظاہری چیزوں کے دریافت کرنے کی ان کو کنجیاں دی ہیں، جس کے ہاتھ میں کنجیاں ہوتی ہیں، اس کے ہاتھ میں اختیار ہوتا ہے، جب چاہے قفل کھول کر سب چیزوں کو دیکھ لے اور جب چاہے نہ کھولے، لیکن غیب کے دریافت کرنے کی کنجی کسی کو نہیں دی، بلکہ اس کو اپنے پاس ہی رکھا ہے، کسی نبی ، ولی ، شہید، جن ا ور فرشتے کو یہ طاقت نہیں، کہ بغیر اللہ کے بتائے کچھ بتا سکیں، کیونکہ ان کو غیب دانی حاصل نہیں ہے، اگر ان کو کوئی غیب دان جانے گا،تو وہ اللہ کو ان کے ساتھ شریک کرے گا ا للہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں یوں فرمایا ہے:
قُلْ لَّآ اَمْلِكُ لِنَفْسِيْ نَفْعًا وَّلَا ضَرًّا اِلَّا مَا شَاۗءَ اللہُ۝۰ۭ وَلَوْ كُنْتُ اَعْلَمُ الْغَيْبَ لَاسْـتَكْثَرْتُ مِنَ الْخَيْرِ۝۰ۚۖۛ وَمَا مَسَّنِيَ السُّوْۗءُ۝۰ۚۛ اِنْ اَنَا اِلَّا نَذِيْرٌ وَّبَشِيْرٌ لِّقَوْمٍ يُّؤْمِنُوْنَ۔ (اعراف:۱۸۸)
اے ہمارے نبی ! آپ لوگوں سے فرما دیجیے، کہ میں اپنی ذات کے نفع و نقصان کاکچھ بھی مالک و مختار نہیں ہوں مگر جو اللہ چاہے، اگر میں غیب جانتا، تو میں بہت سی خوبیاں جمع کر لیتا اور مجھے کوئی تکلیف اور برائی نہ پہنچتی، میں تو صرف نافرمانوں کو عذاب الٰہی سے ڈراتا ہوں اور ایمان والوں کو خوشی سناتا ہوں۔
یہ تو ساری اسلامی دنیا جانتی ہے، کہ ہمارے نبی کریم ﷺ سے بڑھ کر مخلوق میں کوئی نہیں ہوا، اور نہ ہوگا، بلکہ آپ ﷺ کے برابر کا بھی کوئی نہیں ہوا نہ ہوگا، پھر بھی اپنی ذات کے نفع و نقصان کا کچھ بھی اختیار نہیں رکھتے تھے، تو دوسرے کس شمار میں ہیں، اللہ تعالیٰ اپنے نبی سے فرما رہا ہے، کہ آپ ﷺ خود لوگوں میں اس کا ا علان کر دیں، کہ میں اپنی ذات کے نفع و ضرر کا مالک و مختار نہیں ہوں، تو دوسروں کو کیا نفع و نقصان پہنچا سکتا ہوں، اور نہ میں غیب جانتا ہوں، کہ بغیر اللہ تعالیٰ کے بتائے معلوم کر لوں، اگر میرے قابو میں غیب دانی ہوتی تو پہلے ہر کام کی بھلائی برائی معلوم کر لیتا، اور اس کام کے ا نجام کو سوچ لیتا، اگر اچھا ہوتا، تو کرتا اور خراب ہوتا تو نہیں کرتا، اس صورت میں کبھی بھی تکلیف نہیں پہنچتی ، اور نہ کبھی نقصان اٹھاتا، مگرتمہیں معلوم ہے، کہ مجھے تکلیف پہنچتی ہے، نقصان بھی ہوتا ہے، دیکھو حضرت عائشہؓ پر منافقوں نے تہمت لگائی ایک ماہ تک سخت پریشانی رہی، جب وحی آئی، اور اللہ تعالیٰ نے بتایا،کہ حضرت عائشہؓ سچی ، پاک دامن ہیں، تب معلوم ہوا، اس قسم کے بہت سے واقعات موجود ہیں۔
اس آیت کریمہ سے یہ بات بھی معلوم ہوئی ، کہ غیب صرف اللہ ہی جانتا ہے، اس کے علاوہ کوئی نبی، ولی، شہید، پیر، جن اور فرشتہ غیب نہیں جانتا، اگر کوئی غیب جاننے کا دعویٰ کرے، تو وہ اس آیت کا مخالف و منکر ہے، اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہے:
قُلْ لَّايَعْلَمُ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ الْغَيْبَ اِلَّا اللہُ۝۰ۭ وَمَا يَشْعُرُوْنَ اَيَّانَ يُبْعَثُوْنَ۔ (النمل :۶۵)
اے ہمارے نبی! آپ لوگوں سے فرما دیجیے، کہ زمین اور آسمان میں اللہ کے سوا کوئی غیب نہیں جانتا، (بلکہ)ان کو یہ بھی خبر نہیں، کہ کب اٹھائے جائیں گے۔
اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کوحکم دے رہا ہے، کہ آپ لوگوں میں اعلان کر دیں، کہ زمین و آسمان میں اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی جن، فرشتہ اور پیرو پیغمبر غیب نہیں جانتے ، یہ یقین ہے، کہ قیامت ضرور آئے گی، مگر ان نبیوں، ولیوں وغیرہ کو یہ پتہ نہیں ہے، کہ قیامت کب ہوگی، اور کب یہ لوگ اپنی قبروں سے اٹھائے جائیں گے، اس کے تعین کا علم صرف اللہ ہی کو حاصل ہے، قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
اِنَّ اللہَ عِنْدَہٗ عِلْمُ السَّاعَۃِ۝۰ۚ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ۝۰ۚ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْاَرْحَام۝۰ِۭ وَمَا تَدْرِيْ نَفْسٌ مَّاذَا تَكْسِبُ غَدًا۝۰ۭ وَمَا تَدْرِيْ نَفْسٌۢ بِاَيِّ اَرْضٍ تَمُوْتُ۝۰ۭ اِنَّ اللہَ عَلِيْمٌ خَبِيْرٌ۔ (لقمان :۳۴)
یقینا قیامت کے خاص وقت کی خبر اللہ ہی کو ہے اوروہی مینہ برساتا ہے، اور ماؤں کے پیٹوں میں جو کچھ ہے اس کو وہی جانتاہے، اور وہی جانتا ہے کہ فلاں جاندار کل کیا کرے گا، اس کے علاوہ کوئی نہیں جانتا،کہ فلاں جاندار کہاں مرے گا، بے شک اللہ تعالیٰ بڑا جاننے والا پوری خبر رکھنے والا ہے۔
ان سب باتوں کا جاننا صرف اللہ تعالیٰ ہی کے قبضہ میں ہے، اور کوئی ان کو نہیں جانتا، قیامت کا آنا بہت مشہور ہے، مگر اس کے آنے کی خبر کسی کو نہیں، اس کے علاوہ اور باتوں کا جاننا، جیسے آئندہ فتح اور شکست کا ہونا، یا کسی کا بیمار و تندرست ہونا وغیرہ تو قیامت کے برابر نہیں ہے، حالانکہ ان کو بھی خدا کے سوا کوئی نہیں جانتا ہے، اسی طرح مینہ برسنے کی خبر کسی کو نہیں ہے ، حالانکہ اس کا وقت مقرر ہے، ا ور موسم بندھا ہوا، ان موسموں میں بھی برستا ہے، اور سب چھوٹے بڑے، عالم، جاہل ، نبی، ولی وغیرہ سب کو اس کی ضرورت بھی رہتی ہے، لیکن کسی کو یہ خبر نہیں کہ کس دن بارش ہوگی، اس کا علم صرف اللہ تعالیٰ ہی کو حاصل ہے، کہ جن چیزوں کا موسم نہیں بندھا ہوا ہے، جیسے مرنا، جینا، پیدا ہونا، غنی ہونا، فقیر ہونا، وغیرہ وغیرہ بھی کوئی نہیں جانتا ہے، اسی طرح مادہ کے پیٹ میں کیا ہے، نر ہے یا مادہ، ایک ہے یادو ، ناقص ہے یا کامل، خوبصورت ہے یا بدصورت، کوئی نہیں جانتا ، صرف خدا ہی جانتا ہے، اسی طرح کل آئندہ کیا ہوگا وہ کیا کرے گا، اسی طرح کوئی نہیں جانتا، کہ وہ کہاں مرے گا، اور کہاں دفن ہوگا، ان سب باتوں کو خدا کے سوا اور کوئی نہیں جانتا

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
واللہ لا ادری واللہ لا ادری وانا رسول اللہ مایفعل بی ولا بکم۔ (بخاری شریف)
خدا کی قسم! میں نہیں جانتا، خدا کی قسم ! میں نہیں جانتا حالانکہ میں اللہ کا رسول ہوں، کہ میرے اور تمہارے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا، مجھے معلوم نہیں۔
یعنی اللہ تعالیٰ دنیا میں کیا کرے گا، اس کی حقیقت خدا کے سوا کوئی نہیں جانتا میں اللہ کا رسول ہونے کے باوجود نہیں جانتا ہوں، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔
ان رسول اللہ ﷺ کان یھریق الماء ویتیمم بالتراب فاقول یا رسول اللہ ان الماء قریب فیقول ما یدرینی لا ابلغہ ۔ (شرح السنۃ، مشکوۃ)
رسول اللہ ﷺ پیشاب کر کے فوراً مٹی سے تیمم کر لیتے ، میں عرض کرتا ، کہ اے اللہ کے رسول، پانی آپ کے قریب ہی ہے، آپ فرماتے کہ کیا خبر شاید میں وہاں تک نہ پہنچ سکوں۔
یعنی ممکن ہے کہ میں پانی تک نہ پہنچ سکوں، اس سے معلوم ہوتا ہے، کہ آپ غیب نہیں جانتے تھے، اسی طرح حجۃ الوداع میں آپؐ نے فرمایا:
لواستقبلت من ما استدبرت ماسقت الھدی۔ (بخاری)
جو مجھے اب معلوم ہوا ہے، اگر پہلے معلوم ہو جاتا، تو میں اپنے ساتھ قربانی کا جانور نہ لاتا۔
اس قسم کے صدہا واقعات ہیں، جن سے معلوم ہوتا ہے، کہ آپؐ بغیر اللہ کے بتائے ہوئے خود غیب کی باتیں نہیں جانتے تھے، اور اگر اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو بتایا اور اس کے بتانے پر آپ ﷺ نے کوئی بات آئندہ کے متعلق بتا دی، جیسے معجزات اور علامات قیامت وغیرہ تو یہ علم غیب نہیں ہے، کیونکہ علم غیب وہ ہے، جو بغیر کسی کے بتائے معلوم ہو، کیونکہ علم اس ملکہ(قوت) کو کہتے ہیں، جس سے جس وقت بھی چاہے اس کی جزئیات کو معلوم کرے، ایسا علم غیب کسی مخلوق کو نہیں ہے، اور نہ کبھی پہلے تھا، اور نہ آئندہ کبھی ہوگا، اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ سے فرمایا:
قُلْ لَّآ اَقُوْلُ لَكُمْ عِنْدِيْ خَزَاۗىِٕنُ اللہِ وَلَآ اَعْلَمُ الْغَيْبَ وَلَآ اَقُوْلُ لَكُمْ اِنِّىْ مَلَكٌ۝۰ۚ (الانعام:۵۰)
آپ کہہ دیجیے، کہ میں تم سے یہ نہیں کہتا، کہ میرے پاس اللہ تعالیٰ کے خزانے ہیں، اور نہ میں غیب کی باتیں جانتا ہوں، اور نہ میں تم سے یہ کہتا ہوں ، کہ میں فرشتہ ہوں۔
یہ بھی یاد رکھو، کہ علم کے معنی یقین کے ہیں، اس لیے اندازے اور ظن اور گمان کی باتیں علم غیب نہیں ہیں، کیونکہ بہت دفعہ ان باتوں کے خلاف ظہور میں آتا ہے، اور علم غیب کے خلاف ہر گز نہیں ہوسکتا، اس لیے اندازوں اور تخمینوں کی باتوں کو سچ اور غیب کی بات ماننے والا شرک فی العلم کے گناہ کا مرتکب ہوتا ہے، جادوگر، جوتشی، رمال، نجومی اور سفلی علم کی باتوں پر ایمان رکھنے سے ایمان باللہ ختم ہو جاتا ہے، ہر ایمان والے کا یہ عقیدہ ہونا چاہیے، کہ جس طرح خدا کی ذات یکتا و یگانہ ہے، اسی طرح اس کی تمام صفتیں بھی یکتا اور بے مثل ہیں، اور خدا تعالیٰ کی یہ صفت، کہ وہ حاضر و غائب اور دور و نزدیک کی تمام چیزوں کو جانتا ہے، یکتا اور بے مثل ہے، اللہ عزوجل اپنی ذات میں بھی وحدہ لاشریک ہے، اور اپنی صفات میں بھی وہ وحدہ لاشریک ہے، یہی عقیدہ قرآن مجید نے بتا یا ہے، اور اسی کا سبق رسول اللہ ﷺ نے دیا ہے، اور تمام صحابہ اور تمام سلف صالحین کا یہی عقیدہ ہے۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو شرک کی ہر بات سے بچائے ، اور ایمان کی حلاوت اور شیرینی ہمارے دلوں میں عطا فرمائے، اور صحیح عقائد کی توفیق بخشے، اور صحابہ کرام، تابعین عظام، ائمہ دین، سلف و صالحین اور بزرگان دین کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے ، آمین ثم آمین۔
بارک اللہ لی ولکم فی القراٰن العظیم ط ونفعنی وایاکم بالایت والذکر الحکیم ط انہ تعالٰی جوادکریم ملک بررءوف رحیم۔

Comments

Popular posts from this blog

Yusufzai (Pashtun tribe)

The  Yūsufzai  (also  Youssofzay ,  Yousefzai ,  Yousafzai ,  Esapzey ,  Yousufi , or  Yūsufi ) (Pashto:  يوسفزی ,Persian and Urdu:  یوسف زئی ) is one of the largest Pashtun (Afghans) tribes. The majority of the Yusufzai tribe reside in parts of Western Afghanistan, Khyber Pakhtunkhwa and Provincially Administered Tribal Areas near the Afghan-Pakistan border. They are the predominant population in the districts of Konar, Ningarhar, Mardan District, Dir, Swat,Malakand, Swabi, Buner, Shangla, Haripur District [Khalabat Town Ship and Tarbela] and in Mansehra and Battagram. There is also a Yusufzai clan of Dehwar tribe in the Mastung district of Balochistan who speak Persian with some mixture of Birahvi words. The descendants of Yusuf inhabit Konar, Jalalabad, Swat, Upper Dir, Lower Dir, Malakand Swabi and Mardan...

یہودی پروٹوکولز

Online Read یہودی پروٹوکولز ============================================== Online Read E Book یہودی پروٹوکولز ============================================== Download Free یہودی پروٹوکولز ---------------------------------------------------- Download Free یہودی پروٹوکولز ----------------------------------------------------

دین اسلام میں رسول اللہ ﷺ کی اطاعت فرض ہے

بسم اللہ الرحمن الرحیم دین اسلام میں رسول اللہ ﷺ کی اطاعت فرض ہے يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ أَطِيعُوا۟ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ وَلَا تَوَلَّوْا۟ عَنْهُ وَأَنتُمْ تَسْمَعُونَ ﴿20﴾ترجمہ: اے ایمان والو الله اور اس کے رسول کا حکم مانو اور سن کر اس سے مت پھرو(سورۃ الانفال،آیت20) قُلْ أَطِيعُوا۟ ٱللَّهَ وَأَطِيعُوا۟ ٱلرَّسُولَ ۖ فَإِن تَوَلَّوْا۟ فَإِنَّمَا عَلَيْهِ مَا حُمِّلَ وَعَلَيْكُم مَّا حُمِّلْتُمْ ۖ وَإِن تُطِيعُوهُ تَهْتَدُوا۟ ۚ وَمَا عَلَى ٱلرَّسُولِ إِلَّا ٱلْبَلَٰغُ ٱلْمُبِينُ﴿56﴾ترجمہ: کہہ دو الله اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرو پھر اگر منہ پھیرو گے تو پیغمبر تو وہی ہے جس کا وہ ذمہ دار ہے اورتم پر وہ ہے جو تمہارے ذمہ لازم کیا گیا ہے اور اگر اس کی فرمانبرداری کرو گے تو ہدایت پاؤ گے اور رسول کے ذمہ صرف صاف طور پر پہنچا دینا ہے (سورۃ النور،آیت 56) مَّن يُطِعِ ٱلرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ ٱللَّهَ ۖ وَمَن تَوَلَّىٰ فَمَآ أَرْسَلْنَٰكَ عَلَيْهِمْ حَفِيظًۭا ﴿80﴾ترجمہ: جو شخص رسول کی فرمانبرداری کرے گا تو بےشک اس نے اللہ کی فرمانبرداری کی اور جو نافرمانی کرے گا تو اے ...

قرآن حکیم کے نازل ہونے کی کیا غرض ہے

سورہ آلِ عمران هَـٰذَا بَيَانٌ لِّلنَّاسِ وَهُدًى وَمَوْعِظَةٌ لِّلْمُتَّقِينَ ﴿١٣٨﴾ یہ (قرآن) لوگوں کے لیے بیان صریح اور اہلِ تقویٰ کے لیے ہدایت اور نصیحت ہے۔ سورہ المآئدۃ يَا أَهْلَ الْكِتَابِ قَدْ جَاءَكُمْ رَسُولُنَا يُبَيِّنُ لَكُمْ كَثِيرًا مِّمَّا كُنتُمْ تُخْفُونَ مِنَ الْكِتَابِ وَيَعْفُو عَن كَثِيرٍ ۚ قَدْ جَاءَكُم مِّنَ اللَّـهِ نُورٌ وَكِتَابٌ مُّبِينٌ ﴿١٥﴾هْدِي بِهِ اللَّـهُ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَهُ سُبُلَ السَّلَامِ وَيُخْرِجُهُم مِّنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ بِإِذْنِهِ وَيَهْدِيهِمْ إِلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ ﴿١٦﴾  اے اہل کتاب! تمہارے پاس ہمارے پیغمبر (آخرالزماں) آ گئے ہیں کہ جو کچھ تم کتاب (الہٰی) میں سے چھپاتے تھے وہ اس میں سے بہت کچھ تمہیں کھول کھول کر بتا دیتے ہیں اور تمہارے بہت سے قصور معاف کر دیتے ہیں بےشک تمہارے پاس خدا کی طرف سے نور اور روشن کتاب آ چکی ہے۔جس سے خدا اپنی رضا پر چلنے والوں کو نجات کے رستے دکھاتا ہے اور اپنے حکم سے اندھیرے میں سے نکال کر روشنی کی طرف لے جاتا اور ان کو سیدھے رستہ پر چلاتا ہے۔ وَكَتَبْنَا عَلَيْه...

جمع عثمانی رِوایات کے آئینے میں

نبی مکرمﷺ کی حدیث مبارکہ ’’خَیْرُ النَّاسِ قَرْنِيْ ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَھُمْ ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَھُمْ‘‘۔(صحیح البخاري: ۲۶۵۲) پر جب نظر پڑتی ہے تو سر احسان و نیازمندی کے ملے جلے تاثر ات سے جھک جاتا ہے کہ واقعتا آپﷺ، صحابہ رضی اللہ عنہم اور تابعین رحمہم اللہ کا زمانہ خیر القرون تھا، کیونکہ اس میں بنی نوع اِنسان کی راہ روی اور اسلام کی سربلندی کے لیے وہ محنتیں اور کوششیں ہوئی ہیں کہ جس کی مثال آئندہ جمیع قرون میں پیش کرنا مشکل ہے۔ یقینا وہ لوگ اس قابل تھے کہ اُنہیں یہ ذمہ داری سونپی جاتی کہ وہ دینِ الٰہی اور شرع اللہ کو اپنی مکمل تشریحات کے ساتھ آئندہ نسلوں تک منتقل کریں، بلا شبہ وہ طائفہ فائزہ اپنے اس مقصد میں بامراد ہوا ہے۔ان جملہ ذمہ داریوں میں سے اَہم ترین ذمہ داری یہ تھی کہ ہدایت سماوی کے آخری ربانی صحیفہ کو محفوظ اور غیر متبدل شکل میں ہم تک پہنچایا جائے۔ ہمارا یہ قطعی ایمان ہے کہ وہ پیام اَیزدی آج اپنی سو فیصد اَصلی اور حقیقی شکل میں ہمارے درمیان موجود ہے۔ الحمد ﷲ علی ذلک۔اِس سلسلہ میں خیرالقرون میں جو سب سے اَہم کام ہوا ہے وہ سیدنا عثمان ذوالنورین رضی ال...

ان شاءاللہ لکھنے میں غلطی کرنا

بسم اللہ الرحمن الرحیم السلام علیکم ورحمتہ اللہ آ پ لوگوں نے اکثر کتابوں میں لفظ ان شاءاللہ کو اس طرح لکھا ہوا پڑھاہوگا انشاءاللہ اور جب کہ اس طرح لکھنے سے اس کا معنی بدل جاتا ہے۔ لفظ ان شاءاللہ کے اردو میں معنی بنتا ہے اگر اللہ نے چاہا اور جب کہ انشاء عربی میں کسی چیز کو بنانے کو کہتے ہیں اس طرح انشاءاللہ کے معنی بہت غلط بن جاتے ہیں ۔ہم لوگ عربی زبان سے واقفیت نہ رکھنے کی وجہ سے ایسی غلطیاں کر جاتے ہیں اللہ ہمیں معاف فرمائے آمین۔اللہ کا ارشاد ہے کہاِنَّآ اَنْشَاْنٰهُنَّ اِنْشَاۗءً 35۝ۙہم نے ان (کی بیویوں کو) خاص طور پر بنایا ہے۔الواقعہ:۳۵قَالَ اِنَّمَا يَاْتِيْكُمْ بِهِ اللّٰهُ اِنْ شَاۗءَ وَمَآ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِيْنَ 33 ؀جواب دیا کہ اسے بھی اللہ تعالٰی ہی لائے گااگر وہ چاہے اور ہاں تم اسے ہرانے والے نہیں ہو۔ھود:۳۳فَلَمَّا دَخَلُوْا عَلٰي يُوْسُفَ اٰوٰٓى اِلَيْهِ اَبَوَيْهِ وَقَالَ ادْخُلُوْا مِصْرَ اِنْ شَاۗءَ اللّٰهُ اٰمِنِيْنَ 99؀ۭپھر جب (سب کے سب) یوسف کے پاس پہنچے تو اس نے اپنے والدین کو (عزت و احترام کے ساتھ) اپنے پاس جگہ دی اور کہا، ''کہاگر اللہ نے چاہا تو...

قراء توں کا اِختلاف اور منکرینِ حدیث

یہ ایک مسلّمہ اَمر ہے کہ قرآن مجید کی ایک سے زیادہ قراء تیں ثابت ہیں۔ لیکن اہلِ قرآن کہلانے والے منکرین حدیث ان اختلافِ قراء ات کو نہیں مانتے۔ وہ کہتے ہیں کہ قرآن کی صرف ایک ہی قراء ت ہے اور یہ کہ خود نبیﷺنے قرآن کو کتابی صورت میں مرتب اور مدوّن کیا اور اس پر اعراب و نقطے لگوائے تھے جبکہ یہ بات خلاف ِ واقعہ ہے۔جناب پرویز صاحب لکھتے ہیں:’’ہم سمجھتے ہیں کہ اس کے بعد ’اختلاف قراء ت‘ کے فتنہ کے متعلق کچھ سمجھنے کی ضرورت باقی نہیں رہتی‘‘(طلوع اسلام، ص۵۶، شمارہ جنوری ۱۹۸۲ء، لاہور)وہ مزید لکھتے ہیں :’’قرآن مجیدجس شکل میں ہمارے پاس موجود ہے اسے خود رسول اللہﷺنے اسی طرح مرتب اور مدوّن شکل میں اُمت کو دیا تھا۔‘‘(طلوع اسلام، ص۴۲، شمارہ جنوری۱۹۸۲ء، لاہور)اسی طرح ایک اور منکرِ حدیث رحمت اللہ طارق صاحب نے لکھا ہے :’’اختلاف قراء ت کا فتنہ ہی لے لیجئے جس کا مودودی صاحب جیسا شخص نہ صرف معترف اور معتقد ہے بلکہ سرگرم مبلغ اور پُرجوش ناشر ہے۔‘‘(اعجاز قرآن و اختلاف قراء ت، مرتبہ تمنا عمادی:۷۴۲) طارق صاحب نے مزید لکھا ہے :’’ لَوْ کَانَ مِنْ عِنْدِ غَیْرِ اﷲِ لَوَجَدُوْا فِیْہِ اخْتِلَافًا کَثِیْرًا ‘‘...

جمع قرآن اور اس کی تدوین

جمع قرآن اور اس کی تدوین جمع قرآن سے مراد قرآن کریم کا جمع کرنا۔ خواہ حفظ سے ہو یا کتابت سے یا تلاوت کی ریکارڈنگ سے۔ اور تدوین سے مراد اس کو کتابی صورت میں ترتیب دینا ہے۔ان سب مراحل کی ایک دل چسپ معلوماتی تاریخ ہے جسے ایک طالب علم کے لئے جاننا بہت اہم ہے۔تاکہ وہ آگاہ رہے کہ یہ مقدس کتاب کس طرح کن کن ادوار سے گذر کر محفوظ ترین صورت میں ہم تک پہنچی؟مقصد جمع قرآن: جمع قرآن کا مقصد یہی تھا کہ جس طرح قرآن مجید آپ ﷺ پر اترا ہے اور جس طرح آپ نے اسے پڑھا یا سکھایا ہے اسے لکھ کر محفوظ کرلیا جائے۔ یہ اللہ کا حکم تھا تاکہ مستقبل میں ممکنہ اختلاف جو قراءت یا اس کے الفاظ ، ترتیب اور لغت میں پیدا ہوسکتا ہے وہ نہ ہوسکے۔ اللہ تعالیٰ نے خود بھی اس کی حفاظت کی ذمہ داری لی مگر اس حفاظت کا کام صحابہ رسول اور امت کے قراء وحفاظ سے بھی لیا۔جمع قرآن کی دلیل: آپ ﷺ قرآن کی تنزیل میں سخت شدت محسوس کیا کرتے۔ اور اپنے ہونٹوں کو حرکت دیا کرتے تھے۔ جیسا کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت صحیحین میں ہے۔تو اللہ تعالیٰ نے ابتداء میں ہی یہ فرمادیا : {لَا تُحَرِّكْ بِہٖ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ...

عورت، اسلام کی نظر میں

عورت جاہلیت میں نہایت ذلیل وحقیر چیز تھی یہاں تک کہ اسلام آیا تو اس نے اسے ایسی عزت وتکریم بخشی جس کی کوئی نظیر نہیں۔ اس نے جاہلیت کے مظالم سے اسے نجات دی اور اس کے حقوق کا ضامن وکفیل ہوا۔ اس نے عورت کو بہت سی دینی واجبات اور ثواب وعقاب میں اسے مردوں کے مساوی قرار دیا۔ چنانچہ اسے اسلام میں بہت زیادہ عزت وتکریم ملی ۔ إن الحمد لله، نحمده, ونستعينه، ونستغفره، ونعوذ بالله من شرور أنفسنا وسيئات أعمالنا، من يهده الله فلا مضل له، ومن يضلل فلا هادى له، وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له، وأشهد أن محمداً عبده ورسوله،وقد قال اللہ تبارک وتعالی فی محکم تنزیلہ، أعوذ باللہ من الشیطان الرجیم: (مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّن ذَكَرٍ أَوْ أُنثَىٰ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهُ حَيَاةً طَيِّبَةً ۖ وَلَنَجْزِيَنَّهُمْ أَجْرَهُم بِأَحْسَنِ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ) (النحل: 97)"جو شخص نیک عمل کرے مرد ہو یا عورت، لیکن باایمان ہو تو ہم اسے یقیناً نہایت بہتر زندگی عطا فرمائیں گے۔ اور ان کے نیک اعمال کا بہتر بدلہ بھی انہیں ضرور ضرور دیں گے۔"وقال النبی صلی اللہ علیہ وسلم: )إنما النساء شقائ...

خیرخواہی وامانت داری

خیرخواہی وامانت داری خیر خواہی دین کی بنیاد ا ور اس کا جوہر ہے۔ دین دراصل خیر خواہی کا نام ہے۔ خیرخواہی اللہ کی، اس کے کتاب کی، اس کے رسول کی، مسلم ائمہ وحکمرانوں کی اور عامۃ المسلمین کی ہوتی ہے۔ پس جب ان تمام کے حق میں بندہ خیرخواہ ہوگا تو اس کا دین کامل ہوگا اور جس میں ان میں سے کسی کی خیرخواہی میں کمی و کوتاہی ہوگی تو اسی قدر اس کے دین میں نقص وکمی ہوگی۔ مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اپنی خیرخواہی میں امانت کو ملحوظ رکھے اور بغیر کسی مداہنت ومجاملت کے حق کو بیان کرے۔ یہی شخص اللہ کے نزدیک امین ہوگا۔ إن الحمد لله، نحمده ونستعينه ونستغفره، ونعوذ بالله من شرور أنفسنا، وسيئات أعمالنا، من يهده الله فلا مضل له، ومن يضلل فلا هادى له، وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له، وأشهد أن محمداً عبده ورسوله۔ أما بعد: فإن خیر الحدیث کتاب اللہ، وخیر الھدی ھدی محمد صلی اللہ علیہ وسلم، وشر الأمور محدثاتھا، وکل محدثۃ بدعۃ، وکل بدعۃ ضلالۃ، وکل ضلالۃ  فی النار۔  وقد قال اللہ تبارک وتعالی فی کتابہ المجید: (إِنَّ اللَّـهَ يَأْمُرُكُمْ أَن تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَىٰ أَهْلِهَا وَإِذَا حَ...