Skip to main content

Strategic Estimate 2012

Book from Download
Strategic Estimate is Khilafah.com's annual assessment on the global trends, the emerging trends and the developments that have taken shape during the year between the world's powers.
2011 will remain long in the memory when the history books are finally written. What has now come to be known as the Arab spring began with a single man in the markets of Tunisia, which then spread to thousands on the streets in Cairo and evolved to hundreds of thousands demanding political change in the Muslim world. The self immolation of Mohamed Bouazizi in Tunisia created a sweeping wave, which crossed the artificial borders in the Muslim world encompassing Egypt, Libya, Yemen and Bahrain until it engulfed most of the Muslim world. 2011's Strategic Estimate, Khilafah.com's annual assessment of the global balance of power is dominated by the Arab spring.
We concluded in our 2011 assessment that the US remained the world's superpower, however it had been over-stretched in both the wars it was engaged in after the events of 9/11, this led to a number of nations taking a more confident and in some cases a confrontational approach to the US in the different regions of the world. In 2011, America, the world superpower and the world's largest economy every year since 1870 had its credit rating downgraded as doubts surfaced about its ability to repay its ever growing debts. Unable to pull itself out of recession and extricate itself from deployments across the world the end of the American century continues to dominate discourse about the American empire.
The challenges to America stem primarily from Russia and China. Both have made significant progress in strengthening themselves in the face of US global domination. Russia continued with its resurgence in its periphery and took a more cooperative approach to strengthening itself which is a departure from the more aggressive policy which has dominated the Kremlin for the last decade. 2011 was dominated by Russia surging ahead with its attempts to modernise and fill the technology gap the nation faces due to the decline it under went after the collapse of the Soviet Union.
China's economy continued to surge ahead in 2011, however many questions remain on the sustainability of the economic model driving Chinese growth as the global economy fails to grow. China made a number of political moves to strengthen itself in its region and achieved significant milestones by rolling out its first aircraft carrier and developing its first stealth fighter jet.
The global economy at the end of 2011 is in a worse position than it was in 2010. With the European sovereign debt crises spreading and the failure of the world's premier economies in generating economic growth, a double dip recession dominated the global economy in 2011. This economic crisis has brought the European Union to virtual breaking point as various Eurozone nations came to the brink of defaulting on their debts. 2011 was dominated by Europe's premier powers attempting to redesign Europe – this has led to the emergence of Germany – a country whose prospects we asses.
Not surprisingly Iran made the headlines again late in 2011 as the International Atomic Energy Agency (IAEA) released its report about Iran's attempts to enrich uranium and develop a nuclear device. We analyse this recurring episode in order to separate rhetoric from reality. We also analyse the conception of weapons of mass destruction (WMD's) their reality and role in the global balance of power.
What follows' inshallah is the author's opinion and assessment of 2011 and the trends for 2012 and beyond. Like any assessment, they are estimates and forecasts

Comments

Popular posts from this blog

یہودی پروٹوکولز

Online Read یہودی پروٹوکولز ============================================== Online Read E Book یہودی پروٹوکولز ============================================== Download Free یہودی پروٹوکولز ---------------------------------------------------- Download Free یہودی پروٹوکولز ----------------------------------------------------

قرآن حکیم کے نازل ہونے کی کیا غرض ہے

سورہ آلِ عمران هَـٰذَا بَيَانٌ لِّلنَّاسِ وَهُدًى وَمَوْعِظَةٌ لِّلْمُتَّقِينَ ﴿١٣٨﴾ یہ (قرآن) لوگوں کے لیے بیان صریح اور اہلِ تقویٰ کے لیے ہدایت اور نصیحت ہے۔ سورہ المآئدۃ يَا أَهْلَ الْكِتَابِ قَدْ جَاءَكُمْ رَسُولُنَا يُبَيِّنُ لَكُمْ كَثِيرًا مِّمَّا كُنتُمْ تُخْفُونَ مِنَ الْكِتَابِ وَيَعْفُو عَن كَثِيرٍ ۚ قَدْ جَاءَكُم مِّنَ اللَّـهِ نُورٌ وَكِتَابٌ مُّبِينٌ ﴿١٥﴾هْدِي بِهِ اللَّـهُ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَهُ سُبُلَ السَّلَامِ وَيُخْرِجُهُم مِّنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ بِإِذْنِهِ وَيَهْدِيهِمْ إِلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ ﴿١٦﴾  اے اہل کتاب! تمہارے پاس ہمارے پیغمبر (آخرالزماں) آ گئے ہیں کہ جو کچھ تم کتاب (الہٰی) میں سے چھپاتے تھے وہ اس میں سے بہت کچھ تمہیں کھول کھول کر بتا دیتے ہیں اور تمہارے بہت سے قصور معاف کر دیتے ہیں بےشک تمہارے پاس خدا کی طرف سے نور اور روشن کتاب آ چکی ہے۔جس سے خدا اپنی رضا پر چلنے والوں کو نجات کے رستے دکھاتا ہے اور اپنے حکم سے اندھیرے میں سے نکال کر روشنی کی طرف لے جاتا اور ان کو سیدھے رستہ پر چلاتا ہے۔ وَكَتَبْنَا عَلَيْه...

جمع عثمانی رِوایات کے آئینے میں

نبی مکرمﷺ کی حدیث مبارکہ ’’خَیْرُ النَّاسِ قَرْنِيْ ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَھُمْ ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَھُمْ‘‘۔(صحیح البخاري: ۲۶۵۲) پر جب نظر پڑتی ہے تو سر احسان و نیازمندی کے ملے جلے تاثر ات سے جھک جاتا ہے کہ واقعتا آپﷺ، صحابہ رضی اللہ عنہم اور تابعین رحمہم اللہ کا زمانہ خیر القرون تھا، کیونکہ اس میں بنی نوع اِنسان کی راہ روی اور اسلام کی سربلندی کے لیے وہ محنتیں اور کوششیں ہوئی ہیں کہ جس کی مثال آئندہ جمیع قرون میں پیش کرنا مشکل ہے۔ یقینا وہ لوگ اس قابل تھے کہ اُنہیں یہ ذمہ داری سونپی جاتی کہ وہ دینِ الٰہی اور شرع اللہ کو اپنی مکمل تشریحات کے ساتھ آئندہ نسلوں تک منتقل کریں، بلا شبہ وہ طائفہ فائزہ اپنے اس مقصد میں بامراد ہوا ہے۔ان جملہ ذمہ داریوں میں سے اَہم ترین ذمہ داری یہ تھی کہ ہدایت سماوی کے آخری ربانی صحیفہ کو محفوظ اور غیر متبدل شکل میں ہم تک پہنچایا جائے۔ ہمارا یہ قطعی ایمان ہے کہ وہ پیام اَیزدی آج اپنی سو فیصد اَصلی اور حقیقی شکل میں ہمارے درمیان موجود ہے۔ الحمد ﷲ علی ذلک۔اِس سلسلہ میں خیرالقرون میں جو سب سے اَہم کام ہوا ہے وہ سیدنا عثمان ذوالنورین رضی ال...

اللہ تعالیٰ کے حقوق

بسم اللہ الرحمن الرحیم اللہ تعالیٰ کے حقوق اللہ تعالیٰ کا حق تمام حقوق سے زیادہ ضروری ہے اور سب سے اہم ہے۔کیونکہ وہ اس کائنات کا خالق و مالک اور تمام تر امور کی تدبیر کرنے والا ہے۔وہ زندہ جاوید ہستی ہے جو تمام کائنات کا نطام سنبھالے ہوئے ہے،اس نے ہر چیز کو پیدا کیا اور اپنی حکمت بالغہ سے اس کا اندازہ کیا۔انسان کو اشرف المخلوقات بنایا ،پھر انسان کو اپنے احسانات یاد کرائے کہ اے انسان !تجھ پر اس ذات کا حق ہے جس نے نعمتوں کے ساتھ تیری پرورش کی۔تو اپنی ماں کے پیٹ میں تین طرح کے اندھیروں میں تھا۔جہاں مخلوقات میں کوئی بھی تجھے غذا یا ایسی اشیاء نہیں پہنچا سکتا تھا جو تیری افزائش اور زندگی کو قائم رکھنے والی ہوں۔اس نے ماں کی چھاتیوں میں وافر دودھ اتارا،تجھے اس کی راہ دکھلائی اور تیرے والدین کو تیرا محسن بنا دیا۔تیری امداد کی اور تجھے کامیاب کیا۔ارشاد باری تعالیٰ ہے: وَٱللَّهُ أَخْرَجَكُم مِّنۢ بُطُونِ أُمَّهَٰتِكُمْ لَا تَعْلَمُونَ شَيْا وَجَعَلَ لَكُمُ ٱلسَّمْعَ وَٱلْأَبْصَٰرَ وَٱلْأَفْدَةَ ۙ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ ﴿78﴾ ترجمہ: اور اللہ ہی نے تم کو تمہاری ماؤں کے شکم سے پیدا کیا کہ...

ان شاءاللہ لکھنے میں غلطی کرنا

بسم اللہ الرحمن الرحیم السلام علیکم ورحمتہ اللہ آ پ لوگوں نے اکثر کتابوں میں لفظ ان شاءاللہ کو اس طرح لکھا ہوا پڑھاہوگا انشاءاللہ اور جب کہ اس طرح لکھنے سے اس کا معنی بدل جاتا ہے۔ لفظ ان شاءاللہ کے اردو میں معنی بنتا ہے اگر اللہ نے چاہا اور جب کہ انشاء عربی میں کسی چیز کو بنانے کو کہتے ہیں اس طرح انشاءاللہ کے معنی بہت غلط بن جاتے ہیں ۔ہم لوگ عربی زبان سے واقفیت نہ رکھنے کی وجہ سے ایسی غلطیاں کر جاتے ہیں اللہ ہمیں معاف فرمائے آمین۔اللہ کا ارشاد ہے کہاِنَّآ اَنْشَاْنٰهُنَّ اِنْشَاۗءً 35۝ۙہم نے ان (کی بیویوں کو) خاص طور پر بنایا ہے۔الواقعہ:۳۵قَالَ اِنَّمَا يَاْتِيْكُمْ بِهِ اللّٰهُ اِنْ شَاۗءَ وَمَآ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِيْنَ 33 ؀جواب دیا کہ اسے بھی اللہ تعالٰی ہی لائے گااگر وہ چاہے اور ہاں تم اسے ہرانے والے نہیں ہو۔ھود:۳۳فَلَمَّا دَخَلُوْا عَلٰي يُوْسُفَ اٰوٰٓى اِلَيْهِ اَبَوَيْهِ وَقَالَ ادْخُلُوْا مِصْرَ اِنْ شَاۗءَ اللّٰهُ اٰمِنِيْنَ 99؀ۭپھر جب (سب کے سب) یوسف کے پاس پہنچے تو اس نے اپنے والدین کو (عزت و احترام کے ساتھ) اپنے پاس جگہ دی اور کہا، ''کہاگر اللہ نے چاہا تو...

دین اسلام میں رسول اللہ ﷺ کی اطاعت فرض ہے

بسم اللہ الرحمن الرحیم دین اسلام میں رسول اللہ ﷺ کی اطاعت فرض ہے يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ أَطِيعُوا۟ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ وَلَا تَوَلَّوْا۟ عَنْهُ وَأَنتُمْ تَسْمَعُونَ ﴿20﴾ترجمہ: اے ایمان والو الله اور اس کے رسول کا حکم مانو اور سن کر اس سے مت پھرو(سورۃ الانفال،آیت20) قُلْ أَطِيعُوا۟ ٱللَّهَ وَأَطِيعُوا۟ ٱلرَّسُولَ ۖ فَإِن تَوَلَّوْا۟ فَإِنَّمَا عَلَيْهِ مَا حُمِّلَ وَعَلَيْكُم مَّا حُمِّلْتُمْ ۖ وَإِن تُطِيعُوهُ تَهْتَدُوا۟ ۚ وَمَا عَلَى ٱلرَّسُولِ إِلَّا ٱلْبَلَٰغُ ٱلْمُبِينُ﴿56﴾ترجمہ: کہہ دو الله اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرو پھر اگر منہ پھیرو گے تو پیغمبر تو وہی ہے جس کا وہ ذمہ دار ہے اورتم پر وہ ہے جو تمہارے ذمہ لازم کیا گیا ہے اور اگر اس کی فرمانبرداری کرو گے تو ہدایت پاؤ گے اور رسول کے ذمہ صرف صاف طور پر پہنچا دینا ہے (سورۃ النور،آیت 56) مَّن يُطِعِ ٱلرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ ٱللَّهَ ۖ وَمَن تَوَلَّىٰ فَمَآ أَرْسَلْنَٰكَ عَلَيْهِمْ حَفِيظًۭا ﴿80﴾ترجمہ: جو شخص رسول کی فرمانبرداری کرے گا تو بےشک اس نے اللہ کی فرمانبرداری کی اور جو نافرمانی کرے گا تو اے ...

گستاخ رسول کی سزااورحکومت وقت کی ذمہ داری

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ: ”الہدیٰ انٹرنیشنل“ ایک دینی ادارہ کہلاتا ہے، کیا اس ادارے والے صحیح المسلک اور متبع سنت ہیں یا نہیں ؟یہاں تعلیم حاصل کرنے والی چند خواتین جوکہ قرآن کریم کی تجوید درست کرنے یا علم دین حاصل کرنے کی طلب میں ان مدارس میں گئیں‘ لیکن وہاں چند ایسے مسائل سامنے آئے کہ عجیب تذبذب اور پریشانی کا شکار ہوگئیں‘ آپ سے درخواست ہے کہ کافی شافی اور تفصیلی جواب عنایت فرمایئے اور امت مسلمہ کے تذبذب کو دور فرمایئے اور گمراہی سے بچایئے ۔ اسی طرح پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ایک شہر میں لڑکیوں کا ایک مدرسہ ہے‘ جس کی صدر مدرسہ یا منتظمہ ایک خاتون ہیں ‘یہ خاتون غیر شادی شدہ ہیں۔ نیز یہ جامعہ‘ صرف بنات کا ہے۔ یہاں کا سارا نظام موصوفہ یا یہیں کی تعلیم یافتہ چند خواتین سنبھالتی ہیں‘ یہ بھی غیر شادی شدہ ہیں۔ مقصد یہ ہے کہ یہاں کی انتظامیہ میں کسی مرد کاکوئی عمل دخل نہیں ہے اور جس طرح یہ تمام خواتین غیر شادی شدہ ہیں۔ اسی طرح یہاں کی تمام طالبات بھی غیر شادی شدہ ہیں۔ اگر کسی طالبہ کے بارے میں یہ علم ہوجائے کہ یہ شادی شدہ ہے تو اسے خارج کردیا جاتاہے او...

یہودی مدارس میں عسکریت کی تعلیم!اورانتہا پسند یہودیوں کا مسلمانوں کے خلاف غیظ و غضب

اسلام، مسلمانوں، دین، دینی مدارس، علمأ، طلبہ اور دینی تعلیم کو مطعون و بدنام کرنے، ان کے خلاف پروپیگنڈا مہم چلانے، گز گز کی زبان نکال کر ان کو بے نقط سنانے والوں اور دینی مدارس کو بند، ان میں رائج تعلیم و نصابِ تعلیم کو ختم یا تبدیل کرنے کی سفارش کرنے والے یہود و نصاریٰ، ان کے ایجنٹوں اور نام نہاد مسلمان حکمرانوں کو ذرا اس طرف بھی توجہ کرنی چاہئے کہ بی بی سی کے مطابق اسرائیل میں یہودیوں کے باقاعدہ مذہبی مدارس قائم ہیں، جہاں خالص یہودی مذہبی نصاب اور نظامِ تعلیم رائج ہے، وہاں خالص یہودی مذہبی افراد تیار کئے جاتے ہیں اور انہیں اسرائیل جیسی صہیونی اور خالص یہودی حکومت کی سرپرستی حاصل ہے۔ نہ صرف یہی بلکہ ان یہودی مذہبی مدارس میں باقاعدہ عسکریت اور سپاہ گری کی تعلیم و تربیت کا مکمل انتظام ہے اور وہاں مکمل فوجی ٹریننگ بھی دی جاتی ہے۔سوال یہ ہے کہ اگر مسلمانوں کے دینی مدارس، ان کی خالص دینی، مذہبی، اسلامی تعلیم، نصابِ تعلیم اور پروگرام ناقابل برداشت اور ناقابل قبول ہے، تو یہودی مذہبی مدارس، ان کا یہودی مذہبی نصاب اور نظام تعلیم کیونکر قابل برداشت ہے؟ اگر اسرائیل اور ان کے سرپرست یہودی مدار...

کیا میڈیا کے حوالے سے ہم یونہی سوئے رہیں گے ؟

یوسف علیہ السلام پر ایرانی ڈرامہ سیریل کیا ہم انہیں اسلام کا ترجمان بنا رہنے دیں؟ ’حزب اللہ‘ لبنان کی ایک مشہور رافضی جماعت ہے، جس کا سربراہ حسن نصر اللہ نام کی ایک شخصیت ہیں۔ لبنان میں اِس تنظیم کا ایک ٹی وی چینل ہے جو ”المنار“ کے نام سے کام کرتا ہے اور ایک عشرے سے زائد عرصہ کام کرنے کے بعد بڑا نام کما چکا ہے۔ حسن نصر اللہ فخر سے سر عام کہتے ہیں کہ وہ اور انکی یہ تنظیم ’قم کی ولایت فقیہ‘ کے تابع ہیں۔گزشتہ رمضان میں حزب اللہ کے اِس ٹی وی چینل سے ایک ڈرامہ سیریل چلائی گئی جسکا عنوان تھا: ”یوسف الصدیق“۔ یہ اِس قدر ایک دلچسپ ڈرامہ سیریل تھی کہ عالم عرب کی ایک کثیر تعداد اِس کی نئی قسط کا انتظار کر رہی ہوتی تھی، خصوصاً خواتین اور نوجوان۔ اس کا انتظار کرنے والے بالعموم وہ ’دینی ذہن‘ رکھنے والے طبقے ہوتے تھے جو میڈیا میں اسلامی پروگراموں کی کمی محسوس کرتے ہیں! اِس ڈرامہ سیریل کے ختم ہونے کے بعد میں پورے دو ماہ تک انتظار کرتا رہا کہ اِس پر اہل سنت حلقوں کی طرف سے کوئی رد آئے، تاکہ میں کچھ لکھوں تو سنی حلقوں کے اِس رد عمل ہی کے حوالے سے لکھوں، مگر میں کسی زوردار رد عمل کو دیکھنے ...

Mashaikh E Naqshbandia Mujadidia

  Download