Skip to main content

توحید کی خوبی اور شرک فی العلم کی تردید


بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ الحمد للہ المحمود بنعمتہ۔ المعبود بقدرتہ۔ المطاع بسلطانہ۔ المرھوب من عذابہ وسطوتہ۔ النافذ امرہ فی سمائہ وارضہ ۔ الذی خلق الخلق بقدرتہ۔ و میزھم باحکامہ فاعزھم بدینہ۔ واکرمھم بنبیہ محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم اللّٰھم صل علی محمد وعلی اہل بیتہ کما صلیت علی ابراھیم انک حمید مجید۔ اللّٰھم صل علینا معھم۔ اللّٰھم بارک علی محمد و علی اھل بیتہ کما بارکت علی ابراھیم انک حمید مجید۔ اللّٰھم بارک علینا معھم صلوات ا للہ وصلوات المؤمنین علی محمد ن النبی الامی السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ اما بعد۔ فاعوذ باللہ من الشیطن الرجیم ط بسم اللہ الرحمن الرحیم ط وَعِنْدَہٗ مَفَاتِحُ الْغَیْبِ لَا یَعْلَمُھَا اِلَّاھُوَط (الانعام:۵۹)
تمام تعریفیں اللہ کے لیے سزا وار ہیں، جو نعمتیں عطا فرمانے کے باعث واقعی قابل تعریف ہے، وہی حقیقی معبود برحق ہے اس لیے کہ اس کی سی قدرتیں اور کسی میں نہیں ہیں، خوف و ڈر رکھنے کے لائق اسی کی ذات ہے، اس لیے کہ اس کا عذاب سخت اور اس کی سزائیں بے حد اور اس کا دبدبہ و شوکت اور سلطنت سب پر ہے وہی ہے جس کا حکم زمین و آسمان میں چلتا ہے، اسی نے اپنی قدرت سے ساری مخلوق کو پیدا کیا، اس نے انسانوں کو اپنے حکم و احکام دے کر ممتاز فرمایا اپنا دین ان میں نازل فرما کر انہیں معزز و محترم کیا، اپنا نبی ان میں بھیج کر ان کا اکرام کر کے انہیں ذی مرتبہ بنایا(فالحمدللہ) اے اللہ! رحمت نازل فرما محمد اور آپ کے اہل بیت (ﷺ) پر، جس طرح رحمت فرمائی ابراہیم علیہ السلام پر، تو حمید و مجید ہے، اے اللہ! برکت فرما محمد ﷺ پر آپ کے گھر والوں پر جس طرح برکت نازل فرمائی ابراہیم علیہ السلام پر، توستودہ صفات بزرگ ہے، اے اللہ تو ہم پر بھی ان کے ساتھ ہی رحمت و برکت نازل فرما، اللہ کی رحمتیں اور درود نازل ہوں محمد نبی امی ﷺ پر، تمہارے اوپر سلام ہو، اور اس کی رحمتیں اور اس کی برکتیں نازل ہوں، حمد و صلوٰۃ کے بعد اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے اور اللہ کے پاس تمام غیب کی کنجیاں ہیں، اس کے علاوہ کوئی ان کو نہیں جانتا۔
یعنی اللہ تعالیٰ ہر چیز کا جاننے والا ، اور دور نزدیک سے برابر دیکھنے والا اور پوشیدہ و ظاہر کا واقف کار اور ہر جگہ حاضر و ناظر رہنے والا، اور ہر ایک کی بات کو سننے والا ہے، یہ صفت صرف اللہ ہی کے ساتھ مخصوص ہے، اس آیت کریمہ میں اس نے یہ بتایا ہے، کہ غیب کی کنجیاں صرف ہمارے ہاتھ میں ہیں، اور کسی کے پاس نہیں، اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے بندوں کو ظاہری چیزیںدریافت کرنے کی ترکیبیں بتا دی ہیں، جیسے دیکھنے کو آنکھ، سننے کو کان، سونگھنے کو ناک، چکھنے کو زبان ، چھونے کو ہاتھ، سمجھنے کو عقل دی ہے کہ ضرورت کے وقت جیسا دیکھنے کو دل چاہے آنکھ کھول کر دیکھنے لگیں، اور جب چاہیں بند کر لیں، اسی طرح ا ور چیزوں کو بھی معلوم کر لیتے ہیں، تو گویا ان ظاہری چیزوں کے دریافت کرنے کی ان کو کنجیاں دی ہیں، جس کے ہاتھ میں کنجیاں ہوتی ہیں، اس کے ہاتھ میں اختیار ہوتا ہے، جب چاہے قفل کھول کر سب چیزوں کو دیکھ لے اور جب چاہے نہ کھولے، لیکن غیب کے دریافت کرنے کی کنجی کسی کو نہیں دی، بلکہ اس کو اپنے پاس ہی رکھا ہے، کسی نبی ، ولی ، شہید، جن ا ور فرشتے کو یہ طاقت نہیں، کہ بغیر اللہ کے بتائے کچھ بتا سکیں، کیونکہ ان کو غیب دانی حاصل نہیں ہے، اگر ان کو کوئی غیب دان جانے گا،تو وہ اللہ کو ان کے ساتھ شریک کرے گا ا للہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں یوں فرمایا ہے:
قُلْ لَّآ اَمْلِكُ لِنَفْسِيْ نَفْعًا وَّلَا ضَرًّا اِلَّا مَا شَاۗءَ اللہُ۝۰ۭ وَلَوْ كُنْتُ اَعْلَمُ الْغَيْبَ لَاسْـتَكْثَرْتُ مِنَ الْخَيْرِ۝۰ۚۖۛ وَمَا مَسَّنِيَ السُّوْۗءُ۝۰ۚۛ اِنْ اَنَا اِلَّا نَذِيْرٌ وَّبَشِيْرٌ لِّقَوْمٍ يُّؤْمِنُوْنَ۔ (اعراف:۱۸۸)
اے ہمارے نبی ! آپ لوگوں سے فرما دیجیے، کہ میں اپنی ذات کے نفع و نقصان کاکچھ بھی مالک و مختار نہیں ہوں مگر جو اللہ چاہے، اگر میں غیب جانتا، تو میں بہت سی خوبیاں جمع کر لیتا اور مجھے کوئی تکلیف اور برائی نہ پہنچتی، میں تو صرف نافرمانوں کو عذاب الٰہی سے ڈراتا ہوں اور ایمان والوں کو خوشی سناتا ہوں۔
یہ تو ساری اسلامی دنیا جانتی ہے، کہ ہمارے نبی کریم ﷺ سے بڑھ کر مخلوق میں کوئی نہیں ہوا، اور نہ ہوگا، بلکہ آپ ﷺ کے برابر کا بھی کوئی نہیں ہوا نہ ہوگا، پھر بھی اپنی ذات کے نفع و نقصان کا کچھ بھی اختیار نہیں رکھتے تھے، تو دوسرے کس شمار میں ہیں، اللہ تعالیٰ اپنے نبی سے فرما رہا ہے، کہ آپ ﷺ خود لوگوں میں اس کا ا علان کر دیں، کہ میں اپنی ذات کے نفع و ضرر کا مالک و مختار نہیں ہوں، تو دوسروں کو کیا نفع و نقصان پہنچا سکتا ہوں، اور نہ میں غیب جانتا ہوں، کہ بغیر اللہ تعالیٰ کے بتائے معلوم کر لوں، اگر میرے قابو میں غیب دانی ہوتی تو پہلے ہر کام کی بھلائی برائی معلوم کر لیتا، اور اس کام کے ا نجام کو سوچ لیتا، اگر اچھا ہوتا، تو کرتا اور خراب ہوتا تو نہیں کرتا، اس صورت میں کبھی بھی تکلیف نہیں پہنچتی ، اور نہ کبھی نقصان اٹھاتا، مگرتمہیں معلوم ہے، کہ مجھے تکلیف پہنچتی ہے، نقصان بھی ہوتا ہے، دیکھو حضرت عائشہؓ پر منافقوں نے تہمت لگائی ایک ماہ تک سخت پریشانی رہی، جب وحی آئی، اور اللہ تعالیٰ نے بتایا،کہ حضرت عائشہؓ سچی ، پاک دامن ہیں، تب معلوم ہوا، اس قسم کے بہت سے واقعات موجود ہیں۔
اس آیت کریمہ سے یہ بات بھی معلوم ہوئی ، کہ غیب صرف اللہ ہی جانتا ہے، اس کے علاوہ کوئی نبی، ولی، شہید، پیر، جن اور فرشتہ غیب نہیں جانتا، اگر کوئی غیب جاننے کا دعویٰ کرے، تو وہ اس آیت کا مخالف و منکر ہے، اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہے:
قُلْ لَّايَعْلَمُ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ الْغَيْبَ اِلَّا اللہُ۝۰ۭ وَمَا يَشْعُرُوْنَ اَيَّانَ يُبْعَثُوْنَ۔ (النمل :۶۵)
اے ہمارے نبی! آپ لوگوں سے فرما دیجیے، کہ زمین اور آسمان میں اللہ کے سوا کوئی غیب نہیں جانتا، (بلکہ)ان کو یہ بھی خبر نہیں، کہ کب اٹھائے جائیں گے۔
اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کوحکم دے رہا ہے، کہ آپ لوگوں میں اعلان کر دیں، کہ زمین و آسمان میں اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی جن، فرشتہ اور پیرو پیغمبر غیب نہیں جانتے ، یہ یقین ہے، کہ قیامت ضرور آئے گی، مگر ان نبیوں، ولیوں وغیرہ کو یہ پتہ نہیں ہے، کہ قیامت کب ہوگی، اور کب یہ لوگ اپنی قبروں سے اٹھائے جائیں گے، اس کے تعین کا علم صرف اللہ ہی کو حاصل ہے، قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
اِنَّ اللہَ عِنْدَہٗ عِلْمُ السَّاعَۃِ۝۰ۚ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ۝۰ۚ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْاَرْحَام۝۰ِۭ وَمَا تَدْرِيْ نَفْسٌ مَّاذَا تَكْسِبُ غَدًا۝۰ۭ وَمَا تَدْرِيْ نَفْسٌۢ بِاَيِّ اَرْضٍ تَمُوْتُ۝۰ۭ اِنَّ اللہَ عَلِيْمٌ خَبِيْرٌ۔ (لقمان :۳۴)
یقینا قیامت کے خاص وقت کی خبر اللہ ہی کو ہے اوروہی مینہ برساتا ہے، اور ماؤں کے پیٹوں میں جو کچھ ہے اس کو وہی جانتاہے، اور وہی جانتا ہے کہ فلاں جاندار کل کیا کرے گا، اس کے علاوہ کوئی نہیں جانتا،کہ فلاں جاندار کہاں مرے گا، بے شک اللہ تعالیٰ بڑا جاننے والا پوری خبر رکھنے والا ہے۔
ان سب باتوں کا جاننا صرف اللہ تعالیٰ ہی کے قبضہ میں ہے، اور کوئی ان کو نہیں جانتا، قیامت کا آنا بہت مشہور ہے، مگر اس کے آنے کی خبر کسی کو نہیں، اس کے علاوہ اور باتوں کا جاننا، جیسے آئندہ فتح اور شکست کا ہونا، یا کسی کا بیمار و تندرست ہونا وغیرہ تو قیامت کے برابر نہیں ہے، حالانکہ ان کو بھی خدا کے سوا کوئی نہیں جانتا ہے، اسی طرح مینہ برسنے کی خبر کسی کو نہیں ہے ، حالانکہ اس کا وقت مقرر ہے، ا ور موسم بندھا ہوا، ان موسموں میں بھی برستا ہے، اور سب چھوٹے بڑے، عالم، جاہل ، نبی، ولی وغیرہ سب کو اس کی ضرورت بھی رہتی ہے، لیکن کسی کو یہ خبر نہیں کہ کس دن بارش ہوگی، اس کا علم صرف اللہ تعالیٰ ہی کو حاصل ہے، کہ جن چیزوں کا موسم نہیں بندھا ہوا ہے، جیسے مرنا، جینا، پیدا ہونا، غنی ہونا، فقیر ہونا، وغیرہ وغیرہ بھی کوئی نہیں جانتا ہے، اسی طرح مادہ کے پیٹ میں کیا ہے، نر ہے یا مادہ، ایک ہے یادو ، ناقص ہے یا کامل، خوبصورت ہے یا بدصورت، کوئی نہیں جانتا ، صرف خدا ہی جانتا ہے، اسی طرح کل آئندہ کیا ہوگا وہ کیا کرے گا، اسی طرح کوئی نہیں جانتا، کہ وہ کہاں مرے گا، اور کہاں دفن ہوگا، ان سب باتوں کو خدا کے سوا اور کوئی نہیں جانتا

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
واللہ لا ادری واللہ لا ادری وانا رسول اللہ مایفعل بی ولا بکم۔ (بخاری شریف)
خدا کی قسم! میں نہیں جانتا، خدا کی قسم ! میں نہیں جانتا حالانکہ میں اللہ کا رسول ہوں، کہ میرے اور تمہارے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا، مجھے معلوم نہیں۔
یعنی اللہ تعالیٰ دنیا میں کیا کرے گا، اس کی حقیقت خدا کے سوا کوئی نہیں جانتا میں اللہ کا رسول ہونے کے باوجود نہیں جانتا ہوں، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔
ان رسول اللہ ﷺ کان یھریق الماء ویتیمم بالتراب فاقول یا رسول اللہ ان الماء قریب فیقول ما یدرینی لا ابلغہ ۔ (شرح السنۃ، مشکوۃ)
رسول اللہ ﷺ پیشاب کر کے فوراً مٹی سے تیمم کر لیتے ، میں عرض کرتا ، کہ اے اللہ کے رسول، پانی آپ کے قریب ہی ہے، آپ فرماتے کہ کیا خبر شاید میں وہاں تک نہ پہنچ سکوں۔
یعنی ممکن ہے کہ میں پانی تک نہ پہنچ سکوں، اس سے معلوم ہوتا ہے، کہ آپ غیب نہیں جانتے تھے، اسی طرح حجۃ الوداع میں آپؐ نے فرمایا:
لواستقبلت من ما استدبرت ماسقت الھدی۔ (بخاری)
جو مجھے اب معلوم ہوا ہے، اگر پہلے معلوم ہو جاتا، تو میں اپنے ساتھ قربانی کا جانور نہ لاتا۔
اس قسم کے صدہا واقعات ہیں، جن سے معلوم ہوتا ہے، کہ آپؐ بغیر اللہ کے بتائے ہوئے خود غیب کی باتیں نہیں جانتے تھے، اور اگر اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو بتایا اور اس کے بتانے پر آپ ﷺ نے کوئی بات آئندہ کے متعلق بتا دی، جیسے معجزات اور علامات قیامت وغیرہ تو یہ علم غیب نہیں ہے، کیونکہ علم غیب وہ ہے، جو بغیر کسی کے بتائے معلوم ہو، کیونکہ علم اس ملکہ(قوت) کو کہتے ہیں، جس سے جس وقت بھی چاہے اس کی جزئیات کو معلوم کرے، ایسا علم غیب کسی مخلوق کو نہیں ہے، اور نہ کبھی پہلے تھا، اور نہ آئندہ کبھی ہوگا، اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ سے فرمایا:
قُلْ لَّآ اَقُوْلُ لَكُمْ عِنْدِيْ خَزَاۗىِٕنُ اللہِ وَلَآ اَعْلَمُ الْغَيْبَ وَلَآ اَقُوْلُ لَكُمْ اِنِّىْ مَلَكٌ۝۰ۚ (الانعام:۵۰)
آپ کہہ دیجیے، کہ میں تم سے یہ نہیں کہتا، کہ میرے پاس اللہ تعالیٰ کے خزانے ہیں، اور نہ میں غیب کی باتیں جانتا ہوں، اور نہ میں تم سے یہ کہتا ہوں ، کہ میں فرشتہ ہوں۔
یہ بھی یاد رکھو، کہ علم کے معنی یقین کے ہیں، اس لیے اندازے اور ظن اور گمان کی باتیں علم غیب نہیں ہیں، کیونکہ بہت دفعہ ان باتوں کے خلاف ظہور میں آتا ہے، اور علم غیب کے خلاف ہر گز نہیں ہوسکتا، اس لیے اندازوں اور تخمینوں کی باتوں کو سچ اور غیب کی بات ماننے والا شرک فی العلم کے گناہ کا مرتکب ہوتا ہے، جادوگر، جوتشی، رمال، نجومی اور سفلی علم کی باتوں پر ایمان رکھنے سے ایمان باللہ ختم ہو جاتا ہے، ہر ایمان والے کا یہ عقیدہ ہونا چاہیے، کہ جس طرح خدا کی ذات یکتا و یگانہ ہے، اسی طرح اس کی تمام صفتیں بھی یکتا اور بے مثل ہیں، اور خدا تعالیٰ کی یہ صفت، کہ وہ حاضر و غائب اور دور و نزدیک کی تمام چیزوں کو جانتا ہے، یکتا اور بے مثل ہے، اللہ عزوجل اپنی ذات میں بھی وحدہ لاشریک ہے، اور اپنی صفات میں بھی وہ وحدہ لاشریک ہے، یہی عقیدہ قرآن مجید نے بتا یا ہے، اور اسی کا سبق رسول اللہ ﷺ نے دیا ہے، اور تمام صحابہ اور تمام سلف صالحین کا یہی عقیدہ ہے۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو شرک کی ہر بات سے بچائے ، اور ایمان کی حلاوت اور شیرینی ہمارے دلوں میں عطا فرمائے، اور صحیح عقائد کی توفیق بخشے، اور صحابہ کرام، تابعین عظام، ائمہ دین، سلف و صالحین اور بزرگان دین کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے ، آمین ثم آمین۔
بارک اللہ لی ولکم فی القراٰن العظیم ط ونفعنی وایاکم بالایت والذکر الحکیم ط انہ تعالٰی جوادکریم ملک بررءوف رحیم۔

Comments

Popular posts from this blog

Yusufzai (Pashtun tribe)

The  Yūsufzai  (also  Youssofzay ,  Yousefzai ,  Yousafzai ,  Esapzey ,  Yousufi , or  Yūsufi ) (Pashto:  يوسفزی ,Persian and Urdu:  یوسف زئی ) is one of the largest Pashtun (Afghans) tribes. The majority of the Yusufzai tribe reside in parts of Western Afghanistan, Khyber Pakhtunkhwa and Provincially Administered Tribal Areas near the Afghan-Pakistan border. They are the predominant population in the districts of Konar, Ningarhar, Mardan District, Dir, Swat,Malakand, Swabi, Buner, Shangla, Haripur District [Khalabat Town Ship and Tarbela] and in Mansehra and Battagram. There is also a Yusufzai clan of Dehwar tribe in the Mastung district of Balochistan who speak Persian with some mixture of Birahvi words. The descendants of Yusuf inhabit Konar, Jalalabad, Swat, Upper Dir, Lower Dir, Malakand Swabi and Mardan...

NAYE UFAQ DIGEST DECEMBER 2013 PDF DOWNLOAD

Naye Ufaq december 2013 digest is a pakistan urdu digest publishs every month . This digest has the size of 24  mb in pdf format , This month naye ufaq ebook publishing new romantic , social some true and episode stories.You may read short stories like dastak ,roop baroop,guftagoo,Maima,dehleez k paar,har misal,darinda,nakaam chor,akhri khail,problem, diseases their cure and treatments. In long stories alandar zaat, etc How to open eBooks? Before opening a ebook we should know that what is an ebook reader . It is a program used to run or open the ebooks and pdf formats . If you have downloaded any book from our site but don't know how to run then visit the below link to download the foxit reader software for reading the ebooks. Download Foxit Ebook reader for windows Media fire link Sarguzasht Digest December 2013 Pdf Download Or Alternative Link   Sarguzasht Digest December 2013 Pdf Download Visit This link to download Naye Ufaq Digests

AZAADI-E-HIND IN URDU PDF BY ABUL KALAM AZAD

Title : Azaadi-e-Hind  Author :  Abul Kalam Azad Format : PDF More : Azaadi-e-Hind Abul Kalam Azad pdf download Download Azaadi e hind history book free download historical books pdf Download Link

Visual Basic Urdu PDF

Learning Books Download Now , Visual Basic Download Free PDF Visual Basic Urdu PDF Now download Download Link

GHAZWA-E-HIND URDU PDF

Title : Ghazwa-e-Hind Nabi Karim Saw ne bazat khud jis jang main shirkat ki ho ise Ghazwa ka naam diya jata hai.Lekin Rasool Allah Saw ki zuban Uqdas se aise Qawaneen bhi jari huwe jin main Aap Saw ne apni key bad hone wali jango aur Marko ko bhi Gazwa ka naam diya in me se aik gazwa hind se mutalik nabwi peshan goi hai. Gazwa Hind kitaab main musanif ne gazwa hind se mutalik nabwi peshan goi ko Mozoo behas bnaya hai . Download Link Try Mirror

GHAZWA-E-TABOOK ISLAMIC URDU BOOK PDF

Title : Ghazwa-e-Tabook Author : .... Format : PDF More : Ismalic Urdu Book On Ghazwa e Tabook Download Ghazwa-e-Tabook Urdu Book Pdf Download Islamic Books Free Download Link

HUMPHREY KE AITRAFAT URDU PDF BOOK

Title : Humphrey Key Aitrafat Format : PDF Password : iloveislam More : Humphrey Key Aitrafat Urdu Pdf Book Download , Download Humphrey K Aitrafat Free , Free Download Humphrey Kay Aitrafat Urdu Book , Read Online Humphrey Key Aitrafat Urdu Pdf Book Free Download Online Read and Download Online Read

AUR CIGARETTE CHOUT GAI IN URDU PDF

Title : Aur Cigarette chout  gai in urdu pdf Download Link

Mawlana Muhammad Sarfraz Khan Safdar (r.a) by Abu Asim Badrul Islam

Read Online (0.6 M) SMALL BIOGRAPHY OF SHAYKH SARFRAZ KHAN SAFDAR (R.A) IN ENGLISH. By Abu Asim Badrul Islam

EHRAM E MISAR SE FARAR By A Hameed

Box Download and Online Read  Mediafire Download and Online Read    Download   Atoon Series Complete  ReadOnline